۳۔ مسیح ِ مَوعُود کی خدمت کے لئے تیاری اور خدمت کا آغاز (ابواب ۳،۴)
الف۔ یُوحناؔ بپتسمہ دینے والا راہ تیار کرتا ہے (۳:۱-۱۲)
باب ۲ اور ۳ کے درمیان اٹھائیس یا اُنتیس برس کا وقفہ ہے۔ اِس وقفے کے واقعات کے بارے میں متؔی کُچھ نہیں کہتا۔ اِس عرصے کے دوران یسؔوع ناصرت میں تھا اور آنے والے کام کی تیاری کر رہا تھا۔ اِن سالوں کے دوران اُس نے کوئی مُعجزہ نہ کیا، لیکن خُدا کی نظر میں کامِل طور پر مقبول رہا (متؔی ۳:۱۷)۔ اِس باب کے ساتھ ہم یسؔوع کی خدمت کے آغاز پر پہنچتے ہیں۔
۳:۱،۲ یُوحناؔ بپتسمہ دینے والا اپنے رِشتے کے بھائی یسؔوع سے چھے ماہ بڑا تھا (لُوقاؔ ۱:۲۶،۳۶)۔ اُس نے اِسرائیل کے بادشاہ کے نقیب کی حیثیت سے تاریخ کی اسٹیج پر قدم رکھا۔ اُس کی غیر معمولی خدمت کا میدان «یہُودی ہ کا بیابان» تھا یعنی یروشلؔیم سے دریائے یردن تک پھیلا ہُوا خشک اور بنجر علاقہ۔ یُوحناؔ کا پیغام یہ تھا کہ «توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔» بادشاہ بُہت جلد ظاہر ہونے کو ہے۔ لیکن وُہ اُن لوگوں پر حکومت نہیں کر سکتا، نہ کرنا چاہتا ہے جو اپنے گُناہ وں سے چمٹے رہتے ہیں۔ ضرور ہے کہ وُہ اپنا رُخ بدِل یں، اپنے گُناہ وں کا اِقرار کر کے اِنہیں ترک کریں۔ خُدا اُن کو تاریکی کی بادشاہی سے «آسمان کی بادشاہی» میں بلا رہا ہے۔
آسمان کی بادشاہی
آیت دو میں پہلی دفعہ «آسمان کی بادشاہی» کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس اِنجیل میں اِس ترکیب کو بُتیس دفعہ استعمال کیا گیا ہے۔ متؔی کی اِنجیل کو دُرست طور پر سمجھنے کے لئے اِس تصور کا سمجھنا از حد ضروری ہے۔ اِس لئے مناسب اور موزوں ہے کہ یہاں اِس اِصطلاح کی وضاحت کی جائے۔
آسمان کی بادشاہی وُہ علاقہ ہے جِس میں خُدا کی حکمرانی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ لفظ «آسمان» خُدا کو ظاہر کرتا ہے۔ اِس کا ثبوت دانی ایل ۴:۲۵ سے ملتا ہے جہاں دانی ایل کہتا ہے کہ «حق تعالیٰ اِنسان کی مملکت میں حکمرانی کرتا ہے۔» اگلی آیت میں وُہ کہتا ہے کہ «بادشاہی کا اِقتدار آسمان کی طرف سے ہے۔» جہاں کہیں اِنسان خُدا کی حکمرانی کے سامنے سرِتسلیم خم کرتے ہیں، وُہاں آسمان کی بادشاہی موجود ہوتی ہے۔
آسمان کی بادشاہی کے دو پہلو ہیں۔ وسیع تر مفہُوم میں اِس میں ہر وُہ شخص شامِل ہے جو اِقرار کرتا ہے کہ مَیں خُدا کو اعلیٰ ترین حاکم تسلیم کرتا ہوں، جب کہ محدود تر مفہُوم میں اِس میں صِرف وُہی افراد شامِل ہیں جو حقیقت میں ایمان لائے ہیں۔ ہم اِس بات کی وضاحت دو ہم مرکز دائروں کی مدد سے کر سکتے ہیں:

باہر کا دائرہ «اقرار» کا حلقہ ہے۔ اِس میں وُہ سب شامِل ہیں جو بادشاہ کی اور اصلی رعایا ہیں اور وُہ بھی جو اُس کے حلیف اور وفادار ہونے کا صِرف دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ بات بیج بونے والے (متؔی ۲۳:۳-۹)؛ رائی کے دانے (متؔی ۱۳:۳۱،۳۲) اور خمیر (متؔی ۱۳:۳۳) کی تماثیل سے صاف ظاہر ہوتی ہے۔ چھوٹے دائرے میں صِرف وُہی شامِل ہیں جو خُداوند یسؔوع مسیح پر ایمان لانے کے وسیلے سے نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں۔ اندرونی پہلو کے اِعتبار سے آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کا صِرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اِنسان «پھرے» (متؔی ۱۸:۳) اور مسیح پر ایمان لائے۔
اِس بادشاہی سے متعلقہ بائبل مُقدس کے سارے حوالوں کو یکجا کرنے سے ہم جان سکتے ہیں کہ اِس کے توارِیخی اِرتقا کے پانچ مراحل ہیں۔
اوّل، پُرانے عہدنامہ میں اِس بادشاہی کی «پیش گوئی» کی گئی تھی۔ دانی ایل نے نبوت کی کہ خُدا ایسی بادشاہی قائم کرے گا جو کبھی نیست نہ ہو گی اور نہ اپنا اِختیار اعلیٰ کِسی دُوسری قوم کے سپرد کرے گی (دانی ایل ۲:۴۴)۔ اُس نے پہلے ہی دیکھ لیا تھا کہ مسیح آئے گا اور عالمگِیر اور ابدی اِختیار قائم کرے گا (دانی ایل ۷:۱۳،۱۴، مزید ملاحظہ کریں یرمیاہ ۲۳:۵،۶)۔
دوم، یُوحناؔ بپتسمہ دینے والے، یسؔوع اور اُس کے بارہ شاگردوں نے بیان کیا کہ خُدا کی بادشاہی نزدیک یا موجود ہے (متؔی ۳:۲؛ ۴:۱۷؛ ۱۰:۷)۔ متؔی ۱۲:۲۸ میں یسؔوع نے کہا کہ «اگر مَیں خُدا کے رُوح کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو خُدا کی بادشاہی تمہارے پاس آ پہنچی۔» پھر لُوقاؔ ۱۷:۲۱ میں اُس نے فرمایا کہ «دیکھو، خُدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے۔» یا تمہارے اندر ہے۔ یہ بادشاہی بادشاہ کی ذات میں موجود تھی۔ ہم آگے چل کر واضح کریں گے کہ «خُدا کی بادشاہی» اور «آسمان کی بادشاہی» متبادِل اِصطلاحات ہیں۔
سوم، اِس بادشاہی کا بیان «عبوری» انداز میں ہُوا ہے۔ اِسرائیلی قوم نے اُسے (بادشاہ کو) ردّ کر دیا تو وُہ واپس آسمان پر چلا گیا۔ یہ بادشاہی آج بھی موجود ہے البُتہ بادشاہ غیر حاضر ہے۔ جتنے بھی اُس کے بادشاہ ہونے کو تسلیم کرتے ہیں، یہ بادشاہی اُن سب کے دِل وں میں موجود ہے اور پہاڑی وعظ سمیت اِس کے اخلاقی اصولوں کا آج بھی ہم پر اِطلاق ہوتا ہے۔ بادشاہی کی اِس عبوری منزل کا بیان متؔی ۱۳ باب کی تماثیل میں کیا گیا ہے۔
چہارم، بادشاہی کا چوتھا مرحلہ وُہ ہے جِسے «ظہور» کا نام دے سکتے ہیں۔ یہ اِس دُنیا میں مسیح کی ہزار سالہ بادشاہی کا دَور ہے جِس کی تصویر مسیح کی صورت بدِل جانے کے واقعے میں نظر آتی ہے جب اُس کو اپنی آنے والی حکمرانی کے جلال میں دیکھا گیا (متؔی ۱۷:۱-۸)۔ اِس مرحلے کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے متؔی ۸:۱۱ میں یسؔوع نے کہا کہ «… بُہتیرے پورب اور پچھم سے آ کر ابرہام اور اضحاق اور یعقوب کے ساتھ آسمان کی بادشاہی … میں شریک ہوں گے۔»
پنجم، اِس بادشاہی کا آخری مرحلہ «اَبدی یا ہمیشہ کی بادشاہی» ہو گا۔ اِس کا بیان ۲۔پَطرسؔ ۱:۱۱ میں ملتا ہے۔ «… ہمارے خُداوند اور منجی یسؔوع مسیح کی ابدی بادشاہی …»
«آسمان کی بادشاہی» کی اِصطلاح صِرف متؔی کی اِنجیل میں استعمال ہوئی ہے جب کہ «خُدا کی بادشاہی» کی اِصطلاح چاروں اِنجیلوں میں ملتی ہے۔ درحقیقت اِن دونوں میں کوئی فرق نہیں، دونوں کے لئے ایک سی باتیں کہی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر متؔی ۱۹:۲۳ میں یسؔوع نے کہا کہ دولت مند کا «آسمان» کی بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے۔ اور مرقسؔ (۱۰:۲۳) اور لُوقاؔ (۱۸:۲۴) دونوں رقم طراز ہیں کہ یسؔوع نے یہی بات «خدا»کی بادشاہی کے بارے میں کہی (متؔی ۱۹:۲۴ بھی دیکھئے، جِس میں ویسے ہی مقولے کے لئے «خُدا کی بادشاہی» اِستعمال کیا گیا ہے۔)
ہم نے اوپر ذِکر کیا ہے کہ آسمان کی بادشاہی بیرونی پہلو اور اندرونی حقیقت رکھتی ہے۔ یہی بات خُدا کی بادشاہی پر بھی صادق آتی ہے اور یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں اِصطلاحات کا مطلب ایک ہے۔ خُدا کی بادشاہی میں بھی اصلی اور جعلی دونوں شامِل ہیں۔ یہ بات بیج بونے والے (لُوقاؔ ۸:۴-۱۰)، رائی کے دانے (لُوقاؔ ۱۳:۱۸،۱۹) اور خمیر (لُوقاؔ ۱۳:۲۰،۲۱) کی تماثیل سے واضح ہوتی ہے۔ جہاں تک اِس کی حقیقی اور اندرونی حقیقت کا تعلق ہے خُدا کی بادشاہی میں صِرف وُہی لوگ داخل ہو سکتے ہیں جو نئے سرے سے پیدا ہوئے ہوں (یُوحناؔ ۳:۳،۵)۔
اَب ایک آخری نکتہ __ بادشاہی سے مراد کلیسیا نہیں ہے۔ بادشاہی اُس وقت شروع ہوئی جب مسیح نے اپنی عام خدمت کا آغاز کیا۔ جب کہ کلیسیا پنتکست کے دن شروع ہوئی (اعمال باب ۲)۔ اِس دُنیا میں بادشاہی اُس دن تک جاری رہے گی جِس دن یہ زمین نیست کی جائے گی جب کہ کلیسیا اِس دُنیا میں «فضائی اِستقبال» (جب مسیح آسمان سے اُترے گا اور سارے ایمان داروں کو آسمانی گھر میں لے جائے گا۔ ۱۔تھسلنیکیوں ۴:۱۳-۱۸) تک موجود رہے گی۔ مسیح کی آمدثانی کے موقعے پر کلیسیا اُس کے ساتھ واپس آئے گی اور اُس کی دِل ھن کی حیثیت میں اُس کے ساتھ بادشاہی کرے گی۔ فی الحال جو لوگ بادشاہی کی اصلی اور اندرونی حقیقت میں شامِل ہیں وُہ کلیسیا میں بھی شامِل ہیں۔
۳:۳ متؔی کے باب ۳ کی تفسیر کی طرف آتے ہوئے اِس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ یُوحناؔ سے سات سو سال سے زیادہ پہلے یسَعیاہ نے اُس کی خدمت کے بارے میں پیش گوئی کی تھی کہ
«پکارنے والے کی آواز! بیابان میں خُداوند کی راہ دُرست کرو۔ صحرا میں ہمارے خُدا کے لئے شاہراہ ہموار کرو» (۴۰:۳)۔
یہ «آواز» یُوحناؔ تھا۔ روحانی معنوں میں اِسرائیلی قوم «بیابان» تھی __ خشک اور بنجر __ یُوحناؔ نے پکار کر لوگوں سے کہا کہ اپنے گُناہ وں سے توبہ کرنے اور اِنہیں ترک کرنے سے «خُداوند کی راہ تیار کرو۔ اُس کے راستے سیدھے بناؤ۔» اپنی زندگیوں سے ہر وُہ بات دُور کرو جو اُس کی کامِل حکمرانی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
۳:۴ بپتسمہ دینے والے کا لباس «اُونٹ کے بالوں» کا بنا ہُوا تھا۔ آج کل اُونٹوں کے بالوں سے بننے والے نرم و ملائم کپڑے کی طرح کا نہیں، بلکہ ایک دیہاتی مزدُور کا سا موٹا اور کھردرا لباس۔ وُہ کمربَند بھی باندھتا تھا۔ یہ پوشاک ویسی ہی تھی جیسی ایلیاہ کی ہوتی تھی (۲۔سلاطین ۱:۸) اور ہوش مند یہُودی اِس لباس کو دیکھ کر سمجھ سکتے تھے کہ یُوحناؔ اور ایلیاہ کا مقصد ایک ہی ہے (ملاکی ۴:۵؛ لُوقاؔ ۱:۱۷؛ متؔی ۱۱:۱۴؛ ۱۷:۱۰-۱۲)۔ یُوحناؔ «ٹڈیاں اور جنگلی «شہد» کھاتا تھا۔ اُسے اپنے مشن سے اِتنا لگاؤ تھا اور وُہ اِس میں ایسا کھویا ہُوا تھا کہ معمولی خوراک پر گزارا کرتا تھا۔ اُسے عام آسائشوں کی پروا نہ تھی۔ یُوحناؔ کو اُن چیزوں اور باتوں کی قطعاً پروا نہ تھی جن پر عام لوگ جان دیتے ہیں۔ اُس سے ملاقات اِنسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی اور دِل میں پچھتاوا لگا دیتی تھی۔ وُہ روحانی سچائیوں میں اِتنا مگن تھا کہ اِنسان اُس کے سامنے خود کو بے وقعت محسوس کرنے لگتا تھا۔ اُس کی خود اِنکاری اور ترکِ دُنیا اپنے دَور کے دُنیا داروں کو مجرم ٹھہراتی تھی۔
۳:۵،۶ «یروشلؔیم اور سارے یہُودی ہ اور یردن کے گرد و نواح» سے لوگ جوق در جوق اُس کی باتیں سننے آتے تھے۔ کُچھ لوگ اُس کے پیغام سے متاثر ہوتے اور «دریائے یردن میں اُس سے بپتسمہ» لیتے اور کہتے تھے کہ ہم آنے والے بادشاہ کے ساتھ پُوری وفاداری اور اُس کی پُوری تابع داری کرنے کو تیار ہیں۔
۳:۷ لیکن «فریسیوں اور صدوقیوں» کا معاملہ فرق تھا۔ جب وُہ اُس کی باتیں سننے آتے تو یُوحناؔ کو معلوم ہوتا تھا کہ اُن کی نیت صاف نہیں۔ «فریسی» دعویٰ کرتے تھے کہ ہم شریعت کو دِل و جان سے مانتے ہیں۔
لیکن باطن میں وُہ نہایت بگڑے ہوئے، فرقہ پرست اور ریاکار تھے۔ «صدوقی» گویا معاشرے کے «اشراف» تھے۔ مذہبی لحاظ سے شک پرست تھے۔ وُہ بدن کی قیامت، فرشتوں کے وجود، رُوح کی بقا اور اَبدی سزا جیسے بنیادی عقائد کے منکر تھے۔ اِس لئے یُوحناؔ نے دونوں فرقوں کو «سانپ کے بچو» کہہ کر مذمت کی کیونکہ وُہ «آنے والے غضب» سے بچنے کی خواہش کا صِرف بہانہ کر رہے تھے مگر اُن میں سچی توبہ کے کوئی آثار نہ تھے۔
۳:۸ یُوحناؔ نے اُن کو چیلنج کیا کہ اپنی نیک نیتی کا ثبوت مہیا کرو اور «توبہ کے موافق پھل لاؤ۔» جیسا کہ جے۔ آر۔ ملر لِکھتا ہے:اگر سچی توبہ صِرف چند آنسو، پچھتاوے کی ایک جُھرجُھری یا ذرا سا ڈر ہی پیدا کرتی ہے تو بے سود ہے۔ ضرور ہے کہ جن گُناہ وں سے ہم توبہ کرتے ہیں اُن کو ترک کریں اور پاکیزگی کی نئی اور صاف ستھری راہوں پر چلیں۔»
۳:۹ یہُودی وں کو یہ خام خیالی ترک کر دینی چاہئے کہ ہمارا «ابرہام» کی نسل سے ہونا آسمان کے لئے پاسپورٹ ہے۔ نجات کا فضل طبعی پیدائش سے منتقل نہیں ہوتا۔ خُدا دریائے یردن کے «پتھروں سے ابرہام کے لئے
اولاد پیدا کر سکتا ہے۔» اور یہ عمل فریسیوں اور صدوقیوں کو تبدیل کرنے سے کہیں آسان ہو گا۔
۳:۱۰ یُوحناؔ کہتا تھا کہ «درختوں کی جڑ پر کلہاڑا رکھا ہُوا ہے۔» مطلب یہ تھا کہ خُدا کی عدالت اور غضب کا کام شروع ہونے کو ہے۔ مسیح کی آمد اور موجودگی تمام اِنسانوں کو آزما لے گی۔ بے پھل نیست کئے جائیں گے جیسے بے پھل درخت «کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔»
۳:۱۱،۱۲ آیت ۷-۱۰ میں یُوحناؔ صِرف فریسیوں اور صدوقیوں سے مخاطب تھا (دیکھئے آیت ۷) لیکن اب وُہ تمام سامعین سے مخاطب ہے جن میں پُرخلوص اور بے خلوص سبھی شامِل ہیں۔ وُہ وضاحت کرتا ہے کہ میری خدمت اور مسیحِ مَوعُود جو کہ بُہت جلد آنے والا ہے کی خدمت میں بُہت نمایاں فرق ہے۔ یُوحناؔ تو توبہ کے لئے پانی سے بپتسمہ» دیتا تھا۔ «پانی» تو ایک رسوماتی اور عَلامت ؔی چیز ہے جِس میں پاک صاف کرنے کی اہلیت نہیں۔ «توبہ» بے شک سچی بھی ہو، مگر اِنسان کو پُوری نجات تک نہیں لاتی۔یُوحناؔ اپنی خدمت کو جزوی اور صِرف تیاری کی خدمت سمجھتا تھا۔ مسیحِ مَوعُود کے آنے پر یُوحناؔ بالکُل پیچھے ہٹ گیا کیونکہ وُہ یُوحناؔ سے «زور آور» ہے۔ وُہ زیادہ لائق ہے۔ اُس کا کام بُہت آگے تک جائے گا۔ وُہ «رُوح القُدس اور آگ سے بپتسمہ دے گا۔»
«رُوح القُدس کا بپتسمہ» اور «آگ کا بپتسمہ» دونوں ایک دوسرے سے الگ اور فرق ہیں۔ اوّل الذِکر برکت کا بپتسمہ ہے اور موخر الذِکر غضب کا۔ اوّل الذِکر پنتکست کے وقت ملا تھا، موخر الذِکر مستقبل میں ملے گا۔ اوّل الذِکر سے خُداوند یسؔوع پر سچا ایمان لانے والے سارے ایمان دار لطف اُٹھاتے ہیں، موخرالذِکر سارے بے ایمانوں کا حصہ ہو گا۔ اوّل الذِکر اُن اِسرائیلیوں کے لئے تھا جن کا ظاہری بپتسمہ باطنی توبہ کا نشان تھا، موخرالذِکر فریسیوں اور صدوقیوں اور اُن سب کے لئے ہے جن میں سچی توبہ کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔
بعض لوگ تعلیم دیتے ہیں کہ رُوح القُدس کا بپتسمہ اور آگ کا بپتسمہ ایک ہی واقعہ ہیں، یعنی کیا آگ کا بپتسمہ اُن آگ کے شعلوں کی سی زبانوں کی طرف اِشارہ نہیں کرتا جو پنتکست پر رُوح القُدس کے نزول کے وقت دِکھائی دی تھیں؟ لیکن آیت ۱۲ میں آگ اور غضب کو ایک ہی چیز کہا گیا، اِس کی روشنی میں مُندرَج ہ بالا دِل یل قابلِ قبول نہیں رہتی۔
آگ کے بپتسمے کا ذِکر کرنے کے فوراً بعد یُوحناؔ غضب کا ذِکر کرتا ہے۔ تصویر یہ پیش کرتی ہے کہ خُداوند «چھاج» استعمال کر رہا ہے اور بھوسے کو ہُوا میں اُڑا رہا ہے۔ «گیہوں» کے دانے (ایمان دار) سیدھے زمین پر گرتے ہیں اور وُہ اِنہیں «کھتے» میں جمع کر لیتا ہے۔ «بھوسے» (بے ایمان) کو ہُوا کُچھ دُور اُڑا لے جاتی ہے اور وُہ «اُسے اُس آگ میں جلائے گا جو بجھنے کی نہیں۔» آیت ۱۲ میں آگ کا مطلب غضب ہے۔ یہ آیت گیارھویں آیت کی صراحت کرتی ہے، اِس لئے یہ نتیجہ اخذ کرنا بجا اور معقول ہے کہ آگ کا بپتسمہ غضب کا بپتسمہ ہے۔
ب۔ یُوحناؔ یسؔوع کو بپتسمہ دیتا ہے (۳:۱۳-۱۷)
۳:۱۳ یسؔوع «گلیل سے» تقریباً ۹۷ کلومیٹر کا فاصلہ پیدِل طے کر کے زیریں «یردن» تک آیا، تاکہ «یُوحناؔ سے بپتسمہ» لے۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ یسؔوع بپتسمے کی رسم کو کتنی اہمیّت دیتا ہے۔ اور آج اُس کے پیروکاروں کو بھی اِس رسم کو یہی اہمیّت دینی ہے۔
۳:۱۴،۱۵ یُوحناؔ کو پورا پورا احساس تھا کہ یسؔوع نے کوئی گُناہ نہیں کیا اور نہ اُسے توبہ کی ضُرورتہے۔ اِس لئے وُہ اُس کو بپتسمہ دینے کے خلاف اِحتجاج کرتا ہے۔ اُس کا سچا وجدان کہتا ہے کہ درست ترتِیب تو یہ ہے کہ یسؔوع اُسے (یُوحناؔ کو) بپتسمہ دے۔ یسؔوع نے اِس بات سے اِنکار نہیں کیا بلکہ صِرف اپنی درخواست کو دُہرایا کہ «اِسی طرح ساری راست بازی پُوری کرنا مناسب ہے۔» اُس نے یہی مناسب سمجھا کہ بپتسمے میں اپنے آپ کو اُن دین دار اِسرائیلیوں کو مماثل دِکھائے جو توبہ کا بپتسمہ لینے آتے تھے۔
لیکن ایک اَور گہرا مطلب بھی ہے۔ بپتسمے کی رسم سے اُس نے ظاہر کیا کہ وُہ کس طرح اِنسان کے گُناہ کے بارے میں خُدا کے تمام مطالبات کو پورا کرنے والا تھا۔ اُس کا پانی میں غوطہ لینا کلوری پر خُدا کے غضب کے پانیوں میں بپتسمہ لینے کی مثال ہے۔ اُس کا پانی سے باہر آنا اُس کے جی اُٹھنے کا عکس ہے۔ وُہ اپنی موت، دفن اور قیامت سے خُدا کے اِنصاف کے سارے تقاضوں کو پورا کرنے کو تھا اور یوں وُہ صادق بنیاد مہیا کرنے والا تھا جِس سے گنہگار راست باز ٹھہرائے جانے کو تھے۔
۳:۱۶،۱۷ جونہی یسؔوع پانی کے پاس سے اُوپر گیا اُس نے «خُدا کے روح» کو آسمان سے «اُترتے اور اپنے اُوپر آتے دیکھا»۔ جِس طرح پُرانے عہدنامہ میں «مَسح کرنے کے پاک تیل» (خروُج ۳۰:۲۵-۳۰) سے اِنسانوں اور چیزوں کو مُقدس مقاصد اور استعمال کے لئے پاک کیا جاتا تھا اُسی طرح اُسے رُوح القُدس سے مسیحِ مَوعُود کی خدمت کے لئے مسح کیا گیا۔
یہ نہایت مبارک موقع تھا کیونکہ تثلیث کے تینوں اقانیم ظاہر ہوئے۔ «پیارا بیٹا» موجود تھا، «کبوتر» کی شکل میں «روح» القدس وُہاں موجود تھا اور «آسمان سے» باپ کی «آواز» نے یسؔوع پر برکت کا اعلان کیا۔ یہ موقع اِس لئے بھی یادگار ہے کہ خُدا کی آواز پاک صحائف کا اِقتباس کرتی ہوئی سنائی دی کہ «یہ میرا پیارا بیٹا ہے جِس سے مَیں خوش ہوں» (زبُور ۲:۷ اور یسَعیاہ ۴۲:۱)۔ یہ اُن تین میں سے ایک موقع ہے جب کہ آسمان پر سے باپ نے بول کر اپنے بے مثال بیٹے سے خوش ہونے کا اعلان کیا (دوسرے دو موقعوں کا بیان متؔی ۱۷:۵ اور یُوحناؔ ۱۲:۲۸ میں درَج ہے)۔
ج۔ یسؔوع شیطان سے آزمایا جاتا ہے (۴:۱-۱۱)
۴:۱ یہ بات بُہت عجیب معلوم ہوتی ہے کہ «روح» یسؔوع کو آزمائے جانے کے لئے لے گیا۔ کیا وجہ تھی کہ رُوح القُدس یسؔوع کو ایسے مُقابلے یا تصادم کے لئے لے گیا؟ جواب یہ ہے کہ یہ آزمائش اِس لئے ضروری تھی
تاکہ ثابُت ہو جائے کہ یسؔوع اخلاقی اعتبار سے اُس کام کا اہل ہے جِس کے لئے وُہ دُنیا میں آیا ہے۔ پہلا آدم اِختیار یا حکمرانی کے لئے اُس وقت نااہل ثابُت ہُوا جب باغِ عدن میں اُس کا مقابلہ مخالف سے ہُوا۔ یہاں پچھلا آدم ابلیس سے زبردست ٹکر لیتا اور فتح مند ہوتا ہے۔ اُسے قطعی کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔
جِس یٗونانی لفظ کا ترجمہ «آزمانا» کیا گیا ہے، اُس کے دو مطلب ہیں۔ (۱) آزمانا یا جانچنا (یُوحناؔ ۶:۶؛ ۲۔کرنتھیوں ۱۳:۵؛ عبرانیوں ۱۱:۱۷)۔ (۲) بُرائی یا گُناہ کی ترغیب دینا۔ رُوح القُدس نے مسیح کو آزمایا یا جانچا ۔ اِبلیس اُسے گُناہ کرنے کی ترغیب دیتا رہا۔
ہمارے خُداوند کی آزمائش کے ساتھ ایک گہرا بھید وابَستہ ہے۔ لامحالہ یہ سوال اُٹھتا ہے کہ «کیا وُہ گُناہ کر سکتا تھا؟» اگر جواب « نہیں» ہو تو اگلا سوال سامنے آتا ہے کہ «اگر وُہ آزمائش میں گر ہی نہیں سکتا تھا تو پھر یہ حقیقی آزمائش کیسے ہوئی؟» اگر جواب «ہاں» ہو تو ہمارے سامنے یہ مسئلہ آ جاتا ہے کہ مجِسم خُدا کس طرح گُناہ کر سکتا ہے!
یاد رکھنے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یسؔوع مسیح خُدا ہے اور خُدا گُناہ نہیں کر سکتا۔ یہ بھی حقیقت اور سچ ہے کہ وُہ بشر ہے۔ لیکن اگر یہ کہیں کہ بحیثیت بشر وُہ گُناہ کر سکتا تھا اور بحیثیت خُدا گُناہ نہیں کر سکتا تھا تو ایسی صورتِ حال کھڑی کر دیتے ہیں جِس کی کلامِ پاک کی رُو سے کوئی بنیاد نہیں۔ نئے عہدنامہ کے مُصنِفّ اکثر مواقع پر مسیح کی بے گُناہ ی کے بارے میں لِکھتے ہیں۔ پُولُسؔ لِکھتا ہے کہ وُہ «گُناہ سے واقف نہ تھا» (۲۔کرنتھیوں ۵:۲۱)۔ پَطرسؔ کہتا ہے کہ «نہ اُس نے گُناہ کیا … » (۱۔پَطرسؔ ۲:۲۲) اور یُوحناؔ رقم طراز ہے کہ «اُس کی ذات میں گُناہ نہیں» (۱۔یُوحناؔ ۳:۵)۔
ہماری طرح یسؔوع کی بھی باہر سے آزمائش ہو سکتی تھی۔ شیطان نے آ کر اُس کو وُہ مشورے دیئے جو خُدا کی مرضی کے خلاف ہیں۔ لیکن اُس کو اپنے باطن سے آزمائش نہیں آ سکتی تھی۔ اُس کے اندر کوئی گُناہ آلودہ خواہشات یا شہوتیں پیدا نہیں ہو سکتی تھیں۔ علاوُہ ازیں اُس کے اندر کوئی ایسی بات نہ تھی جو ابلیس کی ترغیبات کو قبول کرتی (یُوحناؔ ۱۴:۳۰)۔
اگرچہ یسؔوع گُناہ نہیں کر سکتا تھا مگر آزمائش بالکُل حقیقی تھی۔ یہ ممکن تھا کہ گُناہ کی ترغیبات اُس کے سامنے آئیں مگر اخلاقی لحاظ سے اُس کا گر جانا ممکن نہ تھا۔ وُہ صِرف وُہی کام کر سکتا تھا جو باپ کو کرتے دیکھتا تھا (یُوحناؔ ۵:۱۹) اور یہ تو سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وُہ باپ کو کبھی گُناہ کرتے دیکھ سکتا ہے۔ وُہ اپنے اِختیار سے کُچھ نہیں کر سکتا تھا (یُوحناؔ ۵:۳۰) اور خُدا اُسے ہرگز یہ اِختیار نہیں دے سکتا تھا کہ آزمائش کے سامنے ہتھیار ڈال دے۔
آزمائش کا مقصد یہ دیکھنا نہیں تھا کہ وُہ گُناہ کر سکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ ثابُت کرنا تھا کہ سخت ترین دباؤ کے مُقابلے میں بھی وُہ سوائے خُدا کے کلام کی تعمیل کے اَور کُچھ نہیں کر سکتا تھا۔
اگر بحیثیت بشر وُہ گُناہ کر سکتا تو مسئلہ یہ ہوتا کہ وُہ آسمان میں اَب بھی بحیثیت اِنسان موجود ہے۔ کیا وُہ اَب بھی گُناہ کر سکتا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ «نہیں۔»
۴:۲،۳ «چالیس دن اور چالیس رات فاقہ کر کے آخر کو اُسے (یسؔوع کو) بھوک لگی۔» پاک صحائف میں چالیس کا عدد اکثر آزمائشوں یا آزمائشی عرصے کے لئے استعمال ہُوا ہے۔ طبعی بھوک نے «آزمانے والے» کو ایک اچھا موقع فراہم کر دیا۔ ایسی حالت میں وُہ بُہت سے لوگوں کو ورغلانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اُس نے مشورہ دیا کہ یسؔوع اپنی معجزانہ قُدرت کو استعمال کر کے بیابان کے «پتھروں» کو «روٹیاں» بنائے۔ شروع کے الفاظ «اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے» کا مقصد شک و شبہ کا اِظہار کرنا نہیں۔ اِن کا اصل مطلب ہے کہ «چونکہ تُو خُدا کا بیٹا ہے۔» اِبلیس خُدا کے اُن الفاظ کا حوالہ دے رہا ہے جو اُس نے بپتسمے کے وقت یسؔوع کے بارے میں کہے تھے۔ وُہ ایک یٗونانی ترکیب (یہ شرط قطعی ہے کہ حالت بیانیہ کے ساتھ «el» استعمال ہوتا ہے۔ سلیس زبان میں «اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے اور مَیں مانتا ہوں کہ تُو ہے۔» بہ الفاظِ دِیگر «چونکہ تُو خُدا کا بیٹا ہے … »۔) استعمال کرتا ہے جِس میں مانا جاتا ہے کہ بیان بالکُل سچا اور درست ہے۔ چنانچہ وُہ یسؔوع کو للکارتا ہے کہ اپنی قُدرت استعمال کر کے اپنی بھوک مٹا۔
شیطان کے کہنے پر اپنی اِلٰہی قُدرت کو طبعی بھوک مٹانے کے لئے استعمال کرنا براہِ راست خُدا کی نافرمانی کے مترادف ہے۔ شیطان کے مشورے کے پیچھے پیدائش ۳:۶ کی یہ باز گشت ہے کہ «کھانے کے لئے اچھا» ہے۔ یُوحناؔ اِس آزمائش کو «جِسم کی خواہش» (۱۔یُوحناؔ ۲:۱۶) کے زُمرے میں رکھتا ہے۔ اِس کے مطابق ہماری آزمائش یہ ہوتی ہے کہ طبعی خواہشات کو پورا کرنے کے پیچھے پڑے رہیں۔ خُدا کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کو تلاش کرنے کی بجائے زندگی میں آرام و آسائش کی راہ اِختیار کریں۔ ابلیس یہی کہتا رہتا ہے کہ «آخر تمہیں زندہ بھی تو رہنا ہے کہ نہیں رہنا؟»
۴:۴ یسؔوع نے آزمائش کا «جواب» خُدا کے کلام سے دیا۔ ہمارے خُداوند کے نمونے سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ہمیں زندہ ہی نہیں رہنا، بلکہ خُدا کی فرماں برداری کرنی ہے۔ زندگی میں سب سے اہم اور ضروری کام روٹی حاصل کرنا نہیں بلکہ «ہر بات … جو خُدا کے منہ سے نکلتی ہے» اُس کی تعمیل اور فرماں برداری کرنا سب سے اہم ہے۔ چونکہ یسؔوع کو باپ سے پتھروں کو روٹیاں بنانے کی ہدایت نہیں ملی تھی، اِس لئے وُہ اپنی مرضی کرنے اور شیطان کی بات ماننے پر آمادہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اُس کی بھوک کتنی بھی شدید سہی، لیکن شیطان کی بات ہرگز ماننے کو تیار نہیں تھا۔
۴:۵،۶ دُوسری آزمائش یروشلؔیم میں «ہیکل کے کنگرے» پر آئی۔ «ابلیس» نے یسؔوع کو چیلنج کیا کہ اپنے آپ کو «نیچے گرا دے۔» یہ تیرے خُدا کا بیٹا ہونے کا شان دار مظاہرہ ہو گا۔ یہاں بھی جملے کا پہلا لفظ «اگر» شک کا مفہُوم نہیں رکھتا۔ شیطان خُدا کے اُس وعدے کا حوالہ دیتا ہے جِس میں مسیحِ مَوعُود کی محافظت کا بیان ہے (زبُور ۹۱:۱۱،۱۲)۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شک کا اِطلاق نہیں ہوتا۔
یسؔوع کے لئے آزمائش یہ تھی کہ ایک سنسنی خیز کرتب دِکھا کر ثابُت کر دے کہ مَیں مسیحِ مَوعُود ہوں۔ وُہ بغیر دُکھ اُٹھائے جلال حاصل کر سکتا تھا۔ وُہ صلیب سے کترا کر تخت تک پہنچ سکتا تھا۔ لیکن یہ کام خُدا کی مرضی کے خلاف تھا۔ یُوحناؔ ایسے کام کو «زندگی کی شیخی» (۱۔یُوحناؔ ۲:۱۶) کہتا ہے۔ یہ باغِ عدن میں اُس درخت کی مانند ہے جو «عقل بخشنے کے لئے خوب» (پیدائش ۳:۶) لگتا ہے۔ یہ دونوں باتیں ہی خُدا کی مرضی کو نظر انداز کر کے شخصی جلال حاصل کرنے کے مترادف ہیں۔ ہم پر یہ آزمائش اِس صورت میں آتی ہے کہ مسیح کے دُکھوں میں شریک ہوئے بغیر مذہبی شان اور نام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے لئے بڑی بڑی چیزوں کی خواہش کرتے ہیں مگر ذرا سی مشکل آتی ہے تو بھاگ کر چھپ جاتے ہیں۔ جب ہم خُدا کی مرضی کو پسِ پشت ڈال دیتے اور اپنے آپ کو سربلند کرتے ہیں تو خُدا کو آزماتے ہیں۔
۴:۷ اب بھی یسؔوع نے پاک صحائف میں سے اِقتباس پیش کر کے شیطان کے حملے کو ناکام بنا دیا۔ اُس نے کہا «لِکھا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کی آزمائش نہ کر» (دیکھئے اِستثنا ۶:۱۶)۔ خُدا نے مسیحِ مَوعُود کی محافظت کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اِس ضمانت کی پہلی شرط یہ ہے کہ خُدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزاری جائے۔ نافرمانی کر کے خُدا کے وعدے کا دعوے دار بننا خُدا کو آزمانا ہے۔ وقت آنے والا تھا جب آشکارا ہونا تھا کہ یسؔوع ہی مسیحِ مَوعُود ہے، لیکن اِس سے پہلے صلیب کا آنا ضروری تھا۔ ضرور ہے کہ تخت سے پہلے قربانی کا مذبح آئے اور جلال کے تاج سے پہلے کانٹوں کا تاج آئے۔ یسؔوع اِس بات پر قائم ہے کہ خُدا کے وقت کا اِنتظار کرے اور اُس کی مرضی کو پورا کرے۔
۴:۸،۹ تیسری آزمائش کے لئے اِبلیس یسؔوع کو «ایک بُہت اُونچے پہاڑ پر لے گیا اور دُنیا کی سب سلطنتیں اور اُن کی شان و شوکت اُسے دِکھائی۔» اور ایک سجدے کے عوض سب کُچھ اُسے دینے کی پیش کش کی۔ اگرچہ اِس آزمائش کا تعلق «سجدہ» سے ہے جو کہ رُوح کا فعل ہے لیکن دراصل یہ ایک کوشِش تھی کہ یسؔوع کو مائل کر لیا جائے کہ وُہ شیطان کو سجدہ کر کے دُنیا پر شاہی اِختیار حاصل کرے۔ سجدے کے صِلے میں «دُنیا کی سب سلطنتیں اور اُن کی شان و شوکت» مل رہی تھی۔ یہ ہے آنکھوں کی خواہش (۱۔یُوحناؔ ۲:۱۶)۔
ایک لحاظ سے فی الحال دُنیا کی سلطنتیں شیطان کی ملکیت ہیں۔ اُس کو «اِس جہان کا خدا» (۲۔کرنتھیوں ۴:۴) کہا گیا ہے۔ اور یُوحناؔ بیان کرتا ہے کہ «ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے» (۱۔یُوحناؔ ۵:۱۹)۔ جب اپنی آمدِثانی کے موقعے پر یسؔوع «بادشاہوں کے بادشاہ (مُکاشفہ۱۹:۱۶) کی حیثیت سے ظاہر ہو گا تو «دُنیا کی بادشاہی» اُس کی ہو جائے گی (مُکاشفہ۱۱:۱۵)۔ یسؔوع خُدا کے نظامِ اوقات کی خلاف ورزی نہیں کرنے کا اور شیطان کو ہرگز سجدہ نہیں کرنے کا۔ ہم پر آزمائش دو طرح سے آتی ہے۔ اوّل کہ اِس دُنیا کی عارضی اور فانی شان و شوکت کے عوض اپنی روحانی پیدائشی میراث بیچ ڈالیں۔ دوم کہ خالق کے بجائے مخلوق کی پرستش اور اُسے سجدہ کریں۔
۴:۱۰ تیسری دفعہ بھی یسؔوع نے پُرانے عہدنامہ کو استعمال کر کے آزمائش کا مقابلہ کیا کہ « تُو خُداوند اپنے خُدا کو سجدہ کر اور صِرف اُسی کی عبادت کر۔» پرستش اور اُس سے پیدا ہونے والی خدمت صِرف خُدا کے لئے ہے۔ شیطان کو سجدہ کرنا اُسے خُدا تسلیم کرنے کے برابر ہے۔
متؔی کی درَج کردہ آزمائشوں کی ترتِیب لُوقاؔ کی ترتِیب (لُوقاؔ ۴:۱-۱۳) سے مُختلفِ ہے۔ بعض عِلما کا خیال ہے کہ متؔی والی ترتِیب بنی اِسرائیل کی اُن آزمائشوں کی ترتِیب سے مُطابقت رکھتی ہے جن کا سامنا اِنہیں بیابان میں ہُوا (خروُج ابواب ۱۶،۱۷،۳۲)۔ یسؔوع نے ثابُت کر دیا کہ مشکل کے وقت میرا ردِّ عمل بنی اِسرائیل کے ردِّعمل کے بالکُل برعکس ہے۔
۴:۱۱ جب یسؔوع نے پُوری کامیابی کے ساتھ شیطان کی آزمائشوں کو رَدّ کر دیا تب «ابلیس اُس کے پاس سے چلا گیا۔» آزمائشیں مسلسل بہاؤ کی صورت میں نہیں بلکہ لہروں کی صورت میں آتی ہیں۔
ہمیں بُتایا گیا ہے کہ اِس موقعے پر «فرشتے آ کر اُس کی خدمت کرنے لگے۔» لیکن اِس فوق الفطرت اعانت اور مدد کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ غالباً مطلب یہ ہے کہ فرشتوں نے وُہ جِسمانی غذا پہنچائی جِس کا اُس نے شیطان کے کہنے پر اپنے لئے مہیا کرنے سے اِنکار کر دیا تھا۔
یسؔوع کی آزمائش سے ہم یہ سبق سیکھتے ہیں کہ اِبلیس اُن لوگوں پر حملہ کر سکتا ہے جو رُوح القُدس کے کنٹرول میں ہوتے ہیں لیکن جو خُدا کے کلام کے ساتھ اُس کا مقابلہ کرتے ہیں وُہ اُن کے سامنے بالکُل بے بَس ہوتا ہے۔
د۔ یسؔوع اپنی گلیلی خدمت شروع کرتا ہے (۴:۱۲-۱۷)
یسؔوع تقریباً ایک برس تک یہُودی ہ میں خدمت کرتا رہا مگر متؔی اِس کا ذِکر نہیں کرتا۔ اِس ایک سال کے عرصے کا بیان یُوحناؔ ۱:۴ میں کیا گیا ہے اور متؔی ۴:۱۱، ۱۲کے درمیان آتا ہے۔ متؔی آزمائش کے بعد فوراً گلیلی خدمت کا بیان کرتا ہے۔
۴:۱۲ «جب اُس (یسؔوع ) نے سنا کہ یُوحناؔ پکڑوا دیا گیا» یعنی اُسے قید خانے میں ڈال دیا گیا ہے تو اُس نے سمجھ لیا کہ یہ میرے ردّ کئے جانے کا ایک نشان ہے۔ لوگ بادشاہ کے پیش رَو کو ردّ کرنے میں خود بادشاہ کو بھی ردّ کر رہے تھے۔ اب یسؔوع شمال میں «گلیل» کے علاقے میں آیا۔ مگر وُہ کِسی ڈر کے مارے بھاگ کر یہاں نہ آیا۔ دراصل وُہ تو ہیرودیس کی سلطنت کے مرکز میں جا رہا تھا۔ یہ وُہی بادشاہ ہے جِس نے یُوحناؔ کو قید میں ڈال دیا تھا۔ اَب وُہ غیر قوموں کے گلیل میں آ گیا۔ اِس طرح وُہ ظاہر کر رہا ہے کہ جب یہُودی مجھے ردّ کریں گے تو اِس کے نتیجے میں اِنجیل کی خوشخبری غیر قوموں کے پاس چلی جائے گی۔
۴:۱۳ یسؔوع اُس وقت تک «ناصرت» میں رہا جب لوگ اُسے اِس لئے مار ڈالنے کی کوشِش کرنے لگے کہ وُہ غیر قوموں کے لئے نجات کا اعلان کرتا تھا (دیکھئے لُوقاؔ ۴:۱۶-۳۰)۔ پھر وُہ گلیل کی جھیل کے قریب واقع «کفر نحوم» میں آ گیا۔ اِس علاقے میں شروع میں «زبولون اور نفتالی» کے قبَیلے آباد تھے۔ اُس وقت سے لے کر کفرنحوم اُس کا ہیڈ کوارٹر بن گیا۔
۴:۱۴-۱۶ یسؔوع کے گلیل میں آنے سے یسَعیاہ ۹:۱،۲ کی پیش گوئی پُوری ہو گئی۔ «گلیل» میں بَسنے والے جاہل اور توُہم پرست «غیر قوموں» نے «بڑی روشنی دیکھی» یعنی مسیح کو جو «دُنیا کا نور» ہے۔
۴:۱۷ «اُس وقت سے یسؔوع » یُوحناؔ والے پیغام کی منادی کرنے لگا کہ «توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔» یہ خُدا کی بادشاہی کی خاطر اخلاقی بیداری کے لئے مزید بلاہٹ تھی۔ بادشاہی اِس لحاظ سے نزدیک آ گئی تھی کہ بادشاہ خود موجود تھا۔
ہ۔ یسؔوع چار ماہی گیروں کو بلاتا ہے (۴:۱۸-۲۲)
۴:۱۸،۱۹ دراصل یہ دُوسری مُرتبہ تھی جب یسؔوع نے «پَطرسؔ اور اِندریاس» کو بلایا۔ یُوحناؔ ۱:۳۵-۴۲ میں اُن کو نجات کے لئے بلایا گیا تھا، یہاں اُن کو خدمت کے لئے بلایا گیا ہے۔ پہلا واقعہ یہُودی ہ میں اور دوسرا (یعنی موجودہ) گلیل میں وقوع پذیر ہُوا۔ پَطرسؔ اور اِندریاس «ماہی گیر» تھے لیکن یسؔوع نے اُن کو «آدم گیر» بنانے کے لئے بلایا۔ اُن کی ذمہ داری تھی کہ مسیح کے «پیچھے چلیں۔» اور اُس کی ذمہ داری تھی کہ اُن کو کامیاب «آدم گیر» بنا دے۔ اُن کے مسیح کے پیچھے چلنے میں صِرف جِسمانی قربُت ہی شامِل نہ تھی بلکہ مسیح کے کردار کی تقلید کرنا بھی شامِل تھا۔ اُن کی خدمت کردار کی خدمت تھی۔ اُن کی باتوں اور کاموں سے زیادہ اہم اور ضروری بات یہ تھی کہ اُن کا کردار کیا ہے۔ پَطرسؔ اور اِندریاس کی طرح ہمیں بھی اِس آزمائش سے بچنا ہے کہ حقیقی روحانیت کی جگہ خوش گفتاری، شخصیت یا عمدہ دِل یل بازی کو اوّلیت نہ دینے لگیں۔ مسیح کے پیچھے چلنے میں شاگرد وُہاں جانا سیکھتا ہے جہاں مچھلیاں تَیر رہی ہوں، وُہ صحیح طعمہ استعمال کرنا سیکھتا ہے۔ وُہ آرام اور آسائشوں سے خالی زندگی بَسر کرنا سیکھتا ہے۔ وُہ صبر کرنا اور پس پردہ رہنا سیکھتا ہے۔
۴:۲۰ پَطرسؔ اور اِندریاس نے بلاہٹ کو سنا اور «فوراً» جواب دیا۔ حقیقی ایمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے اپنے جال وُہیں چھوڑ دیئے۔ حقیقی مخصوصیت اور جاں نثاری کے ساتھ وُہ یسؔوع کے «پیچھے ہو لئے۔»
۴:۲۱،۲۲ اِس کے بعد اِسی طرح «یعقوب» اور «یُوحناؔ» بلائے گئے۔ وُہ بھی فوراً شاگرد بن گئے۔ اُنہوں نے نہ صِرف اپنے ذریعۂ معاش کو بلکہ «اپنے باپ» کو بھی وُہیں چھوڑ دیا۔ اُنہوں نے تسلیم کیا کہ یسؔوع تمام دُنیاوی رِشتوں اور بَندھنوں پر سبقت رکھتا ہے۔
مسیح کی بلاہٹ کو قبول کر کے یہ ماہی گیر دُنیا کو اِنجیل سنانے کے کام میں کلیدی ہستیاں بن گئے۔ اگر وُہ اپنے جالوں کو نہ چھوڑتے اور وُہاں سے نہ ہٹتے تو اُن کا نام ہم تک کبھی نہ پہنچتا۔ مسیح کی خُداوندیت کو تسلیم کرنے ہی سے سارا فرق پڑتا ہے۔
ہ۔ یسؔوع بُہت سے بیماروں کو شفا دیتا ہے (۴:۲۳-۲۵)
خُداوند یسؔوع کی تین طرح کی خدمت تھی۔ وُہ «عبادت خانوں میں» خُدا کے کلام کی تعلیم دیتا، «بادشاہی کی خوشخبری» کی منادی کرتا اور «ہر طرح کی بیماری … دُور کرتا رہا۔» شفا دینے کے معجزوں کا ایک مقصد اُس کی ذات اور خدمت کی تصدیق کرنا تھا (عبرانیوں ۲:۳،۴)۔ ابواب ۵-۷ اُس کی تعلیم دینے کی خدمت کی مثال ہیں جب کہ ابواب ۸،۹ میں اُس کے مُعجزات کا بیان ہے۔
۴:۲۳ آیت تیئس میں نئے عہدنامہ میں پہلی دفعہ لفظ «خوشخبری» استعمال ہُوا ہے۔ اِس اصطلاح کا مطلب ہے «نجات کی اچھی خبر۔» دُنیا کی تاریخ کے ہر دَور میں صِرف ایک ہی خوشخبری، نجات کا صِرف ایک ہی راستہ ہے۔
اِنجیل کی خوشخبری
اِنجیل کی خوشخبری کا آغاز خُدا کے فضل سے ہوتا ہے (اِفسیوں ۲:۸)۔ مطلب یہ ہے کہ خُدا گُناہ آلودہ لوگوں کو جو اِس کے اہل اور حق دار نہیں ابدی زندگی مفت دیتا ہے۔
خوشخبری کی بنیاد وُہ کام ہے جو مسیح نے صلیب پر کیا (۱۔کرنتھیوں ۱۵:۱-۴)۔ ہمارے نجات دہندہ نے خُدا کے اِنصاف اور عدِل کے سارے تقاضوں کو پورا کیا۔ اور اَب خُدا ایمان لانے والے گنہگاروں کو راست باز ٹھہرا سکتا ہے۔ پُرانے عہدنامہ کے ایمان داروں کو بھی مسیح کے کام کے وسیلے سے نجات ملی حالانکہ اُس وقت ابھی یہ کام مستقبل میں ہونے والا تھا۔ غالباً وُہ ایمان دار مسیحِ مَوعُود کے بارے میں اتنا کُچھ نہیں جانتے تھے مگر خُدا تو جانتا تھا اور اُس نے مسیح کے کام کو پہلے سے ہی اُن سے منسوب کیا۔ ہم بھی مسیح کے کام کے وسیلے سے نجات پاتے ہیں، لیکن ہمارے لئے یہ کام پہلے سے ہو چکا ہے۔
اِنجیل کا پیغام صِرف ایمان سے قبول کیا جاتا ہے (اِفسیوں ۲:۸)۔ پُرانے عہدنامہ میں لوگوں کو نجات اُن باتوں پر ایمان لانے سے ملتی تھی جو خُدا نے بُتائی تھیں۔ آج کے زمانے میں نجات خُدا کی اُس گواہی پر ایمان لانے سے ملتی ہے جو اُس نے اپنے بیٹے کے حق میں دی ہے کہ نجات کا واحد راستہ صِرف وُہی ہے (۱۔یُوحناؔ ۵:۱۱،۱۲)۔ پُرانے عہدنامہ کے مُقدسین کی طرح (عبرانیوں ۱۱:۱۰، ۱۴-۱۶) ہمیں بھی ابد تک آسمان میں رہنے کی اُمید ہے (۲۔کرنتھیوں ۵:۶-۱۰)۔
اگرچہ اِنجیل کی خوشخبری صِرف ایک ہی ہے، لیکن مُختلفِ زمانوں میں اِس کی خصُوصیات مُختلفِ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بادشاہی کی خوشخبری اور فضل کی خوشخبری میں الگ الگ باتوں پر زور دیا گیا ہے۔ بادشاہی کی خوشخبری کہتی ہے کہ «توبہ کرو اور مسیحِ مَوعُود کو قبول کرو تو جب زمین پر اُس کی بادشاہی قائم کی جائے گی تم اُس میں داخل ہو گے۔» فضل کی خوشخبری کہتی ہے کہ «توبہ کرو اور مسیح کو قبول کرو تو تم آسمان پر اُٹھائے جاؤ گے تاکہ ابد تک اُس کے ساتھ رہو۔» بنیادی طور پر دونوں ایک ہی خوشخبری ہیں __ ایمان کے وسیلے سے نجات __لیکن وُہ ظاہر کرتی ہیں کہ خُدا کے مقاصد کے تحت مُختلفِ اِنتظامی ۱؎ دَور ہوتے ہیں۔
جب مسیح بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا تھا تو وُہ اپنے بحیثیت یہُودی وں کا بادشاہ آنے کا اِعلان کرتا اور اپنی بادشاہی میں داخلے کی شرائط کی وضاحت کرتا تھا۔ اُس کے مُعجزات اُس کی بادشاہی کی صحت بخش نوعیت کو ظاہر کرتے تھے۔
۴:۲۴،۲۵ «اُس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی۔» سوریہ وُہ علاقہ ہے جو
۱؎ «اِنتظام» dispensation سے مراد اِنتظام چلانا یا مختاری ہے۔ اِس میں اُن طریقوں کا بیان ہوتا ہے جو خُدا تاریخ کے کِسی خاص دَور میں نسلِ اِنسانی کے ساتھ معاملات کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اِس لفظ کا مطلب وقت کا عرصہ نہیں بلکہ کِسی بھی دَور میں خُدا کا پروگرام ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں مغلوں کا اِنتظامِ حکومت، تو مراد ہوتی ہے وُہ پالیسیاں جن پر مغل اپنے دَورِ اِقتدار میں کار بَند رہے۔
اِسرائیل کے شمال اور شمال مشرق میں ہے۔ ہر قِسم کے بیمار لوگ اور جن میں بدروحیں تھیں اُس کی شفا بخش قوت کا تجربہ کرتے تھے۔ لوگ گلیل، دِکپلس (شمال مشرقی فلستین میں دس شہروں کا ایک وفاق)، یروشلیم، یہُودی ہ اور دریائے یردن کے پار کے مشرقی علاقے سے جوق در جوق اُس کے پاس آتے تھے۔ بی۔بی۔ وارفیلڈ لِکھتا ہے کہ «اِس علاقے سے بیماری اور موت ایک مختصر عرصے کے لئے نابود ہو گئی ہو گی» لہٰذا حیرانی کی بات نہیں کہ گلیل سے ملنے والی خبروں پر لوگ دنگ رہ جاتے تھے!
کِتابِ مُقدّس
۱۔ اُن دِنوں میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا آیا اور یہُودیہ کے بیابان میں یہ مُنادی کرنے لگا کہ
۲۔ تَوبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدِیک آ گئی ہے۔
۳۔ یہ وُہی ہے جِس کا ذکر یسعیاہ نبی کی معرفت یُوں ہُؤا کہ بیابان میں پُکارنے والے کی آواز آتی ہے کہ خُداوند کی راہ تیّار کرو۔ اُس کے راستے سِیدھے بناؤ۔
۴ ۔یہ یُوحنّا اُونٹ کے بالوں کی پوشاک پہنے اور چمڑے کا پٹکا اپنی کمر سے باندھے رہتا تھا اور اِس کی خوراک ٹِڈّیاں اور جنگلی شہد تھا۔
۵۔ اُس وقت یروشلیِم اور سارے یہُودیہ اور یَردن کے گِرد و نواح کے سب لوگ نِکل کر اُس کے پاس گئے۔
۶۔ اور اپنے گُناہوں کا اِقرار کر کے دریایِ یَردن میں اُس سے بپتِسمہ لِیا۔
۷۔ مگر جب اُس نے بُہت سے فرِیسیِوں اور صدُوقِیوں کو بپتِسمہ کے لِئے اپنے پاس آتے دیکھا تو اُن سے کہا کہ اَے سانپ کے بچّو! تُم کو کِس نے جتا دِیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟
۸۔ پس تَوبہ کے مُوافِق پَھل لاؤ۔
۹۔ اور اپنے دِلوں میں یہ کہنے کا خیال نہ کرو کہ ابرہامؔ ہمارا باپ ہے کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا اِن پتّھروں سے ابرہامؔ کے لِئے اَولاد پَیدا کر سکتا ہے۔
۱۰ ۔اور اب درختوں کی جڑ پر کُلہاڑا رکھّا ہُؤا ہے۔ پس جو درخت اچّھا پَھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔
۱۱ ۔مَیں تو تُم کو تَوبہ کے لِئے پانی سے بپتِسمہ دیتا ہُوں لیکن جو میرے بعد آتا ہے وہ مُجھ سے زورآور ہے۔ مَیں اُس کی جُوتِیاں اُٹھانے کے لائِق نہیں۔ وہ تُم کو رُوحُ القُدس اور آگ سے بپتِسمہ دے گا۔
۱۲ ۔اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے کھلیہان کو خُوب صاف کرے گا اور اپنے گیہُوں کو تو کھتّے میں جمع کرے گا مگر بُھوسی کو اُس آگ میں جلائے گا جو بُجھنے کی نہیں۔
۱۳ ۔اُس وقت یِسُوعؔ گلِیل سے یَردن کے کنارے یُوحنّا کے پاس اُس سے بپتِسمہ لینے آیا۔
۱۴ ۔مگر یُوحنّا یہ کہہ کر اُسے منع کرنے لگا کہ مَیں آپ تُجھ سے بپتِسمہ لینے کا مُحتاج ہُوں اور تُو میرے پاس آیا ہے؟
۱۵ ۔یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راست بازی پُوری کرنا مُناسِب ہے۔ اِس پر اُس نے ہونے دِیا۔
۱۶ ۔اور یِسُوعؔ بپتِسمہ لے کر فی الفَور پانی کے پاس سے اُوپر گیا اور دیکھو اُس کے لِئے آسمان کُھل گیا اور اُس نے خُدا کے رُوح کو کبُوتر کی مانِند اُترتے اور اپنے اُوپر آتے دیکھا۔
۱۷ ۔اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جِس سے مَیں خُوش ہُوں۔