متؔی ۱۵

۱۵۔ بادشاہ کی فتح (باب ۲۸)

الف۔ خالی قبر اور زندہ خُداوند (۲۸:‏۱-‏۱۰)

۲۸:‏۱-‏۴ اتوار کی صبح پو پھٹنے سے پہلے «مرؔیم مگدِل ینی اور دُوسری مرؔیم قبر کو دیکھنے آئیں۔» اُن کے پہنچتے پہنچتے «ایک بڑا بھونچال آیا۔» … ایک «فرشتہ آسمان سے اُترا۔» …اُس نے قبر کے منہ سے «پتھر کو لُڑھکا دیا اور اُس پر بیٹھ گیا۔» رؔومی پہرے دار چمک دار پوشاک میں ملبَس اُس نورانی ہستی کو دیکھ کر ڈر کے مارے بے ہوش ہو گئے۔

۲۸:‏۵،‏۶ فرشتے نے «عورتوں» کو تسلی دی کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں،‏ جِسے تم ڈھونڈتی ہو،‏ وُہ «اپنے کہنے کے مطابق جی اُٹھا ہے۔ آئو،‏ یہ جگہ دیکھو جہاں خُداوند پڑا تھا۔» قبر کے منہ سے پتھر لُڑھکایا جا چکا تھا،‏ اِس لئے نہیں کہ خُداوند باہر نکل سکے بلکہ اِس لئے کہ عورتیں دیکھ سکیِں کہ وُہ جی اُٹھا ہے۔

۲۸:‏۷-‏۱۰ اب فرشتے نے عورتوں کو یہ ذمہ داری سونپی کہ «جلد جا کر» یہ جلالی خبر اُس کے «شاگردوں» کو دیں کہ خُداوند جی اُٹھا ہے اور «گلیل» میں اُن سے ملے گا۔

جب وُہ شاگردوں کو خبر دینے جا رہی تھیں تو یسؔوع اُن پر ظاہر ہُوا اور اُن کو خاص ایک لفظ کے ساتھ سلام کیا۔ یہ لفظ تھا «خوشی منائو» (جِس کا ترجمہ ’سلام‘ کیا گیا ہے)۔ یہ یٗونانی میں مروجہ اور معیاری «سلام» تھا۔ اگرچہ اِس کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو اُس جی اُٹھنے کی صبح کی مُناسبُت سے نہایت موزوں ہو گا۔

عورتوں کا ردِعمل نہایت فطری تھا۔ «اُنہوں نے پاس آ کر اُس کے قدم پکڑے اور اُسے سجدہ کیا۔» اب اُس نے خود شخصی طور پر اُن کے سپرد یہ کام کیا کہ «جائو،‏ میرے بھائیوں کو خبر دو تاکہ گلیل کو چلے جائیں۔ وُہاں مجھے دیکھیں گے۔»

ب۔ سپاہیوں کو جھوٹ بولنے کے لئے رشوت دی جاتی ہے (۲۸:‏۱۱-‏۱۵)

۲۸:‏۱۱ جونہی پہرے داروں کو ہوش آیا،‏ اُن میں سے بعض نے بے شرم بن کر جا کر «تمام ماجرا سردار کاہنوں سے بیان کیا» کہ ہم اپنے مقصد میں ناکام رہے ہیں۔ قبر خالی ہے۔

۲۸:‏۱۲،‏۱۳ یہ تصور کرنا کُچھ مشکل نہیں کہ اِن مذہبی لیڈروں کو کیسا اِضطراب ہُوا ہو گا۔ اُنہوں نے بزرگوں کے ساتھ ایک خفیہ اجلاس کیا تاکہ کوئی لائحہ عمل تیار کریں۔ اب وُہ دیوانے ہو رہے تھے۔ اُنہوں نے «سپاہیوں» کو بھاری رِشوت دی کہ یہ ناقابلِ یقین کہانی بیان کریں کہ «جب ہم سو رہے تھے اُس کے شاگرد آ کر اُسے چرا لے گئے۔»

پہرے دار سو کیوں رہے تھے جب کہ اُن کو تو چوکنا ہونا چاہئے تھا؟ شاگرد اُن کو جگائے بغیر پتھر کو کس طرح لڑھکا سکتے تھے؟ سارے سپاہی ایک ساتھ کیسے سو گئے؟ اگر سو ہی گئے تھے تو اُن کو کیسے پتا چلا کہ لاش شاگردوں نے چرائی ہے؟ اگر یہ سارا ماجرا درست تھا تو اِسے بیان کرنے کے لئے سپاہیوں کو رِشوت دینے کی ضُرورتکیوں پڑی؟ اگر شاگردوں نے لاش چرائی تھی،‏ تو وُہ کفن اور سر کا رؔومال اُتارنے میں وقت کیوں صِرف کرتے رہے؟ (لُوقاؔ ۲۴:‏۱۲؛ یُوحناؔ ۲۰:‏۶،‏۷)۔

۲۸:‏۱۴ دراصل سپاہیوں کو ایسی کہانی سنانے کے لئے رِشوت دی گئی جو خود اُنہی کو مجرم ٹھہراتی تھی۔ رؔومی قانون کے تحت ڈیوٹی پر سو جانے کی سزا موت تھی۔ اِس لئے یہُودی لیڈروں کو وعدہ کرنا پڑا کہ اگر یہ بات «حاکم کے کان تک پہنچی» تو ہم مداخلت کریں گے اور تمہیں بچا لیں گے۔

سنہیڈرن کے افراد سیکھ رہے تھے کہ سچائی اپنے آپ کو منوا لیتی ہے۔ مگر جھوٹ کو سہارا دینے کے لئے اَن گنت جھوٹ اَور بولنے پڑتے ہیں۔

۲۸:‏۱۵ یہ دیو مالائی کہانی «آج تک یہُودی وں میں مشہور ہے» بلکہ غیر قوموں میں بھی مشہور ہے۔ اَور بھی دیومالائی کہانیاں ہیں۔ وِلبر سمتھ (Wilbur Smith) نے اُن میں سے دو کا خلاصہ کیا ہے:‏

  1. یہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ عورتیں غلط قبر پر چلی گئی تھیں۔ چند لمحوں کے لئے اِس بات پر غور کریں۔ کیا آپ جمعہ کی شام سے اتوار کی صبح کے دوران اپنے کِسی عزیز کی قبر کو یاد نہ رکھ سکیِں گے؟ علاوُہ ازیں یہ ارمتؔیاہ کے یُوسؔف کا قبرستان نہیں تھا بلکہ اُس کا ذاتی باغ تھا۔ وُہاں اَور قبریں نہیں تھیں۔
    خیر،‏ فرض کر لیتے ہیں کہ وُہاں دُوسری قبریں بھی تھیں (حالانکہ نہیں تھیں) اور یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ عورتوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جن کے باعث اِنہیں اچھی طرح دِکھائی نہیں دے رہا تھا اور وُہ اِدھر اُدھر ٹھوکریں کھاتیں ایک غلط قبر پر چلی گئیں۔ چلئے عورتوں کے لئے ہم اِتنی باتیں فرض کر لیتے ہیں،‏ لیکن شمعون پَطرسؔ اور یُوحناؔ تو حوصلہ مند ماہی گیر تھے۔ وُہ تو رو نہیں رہے تھے۔ وُہ بھی قبر پر گئے اور اُسے خالی پایا۔ کیا آپ کا خیال ہے کہ وُہ بھی غلط قبر پر چلے گئے تھے؟ لیکن ذرا آگے دیکھئے۔ وُہ قبر پر پہنچیں تو دیکھا کہ خالی ہے۔ مگر وُہاں ایک فرشتہ بھی تھا جِس نے کہا کہ «وُہ یہاں نہیں۔ وُہ جی اُٹھا ہے۔ آئو۔ یہ جگہ دیکھو جہاں خُداوند پڑا تھا۔» کیا فرشتہ بھی غلط قبر پر آ گیا تھا؟ حیرت کی بات ہے کہ بڑے بڑے عالم لوگوں نے یہ نظریات پیش کئے ہیں۔ مگر یہ نظریہ بالکُل نامعقول ہے!
  2. کئی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یسؔوع مرا نہیں تھا بلکہ بے ہوش ہو گیا تھا۔ اور اُس گیلی سیلی قبر کے اندر کِسی طرح اُس کا سانس دوبارہ چلنے لگا۔ وُہ ہوش میں آ گیا اور باہر نکل آیا۔ لیکن غور کیجئے قبر کے منہ پر بھاری پتھر تھا اور اُس پر رؔومی حکومت کی مُہریں لگی ہوئی تھیں۔ اندر سے کوئی شخص اُس پتھر کو لُڑھکا نہیں سکتا تھا کیونکہ ایک تو وُہ خاص زاویہ پر رکھا گیا تھا،‏ دوسرے وُہ نالی یا جھری میں اٹکا ہُوا تھا۔ وُہ قبر سے ایک کمزور اور بیمار شخص کی صورت میں نہیں نکلا تھا۔

صاف حقیقت تو یہ ہے کہ خُداوند یسؔوع کا جی اُٹھنا ایسا واقعہ ہے جِس کی تاریخ میں بُہت توثیق اور گواہی موجود ہے۔ اُس نے دُکھ اُٹھانے کے بعد اپنے آپ کو ناقابلِ تردید ثبوتوں کے ساتھ شاگردوں پر زندہ ظاہر کیا۔ اُن خاص واقعات پر غور کریں جب وُہ اپنے لوگوں پر ظاہر ہُوا۔

    1. مرؔیم مگدِل ینی پر (مرقسؔ ۱۶:‏۹-‏۱۱)۔
    2. عورتوں پر (متؔی ۲۸:‏۸-‏۱۰)۔
    3. پَطرسؔ پر (لُوقاؔ ۲۴:‏۳۴)۔
    4. اِمائوس کی راہ پر دو شاگردوں پر (لُوقاؔ ۲۴:‏۱۳-‏۳۲)۔
    5. توما کی غیر حاضری میں باقی شاگردوں پر (یُوحناؔ ۲۰:‏۱۹-‏۲۵)۔
    6. توما کے ساتھ شاگردوں پر (یُوحناؔ ۲۰:‏۲۶-‏۳۱)۔
    7. گلیل کی جھیل کے کنارے سات شاگردوں پر (یُوحناؔ باب ۲۱)۔
    8. پانچ سو سے زیادہ ایمان داروں پر (۱۔کرنتھیوں ۱۵:‏۷)۔
  1. یعقوب پر (۱۔کرنتھیوں ۱۵:‏۷)۔
  2. زیتون کے پہاڑ پر شاگردوں پر (اعمال ۱:‏۳-‏۱۲)۔

ہمارے مسیحی ایمان کا ایک بنیادی پتھر جِسے ہلانا یا سرکانا ممکن نہیں یہی تاریخی گواہی ہے جو ثابُت کرتی ہے کہ خُداوند یسؔوع مسیح جی اُٹھا۔ مَیں اور آپ اِسی چٹان پر قدم جما کر ایمان کی خاطر لڑ سکتے اور اِس کا دِفاع کر سکتے ہیں کیونکہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی تردید نہیں ہو سکتی۔ اُن کا اِنکار تو کیا جا سکتا ہے مگر اِنہیں غلط ثابُت نہیں کیا جا سکتا۔

ج۔ ارشادِ عظیم (متؔی ۲۸:‏۱۶-‏۲۰)

۲۸:‏۱۶،‏۱۷ جی اُٹھا خُداوند یسؔوع مسیح «گلیل» میں ایک پہاڑ پر اپنے شاگردوں کو دِکھائی دیا (اُس پہاڑ کا نام نہیں بُتایا گیا)۔ یہ وُہی ظہور ہے جو مرقسؔ ۱۶:‏۱۵-‏۱۸ اور ۱۔کرنتھیوں ۱۵:‏۶ میں بھی مرقوم ہے۔ کیسا عجیب اور شان دار ملاپ تھا! اُس کے دُکھ ہمیشہ کے لئے گزر چکے تھے۔ چونکہ یسؔوع زندہ ہے اِس لئے اُس کے شاگرد بھی جیتے رہیں گے۔ وُہ اپنے جلالی بدن میں اُن کے سامنے کھڑا تھا۔ اُنہوں نے زندہ خُداوند کو سجدہ کیا __ اگرچہ اُن کے ذہنوں میں اَب بھی شک چھپے ہوئے تھے۔

۲۸:‏۱۸ وُہاں المسیح نے بیان کیا کہ «آسمان اور زمین کا کُل اِختیار مجھے دیا گیا ہے۔» ایک لحاظ سے تو ہمیشہ ہمیشہ سے یہ اِختیار اُس کا تھا۔ لیکن یہاں وُہ اُس اِختیار کی بات کر رہا تھا جو نئی مخلوق کا سردار ہونے کی حیثیت سے اُسے حاصل ہے۔ اپنی موت اور قیامت کے باعث اُسے اِختیار ہے کہ جنہیں خُدا نے اُسے بخشا ہے،‏ اُن سب کو ہمیشہ کی زندگی دے (یُوحناؔ ۱۷:‏۲)۔ تمام مخلُوقاؔت سے پہلے مولود ہونے کے باعث اُسے ہمیشہ سے اِختیار حاصل تھا،‏ لیکن اب جب کہ وُہ مخلصی کے کام کو پورا کر چکا ہے اُسے مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا ہونے کے سبب سے بھی یہ اِختیار ہے «تاکہ سب باتوں میں اُس کا اوّل درَج ہ ہو» (کلسیوں ۱:‏۱۵،‏۱۸)۔

۲۸:‏۱۹،‏۲۰ نئی مخلوق کا سردار ہونے کے باعث اُس نے اِرشادِ عظیم دیا،‏ یعنی وُہ حُکم جو موجودہ دَور میں ایمان داروں پر لاگو ہے اور جِس کی پابَندی ہمیشہ کرتے رہنا فرض ہے۔

اِرشاد عظیم کِسی مشورے پر نہیں بلکہ تین حکموں پر مشتمل ہے۔

  1. «تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بنائو۔» اِس سے یہ مراد نہیں کہ ایک دن ساری دُنیا مسیح کو قبول کر لے گی۔ مقصد یہ ہے کہ انجیل کی منادی سے شاگرد ہر قوم،‏ ہر قبَیلے،‏ ہر اُمت اور ہر اہلِ لغت کو مسیح کے قدموں میں آنے کی دعوت دیں۔
  2. «اور اُن کو باپ اور بیٹے اور رُوح القُدس کے نام سے بپتسمہ دو۔» مسیح کے ایلچیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بپتسمہ کی تعلیم دیں اور زور دیں کہ اِسے حُکم کے طور پر مانا جائے۔ ایمان داروں کے بپتسمہ میں مسیحی علانیہ خدائے ثالوث کا اِقرار کرتے ہیں،‏ وُہ تسلیم کرتے ہیں کہ خُدا ہمارا باپ ہے۔ یسؔوع مسیح ہمارا خُداوند اور نجات دہندہ ہے۔ اور رُوح القُدس ہمارے اندر سکونت کرتا،‏ ہمیں قوت دیتا اور ہمیں تعلیم دیتا ہے۔ آیت ۱۹ میں لفظ «نام» واحد ہے۔ لیکن تین اقانیم کے لئے ہے یعنی «باپ،‏ بیٹا اور رُوح القُدس» یعنی «نام» یا جوُہر ایک ہی ہے۔
  3. «اور اُن کو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا مَیں نے تم کو حُکم دیا۔» اِرشادِ عظیم تبلیغ اور منادی سے بُہت آگے کی بات کرتا ہے۔ صِرف اِتنا ہی کافی نہیں کہ دوسروں کو مسیح کے پاس لا کر چھوڑ دیا جائے کہ اپنے آپ کو سنبھالتے پھریں،‏ بلکہ اُن کو یہ تعلیم دینا بھی ضروری ہے کہ مسیح کے حکموں پر جو نئے عہدنامہ میں پائے جاتے ہیں،‏ عمل کریں۔ شاگردیت کا جوُہر یہ ہے کہ اُستاد کی مانند بنیں۔ اور یہ مقصد اِسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے کہ کلام کی باقاعدہ تعلیم دی جائے اور اُس کی تابع داری کی جائے۔

اِس کے بعد نجات دہندہ نے ایک وعدہ کیا کہ اِس «دُنیا» یعنی اِس دَور یا زمانے کے آخر تک مَیں ہمیشہ تمہارے ہوں۔ وُہ دُنیا میں تنہا یا بے سہارا نہیں جائیں گے۔ ساری خدمت اور سفر کے دوران اُن کو خُدا کے بیٹے کی حمایت اور ساتھ کا احساس بلکہ عِلم ہو گا۔

اِرشادِ عظیم میں اِن چار الفاظ پر غور کریں «کُل اِختیار۔ سب قوموں۔ سب باتوں۔ اور ہمیشہ» اِن سب میں «کلُیت» پائی جاتی ہے۔

یہ اِنجیل ہمارے جلالی خُداوند کی طرف سے ارشاد اور کلمۂ اطمینان پر اِختتام پذیر ہوتی ہے۔ دو ہزار سال بعد آج بھی یہ الفاظ اُسی طرح برمحل ہیں،‏ مگر کام ابھی تک نامکمّل ہے۔

ہم اِس کے آخری حُکم کی بجا آوری کے لئے کیا کر رہے ہیں؟

مقدس کتاب

۱- اُس وقت فرِیسِیوں اور فقِیہوں نے یروشلِیم سے یِسُوعؔ کے پاس آ کر کہا کہ
۲- تیرے شاگِرد بزُرگوں کی روایت کو کیوں ٹال دیتے ہیں کہ کھانا کھاتے وقت ہاتھ نہیں دھوتے؟
۳- اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ تُم اپنی روایت سے خُدا کا حُکم کیوں ٹال دیتے ہو؟
۴- کیونکہ خُدا نے فرمایا ہے تُو اپنے باپ کی اور اپنی ماں کی عِزّت کرنا اور جو باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضرُور جان سے مارا جائے۔
۵- مگر تُم کہتے ہو کہ جو کوئی باپ یا ماں سے کہے کہ جِس چِیز کا تُجھے مُجھ سے فائِدہ پُہنچ سکتا تھا وہ خُدا کی نذر ہو چُکی۔
۶- تو وہ اپنے باپ کی عِزّت نہ کرے۔ پس تُم نے اپنی روایت سے خُدا کا کلام باطِل کر دِیا۔
۷- اَے رِیاکارو یسعیاہ نے تُمہارے حق میں کیا خُوب نبُوّت کی کہ
۸- یہ اُمّت زُبان سے تو میری عِزّت کرتی ہے مگر اِن کا دِل مُجھ سے دُور ہے۔
۹- اور یہ بے فائِدہ میری پرستِش کرتے ہیں کیونکہ اِنسانی احکام کی تعلِیم دیتے ہیں۔
۱۰- پِھر اُس نے لوگوں کو پاس بُلا کر اُن سے کہا کہ سُنو اور سمجھو۔
۱۱- جو چِیز مُنہ میں جاتی ہے وہ آدمی کو ناپاک نہیں کرتی مگر جو مُنہ سے نِکلتی ہے وُہی آدمی کو ناپاک کرتی ہے۔
۱۲- اِس پر شاگِردوں نے اُس کے پاس آ کر کہا کیا تُو جانتا ہے کہ فرِیسِیوں نے یہ بات سُن کر ٹھوکر کھائی؟
۱۳- اُس نے جواب میں کہا جو پَودا میرے آسمانی باپ نے نہیں لگایا جڑ سے اُکھاڑا جائے گا۔
۱۴- اُنہیں چھوڑ دو۔ وہ اندھے راہ بتانے والے ہیں اور اگر اندھے کو اندھا راہ بتائے گا تو دونوں گڑھے میں گِریں گے۔
۱۵- پطرسؔ نے جواب میں اُس سے کہا یہ تمثِیل ہمیں سمجھا دے۔
۱۶- اُس نے کہا کیا تُم بھی اب تک بے سمجھ ہو؟
۱۷- کیا نہیں سمجھتے کہ جو کُچھ مُنہ میں جاتا ہے وہ پیٹ میں پڑتا اور مزبلہ میں پَھینکا جاتا ہے۔
۱۸- مگر جو باتیں مُنہ سے نِکلتی ہیں وہ دِل سے نِکلتی ہیں اور وُہی آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔
۱۹- کیونکہ بُرے خیال۔ خُونریزِیاں۔ زِناکارِیاں۔ حرامکارِیاں۔ چورِیاں۔ جُھوٹی گواہِیاں۔ بدگوئِیاں دِل ہی سے نِکلتی ہیں۔
۲۰- یِہی باتیں ہیں جو آدمی کو ناپاک کرتی ہیں مگر بغَیر ہاتھ دھوئے کھانا کھانا آدمی کو ناپاک نہیں کرتا۔
۲۱- پِھر یِسُوعؔ وہاں سے نِکل کر صُور اور صَیدا کے عِلاقہ کو روانہ ہُؤا۔
۲۲- اور دیکھو ایک کنعانی عَورت اُن سرحدّوں سے نِکلی اور پُکار کر کہنے لگی اَے خُداوند اِبنِ داؤُد مُجھ پر رحم کر۔ ایک بدرُوح میری بیٹی کو بُہت ستاتی ہے۔
۲۳- مگر اُس نے اُسے کُچھ جواب نہ دِیا اور اُس کے شاگِردوں نے پاس آ کر اُس سے یہ عرض کی کہ اُسے رُخصت کر دے کیونکہ وہ ہمارے پِیچھے چِلاّتی ہے۔
۲۴- اُس نے جواب میں کہا کہ مَیں اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہُوئی بھیڑوں کے سِوا اَور کِسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔
۲۵- مگر اُس نے آ کر اُسے سِجدہ کِیا اور کہا اَے خُداوند میری مدد کر۔
۲۶- اُس نے جواب میں کہا لڑکوں کی روٹی لے کر کُتّوں کو ڈال دینا اچّھا نہیں۔
۲۷- اُس نے کہا ہاں خُداوند کیونکہ کُتّے بھی اُن ٹُکڑوں میں سے کھاتے ہیں جو اُن کے مالِکوں کی میز سے گِرتے ہیں۔
۲۸- اِس پر یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اَے عَورت تیرا اِیمان بُہت بڑا ہے۔ جَیسا تُو چاہتی ہے تیرے لِئے وَیسا ہی ہو اور اُس کی بیٹی نے اُسی گھڑی شِفا پائی۔
۲۹- پِھر یِسُوعؔ وہاں سے چل کر گلِیل کی جِھیل کے نزدِیک آیا اور پہاڑ پر چڑھ کر وہِیں بَیٹھ گیا۔
۳۰- اور ایک بڑی بِھیڑ لنگڑوں۔ اندھوں۔ گُونگوں۔ ٹُنڈوں اور بُہت سے اَور بِیماروں کو اپنے ساتھ لے کر اُس کے پاس آئی اور اُن کو اُس کے پاؤں میں ڈال دِیا اور اُس نے اُنہیں اچّھا کر دِیا۔
۳۱- چُنانچہ جب لوگوں نے دیکھا کہ گُونگے بولتے۔ ٹُنڈے تندُرُست ہوتے اور لنگڑے چلتے پِھرتے اور اندھے دیکھتے ہیں تو تعجُّب کِیا اور اِسرائیل کے خُدا کی تمجِید کی۔
۳۲ اور یِسُوعؔ نے اپنے شاگِردوں کو پاس بُلا کر کہا مُجھے اِس بِھیڑ پر ترس آتا ہے کیونکہ یہ لوگ تِین دِن سے برابر میرے ساتھ ہیں اور اُن کے پاس کھانے کو کُچھ نہیں اور مَیں اُن کو بُھوکا رُخصت کرنا نہیں چاہتا۔ کہِیں اَیسا نہ ہو کہ راہ میں تھک کر رہ جائیں۔
۳۳- شاگِردوں نے اُس سے کہا بیابان میں ہم اِتنی روٹِیاں کہاں سے لائیں کہ اَیسی بڑی بِھیڑ کو سیر کریں؟
۳۴- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا تُمہارے پاس کِتنی روٹِیاں ہیں؟ اُنہوں نے کہا سات اور تھوڑی سی چھوٹی مچھلِیاں ہیں۔
۳۵- اُس نے لوگوں کو حُکم دِیا کہ زمِین پر بَیٹھ جائیں۔
۳۶- اور اُن سات روٹِیوں اور مچھلِیوں کو لے کر شُکر کِیا اور اُنہیں توڑ کر شاگِردوں کو دیتا گیا اور شاگِرد لوگوں کو۔
۳۷- اور سب کھا کر سیر ہو گئے اور بچے ہُوئے ٹُکڑوں سے بھرے ہُوئے سات ٹوکرے اُٹھائے۔
۳۸- اور کھانے والے سِوا عَورتوں اور بچّوں کے چار ہزار مَرد تھے۔
۳۹- پِھر وہ بِھیڑ کو رُخصت کر کے کشتی میں سوار ہُؤا اور مگدَن کی سرحدّوں میں آ گیا۔-