یرمیاہ ۲۷

ہ۔ جوئے کا نشان (‏باب ۲۷)‏

۲۷:‏ ۱۔۱۱ بتایا گیا ہے کہ یہ نبوت شاہِ یہوداہ صدقیاہ کے زمانے میں کی گئی۔ پانچ غیر قوم بادشاہوں کے ایلچی یروشلیم میں آئے تھے۔ غالباً وہ بابل کے خلاف ایک اتحاد قائم کرنا چاہتے تھے۔ اُن کو بندھن اور جوئے کے معروضی سبق (‏مختلف چیزوں کی مدد سے سکھایا جانے والا)‏ سے بتایا جاتا ہے کہ بابل کا جوأ تمہاری گردنوں پر ضرور رکھا جائے گا۔ اور اُس وقت تک رکھا رہے گا جب تک مادی فارسی اُسے فتح نہ کر لیں۔ مزید یہ کہ اگر تم بابل کی اطاعت نہ کرو گے تو نیست ہو جاؤ گے۔ یہ نبوت اُن باتوں سے بالکل اُلٹ تھی جو اُن قوموں کے غیب بین کہتے تھے۔ 

۲۷:‏ ۱۲۔۲۲ ایک قدیم رواج تھا جس کا اطلاق یہودی ہیکل پر کرتے ہوئے رائری (‏Ryrie)‏ نے کلام کے اِس حصے کی وضاحت کی ہے:‏

’’فاتح عموماً مفتوح کے بتوں کو اپنے ملک میں لے جاتے اور اپنے معبود کے مندر میں رکھ دیتے تھے۔ چونکہ یہودی مذہب میں بت نہیں ہوتے تھے اِس لئے وہ اُن کے بدلے ہیکل کے ظروف لے گیا۔ ‘‘

یرمیاہ نے صدقیاہ سے التجا کی کہ بابلیوں کی اطاعت قبول کر لے اور جھوٹے نبیوں کی باتوں کا یقین نہ کرے‏، جو نبوت کرتے تھے کہ خداوند کے گھر کے ظروف بہت جلد بابل سے واپس لائے جائیں گے۔ یرمیاہ نے مشورہ دیا کہ یہ نبی اپنے اِختیار اور سچائی کو ثابت کرنے کے لئے خدا سے درخواست کریں کہ جو ظروف یروشلیم میں باقی ہیں وہ بابل کو نہ جائیں۔ لیکن سب کچھ بے فائدہ ہو گا۔ عنقریب یہ باقی ظروف بھی بابل میں پہنچائے جائیں گے اور اسیری کے خاتمے تک وہیں رہیں گے۔ اور اسیری ستّر سال بعد ختم ہو گی۔ 

مقدس کتاب

۱ شا ہ یہوداہؔ صدقیاہؔ بن یوسیاہؔ کی سلطنت کے شروع میں خداوند کی طرف سے یہ کلام یرمیاہؔ پر نازل ہوا۔
۲ کہ خداوند نے مجھے یوں فرمایا کی بندھن اور جوئے بنا کر اپنی گردن پر ڈال ۔
۳ اور اُنکو شاہ اُدومؔ ۔شاہ موآب ؔ ۔ شاہ بنی عمون شاہ صورؔ اور شاہ صیداؔ کے پاس اُن قاصدوں کے ہاتھ بھیج جو یروشلیمؔ میں شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کے پاس آئے ہیں ۔
۴ اور اُنکو اُنکے آقاؤں کے واسطے تاکید کر کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم اپنے آقاؤں سے یوں کہنا ۔
۵ کہ میں نے زمین کو اور اِنسان وحیوان کو جو رُوی زمین پر ہیں انپی بڑی قدرت اور بلند بازو سے پیدا کیا اور اُنکو جسے میں نے مناسب جانا بخشا۔
۶ اور اب میں نے یہ سب مملکتیں اپنے خدمتگذار شاہ بابلؔ بنوکدنضرؔ کے قبضہ میں کردی ہیں اور میدان کے جانور بھی اُسے دئے کہ اُسکے کام آئیں ۔
۷ اور سب قومیں اُسکی اور اُسکے بیٹے اور اُسکے پوتے کی خدمت کرینگی جب تک کہ اُسکی مملکت کا وقت نہ آئے ۔تب بہت سی قومیں اور بڑے بڑے بادشاہ اُس سے خدمت کروائینگے ۔
۸ اور خداوند فرماتا ہے جو قوم اور جو سلطنت اُسکی یعنی شاہِ بابلؔ بنوکدؔ نضرکی خدمت نہ کریگی اور اپنی گردن شاہِ بابلؔ کے جوئے تلے نہ جھکائیگی اُس قوم کو میں تلوار اور کال اور وبا سے سزا دونگا یہاں تک کہ میں اُسکے ہاتھ سے اُنکو نابودکر ڈالو نگا۔
۹ پس تم اپنے نبیوں اور غیب دانوں اور خواب بینوں اور شگونیوں اور جادوگروں کی نہ سُنو جو تم سے کہتے ہیں کہ تم شاہِ بابلؔ کی خدمتگذاری نہ کرو گے۔
۱۰ کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں تاکہ تم کو تمہارے ملک سے آوارہ کریں اور میں تم کو خارج کردوں اور تم ہلاک ہوجاؤ۔
۱۱ پر جو قوم اپنی گردن شاہِ بابلؔ کے جوئے تلے رکھ دیگی اور اُسکی خدمت کریگی اُسکو میں اُسکی مملکت میں رہنے دونگا خداوند فرماتا ہے اور وہ اُس میں کھیتی کر یگی اور اُس میں بسیگی ۔
۱۲ اور اِن سب باتوں کے مطابق میں نے شاہِ یہوداہؔ صدؔ قیاہ سے کلام کیا اور کہا کہ اپنی گردن شاہِ بابل ؔ کے جوئے تلے رکھکر اُسکی اور اُسکی قوم کی خدمت کرو اور زندہ رہو۔
۱۳ تو اور تیرے لوگ تلوار اور کال اور وبا سے کیوں مرو گے جیسا کہ خداوند نے اُس قوم کی بابت فرمایا ہے جو شاہِ بابلؔ کی خدمت نہ کریگی ؟۔
۱۴ اور اُن نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تم سے کہتے ہیں کہ تم شاہِ بابلؔ کی خدمت نہ کرو گے کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں ۔
۱۵ کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں نے اُنکو نہیں بھیجا پر وہ میرا نام لیکر جھوٹی نبوت کرتے ہیں تاکہ میں تم کو خارج کردوں اور تم اُن نبیوں کے ساتھ جو تم سے نبوت کرتے ہیں ہلاک ہو جاؤ۔
۱۶ میں نے کاہنوں سے اُن سب لوگوں سے بھی مخاطب ہو کر کہا خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنے نبیوں کی باتیں نہ سُنو جو تم سے نبوت کرتے اور کہتے ہیں کہ دیکھو خداوند کے گھر کے ظروف اب تھوڑی ہی دیر میں بابلؔ سے واپس آجائینگے ۔کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں ۔
۱۷ اُنکی نہ سُنو۔ شاہِ بابلؔ کی خدمتگذاری کرو اور زندہ رہو۔یہ شہر کیوں ویران ہو؟ ۔
۱۸ پر اگر وہ نبی ہیں اور خداوند کا کلام اُنکی امانت میں ہے تو وہ ربُّ الافواج سے شفاعت کریں تاکہ وہ ظروف جو خداوند کے گھر میں اور شاہِ یہوداہؔ کے گھر میں اور یروشلیمؔ میں باقی ہیں بابلؔ کو نہ جائیں ۔
۱۹ کیونکہ سُتونوں کی بابت اور بڑے حوض اور کُرسیوں اور باقی ظروف کی بابت جو اِس شہر میں باقی ہیں ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے ۔
۲۰ یعنی جنکو شاہِ بابلؔ نبوکدنضرؔ نہیں لے گیا جب وہ یہوداہؔ کے بادشاہ یکونیاہؔ بن یہوؔ یقیم کو یروشلیم ؔ سے اور یہوداہؔ اور یروشلیمؔ کے سب شرفا کو اسیرکرکے بابلؔ کو لے گیا۔
۲۱ ہاں ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا اُن ظروف کی بابت جو خداوند کے گھر میں شاہِ یہوداہؔ کے محل میں اور یروشلیم ؔ میں باقی ہیں یوں فرماتا ہے۔
۲۲ کہ وہ بابلؔ میں پہنچائے جائینگے اور اُس دن تک کہ میں اُنکو یاد فرماؤں وہاں رہینگے ۔خداوند فرماتا ہے اُس وقت میں اُنکو اُٹھا لاؤنگا اورپھر اِس مکان میں رکھ دونگا۔