۶۔ المسیح اپنے رسولوں کو اِسرائیل کے پاس بھیجتا ہے (۹:۳۵-۱۰:۴۲)
الف۔ فصل کاٹنے کے لئے مزدُوروں کی ضُرورت(۹:۳۵-۳۸)
۹:۳۵ اِس آیت کے ساتھ ہی وُہ واقعات شروع ہوتے ہیں جن کو «گلیل کا تیسرا دَورہ» کہا جاتا ہے۔ یسؔوع سارے «شہروں اور گاؤں میں» پھرتا اور «بادشاہی کی خوشخبری» کی منادی کرتا تھا۔ منادی کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ مَیں بادشاہ ہوں۔ اگر قوم توبہ کرے اور مجھے تسلیم کر لے تو مَیں اُن پر بادشاہی کروں گا۔ اِس موقعے پر بنی اِسرائیل کو بادشاہی کی حقیقی پیش کش کی گئی۔ اگر اِسرائیل اِس کا صحیح جواب دیتا تو کیا ہوتا؟ بائبل مُقدس اِس سوال کا جواب نہیں دیتی۔ ہم اِتنا ضرور جانتے ہیں کہ مسیح کو وُہ بنیاد فراہم کرنے کے لئے پھر بھی مرنا ضرور تھا جِس سے خُدا ہر زمانے کے لوگوں کو راست باز ٹھہرا سکتا۔
جب یسؔوع تعلیم دیتا اور منادی کرتا تھا، تو ساتھ ساتھ ہر قِسم کی بیماریوں سے شفا بھی دیتا تھا۔ جِس طرح مُعجزات مسیحِ مَوعُود کی پہلی آمد کی خصوصیت تھے اور اُس کی فروتنی اور فضل کو ظاہر کرتے تھے اُسی طرح اُس کی دُوسری آمد میں وُہ اُس کی قُدرت اور عظیم جلال کو ظاہر کریں گے (دیکھئے عبرانیوں ۶:۵ «آئندہ جہان کی قوتوں …»)۔
۹:۳۶ یسؔوع اِسرائیلیوں کے بڑے ہجوم کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اُسے محسوس ہُوا کہ یہ لوگ ہراساں اور بے یار و مددگار ہیں۔ «وُہ اُن بھیڑوں کی مانند جن کا چرواہا نہ ہو خستہ حال اور پراگندہ تھے۔» اُس کو اُن لوگوں پر بے حد «ترس آیا۔» کاش ہم بھی روحانی طور پر کھوئے ہوئوں اور مرتے ہوئوں کی بھلائی کے لئے تڑپیں! ہمیں مسلسل یوں دُعا کرنے کی کتنی ضُرورتہے:
« مَیں بھی بھیڑ پر گہری نظر ڈالوں، جیسے میرے نجات دہندہ نے ڈالی تھی
یہاں تک کہ آنسوئوں کے باعث نظر دُھندِل ا جائے
مَیں اُن بھٹکتی بھیڑوں کو ترس بھری آنکھوں سے دیکھوں۔
اور اُس کی محبُت کی خاطر اُن سے محبُت کروں۔»
۹:۳۷ روحانی فصل کو سمیٹنے کا بُہت بڑا کام سامنے تھا۔ «لیکن مزدور تھوڑے» تھے۔ یہ مسئلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ لگتا ہے کہ کارِندے ہمیشہ ہی کم ہوتے ہیں۔
۹:۳۸ خُداوند یسؔوع نے شاگردوں سے کہا کہ «فصل کے مالک کی منت کرو کہ وُہ اپنی فصل کاٹنے کے لئے مزدور بھیج دے۔» یاد رکھیں کہ ضُرورتبذاتِ خود بلاہٹ نہیں بن جاتی۔ مزدوروں کو اُس وقت تک نہیں «جانا» چاہئے جب تک وُہ «بھیجے» نہ جائیں۔
یسؔوع نے «فصل کے مالک» کی شناخت نہیں کرائی۔ بعض عِلما کا خیال ہے کہ یہ رُوح القُدس ہے۔ ۱۰:۵ میں یسؔوع خود شاگردوں کو بھیجتا ہے۔ چنانچہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ وُہ خود ہی وُہ ہستی ہے جِس سے ہم کو پُوری دُنیا میں منادی کے معاملے میں دُعا مانگنی چاہئے۔
ب۔ بارہ شاگرد بلائے جاتے ہیں (۱۰:۱-۴)
۱۰:۱ نویں باب کی آخری آیت میں خُداوند نے شاگردوں کو ہدایت کی کہ زیادہ مزدوروں کے لئے دُعا مانگیں۔ اِس درخواست کو خلوصِ نیت کے ساتھ پیش کرنے کے لئے ضرور ہے کہ ایمان دار خود جانے پر آمادہ ہوں۔
چنانچہ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ خُداوند اپنے «بارہ شاگردوں» کو بلاتا ہے۔ اُس نے پہلے اُن کو چنا تھا، لیکن اَب وُہ اُن کو اِسرائیلی قوم میں منادی کرنے کے خاص مشن کے لئے بلاتا۔ اِس بلاہٹ کے ساتھ اُن کو اِختیار ملتا ہے کہ بدروحوں کو نکالیں اور ہر قِسم کی بیماریوں سے شفا بخشیں۔ دوسروں کی معرفت بھی معجزے رُونما ہوئے مگر کِسی نے بھی کِسی دوسرے کو مُعجزہ دِکھانے کی قوت یا اِختیار عطا نہ کیا۔
۱۰:۲-۴ اِن «بارہ رسولوں» کی تفصیل یہ ہے:
- «شمعون جو پَطرسؔ کہلاتا ہے۔» تیز مزاج، فراخ دِل ، محبُت کرنے والا __ وُہ پیدائشی لیڈر تھا۔
- «اُس کا بھائی اِندریاس۔» اُس کو یُوحناؔ بپتسمہ دینے والے نے یسؔوع سے ملایا تھا (یُوحناؔ ۱:۳۶،۴۰)۔ پھر وُہ اپنے بھائی پَطرسؔ کو یسؔوع کے پاس لایا تھا۔ اِس کے بعد بھی اُس کی یہی کوشِش رہی کہ لوگوں کو یسؔوع کے پاس لے جائے۔
- «زبدی کا بیٹا یعقوب۔» بعد میں ہیرودیس نے اُسے مروا دیا (اعمال ۱۲:۲)۔ وُہ بارہ شاگردوں میں پہلا شہید تھا۔
- «اُس کا بھائی یُوحناؔ۔» یہ بھی زبدی کا بیٹا تھا۔ یہی وُہ شاگرد ہے جِسے یسؔوع عزیز رکھتا تھا۔ ہم چوتھی اِنجیل، تین خطُوط اور مُکاشفہکی کتاب کے لئے اُس کے ممنونِ احسان ہیں۔
- «فلپس۔» یہ بیت صیدا کا باشندہ تھا اور نتن ایل کو یسؔوع کے پاس لایا تھا۔ اِس کو فلپس مبشر کے ساتھ گڈمڈ نہیں کرنا چاہئے جِس کا ذِکر اعمال کی کتاب میں آتا ہے۔
- «برتلمائی۔» ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اِسی کا نام نتن ایل بھی تھا۔ یعنی وُہ اِسرائیلی جِس میں یسؔوع نے کوئی مَکر نہ پایا (یُوحناؔ ۱:۴۷)۔
- «توما۔» یہ دیدیمس یعنی «تواَم» بھی کہلاتا تھا۔ عام طور پر اِسے «شکی توما» کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اُس کے شکوک نے مسیح کے بارے میں شاندار اِقرار کی راہ ہموار کی (یُوحناؔ ۲۰:۲۸)۔
- « متؔی۔» یہ سابق محصول لینے والا تھا۔ زیر نظر اِنجیل کا مُصنِفّ۔
- « حلفئی کا بیٹا یعقوب۔» اِس کے بارے میں مزید معلومات حاصل نہیں۔
- «تدی۔» یہ اُس کا لقب یا خاندانی نام تھا۔ اُس کو یعقوب کا بیٹا یہُوؔداہ بھی کہا گیا ہے (لُوقاؔ ۶:۱۶)۔ اُس کی صِرف ایک ہی بات کلام میں درَج ہے جو یُوحناؔ ۱۴:۲۲ میں ہے۔
- « شمعون قنانی۔» لُوقاؔ اُس کو زیلوتیس بھی کہتا ہے (لُوقاؔ ۶:۱۵)۔
- « یہُوؔداہ اِسکریوتی۔» اُس نے خُداوند کو دھوکے سے پکڑوایا تھا۔
عمر کے لحاظ سے شاگرد غالباً بیس اور تیس سال کے درمیان ہوں گے۔ وُہ زندگی کے مُختلفِ شعبوں سے تعلق رکھتے اور اوسط درَج ے کی لیاقت اور صلاحیت کے مالک تھے۔ اُن کی حقیقی عظمت یسؔوع کے ساتھ رفاقت تھی۔
ج۔ بنی اِسرائیل کے لئے مشن (۱۰:۵-۳۳)
۱۰:۵،۶ باب کے بقیہ حصے میں یسؔوع کی وُہ ہدایات درَج ہیں جو اُس نے «اِسرائیل کے گھرانے» میں منادی کے خاص دَورے کے سلسلے میں اپنے شاگردوں کو دیں۔ اِس واقعے کو بعد کے اُس واقعے کے ساتھ ہرگز نہ ملائیں جب یسؔوع نے ستّر شاگردوں کو بھیجا تھا (لُوقاؔ ۱۰:۱) اور نہ اِرشادِ اعظم (متؔی ۲۸:۱۹،۲۰) کے ساتھ منسلک کریں۔ یہ ایک عارضی مشن تھا، جِس کا خاص مقصد یہ اِعلان کرنا تھا کہ «آسمان کی بادشاہی» نزدیک آ گئی ہے۔ بعض اُصول تو خُدا کے لوگوں کے لئے ہر زمانے میں دائمی قدر اور اہمیّت کے حامل ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اُصولوں کو بعد میں خُداوند یسؔوع نے منسوخ کر دیا، جِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقصد ہی نہیں تھا کہ وُہ اصول مستقل ہوں (لُوقاؔ ۲۲:۳۵،۳۶)۔
شاگردوں کو پہلے راستہ بُتایا جاتا ہے یعنی اُن کو کہاں کہاں جانا ہو گا۔ اُن کو «غیر قوموں کی طرف» نہیں جانا تھا، نہ «سامریوں» کے پاس جانا تھا۔ سامری مخلوط نسل کے لوگ تھے۔ یہُودی اُن سے سخت نفرت کرتے تھے۔ اِس موقعے پر خدمت صِرف «اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں» تک محدود رکھی گئی تھی۔
۱۰:۷ اور پیغام یہ اعلان کرنا تھا کہ «آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔» اگر اِسرائیلی قوم اِس پیغام کو قبول کرنے سے اِنکار کرتی ہے تو اُن کے پاس کوئی عذر، کوئی بہانہ نہیں رہے گا۔ یہ بادشاہی بادشاہ کی شخصیت میں نزدیک آ گئی تھی۔ اِسرائیل کو فیصلہ کرنا تھا کہ اُسے قبول کر لے یا ردّ کر دے۔
۱۰:۸ اَب شاگردوں کو سند دی گئی جِس سے پیغام کی توثیق ہونا تھی۔ اِنہیں «بیماروں کو اچھا کرنا، مُردوں کو جِلانا، کوڑھیوں کو پاک صاف کرنا، بدروحوں کو نکالنا» تھا۔ یہُودی نشان طلب کرتے تھے (۱۔کرنتھیوں ۱:۲۲)۔ چنانچہ خُدا نے اپنی مہربانی سے اُن کو نشانات عطا کر دیئے۔
جہاں تک اُن کے معاوضے یعنی اُجرت کا تعلق ہے، خُداوند کے نمائندوں کو اپنی خدمات کے عوض کُچھ وصول نہیں کرنا تھا۔ اُن کو برکات بے قیمت ملی تھیں اور اِنہیں بے قیمت ہی دوسروں کو دینا تھیں۔
۱۰:۹،۱۰ اُن کو اپنے سفر کے لئے پیشگی «زادِ راہ» کا بَندوبَست کرنے کی اِجازت نہ تھی۔ آخر وُہ اِسرائیلی تھے اور اِسرائیلیوں میں منادی کر رہے تھے۔ اور یہُودی وں میں یہ اصول تسلیم شدہ تھا کہ مزدور اپنی خوراک کا حق دار ہے۔ اِس لئے اُن کو «سونا، چاندی اور پیسے، خوراک کی جھولی، دو دو کُرتے، جوتیاں اور لاٹھی» وغیرہ ساتھ رکھنے کی ضُرورتنہ تھی۔ غالباً یہاں مراد ہے فالتو جوتیاں اور فالتو لاٹھی۔ اگر اُن کے پاس پہلے ہی لاٹھی موجود تھی تو اُسے ساتھ لے جانے کی اِجازت تھی (مرقسؔ ۶:۸)۔ تصور یہ ہے کہ اُن کی روز کی ضروریات ہر روز پُوری ہوتی رہیں گی۔
۱۰:۱۱ رات کو قیام کے لئے وُہ کیا اِنتظام کریں گے؟ جب وُہ کِسی «شہر یا گائوں» میں داخل ہوں تو اُن کو کِسی «لائق» میزبان کے بارے میں دریافت کرنا تھا۔ یعنی ایسا شخص جو اُن کو مسیح کے شاگردوں کی حیثیت سے قبول کرے اور اُن کا پیغام سننے کو تیار ہو۔ ایسا میزبان مل جائے تو اُس شہر میں قیام کا عرصہ اُسی کے ہاں ٹھہرے رہیں۔ اور اگر کوئی بُہتر جگہ مل بھی جائے تو وُہاں سے نہ جائیں۔
۱۰:۱۲-۱۴ اگر کوئی «گھر» اُن کو قبول کرے تو اُن کا «سلام» اُس گھرانے کو پہنچے گا۔ (جِس لفظ کا ترجمہ «سلام» کیا گیا ہے اُس میں اِطمینان اور صُلح کا مفہُوم پایا جاتا ہے)۔ اِنہیں چاہئے کہ وُہ مہمان نوازی کے لئے شکرگزار ہوں، لیکن اگر کوئی گھر خُداوند کے ایلچیوں کو اپنے ہاں ٹھہرانے سے اِنکار کرے تو اُن پر فرض عائد نہیں ہوتا کہ اُن کے لئے «دُعائے خیر» کریں یعنی اُس خاندان کے لئے برکت نہ مانگیں۔ اِتنا ہی نہیں بلکہ وُہاں سے نکلتے وقت خُدا کی ناراضی کو ڈرامائی انداز میں ظاہر کریں۔ وُہ «اپنے پائوں کی گرد جھاڑ» دیں۔ جو مسیح کے شاگردوں کو ردّ کرتا ہے، وُہ درحقیقت مسیح کو ردّ کرتا ہے۔
۱۰:۱۵ یسؔوع نے خبردار کیا کہ اِس طرح ردّ کرنے کے نتیجے میں «عدالت کے دن» اُن پر غضب نازل ہو گا اور اُن کا حال «سدوم اور عمورہ» کے حال سے بھی بدتر ہو گا۔ اِس سے ثابُت ہوتا ہے کہ دوزخ میں سزائوں کے بھی درَج ات ہوں گے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بعض کا حال دوسروں «کی نسبُت … زیادہ برداشت کے لائق ہو گا۔»
۱۰:۱۶ کلام کے اِس حصے میں یسؔوع اُن بارہ کو صلاح مشورہ دیتا ہے کہ ایذا رسانی کی صورت میں تمہارا رویہ کیسا ہونا چاہئے۔ اُن کا حال ایسا ہو گا جیسا «بھیڑیوں کے درمیان بھیڑوں» کا ہوتا ہے۔ وُہ چاروں طرف سے ایسے خوں خوار آدمیوں سے گھرے ہوں گے جو اُن کو ختم کر دینے پر تُلے ہوں گے۔ اِس لئے ضروری ہے کہ وُہ «سانپوں کی مانند ہوشیار» رہیں۔ غیر ضروری خفگی پیدا کرنے سے احتراز کریں۔ اور خیال رکھیں کہ ناواجب سمجھوتا کرنے کا دھوکا نہ کھا جائیں۔ مگر اُن کو «کبوتروں کی مانند بھولے» بھی رہنا ہو گا یعنی کِسی کو نقصان نہ پہنچائیں کیونکہ اُن کا راست کردار اور خالص ایمان اُن کی ڈھال ہو گا۔
۱۰:۱۷ اُن کو ایسے یہُودی وں سے بھی اپنی حفاظت کرنی ہو گی جو ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اُن کو «عدالتوں کے حوالہ کریں گے۔ اور اپنے عبادت خانوں میں … کوڑے ماریں گے۔» اُن پر سرکاری اور مذہبی دونوں طرف سے حملے ہوں گے۔
۱۰:۱۸ مسیح کی خاطر لوگ اُن کو «حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے» پیش کریں گے۔ لیکن خُدا کا معاملہ اِنسان کی بُرائی پر غالب ہو گا۔ جب شاگردوں کے لئے بظاہر شکست کی گھڑی ہو گی، اُسی میں اُن کو بے مثال اعزاز اور موقع ملے گا کہ حاکموں اور «غیر قوموں» کے سامنے گواہی دیں۔ خُدا ساری باتوں سے بھلائی پیدا کرے گا۔ مسیحیت نے سرکاری افسران اور مقتدر افراد کے ہاتھوں بُہت دُکھ اور اذیتیں اُٹھائی ہیں تو بھی حکمرانوں کے لئے کوئی بھی عقیدہ کبھی ایسا مددگار ثابُت نہیں ہُوا جتنا کہ مسیحی عقیدہ۔
۱۰:۱۹،۲۰ اُن کو مشق کرنے کی ضُرورتنہیں کہ پیشی یا مقدمے کے وقت ہمیں کیا کہنا ہے۔ وقت آنے پر خُدا «باپ کا روح» اُن کو الٰہی حکمت بخشے گا کہ اِس طرح جواب دیں کہ مسیح کو جلال ملے۔ یوں الزام لگانے والے منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ آیت ۱۹ کی تشریح کرتے ہوئے دو اِنتہائوں سے بچنا چاہئے۔ اوّل، ہم بڑی آسانی سے فرض کر لیتے ہیں کہ مسیحی خادموں کو وعظ تیار کرنے کی ضُرورتنہیں ہوتی۔ دوم، یہ نظریہ کہ یہ آیت آج کے زمانے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ یہ بڑی معقول بات ہے کہ مبشر دُعا کے ساتھ خُدا کے حضور ٹھہرے اور خاص موقعے کے لئے موزُوں پیغام حاصل کرے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نازُک اور بحرانی وقت میں ایمان دار خُدا کے وعدوں کا دعوے کے ساتھ سہارا لے سکتے ہیں کہ وُہ ہمیں بولنے کے لئے اپنی حکمت دے گا۔ وُہ اپنے باپ کے رُوح کی ہدایت سے بولتے بلکہ اُس کے نمائندے بن جاتے ہیں۔
۱۰:۲۱ یسؔوع نے اپنے شاگردوں کو پہلے ہی خبردار کر دیا کہ تمہیں غداری اور دغابازی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ «بھائی کو بھائی قتل کے لئے حوالہ کرے گا اور بیٹے کو باپ۔» اولاد اپنے والدین کے خلاف مخبری کرے گی اور اِنہیں مروا ڈالے گی۔
جے۔ سی۔ میکالے (Macaulay)کیا خوب لِکھتا ہے کہ:
«خادم کو اپنے دشمن کے ہاتھوں ایسے بُرے سلوک کی توقع نہیں ہوتی جیسا خود خُداوند کو برداشت کرنا پڑا۔ اگر دُنیا یسؔوع کو صلیب سے بُہتر کوئی چیز پیش نہیں کر سکتی تھی تو اُس کے پیروکاروں کو شاہی بگھی پیش نہیں کرے گی۔ اگر اُس کے لئے صِرف کانٹے تھے تو ہمارے لئے ہار نہیں ہوں گے۔ ہمیں صِرف اِس بات کا دھیان رکھنا ہے کہ ہمارے لئے دُنیا کی نفرت واقعی «مسیح کی خاطر» ہو۔ ہمارے اپنے اندر کوئی قابلِ نفرت بات نہ ہو، کوئی ایسی بات نہ ہو جو ہمارے مہربان اور پُرفضل خُداوند کے لائق نہ ہو۔»
۱۰:۲۲،۲۳«سب لوگ تم سے عداوت رکھیں گے مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وُہی نجات پائے گا۔» اگر صِرف اِتنی ہی بات کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ نجات پانے کا اِنحصار صِرف اِستقلال اور ثابُت قدمی سے برداشت کرنے پر ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ مراد نہیں کیونکہ پورے کلامِ پاک میں بیان ہو رہا ہے کہ نجات ایمان کے وسیلے سے خُدا کی طرف سے بخشش ہے (اِفسیوں ۲:۸،۹)۔ اِس آیت کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جتنے مسیح کے وفادار رہیں گے اُن کو جِسمانی موت سے بچا لیا جائے گا۔ اِس سے پچھلی آیت میں کُچھ وفادار شاگردوں کی موت کی پیش گوئی موجود ہے۔ اِس آیت کی سیدھی سادی تشریح یہ ہے کہ اذیت برداشت کرنا نجات یافتہ افراد کا نمایاں نشان ہے۔ جو لوگ ایذارسانی کے دَور میں آخر تک قائم رہتے ہیں، وُہ اپنے اِستقلال سے ثابُت کرتے ہیں کہ ہم سچے ایمان دار ہیں۔ متؔی ۲۴:۱۳ میں بھی یہی بیان پایا جاتا ہے۔ وُہاں اِس کا اشارہ بڑی مصیبُت کے دوران یہُودی وں کے بقیہ کی طرف ہے جو خُداوند یسؔوع مسیح کے ساتھ اپنی وفاداری پر کِسی قِسم کا سمجھوتا کرنے سے اِنکار کرنے پر قائم رہیں گے۔ اِس «برداشت» سے ظاہر ہوتا ہے کہ وُہ سچے شاگرد ہیں۔
مستقبل کے واقعات کا ذِکر کرتے ہوئے خُدا کا رُوح کئی دفعہ مستقبل قریب کی بات کرتے کرتے مستقبل بعید کی طرف آتا ہے۔ ایسی صورت میں نبوت کا ایک اِطلاق فوری اور جُزوی ہوتا ہے اور دوسرا اُس کی کامِل اور دُور کی تکمیل پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر مسیح کی پہلی اور دُوسری آمد دونوں کو ایک حوالے میں بغیر کِسی وضاحت کے اِکٹھا کر دیا جاتا ہے (یسَعیاہ ۵۲:۱۴،۱۵؛ میکاہ ۵:۲-۴)۔ آیات ۲۲ اور ۲۳ میں خُداوند یسؔوع اِسی قِسم کی نبوت کرتا ہے۔ اُس کا اِطلاق مستقبل قریب سے مستقبل بعید کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ وُہ بارہ شاگردوں کو خبردار کرتا ہے کہ میری خاطر تمہیں کیسی کیسی تکالیف اور مصائب برداشت کرنی ہوں گی۔ پھر یہ شاگرد اُسے اپنے اُن جاں نثار یہُودی پیروکاروں کی مثیل نظر آتے ہیں جن کو بڑی مصیبُت کا سامنا کرنا ہو گا۔ وُہ پہلے مسیحیوں کی مصیبُتوں کا بیان کرتے کرتے اُن ایمان داروں کا ذِکر بھی کرتا ہے جو اُس کی دُوسری آمد سے پہلے دُنیا میں موجود ہوں گے۔
آیت ۲۳ کا پہلا حصہ بارہ شاگردوں کی طرف اشارہ کرتا ہے «جب تم کو ایک شہر میں ستائیں تو دوسرے کو بھاگ جائو۔» اُن پر فرض نہیں تھا کہ اپنے دشمنوں کے جور و جبر کے ماتحت رہیں۔ اگر بچنے یا فرار ہونے کا باعزت راستہ ملے تو اُسے اِختیار کریں۔ خطرے سے بھاگنا غلطی نہیں، فرض سے بھاگنا غلطی ہوتا ہے۔
آیت ۲۳ کا دوسرا حصہ ہمیں اُن دنوں تک لے جاتا ہے جو مسیح کے بادشاہی کرنے کے لئے آنے (دُوسری آمد) سے پہلے آئیں گے «تم اِسرائیل کے سب شہروں میں نہ پھر چکو گے کہ ابنِ آدم آ جائے گا۔» اِن الفاظ کا اِشارہ اُن بارہ شاگردوں کے مشن کی طرف نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اُس وقت تو ابنِ آدم آ چکا تھا۔ بائبل مُقدس کے بعض عِلما سمجھتے ہیں کہ یہ اِشارہ ۷۰ء میں یروشلؔیم کی تباہی کی طرف ہے۔ لیکن قابلِ تصور نہیں کہ اِس قتلِ عام کو «ابنِ آدم کی آمد» کہا جا سکتا ہے۔ اِس کا اطلاق آمدثانی پر کرنا زیادہ معقول معلوم ہوتا ہے۔ «بڑی مصیبُت » کے دنوں میں مسیح کے وفادار یہُودی بھائی بادشاہی کی خوشخبری لے کر ہر جگہ جائیں گے۔ اُن کا پیچھا کیا جائے گا اور اُن کو ہر طرح سے ستایا جائے گا۔ وُہ اِسرائیل کے سارے شہروں میں پھر نہیں چکیِں گے کہ خُداوند یسؔوع اپنے دشمنوں کی عدالت کرنے اور اَپنی بادشاہی قائم کرنے کے لئے دوبارہ آ جائے گا۔
آیت ۲۳ اور متؔی ۲۴:۱۴ میں بظاہر ایک تضاد نظر آتا ہے۔ یہاں بیان ہُوا ہے کہ «تم اِسرائیل کے سب شہروں میں نہ پھر چکو گے کہ ابنِ آدم آ جائے گا» جب کہ وُہاں لِکھا ہے کہ «بادشاہی کی اِس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہو گی … تب خاتمہ ہو گا۔» مگر حقیقتاً کوئی تضاد نہیں۔ خوشخبری کی منادی ساری قوموں میں کی جائے گی مگر ضروری نہیں کہ یہ پیغام فرداً فرداً ہر شخص کو دیا جائے۔ تاہم اِس پیغام کو بُہت سخت مخالفت کا سامنا ہو گا۔ ایلچیوں کو نہایت سخت ایذائیں دی جائیں گی اور اِسرائیل میں اُن کی راہ میں قدم قدم پر رُکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔ اِس طرح اِسرائیل کے تمام شہروں تک نہیں پہنچ پائیں گے۔
۱۰:۲۴،۲۵ خُداوند کے شاگرد حیران ہوئے ہوں گے کہ ہمیں بدسلوکی برداشت کرنا کیوں ضروری ہے؟ اگر یسؔوع مسیحِ مَوعُود ہے تو اُس کے پیروکاروں کو بادشاہی کرنے کے بجائے مصیبُتیں کیوں اُٹھانی ہوں گی؟ آیت ۲۴ اور ۲۵ میں یسؔوع اِس اُلجھن کو بھانپ لیتا اور اِس کا جواب دینے کے لئے اِنہیں یاد دِل اتا ہے کہ تمہارا تعلق میرے ساتھ ہے۔ تم شاگرد ہو، مَیں اُستاد ہوں۔ تم نوکر ہو، مَیں مالک ہوں۔ تم گھرانے کے ممبران ہو، مَیں گھرانے کا مالک ہوں۔ شاگردیت کا مطلب ہے اُستاد کے پیچھے چلنا، نہ کہ اُس سے اعلیٰ ہونا۔ نوکر کو توقع نہیں ہو سکتی کہ میرے ساتھ مالک کی نسبُت بُہتر سلوک کیا جائے گا۔ اگر لوگ معزز اور محترم مالک کو «بعل زبول» («مکھیوں کا آقا»۔ ایک عقرونی دیوتا جِس کا نام یہُودی لوگ شیطان کے لئے استعمال کیا کرتے تھے) کہتے ہیں تو وُہ «گھرانے» کے لوگوں کے لئے اِس سے بھی بے عزتی کے الفاظ استعمال کریں گے۔ شاگردیت کا مطلب ہے ردّ کئے جانے میں مالک کا شریک ہونا۔
۱۰:۲۶،۲۷ خُداوند نے اپنے پیروکاروں کو تین مُرتبہ کہا کہ «نہ ڈرو» (آیات ۲۶،۲۸،۳۱)۔ اوّل، اپنے دشمنوں کی بظاہر فتح سے «نہ ڈرو»۔ وُہ دن آتا ہے کہ خُداوند بڑے جلال کے ساتھ اپنے معاملے کی صداقت کو ثابُت کرے گا۔ اب تک تو اِنجیل کی خوشخبری نسبُتاً «ڈھکی» ہوئی اور اُس کی تعلیمات نسبُتاً «چھپی» ہوئی تھیں۔ لیکن بُہت جلد وُہ دن آنے والے تھے کہ اُس کے شاگرد مسیحی پیغام کو بڑی دِل یری اور جرأت کے ساتھ علانیہ طور پر پیش کریں گے، حالانکہ فی الوقت اُن کو یہ پیغام «کان میں» یعنی علیٰحدگی میں سنایا گیا ہے۔
۱۰:۲۸ دوم، اِنسانوں کے قاتلانہ غیض و غضب سے «نہ ڈرو»۔ اِنسان بُرے سے بُرا سلوک یہ کر سکتا ہے کہ «بدن کو قتل» کر دے۔ جِسمانی موت مسیحی کے لئے اِنتہائی المیہ نہیں ہوتی۔ مرنے سے مراد ہے مسیح کے پاس اور ساتھ ہونا۔ اِس لئے موت بُہت بُہتر بات ہے۔ اِس طرح گُناہ ، غم، رنج، بیماری، دُکھ اور موت سے رہائی مل جاتی اور ایمان دار ابدی جلال میں اُٹھا لیا جاتا ہے۔ لہٰذا اِنسان جو بُرے سے بُرا سلوک کر سکتا ہے، حقیقی معنوں میں وُہ سب سے اچھی بات ہے جو خُدا کے فرزند کو پیش آ سکتی ہے۔
شاگردوں کو اِنسانوں سے نہیں ڈرنا چاہئے بلکہ اُن کے دِل وں میں اُس ہستی کے لئے عقیدت بھرا ڈر ہونا چاہئے «جو رُوح اور بدن دونوں کو جہنم میں ہلاک کر سکتا ہے۔» یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ خُدا اور مسیح اور اُمید سے ابدی جدائی __ روحانی موت وُہ نقصان ہے جِس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، جِس کو ناپا تولا نہیں جا سکتا۔ اِس حشر اور انجام سے ہر قیمت پر بچنا چاہئے۔
آیت ۲۸ میں یسؔوع کے الفاظ سے خُدا ترس جان ناکس کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ اُس کی لوحِ مزار پر یہ الفاظ رقم ہیں کہ «یہاں وُہ شخص پڑا ہے جو خُدا سے اِتنا ڈرتا تھا کہ کِسی اِنسان کے چہرے سے کبھی خوف زدہ نہیں ہوتا تھا۔»
۱۰:۲۹ سخت سے سخت مصیبُتوں اور آزمائشوں میں بھی شاگردوں کو بھروسا اور اِعتماد ہونا چاہئے کہ خُدا ہماری فِکر اور نگہداشت کرتا ہے۔ خُداوند یسؔوع اِس حقیقت کو سمجھانے کے لئے ہر جگہ پائی جانے والی چڑیا کی مثال دیتا ہے۔ یہ معمولی پرندے «پیسے کی دو» کے حساب سے بکتے تھے۔ لیکن «اُن میں سے ایک بھی تمہارے باپ کی مرضی کے بغیر» یعنی اُس کو عِلم ہوئے بغیر یا اُس کی حضوری کے بغیر مر نہیں سکتی۔ کِسی نے کیا خوب کہا ہے کہ «خُدا ایک ایک چڑیا کے جنازے پر حاضر ہوتا ہے۔»
۱۰:۳۰،۳۱ وُہی خُدا جو ایک ننھی سی چڑیا میں ذاتی دِل چسپی لیتا ہے، وُہ اپنے ایک ایک فرزند کے «سر کے بالوں» کا بھی حساب رکھتا ہے۔ ایک بال تو ایک چڑیا کے مُقابلے میں بے اِنتہا کم قدر و قیمت رکھتا ہے۔ اِس سے ثابُت ہوتا ہے کہ خُدا کی نظر میں اپنے لوگوں کی «قدر تو بُہت سی چڑیوں سے زیادہ ہے۔» اِس لئے وُہ کیوں ڈریں؟
۱۰:۳۲ مُندرَج ہ بالا ملاحظات کی بِنا پر مسیح کے شاگرد کے لئے اِس سے زیادہ معقول بات کیا ہو سکتی ہے کہ بے خوفی اور جرأت کے ساتھ «آدمیوں کے سامنے اُس کا اِقرار کرے۔» اِس سلسلے میں اُس کو جِس بے عزتی یا لعن طعن کا سامنا کرنا پڑے گا، خُداوند یسؔوع اُس کا بُہت بڑا اَجر دے گا کہ «اپنے باپ کے سامنے جو آسمان پر ہے اُس کا اِقرار کرے گا۔» اِس دُنیا میں اِقرار کرنے کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو اُس کے لئے مخصوص کریں کہ وُہ خُداوند اور نجات دہندہ ہے اور اِس کے نتیجے میں ہماری زندگی اور لبوں سے اُس کی گواہی ہو۔ جہاں تک اُن بارہ شاگردوں کا ذِکر ہے، اُن میں سے اکثر نے شہادت کی موت کے وسیلے سے اُس کی گواہی کی اِنتہا کر دی۔
۱۰:۳۳ اِس دُنیا میں مسیح کا اِنکار کرنے کا بدِل ہ اِس صورت میں ملے گا کہ وُہ بھی «اپنے باپ کے سامنے جو آسمان پر ہے اُس کا اِنکار کرے گا۔» مسیح کا اِنکار کرنے کا مطلب ہے اپنی زندگی پر اُس کے حق اور دعوے کو تسلیم نہ کرنا۔ جن لوگوں کی زندگیاں کہتی ہیں کہ «میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی»، آخر وُہ اُس سے یہی سنیں گے کہ «میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی۔» خُداوند اُس اِنکار کی بات نہیں کر رہا جو دبائو میں آ کر عارضی طور پر کیا جاتا ہے، جیسا کہ پَطرسؔ نے کیا تھا، بلکہ وُہ اِنکار جو مسلسل اور حتمی ہوتا ہے اور جِس کا اِنسان عادی ہو چکا ہوتا ہے۔
د۔ صُلح نہیں بلکہ تلوار (۱۰:۳۴-۳۹)
۱۰:۳۴ مسیح خُداوند کے الفاظ عِلم بیان کی ایک صنعت یا اِستعارہ ہیں۔ اِن سے مراد یہ ہے کہ میری آمد کے دیدنی نتائج بظاہر میری آمد کا مقصد معلوم ہوتے ہیں۔ وُہ کہتا ہے کہ « مَیں زمین پر … صُلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں۔» حقیقت میں تو وُہ صُلح کرانے ہی آیا تھا (اِفسیوں ۲:۱۴-۱۷)۔ وُہ اِس لئے آیا کہ دُنیا اُس کے وسیلے سے نجات پائے (یُوحناؔ ۳:۱۷)۔
۱۰:۳۵-۳۷ لیکن یہاں نکتہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص اُس کا پیرو بنتا ہے اُس کا خاندان اُس کی جان کا دشمن ہو جاتا ہے۔ باپ ایمان لاتا ہے تو اُس کا بے ایمان بیٹا اُس کا دشمن ہو جاتا ہے۔ ماں مسیحی ہوتی ہے تو اُس کی بے ایمان بیٹی اُس سے عداوت رکھنے لگتی ہے۔ نئی پیدائش کا تجربہ حاصل کرنے والی ساس اپنی بہو کی نفرت کا نشانہ بن جاتی ہے کیونکہ بہو کو نئی پیدائش کا تجربہ نہیں۔ چنانچہ اکثر مسیحی اور خاندان کے درمیان اِنتخاب کرنا پڑتا ہے۔ کِسی بھی طبعی بَندھن کو اِجازت نہیں دی جا سکتی کہ مسیح کے ساتھ قطعی وفاداری سے کِسی شاگرد کو ہٹائے۔ ضرور ہے کہ مسیح کو باپ، ماں، بیٹے یا بیٹی پر فوقیت دی جائے۔ شاگردیت کی ایک قیمت یہ ہے کہ دبائو، تنائو اور اپنے خاندان سے علیٰحدگی کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ دشمنی اکثر زندگی کے دوسرے شعبوں میں پیش آنے والی عداوت سے زیادہ تلخ ہوتی ہے۔
۱۰:۳۸ لیکن ایک اَور چیز بھی ہے جو خاندانی بَندھنوں سے بھی بڑھ کر ہے اور زندگی میں مسیح کے جائز مقام کو چھین لیتی ہے، اور وُہ ہے اپنی زندگی سے محبُت اور پیار۔ اِسی لئے یسؔوع نے اِس بات کا اِضافہ کیا کہ «جو کوئی اپنی صلیب نہ اُٹھائے اور میرے پیچھے نہ چلے وُہ میرے لائق نہیں۔» بے شک صلیب مجرم کو سزائے موت دینے کا ایک طریقہ تھی۔ صلیب اُٹھا کر مسیح کے پیچھے ہو لینے کا مطلب ہے، اُس کے لئے ایسی جاں نثاری کی زندگی بَسر کرنا کہ موت کو بھی خاطر میں نہ لانا۔ تمام شاگردوں سے مطالبہ نہیں ہوتا کہ خُداوند کے لئے جان بھی قربان کر دیں، لیکن سبھوں سے یہ مطالبہ ضرور کیا جاتا ہے کہ اُس کو ایسی قدر و منزلت دیں اور اِتنا قیمتؔی اور اَنمول سمجھیں کہ اُس کے مُقابلے میں اپنی جان بے حقیقت اور ناچیز گردانیں۔
۱۰:۳۹ مسیح سے محبُت اپنی ذات سے محبُت پر حاوی ہونی چاہئے۔ «جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے اُسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوتا ہے اُسے بچائے گا۔» یہ آزمائش ہر وقت موجود رہتی ہے کہ اِنسان اپنی جان سے چمٹا رہے اور دُکھ درد اور کامِل جاں نثاری کی زندگی سے بچتا رہے۔ لیکن یہی زندگی کا سب سے بڑا نقصان ہے کہ اِنسان نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے پیچھے پڑا رہے۔ اور زندگی کا بُہترین مصِرف یہ ہے کہ اُسے مسیح کی خدمت میں صِرف کیا جائے۔ جو شخص مسیح کی جاں نثاری میں «اپنی جان کھوتا ہے» وُہ اُسے بھر پور انداز میں پا لے گا۔
ہ۔ ٹھنڈے پانی کا ایک پیالہ (۱۰:۴۰-۴۲)
۱۰:۴۰ سبھی تو شاگردوں کے پیغام کو قبول کرنے سے اِنکار نہیں کریں گے۔ بعض لوگ اُن کو مَوعُودہ مسیح کے نمائندہ مانیں گے اور قبول کریں گے۔ شاگرد ایسی مہربانی کا اَجر دینے کی محدود اہلیت رکھتے ہوں گے، لیکن اِنہیں پریشان ہونے کی ضُرورتنہیں۔ اُن کے لئے جو کُچھ بھی کیا جائے گا ایسے سمجھا جائے گا جیسے خود خُداوند کے ساتھ کیا گیا ہے اور وُہ اُس کے مطابق اجر دے گا۔
مسیح کے شاگرد کو قبول کرنا، خود مسیح کو قبول کرنے کے برابر ہے اور مسیح کو قبول کرنا اُس کے باپ کو جِس نے اُسے بھیجا ہے قبول کرنے کے برابر ہے، اِس لئے کہ بھیجا ہُوا بھیجنے والے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایلچی اپنے بادشاہ کی جگہ کھڑا ہوتا ہے۔ اِس لئے اُس کو قبول کرنا اُسے مقرر کرنے والے بادشاہ کو قبول کرنا اور اُس کے ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات کا لطف اُٹھانا ہے۔
۱۰:۴۱« جو نبی کے نام سے نبی کو قبول کرتا ہے وُہ نبی کا اَجر پائے گا۔» اے۔ ٹی۔ پیئرسن (Pierson) اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے:
«یہُودی نبی کے اَجر کو سب سے بڑا اَجر گردانتے تھے کیونکہ بادشاہ خُداوند کے نام سے حکومت کرتے اور کاہن خُداوند کے نام سے خدمات سرانجام دیتے تھے، مگر نبی خُدا کی طرف سے آتے اور بادشاہ اور کاہن دونوں کو ہدایت دیتے تھے۔ مسیح کہتا ہے کہ اگر تم صِرف اِتنا ہی کرو کہ نبی کو نبی کی حیثیت سے قبول کرو اور اُس کے کام میں اُس کی مدد کرو تو تم کو بھی وُہی اَجر ملے گا جو نبی کو ملتا ہے۔ اگر تم واعظ پر تنقید یا نکتہ چینی کرنے کا اِرادہ رکھتے ہو تو اِس بات کو ذہن میں رکھو! اگر تم خُدا کے نام میں کلام کرنے میں اُس کی مدد کرو گے، اُس کی حوصلہ افزائی کرو گے تو اُس کے اَجر میں سے حصہ پائو گے۔ لیکن اگر اُس کی ذمہ داری پُوری کرنے میں رُکاوٹ کا باعث بنو گے تو اپنا اَجر کھو دو گے۔ جو شخص نیکی اور بھلائی کرنے کی کوشِش میں ہے اُس کی مدد کرنا بڑی بات ہے۔ تم کو اُس کے لباس، اُس کے رویے، اُس کے عادات و اطوار یا اُس کی آواز پر نہیں جانا چاہئے بلکہ اِن چیزوں سے آگے جا کر اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے کہ کیا خُدا کا یہ پیغام میرے لئے ہے؟ کیا یہ آدمی میری رُوح کے لئے خُدا کا نبی ہے؟ اگر ہے تو اُسے قبول کرو۔ اُس کے کام اور کلام کی بڑھ چڑھ کر تائید کرو۔ ایسی صورت میں تم اُس کے اَجر میں حصہ دار بن جائو گے۔»
«جو راست باز کے نام سے راست باز کو قبول کرتا ہے، وُہ راست باز کا اَجر پائے گا۔» جو لوگ دوسروں کو اُن کی جِسمانی دِل کشی یا مادی خوش حالی کی ترازُو میں تولتے ہیں، وُہ یہ دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ حقیقی اخلاقی لیاقت اور قدر و قیمت عموماً غریبانہ لباس میں چھپی ہوتی ہے۔ جِس انداز سے کوئی شخص نہایت معمولی اور سادہ شاگرد سے برتائو کرتا ہے گویا وُہ خود خُداوند سے وُہی برتائو کرتا ہے۔
۱۰:۴۲ مسیح کے پیرو پر کوئی مہربانی کر، اِس پر ضرور دھیان دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ «صِرف ایک پیالہ ٹھنڈا پانی» بھی بڑا اَجر پائے گا، بشرطیکہ کِسی «شاگرد» کو اِس وجہ سے دیا جائے کہ وُہ خُداوند کے پیچھے چلتا ہے۔
یوں خُداوند اُن بارہ شاگردوں کو شاہی عزت و وقار اور مُرتبہ دے کر ایک خاص ذمہ داری اُن کے سپرد کرتا ہے۔ یہ بات سچ اور برحق ہے کہ لوگ اُن کو ستائیں گے، ردّ کریں گے، گرفتار کریں گے، اُن پر مقدمے چلائیں گے، قید میں ڈالیں گے بلکہ شاید مروا بھی ڈالیں گے۔ لیکن وُہ کبھی نہ بھولیں گے کہ ہم بادشاہ کے نمائندے ہیں اور ہمارا جلالی اِعزاز ہے کہ اُس کی خاطر کام اور کلام کریں۔
کِتابِ مُقدّس
۱ ۔خبردار اپنے راست بازی کے کام آدمِیوں کے سامنے دِکھانے کے لِئے نہ کرو۔ نہیں تو تُمہارے باپ کے پاس جو آسمان پر ہے تُمہارے لِئے کُچھ اجر نہیں ہے۔
۲۔ پس جب تُو خَیرات کرے تو اپنے آگے نرسِنگا نہ بجوا جَیسا رِیاکار عِبادت خانوں اور کُوچوں میں کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کی بڑائی کریں۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے۔
۳۔ بلکہ جب تُو خَیرات کرے تو جو تیرا دہنا ہاتھ کرتا ہے اُسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے۔
۴۔ تاکہ تیری خَیرات پوشِیدہ رہے۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشِیدگی میں دیکھتا ہے تُجھے بدلہ دے گا۔
۵۔ اور جب تُم دُعا کرو تو رِیاکاروں کی مانِند نہ بنو کیونکہ وہ عِبادت خانوں میں اور بازاروں کے موڑوں پر کھڑے ہو کر دُعا کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو دیکھیں۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے۔
۶۔ بلکہ جب تُو دُعا کرے تو اپنی کوٹھری میں جا اور دروازہ بند کر کے اپنے باپ سے جو پوشِیدگی میں ہے دُعا کر۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشِیدگی میں دیکھتا ہے تُجھے بدلہ دے گا۔
۷۔ اور دُعا کرتے وقت غَیر قَوموں کے لوگوں کی طرح بَک بَک نہ کرو کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بُہت بولنے کے سبب سے ہماری سُنی جائے گی۔
۸۔ پس اُن کی مانِند نہ بنو کیونکہ تُمہارا باپ تُمہارے مانگنے سے پہلے ہی جانتا ہے کہ تُم کِن کِن چِیزوں کے مُحتاج ہو۔
۹۔ پس تُم اِس طرح دُعا کِیا کرو کہ اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔
۱۰۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جَیسی آسمان پر پُوری ہوتی ہے زمِین پر بھی ہو۔
۱۱۔ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔
۱۲۔ اور جِس طرح ہم نے اپنے قرض داروں کو مُعاف کِیا ہے تُو بھی ہمارے قرض ہمیں مُعاف کر۔
۱۳۔ اور ہمیں آزمایش میں نہ لا بلکہ بُرائی سے بچا (کیونکہ بادشاہی اور قُدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔ آمِین)۔
۱۴ ۔اِس لِئے کہ اگر تُم آدمِیوں کے قصُور مُعاف کرو گے تو تُمہارا آسمانی باپ بھی تُم کو مُعاف کرے گا۔
۱۵۔ اور اگر تُم آدمِیوں کے قصُور مُعاف نہ کرو گے تو تُمہارا باپ بھی تُمہارے قصُور مُعاف نہ کرے گا۔
۱۶ ۔اور جب تُم روزہ رکھّو تو رِیاکاروں کی طرح اپنی صُورت اُداس نہ بناؤ کیونکہ وہ اپنا مُنہ بِگاڑتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو روزہ دار جانیں۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے۔
۱۷ ۔بلکہ جب تُو روزہ رکھّے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور مُنہ دھو۔
۱۸۔ تاکہ آدمی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشِیدگی میں ہے تُجھے روزہ دار جانے۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشِیدگی میں دیکھتا ہے تُجھے بدلہ دے گا۔
۱۹۔ اپنے واسطے زمِین پر مال جمع نہ کرو جہاں کِیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔
۲۰۔ بلکہ اپنے لِئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کِیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔
۲۱۔ کیونکہ جہاں تیرا مال ہے وہیں تیرا دِل بھی لگا رہے گا۔
۲۲۔ بدن کا چراغ آنکھ ہے۔ پس اگر تیری آنکھ درُست ہو تو تیرا سارا بدن رَوشن ہو گا۔
۲۳۔ اور اگر تیری آنکھ خراب ہو تو تیرا سارا بدن تارِیک ہو گا۔ پس اگر وہ رَوشنی جو تُجھ میں ہے تارِیکی ہو تو تارِیکی کَیسی بڑی ہو گی!
۲۴۔ کوئی آدمی دو مالِکوں کی خِدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھّے گا اور دُوسرے سے مُحبّت۔ یا ایک سے مِلا رہے گا اور دُوسرے کو ناچِیز جانے گا۔ تُم خُدا اور دَولت دونوں کی خِدمت نہیں کر سکتے۔
۲۵۔ اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اپنی جان کی فِکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پِئیں گے؟ اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے؟ کیا جان خُوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟
۲۶۔ ہوا کے پرِندوں کو دیکھو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔ نہ کوٹِھیوں میں جمع کرتے ہیں تَو بھی تُمہارا آسمانی باپ اُن کو کِھلاتا ہے۔ کیا تُم اُن سے زِیادہ قدر نہیں رکھتے؟
۲۷۔ تُم میں اَیسا کَون ہے جو فِکر کر کے اپنی عُمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟
۲۸۔ اور پوشاک کے لِئے کیوں فِکر کرتے ہو؟ جنگلی سوسن کے درختوں کو غَور سے دیکھو کہ وہ کِس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ مِحنت کرتے نہ کاتتے ہیں۔
۲۹۔ تَو بھی مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ سُلیماؔن بھی باوُجُود اپنی ساری شان و شوکت کے اُن میں سے کِسی کی مانِند مُلبّس نہ تھا۔
۳۰۔ پس جب خُدا مَیدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنُور میں جھونکی جائے گی اَیسی پوشاک پہناتا ہے تو اَے کم اِعتقادو تُم کو کیوں نہ پہنائے گا؟
۳۱ ۔اِس لِئے فِکرمند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پِئیں گے یا کیا پہنیں گے؟
۳۲۔ کیونکہ اِن سب چِیزوں کی تلاش میں غَیر قَومیں رہتی ہیں اور تُمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تُم اِن سب چِیزوں کے مُحتاج ہو۔
۳۳۔ بلکہ تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش کرو تو یہ سب چِیزیں بھی تُم کو مِل جائیں گی۔
۳۴۔ پس کل کے لِئے فِکر نہ کرو کیونکہ کل کا دِن اپنے لِئے آپ فِکر کر لے گا۔ آج کے لِئے آج ہی کا دُکھ کافی ہے۔