متؔی ۹

۹۔ مسیحِ مَوعُود کے فضلِ فراواں کی بڑھتی ہوئی مخالفت (۱۴:‏۱-‏۱۶:‏۱۲)

الف۔ یُوحناؔ بپتسمہ دینے والے کا سرقلم ہوتا ہے (۱۴:‏۱-‏۱۲)

۱۴:‏۱،‏۲ یسؔوع کی خدمت کی خبر «چوتھائی ملک کے حاکم ہیرودیس» کو بھی ملی۔ ہیرودیسِ اعظم کے اِس بدنام بیٹے کو تاریخ ہیرودیس اِنتپاس کے نام سے بھی جانتی ہے۔ اِسی نے یُوحناؔ بپتسمہ دینے والے کو قتل کرنے کا حُکم دیا تھا۔ جب اُس نے مسیح کے معجزوں کے بارے میں سنا تو اُس کا ضمیر اُسے کچوکے لگانے لگا۔ اُسے اُس نبی کی یاد ستانے لگی جِس کا سر اُس نے قلم کروا دیا تھا۔ وُہ اپنے نوکروں سے کہتا تھا کہ «یہ یُوحناؔ بپتسمہ دینے والا ہے۔ وُہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اِس لئے اُس سے یہ معجزے ظاہر ہوتے ہیں۔»

۱۴:‏۳ آیات ۳-‏۱۲ میں متؔی بیان کو روکتا ہے،‏ اور اُن حالات کا جائزہ پیش کرتا ہے جن میں یُوحناؔ کی موت واقع ہوئی تھی۔

۱۴:‏۴،‏۵ ہیرودیس نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا تھا۔ اب وُہ «اپنے بھائی فلپس کی بیوی ہیرودیاس» کے ساتھ زِناکاری بلکہ زِنائے محرم کی زندگی بَسر کر رہا تھا۔ خُدا کا نبی ہونے کی حیثیت میں یُوحناؔ اُس کی مذمت کئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اُس نے بڑی بے خوفی سے اُس کی بداخلاقی پر اُسے ٹوکا اور برملا بُرا کہا۔

بادشاہ اِتنا ناراض تھا کہ اُسے مار ڈالنا چاہتا تھا لیکن یہ بات سیاسی لحاظ سے قرینِ مصلحت نہ تھی۔ لوگ یُوحناؔ کو «نبی جانتے» اور اُس کے گُن گاتے تھے۔ اور اگر یُوحناؔ کو قتل کروا دیا جاتا تو شاید شدید ردِّ عمل دکھاتے۔ چنانچہ اُس ظالم نے بپتسمہ دینے والے کو قید میں ڈال کر وقتی طور پر اپنے غیض و غضب کو ٹھنڈا کر لیا۔ «بے دین لوگ مذہب کو ایسے ہی پسند کرتے ہیں جیسے وُہ ببر شیروں کو پسند کرتے ہیں کہ یا تو مُردہ ہوں،‏ یا سلاخوں کے پیچھے بَند۔ جب مذہب آزاد ہوتا اور اُن کے ضمیر کو چیلنج کرتا ہے تو اُس سے نہایت خوف زدہ ہوتے ہیں۔»

۱۴:‏۶-‏۱۱ «ہیرودیس کی سالگرہ» کے موقعے پر ہیرودیاس کی بیٹی نے اپنے رقص سے بادشاہ کو ایسا خوش کر دیا کہ اُس نے ترنگ اور جوش میں آ کر پیش کش کر دی کہ لڑکی جو مانگے گی پائے گی۔ اپنی عیاش ماں کے کہنے پر لڑکی نے بڑی بے حیائی سے کہا کہ «مجھے یُوحناؔ بپتسمہ دینے والے کا سر تھال میں یہیں منگوا دے۔» اُس وقت یُوحناؔ کے بارے میں بادشاہ کا غصہ کُچھ کم ہو چکا تھا۔ شاید وُہ نبی کی جرأت اور دیانت کے باعث اُس کی تعریف بھی کرتا ہو۔ لیکن اگرچہ اُسے افسوس ہُوا مگر محسوس کرتا تھا کہ مجھے اپنا وعدہ پورا کرنا چاہئے۔ حُکم جاری ہو گیا۔ «یُوحناؔ کا سر کٹوا دیا» گیا اور ناچنے والی لڑکی کی بھیانک درخواست پُوری ہو گئی۔

۱۴:‏۱۲ یُوحناؔ کے شاگردوں نے اپنے اُستاد کی «لاش» کو بڑی عزت و احترام سے دفن کیا «اور جا کر یسؔوع کو خبر دی»۔ وُہ اپنے غم و غصے کے اِظہار کے لئے اُس سے بُہتر کِسی شخص کے پاس نہیں جا سکتے تھے اور نہ وُہ ہمارے لئے اِس سے بُہتر نمونہ چھوڑ سکتے تھے۔ ایذا رسانی،‏ ظلم،‏ دکھ اور غم کے موقعے پر ہمیں بھی جا کر «یسؔوع کو بُتانا چاہئے۔»

جہاں تک ہیرودیس کا تعلق ہے،‏ اُس کا جرم تو ختم ہو گیا مگر یاد باقی رہ گئی۔ جب اُس نے یسؔوع کی سرگرمیوں کی شہرت سنی تو سارا واقعہ اُن کی آنکھوں کے سامنے گھومنے اور ڈرانے لگا۔

ب۔ پانچ ہزار کو کھلانا (۱۴:‏۱۳-‏۲۱)

۱۴:‏۱۳،‏۱۴ «جب یسؔوع نے یہ سنا» کہ ہیرودیس میرے مُعجزات کی خبریں سن کر پریشان ہو رہا ہے تو وُہ «کشتی پر» سوار ہُوا اور گلیل کی جھیل کے پاس الگ چلا گیا۔ یقینا وُہ ڈر کے مارے نہیں گیا تھا۔ وُہ جانتا تھا کہ جب تک میرا وقت نہ آئے مجھے کُچھ نہیں ہو سکتا۔ ہم نہیں جانتے کہ خاص وجہ کیا تھی،‏ مگر ایک کم تر وجہ یہ تھی کہ اُس کے شاگرد منادی کرنے کے مشن سے واپس آئے تھے (مرقسؔ ۶:‏۳۰؛ لُوقاؔ ۹:‏۱۰) اور اِنہیں آرام و سکون کی ضُرورتتھی۔

مگر اِرد گرد کے دیہات سے لوگ جمع ہو گئے اور «پیدِل اُس کے پیچھے گئے۔» وُہ ساحل پر پہنچا تو یہ لوگ اُس کے اِنتظار میں وُہاں کھڑے تھے۔ اِس مداخلت پر ناراض ہونے کے بجائے ہمارا ہمدرد خُداوند فوراً کام میں لگ گیا اور «اُن کے بیماروں کو اچھا کر دیا۔»

۱۴:‏۱۵ «جب شام ہوئی» (سہ پہر تین بجے کے بعد) تو اُس کے شاگردوں کو احساس ہُوا کہ ایک بحران سر اُٹھانے والا ہے۔ اِتنے لوگ ہیں اور اِن کے کھانے کو کُچھ بھی نہیں! چنانچہ اُنہوں نے یسؔوع سے کہا کہ لوگوں کو آس پاس کے گائوں میں بھیج دے جہاں اُن کو کھانے پینے کی چیزیں مل سکیِں۔ نہ وُہ مسیح کے دِل کو سمجھتے تھے،‏ نہ اُس کی قُدرت کو جانتے تھے!

۱۴:‏۱۶-‏۱۸ خُداوند مسیح نے اُن کو یقین دِل ایا کہ ایسی کوئی «ضرورت» نہیں جو پُوری نہ کی جا سکتی ہو۔ لوگ اُس ہستی کے پاس سے کیوں چلے جائیں جو اپنی مٹھی کھولتا ہے اور ہر جان دار کی خواہش کو پورا کر دیتا ہے! پھر یسؔوع نے ایک ایسی بات کہی جِس کے لئے شاگرد کِسی صورت بھی تیار نہ تھے کہ «تم ہی اِن کو کھانے کو دو۔» اُن کے تو پائوں تلے سے زمین نکل گئی۔ اِنہیں کھانے کو دیں؟ ہمارے پاس تو «پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں کے سوا اَور کُچھ نہیں۔» وُہ بھول رہے تھے کہ اُن کے پاس یسؔوع بھی تھا۔ نجات دہندہ نے بڑے سکون سے کہا «وُہ یہاں میرے پاس لے آئو۔» اِتنا کام اُن کو ہی کرنا تھا۔

۱۴:‏۱۹-‏۲۱ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ کس طرح خُداوند نے بھیڑ کو گھاس پر بیٹھ جانے کی ہدایات دیں۔ اور «پھر اُس نے وُہ پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں لیں۔» اُس نے شکر کیا اور «روٹیاں توڑ کر شاگردوں کو دیں» اور اُنہوں نے لوگوں میں تقسیم کیِں۔ اور وُہ سب کے لئے کافی سے زیادہ ثابُت ہوئیں۔ جب «سب کھا کر سیر ہو گئے» تو شاگردوں نے بچے ہوئے ٹکڑوں سے «بارہ ٹوکریاں» بھر کر اُٹھائیں۔ ٹکڑے تو اِس مقدار سے بھی زیادہ تھے جِس سے یسؔوع نے اِتنے لوگوں کو کھلانا شروع کیا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ شاگرد جو بے اعتقاد ہو رہے تھے،‏ اُن سب کے لئے ایک ایک ٹوکری موجود تھی اور کوئی ۰۰۰،‏۱۰ یا ۰۰۰،‏۱۵ نفوس پر مشتمل بھیڑ سیر ہو گئی تھی (یعنی ۰۰۰،‏۵ مرد جمع عورتیں اور بچے)۔

یہ مُعجزہ ہر زمانے کے شاگردوں کے لئے روحانی سبق کا حامل ہے۔ بھوکی بھیڑ تو ہمیشہ موجود ہوتی ہے اور شاگردوں کا گروُہ بُہت چھوٹا ہوتا ہے۔ بظاہر اُن کے پاس وسائل بھی بُہت کم ہوتے ہیں اور ہمدرد اور ترس کھانے والا نجات دہندہ بھی ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ جب شاگرد جو تھوڑا اُن کے پاس تھا اُسے دینے پر تیار ہوتے ہیں تو وُہ اُن کو برکت دے کر اِتنا بڑھا دیتا ہے کہ ہزاروں سیر ہو جاتے ہیں۔ قابلِ غور بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو گلیل کی جھیل کے ساحل پر کھلایا گیا،‏ اُن کی بھوک صِرف تھوڑے عرصے کے لئے مٹی لیکن جو لوگ آج زندہ مسیح کو کھاتے ہیں ہمیشہ کے لئے سیر ہو جاتے ہیں (یُوحناؔ ۶:‏۳۵)۔

ج۔ یسؔوع پانی پر چلتا ہے (۱۴:‏۲۲-‏۳۳)

مُندرَج ہ بالا معجزے نے شاگردوں کو یقین دِل ا دیا کہ جِس ہستی کے پیچھے ہم چل رہے ہیں وُہ ہماری ساری ضروریات پُوری کر سکتا ہے۔

۱۴:‏۲۲-‏۲۳ جب خُداوند بھیڑ کو رخصت کر رہا تھا تو اُس نے شاگردوں سے کہا کہ «کشتی میں سوار ہو کر اُس سے پہلے پار چلے جائیں۔» پھر وُہ دُعا کرنے کے لئے پہاڑ پر چڑھ گیا۔ «جب شام ہوئی» (سورج غروب ہونے کے بعد) تو یسؔوع «وُہاں اکیلا تھا۔»

۱۴:‏۲۴-‏۲۷ اِس اثنا میں کشتی ساحل سے بُہت دُور جا چکی تھی اور مخالف ہُوا کے تھپیڑے کھا رہی تھی۔ جب لہریں کشتی سے ٹکرا رہی تھیں تو یسؔوع نے شاگردوں کی خستہ حالت دیکھی۔ «رات کے چوتھے پہر» (۳ اور ۶ بجے صبح کے درمیان) وُہ «جھیل پر چلتا ہُوا اُن کے پاس آیا۔» شاگرد سمجھے کہ «بھوت» ہے اور گھبرا اُٹھے۔ مگر فوراً اُن کو اپنے مالک اور دوست کی تسلی بخش آواز آئی «خاطر جمع رکھو،‏ مَیں ہوں۔ ڈرو مت۔»

یہ بات ہمارے اپنے تجربے کے ساتھ کیسی مُطابقت رکھتی ہے! اکثر ہمیں بھی طوفانوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ہم پریشان ہو جاتے ہیں،‏ ہمت ہار دیتے ہیں،‏ نااُمید ہو جاتے ہیں۔ ایسے موقعے پر لگتا ہے کہ نجات دہندہ بُہت دُور ہے مگر وُہ تو سارا وقت ہمارے لئے دُعا کرتا رہتا ہے۔ ہماری شفاعت کرتا رہتا ہے۔ جب رات نہایت تاریک معلوم ہوتی ہے،‏ وُہ بالکُل نزدیک ہوتا ہے۔ ہم اُس وقت بھی اُسے نہیں پہچانتے،‏ گھبرا اُٹھتے ہیں۔ ایسے موقع پر اُس کی تسلی بخش آواز سنائی دیتی ہے۔ ہمیں یاد آتا ہے کہ جو لہریں ہمیں ڈرا رہی ہیں،‏ ہمارا دم فنا کئے دے رہی ہیں،‏ وُہ تو اُس کے قدموں کے نیچے ہیں۔

۱۴:‏۲۸جب پَطرسؔ نے وُہ مانوس اور پیاری آواز سنی تو اُس کی عقیدت اور جوش میں اُبال آنے لگا۔ وُہ کہنے لگا «اے خُداوند اگر تُو ہے تو مجھے حُکم دے کہ پانی پر چل کر تیرے پاس آئوں۔» ہمیں پَطرسؔ کے «اگر» پر زور دے کر کم ایمانی پر اُنگلی نہیں رکھنی چاہئے بلکہ اُس کی درخواست کو دیکھنا چاہئے کہ کیسے مضبوط ایمان کو ظاہر کرتی ہے۔ پَطرسؔ کو احساس تھا کہ خُداوند کا حُکم ہمیں توفیق عطا کرتا ہے۔ اور جِس کام کے کرنے کا حُکم دیتا ہے اُسے کرنے کی طاقت بھی بخشتا ہے۔

۱۴:‏۲۹-‏۳۳ جونہی یسؔوع نے کہا «آ» تو پَطرسؔ چھلانگ لگا کر کشتی سے نکلا اور اُس کی طرف چلنے لگا۔ جب تک اُس کی نگاہیں یسؔوع پر لگی رہیں وُہ ایک ناممکن کام کرنے پر قادر رہا۔ مگر جونہی اُس کا دھیان تیز «ہُوا» کی طرف مڑا وُہ «ڈوبنے لگا۔» وُہ دیوانہ وار چِلّانے لگا:‏«اے خُداوند مجھے بچا!» خُداوند نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور «کم اعتقاد» ہونے پر نرمی سے جھڑکا اور پھر اُسے کشتی پر لے آیا۔ جونہی یسؔوع کشتی میں آ گیا «ہُوا تھم گئی۔» کشتی میں حمد و ستائش کی عبادت شروع ہو گئی اور شاگرد یسؔوع سے کہنے لگے «یقینا تُو خُدا کا بیٹا ہے۔»

پانی پر چلنے کی طرح مسیحی زندگی بھی اِنسانی طور پر ناممکن ہے۔ یہ زندگی صِرف رُوح القُدس کی طاقت سے بَسر کی جا سکتی ہے۔ جب تک ہم دُوسری ہر چیز سے نظریں ہٹا کر صِرف یسؔوع پر لگائے رکھتے ہیں (عبرانیوں ۱۲:‏۲) اُس وقت تک اس فوق الفطرت زندگی کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔ لیکن جِس لمحے دھیان اپنی یا اپنے حالات کی طرف جاتا ہے ہم ڈوبنے لگتے ہیں۔ اُس وقت چاہئے کہ ہم بحالی اور الٰہی قوت کے لئے مسیح کو پکاریں۔

د۔ یسؔوع گنیسرت کے علاقے میں شفا دیتا ہے (۱۴:‏۳۴-‏۳۶)

اُن کی کشتی «گنیسرت» کے ساحل پر کنارے لگی۔ یہ علاقہ گلیل کی جھیل کے شمال مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ جونہی وُہاں کے لوگوں نے یسؔوع کو دیکھا اُنہوں نے سارے علاقے میں خبر بھیج دی اور «سب بیماروں کو اُس کے پاس لائے» تاکہ وُہ «اُس کی پوشاک کا کنارہ ہی چھولیں۔ اور جتنوں نے چھوا وُہ اچھے ہو گئے۔» اِس طرح اُس علاقے کے ڈاکٹروں کو چھٹیاں مل گئیں کیونکہ کم سے کم تھوڑے عرصے کے لئے وُہاں کوئی بیمار نہ رہا۔ اُس علاقے کو طبیب اعظم کے آنے سے صحت اور شفا کا تجربہ ہُوا۔

ہ۔ ناپاکی باطن سے ہوتی ہے (۱۵:‏۱-‏۲۰)

اکثر کہا جاتا ہے کہ ابُتدائی ابواب میں متؔی نے توارِیخی ترتِیب کا لحاظ نہیں رکھا۔ مگر باب ۱۴ کے آغاز سے آخر تک واقعات بڑی حد تک اُسی ترتِیب سے بیان ہوئے ہیں جیسے وقوع پذیر ہوئے تھے۔

باب ۱۵ میں ہمیں ایک اِنتظامی ترتِیب بھی نظر آتی ہے۔ پہلے تو فریسیوں اور فقیہوں کا اُس کے ساتھ مسلسل لڑتے جھگڑتے رہنا (آیات ۱-‏۲۰) پتا دیتا ہے کہ بنی اِسرائیل مسیحِ مَوعُود کو ردّ کریں گے۔ دوسرے کنعانی عورت کا ایمان (آیات ۲۱-‏۲۸) یہ تصویر پیش کرتا ہے کہ موجودہ دَور میں خوشخبری غیر قوموں تک پہنچے گی اور آخر میں بڑی بھیڑ کا شفا پانا (آیات ۲۹-‏۳۱) اور چار ہزار کو کھلانا (آیات ۳۲-‏۳۹) آنے والے ہزار سالہ دَور کی تصویر پیش کرتا ہے جب ہر طرف صحت اور خوش حالی کا دَور دورہ ہو گا۔

۱۵:‏۱،‏۲ «فریسیوں اور فقیہوں» کی دن رات کوشِش تھی کہ کِسی نہ کِسی طرح نجات دہندہ کو پھنسائیں۔ اُن کا ایک وفد «یروشلؔیم سے» آیا۔ وُہ اُس کے شاگردوں پر الزام عائد کرنے لگے کہ چونکہ بغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھاتے ہیں اِس لئے ناپاک ہیں،‏ اور اِس طرح «بزرگوں کی روایت» کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں۔

اِس واقعے کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ہمیں پاک اور ناپاک کے حوالوں کی سمجھ ہونی چاہئے۔ نیز جاننا چاہئے کہ ہاتھ دھونے سے فریسیوں کی کیا مراد تھی۔ پاک اور ناپاک کا سارا تصور پُرانے عہدنامہ سے تعلق رکھتا ہے۔ جِس ناپاکی کا الزام شاگردوں پر لگایا گیا وُہ سراسر ایک رسوماتی بات تھی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کِسی مُردے کو چھو لیتا تھا یا خاص چیز کھا لیتا تھا تو رسوماتی طور پر ناپاک ہو جاتا اور خُدا کی عبادت کی رسوم ادا نہیں کر سکتا تھا۔ شریعت کا تقاضا تھا کہ خُدا کے پاس آنے سے پہلے ایسا شخص رسوماتی طورپر پاک ہو۔

مگر بزرگوں نے پاک ہونے کی رسم کے ساتھ کُچھ روایت کا اضافہ کر رکھا تھا۔ مثال کے طور پر وُہ اصرار کرتے تھے کہ یہُودی کے لئے لازم ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی تفصیلی کارروائی پر عمل کرے اور صِرف ہاتھ ہی نہیں بلکہ کُہنیوں تک بازُو بھی دھوئے۔ اگر بازار گیا ہُوا تھا تو اُس کے لئے غسل کرنا ضروری ہوتا تھا۔ چنانچہ فریسیوں نے شاگردوں پر نکتہ چینی کی کہ وُہ روایت میں مقرر شدہ رسمی پاکیزگی کی پیچیدگیوں پر عمل نہیں کرتے۔

۱۵:‏۳-‏۶ خُداوند یسؔوع نے اِن اعتراض کرنے والوں کو یاد دِل ایا کہ «تم اپنی روایت سے خُدا کا حُکم کیوں ٹال دیتے ہو؟» شریعت حُکم دیتی ہے کہ « تُو اپنے باپ کی اور اپنی ماں کی عزت کرنا۔» اِس میں اگر ضُرورتہو تو اُن کی مالی مدد کرنا بھی شامِل ہے۔ مگر (فریسی اور بُہتیرے دوسرے لوگ) اپنے عمر رسیدہ والدین کے گزارے کے لئے پیسہ خرچ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے اپنی ذمہ داری سے پہلوتہی کرنے کے لئے ایک روایت وضع کر لی تھی۔ جب ماں یا باپ مدد مانگتے تو اُن کے لئے اِس قِسم کا جواب دے دینا ہی کافی ہوتا تھا کہ جو روپیہ پیسہ آپ کی مدد کے لئے استعمال ہونا تھا،‏ وُہ تو «خُدا کی نذر ہو چکا» اِس لئے آپ کو نہیں دے سکتا۔ اور یہ فارمولا دُہرانے کے بعد وُہ اپنے والدین کی ذمہ داری سے آزاد ہو جاتے تھے۔ اِس گمراہ کن روایت سے وُہ «خُدا کے کلام» کو باطل کر دیتے تھے جو اِنہیںو الدین کی نگہداشت اور پرورش کرنے کا حُکم دیتا تھا۔

۱۵:‏۷،‏۹ ایسی ہوشیاری اور عیاری سے لفظوں کو توڑنے موڑنے سے وُہ یسَعیاہ ۲۹:‏۱۳ کی پیش گوئی کو پورا کر رہے تھے۔ وُہ دعویٰ تو کرتے تھے کہ ہم خُدا کی «عزت» کرتے ہیں مگر اُن کے «دِل » اُس سے «دُور» تھے۔ اُن کی پرستش بے وقعت اور «بے فائدہ» تھی کیونکہ وُہ اِنسانی روایت کو خُدا کے کلام پر ترجیح دیتے تھے۔

۱۵:‏۱۰،‏۱۱ «لوگوں» سے مخاطب ہو کر یسؔوع نے ایک نہایت اہم اعلان کیا کہ «جو چیز منہ میں جاتی ہے،‏ وُہ آدمی کو ناپاک نہیں کرتی،‏ مگر جو منہ سے نکلتی ہے،‏ وُہی آدمی کو ناپاک کرتی ہے۔» ہم اِس بیان کی انقلابی خصُوصیات کا پورا پورا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ شریعت کے ضابطے کے مطابق جو چیز منہ میں جاتی،‏ وُہ آدمی کو ناپاک کرتی تھی۔ یہُودی وں کو ایسے جانور کا گوشت کھانا منع تھا جو جگالی نہ کرتا ہو،‏ یا جِس کے پائوں چِرے ہوئے نہ ہوں۔ وُہ ایسی مچھلی نہیں کھا سکتے تھے جِس کے پَر یا چھلکے نہ ہوں۔ پاک اور ناپاک کھانوں کے بارے میں خُدا نے نہایت تفصیلی ہدایات دے رکھی تھیں۔

اب شریعت کے بانی نے رسوماتی ناپاکی کے نظام کو منسوخ کرنے کی راہ تیار کر دی۔وُہ کہہ رہا تھا کہ جو کھانا شاگرد بغیر ہاتھ دھوئے کھاتے ہیں،‏ وُہ اِنہیں ناپاک نہیں کرتا مگر فقیہوں کی ریاکاری حقیقت میں ناپاک کرتی ہے۔

۱۵:‏۱۲-‏۱۴ جب شاگرد یہ خبر لائے کہ اِن باتوں سے «فریسیوں نے … ٹھوکر کھائی» یعنی وُہ خفا ہو گئے ہیں تو یسؔوع نے جواب میں اُن کو ایسے پودوں کے مُشابہٹھہرایا جن کو خُدا نے نہیں لگایا۔ وُہ گیہوں نہیں بلکہ کڑوے دانے تھے۔ بالآخر وُہ اور اُن کی تعلیمات جڑ سے اُکھاڑی جائیں گی یعنی تباہ کی جائیں گی۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ «اِنہیں چھوڑ دو۔ وُہ اندھے راہ بُتانے والے ہیں» یعنی اندھوں کے اندھے راہنما ہیں۔ وُہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم روحانی معاملات میں سند رکھتے ہیں مگر روحانی سچائیوں کے بارے میں «اندھے» ہیں۔ اور اِسی طرح وُہ لوگ بھی اَندھے ہیں جن کی راہنمائی یہ فقیہ اور فریسی کرتے ہیں۔ چنانچہ راہنمائوں اور پیروکاروں دونوں کا «گڑھے میں گرنا» ناگزیر ہے۔

۱۵:‏۱۵ شاگردوں کو پاک اور ناپاک کھانوں سے متعلق مخصوص تعلیم دی گئی تھی۔ اُن کے خُداوند کی باتیں اِس تعلیم کے بالکُل برعکس تھیں۔ اور اِن باتوں نے اِنہیں بالکُل ہلا کے رکھ دیا۔ یہ باتیں بھی اُن کو «تمثیل» معلوم ہوئیں یعنی ایسی کہانی جِس کا اصل پوشیدہ اور ڈھکا ہُوا ہوتا ہے۔ «پطرس» نے اُن کی پریشانی کو لفظوں میں ڈھالا اور خُداوند سے درخواست کی کہ «یہ تمثیل ہمیں سمجھا دے۔»

۱۵:‏۱۶،‏۱۷ پہلے تو خُداوند نے اِس بات پر تعجب کا اِظہار کیا کہ وُہ اِس بات کو سمجھنے میں سُست نکلے۔ پھر سمجھایا کہ حقیقی ناپاکی جِسم کی نہیں بلکہ اخلاق کی ناپاکی ہے۔ کھانے پینے کی کوئی چیز اپنی ذات میں پاک یا ناپاک نہیں ہوتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی مادی چیز اپنے آپ میں بُری نہیں۔ اُس چیز کا غلط استعمال بُرائی ہے۔ جو کھانا اِنسان کھاتا ہے،‏ وُہ «منہ میں جاتا» اور «پیٹ میں پڑتا» ہے جہاں وُہ ہضم ہوتا ہے اور پھر «مزبلہ میں پھینکا جاتا ہے۔» اِس سے اِنسان کے اخلاق پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ صِرف بدن پر اثر پڑتا ہے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ «خُدا کی پیدا کی ہوئی ہر چیز اچھی ہے اور کوئی چیز انکار کے لائق نہیں بشرط یہ کہ شکرگزاری کے ساتھ کھائی جائے۔ اِس لئے کہ خُدا کے کلام اوردُعا سے پاک ہو جاتی ہے» (۱۔تیمتھیس ۴:‏۴-‏۵)۔ بے شک یہاں زہریلے پودوں کی بات نہیں ہو رہی بلکہ اُن کھانوں کی جو خُدا نے اِنسان کے کھانے کے لئے مہیا کئے ہیں سب اچھے ہیں۔ لہٰذا شکرگزاری کے ساتھ اِنہیں کھانا چاہئے۔ اگر اِنسان کو کِسی کھانے سے الرجی ہو جاتی ہے یا بعض کھانوں کو ہضم نہیں کر سکتا تو وُہ اِنہیں نہ کھائے۔ مگر عام طور پر ہم ساری چیزیں اِس یقین کے ساتھ کھا سکتے ہیں کہ خُدا خوراک کو ہماری جِسمانی نشو و نما کے لئے استعمال کرتا ہے۔

۱۵:‏۱۸ اگر کھانے اِنسان کو ناپاک نہیں کرتے تو کیا چیز کرتی ہے؟ یسؔوع نے جواب دیا کہ «جو باتیں منہ سے نکلتی ہیں،‏ وُہ دِل سے نکلتی ہیں اور وُہی آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔» یہاں «دِل » سے مراد وُہ عضو نہیں جو خون کو پمپ کرتا ہے بلکہ اِنسانی خواہشات اور ارادوں کا بگڑا ہُوا سرچشمہ ہے۔ اِنسان کی اخلاقی خصلت کا یہ حصہ ناپاک خیالات،‏ فاسد باتوں اور بُرے کاموں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

۱۵:‏۱۹-‏۲۰ چند باتیں جو اِنسان کو ناپاک کرتی ہیں یہ ہیں:‏« بُرے خیال،‏ خوں ریزیاں،‏ زِناکاریاں،‏ حرام کاریاں،‏ چوریاں،‏ جھوٹی گواہیاں،‏ بدگوئیاں۔»

فریسی اور فقیہ ہاتھ دھونے وغیرہ کی خود نمائی کی رسومات پر پورے تکلفات کے ساتھ عمل کرتے تھے مگر اُن کی باطنی زندگیاں بالکُل خراب ہو چکی تھیں۔ وُہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑا زور دیتے مگر حقیقی اہمیّت کی باتوں کو نظر انداز کر دیتے تھے۔ وُہ شاگردوں پر تو غیر الہامی روایات کو نہ ماننے پر نکتہ چینی کرتے مگر خود خُدا کے بیٹے کو مار ڈالنے کی سازِشیں کر رہے تھے اور یوں اُن سارے گُناہ وں کے مرتکب ہو رہے تھے جن کی فہرست آیت ۱۹ میں درَج ہے۔

و۔ ایک غیر قوم عورت اپنے ایمان کے باعث برکت پاتی ہے (۱۵:‏۲۱-‏۲۸)

۱۵:‏۲۱،‏۲۲ یسؔوع بحیرۂ رؔوم کے ساحل پر واقع «صور اور صیدا کے علاقہ» میں چلا گیا۔ جہاں تک ہمیں عِلم ہے یہ واحد موقع ہے جب وُہ یہُودی علاقے سے باہر گیا۔ یہاں فینیکے میں ایک کنعانی عورت نے عرض کی کہ میری بدرُوح گرفتہ بیٹی کو شفا دے۔

یہ بات نہایت اہم اور قابلِ توجہ ہے کہ یہ عورت یہُودی نہیں،‏ بلکہ غیر قوم تھی۔ وُہ کنعانی نسل سے تھی اور خُدا نے اِس قوم کو نیست و نابود کرنے کا حُکم دیا تھا۔ لیکن اِسرائیلیوں کی نافرمانی کے باعث یشوع کے زمانے میں کُچھ کنعانی بچ رہے تھے۔ اور یہ عورت اُن ہی بچے ہوئے کنعانیوں کی نسل سے تھی۔ چونکہ وُہ غیر قوم تھی اِس لئے اُسے کوئی ایسا حق حاصل نہیں تھا جو زمین پر خُدا کے برگزیدہ لوگوں کو حاصل تھا۔ وُہ غیر ملکی تھی اور اِس لئے اُس کے لئے کوئی اُمید نہ تھی۔ اپنی حیثیت کے اِعتبار سے وُہ خُدا یا المسیح سے کِسی طرح کا دعویٰ نہیں کر سکتی تھی۔

یسؔوع سے بات کرتے ہوئے اُس نے اُسے «خُداوند،‏ ابنِ دائود» کہہ کر مخاطب کیا۔ یہ وُہ لقب ہے جو یہُودی مسیحِ مَوعُود کا ذِکر کرتے ہوئے استعمال کرتے تھے۔ اگرچہ یسؔوع واقعی «ابنِ دائود» تھا مگر کِسی غیر قوم کو حق نہیں پہنچتا تھا کہ اِس بنیاد پر اُس کے پاس آتا۔ یہی وجہ ہے کہ یسؔوع نے شروع میں اُسے جواب نہ دیا۔

۱۵:‏۲۳ «اُس کے شاگردوں نے پاس آ کر اُس سے یہ عرض کی کہ اُسے رُخصت کر دے۔» اُن کے لئے وُہ عورت وبالِ جان بنی ہوئی تھی جب کہ یسؔوع کے لئے وُہ ایمان کا پسندیدہ نمونہ اور ایسا پیکر تھی جِس پر اُس کے فضل کو چمکنا تھا۔ مگر ضرور تھا کہ پہلے وُہ اُس کے ایمان کا امتحان لے اور اُس کی تربیت کرے۔

۱۵:‏۲۴،‏۲۵ اُس نے عورت کو بُتایا کہ میرا مشن «اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں» کے لئے ہے،‏ غیر قوموں اور خصُوصاً کنعانیوں کے لئے نہیں ہے۔ عورت اِس بظاہر اِنکار سے بے دِل نہ ہوئی۔ اب اُس نے «ابنِ دائود» کے لقب کو چھوڑ دیا اور اُسے سجدہ کرتے ہوئے کہا،‏ «اے خُداوند،‏ میری مدد کر۔» اگر وُہ اِس طرح نہیں آ سکتی تھی جیسے یہُودی اپنے مسیحِ مَوعُود کے پاس آ سکتا ہے تو وُہ ایسے آئی جیسے مخلوق اپنے خالق کے پاس آ سکتی ہے۔

۱۵:‏۲۶ اُس کے ایمان کی حقیقت کو مزید کریدنے کے لئے یسؔوع اُس سے کہنے لگا کہ میرے لئے مناسب نہیں کہ یہُودی «لڑکوں» کو چھوڑ کر غیر قوم «کتوں» کو روٹی کھلائوں۔ بے شک یہ الفاظ اور انداز ہمیں بے حد سخت معلوم ہوتے ہیں،‏ مگر ہمیں یاد رکھناچاہئے کہ یہ سرجن کے نشتر کی مانند ہیں جِس کا مقصد زخم لگانا نہیں بلکہ شفا دینا ہوتا ہے۔ وُہ تھی غیر قوم۔ یہُودی غیر قوموں کو کتوں کے برابر گردانتے تھے جو خوراک کے ٹکڑوں کی خاطر گلیوں میں آوارہ گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ مگر یسؔوع نے یہاں جو لفظ استعمال کیا،‏ اُس کا مطلب «چھوٹے پالتو کتے» ہے۔ یہاں مسئلہ یہ تھا کہ «کیا یہ عورت تسلیم کرنے کو تیار ہے کہ مَیں ایسی نالائق ہوں کہ معمولی سے معمولی رحم کی بھی حق دار نہیں؟»

۱۵:‏۲۷ اُس کا جواب نہایت شان دار تھا۔ اُس نے یسؔوع کے بیان کے ساتھ پورا پورا اتفاق کیا۔ اُس نے قبول کیا کہ میری حیثیت ایک نالائق غیر قوم کی ہے۔ اُس نے اپنے آپ کو اُس کے رحم،‏ محبُت اور فضل پر چھوڑ دیا اور گویا یہ کہا «تیرا کہنا بالکُل بجا ہے! مَیں صِرف میز کے نیچے ایک «چھوٹے کتے» کی مانند ہوں۔ لیکن مَیں دیکھتی ہوں کہ کئی دفعہ میز سے ٹکڑے گرتے ہیں۔ تو کیا تُو مجھے کُچھ ٹکڑے بھی نہیں دے گا؟ مَیں اِس لائق نہیں کہ تُو میری بیٹی کو شفا دے،‏ مگر میری التجا ہے کہ اپنی ایک نالائق مخلوق کے لئے ایسا کر۔»

۱۵:‏۲۸ یسؔوع نے اُس کے «بُہت بڑے ایمان» کے لئے اُس کی تعریف کی،‏ جب کہ ایمان نہ لانے والے بچوں کو روٹی کی کوئی بھوک نہ تھی،‏ یہاں یہ عورت اپنے آپ کو «چھوٹا کتا» تسلیم کر کے اُسی روٹی کے لئے فریاد کر رہی تھی۔ ایمان کا اِنعام مل گیا۔ «اُس کی بیٹی نے اُسی گھڑی شفا پائی۔» ہمارے خُداوند نے دُور ہی سے اِس غیر قوم لڑکی کو شفا دی۔ اِس سے اُس کی موجودہ خدمت کی حقیقت کا پتا چلتا ہے کہ وُہ خُدا کے دہنے ہاتھ بیٹھا اِس زمانے میں غیر قوموں کو روحانی شفا دے رہا ہے جب کہ اُس کی قدیم قوم،‏ قومی لحاظ سے پیچھے ہٹا دی گئی ہے۔

ز۔ یسؔوع بڑی بھیڑ کو شفا دیتا ہے (۱۵:‏۲۹-‏۳۱)

مرقسؔ ۷:‏۳۱ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ خُداوند صور سے نکل کر شمال میں صیدا کو گیا۔ پھر مشرق کی طرف یردن کو پار کر کے دکپلس کے علاقہ سے جنوب کو گیا۔ وُہاں اُس نے گلیل کی جھیل کے پاس «لنگڑوں،‏ اندھوں،‏ گونگوں،‏ ٹنڈوں اور بُہت سے اَور بیماروں کو … اچھا کر دیا۔» اِس حیرت زدہ بھیڑ نے «اِسرائیل کے خُدا کی تمجید کی۔» قوی امکان ہے کہ یہ غیر قوموں کا علاقہ تھا۔ لوگ جانتے تھے کہ یسؔوع اور اُس کے شاگرد اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور اُنہوں نے درست نتیجہ اخذ کیا کہ «اِسرائیل کا خدا» اُن کے درمیان کام کر رہا ہے۔

ح۔ چار ہزار کو کھلانا (۱۵:‏۳۲-‏۳۹)

۱۵:‏۳۲ بے دھیان (یا تنقیدی) قارئین اِس واقعے کو پانچ ہزار کو کھلانے کے واقعے کے ساتھ گڈمڈ کر دیتے ہیں۔ اور پھر بائبل مُقدس پر واقعات کو دُہرانے،‏ تضاد بیانی اور غلط اعداد و شمار پیش کرنے کا اعتراض کرتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں واقعات بالکُل الگ الگ ہیں اور ایک دوسرے کی تردید کرنے کے بجائے تکمیل کرتے ہیں۔

«بھیڑ » تین دن سے خُداوند کے ساتھ ساتھ تھی۔ چنانچہ اُن کی کھانے پینے کی چیزیں ختم ہو چکی تھیں۔ وُہ اِنہیں بھوکا روانہ کرنے پر تیار نہ تھا مبادا «راہ میں تھک کر رہ جائیں۔»

۱۵:‏۳۳،‏۳۴ اُس کے شاگرد اِتنی بڑی بھیڑ کو کھلانے کے ناممکن کام کے خیال سے پھر پریشان ہونے لگے۔ اِس دفعہ اُن کے پاس صِرف «سات» روٹیاں اور «تھوڑی سی چھوٹی مچھلیاں» تھیں۔

۱۵:‏۳۵،‏۳۶ جیسے پانچ ہزار کو کھلانے کے موقع پر کیا تھا،‏ یسؔوع نے بھیڑ کو بٹھایا،‏ موجود خوراک کے لئے «شکر کیا،‏ اور اِنہیں توڑ کر شاگردوں کو دیتا گیا» اور وُہ لوگوں میں تقسیم کرتے گئے۔ وُہ توقع کرتا ہے کہ شاگرد جتنا کام کر سکتے ہیں وُہ کریں۔ پھر وُہ آگے بڑھ کر وُہی کُچھ کر دیتا ہے جو وُہ نہیں کر سکتے۔

۱۵:‏۳۷-‏۳۹ جب لوگ «کھا کر سیر ہو گئے» تو بچی ہوئی خوراک سے «سات ٹوکرے» بھر گئے اور «کھانے والے سِوا عورتوں اور بچوں کے چار ہزار مرد تھے۔»

اگلے باب میں ہم دیکھیں گے کہ دونوں معجزوں کے بارے میں اعداد و شمار بُہت اہم ہیں (۱۶:‏۸-‏۱۲)۔ بائبل مُقدس میں درَج ہر تفصیل گہرے معانی کی حامل ہے۔ بھیڑ کو رُخصت کر کے یسؔوع «کشتی میں سوار ہُوا اور مگدن کی سرحدوں میں آ گیا۔»

ط۔ فریسیوں اور صدوقیوں کا خمیر (۱۶:‏۱-‏۱۲)

۱۶:‏۱ فریسی اور صدوقی عِلم اِلٰہی کے معاملات میں روایتی طور پر ایک دوسرے کے مخالف تھے اور عقائد کے لحاظ سے دو اِنتہائوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ لیکن یسؔوع کو پھنسانے کے سلسلے میں وُہ اپنی مخالفت کو بھول کر متحد ہو گئے۔چنانچہ آزمانے کے لئے اُس سے کہنے لگے کہ «آسمانی نشان دِکھا۔» اگرچہ ہم نہیں سمجھتے مگر وُہ کِسی طرح نہ کِسی اُسے اُلجھانے کی کوشِش میں تھے۔ «آسمانی نشان» طلب کرنے میں شاید یہ بات مضمر تھی کہ وُہ اپنے پچھلے معجزوں میں کوئی مخالف قوت استعمال کرتا رہا تھا یا شاید آسمان پر کوئی فوق الفطرت نشان چاہتے تھے۔ یسؔوع کے سارے معجزے زمین پر ہوئے تھے۔ کیا وُہ کوئی آسمانی مُعجزہ بھی کر سکتا ہے؟

۱۶:‏۲،‏۳ اُس نے «آسمان» کے موضوع کو جاری رکھتے ہوئے اُن کو جواب دیا کہ جب «شام» کو دیکھتے ہیں کہ آسمان «لال» ہے تو اگلے دن کے لئے اچھے اور کھلے موسم کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ اور اگر «صبح» کو آسمان «لال» دکھائی دے تو اُس روز «آندھی» چلنے کی اُمید کرتے ہیں۔ وُہ آسمان کی شکل و صورت کی تشریح کرنے میں مہارت رکھتے ہیں مگر «زمانوں کی عَلامت وں» کو نہیں پہچان سکتے۔

یہ «عَلامت ؔیں» کیا ہیں؟ جِس نبی نے مسیح کی آمد کی خبر دی وُہ یُوحناؔ بپتسمہ دینے والے کی شکل میں ظاہر ہُوا تھا اور مسیحِ مَوعُود کے بارے میں جن معجزوں کی پیش گوئی کی گئی تھی،‏ وُہ اُن کی نظروں کے سامنے کئے گئے تھے۔ زمانوں کی ایک اَور صاف عَلامت یہ تھی کہ یہُودی وں نے مسیحِ مَوعُود کو ردّ کر دیا تھا اور غیر قوموں کو خوشخبری سنائی جانے لگی تھی۔ یہ سب کُچھ نبوتوں کی تکمیل میں ہو رہا تھا۔ لیکن ایسی ناقابلِ تردید شہادت کے باوجود اُن کو تاریخ کا کوئی شعور نہ تھا کہ ہماری آنکھوں کے سامنے تاریخ بن رہی ہے یا نبوتیں پُوری ہو رہی ہیں۔

۱۶:‏۴ وُہ خود اُن کے درمیان کھڑا تھا مگر فریسی اور صدوقی نشان طلب کر رہے تھے۔ اِس طرح وُہ دِکھا رہے تھے کہ ہم روحانی طور پر «زِنا کار لوگ» ہیں۔ «مگر یُوناؔہ کے نشان کے سوا کوئی اَور نشان اُن کو نہ دیا جائے گا۔» جیسا کہ ۱۲:‏۳۹ کی تشریح میں بیان کیاگیا اِس سے مراد مسیح کا تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھنا ہے۔ «اِس زمانہ کے بُرے اور زِناکار لوگ» مسیحِ مَوعُود کو مصلوب کریں گے۔ مگر خُدا اُسے مُردوں میں سے جِلائے گا۔ اور یہ اُن سبھوں کے حشر کا نشان ہو گا جو اُسے حاکم تسلیم نہیں کرتے اور اُس کے آگے نہیں جھکتے۔

یہ پیرا اِن منحوس الفاظ پر ختم ہوتا ہے کہ «وُہ اُن کو چھوڑ کر چلا گیا۔» اِن الفاظ کے روحانی مضمرات سب کو صاف نظر آنے چاہئیں۔

۱۶:‏۵،‏۶ جب اُس کے «شاگرد» جھیل کے مشرقی ساحل پر اُس کے ساتھ آ ملے تو معلوم ہُوا کہ وُہ «روٹی ساتھ لینا بھول گئے تھے۔» اِس لئے یسؔوع نے اُن کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ «خبردار! فریسیوں اور صدوقیوں کے خمیر سے ہوشیار رہنا۔» شاگردوں کا خیال تھا کہ خُداوند کہہ رہا ہے کہ «کھانے پینے کی چیزیں لینے کو یہُودی لیڈروں کے پاس نہ جانا۔» چونکہ وُہ پہلے ہی کھانے پینے کی چیزوں کے خیال میں تھے،‏ اِس لئے وُہ لفظی اور طبعی تشریح کی طرف دیکھتے رہے حالانکہ اِس میں روحانی سبق پوشیدہ تھا۔

۱۶:‏۷-‏۱۰ شاگردوں کو ابھی تک خوراک کی کمی کی فِکر تھی حالانکہ جِس نے پانچ ہزار اور پھر چار ہزار کو سیر کیا تھا،‏ وُہ اُن کے ساتھ تھا۔ چنانچہ اُس نے اُن کے ساتھ مل کر اِن دونوں معجزوں پر نظرثانی کی۔ جو روحانی سبق سامنے آیا اُس کا تعلق روحانی اعداد و شمار اور روحانی طور پر وسائل مہیا کرنے سے تھا کیونکہ جتنی کم خوراک کے ساتھ یسؔوع کو کام کرنا پڑا،‏ اِتنے ہی زیادہ لوگ سیر ہوئے اور اِتنی ہی زیادہ خوراک باقی بچی۔ جب اُس کے پاس صِرف پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں تھیں تو پانچ ہزار سے اُوپر لوگ سیر ہوئے اور بارہ ٹوکریاں خوراک بچی۔ جب روٹیاں اور مچھلیاں زیادہ تھیں تو صِرف چار ہزار سے اوپر لوگ سیر ہوئے اور صِرف سات ٹوکریاں بچیں۔ اگر ہم اپنے اپنے محدود وسائل اُس کے سپرد کر دیں تو وُہ اُن کو تناسب معکوس میں بڑھاتا ہے۔ «اگر خُدا ساتھ ہو،‏ تو تھوڑا ہی بُہت ہوتا ہے۔» اہم سبق یہی ہے کہ «جب ہمارا تعلق ایسی ہستی سے ہے جو لامحدود قُدرت اور وسائل کا مالک ہے تو بھوک اور محتاجی کی فِکر کیوں کریں۔»

۱۶:‏۱۱،‏۱۲ «فریسیوں اور صدوقیوں کے خمیر» کی بات سے خُداوند نے روٹی کی طرف نہیں بلکہ اُن کے باطل عقائد اور بِگڑے ہوئے رویے اور کردار کی طرف اِشارہ کیا تھا۔ وُہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم خُدا کے کلام کی ذرا ذرا تفصیل پر عمل کرتے ہیں مگر اُن کی فرماں برداری ظاہری اور سطحی تھی۔ باطن میں وُہ بُرے اور بگڑے ہوئے تھے۔

«صدوقیوں» کا خمیر عقل پرستی تھا۔ وُہ اپنے زمانے کے آزاد خیال یعنی لبرل لوگ تھے۔ اُنہوں نے شکوک اور منکرات کا ایک نظام قائم کر رکھا تھا۔ وُہ فرشتوں اور روحوں کے وجود کا،‏ بدن کی قیامت کا،‏ رُوح کی بقا کا اور اَبدی سزا کا اِنکار کرتے تھے۔ اگر اِس فلسفے کو برداشت کر لیا جائے،‏ تو وُہ خمیر کی طرح سرایت کرتا اور پھیل جاتا ہے۔

کِتابِ مُقدّس

۱- پِھر وہ کشتی پر چڑھ کر پار گیا اور اپنے شہر میں آیا۔
۲- اور دیکھو لوگ ایک مفلُوج کو چارپائی پر پڑا ہُؤا اُس کے پاس لائے۔ یِسُوعؔ نے اُن کا اِیمان دیکھ کر مفلُوج سے کہا بیٹا خاطِر جمع رکھ تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔
۳- اور دیکھو بعض فقِیہوں نے اپنے دِل میں کہا یہ کُفر بکتا ہے۔
۴- یِسُوعؔ نے اُن کے خیال معلُوم کر کے کہا کہ تُم کیوں اپنے دِلوں میں بُرے خیال لاتے ہو؟
۵ -آسان کیا ہے۔ یہ کہنا کہ تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے یا یہ کہنا کہ اُٹھ اور چل پِھر؟
۶ -لیکن اِس لِئے کہ تُم جان لو کہ اِبنِ آدمؔ کو زمِین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے (اُس نے مفلُوج سے کہا) اُٹھ۔ اپنی چارپائی اُٹھا اور اپنے گھر چلا جا۔
۷- وہ اُٹھ کر اپنے گھر چلا گیا۔
۸- لوگ یہ دیکھ کر ڈر گئے اور خُدا کی تمجِید کرنے لگے جِس نے آدمِیوں کو اَیسا اِختیار بخشا۔
۹- یِسُوعؔ نے وہاں سے آگے بڑھ کر متّی نام ایک شخص کو محصُول کی چَوکی پر بَیٹھے دیکھا اور اُس سے کہا میرے پِیچھے ہو لے۔وہ اُٹھ کر اُس کے پِیچھے ہو لِیا۔
۱۰- اور جب وہ گھر میں کھانا کھانے بَیٹھا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ بُہت سے محصُول لینے والے اور گُنہگار آ کر یِسُوعؔ اور اُس کے شاگِردوں کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے۔
۱۱- فرِیسِیوں نے یہ دیکھ کر اُس کے شاگِردوں سے کہا تُمہارا اُستاد محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے؟
۱۲- اُس نے یہ سُن کر کہا کہ تندرُستوں کو طبِیب درکار نہیں بلکہ بِیماروں کو۔
۱۳- مگر تُم جا کر اِس کے معنی دریافت کرو کہ میں قُربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہُوں کیونکہ مَیں راست بازوں کو نہیں بلکہ گُنہگاروں کو بُلانے آیا ہُوں۔
۱۴- اُس وقت یُوحنّا کے شاگِردوں نے اُس کے پاس آ کر کہا کیا سبب ہے کہ ہم اور فریسی تو اکثر روزہ رکھتے ہیں اور تیرے شاگِرد روزہ نہیں رکھتے؟
۱۵- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا کیا براتی جب تک دُلہا اُن کے ساتھ ہے ماتم کر سکتے ہیں؟ مگر وہ دِن آئیں گے کہ دُلہا اُن سے جُدا کِیا جائے گا۔ اُس وقت وہ روزہ رکھّیں گے۔
۱۶- کورے کپڑے کا پَیوند پُرانی پوشاک میں کوئی نہیں لگاتا کیونکہ وہ پَیوند پوشاک میں سے کُچھ کھینچ لیتا ہے اور وہ زِیادہ پھٹ جاتی ہے۔
۱۷- اور نئی مَے پُرانی مَشکوں میں نہیں بھرتے ورنہ مَشکیں پھٹ جاتی ہیں اور مَے بہ جاتی ہے اور مَشکیں برباد ہو جاتی ہیں بلکہ نئی مَے نئی مَشکوں میں بھرتے ہیں اور وہ دونوں بچی رہتی ہیں۔
۱۸- وہ اُن سے یہ باتیں کہہ ہی رہا تھا کہ دیکھو ایک سردار نے آ کر اُسے سِجدہ کِیا اور کہا میری بیٹی ابھی مَری ہے لیکن تُو چل کر اپنا ہاتھ اُس پر رکھ تو وہ زِندہ ہو جائے گی۔
۱۹- یِسُوعؔ اُٹھ کر اپنے شاگِردوں سمیت اُس کے پِیچھے ہو لِیا۔
۲۰- اور دیکھو ایک عَورت نے جِس کے بارہ برس سے خُون جاری تھا اُس کے پِیچھے آ کر اُس کی پوشاک کا کنارہ چُھؤا۔
۲۱- کیونکہ وہ اپنے جی میں کہتی تھی کہ اگر صِرف اُس کی پوشاک ہی چُھو لُوں گی تو اچّھی ہو جاؤں گی۔
۲۲- یِسُوعؔ نے پِھر کر اُسے دیکھا اور کہا بیٹی خاطِر جمع رکھ۔ تیرے اِیمان نے تُجھے اچّھا کر دِیا۔ پس وہ عَورت اُسی گھڑی اچّھی ہو گئی۔
۲۳- اور جب یِسُوعؔ سردار کے گھر میں آیا اور بانسلی بجانے والوں کو اور بِھیڑ کو غُل مچاتے دیکھا۔
۲۴- تو کہا ہٹ جاؤ کیونکہ لڑکی مَری نہیں بلکہ سوتی ہے۔ وہ اُس پر ہنسنے لگے۔
۲۵- مگر جب بِھیڑ نِکال دی گئی تو اُس نے اندر جا کر اُس کا ہاتھ پکڑا اور لڑکی اُٹھی۔
۲۶- اور اِس بات کی شُہرت اُس تمام عِلاقہ میں پَھیل گئی۔
۲۷- جب یِسُوعؔ وہاں سے آگے بڑھا تو دو اندھے اُس کے پِیچھے یہ پُکارتے ہُوئے چلے کہ اَے اِبنِ داؤُد ہم پر رحم کر۔
۲۸- جب وہ گھر میں پُہنچا تو وہ اندھے اُس کے پاس آئے اور یِسُوعؔ نے اُن سے کہا کیا تُم کو اِعتقاد ہے کہ مَیں یہ کر سکتا ہُوں؟اُنہوں نے اُس سے کہا ہاں خُداوند۔
۲۹ -تب اُس نے اُن کی آنکھیں چُھو کر کہا تُمہارے اِعتقاد کے مُوافِق تُمہارے لِئے ہو۔
۳۰- اور اُن کی آنکھیں کُھل گئِیں اور یِسُوعؔ نے اُن کو تاکِید کر کے کہا خبردار کوئی اِس بات کو نہ جانے۔
۳۱- مگر اُنہوں نے نِکل کر اُس تمام عِلاقہ میں اُس کی شُہرت پَھیلا دی۔
۳۲- جب وہ باہر جا رہے تھے تو دیکھو لوگ ایک گُونگے کو جِس میں بدرُوح تھی اُس کے پاس لائے۔
۳۳- اور جب وہ بدرُوح نِکال دی گئی تو گُونگا بولنے لگا اور لوگوں نے تعجُّب کر کے کہا کہ اِسرائیلؔ میں اَیسا کبھی نہیں دیکھا گیا۔
۳۴- مگر فرِیسِیوں نے کہا کہ یہ تو بدرُوحوں کے سردار کی مدد سے بدرُوحوں کو نِکالتا ہے۔
۳۵ -اور یِسُوعؔ سب شہروں اور گاؤں میں پِھرتا رہا اور اُن کے عِبادت خانوں میں تعلِیم دیتا اور بادشاہی کی خُوشخبری کی مُنادی کرتا اور ہر طرح کی بِیماری اور ہر طرح کی کمزوری دُور کرتا رہا۔
۳۶ -اور جب اُس نے بِھیڑ کو دیکھا تو اُس کو لوگوں پر ترس آیا کیونکہ وہ اُن بھیڑوں کی مانِند جِن کا چرواہا نہ ہو خستہ حال اور پراگندہ تھے۔
۳۷- تب اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا کہ فصل تو بُہت ہے لیکن مزدُور تھوڑے ہیں۔
۳۸- پس فصل کے مالِک کی مِنّت کرو کہ وہ اپنی فصل کاٹنے کے لِئے مزدُور بھیج دے۔