متؔی ۱

۱۔مسیحِ مَوعُود اور بادشاہ کا نَسب نامہ اور پیدائش (باب ۱)

الف۔ یسؔوع مسیح کا نَسب نامہ (۱:‏۱-‏۱۷)

نئے عہدنامہ کو سرسری طور پر پڑھتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ اِس کا آغاز شجرۂ نَسب جیسی خشک چیز سے کیوں ہوتا ہے۔ شاید کوئی شخص یہ نتیجہ بھی نکالے کہ ناموں کی اِس فہرست سے کوئی اہم بات اخذ نہیں کی جا سکتی اور اِنہیں چھوڑ کر وُہاں سے شروع کرے جہاں کُچھ عمل وحرکت کا بیان ہے۔

لیکن یہ نَسب نامہ ناگزیر ہے۔ یہ بعد کے سارے واقعات کی بنیاد ہے۔ اگر یہ ثابُت نہ کیا جا سکے کہ یسؔوع داؔؤد کا آئینی جا نشین ہے اور شاہی نسل سے تعلق رکھتا ہے تو یہ ثابُت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے کہ وُہ بنی اِسرائیل کا شاہی مسیحِ مَوعُود ہے۔ چنانچہ متؔی وُہیں سے شروع کرتا ہے جہاں سے شروع کرنا چاہئے تھا،‏ یعنی اِس دستاویزی ثبوت سے کہ اپنے سوتیلے باپ یُوسؔف کے وسیلے سے یسؔوع کو داؔؤد کے تخت کا آئینی حق وراثت میں ملا ہے۔

یہ نَسب نامہ ثابُت کرتا ہے کہ آئینی جا نشین ہونے کے باعث یسؔوع بنی اِسرائیل کا بادشاہ ہے۔ لُوقاؔ کی اِنجیل میں درَج نَسب نامہ ثابُت کرتا ہے کہ اپنی ماں مرؔیم کی معرفت یسؔوع نسلی اعتبار سے ابنِ داؔؤد ہے۔ متؔی نَسب نامے کے بیان میں شاہی نسل کی پیروی کرتا ہے جو داؔؤد سے اُس کے بیٹے سلیمان سے چلی جو داؔؤد کے بعد بادشاہ ہُوا جب کہ لُوقاؔ نَسب نامے میں خونی نسل کی پیروی کرتا ہے جو داؔؤد سے اُس کے دوسرے بیٹے ناتن سے چلی۔ متؔی کا نَسب نامہ یُوسؔف پر ختم ہوتا ہے جِس کا یسؔوع متبنٰی بیٹا تھا جب کہ لُوقاؔ باب ۳ میں درَج نَسب نامہ غالباً مرؔیم کے اجداد کا پتا دیتا ہے اور یسؔوع اُس کا حقیقی بیٹا تھا۔ متبنیٰ

کوئی ایک ہزار سال پیشتر خُدا نے داؔؤد کے ساتھ غیر مشروط معاہدہ کیا تھا اور اِس کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ تیری بادشاہی تا اَبد قائم رہے گی اور تیری نسل ہمیشہ تک حکمران رہے گی (زبُور ۸۹:‏۴،‏۳۶،‏۳۷)۔ اَب مسیح میں وُہ عہد (وعدہ) پورا ہُوا۔ وُہ یُوسؔف کے وسیلے سے تخت کا آئینی وارث اور مرؔیم کے وسیلے سے داؔؤد کی حقیقی نسل ہے۔ چونکہ وُہ ابد تک زندہ ہے اِس لئے اُس کی سلطنت تا ابد قائم ہے اور وُہ داؔؤد کے عظیم تر فرزند کی حیثیت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حکومت کرتا رہے گا۔ یسؔوع کی ذات میں اِسرائیل کے تخت کے لئے دونوں دعوے (آئینی اور نسلی وراثت) یکجا ہو جاتے ہیں۔ چونکہ وُہ اب بھی زندہ ہے اِس لئے اَور کوئی دعوے دار ہو نہیں سکتا۔

۱:‏۱-‏۱۵یہاں آغاز اِن الفاظ سے ہوتا ہے کہ « یسؔوع مسیح ابنِ داؔؤد ابنِ ابرہام کا نَسب نامہ۔» یہ فارمولا پیدائش ۵:‏۱ سے مشابُہت رکھتا ہے کہ «یہ آدم کا نَسب نامہ ہے۔» پیدائش کی کتاب «آدمِ اوّل» کو پیش کرتی ہے اور متؔی کی کتاب «آدمِ آخر» کو۔ پہلا آدم پہلی یا جِسمانی مخلُوقاؔت کا سر تھا،‏ مسیح جو پچھلا آدم ہے،‏ نئی یا روحانی مخلُوقاؔت کا سر ہے۔

اِس اِنجیل کا موضوع «یسؔوع مسیح» ہے۔ «یسؔوع » نام اُس کو یہوواہ نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتا ہے اور لقب «مسیح» (مسح کیا گیا یا ممسوح) اُسے بنی اِسرائیل کے مسیحِ مَوعُود کے طور پر پیش کرتا ہے جِس کا مدتوں سے اِنتظار ہو رہا تھا۔ «ابنِ داؔؤد » کا لقب پُرانے عہدنامہ میں بادشاہ اور مسیحِ مَوعُود دونوں حیثیتوں سے متعلق ہے اور «ابنِ ابرہام» کا لقب ہمارے خُداوند کو اُس ہستی کے طور پر پیش کرتا ہے جِس میں بالآخر وُہ سارے وعدے پورے ہوئے جو عبرانی قوم کے جدِامجد کے ساتھ کئے گئے تھے۔

نَسب نامہ تین توارِیخی حصوں میں منقِسم ہے۔ پہلا حصہ ابرہام سے یسی تک،‏ دوسرا داؔؤد سے یوسیاہ تک اور تیسرا یکونیاہ سے یُوسؔف تک۔ پہلا حصہ داؔؤد تک لے آتا ہے،‏ دوسرا حصہ سلطنت کے دَور کا احاطہ کرتا ہے اور تیسرے حصے میں اسیری (۵۸۶ ق م و مابعد) کے دوران شاہی نسل کے تسلسل کے بیان کو محفوظ کیا گیا ہے۔

اِس فہرست میں کئی دِل چسپ خصُوصیات ہیں۔ مثال کے طور پر اِس میں چار عورتوں یعنی «تمر،‏ راحب،‏ رُوت اور ’بُت سبع‘ (جو پہلے اوریاہ کی بیوی تھی)» کا ذِکر آتا ہے۔ مشرقی نَسب ناموں میں کِسی عورت کا ذِکر شاذ و نادر ہی آتا ہے۔ اِس لئے اِن عورتوں کا ذِکر اَور بھی حیرت افزا ہے خصُوصاً اِس لئے بھی کہ اِن میں سے دو (تمر اور راحب) کسبیاں تھیں۔ ایک (بُت سبع) زِنا کی مرتکب ہوئی تھی اور دو (راحب اور رُوت) غیر اقوام سے آئی تھیں۔ اِن کو متؔی کی اِنجیل کے تعارُف میں شامِل ہونے سے یہ لطیف اِشارہ ملتا ہے کہ مسیح کی آمد سے گنہگاروں کو نجات ملے گی،‏ غیر قوموں پر فضل ہو گا اور رنگ و نسل اور جنس کی حد بَندیاں ٹوٹ جائیں گی۔

اِس فہرست میں یکونیاہ نامی بادشاہ کا ذِکر بھی دِل چسپی سے خالی نہیں۔ یرمیاہ ۲۲:‏۳۰ میں خُدا نے اِس آدمی پر لعنت بھیجی تھی:‏

«خُداوند یوں فرماتا ہے کہ اِس آدمی کو بے اولاد لِکھو جو اپنے دِنوں میں اِقبال مندی کا منہ نہ دیکھے گا۔ کیونکہ اِس کی اولاد میں سے کوئی ایسا اِقبال مند نہ ہو گا کہ داؔؤد کے تخت پر بیٹھے اور یہُوؔداہ پر سلطنت کرے۔»

اگر یسؔوع یُوسؔف کا حقیقی بیٹا ہوتا تو یہ لعنت اُس پر بھی ہوتی۔ لیکن داؔؤد کے تخت کے حق کا وارث ہونے کے لئے اُس کا یُوسؔف کا قانونی بیٹا ہونا ضروری تھا۔ اِس مسئلے کو کنواری سے جنم کے معجزے سے حل کیا گیا۔ یسؔوع یُوسؔف کے وسیلے سے تخت کا قانونی وارث تھا اور مرؔیم کے وسیلے سے وُہ داؔؤد کا حقیقی بیٹا تھا۔ چونکہ مرؔیم یکونیاہ کی نسل سے نہیں تھی اِس لئے یکونیاہ کی لعنت کا اُس پر اور اُس کی اولاد پر اِطلاق نہیں ہوتا۔

۱:‏۱۶ «جِس سے۔» اصل یٗونانی زبان میں یہ اِسمِ ضمیر واحد اور مونث ہے جِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسؔوع مرؔیم سے پیدا ہُوا نہ کہ یُوسؔف سے۔ نَسب نامے کی اِن دِل چسپ خصُوصیات کے علاوُہ اُن مشکلات کا ذِکر
بھی ہونا چاہئے جو اِس کی وجہ سے پیش آتی ہیں۔

۱:‏۱۷ متؔی خصوصیت سے اِس حقیقت کی طرف توجہ دِل اتا ہے کہ نَسب نامے میں «چودہ چودہ پشتوں» کے تین حصے ہیں۔ لیکن پُرانے عہدنامہ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اِس فہرست میں کئی نام موجود نہیں ہیں۔ مثال کے طور
پر یورام اور عُزیاہ (آیت ۸) کے درمیان تین بادشاہوں اخزیاہ،‏ یوآس اور اِمصیاہ نے حکومت کی (۲۔سلاطین ابواب ۸-‏۱۴ اور ۲۔تواریخ ابواب ۲۱-‏۲۵)۔

متؔی اور لُوقاؔ کے نَسب نامے دو ناموں کے سلسلے میں ملتے ہیں۔ یہ نام ہیں سیالتی ایل اور زرُبابل (متؔی ۱:‏۱۲،‏۱۳؛ لُوقاؔ ۳:‏۲۷)۔ یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ مرؔیم اور یُوسؔف کی جد اِن دونوں پر آ کر مل جاتی ہے اور پھر الگ الگ ہو جاتی ہے۔ یہ مشکل اِس لئے اَور بھی بڑی معلوم ہوتی ہے کہ دونوں اِنجیل نویس زرُبابل کو سیالتی ایل کا بیٹا لِکھنے میں عزرا ۳:‏۲ کی پیروی کرتے ہیں جب کہ ۱۔تواریخ ۳:‏۱۹ میں اُسے فدایاہ کا بیٹا بیان کیا گیا ہے۔

تیسری مشکل یہ ہے کہ متؔی داؔؤد سے یسؔوع تک ستائیس پشتیں شمار کرتا ہے جب کہ لُوقاؔ بیالیس پشتیں قرار دیتا ہے۔ اگرچہ اِنجیل نویس الگ الگ شجروں کے خاکے پیش کر رہے ہیں تو بھی عجیب معلوم ہوتا ہے کہ پشتوں کی تعداد میں اِتنا فرق ہے۔

اِن بظاہر اِختلافات اور مشکلات کے بارے میں بائبل مُقدس کے طالب عِلم کا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ اوّل،‏ ہمارا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ بائبل مُقدس خُدا کا اِلہامی کلام ہے اِس لئے ہر قِسم کی غلطی سے مبرا ہے۔ دوم،‏ کہ یہ کلام لامحدود ہے اِس لئے کہ ذاتِ الٰہی کی لامحدودیت کو منعکس کرتا ہے۔ ہم کلامِ پاک کی بنیادی سچائیوں کو تو سمجھ سکتے ہیں مگر جو کُچھ اِس میں موجود ہے اُسے کامِل طور پر سمجھنے سے قاصر ہیں۔

چنانچہ اِن مشکلات کے سلسلے میں ہم یہی نکتہ اخذ کرتے ہیں کہ مشکل یہ ہے کہ ہمارا عِلم ناقص اور محدود ہے۔ بائبل مُقدس بے خطا ہے۔ بائبل مُقدس کی یہ ظاہری مشکلات ہمیں چیلنج کرتی ہیں کہ گہرا مطالعہ کریں اور اِن کے جواب تلاش کریں۔ «خُدا کا جلال راز داری میں ہے،‏ لیکن بادشاہوں کا جلال معاملات کی تفتیش میں» (اَمثال ۲۵:‏۲)۔

تاریخ دانوں کی گہری تحقیق اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی دریافتیں ثابُت نہیں کر سکیِں کہ بائبل مُقدس کے بیانات میں جھوٹ ہے۔ جو باتیں ہم کو مشکلات اور تضادات معلوم ہوتی ہیں،‏ اُن کی معقول تشریحات اور تاویلات موجود ہیں اور یہ تاویلات روحانی اہمیّت اور فوائد سے بھری ہوئی ہیں۔

ب۔ یسؔوع مسیح مرؔیم سے پیدا ہُوا (۱:‏۱۸-‏۲۵)

۱:‏۱۸« یسؔوع مسیح کی پیدائش» اُن تمام لوگوں کی پیدائش سے مُختلفِ تھی جن کا ذِکر نَسب نامے میں آیا ہے۔ وُہاں بار بار لِکھا ہے کہ «فلاں سے فلاں پیدا ہُوا۔» لیکن اب اُس پیدائش کا بیان درَج ہوتا ہے جو بغیر باپ کے ہوئی۔ اِس معجزانہ پیٹ میں پڑنے کے واقعات کو بڑی متانت اور سادگی سے بیان کیا گیا ہے۔ «مرؔیم » کی منگنی «یُوسؔف» سے ہو چکی تھی یعنی وعدہ و عہد ہو چکا تھا کہ مرؔیم کی شادی یُوسؔف کے ساتھ ہو گی،‏ لیکن تاحال شادی ہوئی نہیں تھی۔ نئے عہدنامہ کے زمانے میں منگنی آج کل کی نسبُت بُہت زیادہ پکی اور مضبوط ہوتی تھی۔ اِسے صِرف طلاق ہی سے توڑا جا سکتا تھا۔ اگرچہ منسوب جوڑا شادی سے پہلے اکٹھا نہیں رہتا تھا،‏ مگر بے وفائی کو زِناکاری مانا جاتا تھا جِس کی سزا موت تھی۔

منگنی کے دوران ہی مرؔیم «رُوح القُدس» کے معجزے سے حاملہ پائی گئی۔ ایک فرشتے نے مرؔیم کو اِس واقعے کی خبر دے دی تھی کہ «رُوح القُدس تجھ پر نازل ہو گا اور خُدا تعالیٰ کی قُدرت تجھ پر سایہ ڈالے گی» (لُوقاؔ ۱:‏۳۵)۔ شک اور بدنامی کے بادِل مرؔیم پر منڈلانے لگے۔ بنی نوعِ اِنسان کی پُوری تاریخ میں کنواری سے کبھی کوئی جنم نہیں ہُوا تھا۔ جب کوئی بے بیاہی عورت حاملہ ہو جاتی تو لوگوں کے نزدیک اِس کا ایک ہی سبب ہوتا تھا۔

۱:‏۱۹«یُوسؔف» کو بھی اپنی منگیتر کی حالت کے راز کا عِلم نہیں تھا۔ دو وجوُہات کی بنا پر وُہ مرؔیم سے ناراض ہو سکتا تھا۔ ایک اِس لئے کہ وُہ بظاہر بے وفا نکلی اور دوسرا اِس لئے کہ لوگوں کی نگاہ میں وُہ خود بھی موردِ الزام ٹھہرا۔ چونکہ اُسے اب بھی مرؔیم سے محبُت تھی اور وُہ عدِل کو بھی ٹھیس نہیں لگانا چاہتا تھا اِس لئے وُہ اُسے چپکے سے چھوڑ دینے کا اِرادہ رکھتا تھا۔ وُہ اپنی منگیتر کو علانیہ بے عزتی سے محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔

۱:‏۲۰ یہ نرم خو اور مُدبّر شخص مرؔیم کو ہر قِسم کی بدنامی سے بچانے کی تدبیریں سوچ رہا تھا کہ «خُداوند (خُدا کے عبرانی نام «یہوُہ» کی نقل لفظی «یہوواہ» ہے۔ روایتی طور پر اِس کا ترجمہ «خُداوند» کیا جاتا ہے۔) کے فرشتہ نے اُسے خواب میں دِکھائی دے کر کہا اے یُوسؔف ابنِ داؔؤد ! …» اُس کو «یُوسؔف ابنِ داؔؤد » کے لقب سے مخاطب کرنے کا مقصد یقینا یہ شعور بیدار کرنا تھا کہ تیرا تعلق شاہی نَسب سے ہے۔ مزید براں اُسے بنی اِسرائیل کے مسیحِ مَوعُود بادشاہ کی آمد کے غیر معمولی واقعے کے لئے تیار کرنا بھی ایک مقصد تھا۔ اُسے «مرؔیم » کے ساتھ شادی کرنے میں کِسی قِسم کی بے اِعتباری اور ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے۔ اُس کی پاکیزگی اور پاک دامنی کے بارے میں ہر قِسم کا شک و شبہ بے بنیاد تھا۔ اُس کا حمل «رُوح القُدس» کا ایک مُعجزہ تھا۔

۱:‏۲۱ اِس کے بعد فرشتے نے اُس بچے کی جو اَبھی پیدا نہیں ہُوا تھا،‏ جنس،‏ اُس کا نام اور مقصدِ زندگی بیان کیا۔ مرؔیم کے بیٹا ہو گا۔ اُس کا نام یسؔوع (مطلب «یہوواہ نجات ہے» یا «یہوواہ نجات دہندہ») رکھنا ہو گا۔ اپنے نام کی مُناسبُت سے «وُہی اپنے لوگوں کو اُن کے گُناہ وں سے نجات دے گا۔» یہ مقدر والا بچہ خود یہوواہ تھا جو اِس دُنیا میں آیا تاکہ لوگوں کو گُناہ کی سزا سے بچائے اور گُناہ کی قُدرت سے رِہائی دِل ائے،‏ بلکہ بالآخر گُناہ کی موجودگی ہی سے آزادی دِل ائے۔

۱:‏۲۲جب متؔی اِن واقعات کی رُوداد قلم بَند کر رہا تھا اُسے پورا پورا احساس تھا کہ نسلِ اِنسانی کے ساتھ خُدا کے سلوک کی تاریخ میں ایک نئے دَور کی صبح طلوع ہو چکی ہے۔ مسیحِ مَوعُود کے بارے میں پیش گوئی کے الفاظ جو صدیوں سے سوئے پڑے تھے اَب بیدار ہو چکے ہیں۔ یسَعیاہ کی مخفی نبوت اَب مرؔیم کے بیٹے میں پُوری ہو چکی ہے۔ چنانچہ وُہ لِکھتا ہے کہ «یہ سب کُچھ اِس لئے ہُوا کہ جو خُداوند نے نبی کی معرفت کہا تھا وُہ پورا ہو۔» متؔی دعویٰ کرتا ہے کہ یسَعیاہ کے الفاظ خُدا کے الہام سے تھے۔ خُداوند نے نبی کی معرفت مسیح سے کم از کم ۷۰۰ سال پہلے کلام کیا تھا۔

۱:‏۲۳ یسَعیاہ ۷:‏۱۴ کی نبوت میں متعدد باتیں شامِل تھیں مثلاً بے مثال پیدائش (ایک کنواری حاملہ ہو گی)،‏ بچے کی جنس (بیٹا پیدا ہو گا) اور بچے کا نام (وُہ اُس کا نام عمانوایل رکھے گی)۔ متؔی اِس نام «عمانوایل» کے ساتھ اِس کے مطلب کا اضافہ کرتا ہے کہ «خُدا ہمارے ساتھ۔» ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ زمینی زندگی میں مسیح کو کبھی «عمانوایل» کے نام سے پکارا گیا ہو۔ اُس کو ہمیشہ «یسؔوع » کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ البُتہ «یسؔوع » نام کے مطلب (آیت ۲۱ کی تفسیر ملاحظہ کریں) میں «خُدا ہمارے ساتھ» کا مفہُوم مضمر ہے۔ ہو سکتا ہے «عمانوایل» بھی مسیح کے لئے ایک خطاب ہو،‏ جو بنیادی طور پر اُس کی دُوسری آمد کے موقعے پر استعمال ہو گا۔

۱:‏۲۴ فرشتے کی مداخلت پر یُوسؔف نے مرؔیم کو طلاق دینے کا اِرادہ ترک کر دیا۔ وُہ یسؔوع کی پیدائش تک اُس کے ساتھ منگنی کو تسلیم کرتا رہا۔ یسؔوع کی پیدائش کے بعد اُس نے مرؔیم کے ساتھ شادی کر لی۔

۱:‏۲۵ بعض لوگ تعلیم دیتے ہیں کہ مرؔیم تا حیات کنواری رہی،‏ لیکن یہ آیت ثابُت کرتی ہے کہ بعد میں اُن کے ازدواجی تعلقات قائم ہوئے۔ دِیگر حوالہ جات میں بھی ذِکر ہے کہ یُوسؔف سے مرؔیم کی اولاد ہوئی۔
دیکھئے متؔی ۱۲:‏۴۶؛ ۱۳:‏۵۵،‏۵۶؛ مرقسؔ ۶:‏۳؛ یُوحناؔ ۷:‏۳،‏۵؛ اعمال ۱:‏۱۴؛ ۱۔کرنتھیوں ۹:‏۵ اور گلتیوں ۱:‏۱۹۔

مرؔیم کو بیوی قبول کرنے کے ساتھ اُس نے مرؔیم کے بیٹے کو بھی اپنا متبنیٰ بنا لیا اور اِس طرح یسؔوع داؔؤد کے تخت کا آئینی وارث بن گیا۔ فرشتے کے حُکم کی تعمیل میں اُس نے «اُس کا نام یسؔوع رکھا۔»

مَوعُودہ بادشاہ المسیح کی پیدائش اِس طرح ہوئی۔ وُہ ازلی ہستی وقت یا زمان میں داخل ہوئی۔ قادرِ مطلق نے ایک ننھے شیرخوار کی صورت اِختیار کی۔ جلال کے خُداوند نے اپنے جلال کو اِنسانی جِسم کے نقاب سے ڈھانپ لیا۔ «الوہیّت کی ساری معموری اُسی میں مجِسم ہو کر سکونت کرتی ہے» (کلسیوں ۲:‏۹)۔

کِتابِ مُقدّس

۱۔ یِسُوعؔ مسِیح اِبنِ داؤُدؔ اِبنِ ابرہامؔ کا نسب نامہ۔
۲۔ ابرہامؔ سے اِضحاقؔ پَیدا ہُؤا اور اِضحاقؔ سے یعقُوبؔ پَیدا ہُؤا اور یعقُوبؔ سے یہُوداؔہ اور اُس کے بھائی پَیدا ہُوئے۔
۳ ۔اور یہُوداؔہ سے فارؔص اور زارؔح تمر سے پَیدا ہُوئے۔ اور فارؔص سے حصروؔن پَیدا ہُؤا اور حصروؔن سے راؔم پَیدا ہُؤا۔
۴ ۔اور رامؔ سے عمّیندابؔ پَیدا ہُؤا اور عمّیندابؔ سے نحسوؔن پَیدا ہُؤا اور نحسوؔن سے سلموؔن پَیدا ہُؤا۔
۵ ۔اور سلموؔن سے بوعزؔ راحبؔ سے پَیدا ہُؤا اور بوعَزؔ سے عوبیدؔ رُوؔت سے پَیدا ہُؤا اور عوبیدؔ سے یسّیؔ پَیدا ہُؤا۔
۶ ۔اور یسّیؔ سے داؤُدؔ بادشاہ پَیدا ہُؤا۔ اور داؤُدؔ سے سُلیماؔن اُس عَورت سے پَیدا ہُؤا جو پہلے اُورِیّاہؔ کی بِیوی تھی۔
۷۔ اور سُلیماؔن سے رحُبِعاؔم پَیدا ہُؤا اور رحُبِعاؔم سے اَبِیّاؔہ پَیدا ہُؤا اور اَبِیّاؔہ سے آساؔ پَیدا ہُؤا۔
۸۔ اور آساؔ سے یہوسفطؔ پَیدا ہُؤا اور یہوسفطؔ سے یُوراؔم پَیدا ہُؤا اور یُوراؔم سے عُزِیّاہؔ پَیدا ہُؤا۔
۹۔ اور عُزِیّاہؔ سے یُوتامؔ پَیدا ہُؤا اور یُوتامؔ سے آخزؔ پَیدا ہُؤا اور آخزؔ سے حِزقِیاؔہ پَیدا ہُؤا۔
۱۰۔ اور حِزقِیاؔہ سے مُنسّیؔ پَیدا ہُؤا اور مُنسّیؔ سے امُوؔن پَیدا ہُؤا اور امُوؔن سے یُوسیاہؔ پَیدا ہُؤا۔
۱۱۔ اور گرِفتار ہو کر باؔبل جانے کے زمانہ میں یُوسیاہؔ سے یکوُنیاؔہ اور اُس کے بھائی پَیدا ہُوئے۔
۱۲۔ اور گرِفتار ہو کر بابلؔ جانے کے بعد یکوُنیاؔہ سے سیالتی ایلؔ پَیدا ہُؤا اور سیالتی ایلؔ سے زَرُبّاِبُلؔ پَیدا ہُؤا۔
۱۳ ۔اور زرُبّابُلؔ سے اَبِیہُودؔ پَیدا ہُؤا اور اَبِیہُودؔ سے اِلیاؔقِیم پَیدا ہُؤا اور الیاؔقِیم سے عازورؔ پَیدا ہُؤا۔
۱۴۔ اور عازورؔ سے صدوؔق پَیدا ہُؤا اور صدوؔق سے اخیمؔ پَیدا ہُؤا اور اخیمؔ سے لِیہُودؔ پَیدا ہُؤا۔
۱۵۔ اور الِیہُودؔ سے الیعزرؔ پَیدا ہُؤا اور الیعزرؔ سے متّانؔ پَیدا ہُؤا اور متّانؔ سے یعقُوبؔ پَیدا ہُؤا۔
۱۶ ۔اور یعقُوبؔ سے یُوسفؔ پَیدا ہُؤا۔ یہ اُس مریمؔ کا شَوہر تھا جِس سے یِسُوعؔ پَیدا ہُؤا جو مسِیح کہلاتا ہے۔
۱۷۔ پس سب پُشتیں ابرہامؔ سے داؤُدؔ تک چَودہ پُشتیں ہُوئِیں اور داؤُدؔ سے لے کر گرِفتار ہو کر بابُلؔ جانے تک چَودہ پُشتیں اور گرِفتار ہو کر بابُل جانے سے لے کر مسِیح تک چَودہ پُشتیں ہُوئِیں۔
۱۸۔ اب یِسُوعؔ مسِیح کی پَیدایش اِس طرح ہُوئی کہ جب اُس کی ماں مریمؔ کی منگنی یُوسفؔ کے ساتھ ہو گئی تو اُن کے اکٹّھے ہونے سے پہلے وہ رُوحُ القُدس کی قُدرت سے حامِلہ پائی گئی۔
۱۹۔ پس اُس کے شَوہر یُوسفؔ نے جو راست باز تھا اور اُسے بدنام کرنا نہیں چاہتا تھا اُسے چُپکے سے چھوڑ دینے کا اِرادہ کِیا۔
۲۰ ۔وہ اِن باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خُداوند کے فرشتہ نے اُسے خواب میں دِکھائی دے کر کہا اَے یُوسفؔ اِبنِ داؤُد! اپنی بِیوی مریمؔ کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر کیونکہ جو اُس کے پیٹ میں ہے وہ رُوحُ القُدس کی قُدرت سے ہے۔
۲۱ ۔اُس کے بیٹا ہو گا اور تُو اُس کا نام یسُوؔع رکھنا کیونکہ وُہی اپنے لوگوں کو اُن کے گُناہوں سے نجات دے گا۔
۲۲۔ یہ سب کُچھ اِس لِئے ہُؤا کہ جو خُداوند نے نبی کی معرفت کہا تھا وہ پُورا ہو کہ
۲۳۔ دیکھو ایک کنواری حامِلہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور اُس کا نام عِمّاؔنُوایل رکھیں گے جِس کا ترجمہ ہے خُدا ہمارے ساتھ۔
۲۴۔ پس یُوسفؔ نے نِیند سے جاگ کر وَیسا ہی کِیا جَیسا خُداوند کے فرِشتہ نے اُسے حُکم دِیا تھا اور اپنی بِیوی کو اپنے ہاں لے آیا۔
۲۵۔ اور اُس کو نہ جانا جب تک اُس کے بیٹا نہ ہُؤا اور اُس کا نام یِسُوع رکھّا۔