۷۔ مخالفت میں اضافہ اور ردّ کیا جانا (ابواب ۱۱،۱۲)
الف۔ یُوحناؔ بپتسمہ دینے والا قید کیا جاتا ہے (۱۱:۱-۱۹)
۱۱:۱ یسؔوع نے اُن بارہ کو اِسرائیل کے گھرانے میں منادی کے خاص اور عارضی مشن پر روانہ کر دیا اور خود «وُہاں سے چلا گیا» تاکہ گلیل «کے شہروں میں تعلیم دے اور منادی کرے۔» یہ وُہ شہر ہیں جہاں شاگرد پیشتر رہتے تھے۔
۱۱:۲،۳ اُس وقت تک ہیرودیس «یُوحناؔ» کو قید میں ڈال چکا تھا۔ وُہ تنہائی محسوس کرتا اور بے حوصلہ ہو رہا تھا۔ اگر یسؔوع واقعی مسیحِ مَوعُود ہے تو اپنے پیش رو کو قید خانے میں کیوں بے حال اور پژمردہ ہونے دے رہا ہے؟ بُہت سے عظیم مردانِ خُدا کی طرح یُوحناؔ بھی وقتی طور پر ایمان میں کمزور ہونے لگا۔ اِس لئے اُس نے اپنے دو «شاگردوں کی معرفت اُس (یسؔوع ) سے پچھوا بھیجا» کہ تُو ہی وُہ ہستی ہے جِس کا وعدہ نبیوں نے کیا تھا «یا ہم دوسرے کی راہ دیکھیں؟» یعنی کیا تُو ہی مسیحِ مَوعُود ہے یا ہم کِسی دوسرے کے ظاہر ہونے کا اِنتظار کریں؟
۱۱:۴،۵ « یسؔوع نے جواب میں» اُن کو یاد دِل ایا کہ مَیں وُہی معجزے کر رہا ہوں جن کی نبوت مسیحِ مَوعُود کے حق میں کی گئی تھی کہ «اندھے دیکھتے» (یسَعیاہ ۳۵:۵) «اور لنگڑے چلتے پھرتے ہیں» (یسَعیاہ ۳۵:۶)۔ «کوڑھی پاک صاف کئے جاتے» (یسَعیاہ ۵۳:۴ بحوالہ متؔی ۸:۱۶،۱۷) «اور بہرے سنتے ہیں» (یسَعیاہ ۳۵:۵) «اور مُردے زندہ کئے جاتے ہیں» (مسیحِ مَوعُود کے حق میں اِس معجزے کی نبوت نہیں کی گئی تھی۔ یہ نبوت سے بڑھ کر تھا)۔ یسؔوع نے یُوحناؔ کو یہ بھی یاد دِل ایا کہ یسَعیاہ ۶۱:۱ میں مسیحِ مَوعُود کے حق میں پیش گوئی کے مطابق «غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔» عام مذہبی راہنما دولت مندوں اور حاکموں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، لیکن مسیحِ مَوعُود غریبوں کو خوشخبری سناتا تھا۔
۱۱:۶ اِس کے ساتھ ہی نجات دہندہ نے فرمایا «اور مبارک وُہ ہے جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔» اگر کوئی دوسرا شخص یہ بات کہتا تو ایک اِنتہائی انا پرست کی بڑ سمجھی جاتی، لیکن مسیح کے ہونٹوں پر یہ اُس کی شخصیت کی کامِل یت کا درست بیان تھا۔ ایک پُرشکوُہ فوجی جرنیل کی صورت میں ظاہر ہونے کے بجائے مسیحِ مَوعُود ایک غریب بڑھئی بن کر آیا۔ اُس کی نرم مزاجی، فروتنی اور خاکساری ایک جنگ باز جرنیل کے بارے میں مروجہ تاثر سے میل نہیں کھاتی تھی۔ جو لوگ جِسمانی خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہیں، وُہ اُس کے اِس دعوے کو شک کی نظروں سے دیکھتے تھے کہ مَیں بادشاہ ہوں۔ لیکن جو باطنی بصیرت رکھتے اور ناصرت کے یسؔوع کو مسیحِ مَوعُود جانتے اور مانتے تھے، اُن پر خُدا کی برکت ہو گی۔
آیت ۶ سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے کہ یسؔوع نے یُوحناؔ بپتسمہ دینے والے کو جھڑکا۔ بعض اوقات ہر ایک کو ضُرورتپڑتی ہے کہ اُس کے ایمان کی توثیق اور تقویت کی جائے۔ عارضی طور پر ایمان میں کمزور ہو جانا اور بات ہے اَور خُداوند یسؔوع کے بارے میں مستقل ٹھوکر کھانا دُوسری بات ہے۔ ایک ہی باب اِنسان کی زندگی کی ساری کہانی نہیں ہوتا۔ اگر ہم یُوحناؔ کی پُوری زندگی پر نظر دوڑائیں تو ہمیں وفاداری، ایمان اور اِستقلال کا ایک شان دار ریکارڈ دِکھائی دیتا ہے۔
۱۱:۷،۸ یسؔوع کی دِل جمعی والی باتیں سن کر یُوحناؔ کے شاگرد جونہی «روانہ ہو لئے» تو خُداوند نے «لوگوں سے» مخاطب ہو کر یُوحناؔ بپتسمہ دینے والے کے حق میں بڑی دِل پسند اور تعریفی باتیں کہیں۔ یہی لوگ اُس وقت جوق در جوق بیابان میں یُوحناؔ کے پاس جمع ہوتے تھے جب وُہ منادی کیا کرتا تھا۔ کیوں؟ کیا کِسی کمزور اور شش و پنج میں پڑے ہوئے آدمی کو دیکھنے جاتے تھے جو «ہُوا» کے ہر جھونکے سے «سرکنڈے» کی طرح ہلنے لگتا تھا؟ ہرگز نہیں! یُوحناؔ ایک نڈر اور بے خوف مبشر اور باضمیر شخص تھا۔ وُہ خاموش رہنے پر دکھ سہنے کو اور جھوٹ بولنے پر موت کو ترجیح دیتا تھا۔ تو کیا وُہ شاندار پوشاک میں ملبوس کِسی درباری امیر یا رئیس کو «دیکھنے گئے تھے» جو محل میں عیش و عشرت کے ساتھ رہتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ یُوحناؔ تو ایک سیدھا سادہ مردِ خُدا تھا جِس کی نہایت سادہ اور ریاضتی زندگی اُن لوگوں کی اِنتہائی دُنیادارانہ زندگی کے منہ پر ایک طمانچہ تھی۔
۱۱:۹ تو کیا یہ لوگ «ایک نبی دیکھنے کو» بیابان میں گئے تھے؟ ہاں، یُوحناؔ نبی تو تھا __ بلکہ حقیقت میں تمام نبیوں سے «بڑا» ہے۔ یہاں خُداوند یہ نہیں کہہ رہا کہ وُہ اپنے شخصی کردار، قادر الکلامی یا اپنے کلام کی تاثیر کے اِعتبار سے دوسرے نبیوں سے بڑا اور برتر تھا بلکہ اپنے مُرتبے کے اعتبار سے برتر تھا کہ وُہ مسیحِ مَوعُود بادشاہ کا پیش رَو تھا۔
۱۱:۱۰ آیت ۱۰ میں اِس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ یُوحناؔ ملاکی نبی (۳:۱) کی پیش گوئی کی تکمیل تھا۔ یُوحناؔ وُہ «پیغمبر» تھا جِسے خُداوند کے آگے آ کر لوگوں کو اُس کی آمد کے لئے «تیار» کرنا تھا۔ دوسرے آدمیوں نے مسیحی کی آمد کی پیش گوئی کی تھی مگر یُوحناؔ وُہ ہستی تھا جِس کو چنا گیا تھا کہ منادی کرے کہ مسیحِ مَوعُود واقعی آ گیا ہے۔ کِسی نے کیا خوب کہا ہے کہ «یُوحناؔ نے مسیح کے لئے راستہ کھولا اور پھر مسیح کی خاطر راستے سے ہٹ گیا۔»
۱۱:۱۱ یہ بیان کہ «جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے، وُہ اُس سے بڑا ہے» ثابُت کرتا ہے کہ یسؔوع یُوحناؔ کی سیرت و کردار کی نہیں بلکہ اُس کے اعزاز کی بات کر رہا تھا۔ وُہ شخص «جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے» ضروری نہیں کہ اُس کی سیرت و کردار یُوحناؔ سے بُہتر ہو لیکن اُس کا اعزاز یقینا «بڑا» ہے۔ آسمان کی بادشاہی کا شہری ہونا، اُس بادشاہی کی آمد کا اعلان کرنے سے بڑا اعزاز ہے۔ یُوحناؔ کو اِس لحاظ سے بڑا اعزاز حاصل تھا کہ اُس نے خُداوند کے لئے راہ تیار کی۔ لیکن وُہ اِس بادشاہی کی برکات سے فیض یاب ہونے اور اُن کا لطف اُٹھانے تک زندہ نہ رہا۔
۱۱:۱۲ یُوحناؔ کی خدمت کے آغاز سے لے کر اُس کی حالیہ قید تک «آسمان کی بادشاہی پر زور (تشدد) ہوتا رہا»۔ فریسی اور فقیہ پُوری شدت سے اُس کی مخالفت کرتے رہے تھے۔ بادشاہ ہیرودیس نے بھی اُس بادشاہی کے نقیب کو قید کر کے اِس بادشاہی کو نقصان پہنچانے میں اپنا حصہ ادا کر دیا تھا۔
«… اور زور آور اُسے چھین لیتے ہیں۔» اِس بیان کی دو تشریحات ہو سکتی ہیں۔ اوّل، بادشاہ کے دشمنوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ اِسے چھین کر تباہ و برباد کر دیں۔ اُنہوں نے یُوحناؔ بپتسمہ دینے والے کو ردّ کر دیا۔ یہ اِس بات کا پیش خیمہ تھا کہ وُہ خود بادشاہ اور اِس طرح بادشاہی کو بھی ردّ کر دیں گے۔ دوم، اِس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جو لوگ بادشاہ کی آمد کے لئے تیار تھے، اُنہوں نے اُس کے اعلان کا جواب پورے جوش و خروش سے دیا اور اِس میں داخل ہونے کے لئے کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ لُوقاؔ ۱۶:۱۶ کا یہی مطلب ہے «شریعت اور انبیا یُوحناؔ تک رہے۔ اُس وقت سے خُدا کی بادشاہی کی خوشخبری دی جاتی ہے اور ہر ایک زور مار کر اُس میں داخل ہوتا ہے۔» یہاں بادشاہی کی تصویر ایک محصور شہر کی مانند ہے۔ باہر سے اِنسانوں کا ہر طبقہ اِس میں داخل ہونے کے لئے زور مار رہا ہے۔ روحانیت میں بھی کُچھ نہ کُچھ زور آزمائی اور زبردستی اور تشدد ضروری ہوتا ہے۔
کِسی بھی تشریح کو اپنایا جائے، خیال اور مفہُوم یہی ہے کہ یُوحناؔ کی منادی سے ایک مشتعل اور شدید ردِّعمل کا آغاز ہُوا جِس کے اثرات بُہت گہرے اور وسیع تھے۔
۱۱:۱۳ «کیونکہ سب نبیوں اور توریت نے یُوحناؔ تک نبوت کی۔» پیدائش سے لے کر ملاکی تک پورے پُرانے عہدنامہ نے مسیحِ مَوعُود کی آمد کی نبوت کی ہے۔ جِس وقت یُوحناؔ نے تاریخ کے اسٹیج پر قدم رکھا تو اُس کا بے مثال اور یکتا کام صِرف نبوت کرنا نہیں تھا بلکہ یہ اعلان کرنا تھا کہ مسیح کی پہلی آمد کے بارے میں ساری نبوتیں پُوری ہو گئی ہیں۔
۱۱:۱۴ ملاکی نے نبوت کی تھی کہ مسیحِ مَوعُود کے ظہور سے پہلے ایلیاہ اُس کے پیش رَو کی صورت میں ظاہر ہو گا (ملاکی ۴:۵،۶)۔ اگر لوگ یسؔوع کو مسیحِ مَوعُود قبول کرنے پر آمادہ ہوتے تو یُوحناؔ «ایلیاہ» کے کردار پر پورا اُترتا۔ ایلیاہ دوبارہ مجِسم ہو کر یُوحناؔ کی صورت میں نہیں آیا تھا۔ یُوحناؔ ۱:۲۱ میں یُوحناؔ نے ایلیاہ ہونے سے اِنکار کیا۔ لیکن وُہ «ایلیاہ کی رُوح اور قوت میں» (لُوقاؔ ۱:۱۷) مسیح کے آگے آگے چلا۔
۱۱:۱۵ سارے لوگ یُوحناؔ کو پہچان سکے اور نہ اُس کی خدمت کی بڑی اہمیّت کو ہی سمجھ سکے۔ اِس لئے خُداوند نے یہ بھی کہا کہ «جِس کے سننے کے کان ہوں وُہ سن لے۔» مطلب ہے کہ دھیان اور توجہ دو اور اِس بات کو مانو۔ جو باتیں سنتے ہو، اُن کے مفہُوم اور اہمیّت کو سمجھنے سے قاصر نہ رہو۔ اگر یُوحناؔ ایلیاہ کے بارے میں پیش گوئی پُوری کرتا ہے تو یسؔوع یقینا مسیحِ مَوعُود ہے! اِن الفاظ سے یسؔوع نے تصدیق کی کہ یُوحناؔ ایلچی ہے اور دوبارہ تاکیدی طور پر کہا کہ مَیں ہی خُدا کا مسیح ہوں۔ اگر پہلی بات کو تسلیم کر لیا جائے تو دُوسری بات کو تسلیم کرنا لازم آتا ہے۔
۱۱:۱۶،۱۷ لیکن جِس «پشت» یعنی جِس «زمانہ کے لوگوں» سے وُہ مخاطب تھا، وُہ اِن دونوں میں سے کوئی بات قبول کرنے میں دِل چسپی نہیں رکھتے تھے۔ جن یہُودی وں کو اُس کی پہلی آمد دیکھنے کا شرف حاصل ہُوا، اُن کے دِل میں نہ مسیحِ مَوعُود بادشاہ کے لئے نہ اُس کے پیروکاروں کے لئے کوئی دِل چسپی تھی۔ اُن کے لئے یہ دونوں ہی معما تھے۔ یسؔوع نے اُن کو ایسے زُود رنج لڑکوں کے مُشابہٹھہرایا «جو بازاروں میں بیٹھے ہوئے» ہوتے ہیں اور صُلح جوئی کی کِسی قِسم کی بات سے راضی نہیں ہوتے۔ اگر اُن کے دوست کہیں کہ ہم بانسلی بجاتے ہیں اور تم ناچو، تو وُہ نہیں مانتے۔ اگر دوست کہتے ہیں کہ ہم ماتم کرنے کا کھیل کھیلتے ہیں تو وُہ اُن کے ساتھ ماتم کرنے سے بھی اِنکار کرتے ہیں۔
۱۱:۱۸،۱۹ یُوحناؔ ایک نفس کُش اور ریاضت کرنے والا شخص تھا۔ یہُودی وں نے اِلزام لگایا کہ «اس میں بدرُوح ہے۔» دُوسری طرف «ابنِ آدم» عام آدمیوں کی طرح «کھاتا پیتا آیا»۔ یہُودی یُوحناؔ کی نفس کُشی اور ریاضت پسندی سے ناخوش تھے۔ چنانچہ اُن کو یسؔوع کے عام انداز میں کھانے پینے پر خوش ہونا چاہئے تھا۔ لیکن نہیں! وُہ اُسے «کھائو اور شرابی آدمی، محصول لینے والوں اور گنہگاروں کا یار» قرار دیتے تھے۔ بے شک یسؔوع نہ کھائو تھا نہ شرابی، اُن کا اِلزام سراسر بُہتان تراشی اور من گھڑت تھا۔ البُتہ یہ بات بالکُل درست ہے کہ وُہ «محصول لینے والوں اور گنہگاروں کا یار» ہے۔ مگر اِس مفہُوم میں نہیں جِس میں یہُودی کہتے تھے۔ وُہ گنہگاروں کا یار بنا تاکہ اِنہیں اُن کے گُناہ وں سے بچا لے۔ مگر نہ تو وُہ کبھی اُن کے گُناہ وں میں شریک ہُوا نہ اِنہیں اچھا قرار دیا۔
«مگر حکمت اپنے کاموں سے راست ثابُت ہوئی۔» بے شک خُداوند یسؔوع «مجِسم حکمت» (۱۔کرنتھیوں ۱:۳۰) ہے۔ غیر ایمان دار بے شک اُس پر کیچڑ اُچھالیں، لیکن وُہ اُن کے کاموں کے سبب سے جو وُہ اپنے پیروکاروں میں کرتا ہے، راست ٹھہرتا ہے۔ خواہ یہُودی اُسے مسیحِ مَوعُود بادشاہ تسلیم کرنے سے اِنکار کریں لیکن اُس کے معجزے اور اُس کے جاں نثار شاگردوں کا روحانی انقلاب اُس کے دعوئوں کی پُوری پُوری تصدیق کرتا ہے۔
ب۔ گلیل کے غیر تائب شہروں پر افسوس (۱۱:۲۰-۲۴)
۱۱:۲۰ عظیم اعزاز اور اِستحقاق کے ساتھ عظیم ذمہ داری بھی وابَستہ ہوتی ہے۔ کِسی شہر کو وُہ اعزاز حاصل نہ ہُوا جو خرازین، بیت صیدا اور کفرنحوم کو ملا۔ ابنِ آدم اِن کے گرد آلود گلی کوچوں میں چلتا پھرتا رہا اور اُن کے منظورِ نظر لوگوں کو تعلیم دیتا رہا اور اُن کی فصیلوں کے اندر « معجزے» دِکھاتا رہا۔ اِتنی بڑی بڑی شہادتوں کے باوجود اُنہوں نے «توبہ» کرنے سے سختی سے اِنکار کیا۔ چنانچہ تعجب کیسا کہ خُداوند نے اُن کے لئے ایسے بُرے حشر کی خبری دی۔
۱۱:۲۱ پہلے اُس نے خرازین اور بیت صیدا کی بات کی۔ اُن شہروں نے اپنے نجات دہندہ خُدا کی فضل بھری منت سماجت سنی تھی، لیکن دانستہ منہ موڑ لیا تھا۔ اِس سے خُداوند کا خیال صور اور صیدا کی طرف چلا گیا۔ یہ شہر اپنی بدی اور بُت پرستی کے باعث خُدا کے غضب سے تباہ ہوئے تھے۔ اگر اُن کو یسؔوع کے معجزے دیکھنے کا اعزاز مل جاتا تو وُہ اپنے آپ کو خاکسار کر کے توبہ کر لیتے۔ اِس لئے «عدالت کے دن» صور اور صیدا کا حال خرازین اور بیت صیدا کے حال سے بُہتر ہو گا۔
۱۱:۲۲ «عدالت کے دن … حال زیادہ برداشت کے لائق ہو گا۔» اِن الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جِس طرح آسمان پر اَجر کے درَج ات ہوں گے (۱۔کرنتھیوں ۳:۱۲-۱۵) اُسی طرح جہنم میں سزا کے بھی درَج ات ہوں گے۔ وُہ واحد گُناہ جو اِنسانوں کو جہنم کے حوالے کر دیتا ہے، وُہ یسؔوع مسیح کی تابع داری کرنے سے اِنکار ہے (یُوحناؔ ۳:۳۶)۔ لیکن جہنم میں دُکھوں کی شدت اِس بات سے مشروط ہے کہ اِنسان نے کتنے اِعزازات کی تحقیر کی اور کتنے گُناہ وں کا مرتکب ہُوا۔
۱۱:۲۳،۲۴ کِسی شہر پر اِتنی مہربانی نہیں ہوئی تھی جتنی کفرنحوم پر۔ جب ناصرت میں یسؔوع کو ردّ کیا گیا تو اس کے بعد سے کفرنحوم ہی اُس کا اپنا شہر بن گیا تھا (۹:۱ بحوالہ مرقسؔ ۲:۱-۱۲) اور اُس کے بعض غیر معمولی مُعجزات __ جو اُس کے مسیحِ مَوعُود ہونے کے ناقابلِ تردید گواہ تھے __ اِسی شہر میں کئے گئے تھے۔ اگر ہم جنسیت یا لواطت کے مرکز اور ذلیل شہر سدوم کو ایسا شرف حاصل ہو جاتا تو وُہ ضرور توبہ کر لیتا اور بچ جاتا۔ لیکن کفرنحوم کا شہر تو کہیں بڑا تھا۔ اُس کے باشندوں کو چاہئے تھا کہ توبہ کر کے کمال خوشی کے ساتھ خُداوند کو قبول کر لیتے، مگر کفرنحوم نے موقع کھو دیا۔ اگرچہ سدوم کی برگشتگی کا گُناہ بُہت بڑا تھا مگر کفرنحوم نے تو خُدا کے مُقدس بیٹے کو ردّ کر دیا تھا۔ اِس سے بڑا اَور کوئی گُناہ ہو نہیں سکتا۔ اِس لئے عدالت کے دن سدوم کو اِتنی سخت سزا نہیں ملے گی جتنی کفرنحوم کو۔ اعزاز اور شرف کے لحاظ سے کفرنحوم کو «آسمان تک بلند» کیا گیا، مگر عدالت کے دن اُسے «عالمِ اَرواح میں» اُتارا جائے گا۔ اگر یہ بات کفرنحوم پر صادق آتی ہے تو اُن مقامات کا کیا حشر ہو گا جہاں بائبلوں کے انبار لگے ہوئے ہیں، جہاں ریڈیو کی نشریات کے ذریعے خوشخبری کی منادی ہوتی ہے اور جہاں کِسی کے پاس کوئی عذر باقی نہیں۔
ہمارے خُداوند کے زمانے میں گلیل کے چار شہر بُہت نمایاں اور مشہور تھے۔ یہ تھے خرازین، بیت صیدا، کفرنحوم اور تبریاس۔ خُداوند نے پہلے تین شہروں پر افسوس کیا مگر چوتھے پر نہیں کیا۔ اِس کا نتیجہ کیا ہُوا؟ خرازین اور بیت صیدا کی تباہی اور بربادی اِتنی مکمل ہے کہ اِن کی جائے وقوع تک کا عِلم نہیں۔ کفرنحوم کی جائے وقوع کا بھی صحیح عِلم نہیں ہے۔ تبریاس ابھی تک موجود ہے۔ خُداوند کی پیش گوئی کی ایسی نمایاں تکمیل ایک اَور ثبوت ہے کہ وُہ عالمِ کُل ہے اور کہ بائبل مُقدس اِلہامی کتاب ہے۔
ج۔ اپنے ردّ کئے جانے پر مُنجیّ کا ردِّعمل (۱۱:۲۵-۳۰)
۱۱:۲۵،۲۶ گلیل کے اِن تینوں شہروں کے پاس نہ تو خُدا کے مسیح کو دیکھنے کی آنکھیں تھیں، نہ اُس سے پیار کرنے کو دِل تھا۔ وُہ جانتا تھا کہ اُن کی طرف سے ردّ کیا جانا، اِس حقیقت کا پیش خیمہ ہے کہ مجھے وسیع تر پیمانے پر ردّ کیا جائے گا۔ اُن کی ہٹ اور کٹر پن پر اُس کا ردِّعمل کیا تھا؟ اُس نے تلخی، تُرش مزاجی یا اِنتقام لینے کا رویہ نہیں دِکھایا بلکہ بلند آواز سے خُدا کی شکرگزاری کی کہ کوئی بات بھی اُس کے عظیم مقاصد میں سدِراہ نہیں ہو سکتی۔ «اے باپ، آسمان اور زمین کے خُداوند مَیں تیری حمد کرتا ہوں کہ تُو نے یہ باتیں دانائوں اور عقل مندوں سے چھپائیں اور بچوں پر ظاہر کیِں۔»
یہاں ہمیں دو ممکنہ غلط فہمیوں سے بچنا چاہئے۔ اوّل، یسؔوع گلیل کے شہروں کی ناگزیر عدالت اور اُن پر غضب پر خوشی کا اِظہار نہیں کر رہا تھا۔ دوم، نہ وُہ کہہ رہا تھا کہ خُدا نے ظلم کر کے روشنی کو دانائوں اور عقل مندوں سے دُور رکھا ہے۔
اِن شہروں کو ہر موقع ملا کہ خُداوند یسؔوع کا خیر مقدم کریں، لیکن اُنہوں نے جان بوجھ کر اُس کو ماننے سے اِنکار کیا۔ جب اُنہوں نے نور کا اِنکار کیا تو خُدا نے بھی نور کو اُن سے روک لیا۔ لیکن خُدا کے اِرادے اور منصوبے ناکام نہیں رہ سکتے۔ اگر دانا اور عقل مند لوگ ایمان نہیں لائیں گے تو خُدا اُس کو سادہ اور خاک سار لوگوں پر ظاہر کرے گا۔ وُہ بھوکوں کو اچھی چیزوں سے سیر کرتا اور دولت مندوں کو خالی ہاتھ لوٹا دیتا ہے (لُوقاؔ ۱:۵۳)۔
جو لوگ اپنے آپ کو اِتنا دانا اور فہیم سمجھتے ہیں کہ کہتے ہیں ہمیں مسیح کی ضُرورتنہیں، اُن کو ازرُوئے اِنصاف اَندھے پن کی سزا ملتی ہے۔ مگر جو اپنی نادانی کا اِقرار کرتے ہیں، اِنہیں اُس ہستی کا مُکاشفہعطا ہوتا ہے «جِس میں حکمت اور معرفت کے سب خزانے پوشیدہ ہیں» (کلسیوں ۲:۳)۔ یسؔوع نے باپ کا اِس بات پر شکر کیا کہ اُس نے ٹھہرا دیا ہے کہ جہاں کُچھ لوگ مسیح کو ردّ کریں گے، وُہاں دوسرے اُسے قبول کریں گے۔ عظیم بے ایمانی کے رُوبرو اُسے یہ تسلی حاصل تھی کہ خُدا کا مقصد اور اِرادہ سب پر بھاری اور حاوی ہے۔
۱۱:۲۷ باپ نے «سب کُچھ» مسیح کو «سونپ دیا» تھا۔ اگر کوئی دوسرا شخص ایسا دعویٰ کرتا تو بُہت گستاخ اور متکبر سمجھا جاتا، مگر جہاں تک خُداوند یسؔوع کا تعلق ہے یہ بات بالکُل سچ ہے۔ اِس لمحہ، جب کہ چاروں طرف مخالفت کا زور تھا، لگتا نہیں تھا کہ سب کُچھ اُس کے کنٹرول میں ہے، مگر یہ بات بالکُل درست تھی۔ اُس کی زندگی کا پروگرام جلالی فتح کی طرف بڑھ رہا تھا اور کوئی اُسے روک نہیں سکتا تھا۔ «کوئی بیٹے کو نہیں جانتا سوا باپ کے۔» مسیح کی ذات ایک ناقابلِ فہم راز ہے۔ ایک ہی شخص میں الوہیّت اور بشریت کا اِجتماع کئی مسائل پیش کرتا ہے جو اِنسانی عقل کو چکرا دیتے ہیں۔ مثلاً ایک تو اُس کی موت کا مسئلہ ہے، خُدا مر نہیں سکتا۔ مگر یسؔوع خُدا ہے، اور یسؔوع مر گیا۔ اِس کے باوجود اُس کی الٰہی سیرت اور بشری سیرت کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اور اِسی طرح اگرچہ ہم اُسے جان سکتے، اُس سے محبُت رکھ سکتے اور اُس پر ایمان لا سکتے ہیں مگر ایک مفہُوم میں صِرف باپ ہی حقیقی طور پر اُسے جان اور سمجھ سکتا ہے۔
«اور کوئی باپ کو نہیں جانتا سوا بیٹے کے اور اُس کے جِس پر بیٹا اُسے ظاہر کرنا چاہے۔» باپ بھی اِتنا دقیق ہے کہ کِسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ بالآخر خُدا ہی خُدا کو جان اور سمجھ سکتا ہے۔ اِنسان اُس کو اپنی عقل یا ذہانت سے ہرگز نہیں جان سکتا، مگر خُداوند یسؔوع جن پر چاہتا ہے باپ کو ظاہر کر سکتا ہے، اور کرتا ہے۔ جو بیٹے کو جان لیتا ہے، وُہ باپ کو بھی جان لیتا ہے (یُوحناؔ ۱۴:۷)۔
مگر اِتنا کُچھ کہنے کے باوجود ہمیں اِقرار کرنا پڑتا ہے کہ آیت ۲۷ کی تشریح کرنے میں ہمیں ایسی سچائیوں اور حقائق سے واسطہ ہے جو ہماری عقل سے بے حد بلند اور ارفع ہیں۔ ہماری عقل محدود ہے۔ وُہ تو ابدیت میں بھی خُدا کی بزرگی اور عظمت کو نہیں جان پائے گی اور نہ تجِسم کے بھید کو ہی سمجھ سکے گی۔ جب ہم یہ پڑھتے ہیں کہ خُدا صِرف اُن ہی پر ظاہر کیا جا سکتا ہے جن کو بیٹا چنتا ہے تو شاید ہم کو خیال گزرے کہ صِرف چند پسندیدہ اور منظورِ نظر لوگ ہی چنے جا سکتے ہیں اور یہ چنائو بے بنیاد اور زبردستی کا ہو گا۔ لیکن اگلی آیت اِس قِسم کی تشریح سے بچاتی ہے۔ خُداوند یسؔوع ایک عالمگِیر دعوت دیتا ہے کہ جتنے محنت اُٹھانے والے اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگ ہیں، سب اُس کے پاس آئیں تو وُہ آرام پائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں جن کو وُہ چنتا ہے کہ اُن پر باپ کو ظاہر کرے وُہ لوگ ہیں جو اُس پر ایمان لاتے اور اُسے خُداوند اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔ جب ہم اِس بے حد مہربانی کی دعوت کا جائزہ لیتے ہیں تو یاد رکھیں کہ یہ اُس موقع پر دی گئی جب گلیل کے پسندیدہ اور منظورِ نظر شہروں نے اُسے پُوری شد و مد سے ردّ کر دیا تھا۔ اِنسان کی نفرت، عدالت اور ہٹ دھرمی اُس کی محبُت اور فضل کو ختم نہ کر سکی۔ اے۔جے۔میک کلین (McClain)کہتا ہے کہ
«اگرچہ اِسرائیلی قوم خُدا کی سخت عدالت کی طرف بڑھ رہی ہے، بادشاہ اپنے حتمی اور آخری کلام میں شخصی نجات کا دروازہ کھولتا اور اِس طرح ثابُت کرتا ہے کہ مَیں عدالت اور غضب کی دہلیز پر بھی فضل کا خُدا ہوں۔»
۱۱:۲۸ «آئو»۔ آنے کا مطلب ہے ایمان لانا (اعمال ۱۶:۳۱)، قبول کرنا (یُوحناؔ ۱:۱۲)، کھانا (یُوحناؔ ۶:۳۵)، پینا (یُوحناؔ ۷:۳۷)، متوجہ ہونا (یسَعیاہ ۴۵:۲۲)، اِقرار کرنا (۱۔یُوحناؔ ۴:۲)، سننا (یُوحناؔ ۵:۲۴،۲۵)، دروازے سے داخل ہونا (یُوحناؔ ۱۰:۹)، دروازہ کھولنا (مُکاشفہ۳:۲۰)، اُس کی پوشاک کا کنارہ چھونا (متؔی ۹:۲۰،۲۱) اور خُداوند مسیح کے وسیلے سے ہمیشہ کی زندگی کی بخشش کو قبول کرنا (رؔومیوں ۶:۲۳)۔
«میرے پاس»۔ ایمان کِسی کلیسیا، کِسی عقیدے یا کِسی مذہبی لیڈر پر نہیں، بلکہ زندہ مسیح پر لانا ہے۔ نجات ایک ہستی میں ہے۔ جن کے پاس یسؔوع ہے، وُہ نجات یافتہ ہیں۔
«اے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو، سب …» یسؔوع کے پاس آنے کے لئے اِنسان کو اِقرار کرنے کی ضُرورتہے کہ مَیں گُناہ کے بوجھ تلے دبا ہُوا ہوں۔ صِرف وُہی نجات پا سکتے ہیں جو تسلیم کریں کہ ہم بھٹکے ہوئے ہیں۔ خُداوند یسؔوع مسیح پر ایمان لانے سے پہلے خُدا کے سامنے توبہ کرنا ضرور ہے۔
« مَیں تم کو آرام دوں گا۔» غور کریں کہ یہاں «آرام» ایک بخشش ہے۔ ہم نے اِسے کمایا نہیں، نہ اِس کے حق دار ہیں۔ یہ «نجات کا آرام» ہے جو اِس حقیقت کو جان لینے سے ملتا ہے کہ یسؔوع نے کلوری کی صلیب پر مخلصی اور کفارے کے کام کو پورا کیا۔ یہ «ضمیر کا آرام» ہے جو اِس حقیقت کو جان لینے کے بعد ملتا ہے کہ میرے گُناہ وں کا ہرجانہ ہمیشہ کے لئے ایک ہی دفعہ ادا کر دیا گیا اور خُدا اِس کی دوبارہ ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرے گا۔
۱۱:۲۹ آیات ۲۹ اور ۳۰ میں دعوت نجات سے خدمت میں بدِل جاتی ہے۔
«میرا جوأ اپنے اُوپر اُٹھا لو۔» اِس کا مطلب ہے اُس کی مرضی کے تابع ہو جانا، اپنی زندگی کا کنٹرول اُس کے سپرد کر دینا (رؔومیوں ۱۲:۱،۲)۔
«اور مجھ سے سیکھو۔» جب ہم زندگی کے ہر شعبے میں اُس کو مالک تسلیم کرتے ہیں تو وُہ اپنی راہیں ہمیں سکھاتا ہے۔
«کیونکہ مَیں حلیم ہوں اور دِل کا فروتن۔» یہاں فریسیوں کے ساتھ تقابل نظر آتا ہے۔ وُہ سخت اور مغرور تھے۔ سچا اور حقیقی اُستاد حلیم اور «فروتن» ہوتا ہے۔ جو اُس کا جوأ اُٹھاتے ہیں وُہ کمترین جگہ قبول کرنا سیکھتے ہیں۔
« تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔» یہ ضمیر کا آرام نہیں بلکہ دِل کا آرام ہے، جو خُدا اور اِنسان کے سامنے پست ترین جگہ قبول کرنے کے بعد ملتا ہے۔ یہ وُہ آرام ہے جِس کا تجربہ اُس وقت ہوتا ہے جب اِنسان مسیح کی خدمت کرتا اور بڑا بننے کی کوشِش چھوڑ دیتا ہے۔
۱۱:۳۰ «کیونکہ میرا جوأ ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔» یہاں پھر فریسیوں سے نمایاں تقابُل ہے۔ یسؔوع نے اُن کے بارے میں کہا کہ «وُہ ایسے بھاری بوجھ جن کو اُٹھانا مشکل ہے باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ اُن کو اپنی اُنگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے» (متؔی ۲۳:۴)۔ یسؔوع کا جوأ ملائم ہے، اِس سے رگڑیں اور خراشیں نہیں لگتیں۔
«اور میرا بوجھ ہلکا» اِس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مسیحی زندگی میں مسائل، مشکلات، مصائب، محنت مشقت اور غم نہیں ہوں گے۔ تاہم یہ مطلب ضرور ہے کہ ہمیں اِن کو اکیلے برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔ ہم ایک ایسی ہستی کے ساتھ جوئے میں جت گئے ہیں جِس کا فضل ہماری ہر ضُرورتکے لئے کافی و وافی ہے۔ اُس کی خدمت کرنا غلامی نہیں بلکہ کامِل خوشی ہے۔ جے۔ایچ۔ Jowettکہتا ہے:
«ایمان دار کے لئے مہلک غلطی یہ ہے کہ زندگی کے بوجھ کو اکیلے ہی اُٹھانے کی کوشِش کرے۔ خُدا کا کبھی ارادہ نہیں تھا کہ اِنسان اپنا بوجھ تنہا اُٹھائے۔ اِس لئے مسیح جوئے کا ذِکر کرتا ہے۔ جوأ گردن کا ایک ایسا ساز ہے جو دو کے لئے ہوتا ہے اور خُداوند خود حجت کرتا ہے کہ اُن میں سے ایک مَیں ہوں گا۔ وُہ ہر تلخ اور تکلیف دِہ مشقت میں ہمارا شریک بننا چاہتا ہے۔ مسیحی زندگی میں چین اور فتح مندی کا راز اِس بات میں ہے کہ ’خودی‘ کے سخت جوئے کو اُتار پھینکو اور مالک کے ’ملائم‘ جوئے کو قبول کر لو۔»
د۔ یسؔوع سبت کا مالک ہے (۱۲:۱-۸)
۱۲:۱ اِس باب میں یسؔوع کو ردّ کرنے کے بڑھتے ہوئے بحران کا بیان ہے۔ فریسیوں کے بغض اور دشمنی کا پیالہ لبریز ہو کر چھلکنے کو ہے۔ جِس تنازُع نے طوفان برپا کیا، وُہ تھا سبُت کا مسئلہ۔
کِسی «سبُت» کو «یسؔوع » اپنے شاگردوں سمیت «کھیتوں» میں سے ہو کر گزر رہا تھا۔ اُس کے شاگرد «بالیں توڑ توڑ کر کھانے لگے۔» شریعت کے مطابق اِنہیں اِجازت تھی کہ پڑوسی کے کھیت میں سے حسب ِضُرورتکھا لیں، مگر اُسے ہنسوا نہ لگائیں (اِستثنا ۲۳:۲۵)۔
۱۲:۲ مگر «فریسی» تو شریعت میں بال کی کھال نکالتے تھے۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ شاگردوں نے «سبُت» کو توڑا ہے۔ اگرچہ الزام کی نوعیت بیان نہیں کی گئی مگر اُنہوں نے یہ الزام لگائے ہوں گے کہ (۱) فصل کاٹنا (بالیں توڑنا) (۲) فصل کو گاہنا (بالوں کو ہاتھوں میں مسلنا) (۳) فصل کو اُڑانا (دانے اور بھوسا الگ کرنا)۔ سبُت کے دن اِن میں سے کوئی کام کرنا روا نہیں تھا۔
۱۲:۳،۴ یسؔوع نے اُن کے مضحکہ خیز اعتراض کا جواب دینے کے لئے اِنہیں «دائود» کی زندگی کا ایک واقعہ یاد دِل ایا۔ اپنی جلا وطنی کے دِنوں میں ایک دفعہ داؔؤداور اُس کے آدمیوں کو بیابان میں رہنا پڑا۔ اُس موقعے پر اُنہوں نے «نذر کی روٹیاں کھائیں» یعنی یادگاری کی وُہ بارہ روٹیاں جن کا کھانا سوائے کاہنوں کے اَور کِسی کو روا نہ تھا۔ نہ دائود، نہ اُس کے آدمی کاہن تھے، مگر خُدا نے اُن کو ایسا کرنے پر کبھی قصوروار نہ ٹھہرایا۔ آخر کیوں؟
وجہ یہ ہے کہ خُدا کی شریعت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اپنے ماننے والوں کے لئے مشکلات پیدا کرے۔ داؔؤدکا کوئی قصور نہیں تھا کہ وُہ جلاوطن تھا۔ ایک گُناہ آلودہ قوم نے اُسے ردّ کر دیا تھا۔ اگر اُس کو اُس کا جائز مقام دے دیا جاتا، تو اُسے اور اُس کے آدمیوں کو نذر کی روٹیاں نہ کھانی پڑتیں۔ چونکہ بنی اِسرائیل میں گُناہ تھا اِس لئے خُدا نے ایک ایسے کام کی اِجازت دے دی، جو دُوسری صورت میں ناروا تھا۔
یہاں مثال بالکُل صاف ہے۔ خُداوند یسؔوع اِسرائیل کا بادشاہ تھا، لیکن قوم اُسے اپنا حاکمِ اعلیٰ اور شہنشاہ ماننے پر آمادہ نہ تھی۔ اگر اُس کو اُس کا جائز مقام دے دیا جاتا، تو اُس کے شاگردوں کی یہ حالت نہ ہوتی کہ سبُت کو یا ہفتے
کے کِسی اَور دن بھی راہ چلتے بالیں توڑ توڑ کر کھاتے۔ تاریخ اپنے آپ کو دُہرا رہی تھی۔ خُداوند نے اپنے شاگردوں کو نہیں جھڑکا کیونکہ اُنہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا۔
۱۲:۵ یسؔوع نے فریسیوں کو یاد دِل ایا کہ «کاہن … سبُت کی بے حرمتؔی کرتے ہیں۔» کہ وُہ سبُت کے دن جانوروں کو ذبح کرتے، اُن کی قربانی چڑھاتے اور کئی طرح کے خدمتؔی کام کرتے ہیں (گنتی ۲۸:۹،۱۰) مگر «بے قصور» رہتے ہیں کیونکہ وُہ خُدا کی خدمت میں مشغول ہوتے ہیں۔
۱۲:۶ فریسی جانتے تھے کہ کاہن ہر سبُت کو ہیکل میں کام کرتے ہیں، تو بھی ہیکل ناپاک نہیں ہوتی۔ تو پھر وُہ شاگردوں پر کیوں نکتہ چینی کریں اور وُہ بھی اُس ہستی کی موجودگی میں «جو ہیکل سے بھی بڑا ہے»۔ مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وُہ «چیز» جو ہیکل سے بھی بڑی ہے یعنی خُدا کی بادشاہی جو بادشاہ کی ذات میں وُہاں موجود تھی۔
۱۲:۷ فریسی کبھی بھی خُدا کے دِل کی بات کو نہیں سمجھ سکے تھے۔ ہوسیع ۶:۶ میں اُس نے کہا تھا کہ « مَیں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہوں۔» خُدا رحم اور ترس کو رسموں پر ترجیح دیتا ہے۔ اُسے یہ پسند ہے کہ میرے لوگ اپنی بھوک مٹانے کے لئے سبُت کے دن بالیں توڑیں بجائے اِس کے کہ اس دن کو منانے کے لئے جِسمانی تکلیف اور دُکھ میں مبُتلا ہوں۔ اگر فریسیوں نے اِتنی بات سمجھ لی ہوتی تو وُہ شاگردوں کی کبھی مذمت نہ کرتے۔ مگر فریسی اِنسانی بھلائی کی نسبُت تکلفات کی زیادہ قدر کرتے تھے۔
۱۲:۸ پھر نجات دہندہ نے مزید کہا کہ «کیونکہ ابنِ آدم سبُت کا مالک ہے۔» وُہی تو ہے جِس نے یہ قانون بنایا تھا۔ چنانچہ وُہی اِس کی تشریح اور وضاحت کرنے کا حق دار ہے۔ ای۔ ڈبلیو۔ روجرز (Rogers)کہتا ہے کہ
«معلوم ہوتا ہے کہ پاک رُوح کی ہدایت پا کر متؔی خُداوند یسؔوع کے بُہت سے ناموں اور مناصب پر تبصرہ کر رہا ہے۔ وُہ ابنِ آدم، سبُت کا مالک، میرا خادم، میرا پیارا، ابنِ دائود، ہیکل سے بھی بڑا، یُوناؔہ سے بھی بڑا، سلیمان سے
بھی بڑا ہے۔ متؔی یہ بات اِس لئے کرتا ہے کہ اُس گُناہ کی سنگینی واضح ہو جائے جو یسؔوع کو ردّ کرنے اور اُسے اُس کا جائز مقام نہ دینے سے کیا جاتا ہے۔»
اگلے واقعے میں یسؔوع نے سبت کے دن سوکھے ہاتھ والے آدمی کو شفا بخشی۔ اِس واقعے پر تبصرہ کرنے سے پہلے ہم سبُت کے بارے میں پاک کلام کی تعلیم پر نظر ڈالنا چاہتے ہیں۔
سبت کے بارے میں صراحت
سبت ہفتہ کا ساتواں دن (ہفتہ/سنیچر) تھا اور ہمیشہ رہے گا۔
خُدا نے چھے دِنوں میں ساری کائنات کو بنایا اور ساتویں دن آرام کیا (پیدائش ۲:۲)۔ اُس نے اُس وقت اِنسان کو سبُت کا دن ماننے کا حُکم دیا۔ ہو سکتا ہے کہ وُہ یہ اصول لاگو کرنے کا اِرادہ رکھتا ہو کہ ہر سات دِنوں میں ایک دن آرام کا ہو۔
اِسرائیلی قوم کو سبُت کا دن ماننے کا حُکم اُس وقت ہُوا جب دس حُکم دیئے گئے (خروُج ۲۰:۸-۱۱)۔ سبُت کے لئے حُکم باقی نو حکموں سے فرق ہے۔ یہ ایک رسوماتی آئین ہے جب کہ دوسرے اخلاقی احکام ہیں۔ سبُت کے دن کام کرنا غلط صِرف اِس لئے ہے کہ خُدا نے کہا ہے، اَور کوئی وجہ نہیں۔ دِیگر احکام کا تعلق ایسی باتوں سے ہے جو اپنی حقیقت اور ماہیت میں غلط ہیں۔
سبُت کے دن کام کرنے کی ممانعت کا اطلاق کبھی خُدا کی خدمت پر نہیں ہُوا، نہ خُدا کا کبھی ایسا ارادہ تھا (متؔی ۱۲:۵)۔ نہ اِس کا اِطلاق ضروری کاموں (متؔی ۱۲:۳،۴)، نہ رحم دِل ی کے کاموں (متؔی ۱۲:۱۱،۱۲) پر ہوتا ہے۔ نئے عہدنامہ میں دس میں سے نو حُکم دُہرائے گئے ہیں، مگر حُکم کے طور پر نہیں بلکہ فضل کے تحت مسیحی زندگی گزارنے کی ہدایات کے طور پر۔ صِرف یہی ایک حُکم ہے جِس کو ماننے کے لئے مسیحیوں کو کبھی نہیں کہا گیا اور وُہ ہے سبُت کے بارے میں حکم۔ بلکہ پُولُسؔ تو یہ تعلیم دیتا ہے کہ اُسے نہ ماننے پر مسیحیوں کو ملزم نہیں ٹھہرایا جا سکتا (کلسیوں ۲:۱۶)۔
مسیحیت کا نمایاں اور اِمتؔیازی دن ہفتے کا پہلا دن ہے۔ خُداوند یسؔوع مسیح اِس دن مُردوں میں سے جی اُٹھا (یُوحناؔ ۲۰:۱)۔ یہ ثبوت ہے کہ کفارہ اور مخلصی کا کام پورا ہو گیا اور خُدا نے اُسے منظور کر لیا ہے۔ اِس لئے اِس کو خُداوند کا دن کہا جاتا ہے۔ آگے یسؔوع دو دفعہ ہفتے کے پہلے دن اپنے شاگردوں پر ظاہر ہُوا (یُوحناؔ ۲۰:۱۹،۲۶)۔ رُوح القُدس بھی ہفتے کے پہلے دن دیا گیا (اعمال ۲:۱ بحوالہ احبار ۲۳:۱۵،۱۶)۔ اِبُتدائی دِنوں میں شاگرد اِسی دن جمع ہُوا کرتے اور روٹی توڑا کرتے اور خُداوند کی موت کا اِظہار کیا کرتے تھے (اعمال ۲۰:۷)۔ خُدا نے بھی مسیحیوں کے لئے یہی دن مقرر کیا ہے جب وُہ خُداوند کے لئے چندہ نکالا کریں (۱۔کرنتھیوں ۱۶:۱،۲)۔
سبُت یا ساتواں دن محنت مشقت کے ایک ہفتے کے آخر میں آتا تھا۔ خُداوند کا دن یا اِتوار سے ہفتہ کا آغاز ہوتا ہے۔ اور یہ آغاز اِس طمانیت بخش عِلم کے ساتھ ہوتا ہے کہ کفارہ کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ سبُت پہلی تخلیق کی یادگار تھا، خُداوند کا دن نئی مخلوق کے ساتھ منسلک ہے۔ سبُت کا دن ذمہ داری کا دن ہوتا تھا، خُداوند کا دن اعزاز کا دن ہوتا ہے۔
مسیحی خُداوند کا دن نجات کمانے یا پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے نہیں «مانتے» یہ نہ سزا کے ڈر سے مانتے ہیں بلکہ اُس ہستی کی محبُت اور اُس کے لئے جاں نثاری کے جذبے کے ساتھ اِس دن کو مخصوص کرتے ہیں جِس نے اُن کی خاطر اپنے آپ کو قربان کر دیا۔ چونکہ اِس روز ہم معمول کے دُنیاوی کاموں سے آزاد ہوتے ہیں، اِس لئے اِسے خاص انداز میں مسیح کی عبادت اور خدمت کے لئے مخصوص کر سکتے ہیں۔
یہ کہنا غلط ہے کہ سبُت کو خُداوند کے دن سے بدِل دیا گیا تھا۔ سبُت ہفتہ یا سنیچر کا دن ہے، جب کہ خُداوند کا دن اتوار کا دن ہے۔ سبُت ایک عکس تھا، حقیقت مسیح ہے (کلسیوں ۲:۱۶،۱۷)۔ مسیح کے جی اُٹھنے سے ایک نیا آغاز ہُوا۔ اور خُداوند کا دن اِسی آغاز کو نمایاں کرتا ہے۔
یسؔوع ایک وفادار، ایمان دار یہُودی تھا، اور شریعت کے ماتحت زندگی گزارتا تھا اِس لئے سبُت کو مانتا تھا (حالانکہ فریسیوں نے اِس کے اُلٹ الزام لگایا)۔ چونکہ وُہ سبُت کا مالک ہے، اِس لئے اُس نے سبُت کو اُن جھوٹے قوانین اور ضوابط سے آزاد کرایا جن میں یہ گھرا ہُوا تھا۔
ہ۔ یسؔوع سبت کے دن شفا دیتا ہے (۱۲:۹-۱۴)
۱۲:۹ کھیتوں میں سے چل کر یسؔوع «عبادت خانہ میں گیا۔» لُوقاؔ بیان کرتا ہے کہ فقیہ اور فریسی وُہاں بھی گھات میں تھے کہ اُس پر کوئی الزام لگا سکیِں (لُوقاؔ ۶:۶،۷)۔
۱۲:۱۰ عبادت خانے کے اندر «ایک آدمی تھا جِس کا ہاتھ سوکھا ہُوا تھا۔» وُہ فریسیوں کی بے بَسی کی منہ بولتی تصویر تھا۔ اب تک وُہ اُس کو نہایت سرد مہری سے نظر انداز کرتے رہے تھے۔ لیکن یکایک وُہ اُن کے لئے بُہت کارآمد بن گیا کیونکہ وُہ یسؔوع کو پھانسنے کا پھندا ثابُت ہو سکتا تھا۔ وُہ جانتے تھے کہ یسؔوع اِنسانوں کو ہر دُکھ مصیبُت سے آزاد کرنے کو ہر وقت تیار رہتا ہے۔ اگر وُہ سبُت کے دن شفا دیتا ہے تو وُہ اُسے ایک قابلِ سزا جرم میں پکڑ سکتے تھے۔ وُہ ایسی ہی باتیں سوچ رہے تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے شریعت سے متعلق ایک مبالغہ آمیز سوال پوچھا کہ «کیا سبُت کے دن شفا دینا روا ہے؟»
۱۲:۱۱ نجات دہندہ نے جواب میں بھی ایک سوال پوچھا کہ اگر تمہاری بھیڑ «سبُت کے دن گڑھے میں گر جائے» تو کیا اُسے پکڑ کر باہر نہ نکالو گے؟ ضرور نکالیں گے۔ مگر کیوں؟ شاید اُن کے پاس یہ عذر تھا کہ یہ رحم کا کام ہے۔ لیکن ایک اَور سبب بھی ہو سکتا ہے کہ بھیڑ قیمتؔی ہوتی ہے، اِس کے عوض رقم ملتی ہے۔ اور فریسی سبُت کے دن بھی مالی نقصان اُٹھانا پسند نہیں کریں گے۔
۱۲:۱۲ ہمارے خُداوند نے اُن کو یاد دِل ایا کہ «آدمی کی قدر تو بھیڑ سے بُہت ہی زیادہ ہے۔» جانور پر رحم اور ترس کھانا بُہت مناسب اور روا بات ہے۔ تو کِسی اِنسان کے ساتھ «سبُت کے دن نیکی کرنا» کس قدر زیادہ مناسب اور روا نہ ہو گا!
۱۲:۱۳،۱۴ یہُودی راہنما اپنے لالچ کے گڑھے میں خود ہی گر گئے۔ چنانچہ یسؔوع نے سوکھے ہوئے ہاتھ کو اچھا کر دیا۔ آدمی کو یہ کہنے میں کہ «اپنا ہاتھ بڑھا» ایمان اور ارادے کو حرکت میں لانے کو کہا گیا اور فرماں برداری کا صِلہ شفا کی صورت میں ملا۔ اُس عجیب خالق نے بیمار ہاتھ کو «دوسرے ہاتھ کی مانند تندرست» کر دیا۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ فریسی ایک ایسے آدمی کی شفایابی پر خوش ہوئے ہوں گے جِس کی مدد کرنے کی نہ اُن میں قوت تھی نہ شوق تھا۔ ارے نہیں بلکہ اِس کے برعکس وُہ غصے سے آگ بگولہ ہو گئے اور باہم «مشورہ» یا سازش کرنے لگے کہ «اِسے کس طرح ہلاک کریں۔» اگر اُن کے اپنے ہاتھ سوکھے ہوئے ہوتے تو ہفتہ کے کِسی دن بھی شفا پانے پر راضی ہوتے۔
و۔ سب کے لئے شفا (۱۲:۱۵-۲۱)
۱۲:۱۵،۱۶ یسؔوع اپنے دشمنوں کے خیالات کو جانتا تھا۔ چنانچہ وُہ «وُہاں سے روانہ ہُوا۔» مگر وُہ جہاں کہیں جاتا تھا، لوگ اُس کے پاس جمع ہو جاتے تھے۔ اور جہاں بھی بیمار اکٹھے ہو جاتے تھے وُہ «سب کو اچھا» کر دیتا تھا۔ مگر اُن کو «تاکید» کرتا تھا کہ میری معجزانہ شفا بخشی کی تشہیر نہ کرنا۔ اِس لئے نہیں کہ وُہ خود کو خطرے سے بچانا چاہتا تھا بلکہ اِس لئے کہ وُہ کِسی ایسی متلون تحریک سے بچنا چاہتا تھا جو اُس کو انقلابی ہیرو بنا دیتی۔ ضرور تھا کہ خُدا کے مقرر کئے ہوئے اوقات کو برقرار رکھا جائے۔ اُس کے انقلاب کو آ کے رہنا تھا، مگر رؔومی خون بہا کر نہیں، بلکہ اُس کا اپنا خون بہا کر۔
۱۲:۱۷،۱۸ اُس کی پُرفضل خدمت یسَعیاہ کی اُس پیش گوئی کی تکمیل تھی جو ۴۱:۹ اور ۴۲:۱-۴ میں مرقوم ہے۔ «نبی»نے دیکھ لیا تھا کہ مسیحِ مَوعُود ایک حلیم فاتح ہے۔ وُہ یسؔوع کی تصویر یوں پیش کرتا ہے کہ وُہ یہوواہ کا برگزیدہ «خادم» ہے۔ اُس کے بارے میں وُہ کہتا ہے کہ «میرا پیارا جِس سے میرا دِل خوش ہے۔» خُدا «اپنا رُوح اُس پر ڈالے گا۔» یہ نبوت یسؔوع کے بپتسمے کے وقت پُوری ہوئی۔ اور اُس کی خدمت بنی اِسرائیل کی حدود سے بُہت آگے تک چلی جائے گی۔ وُہ «غیر قوموں کو اِنصاف کی خبر دے گا۔» جوں جوں بنی اِسرائیل اُسے قبول کرنے سے اِنکار کرتے جاتے ہیں یہ آخری بات اَور بھی نمایاں ہوتی جاتی ہے۔
۱۲:۱۹ یسَعیاہ نے مزید پیش گوئی کی تھی کہ مسیحِ مَوعُود «نہ جھگڑا کرے گا نہ شور اور نہ بازاروں میں کوئی اُس کی آواز سنے گا۔» دوسرے لفظوں میں وُہ سیاسی مجمعوں کو اُکسانے والا یا ہجوم کو بھڑکانے والا شخص نہیں ہو گا۔ میک کلین (McClain) لِکھتا ہے کہ :
«وُہ بادشاہ جو خُدا کا ’خادم‘ ہے اپنے جائز مقام پر پہنچنے کے لئے وُہ اِنسانی حربے اور قوت استعمال نہیں کرے گا جو تقریر باز سیاسی لیڈر اکثر کیا کرتے ہیں۔ اور نہ وُہ اُن فوق الفطرت قوتوں ہی کو کام میں لائے گا جو اُس کے حُکم کی منتظر رہتی ہیں۔»
۱۲:۲۰ «یہ کچلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور دُھواں اُٹھتے سن کو نہ بجھائے گا۔» وُہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے اور اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے بے سہارا اور بے مایہ لوگوں کو اپنے پائوں تلے نہیں روندے گا۔ وُہ شکستہ دِل وں اور مظلوم لوگوں کو تقویت اور حوصلہ دے گا۔ وُہ ایمان کی چنگاری کو ہُوا دے کر شعلہ بنا دے گا۔ اُس کی خدمت اُس وقت تک جاری رہے گی «جب تک کہ اِنصاف کی فتح نہ کرائے۔» اِنسانوں کی نفرت اور عداوت اور ناشکراپن اُس کی فروتن اور محبُت بھری خدمت کو ختم نہ کر سکے گا۔
۱۲:۲۱ «اور اُس کے نام سے غیر قومیں اُمید رکھیں گی۔» یسَعیاہ میں یہی بات اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے «جزیرے اُس کی شریعت کا اِنتظار کریں گے» مگر مطلب ایک ہی ہے۔ «جزیرے» غیر قوموں کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔ اور تصویر یہ پیش کی گئی ہے کہ وُہ اُس کی حکمرانی کا اِنتظار کر رہے ہیں تاکہ اُس کی وفادار شاہی رعایا بن جائیں۔
ایک مفسر یسَعیاہ سے اِس اِقتباس کی یوں تعریف کرتا ہے:
اِنجیل کا ایک موتی۔ مسیح کی ایک نہایت حسین اور دِل کش تصویر۔ یسَعیاہ باپ کے ساتھ مسیح کی یگانگت ، قوموں کو تعلیم اور ہدایت دینے کے مشن، دُکھی اِنسانیت کے ساتھ برتائو میں اُس کی نرمی اور آخری فتح کی تصویر کھینچتا ہے۔ سوائے اُس کے نام کے دُنیا کے لئے کوئی اُمید نہیں ہے۔ یسَعیاہ نے اِسے خشک عالمانہ الفاظ میں نہیں، بلکہ پُرمعانی مشرقی اِستعارات میں لپیٹ دیا ہے۔»
ز۔ ناقابلِ معافی گُناہ (۱۲:۲۲-۳۲)
۱۲:۲۲-۲۴ جب یسؔوع نے ایک اندھے گونگے بدرُوح گرفتہ کو شفا دی تو عام لوگ سنجیدگی سے سوچنے لگے کہ کیا یہ «ابنِ دائود» یعنی بنی اِسرائیل کا مسیحِ مَوعُود ہی تو نہیں؟ اِس بات سے فریسی بھڑک اُٹھے۔ اُن کے غصے کی آگ پر تیل پڑ گیا۔ وُہ تو یسؔوع کے ساتھ ہمدردی کے اشارے تک کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے یہ الزام داغ دیا کہ یہ مُعجزہ «بعل زبول» یعنی بدروحوں کے سردار کی قوت سے کیا گیا ہے۔ یہ منحوس تُہمت پہلا الزام تھا کہ خُداوند یسؔوع کی قُدرت بدروحوں کی طرف سے تھی۔
۱۲:۲۵،۲۶ یسؔوع نے «اُن کے خیالوں کو جان کر» اُن کی نادانی بلکہ حماقت کو بے نقاب کرنا شروع کیا۔ اُس نے بُتایا کہ جِس «بادشاہی»، «شہر یا گھر میں پھوٹ پڑے گی وُہ قائم نہ رہے گا۔» اگر مَیں شیطان کی مدد سے شیطان کی بدروحوں کو نکالتا ہوں تو گویا شیطان خود اپنے ہی خلاف کام کر رہا ہے۔ یہ تو نہایت مضحکہ خیز بات ہوئی۔
۱۲:۲۷ ہمارے خُداوند نے فریسیوں کو ایک اَور دندان شکن جواب دیا۔ اُن کے کُچھ یہُودی ساتھی تھے جو «سیانے» یا بدروحوں کو نکالنے والے کہلاتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ ہم بدروحوں کو نکالنے کی طاقت رکھتے
ہیں۔ یسؔوع نے نہ اُن کے دعوے کو ردّ کیا نہ قبول، بلکہ یہ بات واضح کرنے کے لئے استعمال کیا کہ «اگر مَیں بعل زبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے (فریسیوں کے) بیٹے (یعنی یہ «سیانے») کس کی مدد سے نکالتے ہیں؟» فریسی کِسی قیمت پر یہ بات قبول نہیں کر سکتے تھے۔ مگر اِس بات کی منطق سے بھی بھاگ نہیں سکتے تھے۔ اُن کے اپنے ساتھی اِس بات کے لئے اُن کی مذمت کرتے کہ ہم اِبلیس یا شیطان کے ایجنٹ ہیں۔ سکوفیلڈ (Scofield) کہتا ہے:
«جہاں تک فریسیوں کی اپنی ذات اور اپنے بیٹوں کا تعلق ہے، وُہ اِس بات کا فی الفور بُرا مانتے کہ ہمارا شیطانی قوتوں سے کوئی علاقہ ہے۔ لیکن جو بنیاد وُہ باندھ رہے تھے کہ یسؔوع بعل زبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے، اِسی بنیاد پر اُن کے اپنے بیٹے اُن کو بے اصول قرار دیتے کہ اگر بدروحوں کو نکالنے کی قوت شیطانی قوت ہے تو جو کوئی اِس قوت کو استعمال کرتا ہے، وُہ اُس قوت کے سرچشمے کا ساتھی ہے۔»
وُہ ایک ہی قِسم کے نتائج کو الگ الگ وجوُہات سے منسوب کر رہے تھے۔ اِس لئے منطق سے کوسوں دُور تھے۔
۱۲:۲۸ بے شک حقیقت تو یہ تھی کہ وُہ «خُدا کے رُوح کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا» تھا۔ اُس نے دُنیا میں اپنی ساری بشری زندگی رُوح القُدس کی قُدرت میں بَسر کی۔ وُہ رُوح سے معمور مسیحِ مَوعُود تھا جِس کی پیش گوئی یسَعیاہ نے کی تھی (یسَعیاہ ۱۱:۲؛ ۴۲:۱؛ ۶۱:۱-۳)۔ اِس لئے اُس نے فریسیوں سے کہا، «اگر مَیں خُدا کے رُوح کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو خُدا کی بادشاہی تمہارے پاس آ پہنچی۔» یہ اِعلان اُن کے لئے ضربِ کاری ثابُت ہُوا ہو گا۔ وُہ اپنے عِلم اِلٰہی پر بُہت ناز کرتے تھے۔ لیکن «خُدا کی بادشاہی» اُن کے پاس اِس لئے «آ پہنچی» تھی کہ بادشاہ اُن کے درمیان تھا اور اُنہوں نے احساس تک نہیں کیا تھا کہ وُہ یہاں موجود ہے۔
۱۲:۲۹ شیطان کا ساتھی یا ساجھی ہونا تو دُور کی بات ہے، خُداوند یسؔوع تو شیطان کا فاتح ہے۔ اِس بات کی وضاحت کرنے کے لئے اُس نے «زور آور آدمی» کی تمثیل سنائی۔ یہ «زور آور آدمی» شیطان ہے۔ اُس کا «گھر» وُہ علاقہ ہے جِس پر اُس کی حکمرانی ہے۔ اُس کا «اسباب»اُس کی بدروحیں ہیں۔ یسؔوع وُہ ہستی ہے جو اُس «زور آور آدمی کو باندھ» دیتا ہے اور اُس کے گھر میں «گھس کر اُس کا اسباب لُوٹ» لیتا ہے۔ دراصل شیطان کو باندھنے کا کام مرحلوں میں ہوتا ہے۔ اِس کا آغاز یسؔوع کی زمینی خدمت کے دوران ہُوا۔ مسیح کی موت اور قیامت سے اُس کی فیصلہ کُن ضمانت ہو گئی۔ اور بادشاہ کی ہزار سالہ بادشاہی (مُکاشفہ۲۰:۲) کے دوران ایک اَور نمایاں مرحلہ تک پورا ہو جائے گا۔ اور مکمل اُس وقت ہو گا جب وُہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آگ کی جھیل میں ڈال دیا جائے گا (مُکاشفہ۲۰:۱۰)۔ موجودہ زمانے میں ابلیس بَندھا ہُوا معلوم نہیں ہوتا۔ ابھی تک بڑا زور مارتا ہے مگر اُس کا حشر مقرر ہو چکا ہے۔ بَس تھوڑا ہی وقت باقی ہے۔
۱۲:۳۰ پھر یسؔوع نے کہا، «جو میرے ساتھ نہیں وُہ میرے خلاف ہے۔ اور جو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا وُہ بکھیرتا ہے۔» فریسیوں کے کفر بھرے رویے سے ثابُت ہوتا تھا کہ وُہ خُداوند کے «ساتھ نہیں۔» اِس لئے وُہ اُس کے «خلاف» تھے۔ وُہ اُس کے ساتھ فصل جمع کرنے سے اِنکار کرتے تھے۔ چنانچہ وُہ دانوں کو بکھیر رہے تھے۔ اُنہوں نے یسؔوع پر الزام لگایا کہ یہ بدروحوں کو شیطان کی مدد سے نکالتا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وُہ خود شیطان کے خادم تھے اور خُدا کے کام کو ناکام بنانے کی کوشِشوں میں مصروف تھے۔
مرقسؔ ۹:۴۰ میں یسؔوع نے کہا، «… جو ہمارے خلاف نہیں وُہ ہماری طرف ہے۔» یہاں متؔی ۱۲:۳۰ میں الفاظ بالکُل اُلٹ معلوم ہوتے ہیں۔ یہ مشکل اُس وقت دُور ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ متؔی میں بات «نجات» کی ہے۔ اِنسان یا تو مسیح کے ساتھ ہوتا ہے یا اُس کے خلاف، کوئی درمیانی حالت نہیں ہو سکتی۔ جب کہ مرقسؔ میں بات «خدمت» کی ہے۔ یسؔوع کے شاگردوں میں بڑے «وسیع» «فرق» پائے جاتے ہیں۔ مقامی کلیسیا کی رفاقت میں فرق ہوتے ہیں، طور طریقوں اور عقائد کی تشریح اور تفسیر میں فرق موجود ہوتے ہیں۔ مگر یہاں اصول یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خُداوند کے خلاف نہیں تو وُہ اُس کے ساتھ ہے اور اِسی کے مطابق اُس کی عزت و توقیر ہونی چاہئے۔
۱۲:۳۱،۳۲ اِن آیات میں اِسرائیل کے لیڈروں کے ساتھ مسیح کے برتائو کا نقطۂ عروج پایا جاتا ہے۔ وُہ اُن پر الزام لگاتا ہے کہ تم رُوح القُدس کے خلاف کفر بکنے کے ناقابلِ معافی گُناہ کے مرتکب ہو کیونکہ وُہ کہتے تھے کہ یسؔوع رُوح القُدس کی قُدرت نہیں بلکہ شیطان کی مدد سے معجزے کرتا ہے۔ اِس طرح گویا وُہ رُوح القُدس کو بعل زبول یعنی بدروحوں کا سردار کہہ رہے تھے۔
آدمیوں کا دوسرا «ہر گُناہ اور کفر» معاف ہو سکتا ہے بلکہ اگر اِنسان «ابنِ آدم کے برخلاف» کوئی بات کرے تو اُس کی معافی بھی ہو سکتی ہے، مگر رُوح القُدس کے خلاف کفر بکنا ایسا گُناہ ہے جِس کی معافی نہیں ہے، «نہ اِس عالم میں نہ آنے والے میں» یعنی ہزار سالہ بادشاہی کے دوران بھی نہیں۔ جب یسؔوع نے کہا «اِس عالم میں» تو مراد تھی اُس کی زمینی خدمت کے دِنوں میں۔ یہ بات مشکوک معلوم ہوتی ہے کہ موجودہ زمانے میں یہ ناقابلِ معافی گُناہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ یسؔوع جِسمانی طور پر یہاں موجود ہو کر معجزے نہیں کر رہا۔
اِنجیل کی خوشخبری کو ردّ کرنا بھی ناقابلِ معافی گُناہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص برسوں تک نجات دہندہ کی دعوت کو ٹھکراتا رہے، پھر توبہ کر کے ایمان لائے اور نجات پا لے (البُتہ اگر بے ایمانی کی حالت میں مر جائے تو کبھی معافی نہیں پائے گا)۔ نہ مسیح کی پیروی کرنے کے بعد اُسے چھوڑ دینا ہی ناقابلِ معافی گُناہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ کوئی ایمان دار شخص خُداوند سے دُور چلا جائے، مگر کِسی وقت دوبارہ خُدا کے گھرانے میں بحال ہو جائے۔
کئی لوگ اِس بات پر پریشان ہوتے ہیں کہ شاید ہم ناقابلِ معافی گُناہ کے مرتکب ہو گئے ہیں۔ اگر موجودہ زمانے میں یہ گُناہ کیا بھی جا سکتا، تو بھی یہ حقیقت کہ اِنسان کو اِس کی تشویش ہے ظاہر کرتی ہے کہ اُس نے یہ گُناہ نہیں کیا۔ جنہوں نے یہ گُناہ کیا یہ وُہ لوگ تھے جو مسیح کی مخالفت میں نہایت سخت اور کٹر تھے۔ اُن کو رُوح القُدس کی تکفیر کرنے اور بیٹے کی موت کی سازِش کرنے میں کوئی تامل نہیں تھا۔ وُہ نہ پشیمان ہوتے نہ توبہ پر مائل ہوتے تھے۔
ح۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے (۱۲:۳۳-۳۷)
۱۲:۳۳ فریسیوں کو بھی ماننا چاہئے تھا کہ بدروحوں کو نکالنے سے خُداوند نے بھلائی کی ہے، مگر وُہ تو اُس پر بُرائی، بلکہ بُرا ہونے کا الزام لگاتے رہے۔ یہاں وُہ اُن کی بے اصولی کو بے نقاب کر کے کہتا ہے کہ خود فیصلہ کرو۔ اگر «درخت» «اچھا» ہے تو اُس کا «پھل» بھی «اچھا» ہو گا۔ اگر «درخت بُرا» ہے تو اُس کا «پھل» بھی « بُرا» ہو گا۔ پھل اُس درخت کی خاصیت کا عکس ہوتا ہے جِس نے اُسے پیدا کیا۔ مسیح کی خدمت کا پھل اچھا تھا۔ اُس نے بیماروں، اَندھوں، بہروں اور گونگوں کو اچھا کیا۔ اُس نے بدروحوں کو نکالا اور مُردوں کو زندہ کیا۔ کیا کوئی خراب درخت ایسا اچھا پھل لا سکتا ہے؟ قطعی ناممکن! تو پھر کیوں وُہ اِتنی ہٹ دھرمی سے اُسے قبول کرنے سے اِنکار کر رہے تھے؟
۱۲:۳۴،۳۵ اِس کا سبب یہ تھا کہ وُہ «سانپ کے بچے» تھے۔ ابنِ آدم کے خلاف اُن کا کینہ اُن کی زہر آلود باتوں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا۔ اور یہ زہر اُن کے بُرے دِل وں سے چھلک رہا تھا۔ جو دِل نیکی اور بھلائی سے بھرا ہے، اُس کا ثبوت اُس کی پُرفضل اور راست بازی کی باتوں سے ملتا ہے۔ اور بُرا دِل کفر، تلخی اور گندی باتوں سے اپنی بُرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
۱۲:۳۶ یسؔوع نے اُن کو (اور ہمیں بھی) خبردار کیا کہ «جو نکمی بات لوگ کہیں گے عدالت کے دن اُس کا حساب دیں گے۔» کیونکہ جو لفظ لوگ بولتے یا جو باتیں کرتے ہیں وُہ اُن کی زندگی کا بالکُل درست آئینہ ہوتی ہے۔ اُن کی بنیاد پر اُن کو سزا ہو گی یا وُہ بَری کئے جائیں گے۔ خیال کریں کہ خُدا کے رُوح کے خلاف بُرے اور تحقیر آمیز الفاظ استعمال کرنے کے باعث فریسیوں پر کتنا بڑا غضب ہو گا!
۱۲:۳۷ «کیونکہ تُو اپنی باتوں کے سبب سے راست باز ٹھہرایا جائے گا اور اپنی باتوں کے سبب سے قصووار ٹھہرایا جائے گا۔» جہاں تک ایمان داروں کا تعلق ہے، اُن کی بے پروائی اور بے احتیاطی کی باتوں کی قیمت تو مسیح کی موت سے ادا ہو چکی ہے، لیکن ہم نے جن ایسی باتوں کا اِقرار نہیں کیا، اور معافی حاصل نہیں کی، اُن کے باعث مسیح کے تخت ِ عدالت کے سامنے ہمارے اَجر میں کمی ہو جائے گی۔
ط۔ یُوناؔہ نبی کا نشان (۱۲:۳۸-۴۲)
۱۲:۳۸ یسؔوع نے بے شمار معجزے کئے تھے۔ اِس کے باوجود « فقیہوں اور فریسیوں» نے بڑی ڈِھٹائی سے خُداوند سے «ایک نشان» دیکھنے کا مطالبہ کیا۔ ظاہر یہ کیا کہ اگر وُہ اپنے آپ کو مسیحِ مَوعُود ثابُت کر دے تو ہم ایمان لے آئیں گے لیکن اُن کی عیاری اور ریاکاری صاف نظر آ رہی تھی۔ اگر اُنہوں نے اِتنے عجیب کاموں کے باوجود یقین نہیں کیا تھا تو ایک اَور نشان سے بھی قائل نہ ہوتے۔ خُدا کو یہ رویہ پسند نہیں کہ ایمان لانے کے لئے معجزانہ نشانوں کی شرط عائد کی جائے۔ چنانچہ یسؔوع نے توما سے کہا تھا کہ «مبارک وُہ ہیں جو بغیر دیکھے ایمان لائے» (یُوحناؔ ۲۰:۲۹)۔ خُدا کے اِنتظام میں ایمان پہلے ہے اور دیکھنا بعد میں۔
۱۲:۳۹ خُداوند نے اُن کو «اِس زمانہ کے بُرے اور زِناکار لوگ» کہہ کر مخاطب کیا۔ « بُرے» اِس لئے کہ وُہ جان بوجھ کر اپنے مسیحِ مَوعُود کے حق میں اَندھے بنے ہوئے تھے، اور «زِناکار» اِس لئے کہ وُہ روحانی لحاظ سے اپنے خُدا کے بے وفا تھے۔ اُن کا خالق خدا، وُہ ہستی ہے جِس میں کامِل الوہیّت اور کامِل بشریت یکجا تھی، اُن کے درمیان کھڑا اُن سے مخاطب تھا اور وُہ اُس سے «ایک نشان» طلب کرنے کی جِسارت کر رہے تھے۔
۱۲:۴۰ اُس نے اُن کو ٹکاسا جواب دیا کہ «یُوناؔہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اَور نشان اُن کو نہ دیا جائے گا۔» یہ اُس کی اپنی موت، تدفین اور قیامت کی طرف اِشارہ تھا۔ یُوناؔہ کو مچھلی نے نگل لیا تھا اور تین دن بعد اُگل دیا تھا (یُوناؔہ ۱:۱۷، ۲:۱۰)۔ یہ خُداوند کے دُکھ اُٹھانے اور جی اُٹھنے کی تصویر تھی۔ اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا بنی اِسرائیل کے لئے اُس کی خدمت کا آخری اور حتمی نقطۂ عروج ہو گا۔
ہمارے خُداوند نے اُن کو پیشگی بُتا دیا کہ «جیسے یُوناؔہ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابنِ آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔» اِس بات سے ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ عام طور سے مانا جاتا ہے کہ یسؔوع کو جمعے کی شام کو دفن کیا گیا اور وُہ اِتوار کی صبح زندہ ہو گیا تو کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وُہ تین رات دن قبر میں رہا؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ یہُودی حساب کے مطابق دن رات یا رات کا کوئی حصہ بھی پورا عرصہ شمار ہوتا ہے۔ «ایک دن اور ایک رات سے ایک اوناہ (Onah) بنتا ہے اور اوناہ کا ایک حصہ کُل جیسا ہوتا ہے» (یہُودی کہاوت)۔
۱۲:۴۱ یسؔوع نے یہُودی لیڈروں کی خطا کو ظاہر کرنے کے لئے دو تقابل پیش کئے۔ اوّل یہ کہ «نینوُہ» کے لوگوں کو اِسرائیلیوں کی نسبُت بُہت کم شرف حاصل ہُوا تو بھی اُنہوں نے شہر میں گشت لگانے والے نبی «یُوناؔہ کی منادی پر توبہ کر لی۔» یہ لوگ «عدالت کے دن … کھڑے ہو کر» یسؔوع کے زمانے کے لوگوں کو مجرم ٹھہرائیں گے کہ اُنہوں نے اُس ہستی کو یعنی خُدا کے مجِسم بیٹے کو «جو یُوناؔہ سے بھی بڑا ہے» قبول کرنے سے اِنکار کر دیا تھا۔
۱۲:۴۲ دوم، سبا کی «مَلِکہ» غیر ہونے کے باعث اُس شرف سے محرؔوم تھی جو یہُودی قوم کو حاصل تھا۔ وُہ «دَکھن» یعنی جنوب سے بڑی کوشِش اور پیسہ خرچ کر کے سلیمان سے ملنے کو آئی۔ یسؔوع کے زمانے کے یہُودی وں کو تو اُس سے ملنے کے لئے کوئی سفر نہیں کرنا پڑا تھا۔ وُہ خود آسمان سے سفر کر کے اُن کا مسیحِ مَوعُود بادشاہ بننے کے لئے اُن کے پاس آ گیا تھا۔ تو بھی وُہ اُسے «جو سلیمان سے بھی بڑا ہے» اپنی زندگیوں میں جگہ دینے کو تیار نہ تھے۔
اِس باب میں بُتایا گیا ہے کہ یسؔوع ہیکل سے (آیت ۶) یُوناؔہ سے (آیت ۴۱) اور سلیمان سے بڑا ہے (آیت ۴۲) ۔ «وُہ عظیم ترین سے عظیم تر بُہترین سے بُہتر ہے۔»
ی۔ ناپاک رُوح واپس آتی ہے (۱۲:۴۳-۴۵)
۱۲:۴۳،۴۴ اب یسؔوع تمثیلی انداز میں بے اعتقاد بنی اِسرائیل کے ماضی، حال اور مستقبل کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ «آدمی» یہُودی قوم کی نمائندگی کرتا ہے اور «ناپاک روح» اُس بُت پرستی کا نمائندہ ہے جو مصر میں غلامی کے زمانے سے لے کر بابل کی اسیری (جِس نے عارضی طور پر بنی اِسرائیل سے بُت پرستی چھڑا دی تھی) تک اِسرائیلی قوم کی خاصیت رہی۔ یہ ایسے ہی تھا کہ جیسے ناپاک رُوح «آدمی میں سے نکلتی ہے۔» اسیری کے خاتمے سے لے کر آج کے دن تک یہُودی لوگوں نے بُت پرستی نہیں کی۔ وُہ اُس گھر کی مانند ہیں جو «خالی اور جھڑا ہُوا اور آراستہ» ہے۔
کوئی دو ہزار سال پیشتر مخلصی دہندہ نے اُس خالی گھر میں داخل ہونا چاہا۔ وُہ اِس گھر کا جائز قابض، گھر کا مالک ہے، مگر لوگوں نے ڈٹ کر اُسے گھر میں داخل نہ ہونے دیا۔ اگرچہ اب وُہ بُتوں کی پوجا تو نہیں کرتے تھے، مگر حقیقی خُدا کو بھی سجدہ نہیں کرتے تھے۔
«خالی» گھر روحانی خلا کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسا کہ بعد کا احوال ظاہر کرتا ہے، یہ ایک خطرناک حالت ہوتی ہے۔ صِرف اِصلاح کافی نہیں ہوتی، ضرور ہے کہ نجات دہندہ کو مثبُت اور پکے طور پر قبول کیا جائے۔
۱۲:۴۵ مستقبل میں کِسی وقت بُت پرستی کی رُوح اُس گھر میں واپس آنے کا فیصلہ کرے گی۔ اُس وقت «اور سات روحیں اپنے سے بُری ہمراہ لے» آئے گی۔ چونکہ سات کامِل یت کا عدد ہے اِس لئے اِشارہ غالباً پورے طور پر ترقی یافتہ بُت پرستی کی طرف ہے۔ یہ اُس بڑی مصیبُت کا پتا دیتی ہے جب برگشتہ قوم مخالف ِمسیح کی پرستش کرے گی۔ «گُناہ کے شخص» کے سامنے سجدہ کرنا اور خُدا کی طرح اُس کی پرستش کرنا وُہ بد ترین اور اِنتہائی خوف ناک بُت پرستی ہے کہ ماضی میں قوم ایسی بُت پرستی کی کبھی مرتکب نہیں ہوئی (۲۔تھسلنیکیوں ۲:۳)۔ اِس طرح «اس آدمی کا پچھلا حال پہلے سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔» بے اعتقاد اور ایمان نہ لانے والی اِسرائیلی قوم کو «بڑی مصیبُت» کے ہولناک غضب کا سامنا کرنا پڑے گا، اور اُن کی مصیبُت اور دُکھ بابل کی اسیری سے زیادہ ہو گا۔ مسیح کی دُوسری آمد پر قوم کا بُت پرست حصہ بالکُل تباہ اور ہلاک ہو جائے گا۔
«اِس زمانہ کے بُرے لوگوں کا حال بھی ایسا ہی ہو گا۔» وُہی برگشتہ اور مسیح کو ردّ کرنے والی قوم جِس نے خُدا کے بیٹے کی پہلی آمد پر اُس کی تحقیر کی تھی اُس کی دُوسری آمد پر نہایت سخت عدالت اور غضب کا شکار ہو گی۔
ک۔ یسؔوع کی ماں اور بھائی (۱۲:۴۶-۵۰)
اِن آیات میں ایک ایسا واقعہ درَج ہے جو بظاہر عام سا معلوم ہوتا ہے کہ یسؔوع کے خاندان کے افراد اُس سے ملنے آئے۔ وُہ کیوں آئے تھے؟ مرقسؔ کُچھ اِشارہ دیتا ہے۔ یسؔوع کے بعض عزیزوں کا کہنا تھا کہ اُس کا دماغ چل گیا ہے (مرقسؔ ۳:۲۱؛ ۳۱-۳۵)۔ اُس کے خاندان کے لوگ شاید اِس لئے آئے تاکہ خاموشی سے اُسے وُہاں سے لے جائیں (یُوحناؔ ۷:۵ بھی ملاحظہ کریں)۔ جب اُسے بُتایا گیا کہ تیری «ماں اور بھائی باہر کھڑے» ہیں اور تجھ سے «بات کرنا چاہتے» ہیں تو یسؔوع نے جواب میں پوچھا کہ «کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی؟» پھر «اپنے شاگردوں» کی طرف اِشارہ کر کے اُس نے کہا کہ «جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے، وُہی میرا بھائی اور میری بہن اور ماں ہے۔»
یہ چونکا دینے والا بیان گہرے روحانی معنی کا حامل ہے۔ یہ بنی اِسرائیل کے ساتھ یسؔوع کے سلوک میں ایک نمایاں موڑ ہے۔ مرؔیم اور اُس کے بیٹے اِسرائیلی قوم، یسؔوع کی خونی رِشتے کی قوم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اب تک وُہ اپنی خدمت کو بڑی حد تک اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں تک محدود رکھے ہوئے تھا، مگر یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی تھی کہ اُس کے اپنے لوگ اُسے قبول نہیں کریں گے۔ اپنے مسیحِ مَوعُود کے سامنے جھکنے کے بجائے فریسی الزام لگا رہے تھے کہ وُہ شیطان کے کنٹرول میں ہے۔
چنانچہ اَب یسؔوع ایک نئے نظام کا اعلان کرتا ہے۔ وُہ مضبوط رِشتوں کے ساتھ بنی اِسرائیل کے ساتھ بَندھا ہُوا تھا۔ مگر اب سے وُہ دوسروں میں منادی کرنے میں اِن بَندھنوں کا پابَند نہیں رہے گا۔ اگرچہ اُس کا رحم بھرا دِل جِسم میں اپنے ہم وطنوں سے عرض اور منت کرتا رہے گا، لیکن باب ۱۲ اِسرائیل سے الگ ہو جانے کی واضح نشان دہی کرتا ہے۔ نتیجہ بھی صاف ظاہر ہے۔ اِسرائیل اُسے قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ چنانچہ وُہ اُن لوگوں کی طرف رجوع کرے گا جو اُسے قبول کریں گے۔ روحانی لحاظ خونی رِشتوں پر سبقت لے جائے گا۔ یہُودی ہوں یا غیر قوم، جتنے اور جو بھی لوگ خُدا کی فرماں برداری کریں گے، اُن کا مسیح یسؔوع کے ساتھ رِشتہ قائم ہو جائے گا۔
اِس واقعے کے بیان کو ختم کرنے سے پہلے ہم یسؔوع کی ماں کے بارے میں دو اہم نکات کا ذِکر کرنا چاہتے ہیں۔ اوّل، جہاں تک یسؔوع کی حضوری میں رسائی حاصل کرنے کا تعلق ہے مرؔیم کو کوئی اِمتؔیازی اِستحقاق حاصل نہیں تھا۔
دوم، یسؔوع کے بھائیوں کا ذِکر مرؔیم کے دائمی کنوارپن کی تعلیم پر ضرب کاری لگاتا ہے۔ یہاں یہ مفہُوم بُہت مضبوط ہے کہ وُہ مرؔیم کے حقیقی بیٹے تھے۔ اِس لئے ماں کی طرف سے یسؔوع کے بھائی تھے۔ صحائف کے دوسرے متعدد حوالے اِس نظریے کو تقویت دیتے ہیں۔ دیکھئے زبُور ۶۹:۸؛ متؔی ۱۳:۵۵؛ مرقسؔ ۳:۳۱،۳۲؛ ۶:۳؛ یُوحناؔ ۷:۳،۵؛ اعمال ۱:۱۴؛ ۱۔کرنتھیوں ۹:۵؛ گلتیوں ۱:۱۹۔
کِتابِ مُقدّس
۱۔ عَیب جوئی نہ کرو کہ تُمہاری بھی عَیب جوئی نہ کی جائے۔
۲۔ کیونکہ جِس طرح تُم عَیب جوئی کرتے ہو اُسی طرح تُمہاری بھی عَیب جوئی کی جائے گی اور جِس پَیمانہ سے تُم ناپتے ہو اُسی سے تُمہارے واسطے ناپا جائے گا۔
۳۔ تُو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ کے تِنکے کو دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کے شہتِیر پر غَور نہیں کرتا؟
۴۔ اور جب تیری ہی آنکھ میں شہتِیر ہے تو تُو اپنے بھائی سے کیونکر کہہ سکتا ہے کہ لا تیری آنکھ میں سے تِنکا نِکال دُوں؟
۵ ۔اَے رِیاکار پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتِیر نِکال پِھر اپنے بھائی کی آنکھ میں سے تِنکے کو اچّھی طرح دیکھ کر نِکال سکے گا۔
۶ ۔پاک چِیز کُتّوں کو نہ دو اور اپنے موتی سُؤروں کے آگے نہ ڈالو۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ اُن کو پاؤں تلے رَوندیں اور پلٹ کر تُم کو پھاڑیں۔
۷۔ مانگو تو تُم کو دِیا جائے گا۔ ڈُھونڈو تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تُمہارے واسطے کھولا جائے گا۔
۸۔ کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے اُسے مِلتا ہے اور جو ڈُھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے واسطے کھولا جائے گا۔
۹ ۔تُم میں اَیسا کَون سا آدمی ہے کہ اگر اُس کا بیٹا اُس سے روٹی مانگے تو وہ اُسے پتّھر دے؟
۱۰۔ یا اگر مچھلی مانگے تو اُسے سانپ دے؟
۱۱ ۔پس جب کہ تُم بُرے ہو کر اپنے بچّوں کو اچّھی چِیزیں دینا جانتے ہو تو تُمہارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچّھی چِیزیں کیوں نہ دے گا؟
۱۲۔ پس جو کُچھ تُم چاہتے ہو کہ لوگ تُمہارے ساتھ کریں وُہی تُم بھی اُن کے ساتھ کرو کیونکہ تَورَیت اور نبیوں کی تعلِیم یِہی ہے۔
۱۳۔ تنگ دروازہ سے داخِل ہو کیونکہ وہ دروازہ چَوڑا ہے اور وہ راستہ کُشادہ ہے جو ہلاکت کو پُہنچاتا ہے اور اُس سے داخِل ہونے والے بُہت ہیں۔
۱۴۔ کیونکہ وہ دروازہ تنگ ہے اور وہ راستہ سُکڑا ہے جو زِندگی کو پُہنچاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں۔
۱۵۔ جُھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تُمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطِن میں پھاڑنے والے بھیڑئے ہیں۔
۱۶ ۔اُن کے پَھلوں سے تُم اُن کو پہچان لو گے۔ کیا جھاڑِیوں سے انگُور یا اُونٹ کٹاروں سے انجِیر توڑتے ہیں؟
۱۷۔ اِسی طرح ہر ایک اچّھا درخت اچّھا پَھل لاتا ہے اور بُرا درخت بُرا پَھل لاتا ہے۔
۱۸۔ اچّھا درخت بُرا پَھل نہیں لا سکتا نہ بُرا درخت اچّھا پَھل لا سکتا ہے۔
۱۹۔ جو درخت اچّھا پَھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔
۲۰۔ پس اُن کے پَھلوں سے تُم اُن کو پہچان لو گے۔
۲۱۔ جو مُجھ سے اَے خُداوند اَے خُداوند! کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخِل نہ ہو گا مگر وُہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے۔
۲۲۔ اُس دِن بُہتیرے مُجھ سے کہیں گے اَے خُداوند اَے خُداوند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبُوّت نہیں کی اور تیرے نام سے بدرُوحوں کو نہیں نِکالا اور تیرے نام سے بُہت سے مُعجِزے نہیں دِکھائے؟
۲۳۔ اُس وقت مَیں اُن سے صاف کہہ دُوں گا کہ میری کبھی تُم سے واقفِیّت نہ تھی۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جاؤ۔
۲۴۔ پس جو کوئی میری یہ باتیں سُنتا اور اُن پر عمل کرتا ہے وہ اُس عقل مند آدمی کی مانِند ٹھہرے گا جِس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا۔
۲۵ ۔اور مِینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندِھیاں چلِیں اور اُس گھر پر ٹکریں لگِیں لیکن وہ نہ گِرا کیونکہ اُس کی بُنیاد چٹان پر ڈالی گئی تھی۔
۲۶ ۔اور جو کوئی میری یہ باتیں سُنتا ہے اور اُن پر عمل نہیں کرتا وہ اُس بیوُقُوف آدمی کی مانِند ٹھہرے گا جِس نے اپنا گھر ریت پر بنایا۔
۲۷۔ اور مِینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندِھیاں چلِیں اور اُس گھر کو صدمہ پُہنچایا اور وہ گِر گیا اور بِالکُل برباد ہو گیا۔
۲۸۔ جب یِسُوعؔ نے یہ باتیں ختم کِیں تو اَیسا ہُؤا کہ بِھیڑ اُس کی تعلِیم سے حَیران ہُوئی۔
۲۹ ۔کیونکہ وہ اُن کے فقِیہوں کی طرح نہیں بلکہ صاحِبِ اِختیار کی طرح اُن کو تعلِیم دیتا تھا۔