یرمیاہ ۴۶

۸۔ غیر اقوام کے خلاف پیش گوئیاں (‏ابواب ۴۶۔۵۱)‏

اِس حصے میں یرمیاہ تباہی‏، بربادی‏، ہلاکت اور سزا کے اِنتباہات کا اعلان کرتا ہے۔ اندازِ بیان شاعرانہ اور دلکش ہے۔ وہ نو قوموں کے خلاف نبوت کرتا ہے۔ یہ قومیں ہیں مصر‏، فلستین‏، موآب‏، عمون‏، ادوم‏، دمشق‏، عرب (‏قیدار اور حصور)‏‏، عیلام اور بابل۔ اِن اقوام کی فہرست جغرافیائی لحاظ سے __ مغرب سے مشرق کو __ ترتیب دی گئی ہے۔ موضوع کے اعتبار سے یہ نبوتیں (‏پیش گوئیاں)‏ ۲۵:‏ ۱۳ کے بعد آتی ہیں۔ یہ یروشلیم کی بربادی کے بعد پوری ہوئیں۔ بابل برباد‏، تباہ اور اُجاڑ ہو جائے گا جب کہ اسرائیل (‏فدیہ دے کر)‏ چھڑا لیا جائے گا۔ بابل کے بارے میں نبوت غالباً پوری ہو چکی ہے۔ البتہ بعض علما تصور کرتے ہیں کہ یہ دوبارہ بحال اور تعمیر ہو گا اور بالآخر غارت کیا جائے گا۔ مادیوں کے عروج کا مضمون ۵۱:‏ ۱۔۲۴ میں ہے۔ 

الف۔ مصر کے خلاف پیش گوئیاں (‏باب ۴۶)‏

۴۶:‏ ۱۔ ۱۲ باب ۴۶ مصر کے بارے میں ایک نغمہ ہے اور غیر قوموں کے خلاف پیش گوئیوں کا آغاز کرتا ہے۔ ایک فوج لڑائی کی تیاریاں کرتی اور بڑی جلدی سے پسپا ہوتی نظر آتی ہے۔ یہ مصر کی فوج ہے‏، لیکن زیادہ تر اُجرتی یا کرائے کے سپاہیوں سے تشکیل دی گئی ہے جو کوش (‏ایتھوپیا)‏‏، فُوط (‏لیبیا)‏ اور لُود سے آئے ہیں۔ اِس لشکر کو ۶۰۵ ق م میں کرکمیس کے مقام پر شکست ہوئی۔ 

۴۶:‏ ۱۳۔۱۹ اِس کے بعد مصر کو متنبہ کیا گیا ہے کہ دشمن کے حملے اور جلاوطنی میں جانے کی تیاری کرو۔ جب نبوکدنضر اس ملک پر دھاوا بولے گا تو کرائے کے سپاہی آپس میں ایک دوسرے پر چڑھ دوڑیں گے اور پھر اپنے اپنے وطن کو بھاگ جائیں گے۔ طنز اور حقارت کے لئے فرعون کو کھوکھلی آواز کا نام دیا جائے گا کیونکہ وہ فقط شور مچاتا رہا۔ کسدیوں کی موجودگی کا رعب اور دبدبہ تبور اور کرمل کی طرح مصریوں کے لئے اسیری کا پیغام ہے۔ 

۴۶:‏ ۲۰۔۲۴ بابل کی بھڑ (‏خاص مکھی جو مویشیوں کو کاٹتی ہے)‏ مصر کی ’’نہایت خوبصورت بچھیا‘‘ کو کاٹے گی۔ اُس کے مزدور (‏اُجرتی)‏ سپاہی موٹے بچھڑوں کی مانند ہیں جو سدھائے نہیں گئے۔ وہ سب صفیں چھوڑ کر جدھر منہ اُٹھے بھاگ کھڑے ہوں گے۔ دشمن سے بھاگتے ہوئے مصر کی آواز جان بچا کر بھاگتے ہوئے سانپ کی سرسراہٹ کی مانند ہے۔ حملہ آور جنگی کلہاڑے لے کر چڑھے چلے آتے ہیں۔ وہ مصریوں کو گھنے جنگل کی طرح کاٹ کاٹ کر پھینکتے ہیں۔ وہ تعداد میں ’’ٹڈیوں سے زیادہ بلکہ بے شمار رہیں‘‘۔ مصر بالکل رسوا ہو گیا ہے۔ 

۴۶:‏ ۲۵۔۲۸ خداوند آمون نو (‏قدیم تھیبس کا سورج دیوتا)‏ کو سزا دے گا۔ اِس کے ساتھ ہی وہ فرعون اور مصر اور اُس کے معبودوں کو بھی سزا دے گا۔ لیکن اِس کے بعد ملکِ مصر دوبارہ پہلے کی طرح آباد ہو گا۔ بنی اِسرائیل بھی اپنے ملک میں بحال ہوں گے اور امن اور سلامتی سے لطف اندوز ہوں گے۔ 

مقدس کتاب

۱ خداوند کا کلام جو یرمیاہؔ نبی پر اقوام کی بابت نازل ہوا ۔
۲ مصرؔ کی بابت :۔ شاہِ مصرؔ فرعونؔ نکوہ کی فوج کی بابت جو دریای فراتؔ کے کنارے پر کر کمیس ؔ میں تھی جسکو شاہِ بابلؔ نبو کدرؔ ضر نے شاہِ یہوداہؔ یہویقیمؔ بن یوسیاہؔ کے چوتھے برس میں شکست دی۔
۳ سپر اور ڈھال کو تیار کرو اور لڑائی پر چلے آؤ۔
۴ گھوڑوں پر ساز لگاؤ ۔ اَے سوا رو!تم سوار ہو اور خود پہن کر نکلو ۔ نیزوں کو صیقل کرو ۔بکتر پہنو ۔
۵ میں اُنکو گھبرائے ہوئے کیوں دیکھتا ہوں ؟ وہ پلٹ گئے ۔اُنکے بہادروں نے شکست کھائی ۔ وہ بھاگ نکلے اور پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے کیونکہ چاروں طرف خوف ہے خداوند فرماتا ہے۔
۶ نہ سبکپا بھاگنے پائیگا نہ بہارد بچ نکلیگا ۔شمال میں دریای فراتؔ کے کنارے اُنہوں نے ٹھوکر کھائی اور گر پڑے ۔
۷ یہ کون ہے جو دریای نیلؔ کی مانند بڑھا چلا آتا ہے جس کا پانی سیلاب کی مانند موجزن ہے؟۔
۸ مصرؔ نیلؔ کی طرح اُٹھتا ہے اور اُسکا پانی سیلاب کی مانند موجزن ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں چڑھونگا اور زمین کو چھپا لُونگا ۔میں شہروں کو اور اُنکے باشندوں کو نیست کردنگا ۔
۹ گھوڑے برانگیختہ ہوں۔ رتھ ہوا ہو جائیں اور کُوش وفوط ؔ کے بہادر جو سپر بردار ہیں اور لُودی جو کمان کشی اور تیرا ندازی میں ماہر ہیں نکلیں ۔
۱۰ کیونکہ یہ خدا وند ربُّ الافواج کا دن یعنی اِنتقام کا زور ہے تاکہ وہ اپنے دُشمنوں سے اِنتقام لے ۔ پس تلوار کھا جائیگی اور سیر ہوگی اور اُنکے خون سے مست ہوگی کیونکہ خداوند ربُّ الافواج کے لئے شمالی سرزمین میں دریای فراتؔ کے کنارے ایک ذبیحہ ہے۔
۱۱ اَے کنواری دُختر مصرؔ !جلعادؔ کو چڑھ جا اور بلسان لے۔ تو بے فائدہ طرح طرح کی دوائیں اِستعمال کرتی ہے۔تو شفا نہ پائیگی۔
۱۲ قوموں نے تیری رُسوائی کا حال سُنا اور زمین تیرے نالہ سے معمور ہو گئی کیو نکہ بہادر ایک دوسرے سے ٹکرا کر باہم گرگئے ۔
۱۳ وہ کلام جو خداوند نے یرمیاہؔ نبی کو شاہِ بابلؔ نبوکدرؔ ضر کے آنے اور ملک مصرؔ کو شکست دینے کے بارے میں فرمایا ۔:۔
۱۴ مصرؔ میں آشکارا کرو ۔مجدالؔ میں اِشتہار دوہاں نوفؔ اور تفخیسؔ میں منادی کرو ۔ کہو کہ اپنے آپکو تیار کر کیونکہ تلوار تیری چاروں طرف کھائے جاتی ہے۔
۱۵ تیرے بہادر کیوں بھاگ گئے؟ وہ کھڑے نہ ر ہ سکے کیونکہ خداوند نے اُنکو گرادیا ۔
۱۶ اُس نے بہتوں کو گمراہ کیا ۔ہاں وہ ایک دوسرے پر گر پڑے اور اُنہوں نے کہا اُٹھو ہم مہلک تلوار کے ظلم سے اپنے لوگوں میں اور اپنے وطن کو پھر جائیں ۔
۱۷ وہ وہاں چلائے کہ شاہِ مصرؔ فرعون ؔ برباد ہوا ۔ اُس نے مُقرر ہ وقت کو گذر جانے دیا۔
۱۸ وہ بادشاہ جسکا نام ربُّ الافواج ہے یوں فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم جیسا تبورؔ پہاڑوں میں اور جیسا کربلؔ سُمندر کے کنارے ہے ویسا ہی وہ آئیگا ۔
۱۹ اَے بیٹی جو مصرؔ میں رہتی ہے ! اِسیر ی میں جانے کا سامان کر کیونکہ نوفؔ ویران اور بھسم ہوگا۔ اُس میں کوئی بسنے والا نہ رہیگا ۔
۲۰ مصرؔ نہایت خوبصورت بچھیا ہے لیکن شمال سے تباہی آتی ہے بلکہ آپہنچی ۔
۲۱ اُسکے مزدُور سپاہی بھی اُسکے درمیان موٹے بچھڑوں کی مانند ہیں پر وہ بھی رُوگردان ہوئے ۔وہ اِکٹھے بھاگے۔ وہ کھڑے نہ رہ سکے کیونکہ اُنکی ہلاکت کا دن اُن پر گیا ۔اُنکی سزا کا وقت آپہنچا ۔
۲۲ وہ سانپ کی مانند چلچلائیگی کیونکہ وہ فوج لیکر چڑھائی کرینگے اور کلہاڑے لیکر لکڑ ہاروں کی مانند اُس پر چڑھ آئینگے ۔
۲۳ وہ اُسکا جنگل کاٹ ڈالینگے ۔ اگرچہ وہ ایسا گھنا ہے کہ کوئی اُ س میں سے گذر نہیں سکتا خداوند فرماتا ہے کیونکہ وہ ٹڈیو ں سے زیادہ بلکہ بیشمار ہیں ۔
۲۴ دُختر مصرؔ رُسوا ہو گی ۔وہ شمالی لوگوں کے حوالہ کی جائیگی ۔
۲۵ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا فرماتا ہے دیکھ میں آمون ؔ نوکو اور فرعون ؔ اور مصرؔ اور اُسکے معبودوں اور اُسکے بادشاہوں کو یعنی فرعون ؔ اور اُنکو جو اُس پر بھروسا رکھتے ہیں سزا دُونگا ۔
۲۶ اور میں اُنکو اُنکے جانی دُشمنوں اور شاہِ بابلؔ نبورکدرؔ ضر اور اُسکے مُلازموں کے حوالہ کردُونگا لیکن اِسکے بعد وہ پھر اَیسی آباد ہوگی جیسی اگلے دِنوں میں تھی خداوند فرماتا ہے۔
۲۷ لیکن اَے میرے خادم یعقوب ؔ ہراسان نہ ہوں اور اَے اِسراؔ ئیل گھبرانہ جا کیونکہ دیکھ میں تجھے دُور سے اور تیری اَولاد کو اُنکی اِسیری کی زمین سے رہائی دُونگا اور یعقوب واپس آئیگا اور آرام وراحت سے رہیگا اور کوئی اُسے نہ ڈرائیگا ۔
۲۸ اَے میرے خادِم یعقوب ہراسان نہ ہو خداوند فرماتا ہے کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں ۔ اگرچہ میں اُن سب قوموں کو جن میں میں نے تجھے ہانک دیا نیست ونابودکروُ ں تو بھی میں تجھے نیست ونابود نہ کرونگا بلکہ مناسب تنبیہ کرونگا اور ہر گز بے سزا نہ چھوڑونگا ۔