یرمیاہ ۱۲

۱۲:‏ ۱۔۶ یرمیاہ پوچھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ خداوند جو خود راست اور صادق ہے وہ دغابازوں کو __ جیسے عنتوت کے لوگ ہیں __ کیوں کامیاب اور برومند ہونے دیتا ہے اور صادقوں __ جیسے خود نبی ہے __ کیوں مصیبت اور ظلم اُٹھانے دیتا ہے۔ خدا جواب دیتا ہے کہ یرمیاہ کو اِس سے بھی سخت اور تلخ تر مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ اُس کے اپنے بھائی اُس سے بے وفائی اور دغابازی کریں گے۔ اگر اُسے نسبتاً آسان حالات (‏’’پیادوں کے ساتھ دوڑنا‘‘)‏ کا مقابلہ کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے تو زیادہ سخت آزمائشوں میں (‏سواروں کی برابری کرنا)‏ کیا کرے گا؟

۱۲:‏ ۷ ۔۱۴ یہوداہ کے لئے بہت سے محبت بھرے الفاظ استعمال کرتے ہوئے خدا اُس کی بربادی پر دُکھ کا اِظہار کرتا ہے۔ یہ بربادی وہ اپنے اوپر خود لایا ہے۔ جو پرندہ دوسروں سے نمایاں طور پر فرق ہو دوسرے پرندے اکثر اُس پر حملہ کرتے ہیں اِس لئے یہوداہ کو ابلق شکاری پرندہ کہا گیا ہے۔ خدا غیر اقوام کو سزا دے گا اور یہوداہ کو اپنے ملک میں بحال کرے گا۔ 

۱۲:‏ ۱۵۔۱۷ لیکن بعد میں غیر قومیں بھی اپنے اپنے ملک میں بحال کی جائیں گی اور اگر وہ بتوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف رجوع ہوں تو وہ بھی اُس (‏خدا)‏ کے لوگوں کے ساتھ اُس کی برکتوں میں شریک ہوں گی۔ ورنہ نیست و نابود کی جائیں گی۔ 

مقدس کتاب

۱ اَے خداوند!اگر میں تیرے ساتھ محبت کُروں توتو ہی صادق ٹھہر یگا تو بھی میں تجھ سے اِس امر پر بحث کرنا چاہتا ہوں کہ شریر اپنی روش میں کیوں کامیاب ہوتے ہیں ؟سب دغا باز کیوں آرام سے رہتے ہیں؟
۲ تو نے اُنکو لگایا اور اُنہوں نے جڑ پکڑلی ۔ و ہ بڑھ گئے بلکہ برومند ہُوئے ۔ تو اُنکے منہ سے نزدیک پر اُنکے دِلوں سے دُور ہے۔
۳ لیکن اَے خداوند ! تو مجھے جانتا ہے تو نے مجھے دیکھا اور میرے دِل کو جو تیری طرف ہے آزمایا ہے۔ تو اُنکو بھیڑوں کی مانند ذبح ہونے کے لئے کھینچکر نکال اور قتل کے دن کے لئے اُنکو مخصو ص کر ۔
۴ اہل زمین کی شرارت سے زمین کب تک ماتم کرے اور تمام ملک کی روئیدگی ثپرمُردہ ہو؟ چرندے اور پرندے غارت ہو گئے کیونکہ اُنہوں نے کہا وہ ہمارا انجام نہ دیکھیگا۔
۵ اگر تو پیادوں کے ساتھ دوڑا اور اُنہوں نے تجھے تھکا دیا تو پھر تجھ میں یہ تاب کہاں کہ سواروں کی برابری کرے ؟ تو سلامتی کی سرزمین میں تو بے خوف ہے لیکن یرون ؔ کے جنگل میں کیا کریگا ؟۔
۶ کیونکہ تیرے بھائیوں اور تیرے باپ کے گھرانے نے بھی تیرے ساتھ بیوفائی کی ہے۔ ہاں اُنہوں نے بڑی آواز سے تیرے پیچھے للکار ۔ اُن پر اعتماد نہ کر اگرچہ وہ تجھ سے میٹھی میٹھی باتیں کریں ۔
۷ میں نے اپنے لوگوں کو ترک کیا ۔ میں نے اپنی میراث کو رّد کر دیا۔ میں نے اپنے دل کی محبوبہ کو اسکے دُشمنوں کے حوالہ کیا۔
۸ میری میراث میرے لئے جنگلی شیر بن گئی ۔ اُس نے میرے خلاف اپنی آواز بلند کی اِسلئے مجھے اُس سے نفرت ہے۔
۹ کیا میری میراث میرے لئے ابلق شکاری پرندہ ہے؟کیا شکاری پرندے اُسکو چاروں طرف گھیرے ہیں؟ آؤ سب دشتی درندوں کو جمع کرو اُنکو لاؤ کہ وہ کھا جائیں ۔
۱۰ بہت سے چرواہوں نے میرے تاکستان کو خراب کیا ۔ انہوں نے میرے بخرہ کو اُجاڑ کر بیابان بنا دِیا۔
۱۱ اُنہوں نے اُسے ویران کیا وہ ویران ہو کر مجھ سے فریادی ہے ۔ ساری زمین ویران ہوگئی تو بھی کوئی اِسے خاطر میں نہیں لاتا۔
۱۲ بیابان کے سب پہاڑوں پر غارتگر آگئے ہیں کیونکہ خداوند کی تلوار ملک کے ایک سرے سے دُوسرے سِرے تک نگل جاتی ہے اور کسی بشر کو سلامتی نہیں ۔
۱۳ اُنہوں نے گیہوں بویا پر کانٹے جمع کئے ۔ اُنہوں نے مشقت کھینچی پر فائدہ نہ اُٹھایا ۔ خداوند کے قہر شدید کے سبب سے اپنے انجام سے شرمندہ ہو۔
۱۴ میرے سب شریر پڑوسیوں کے خلاف خداوند ےُوں فرماتا ہے کہ دیکھ جنہوں نے اُس میراث کو چھوا جسکا میں نے اپنی قوم اِسرائیل کو وارث کیا اُنکو اُنکی سرزمین سے اُکھاڑ ڈالونگا اور یہوادہؔ کے گھرانے کو اُنکے درمیان سے نکال پھینکو نگا۔
۱۵ اور اِسکے بعد کہ میں اُنکو اُکھاڑ ڈالونگا یوں ہو گا کہ میں پھر اُن پر رحم کُرونگا اور ہر ایک کو اُسکی میراث میں اور ہر ایک کو اُسکی زمین میں پھر کاؤنگا۔
۱۶ اوریوں ہوگا کہ اگر وہ دل لگا کر میرے لوگوں کے طریقے سیکھینگے کہ میرے نام کی قسم کھائیں کہ خداوند زندہ ہے جیسا کہ اُنہوں نے میرے لوگوں کو سکھایا کہ بعل ؔ کی قسم کھائیں تو وہ میرے لوگو ں میں شامل ہو کر قائم ہو جا ئینگے ۔
۱۷ لیکن اگر وہ شنوا نہ ہونگے تو میں اُس قوم کو یکلخت اُکھاڑ ڈالونگا اور نیست و نابود کر دونگا خداوند فرماتا ہے۔