متؔی ۸

۸۔ اِسرائیل کے ردّ کرنے کے باعث بادشاہ بادشاہی کی ایک نئی عبوری شکل کا اعلان کرتا ہے (باب ۱۳)

بادشاہی کی تماثیل

اَب ہم متؔی کی اِنجیل کے ایک بحرانی نکتے پر پہنچتے ہیں۔ خُداوند نے واضح کر دیا ہے کہ روحانی بَندھن زمینی رِشتوں پر سبقت رکھیں گے،‏ کہ اب اہمیّت یہُودی جنم کو نہیں بلکہ خُدا باپ کی فرماں برداری کو حاصل ہو گی۔ بادشاہ کو ردّ کر کے فریسیوں اور فقیہوں نے بادشاہی کو بھی ردّ کر دیا ہے۔ وُہ تماثیل کے ایک سلسلے کی مدد سے بادشاہی کی نئی صورت کا خاکہ پیش کرتا ہے اور بُتاتا ہے کہ میرے ردّ کئے جانے اور بالآخر بادشاہوں کے بادشاہ اور خُداوندوں کے خُداوند کے طور پر ظاہر ہونے کے وقت کے درمیانی عرصے کے دوران یہ بادشاہی کیا شکل و صورت اِختیار کرے گی۔ اِن میں سے چھے تماثیل اِن الفاظ سے شروع ہوتی ہیں کہ «آسمان کی بادشاہی … کی مانند ہے۔»

اِن تماثیل کو صحیح تناظر میں دیکھنے کے لئے آئیے ہم باب تین کے بیان کے مطابق اِس بادشاہی پر دوبارہ غور کریں۔ آسمان کی بادشاہی وُہ دائرہ یا علاقہ ہے جِس کے اندر خُدا کی حکمرانی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اِس کے دو پہلو ہیں

  1. ظاہری یا خارجی اِقرار۔ اِس میں وُہ سب شامِل ہیں جو خُدا کی حکمرانی کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں
  2. داخلی یا باطنی حقیقت۔ اِس میں صِرف وُہی لوگ شامِل ہیں جو ایمان لا کر بادشاہی میں داخل ہوتے ہیں۔ اِس بادشاہی کے پانچ مرحلے ہیں:

    1. پُرانے عہدنامہ کا مرحلہ جِس میں اِس کی پیش گوئی ہوئی
    2. وُہ مرحلہ جِس میں یہ بادشاہی «نزدیک» یعنی بادشاہ کی ذات میں موجود ہے۔
    3. عبوری مرحلہ،‏ یہ اُن لوگوں پر مشتمل ہے جو اِس زمین پر موجود ہیں اور اُس کی رعیت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ بادشاہ کے ردّ کئے جانے اور آسمان پر واپس جانے کے بعد کا زمانہ ہے
    4. ہزار سالہ دَور میں بادشاہی کا ظہور
    5. آخری،‏ دائمی بادشاہی۔

بادشاہی کے بارے میں بائبل مُقدس کا ہر حوالہ اِن میں سے کِسی نہ کِسی مرحلے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ باب ۱۳ میں جِس مرحلے پر بحث کی گئی ہے،‏ وُہ تیسرا یعنی عبوری دَور ہے۔ اِس مرحلے کے دوران (پنتکست سے لے کر فضائی اِستقبال تک) بادشاہی اپنی باطنی حیثیت سے اُن ہی لوگوں سے تشکیل پاتی ہے جن کو کلیسیا کہا جاتا ہے۔ بادشاہی اور کلیسیا کے درمیان صِرف یہی واحد مماثلت ہے،‏ ورنہ وُہ ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

آئیے اِس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے تماثیل کا جائزہ لیں۔

الف۔ بیج بونے والے کی تمثیل (۱۳:‏۱-‏۹)

۱۳:‏۱ جِس گھر میں یسؔوع نے بدرُوح گرفتہ کو شفا دی تھی،‏ اب وُہ اُس «گھر سے نکل کر جھیل کے کنارے جا بیٹھا۔» بائبل مُقدس کے بُہت سے عِلما کے نزدیک گھر بنی اِسرائیل کی اور جھیل غیر قوموں کی تصویر پیش کرتی ہے۔ چنانچہ خُداوند کا یہ فعل بنی اِسرائیل سے تعلقات توڑ لینے کی عَلامت ہے۔ اِس عبوری دَور میں بادشاہی کی منادی غیر قوموں میں کی جائے گی۔

۱۳:‏۲ ایک «بڑی بھیڑ» جھیل کے کنارے پر جمع ہو گئی۔ چنانچہ وُہ ایک «کشتی پر چڑھ بیٹھا» اور «تماثیل میں» اُن کو تعلیم دینے لگا۔ تمثیل ایک ایسی کہانی ہوتی ہے جِس میں ہمیشہ کوئی روحانی یا اخلاقی سبق یا تعلیم چھپی ہوتی ہے مگر ہمیشہ فوری طور پر سمجھ میں نہیں آتی۔ یہاں سات تماثیل ہیں۔ اِن میں بیان ہُوا ہے کہ مسیح کی پہلی اور دُوسری آمد کے درمیانی عرصے میں بادشاہی کیسی کُچھ ہو گی۔

پہلی چار تماثیل بھیڑ کو سنائی گئیں اور آخری تین صِرف شاگردوں کو۔ خُداوند نے پہلی دو اور ساتویں تمثیل کا مطلب شاگردوں کو سمجھایا۔ باقی چار کو چھوڑ دیا کہ شاگرد (اور ہم) اُس کی مہیا کردہ کلید کے مطابق اِن کا مطلب خود دریافت کریں۔

۱۳:‏۳ پہلی تمثیل کا تعلق ایک «بیج بونے والے» سے ہے۔ اُس نے بیج چار مُختلفِ قِسم کی زمینوں میں بویا اور حسب ِتوقع ہر صورت میں نتیجہ مُختلفِ نکلا۔

۱۳:‏۴-‏۸

زمینن تائج
۱۔ راہ کا کنارہ۔ دبی ہوئی سخت زمین ۱۔ یج پرندوں نے چگ لیا۔
۲۔ پتھریلی زمین ۲۔ بیج جلدی اُگ آیا،‏ دھوپ سے جل گیااور سوکھ گیا۔
۳۔ جھاڑیوں والی زمین ۳۔ بیج اُگا،‏ مگر جھاڑیوں نے دبا لیا۔ بڑھ نہ سکا۔
۴۔ اچھی زمین ۴۔ بیج اُگا،‏ بڑھا اور پھل لایا۔ «کُچھ سو گُنا، کُچھ ساٹھ گُنا،‏ کُچھ تیس گُنا۔»

۱۳:‏۹ یسؔوع نے ایک راز دارانہ نصیحت کے ساتھ تمثیل کو ختم کیا کہ «جِس کے کان ہوں وُہ سن لے۔» اِس تمثیل میں وُہ بھیڑ کو ایک ضروری پیغام دے رہا تھا مگر شاگردوں کے لئے فرق پیغام تھا۔ کِسی کو اُس کے اہم الفاظ کو سمجھنے سے رہ نہیں جانا چاہئے۔

چونکہ خُداوند نے خود اِس تمثیل کا مطلب سمجھا دیا اِس لئے ہم اُس پیرے (آیات ۱۸-‏۲۳) تک پہنچنے تک اپنے تجِسس پر قابو رکھیں گے۔

ب۔ تمثیلوں کا مقصد (۱۳:‏۱۰-‏۱۷)

۱۳:‏۱۰ «شاگرد» اِس بات پر حیران ہوئے کہ خُداوند لوگوں سے «تماثیل» کی کنایہ دار زبان میں «باتیں کرتا ہے»۔ اِس لئے اُنہوں نے درخواست کی کہ اپنا طریقہ سمجھا دے۔

۱۳:‏۱۱ جواب میں یسؔوع نے پہلے عام بے اعتقاد بھیڑ اور ایمان دار شاگردوں میں فرق واضح کیا۔ بھیڑ میں قوم کے ہر طبقے کے لوگ شامِل تھے اور صاف نظر آتا تھا کہ یہ بھیڑ یسؔوع کو ردّ کر رہی ہے،‏ البُتہ اُن کے ردّ کرنے کی تکمیل صلیب پر ہو گی۔ اُن کو «آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں» کو سمجھنے کی اہلیت نہ بخشی گئی۔ جب کہ حقیقی شاگردوں کی مدد کی گئی کہ وُہ اِن بھیدوں کو سمجھ سکیِں۔

نئے عہدنامہ میں بھید سے مراد ایسی حقیقت ہے جِس کا اِنسان کو پہلے کبھی عِلم نہیں تھا،‏ اور جِس کو اِنسان خُدا کے مکاشفے کے بغیر کبھی سمجھ نہیں سکتا،‏ مگر اب اِس کو ظاہر کیا گیا ہے۔ «بادشاہی کے بھیدوں» سے مراد وُہ حقائق ہیں جن کا تعلق بادشاہی کی عبوری صورت سے ہے،‏ اور جو اب تک کِسی کو معلوم نہ تھیں بلکہ خود یہ حقیقت اب تک ایک بھید تھی کہ بادشاہی کی ایک عبوری شکل بھی ہو گی۔ اِن تماثیل میں بادشاہی کی کُچھ ایسی خصُوصیات بیان کی گئی ہیں جن کا تعلق اُس مدت کے ساتھ ہے جب بادشاہ غیر حاضر ہو گا۔ اِس لئے بعض لوگ اِس کو «بادشاہی کی پُراسرار صورت» کہتے ہیں۔ مراد یہ نہیں کہ اِس میں کوئی بھید یا اَسرار ہیں بلکہ یہ کہ اِس سے پہلے اِس کا عِلم نہیں تھا۔

۱۳:‏۱۲ یہ بات کُچھ بے وجہ سی معلوم ہوتی ہے کہ یہ بھید بھیڑ سے چھپائے گئے اور شاگردوں پر ظاہر کئے گئے ہیں۔ لیکن خُداوند اِس کی غرض و غایت بیان کرتا ہے کہ «جِس کے پاس ہے اُسے دیا جائے گا اور اُس کے پاس زیادہ ہو جائے گا۔ اور جِس کے پاس نہیں ہے،‏ اُس سے وُہ بھی لے لیا جائے گا جو اُس کے پاس ہے۔» شاگرد خُداوند یسؔوع پر ایمان رکھتے تھے،‏ اِس لئے اُن کو مزید ایمان کی استعداد دی گئی۔ اُنہوں نے نور کو قبول کر لیا تھا۔ اِس لئے اُن کو اَور زیادہ نور دیا گیا۔ لیکن دُوسری طرف یہُودی قوم نے نورِ حقیقی کو ردّ کر دیا تھا،‏ اِس لئے اُن کو نہ صِرف مزید نور حاصل کرنے سے روک دیا گیا بلکہ جو تھوڑا بُہت نور اُن کے پاس تھا،‏ وُہ بھی اُن سے جاتا رہے گا۔ نور کو ردّ کرنا ہی نور سے محرؔومی ہے۔

۱۳:‏۱۳ میتھیو ہنری تماثیل کو بادِل اور آگ کے ستون کے مُشابہٹھہراتا ہے۔ یہ ستون اِسرائیلیوں کو منور کرتا مگر مصریوں کو حیران اور پریشان کر دیتا تھا۔ اِن تماثیل کا مطلب صِرف اُن پر ظاہر کیا جائے گا جو سچے دِل سے دِل چسپی رکھتے ہوں گے۔ «لیکن جو یسؔوع کے مخالف ہوں گے اُن کے لئے تکلیف دہ ثابُت ہوں گی۔»

چنانچہ خُداوند نے محض ترنگ میں آ کر ایسا نہیں کیا تھا بلکہ ایک ایسے اصول کو کام میں لا رہا تھا جو ساری زندگی میں گھر کئے ہوئے ہے۔ دانستہ اندھے پن کا نتیجہ حقیقی اندھا پن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس نے یہُودی وں سے تماثیل میں باتیں کیِں۔ ایچ۔ سی۔ وڈرنگ کہتا ہے کہ «چونکہ وُہ سچائی سے محبُت نہیں رکھتے تھے اِس لئے اُن کو سچائی کا نور نہ دیا جا سکتا۔» اُن کا دعویٰ تھا کہ ہم دیکھتے ہیں یعنی الٰہی سچائی سے واقف ہیں۔ لیکن مجِسم سچائی اُن کے سامنے کھڑی تھی،‏ مگر اُنہوں نے اُس کو دیکھنے سے اِنکار کر دیا۔ وُہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم خُدا کا کلام سنتے ہیں مگر خُدا کا زندہ کلام اُن کے درمیان تھا اور وُہ اُس کو ماننے پر راضی نہ ہوئے۔ وُہ تجِسم کی عجیب حقیقت کو سمجھنے پر آمادہ نہ تھے اِس لئے اُن سے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی گئی۔

۱۳:‏۱۴،‏۱۵ وُہ یسَعیاہ ۶:‏۹،‏۱۰ کی پیش گوئی کا جیتا جاگتا ثبوت تھے۔ اِسرائیل کا دِل «چربا گیا» تھا،‏ اور اُن کے «کان» خُدا کی آواز سننے کے لئے بے حس ہو گئے تھے۔ اُنہوں نے دانستہ اِنکار کیا کہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ وُہ جانتے تھے کہ اگر ہم نے دیکھا،‏ سنا،‏ سمجھا اور توبہ کی تو خُدا ہمیں شفا دے گا۔ لیکن اپنی ضُرورتاور بیماری کے وقت اُنہوں نے اُس سے مدد لینے سے اِنکار کر دیا۔ اِس لئے اُن کو یہ سزا دی گئی کہ وُہ «سنیں» مگر «نہ سمجھیں،‏» وُہ «دیکھیں» مگر «معلوم نہ کریں۔»

۱۳:‏۱۶،‏۱۷ شاگردوں کو بُہت بڑا شرف بخشا گیا اور وُہ یہ کہ اُن چیزوں کو دیکھ رہے تھے جن کو پہلے کِسی نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پُرانے عہدنامہ کے نبی اور راست باز آدمی آرزو کرتے رہے کہ مسیحِ مَوعُود کی آمد کو دیکھنے کے لئے زندہ رہیں۔ لیکن اُن آرزو کی پُوری نہ ہوئی۔ شاگردوں پر مہربانی ہوئی کہ وُہ تاریخ کے اِس اہم دَور میں زندہ تھے۔ اُنہوں نے مسیحِ مَوعُود کو دیکھا،‏ اُس کے معجزوں کے شاہد ہوئے اور اُس کے لبوں سے نکلنے والی بے مثال تعلیم سنی۔

ج۔ بیج بونے والے کی تمثیل کی تشریح (۱۳:‏۱۸-‏۲۳)

۱۳:‏۱۸ یسؔوع نے یہ واضح کیا کہ وُہ تماثیل کیوں استعمال کرتا ہے۔ پھر خُداوند نے چار قِسم کی زمینوں کی تمثیل کی تشریح پیش کی۔ اُس نے بیج بونے والے کی شناخت نہیں کرائی۔ مگر یقین جانیں کہ اِس کا اِشارہ (۱) خود اُس کی اپنی طرف یا (۲) اُن افراد کی طرف ہے جو بادشاہی کے پیغام کی منادی کرتے ہیں۔ اُس نے سمجھایا کہ بیج بادشاہی کا کلام (آیت ۱۹) ہے اور زمینیں اُن لوگوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو یہ پیغام سنتے ہیں۔

۱۳:‏۱۹ سخت دبی ہوئی راہ کی زمین اُن لوگوں کی مثال ہے جو پیغام کو قبول کرنے سے اِنکار کر دیتے ہیں۔ وُہ اِنجیل سنتے تو ہیں پر «سمجھتے نہیں۔» اِس لئے نہیں کہ وُہ سمجھ نہیں سکتے،‏ بلکہ اِس لئے کہ سمجھنا نہیں چاہتے۔ «پرندے» شیطان کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ وُہ اِن سننے والوں کے دِل وں سے «بیج » کو چھین لے جاتا ہے۔ اُنہوں نے اپنے لئے بنجر پن کا اِنتخاب کیا اور شیطان اِس سلسلے میں اُن سے تعاون کرتا ہے۔ فریسی ایسی ہی سخت دبی ہوئی زمین تھے۔

۱۳:‏۲۰،‏۲۱ جب یسؔوع پتھریلی زمین کی بات کر رہا تھا تو اُس کے سامنے ایک ایسی چٹان کا کنارہ تھا جِس پر مٹی کی پتلی سی تہہ جمی ہو۔ یہ اُن لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے جو کلام سنتے ہیں اور بڑی «خوشی» کے ردِّ عمل کا اِظہار کرتے ہیں۔ شروع میں تو مبشر بُہت خوشی اور فخر کرتا ہے کہ میری منادی بڑی کامیاب ہے،‏ مگر بُہت جلد ایک گہرا سبق سیکھ لیتا ہے کہ جب لوگ ہنسی خوشی کلام کو قبول کرتے ہیں تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہو گی۔ ضرور ہے کہ پہلے گُناہ سے قائلیت ہو،‏ پشیمانی ہو اور توبہ ہو۔ یہ بُہتر ہے کہ متلاشی روتا ہُوا کلوری کی طرف جاتا نظر آئے،‏ بجائے اِس کے کہ وُہ ہنستا مسکراتا ہُوا گرجے سے نکلے۔ کم گہری زمین سے اِقرار بھی سطحی حاصل ہوتا ہے۔ جڑیں گہری نہیں ہوتیں،‏ لہٰذا جب مصیبُت یا ظلم کی تیز دھوپ اُس کے اِقرار کو آزماتی ہے تو وُہ مسیح کی تابع فرمانی کرنے سے اِنکار کر دیتا ہے۔

۱۳:‏۲۲ جھاڑیوں اور کانٹوں سے بھری ہوئی زمین اُن سننے والوں کی نمائندہ ہے جو سطحی طور پر سنتے ہیں۔ ظاہراً تو وُہ بادشاہی کی اصلی اور درست رعایا معلوم ہوتے ہیں،‏ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ «دُنیا کی فِکر اور دولت کا فریب» اُن کی دِل چسپی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ اُن کی زندگیوں میں خُدا کے لئے کوئی پھل نہیں لگتا۔ لینگ (Lang) اِس کی وضاحت کرنے کے لئے ایک بڑے کاروباری مگر زر دوست آدمی کے بیٹے کی مثال دیتا ہے۔ اِس لڑکے نے جوانی میں کلام سنا،‏ مگر کاروبار میں مگن ہو گیا۔

«بُہت جلد اُس کو اِنتخاب کرنا پڑا کہ خُداوند کو خوش کروں یا باپ کو۔ جب بیج بویا گیا اور اُگا تو اِس طرح جھاڑیاں وُہاں موجود تھیں۔ اِس دُنیا کی فِکر اور دولت کا فریب بالکُل نزدیک تھے۔ اُس نے باپ کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے
اپنے آپ کو کاروبار کے لئے وقف کر دیا اور ترقی کرتے ہوتے کاروبار کا سربراہ بن گیا۔ زندگی میں کافی آگے جا کر اُسے اِقرار کرنا پڑا کہ مَیں آسمانی باتوں کی طرف سے غفلت برتتا رہا ہوں۔ وُہ ریٹائر ہونے والا تھا۔ اب اُس نے اِرادہ
کیا کہ مَیں روحانی باتوں میں زیادہ تَن دہی سے مصروف رہوں گا۔ مگر خُدا ٹھٹھوں میں نہیں اُڑایا جا سکتا۔ وُہ ریٹائر ہُوا اور چند ہی ماہ بعد اچانک ہلاک ہو گیا۔ اُس نے اپنے پیچھے نوے ہزار پونڈ اور روحانی لحاظ سے ایک برباد شدہ
زندگی چھوڑی۔ جھاڑیوں نے کلام کو دبا لیا تھا اور وُہ بے پھل رہا۔»

۱۳:‏۲۳ اچھی زمین سچے اور حقیقی ایمان دار کی نمائندہ ہے۔ وُہ «کلام کو سنتا» اور قبول کرتا اور سنے ہوئے کی فرماں برداری کرنے سے اُسے «سمجھتا» ہے۔ اگرچہ ایسے ایمان دار سب یکساں مقدار میں پھل نہیں لاتے،‏ مگر سب اپنے پھلوں سے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم میں خُدا کی زندگی ہے۔ یہاں «پھل» سے مراد مسیحی کردار کا اِظہار ہے،‏ مسیح کے لئے رُوحیں جیتنا اِتنا نمایاں نہیں۔ جب نئے عہدنامہ میں لفظ پھل استعمال کیا جاتا ہے تو اِس کا اِشارہ اکثر «رُوح کے پھل» (گلتیوں ۵:‏۲۲،‏۲۳) کی طرف ہوتا ہے۔

اِس تمثیل سے بھیڑ کو کیا سمجھانا مقصود تھا؟ یہی کہ سن کر عمل نہ کرنا بُہت خطرناک بات ہے۔ مزید برآں اِنسانوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی مقصود تھا کہ وُہ کلام کو سچے دِل سے قبول کریں اور پھر خُدا کے لئے پھل لا کر سچے ثابُت ہوں۔ جہاں تک شاگردوں اور مستقبل میں مسیح کے پیروکاروں کا تعلق ہے،‏ یہ تمثیل اِنہیں ایک حوصلہ شکن حقیقت کے لئے تیار کرتی ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد نسبُتاً بُہت تھوڑی ہے جو پیغام کو سچے دِل سے سنتے اور نجات پاتے ہیں۔ اِس طرح مسیح کی وفادار رعایا اِس خام خیالی سے بچ جاتی ہے کہ اِنجیل کی بشارت سے ساری دُنیا ایمان لے آئے گی۔ پھر اِس تمثیل سے شاگردوں کو اِنجیل کے تین مخالفوں سے خبردار کیا گیا ہے __ (۱) ابلیس (پرندے = وُہ شریر)،‏ (۲) جِسم (تیز دھوپ = مصیبُت یا ظلم)،‏ (۳) دُنیا (جھاڑیاں = دُنیا کی فِکر اور دولت کا فریب)۔

آخر میں شاگردوں کو اُس عظیم منافع کا رُؤیا دیا گیا ہے جو اِنسانی شخصیت کو اِس روحانی کاروبار میں لگانے سے حاصل ہوتا ہے۔ تیس گنا سے مراد تین ہزار فی صد،‏ ساٹھ گنا سے مراد چھے ہزار فیصد اور سو گنا سے مراد دس ہزار فی صد آمدنی ہے۔ حقیقت میں کوئی ایسا پیمانہ موجود نہیں جِس سے اِن نتائج کو ناپا جا سکے جو ایک رُوح کی حقیقی تبدیلی سے حاصل ہوتے ہیں۔ سنڈے سکول کے ایک گمنام اُستاد نے ڈوائٹ ایل۔ موڈی میں سرمایہ لگایا۔ موڈی نے دوسرے لوگوں کو خُداوند کے لئے جیتا۔ آگے اُنہوں نے اَوروں کو جیتا۔ اُس اُستاد نے عمل درعمل کا ایک ایسا سلسلہ شروع کر دیا جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔

د۔ گیہوں اور کڑوے دانوں کی تمثیل (۱۳:‏۲۴-‏۳۰)

گذشتہ تمثیل اِس حقیقت کی وضاحت کرتی ہے کہ آسمان کی بادشاہی میں دونوں قِسم کے لوگ شامِل ہیں یعنی بادشاہ کی زبانی کلامی تعریف کرنے والے اور اُس کے حقیقی شاگرد۔ پہلی تین قِسم کی زمینیں ایک وسیع تر حلقے میں بادشاہی کی مثال پیش کرتی ہیں،‏ یعنی ظاہری اِقرار کا حلقہ۔ یہ چوتھی قِسم کی زمین بادشاہی کو ایک چھوٹے حلقے کے طور پر پیش کرتی ہے،‏ یعنی وُہ جو سچے دِل سے ایمان لائے ہیں۔

۱۳:‏۲۴-‏۲۶ یہ دُوسری «تمثیل» یعنی گیہوں اور کڑوے دانوں کی تمثیل بھی بادشاہی کے اِن دونوں پہلوئوں کو پیش کرتی ہے۔ گیہوں سچے اور حقیقی ایمان داروں کی اور کڑوے دانے صِرف اِقرار کرنے والوں کی تصویر ہیں۔ یسؔوع «بادشاہی» کو «اُس آدمی کی مانند» قرار دیتا ہے «جِس نے اپنے کھیت میں اچھا بیج بویا۔ مگر لوگوں کے سوتے میں اُس کا دشمن آیا اور گیہوں میں کڑوے دانے بھی بو گیا۔» اُنگر کہتا ہے کہ ارضِ مُقدس میں گیہوں کے کھیت میں عام پائے جانے والے کڑوے دانے «بالودار تلخہ» ہے۔ یہ ایک زہریلی گھاس ہے۔ جب تک بالیں نہ نکلیں شکل و صورت کے لحاظ سے اُسے گیہوں سے الگ پہچاننا بُہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر جب بالیں آ جاتی ہیں تو اُن کو آسانی سے الگ کیا جا سکتا ہے۔

۱۳:‏۲۷،‏۲۸ جب «نوکروں نے» گیہوں کے ساتھ کڑوے دانوں کو اُگتے بڑھتے دیکھا تو اُنہوں نے مالک سے پوچھا کہ یہ کیسے ہو گیا؟ اُس نے فوراً جان لیا کہ یہ «دشمن» کا کام ہے۔ «نوکر» ان کڑوے دانوں کو فوراً اُکھاڑ ڈالنے پر تیار تھے۔

۱۳:‏۲۹،‏۳۰ مگر مالک نے اِنہیں حُکم دیا کہ «کٹائی تک» اِنتظار کریں۔ اُس وقت فصل کاٹنے والے دونوں کو الگ الگ کر دیں گے۔ گیہوں کو کھتوں میں جمع کر لیں گے اور «تلخہ» کو جلا دیں گے۔

مالک نے اِنہیں الگ الگ کرنے میں تاخیر کرنے کا حُکم کیوں دیا؟ قُدرتی طور پر گیہوں اور تلخہ کی جڑیں آپس میں ایسی اُلجھی ہوتی ہیں کہ ایک کو اُکھاڑیں تو دوسرا بھی ساتھ ہی اُکھڑ آتا ہے۔

آیات ۳۷-‏۴۳ میں ہمارے خُداوند نے اِس تمثیل کی تشریح کی ہے۔ اِس لئے باقی تبصرہ وُہاں پہنچ کر کریں گے۔

ہ۔ رائی کے دانے کی تمثیل (۱۳:‏۳۱،‏۳۲)

اِس کے بعد نجات دہندہ «بادشاہی» کو «رائی کے دانے» سے تشبیہ دیتا ہے۔ وُہ اِسے «سب بیجوں سے چھوٹا» قرار دیتا ہے۔ مراد ہے کہ اُس کے سننے والوں کے تجربے میں وُہ سب سے چھوٹا ہے۔ کِسی آدمی نے یہ بیج بویا تو وُہ اُگ کر ایک «درخت» یعنی ایک بُہت بڑا پودا بن گیا۔ رائی کا عام پودا درخت نہیں بلکہ جھاڑی جیسی ہوتا ہے۔ اور یہ «درخت» اِتنا بڑا ہو گیا کہ «پرندے آ کر اُس کی ڈالیوں پر بَسیرا کرتے ہیں۔»

بیج بادشاہی کے سادہ اور خاکسارانہ آغاز کا نمائندہ ہے۔ شروع میں بادشاہی نسبُتاً چھوٹی اور ظلم و ستم کے باعث پاک تھی لیکن حکومت کی سرپرستی اور تحفظ کے باعث اُس کو غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی۔ پھر پرندے آ کر اُس میں بَسیرا کرنے لگے۔ یہاں پرندوں کے لئے وُہی لفظ استعمال ہُوا ہے جو آیت ۴ میں ہے۔ وُہاں یسؔوع نے بیان کیا تھا کہ پرندوں سے مراد «وُہ شریر» ہے (آیت ۱۹)۔ بادشاہ شیطان اور اُس کے چیلے چانٹوں کے لئے گھونسلوں کی جگہ بن گئی۔ آج مسیحی دُنیا ایسے نظاموں کو تحفظ دیئے ہوئے ہے جو مسیح کا اِنکار کرتے ہیں۔ مثلاً تثلیث کے منکر،‏ کرسچن سائنس،‏ مارمن فرقہ،‏ یہوواہ کے گواہ،‏ یونیفیکیشن چرچ وغیرہ۔

چنانچہ یہاں خُداوند نے اپنے شاگردوں کو پہلے سے خبردار کیا کہ میری غیر حاضری میں بادشاہی نادر طور پر بڑھے گی۔ وُہ فریب نہ کھائیں اور اِس ترقی کو کامیابی نہ سمجھیں۔ یہ «بڑھنا» اور یہ ترقی غیر صحت مند ہو گی۔ اگرچہ یہ چھوٹا سا بیج غیر معمولی درخت بن جائے گا،‏ مگر اِس کا یہ بڑا پن «شیاطین کا مسکن اور ہر ناپاک رُوح کا اڈا اور ہر ناپاک اور مکروُہ پرندہ کا اڈا» (مُکاشفہ۱۸:‏۲) بن جائے گا۔

و۔ خمیر کی تمثیل (۱۳:‏۳۳)

اب خُداوند یسؔوع نے «بادشاہی» کو « خمیر» کے مُشابہٹھہرایا «جِسے کِسی عورت نے لے کر تین پیمانہ آٹے میں ملا دیا۔» نتیجے میں سارا آٹا «خمیر ہو گیا۔» ایک تشریح یہ کی جاتی ہے کہ آٹا دُنیا ہے اور خمیر انجیل کا پیغام ہے جِس کی منادی ساری دُنیا میں کی جائے گی،‏ حتیٰ کہ ہر شخص نجات پا لے گا۔ مگر پاک صحائف،‏ تاریخ اور حالیہ واقعات اِس نظریے کی تردید کرتے ہیں۔

بائبل مُقدس میں خمیر ہمیشہ بُرائی کا مثیل ہے۔ جب خُدا نے اپنی قوم کو اپنے گھروں کو خمیر سے پاک کرنے کا حُکم دیا (خروُج ۱۲:‏۱۵) تو وُہ اِس کا مطلب سمجھتے تھے۔ بے خمیری روٹی کی عید کے دوران اگر کوئی پہلے دن سے لے کر ساتویں دن تک خمیری چیز کھاتا وُہ اِسرائیل میں سے کاٹ ڈالا جاتا۔ یسؔوع نے فریسیوں اور صدوقیوں کے خمیر سے خبردار کیا (متؔی ۱۶:‏۶،‏۱۲) اور ہیرودیس کے خمیر سے ہوشیار رہنے کا حُکم دیا (مرقسؔ ۸:‏۱۵)۔ ۱۔کرنتھیوں ۵:‏۶-‏۸ میں خمیر کو بدی اور شرارت بیان کیا گیا ہے اور گلتیوں ۵:‏۹ کے سیاق و سباق سے ثابُت ہوتا ہے کہ وُہاں اِس کا مطلب جھوٹی یا باطل تعلیم ہے۔ عام طور پر خمیر کا مطلب جھوٹے اور غلط عقائد یا بُرا کردار ہے۔

چنانچہ اِس تمثیل میں خُداوند بُرائی کی سرایت کر جانے والی قوت سے خبردار کرتا ہے کہ یہ قوت «آسمان کی بادشاہی» میں بھی کام کرتی ہے۔ رائی کے دانے کی تمثیل میں بادشاہی کی ظاہری صورت میں بُرائی کی وضاحت کی گئی ہے۔ یہ تمثیل اُس باطنی بگاڑ کی نشان دہی کرتی ہے جو بادشاہی کے اندر پیدا ہو جائے گا۔

ہم یقین رکھتے ہیں کہ اِس تمثیل میں «آٹا» خُدا کے لوگوں کی اُس خوراک کو ظاہر کرتا ہے جو بائبل مُقدس میں پائی جاتی ہے۔ «خمیر» بُرا اور غلط عقیدہ ہے۔ «عورت» جھوٹی نبیہ ہے جو غلط «تعلیم دے کر گمراہ کرتی ہے» (مُکاشفہ۲:‏۲۰)۔ کیا یہ بات نمایاں اور اہم نہیں کہ عورتیں ہی متعدد غلط اور جھوٹے فرقوں اور مذہبی مسالک کی بانی ہوئی ہیں؟

بائبل مُقدس میں عورتوں کو کلیسیا میں تعلیم دینے سے منع کیا گیا ہے (۱۔کرنتھیوں ۱۴:‏۳۴؛ ۱۔تیمتھیس۲:‏۱۲)۔ لیکن بعض عورتوں نے اِس حُکم کی مخالفت کرتے ہوئے وُہ مقام حاصل کیا ہے،‏ جہاں وُہ عقیدے کے معاملے میں اپنے آپ کو سند قرار دیتی ہیں۔ اُنہوں نے ہلاکت خیز بدعتوں سے خُدا کی قوم کی خوراک کو ملاوٹ سے بھر دیا ہے۔

جے۔ ایچ۔ بروکس (Brookes)کہتا ہے:‏

«اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسیح آسمان کی بادشاہی کو کِسی بُری چیز سے تشبیہ نہیں دے سکتا تھا تو اِتنا ہی جواب کافی ہو گا کہ اُس نے بادشاہی کو اُس کھیت سے تشبیہ دی جِس میں گیہوں اور کڑوے دانے دونوں شامِل تھے اور اُس جال سے جِس
میں اچھی اور بُری دونوں قِسم کی مچھلیاں تھیں۔ نیز اُس میں «شریر نوکر» (متؔی ۱۸:‏۲۳-‏۳۲) کو بھی جگہ حاصل ہے،‏ جو اُس آدمی کو بھی اندر آنے دیتا ہے جِس نے شادی کا لباس نہیں پہن رکھا اور جو ہلاک ہو گیا (متؔی ۲۲:‏۱-‏۱۳)۔»

ز۔ تماثیل کے اِستعمال سے نبوت پُوری ہوتی ہے (۱۳:‏۳۴،‏۳۵)

یسؔوع نے پہلی چار تماثیل «بھیڑ» کو سنائی تھیں۔ اِس طریقۂ تعلیم کے استعمال سے زبُور ۷۸:‏۲ میں درَج آسف کی پیش گوئی پُوری ہوئی کہ مسیحِ مَوعُود «تمثیل میں کلام» کرے گا اور وُہ «قدیم معمے» کہے گا جو بنائے عالم کے وقت سے پوشیدہ تھے۔ اپنی عبوری شکل میں آسمان کی بادشاہی کی یہ خصُوصیات آج تک پوشیدہ رہیں،‏ اَب ظاہر کی جا رہی ہیں۔

ح۔ کڑوے دانوں کی تمثیل کی تشریح (۱۳:‏۳۶-‏۴۳)

۱۳:‏۳۶ اِس کے بعد کی باتیں خُداوند نے گھر میں «شاگردوں» کے ساتھ کیِں۔ شاید یہاں «شاگرد» اُس بقیہ کی نمائندگی کرتے ہیں جو ایمان لایا۔ گھر کا دوبارہ ذِکر یاد دِل اتا ہے کہ خُدا نے اپنی اُمت کو جِسے اُس نے پہلے سے جانا،‏ ہمیشہ کے لئے ردّ نہیں کر دیا (رؔومیوں ۱۱:‏۲)۔

۱۳:‏۳۷ گیہوں اور کڑوے دانوں کی تمثیل کی تشریح کرنے میں اُس نے خود کو بیج بونے والا ٹھہرایا۔ اُس نے اپنی زمینی خدمت کے دوران براہِ راست بیج بویا اور بعد کے زمانوں میں اپنے خادموں کی معرفت۔

۱۳:‏۳۸ کھیت دُنیا ہے۔ اِس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ کھیت دُنیا ہے،‏ کلیسیا نہیں ہے۔ «اچھا بیج» سے مراد «بادشاہی کے فرزند» ہے۔ یہ بات بے ڈھنگی اور بے جوڑ سی لگتی ہے کہ زندہ اِنسانوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وُہ زمین پر بوئے گئے ہیں۔ مگر نکتہ یہ ہے کہ بادشاہی کے یہ فرزند دُنیا میں بوئے گئے تھے۔ اپنی علانیہ خدمت کے عرصے میں یسؔوع نے اپنے شاگردوں کو جو بادشاہی کے وفادار رعایا تھے دُنیا میں بویا۔ «کڑوے دانے اُس شریر کے فرزند ہیں۔» شیطان کے پاس خُدا کی ہر اصلی چیز کا جعلی بدِل موجود ہے۔ وُہ دُنیا میں ایسے بیج بوتا ہے جو شاگردوں کے ہم شکل دِکھائی دیتے،‏ شاگردوں کی طرح بولتے اور بڑی حد تک شاگردوں کی طرح چلتے ہیں،‏ لیکن بادشاہ کے سچے پیرو نہیں ہوتے۔

۱۳:‏۳۹ دشمن شیطان ہے۔ وُہ خُدا اور خُدا کے تمام لوگوں کا دشمن ہے۔ «کٹائی دُنیا کا آخر ہے» یعنی بادشاہی کے عبوری دَور کا اخیر جو اُس وقت ہو گا جب یسؔوع مسیح بادشاہ کی حیثیت سے جلال اور قُدرت کے ساتھ بادشاہی کرنے کو دوبارہ آئے گا۔ خُداوند کلیسیائی زمانے کے اخیر کی بات نہیں کر رہا۔ اگر یہاں کلیسیا کی بات کی جائے تو صِرف اُلجھن ہی پیدا ہو گی۔

۱۳:‏۴۰-‏۴۲ فصل «کاٹنے والے فرشتے ہیں» (دیکھئے مُکاشفہ۱۴:‏۱۴-‏۲۰)۔ بادشاہی کے موجودہ مرحلے میں گیہوں اور کڑوے دانوں کو الگ الگ کرنے کے لئے کوئی زبردستی نہیں کی جا رہی۔ اِن کو اکٹھے بڑھنے دیا جا رہا ہے۔ لیکن مسیح کی دُوسری آمد پر فرشتے گُناہ کے سارے اسباب کو اور بدکاروں کو جمع کریں گے۔ «اور اُن کو آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے۔» وُہاں وُہ روئیں گے اور دانت پیسیں گے۔

۱۳:‏۴۳ بڑی مصیبُت کے زمانے میں جو صادق اور راست باز رعایا اِس زمین پر موجود ہو گی،‏ «وُہ اپنے باپ کی بادشاہی میں» داخل ہوں گے اور مسیح کے ساتھ ہزار سالہ بادشاہی کا لطف اُٹھائیں گے۔ وُہاں وُہ «آفتاب کی مانند چمکیِں گے» یعنی وُہ جلال میں جگمگائیں گے۔

یسؔوع کی بات میں یہاں بھی ایک نصیحت پوشیدہ ہے کہ «جِس کے کان ہوں،‏ وُہ سن لے۔» بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اِس تمثیل کے مطابق مقامی کلیسیا کو اپنے اندر موجود بے دین افراد کو بھی برداشت کرنا چاہئے۔ لیکن یہ تمثیل اِس نظریے کو جائز قرار نہیں دیتی۔ یاد رکھیں کہ کھیت دُنیا ہے کلیسیا نہیں ہے۔ مقام کلیسیائوں کو صاف حُکم ہے کہ خاص قِسم کے بدکاروں کو اپنی رفاقت اور صحبُت سے باہر نکال دیں (۱۔کرنتھیوں ۵:‏۹-‏۱۳)۔ یہ تمثیل صِرف اِتنا کہہ دیتی ہے کہ اپنی پُراسرار شکل میں آسمان کی بادشاہی میں حقیقت اور نقل،‏ اصلی اور جعلی دونوں موجود ہیں۔ اور یہ حالت موجودہ دَور کے آخر تک جاری رہے گی۔ اُس وقت خُدا کے ایلچی جھوٹوں کو الگ کریں گے۔ اُن کو غضب کے حوالے کریں گے۔ سچے ایمان دار الگ ہو جائیں گے اور زمین پر مسیح کی جلالی بادشاہی کے مزے لیں گے۔

ط۔ چھپے ہوئے خزانے کی تمثیل (۱۳:‏۴۴)

اب تک کی تماثیل یہی سکھاتی آ رہی تھیں کہ بادشاہی میں نیک اور بد،‏ راست اور ناراست رعایا دونوں ہوں گی۔ اگلی دو تماثیل یہ سکھاتی ہیں کہ راست باز رعایا کی دو اقسام ہوں گی۔ (۱) کلیسیائی دَور سے پہلے اور اِس کلیسیائی دَور کے بعد ایمان لانے والے یہُودی ۔ (۲) موجودہ دَور میں ایمان لانے والے یہُودی اور غیر قوم لوگ۔

«خزانہ» کی تمثیل میں یسؔوع نے «بادشاہی» کو «کھیت میں چھپے خزانہ کی مانند» بیان کیا ہے۔ کوئی «آدمی» اُسے پاتا ہے،‏ اُسے ڈھانک کر چھپا دیتا ہے اور بڑی خوشی سے اپنا سب کُچھ بیچ کر اُس کھیت کو خرید لیتا ہے۔

ہمارے نزدیک «آدمی» خُداوند یسؔوع خود ہے (گیہوں اور کڑوے دانوں کی تمثیل میں بھی آدمی وُہ خود تھا)۔

«خزانہ» ایمان لانے والے خُدا پرست یہُودی وں کے بقیہ کی نمائندگی کرتا ہے جو یسؔوع کی زمینی خدمت کے دوران موجود تھا اور جب کلیسیا فضا میں اُٹھا لی جائے گی،‏ اُس کے بعد پھر موجود ہو گا (دیکھئے زبُور ۱۳۵:‏۴ جہاں اِسرائیل کو خُدا کی «خاص ملکیت» یا خزانہ کہا گیا ہے)۔ وُہ کھیت میں چھپے یعنی ساری دُنیا میں تِتر بُتر ہیں،‏ اور سوائے خُدا کے ان کو کوئی نہیں جانتا۔ تصویر یہ پیش کی گئی ہے کہ یسؔوع اُن کو ڈھونڈتا ہے۔ پھر صلیب پر جا کر اپنا سب کُچھ دے دیتا ہے تاکہ دُنیا کو خرید لے (۲۔کرنتھیوں ۵:‏۱۹؛ ۱۔یُوحناؔ ۲:‏۲) جہاں خزانہ چھپایا گیا تھا۔ فدیہ یافتہ اِسرائیل کو «چھپنے» سے اُس وقت باہر لایا جائے گا جب اُس کی مخلصی صیون سے آئے گی،‏ اور مسیح کی اُس ہزار سالہ بادشاہی کو قائم کرے گی جِس کا مدت سے اِنتظار تھا۔

بعض اوقات اِس تمثیل کا اطلاق ایک گنہگار شخص پر کیا جاتا ہے جو خزانہ یعنی مسیح کو پانے کے لئے اپنا سب کُچھ دے ڈالتا ہے۔ لیکن اِس تشریح سے فضل کے عقیدے کی نفی ہوتی ہے جو زور دیتا ہے کہ نجات بالکُل مفت ہے (یسَعیاہ ۵۵:‏۱؛ اِفسیوں ۲:‏۸،‏۹)۔

ی۔ بیش قیمت موتی کی تمثیل (۱۳:‏۴۵،‏۴۶)

«بادشاہی» کو «اُس سوداگر کی مانند» بھی بیان کیا گیا ہے «جو عمدہ موتیوں کی تلاش میں تھا۔» جب اُسے ایک غیر معمولی «بیش قیمت موتی ملا» تو اُس نے اُسے خریدنے کے لئے اپنا سب کُچھ قربان کر دیا۔

ایک گیت ہے کہ «مسیح میں مَیں نے پایا ہے اِک موتی بیش بہا۔» اِس گیت میں «موتی» نجات دہندہ ہے اور پانے والا گنہگار ہے۔ مگر ہم پھر وُہی اِحتجاج کریں گے کہ گنہگار کو سب کُچھ بیچنے کی ضُرورتنہیں اور نہ وُہ مسیح کو خرید ہی سکتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ «سوداگر» خُداوند یسؔوع ہے اور کلیسیا «بیش قیمت موتی» ہے۔ مسیح نے اِس موتی کو خریدنے کے لئے کلوری پر اپنا سب کُچھ قربان کر دیا۔ جِس طرح موتی ایک سِیپ کے اندر رگڑوں اور خراشوں کا دُکھ اُٹھا کر بنتا اور تشکیل پاتا ہے،‏ اِسی طرح کلیسیا نے نجات دہندہ کے بدن کے چھیدے جانے اور زخمی ہونے سے تشکیل پائی ہے۔

یہ بڑی دِل چسپ بات ہے کہ خزانے کی تمثیل میں خود بادشاہی ہی کو خزانے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہاں بادشاہی کو «موتی» نہیں بلکہ «سوداگر» کی مانند کہا گیا ہے۔ یہ فرق کیوں؟

گذشتہ تمثیل میں زور خزانے یعنی مخلصی یافتہ اِسرائیل پر ہے۔ بادشاہی اِسرائیلی قوم سے بُہت قریبی تعلق رکھتی ہے۔ اِبُتدا میں یہ بادشاہی اُس قوم کو پیش کی گئی اور کلیسیائی دَور کے بعد زیادہ تر یہی قوم اِس کی رعایا ہو گی۔

ہم نے پہلے ذِکر کیا ہے کہ کلیسیا اور بادشاہی ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ جتنے لوگ کلیسیا میں ہیں،‏ وُہ بادشاہی کی عبوری شکل میں شامِل ہیں۔ مگر جتنے لوگ بادشاہی میں ہیں،‏ وُہ سب کلیسیا میں شامِل نہیں ہیں۔ کلیسیا بادشاہی کی مستقبل کی شکل میں شامِل نہیں ہو گی بلکہ مسیح کے ساتھ نئی زمین پر بادشاہی کرے گی۔ دُوسری تمثیل میں زور خود بادشاہ پر ہے اور اُس بھاری قیمت پر جو اُسے دِل ھن کو جیتنے کے لئے ادا کرنی پڑی۔ اُس کے ظہور کے دن کلیسیا اُس کے جلال میں شریک ہو گی۔

جِس طرح موتی سمندر سے نکلتا ہے،‏ اِسی طرح کلیسیا جِسے بعض اوقات «مسیح کی غیر قوم دِل ھن» بھی کہا جاتا ہے،‏ بڑی حد تک (غیر یہُودی ) قوموں میں سے نکلی ہے۔ یہاں اِس بات سے اِنکار نہیں کیا جا رہا ہے کہ بُہت سے ایمان دار اِسرائیلی بھی اِس میں موجود ہیں،‏ بلکہ صِرف یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ کلیسیا کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ اُن لوگوں پر مشتمل ہے جن کو اُس کے نام کی خاطر قوموں میں سے بلایا گیا ہے۔ اعمال ۱۵:‏۱۴ میں یعقوب رسول اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ موجودہ دَور میں خُدا کا عظیم مقصد یہی ہے۔

ک۔ بڑے جال کی تمثیل (۱۳:‏۴۷-‏۵۰)

۱۳:‏۴۷،‏۴۸ اِس سلسلے کی آخری تمثیل میں «بادشاہی» کو ایک «بڑے جال» کی مانند کہا گیا «جو دریا میں ڈالا گیا اور اُس نے ہر قِسم کی مچھلیاں سمیٹ لیں۔» مچھیروں نے مچھلیوں کی چھانٹی کی۔ «اچھی اچھی تو برتنوں میں جمع کر لیں اور جو خراب تھیں پھینک دیں۔»

۱۳:‏۴۹،‏۵۰ ہمارا خُداوند تمثیل کی تشریح کرتا ہے۔ زمانہ «دُنیا کے آخر» کا ہے یعنی بڑی مصیبُت کے اِختتام کا وقت۔ یہ مسیح کی دُوسری آمد کا وقت ہے۔ ماہی گیر «فرشتے» ہیں۔ اچھی مچھلیاں راست باز لوگ ہیں یعنی نجات یافتہ لوگ۔ اِن میں یہُودی اور غیر قوم سبھی شامِل ہیں۔ بُری مچھلیاں ناراست لوگ ہیں،‏ یعنی ہر نسل کے وُہ لوگ جو ایمان نہیں لائے۔ جیسا کہ ہم نے گیہوں اور کڑوے دانوں کی تمثیل میں دیکھا تھا۔ دونوں قِسم کے لوگوں کو الگ الگ کیا جاتا ہے (آیات ۳۰،‏۳۹-‏۴۳)۔ راست باز اپنے باپ کی بادشاہی میں داخل ہوتے ہیں،‏ جب کہ ناراستوں کو آگ کی بھٹی میں پھینک دیا جاتا ہے۔ «وُہاں رونا اور دانت پیسنا ہو گا» مگر یہ آخری عدالت نہیں ہو گی۔ یہ عدالت ہزار سالہ بادشاہی کے آغاز میں ہوتی ہے۔ آخری عدالت ہزار سال ختم ہونے پر ہو گی (مُکاشفہ۲۰:‏۷-‏۱۵)۔

گیبلئین ( Gaebelein) اِس تمثیل پر یوں تبصرہ کرتا ہے:‏

«بڑا جال دریا میں ڈالا جاتا ہے۔ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ دریا قوموں کو پیش کرتا ہے۔ تمثیل «بڑی مصیبُت» کے زمانے میں اِنجیل کی خوشخبری کی منادی کی طرف اِشارہ کرتی ہے (مُکاشفہ۱۴:‏۶،‏۷)۔ راست بازوں اور ناراستوں کو الگ الگ کرنے کا کام فرشتے کریں گے۔ اِن ساری باتوں کا تعلق موجودہ دَور سے نہیں ہو سکتا،‏ اور نہ کلیسیا کے ساتھ ہو سکتا ہے،‏ بلکہ اِشارہ اُس دَور کی طرف ہے جب بادشاہی قائم کی جانے کو ہو گی،‏ جیسا کہ مُکاشفہکی کتاب سے بھی صاف واضح ہے۔ فرشتوں کو استعمال کیا جائے گا۔ ناراستوں یا شریروں کو آگ کی بھٹی میں ڈال دیا جائے گا اور راست باز ہزار سالہ بادشاہی کے لئے زمین پر موجود رہیں گے۔»

ل۔ سچائی کا خزانہ (۱۳:‏۵۱،‏۵۲)

۱۳:‏۵۱ جب تماثیل سنا چکا تو اُستادِ کامِل نے اپنے شاگردوں سے پوچھا «کیا تم یہ سب باتیں سمجھ گئے؟» اُنہوں نے جواب دیا «ہاں»۔ شاید ہم اُن کے جواب پر حیرت زدہ ہوں،‏ یا کُچھ رشک محسوس کریں کیونکہ ہم اِتنے اِعتماد کے ساتھ «ہاں» میں جواب نہیں دے سکتے۔

۱۳:‏۵۲ چونکہ وُہ سمجھ گئے تھے،‏ اب اُن کا فرض تھا کہ دوسروں کو بھی بُتائیں۔ ضرور ہے کہ شاگرد برکت آگے پہنچانے کا راستہ بنیں نہ کہ آخری بَند کنارہ بن کر بیٹھ جائیں۔ یہ بارہ شاگرد اب «فقیہ» بن گئے تھے یعنی «آسمان کی بادشاہی» کے وُہ تربیت یافتہ اُستاد جو سچائی کی تعلیم دیتے اور تشریح و وضاحت کرتے ہیں۔ وُہ «اُس گھر کے مالک کی مانند» تھے «جو اپنے خزانہ میں سے نئی اور پرانی چیزیں نکالتا ہے۔» پُرانے عہدنامہ میں اُن کے پاس بڑی قابلِ قدر اور بیش بہا چیزیں موجود تھیں جن کو ہم «پرانی چیزیں» کہہ سکتے ہیں اور مسیح کی تماثیل والی تعلیم جو اُن کو ابھی ابھی ملی تھی بالکُل «نئی چیزیں» ہیں۔ عِلم کے اِس وسیع ذخیرے سے وُہ جلالی اور شاندار سچائی کو دوسروں تک پہنچانے کے ذمہ دار تھے۔

م۔ ناصرت میں یسؔوع کو ردّ کیا جاتا ہے (۱۳:‏۵۳-‏۵۸)

۱۳:‏۵۳-‏۵۶ جب یسؔوع «یہ تماثیل ختم کر چکا» تو پھر وُہ گلیل کی جھیل کے ساحل سے چلا تاکہ آخری دفعہ ناصرت آئے۔ جب وُہ وُہاں کے «عبادت خانہ میں» تعلیم دے رہا تھا تو لوگ اُس کی «حکمت» اور «معجزوں» پر جن کی خبر اِنہیں ملی تھی،‏ حیران رہ گئے۔ اُن کے خیال میں تو وُہ صِرف ایک «بڑھئی کا بیٹا» تھا۔ وُہ جانتے تھے کہ «اُس کی ماں کا نام مرؔیم » ہے۔ وُہ جانتے تھے کہ «یعقوب اور یُوسؔف اور شمعون اور یہُوؔداہ» اُس کے بھائی ہیں۔ وُہ اُس کی بہنوں کو بھی جانتے تھے۔ وُہ سب ناصرت میں رہتے تھے! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اُن کے اپنے وطن کا ایک لڑکا اُٹھ کر ایسی باتیں کہنے اور ایسے کام کرنے لگ جائے جن سے اِتنا مشہور ہو جائے؟ وُہ اِسی بات پر حیران تھے۔ اور سچائی کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی نادانی اور لاعِلمی سے چمٹے رہنا اُن کو زیادہ آسان معلوم ہوتا تھا۔

۱۳:‏۵۷،‏۵۸ «اُنہوں نے اُس کے سبب سے ٹھوکر کھائی۔» اِس بات نے «یسؔوع » کو یہ کہنے پر اُکسایا کہ حقیقی اور سچا «نبی» عموماً اپنے گھر اور وطن سے باہر ہی عزت پاتا ہے۔ اُس کے اپنے علاقے کے لوگ اور اپنے عزیز رشتہ دار چونکہ اُسے جانتے تھے اِس لئے اُن کے دِل وں میں اُس کے لئے حقارت پیدا ہوئی۔ اُن کی یہ بے ایمانی ناصرت میں نجات دہندہ کے کام کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ وُہاں اُس نے صِرف تھوڑے سے بیماروں کو شفا دی (بحوالہ مرقسؔ ۶:‏۵)۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ وُہ معجزے کر نہیں سکتا تھا۔ اِنسان کی شرارت خُدا کی قُدرت کو روک نہیں سکتی۔ وُہ اُس جگہ بھی برکت دیتا جہاں برکت پانے کی خواہش تک نہ تھی،‏ وُہاں بھی ضروریات پُوری کرتا جہاں ضُرورتکا احساس تک نہ تھا۔ اُن لوگوں کو بھی شفا دیتا جن کو اگر بُتایا جاتا کہ تم بیمار ہو تو بُرا مانتے۔

کِتابِ مُقدّس

۱۔ جب وہ اُس پہاڑ سے اُترا تو بُہت سی بِھیڑ اُس کے پِیچھے ہو لی۔
۲۔ اور دیکھو ایک کوڑھی نے پاس آ کر اُسے سِجدہ کِیا اور کہا اَے خُداوند اگر تُو چاہے تو مُجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔
۳۔ اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے چُھؤا اور کہا مَیں چاہتا ہُوں تُو پاک صاف ہو جا۔ وہ فوراً کوڑھ سے پاک صاف ہو گیا۔
۴۔ یِسُوعؔ نے اُس سے کہا خبردار کِسی سے نہ کہنا بلکہ جا کر اپنے تئِیں کاہِن کو دِکھا اور جو نذر مُوسیٰ نے مُقرّر کی ہے اُسے گُذران تاکہ اُن کے لِئے گواہی ہو۔
۵ ۔اور جب وہ کفرنحوؔم میں داخِل ہُؤا تو ایک صُوبہ دار اُس کے پاس آیا اور اُس کی مِنّت کر کے کہا۔
۶ ۔اَے خُداوند میرا خادِم فالِج کا مارا گھر میں پڑا ہے اور نِہایت تکلِیف میں ہے۔
۷۔ اُس نے اُس سے کہا مَیں آ کر اُس کو شِفا دُوں گا۔
۸۔ صُوبہ دار نے جواب میں کہا اَے خُداوند مَیں اِس لائِق نہیں کہ تُو میری چھت کے نِیچے آئے بلکہ صِرف زُبان سے کہہ دے تو میرا خادِم شِفا پا جائے گا۔
۹۔ کیونکہ مَیں بھی دُوسرے کے اِختیار میں ہُوں اور سِپاہی میرے ماتحت ہیں اور جب ایک سے کہتا ہُوں کہ جا تو وہ جاتا ہے اور دُوسرے سے کہ آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نَوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہے۔
۱۰۔ یِسُوعؔ نے یہ سُن کر تعجُّب کِیا اور پِیچھے آنے والوں سے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ مَیں نے اِسرائیل میں بھی اَیسا اِیمان نہیں پایا۔
۱۱۔ اور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ بُہتیرے پُورب اور پچّھم سے آ کر ابرہامؔ اور اِضحاقؔ اور یعقُوبؔ کے ساتھ آسمان کی بادشاہی کی ضِیافت میں شرِیک ہوں گے۔
۱۲۔ مگر بادشاہی کے بیٹے باہر اندھیرے میں ڈالے جائیں گے۔ وہاں رونا اور دانت پِیسنا ہو گا۔
۱۳۔ اور یِسُوع نے صُوبہ دار سے کہا جا جَیسا تُو نے اِعتقاد کِیا تیرے لِئے وَیسا ہی ہو اور اُسی گھڑی خادِم نے شِفا پائی۔
۱۴۔ اور یِسُوعؔ نے پطرس کے گھر میں آ کر اُس کی ساس کو تپ میں پڑی دیکھا۔
۱۵ ۔اُس نے اُس کا ہاتھ چُھؤا اور تپ اُس پر سے اُتر گئی اور وہ اُٹھ کھڑی ہُوئی اور اُس کی خِدمت کرنے لگی۔
۱۶ ۔جب شام ہُوئی تو اُس کے پاس بُہت سے لوگوں کو لائے جِن میں بدرُوحیں تِھیں۔ اُس نے رُوحوں کو زُبان ہی سے کہہ کر نِکال دِیا اور سب بِیماروں کو اچّھا کر دِیا۔
۱۷۔ تاکہ جو یسعیاہ نبی کی معرفت کہا گیا تھا وہ پُورا ہو کہ اُس نے آپ ہماری کمزورِیاں لے لِیں اور بِیمارِیاں اُٹھا لِیں۔
۱۸۔ جب یِسُوعؔ نے اپنے گِرد بُہت سی بِھیڑ دیکھی تو پار چلنے کا حُکم دِیا۔
۱۹۔ اور ایک فقِیہہ نے پاس آ کر اُس سے کہا اَے اُستاد جہاں کہِیں تُو جائے گا مَیں تیرے پِیچھے چلُوں گا۔
۲۰۔ یِسُوعؔ نے اُس سے کہا کہ لومڑِیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرِندوں کے گھونسلے مگر اِبنِ آدمؔ کے لِئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں۔
۲۱۔ ایک اَور شاگِرد نے اُس سے کہا اَے خُداوند مُجھے اِجازت دے کہ پہلے جا کر اپنے باپ کو دفن کرُوں۔
۲۲۔ یِسُوع نے اُس سے کہا تُو میرے پِیچھے چل اور مُردوں کو اپنے مُردے دفن کرنے دے۔
۲۳۔ جب وہ کشتی پر چڑھا تو اُس کے شاگِرد اُس کے ساتھ ہو لِئے۔
۲۴۔ اور دیکھو جِھیل میں اَیسا بڑا طُوفان آیا کہ کشتی لہروں میں چِھپ گئی مگر وہ سوتا تھا۔
۲۵ ۔اُنہوں نے پاس آ کر اُسے جگایا اور کہا اَے خُداوند ہمیں بچا! ہم ہلاک ہُوئے جاتے ہیں۔
۲۶ ۔اُس نے اُن سے کہا اَے کم اِعتقادو! ڈرتے کیوں ہو؟ تب اُس نے اُٹھ کر ہوا اور پانی کو ڈانٹا اور بڑا امَن ہو گیا۔
۲۷۔ اور لوگ تعجُّب کر کے کہنے لگے یہ کِس طرح کا آدمی ہے کہ ہوا اور پانی بھی اِس کا حُکم مانتے ہیں؟
۲۸۔ جب وہ اُس پار گدرِینِیوؔں کے مُلک میں پُہنچا تو دو آدمی جِن میں بدرُوحیں تِھیں قبروں سے نِکل کر اُس سے مِلے۔ وہ اَیسے تُند مِزاج تھے کہ کوئی اُس راستہ سے گُذر نہیں سکتا تھا۔
۲۹۔ اور دیکھو اُنہوں نے چِلاّ کر کہا اَے خُدا کے بیٹے ہمیں تُجھ سے کیا کام؟ کیا تُو اِس لِئے یہاں آیا ہے کہ وقت سے پہلے ہمیں عذاب میں ڈالے؟
۳۰۔ اُن سے کُچھ دُور بُہت سے سُورٔوں کا غول چر رہا تھا۔
۳۱ ۔پس بدرُوحوں نے اُس کی مِنّت کر کے کہا کہ اگر تُو ہم کو نِکالتا ہے تو ہمیں سُورٔوں کے غول میں بھیج دے۔
۳۲۔ اُس نے اُن سے کہا جاؤ۔ وہ نِکل کر سُورٔوں کے اندر چلی گئِیں اور دیکھو سارا غول کڑاڑے پر سے جھپٹ کر جِھیل میں جا پڑا اور پانی میں ڈُوب مَرا۔
۳۳۔ اور چرانے والے بھاگے اور شہر میں جا کر سب ماجرا اور اُن کا احوال جِن میں بدرُوحیں تِھیں بیان کِیا۔
۳۴۔ اور دیکھو سارا شہر یِسُوع سے مِلنے کو نِکلا اور اُسے دیکھ کر مِنّت کی کہ ہماری سرحدّوں سے باہر چلا جا۔