متؔی ۴

۴۔ بادشاہی کا آئین (ابواب ۵-‏۷)

یہ کوئی اتفاقی بات نہیں کہ پہاڑی وعظ کو نئے عہدنامہ کے آغاز کے قریب رکھا گیا ہے۔ اِس کے مقام سے اِس کی اہمیّت کا اِظہار ہوتا ہے۔ اِس میں بادشاہ اس کردار اور عادات و اطوار کا خلاصہ پیش کرتا ہے جِس کی توقع اس بادشاہی کی رعیت سے ہوتی ہے۔

یہ وعظ نجات کے منصوبے کو پیش نہیں کرتا اور نہ یہ غیر نجات یافتہ لوگوں کے لئے تعلیم ہے۔ اِس کے مخاطبین شاگرد تھے (۵:‏۱،‏۲) اور مقصد وُہ آئین یا قوانین اور اصولوں کا وُہ نظام پیش کرنا ہے جو بادشاہی کی حکمرانی کے دوران اُس کی رعیت پر لاگو ہوں گے۔ یہ ماضی،‏ حال اور مستقبل کے اُن تمام لوگوں کے لئے ہیں جو مسیح کو بادشاہ مانتے ہیں۔ جب یسؔوع اِس دُنیا میں تھا تو اِس آئین کا اُس کے شاگردوں پر براہِ راست اطلاق ہوتا تھا۔ اب ہمارا خُداوند آسمان میں بادشاہی کر رہا ہے تو اِس کا اُن سب پر اِطلاق ہوتا ہے جو اُسے اپنے دِل میں تخت نشین کرتے اور بادشاہ تسلیم کرتے ہیں اور بالآخر یہ «بڑی مصیبُت» کے زمانے میں اور زمین پر مسیح کی بادشاہی کے دوران مسیح کے پیروکاروں کے لئے ضابطہ حیات ہو گا۔

اِس وعظ میں یہُودی رنگ نمایاں ہے جیسا کہ ۵:‏۲۲ میں یہُودی وں کی کونسل (یعنی سنہیڈرن) اور قربان گاہ (۵:‏۲۳،‏۲۴) اور یروشلؔیم (۵:‏۳۵) کا حوالہ دینے سے ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن یہ کہنا بالکُل غلط ہو گا کہ یہ تعلیمات صِرف ماضی یا مستقبل کے اِسرائیلی ایمان داروں کے لئے ہیں۔ یہ ہر زمانے کے اُن لوگوں کے لئے ہیں جو یسؔوع مسیح کو بادشاہ تسلیم کرتے ہیں۔

الف۔ مبارک بادیاں (۵:‏۱-‏۱۲)

۵:‏۱،‏۲ پہاڑی وعظ کا آغاز مبارک بادیوں سے ہوتا ہے۔ یہ مبارک بادیاں،‏ مسیح کی بادشاہی کے مثالی شہری کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہ خصُوصیات اُن خصُوصیات کے بالکُل اُلٹ ہیں جن کو دُنیا اہمیّت دیتی ہے۔ اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر اِن کے بارے میں یوں کہتا ہے کہ «نسلِ اِنسانی کی بُہت درست تصویر پیش کرنے کے لئے اِن مبارک بادیوں کو لو۔ اِنہیں اُلٹ دو اور جو اِس سے واقف نہیں ہیں،‏ اُن سے کہو ’یہ ہے تمہاری نسلِ اِنسانی‘۔»

۵:‏۳ پہلی مبارک بادی اُن کے لئے جو «دِل کے غریب ہیں۔» یہاں طبعی رُجحان یا میلان کی بات نہیں کی گئی بلکہ شعوری اِنتخاب کی بات ہے۔ «دِل کے غریب» وُہ ہیں جو اپنی بے مائیگی اور ناچاری کو مانتے اور خُدا کی قُدرت کامِل ہ پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اُن کو اپنی روحانی ضُرورتاور محتاجی کا احساس ہوتا ہے اور وُہ جانتے ہیں کہ خُداوند اُسے پورا کر سکتا ہے۔ «آسمان کی بادشاہی» (جہاں خود کفالت کوئی خوبی نہیں اور خود ستائی ایک گُناہ ہے) ایسوں ہی کی ہے۔

۵:‏۴ «مبارک ہیں وُہ جو غمگین ہیں» کیونکہ تسلی کے ایام اُن کے منتظر ہیں۔ یہاں وُہ غم نہیں جو اِنقلاباتِ زندگی اور گردشِ زمانہ کے باعث سہنا پڑتا ہے بلکہ وُہ غم ہے جِس کا تجربہ خُداوند یسؔوع کے ساتھ رفاقت رکھنے کے باعث ہوتا ہے۔ اِس سے مراد دُنیا کی تکالیف اور گُناہ کے دُکھ کو محسوس کرنے میں یسؔوع کے ساتھ شریک ہونا ہے۔ اِس لئے اِس میں نہ صِرف اپنے گُناہ کا غم بلکہ دُنیا کی زبوں حالی کا غم،‏ دُنیا کے نجات دہندہ کو ردّ کرنے کا غم اور اُس کے رحم کو ردّ کرنے والوں کے حشر کا غم بھی شامِل ہے۔ اِن غمگین اور ماتم کرنے والے لوگوں کو آئندہ ایام میں تسلی ملے گی۔ اُس روز خُدا «اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا» (مُکاشفہ۲۱:‏۴)۔ ایمان دار اِسی جہان میں ہی غموں اور دُکھوں کو پورا کر لیں گے جب کہ بے ایمانوں کے لئے آج کا غم ابدی غم کا صِرف ایک عکس ہے۔

۵:‏۵ تیسری مبارک بادی حلیموں کے لئے ہے کہ «وُہ زمین کے وارث ہوں گے۔» ہو سکتا ہے کہ طبعی طور پر یہ لوگ متلون مزاج،‏ جذباتی اور تُرش رُو ہوں لیکن مسیح کے رُوح کے تابع ہونے سے وُہ «حلیم» اور فروتن ہو جاتے ہیں (بمقابلہ متؔی ۱۱:‏۲۹)۔ حلم کا مطلب ہے اپنے آپ کو ناچیز اور خاکسار مان لینا۔ «حلیم» شخص اگرچہ دوسروں کے دفاع اور خُدا کی خاطر شیر ببر ہوتا ہے مگر جب اُس کے اپنے حق کا سوال ہو تو وُہ نرم مزاجی اور بردباری کا مظاہرہ کرتا ہے۔

اِس وقت حلیم زمین کے وارث نہیں ہیں لیکن جب بادشاہ مسیح آ کر زمین پر ہزار سال تک بادشاہی کرے گا تو اَمن اور خوش حالی کا دَور دَورہ ہو گا۔ اُس وقت حلیم صحیح معنوں میں «زمین کے وارث ہوں گے۔»

۵:‏۶ اگلی مبارک بادی اُن کے لئے ہے جو «راست بازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں۔» اُن کے لئے آسودگی کا وعدہ ہے۔ یہ لوگ اپنی زندگیوں میں راست بازی کا وَلولہ اور شوق رکھتے ہیں۔ وُہ معاشرے میں دیانت داری،‏ ایمان داری اور عدِل و اِنصاف دیکھنے کے دِل دادہ ہوتے ہیں۔ وُہ کلیسیا میں عملی پاکیزگی دیکھنے کے متمنی ہوتے ہیں۔ اُن کی پیاس کو دُنیوی ندیاں نہیں بجھا سکتیں۔ اُن کی بھوک صِرف مسیح کو کھانے سے آسودہ ہوتی ہیں۔ یہ لوگ مسیح کی آنے والی بادشاہی میں کامِل طور سے «آسودہ ہوں گے» کیونکہ راست بازی حکمران ہو گی اور بدی کی جگہ اعلیٰ ترین اخلاقی معیار قائم ہوں گے۔

۵:‏۷ ہمارے خُداوند کی بادشاہی میں «رحم دِل » لوگ مبارک ہوں گے کیونکہ «اُن پر رحم کیا جائے گا۔» رحم دِل ہونے کا مطلب ہے عملی طور پر ہمدرد اور درد مند ہونا۔ ایک لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ جو سزا کے حق دار ہوں اُن کو سزا نہ دینا۔ وسیع تر مفہُوم یہ ہے کہ اُن حاجت مندوں کی مدد کرنا جو اپنی مدد خود نہیں کر سکتے۔ خُدا نے ہم پر وُہ غضب نازل نہیں کیا جِس کے ہم اپنے گُناہ کی وجہ سے حق دار تھے۔ یوں اُس نے مسیح کے کام کے وسیلے سے ہم کو ترس اور رحم دکھایا۔ جب ہم رحم دِل ہوتے ہیں تو خُدا کی تقلید کرتے ہیں۔

رحم دِل وں پر «رحم کیا جائے گا۔» یہاں یسؔوع نجات کے رحم کی بات نہیں کر رہا جو خُدا ایمان لانے والے گنہگار پر کرتا ہے۔ اِس رحم کا اِنحصار کِسی اِنسان کے رحم دِل ہونے پر نہیں بلکہ یہ مفت اور غیر مشروط بخشش ہے۔ لہٰذا یہاں مسیح اُس روزمرہ رحم دِل ی کی بات کر رہا ہے جو مسیحی زندگی کے لئے درکار ہے اور مستقبل کے اُس «رحم» کی طرف اشارہ ہے جب اِنسان کے اعمال کو آزمایا جائے گا (۱۔کرنتھیوں ۳:‏۱۲-‏۱۵)۔ جِس شخص نے رحم نہیں کیا اُس پر رحم نہیں کیا جائے گا یعنی اِنسان کا اجر اُسی نسبُت سے کم ہو جائے گا۔

۵:‏۸ «پاک دِل » لوگوں کو یقین دِل ایا گیا ہے کہ «وُہ خُدا کو دیکھیں گے۔» پاک دِل اِنسان وُہ ہوتا ہے جِس کی نیت خالص اور اِرادے نیک ہوں۔ جِس کے خیالات صاف اور ضمیر پاک ہو۔ «وُہ خُدا کو دیکھیں گے» اِن الفاظ کے کئی مفہُوم ہو سکتے ہیں۔ اوّل،‏ «پاک دِل » لوگ اَب بھی پاک رُوح کی مدد سے پاک نوشتوں میں خُدا کو دیکھتے ہیں۔ دوم،‏ کبھی کبھی اُن کو فوق الفطرت ظہور یا رُؤیا نظر آتا ہے جِس میں وُہ خُداوند کو دیکھتے ہیں۔ سوم،‏ جب یسؔوع دوبارہ آئے گا تو وُہ اُس کی ذات میں «خُدا کو دیکھیں گے۔» چہارم،‏ وُہ آسمان میں «خُدا کو دیکھیں گے۔»

۵:‏۹ اب جو «صُلح کراتے ہیں» اُن کے لئے مبارک بادی کا اعلان ہوتا ہے کہ «وُہ خُدا کے بیٹے کہلائیں گے۔» غور کریں کہ خُداوند اُن لوگوں کی بات نہیں کر رہا جو صُلح کُل مزاج رکھتے ہیں یا جو امن اور صُلح سے محبُت رکھتے ہیں۔ عام رویہ یہ ہے کہ لوگ دُور کھڑے ہو کر لڑائی جھگڑے کو دیکھتے رہتے ہیں۔ اِلٰہی یا روحانی رویہ عملی قدم اُٹھانے اور «صُلح کرانے» کا ہے خواہ اِس میں گالیاں کھانی پڑیں اور شدید الزامات کا شکار ہونا پڑے۔

صُلح کرانے والوں کو «خُدا کے بیٹے» کہا گیا ہے۔ وُہ اِس طرح خُدا کے بیٹے «بنتے» نہیں۔ یہ کام تو صِرف یسؔوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ قبول کرنے سے ہوتا ہے (یُوحناؔ ۱:‏۱۲)۔ صُلح کرانے سے ایمان دار «دِکھاتے» ہیں،‏ ثابُت کرتے ہیں کہ ہم «خُدا کے بیٹے» ہیں۔ اور وُہ دن آتا ہے جب خُدا تسلیم کرے گا کہ یہ میرے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔

۵:‏۱۰ اگلی مبارک بادی کا تعلق اُن لوگوں سے ہے جو اپنی خطاؤں اور غلطیوں کی خاطر نہیں بلکہ «راست بازی کے سبب سے ستائے» جاتے ہیں۔ جو ایمان دار نیکی کرنے کی وجہ سے دُکھ پاتے ہیں،‏ اُن کے ساتھ وعدہ ہے کہ «آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے۔» اُن کی دیانت داری اور ایمان داری دُنیا کو ملزم ٹھہراتی ہے اِس لئے دُنیا اُن کی دشمن ہو جاتی ہے۔ لوگ راست باز زندگی سے اِس لئے نفرت کرتے ہیں کہ وُہ اُن کی اپنی ناراستی کو بے نقاب کر دیتی ہے۔

۵:‏۱۱ لگتا ہے کہ آخری مبارک بادی میں صِرف گذشتہ مبارک بادی کو دُہرایا گیا ہے۔ لیکن اِس میں ایک فرق ہے۔ گذشتہ آیت کا موضوع ہے راست بازی کے سبب سے ستایا جانا۔ یہاں موضوع ہے «مسیح کی خاطر» ستایا جانا۔ خُداوند جانتا تھا کہ میرے ساتھ تعلق اور وفاداری کے سبب سے میرے شاگردوں کو ستایا جائے گا۔ تاریخ نے اِس بات کی تصدیق کر دی ہے۔ شروع ہی سے دُنیا مسیح یسؔوع کے پیروکاروں کو ستاتی،‏ جیلوں میں ڈالتی اور جان سے مار ڈالتی آ رہی ہے۔

۵:‏۱۲ مسیح کی خاطر ستایا جانا ایک اِعزاز ہے اور خوشی کا باعث ہونا چاہئے۔ جو لوگ اِس طرح مصیبُت اور دُکھوں اور ستائے جانے میں «نبیوں» کے ساتھی بنتے ہیں،‏ ایک «بڑا اَجر» اُن کا منتظر ہے۔ پُرانے عہدنامہ میں خُدا کی طرف سے بولنے والے ہر طرح کے دُکھ اور ستائے جانے کے باوجود ثابُت قدم رہتے تھے۔ جتنے اُن کی وفاداری اور ہمت و جرأت کی پیروی کرتے ہیں،‏ وُہ اُن کی موجودہ شادمانی اور مستقبل کی سرفرازی میں شریک ہوں گے۔

مبارک بادیاں مسیح کی بادشاہی کے مثالی شہری کو پیش کرتی ہیں۔ راست بازی (آیت ۶)،‏ صُلح (آیت ۹) اور شادمانی یا خوشی (آیت ۱۲) پر خاص غور کریں۔ غالباً پُولُسؔ کے ذہن میں یہی باتیں تھیں جب اُس نے لِکھا کہ «خُدا کی بادشاہی کھانے پینے پر نہیں بلکہ راست بازی اور میل ملاپ اور اُس خوشی پر موقوف ہے جو رُوح القُدس کی طرف سے ہوتی ہے» (رؔومیوں ۱۴:‏۱۷)۔

ب۔ ایمان دار نمک اور نُور ہیں (۵:‏۱۳-‏۱۶)

۵:‏۱۳ یسؔوع نے اپنے شاگردوں کو «نمک» سے تشبیہ دی۔ وُہ دُنیا کے لئے ایسے ہی ہیں جیسے روزمرہ زندگی میں نمک ہوتا ہے۔ نمک کھانے کو مزیدار کر دیتا ہے۔ وُہ بگاڑ کو پھیلنے سے روکتا ہے۔ پیاس پیدا کرتا ہے۔ وُہ کِسی چیز کے مزے کو نکھار دیتا ہے۔ اِسی طرح مسیح کے شاگرد معاشرے میں اچھی باتوں کی بھوک پیاس پیدا کرتے ہیں۔ نیک روایتوں کو محفوظ رکھتے ہیں اور دوسروں کے دِل وں میں اُس راست بازی کی تمنا پیدا کرتے ہیں جِس کا بیان اُوپر کی آیات میں ہُوا ہے۔

«اگر نمک کا مزہ جاتا رہے» تو اِس کی نمکینی کس طرح بحال کی جا سکتی ہے؟ اصلی،‏ حقیقی اور طبعی مزے کو بحال کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ ایک دفعہ مزہ جاتا رہے تو وُہ نمک «کِسی کام کا نہیں» رہتا۔ اِس کو راہ میں پھینک دیتے ہیں۔ البرٹ بارنز (Albert Barnes) اِس سلسلے میں بُہت معقول تبصرہ کرتا ہے۔ وُہ کہتا ہے:‏

«اِس ملک میں استعمال ہونے والا نمک ایک کیمیائی مرکب ہے۔ اگر اِس کی نمکینی یا اِس کا مزہ جاتا رہے تو پھر کُچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ لیکن مشرقی ملکوں میں جو نمک استعمال ہوتا تھا،‏ وُہ خالص نہیں ہوتا تھا۔ اُس میں نباتاتی اور جماداتی اجزا یعنی مٹی وغیرہ شامِل ہوتے تھے۔ یوں اگر اُس کی ساری نمکینی بھی جاتی رہتی تو بھی کافی مقدار (بے مزہ نمک) باقی رہ جاتی تھی۔ پھر یہ کِسی کام کا نہیں رہتا تھا بلکہ جیسا کہا گیا ہے اُسے راستے میں پھینک دیتے تھے جِس طرح ہم رَوِشوں پر مٹی ڈال دیتے ہیں۔»

شاگرد کی ایک بُہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وُہ مبارک بادیوں میں مذکور شاگردیت کی شرائط اور باقی وعظ میں بیان کردہ خوبیوں کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے «زمین کا نمک» ثابُت ہو۔ اگر وُہ اِس روحانی حقیقت کا مظاہرہ کرنے سے قاصر رہتا ہے تو لوگ اُس کی گواہی کو پاؤں تلے رَوند ڈالیں گے۔ جِس ایمان دار میں مخصوصیت نہیں،‏ لوگوں کے دِل وں میں اُس کے لئے سوائے حقارت اور نفرت کے کُچھ نہیں ہوتا۔

۵:‏۱۴ یسؔوع مسیحیوں کو «دُنیا کے نُور» بھی قرار دیتا ہے۔ اُس نے اپنے بارے میں بھی کہا «دُنیا کا نُور مَیں ہوں» (یُوحناؔ ۸:‏۱۲؛ ۱۲:‏۳۵،‏۳۶،‏۴۶)۔ اِن دونوں بیانوں میں تعلق یہ ہے کہ یسؔوع نور کا منبع و سرچشمہ ہے اور مسیحی اُس نور کا عکس ہیں۔ اُن کا کام ہے کہ اُس کے لئے چمکیِں جِس طرح کہ چاند سورج کی روشنی اور جلال کو منعکس کرتا ہے۔

مسیحی اُس شہر کی مانند ہوتا ہے «جو پہاڑ پر بَسا» ہو۔ وُہ اپنے گرد و نواح سے بلند تر سطح پر ہوتا ہے اور تاریکی میں چمکتا ہے۔ جن لوگوں کی زندگیوں سے مسیح کی تعلیم کے خصائص ظاہر ہوتے ہیں،‏ وُہ «چھپ نہیں سکتے۔»

۵:‏۱۵،‏۱۶ لوگ «چراغ جلا کر پیمانہ کے نیچے نہیں بلکہ چراغ دان پر رکھتے ہیں تو اُس سے گھر کے سب لوگوں کو روشنی پہنچتی ہے۔» یسؔوع کی یہ مرضی نہیں کہ ہم اُس کی تعلیمات کی روشنی کو اپنے تک محدود رکھیں،‏ یا چھپائے رکھیں بلکہ اِسے دوسروں تک پہنچائیں۔ چاہئے کہ ہماری «روشنی» اِس طرح «چمکے» کہ جب لوگ ہمارے «نیک کاموں کو» دیکھیں تو ہمارے «باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں۔» یہاں زور مسیحی کردار کی خدمت پر ہے۔ جن زندگیوں میں مسیح دِکھائی دیتا ہے،‏ اُن کی دِل کشی الفاظ سے زیادہ فصاحت و بلاغت رکھتی ہے۔

ج۔ مسیح شریعت کی تکمیل کرتا ہے (۵:‏۱۷-‏۲۰)

۵:‏۱۷،‏۱۸ اکثر انقلابی لیڈر ماضی سے قطع تعلق کر لیتے اور موجودہ روایتی نظام کو ردّ اور ترک کر دیتے ہیں،‏ مگر خُداوند یسؔوع نے ایسا نہیں کیا،‏ اُس نے مُو سؔیٰ کی شریعت کو سربلند رکھا اور زور دیا کہ اِسے پورا کیا جائے۔ یسؔوع «توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے» نہیں «بلکہ پورا کرنے آیا» تھا۔ اُس نے واضح اور تاکیدی طور پر کہا کہ «ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کُچھ پورا نہ ہو جائے۔» «نقطہ» یا Yod عبرانی حروفِ تہجی کا سب سے چھوٹا حرف ہے جب کہ «شوشہ» وُہ چھوٹا سا نشان یا اعراب کا وقفہ ہوتا ہے جو حروف میں اِمتؔیاز کرتا یا تلفظ کا تعین کرتا ہے۔ مثلاً زیر،‏ زبر اور پیش کی عَلامت ؔیں۔ یسؔوع ایمان رکھتا تھا کہ الکتاب اپنی چھوٹی سے چھوٹی جزئیات تک الہامی ہے۔

یہ بات اہم اور قابلِ توجہ حقیقت ہے کہ یسؔوع نے یہ نہیں کہا کہ توریت کبھی منسوخ نہ ہو گی بلکہ یہ کہ «جب تک سب کُچھ پورا نہ ہو جائے۔» چونکہ ایمان دار اور شریعت کا باہمی تعلق بُہت پیچیدہ ہے اِس لئے ہم چاہتے ہیں کہ اِس سلسلے میں بائبل مُقدس کی تعلیمات کو قدرے اِختصار کے ساتھ پیش کر دیں۔

ایمان دار کا شریعت کے ساتھ تعلق

شریعت قوانین اور ضوابط کا وُہ نظام ہے جو خُدا نے مُو سؔیٰ کی معرفت اِسرائیلی قوم کو دیا۔ شریعت کا پورا متن تو خروُج ابواب ۲۰ تا ۳۱،‏ احبار اور اِستثنا پر محیط ہے جب کہ اس کا خلاصہ دس احکام میں سمویا گیا ہے۔

شریعت اِس لئے نہیں دی گئی تھی کہ ذریعہ نجات ہو (اعمال ۱۳:‏۳۹؛ رؔومیوں ۳:‏۲۰؛ گلتیوں ۲:‏۱۶؛۲۱؛ ۳:‏۱۱) بلکہ اِس کا مقصد لوگوں پر اُن کے گُناہ (گُناہ آلودہ ہونے) کو ظاہر کرنا تھا (رؔومیوں ۳:‏۲۰؛ ۵:‏۲۰؛ ۷:‏۷؛ ۱۔کرنتھیوں ۱۵:‏۵۶؛ گلتیوں ۳:‏۱۹) تاکہ وُہ نجات کے لئے خُدا کی طرف رجوع ہوں۔ شریعت بنی اِسرائیل کو دی گئی حالانکہ یہ اُن اخلاقی اصولوں کی حامل ہے جو ہر زمانے کے لوگوں پر لاگو ہوتے ہیں (رؔومیوں ۲:‏۱۴،‏۱۵)۔ خُدا نے بنی اِسرائیل کو نوعِ اِنسانی کے ایک نمونے کے طور پر شریعت سے آزمایا اور اِسرائیل کی خطا نے دُنیا کی خطا کو ثابُت کر دیا (رؔومیوں ۳:‏۱۹)۔

شریعت کے ساتھ موت کی سزا وابَستہ تھی (گلتیوں ۳:‏۱۰) اور ایک حُکم کو توڑنے والا پُوری شریعت کا خطاوار ہوتا تھا (یعقوب ۲:‏۱۰)۔ چونکہ لوگوں نے شریعت کو توڑا اِس لئے وُہ موت کی لعنت کے ماتحت تھے۔ خُدا کی راست بازی اور پاکیزگی کا تقاضا تھا کہ اِنہیں سزا دی جائے۔ اِسی وجہ سے یسؔوع دُنیا میں آیا تاکہ اپنی موت سے گُناہ کی سزا چکا دے۔ وُہ شریعت توڑنے والوں کے گُناہ کے عوض موأ حالانکہ وُہ خود بے گُناہ تھا۔ اُس نے شریعت کو ایک طرف نہیں ہٹا دیا بلکہ اُس نے اپنی زندگی اور اپنی موت میں اِس کی سخت ترین شرائط کو پورا کر کے اُس کے سارے مطالبات پورے کئے۔ اِس طرح اِنجیل شریعت کو منسوخ نہیں کرتی بلکہ اِسے قائم اور سربلند رکھتی ہے اور دِکھاتی ہے کہ مسیح کے کفارے کے وسیلے سے شریعت کے سارے تقاضے کس طرح پورے ہو گئے ہیں۔

اِس لئے یسؔوع پر ایمان لانے والا شخص شریعت کے ماتحت نہیں رہتا۔ وُہ فضل کے ماتحت آ جاتا ہے (رؔومیوں ۶:‏۱۴)۔ وُہ مسیح کے کام کے وسیلے سے شریعت کے اعتبار سے مُردہ ہے۔ شریعت کی سزا صِرف ایک دفعہ اُٹھانی ہوتی ہے۔ اور چونکہ مسیح نے یہ سزا اُٹھا لی اِس لئے ایمان دار کو یہ سزا اُٹھانے کی ضُرورتنہیں رہی۔ اِن ہی معنوں میں مسیحیوں کے لئے شریعت مٹ گئی ہے (۲۔کرنتھیوں ۳:‏۷-‏۱۱)۔ مسیح کے آنے تک شریعت ایک اتالیق (اُستاد) تھی لیکن نجات کے بعد اِس اتالیق کی ضُرورتہی نہیں رہی (گلتیوں ۳:‏۲۴،‏۲۵)۔ اگرچہ مسیحی شریعت کے ماتحت نہیں تو بھی یہ مطلب نہیں کہ وُہ بے شرع ہے۔ وُہ شریعت سے کہیں زیادہ مضبوط اور کڑی زنجیر سے بَندھا ہُوا ہے۔ وُہ مسیح کی شریعت کے ماتحت ہے (۱۔کرنتھیوں ۹:‏۲۱)۔ اُس کے کردار کی تشکیل سزا کے خوف سے نہیں بلکہ اپنے نجات دہندہ کو خوش کرنے کی محبُت بھری خواہش سے ہوتی ہے۔ مسیح اُس کی زندگی کا دستور العمل بن جاتا ہے (یُوحناؔ ۱۳:‏۱۵؛ ۱۵:‏۱۲؛ اِفسیوں ۵:‏۱،‏۲؛ ۱۔یُوحناؔ ۲:‏۶؛ ۳:‏۱۶)۔

ایمان دار اور شریعت کے باہمی تعلق کے ضمن میں ایک عام سوال یہ اُٹھایا جاتا ہے کہ «کیا مجھے دس حکموں کو ماننا چاہئے؟» جواب یہ ہے کہ شریعت میں موجود بعض اصول تو دائمی ہیں۔چوری کرنا،‏ لالچ کرنا اور قتل کرنا وغیرہ تو ہر زمانے میں غلط تھا اور غلط رہے گا۔ دس میں سے نو حکموں کو نئے عہدنامہ میں دُہرایا گیا ہے،‏ لیکن ایک اہم فرق کے ساتھ۔ وُہ شریعت کے طور پر نہیں دیئے گئے بلکہ خُدا کے لوگوں کو راست بازی کی ترغیب دینے کے لئے (۲۔تیمتھیس۳:‏۱۶ ب)۔ جو ایک حُکم دُہرایا نہیں گیا وُہ «سبُت کا حکم» ہے۔ مسیحیوں کو سبُت (ہفتے کا ساتواں دن یعنی ہفتہ یا سنیچر) ماننے کی تعلیم کبھی نہیں دی گئی۔

غیر نجات یافتہ لوگوں کے لئے شریعت کی خدمت ختم نہیں ہوئی۔ «مگر ہم جانتے ہیں کہ شریعت اچھی ہے بشرطیکہ کوئی اُسے شریعت کے طور پر کام میں لائے» (۱۔تیمتھیس ۱:‏۸)۔ اِس کا شریعت کے طور پر استعمال یہ ہے کہ گُناہ کی پہچان کرائے اور اِس طرح توبہ کی طرف لائے۔ لیکن جن کو نجات مل چکی ہے،‏ شریعت اُن کے لئے نہیں ہے۔ «شریعت راست بازوں کے لئے مقرر نہیں ہوئی» (۱۔تیمتھیس ۱:‏۹)۔

شریعت کا تقاضا اُن لوگوں میں پورا ہوتا ہے جو «جِسم کے مطابق نہیں بلکہ رُوح کے مطابق چلتے ہیں» (رؔومیوں ۸:‏۴)۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے خُداوند کے پہاڑی وعظ کی تعلیمات میں شریعت سے کہیں بلند ترمعیار مقرر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر شریعت کہتی ہے کہ « تُو خون نہ کرنا۔» اور یسؔوع کہتا ہے کہ «غصہ/ نفرت بھی نہ کرنا۔» چنانچہ یہ وعظ شریعت اور نبیوں کی تعلیم کو نہ صِرف برقرار رکھتا بلکہ اِن کی صراحت کرتا اور اِن کے گہرے مضمرات کو واضح کرتا ہے۔

۵:‏۱۹ اَب ہم پھر پہاڑی وعظ کی طرف آتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یسؔوع اِس بات کو دھیان میں رکھے ہوئے تھا کہ اِنسان فطری رُجحان رکھتا ہے کہ خُدا کے حکموں میں ڈھیل دے۔ چونکہ یہ احکام اپنی نوعیت میں اِتنے فوق الفطرت ہیں کہ لوگ اُن کی تاویلیں کرتے اور اُن کی زَد سے بچنے کی کوشِش کرتے ہیں۔ لیکن جو کوئی شریعت کے کِسی ایک حصے کو «توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سِکھائے گا وُہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا۔» حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی بادشاہی میں داخل ہونے کی اِجازت ہو گی __ مگر اِس بادشاہی میں داخلہ تو صِرف مسیح پر ایمان لانے پر منحصر ہے۔ بادشاہی میں کِسی شخص کے رُتبے کا تعین اِس دُنیا میں اُس کی فرماں برداری اور وفاداری کے مطابق ہو گا۔ جو شخص بادشاہی کی شریعت کی فرماں برداری کرتا ہے،‏ «وُہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔»

۵:‏۲۰ بادشاہی میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے ضرور ہے کہ ہماری «راست بازی» « فقیہوں اور فریسیوں کی راست بازی سے زیادہ» ہو۔ (یہ لوگ مذہبی رسومات اور شعائر سے مطمئن ہوئے بیٹھے تھے۔ اُن سے اِنہیں ظاہری اور رسوماتی پاکیزگی تو مل جاتی تھی،‏ مگر دِل ہرگز تبدیل نہیں ہوتے تھے)۔ یسؔوع نے اِس حقیقت کو اچھی طرح سمجھانے کے لئے مبالغے کا استعمال کیا ہے کہ ظاہری راست بازی کے ساتھ اگر باطنی حقیقت نہیں ہے تو بادشاہی میں داخلہ نہیں ملے گا۔ وُہ واحد راست بازی جو خُدا قبول کرے گا،‏ وُہ کامِل یت ہے جو اُن کے لئے محسوب ہوتی ہے جو اُس کے بیٹے کو اپنا نجات دہندہ قبول کرتے ہیں (۲۔کرنتھیوں ۵:‏۲۱)۔ بے شک جہاں مسیح پر سچا ایمان ہو گا،‏ وُہاں وُہ عملی راست بازی بھی ہو گی جِس کا بیان یسؔوع بقیہ وعظ میں کرتا ہے۔

د۔ یسؔوع غصے کے بارے میں خبردار کرتا ہے (۵:‏۲۱-‏۲۶)

۵:‏۲۱ یسؔوع کے زمانے کے یہُودی جانتے تھے کہ خون کرنا خُدا کی طرف سے منع ہے اور اِس کی سزا ملتی ہے۔ شریعت کے نافذ ہونے سے پہلے بھی ایسا ہی تھا (پیدائش ۹:‏۶)،‏ بعد میں اِسے شریعت میں ضم کر دیا گیا (خروُج ۲۰:‏۱۳؛ اِستثنا ۵:‏۱۷)۔ مگر یسؔوع «لیکن مَیں تم سے یہ کہتا ہوں» کے الفاظ کے ساتھ قتل کے بارے میں تعلیم میں ترمیم کرتا ہے۔ اب کوئی شخص اِس بات پر فخر نہیں کر سکتا کہ مَیں نے کبھی خون نہیں کیا۔ اب یسؔوع کہہ رہا ہے کہ «میری بادشاہی میں تم خون کرنے کا سوچنا بھی نہ»۔ وُہ قتل کے فعل کو اُس کے سرچشمے تک لے جاتا ہے اور تین قِسم کے «ناراست» یا غلط غصے سے خبردار کرتا ہے۔

۵:‏۲۲ پہلا معاملہ اُس شخص کا ہے جو «اپنے بھائی پر غصے ہو گا۔» ایسا شخص «عدالت کی سزا کے لائق ہو گا» یعنی اُس کو کچہری یا عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ بُہت سے لوگ اپنے غصے ہونے کی وجہ کو اپنے خیال کے مطابق صحیح قرار دیتے ہیں،‏ لیکن غصہ صِرف اُسی وقت جائز اور صحیح ہوتا ہے جب خُدا کی عزت و تعظیم داؤ پر لگ رہی ہو یا جب دوسروں کی حق تلفی ہو رہی ہو۔ لیکن اپنے خلاف باتوں یا اپنی حق تلفی کے جواب میں غصہ کرنا کبھی جائز اور مناسب نہیں۔

لیکن اپنے بھائی کی بے عزتی کرنا اِس سے بھی سنجیدہ گُناہ ہے۔ یسؔوع کے زمانے میں لوگ «راقا» کا لفظ (ارامی اِصطلاح بمعنی «خالی شخص») تحقیر اور گالی کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔ یہ لفظ استعمال کرنے والا «صدر عدالت کی سزا کے لائق ہو گا۔» یعنی اُس پر سنہیڈرن (یہُودی وں کی مذہبی کونسل) میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ یہ مُلک کی سب سے اعلیٰ عدالت تھی۔

تیسرے کِسی کو «احمق» کہنا تیسری قِسم کا ناواجب غصہ ہے جِس کی یسؔوع مذمت کرتا ہے۔ یہاں لفظ «احمق» کا مطلب محض «کُند ذہن» یا «غبی» ہی نہیں بلکہ مراد اخلاقی احمق بھی ہے جِسے مَر جانا چاہئے۔ اور یہ خواہش بھی شامِل ہے کہ کاش وُہ مر گیا ہوتا۔ آج کل اکثر لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ «تجھ پر خُدا کی مار۔» اِس طرح وُہ خُدا کو کہتے ہیں کہ اِس شخص کو جہنم کے لئے مخصوص کر دے یا جہنم میں ڈال دے۔ یسؔوع کہتا ہے کہ جو شخص ایسی لعنت دوسرے پر بھیجتا ہے «وُہ آگ کے جہنم کا سزاوار ہو گا۔» مجرموں کو قتل کر کے اکثر اُن کی لاشیں یروشلؔیم کے باہر ایک جلتے ہوئے کُوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی جاتی تھیں۔ اِس ڈھیر کو «ہنوم کی وادی» اور عبرانی میں «جی ہنا» (اُردو لفظ جہنم سے مقابلہ کریں) کہا جاتا تھا۔ یہ جہنم کی آگ کی تصویر تھی جو کبھی بجھے گی نہیں۔

ہم نجات دہندہ کے الفاظ کی سختی اور شدت کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ وُہ کہتا ہے کہ غصے میں قتل کرنے کے بیج ہوتے ہیں۔ اور گالی گلوچ کے پیچھے قتل کرنے کی رُوح اور خواہش مضمر ہوتی ہے۔ جرم کی شدت بڑھنے کے ساتھ ساتھ سزا کے تین درَج ے ہیں۔ یعنی عدالت،‏ صدر عدالت اور آگ کا جہنم۔ اپنی بادشاہی میں یسؔوع جرائم کی سزا اُن کی شدت کے مطابق دے گا۔

۵:‏۲۳،‏۲۴ اگر ایک شخص کِسی دوسرے شخص کو غصے یا کِسی اَور وجہ سے ناراض کر دیتا ہے تو اُس کا خُدا کے حضور ہدیہ یا نذر پیش کرنا بے فائدہ ہے۔ خُداوند اُس سے خوش نہ ہو گا۔ ایسے شخص کو جا کر پہلے اِس غلطی کو درست کرنا چاہئے۔ تب ہی اُس کا ہدیہ یا نذرانہ قابلِ قبول ہو گا۔

اگرچہ یہ الفاظ یہُودی سیاق و سباق میں لِکھے گئے ہیں،‏ مگر ہرگز یہ مراد نہیں کہ ہمارے زمانے میں اِن کا اطلاق نہیں ہوتا۔ پُولُسؔ رسول خُداوند کی عشا کے حوالے سے اِن الفاظ کی تشریح کرتا ہے (ملاحظہ کریں ۱۔کرنتھیوں باب ۱۱)۔ جو ایمان دار کِسی دوسرے ایمان دار کے ساتھ بول چال تک کا روادار نہیں،‏ خُدا اُس کی عبادت و پرستش کو ہرگز قبول نہیں کرتا۔

۵:‏۲۵،‏۲۶ یہاں یسؔوع جھگڑالو (مقدمہ باز) رُوح اور اپنے قصور کو نہ ماننے کے رویے کے متعلق خبردار کرتا ہے۔ بُہتر ہے کہ مُدَّعی کے ساتھ بلا توقف صُلح کر لی جائے اور مقدمہ بازی کے خطرے میں نہ پڑا جائے کیونکہ ایسا ہو گیا تو نقصان ہمارا ہی ہو گا۔ اِس تمثیل میں کرداروں کی شناخت کے بارے میں عِلما میں اِختلافِ رائے پایا جاتا ہے،‏ لیکن نکتہ واضح ہے۔ اگر آپ غلطی پر ہیں تو جلد سے جلد اِعتراف کر لیں اور معاملہ درست کر لیں۔ اگر توبہ نہیں کریں گے تو بالآخر آپ کا گُناہ آپ کو پکڑے گا اور آپ کو نہ صِرف پورا پورا ہرجانہ ادا کرنا پڑے گا بلکہ اضافی سزا بھی بھگتنا ہو گی۔ مزید برآں یہ کہ کچہری کی طرف بھاگنے میں جلدی نہ کریں،‏ اگر ایسا کریں گے تو قانون آپ کی پکڑ کرے گا اور آپ کو کوڑی کوڑی ادا کرنا پڑے گی۔

ہ۔ یسؔوع زِنا کی مذمت کرتا ہے (۵:‏۲۷-‏۳۰)

۵:‏۲۷،‏۲۸ موسوی شریعت میں زِنا کی واضح ممانعت تھی (خروُج ۲۰:‏۱۴؛ اِستثنا ۵:‏۱۸)۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص فخر کرتا ہو کہ مَیں نے یہ حُکم کبھی نہیں توڑا،‏ لیکن اُس کی آنکھوں میں «زِناکار عورتیں بَسی ہوئی» ہوں (۲۔پَطرسؔ ۲:‏۱۴)۔ دیکھنے میں تو وُہ شریف اور معزز ہو لیکن دماغ ناپاکی کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا پھرتا ہو۔ اِس لئے یسؔوع اپنے شاگردوں کو یاد دِل اتا ہے کہ صِرف جِسمانی طور پر اِس فعل سے باز رہنا ہی کافی نہیں،‏ باطن میں پاکیزگی ہونی چاہئے۔ شریعت نے زِنا کے فعل کی ممانعت کی تھی،‏ یسؔوع اِس کی خواہش سے بھی منع کرتا ہے۔ «جِس کِسی نے بُری خواہش سے کِسی عورت پر نگاہ کی،‏ وُہ اپنے دِل میں اُس کے ساتھ زِنا کر چکا۔» گُناہ سوچ میں جنم لیتا ہے۔ اگر ہم اُس کی پرورش کرتے ہیں،‏ تو بالآخر عملاً بھی کر گزرتے ہیں۔

۵:‏۲۹،‏۳۰ پاکیزہ خیالات والی زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے نہایت سخت ضبطِ نفس کی ضُرورتہوتی ہے۔ اِس لئے یسؔوع نے سکھایا ہے کہ اگر ہمارے بدن کا کوئی عضو ہم سے گُناہ کراتا ہے تو بُہتر ہے کہ اِس زندگی ہی میں اُس عضو سے محرؔوم ہو جائیں تاکہ ابدیت میں رُوح کی ہلاکت سے بچ جائیں۔ کیا ہم یسؔوع کی بات کا لفظی مفہُوم لیں؟ کیا وُہ واقعی اِس بات کی وکالت کر رہا تھا کہ ہم اپنے اعضا کاٹ ڈالیں؟ اُس کے الفاظ اِس حد تک تو لفظی مفہُوم رکھتے ہیں کہ اگر رُوح کی بجائے کِسی عضو سے ہاتھ دھونا ضروری ہو تو ہمیں خوشی کے ساتھ اُس عضو سے محرؔوم ہو جانا چاہئے۔ لیکن خوش قِسم تؔی سے ایسی ضُرورتکبھی نہیں پڑتی۔ اِس لئے کہ پاکیزہ زندگی بَسر کرنے کے لئے رُوح القُدس ایمان دار کی مدد کرتا ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ ایمان دار تعاون کرے اور نہایت سخت نظم و ضبط کی پابَندی کرتا رہے۔

و۔ یسؔوع طلاق پر ناراضی کا اِظہار کرتا ہے (۵:‏۳۱،‏۳۲)

۵:‏۳۱ پُرانے عہدنامہ میں اِستثنا ۲۴:‏۱-‏۴ کے مطابق طلاق کی اِجازت تھی۔ اِس حصے کا تعلق زِناکار بیویوں سے نہیں تھا (زِنا کی سزا موت تھی۔ دیکھئے اِستثنا ۲۲:‏۲۲) بلکہ اِس کا تعلق ناپسندیدگی یا باہمی گزارا نہ کر سکنے کی وجہ سے طلاق دینے کے ساتھ تھا۔

۵:‏۳۲ مگر مسیح کی بادشاہی میں «جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کِسی اَور سبب سے چھوڑ دے گا،‏ وُہ اُس سے زِنا کراتا ہے۔» اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وُہ خود بخود حرام کار بن جاتی ہے بلکہ فرض یہ کیا جاتا ہے کہ اَب اُس کے پاس دو وقت کی روٹی کا سہارا نہیں رہا۔ اِس لئے وُہ کِسی دوسرے آدمی کے ساتھ رہنے پر مجبور ہے۔ اِس طرح وُہ ایک حرام کار بن جاتی ہے۔ نہ صِرف یہ کہ سابقہ بیوی حرام کاری میں زندگی بَسر کرتی ہے بلکہ «جو کوئی اِس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے،‏ وُہ زِنا کرتا ہے۔»

طلاق اور دوبارہ شادی کرنے کا موضوع بائبل مُقدس میں ایک پیچیدہ موضوع ہے۔ اِس سلسلے میں جتنے سوال پیدا ہوتے ہیں اصل میں اُن سب کا جواب دینا ممکن نہیں۔ لیکن اِن تمام باتوں کا جائزہ لینا اور خلاصہ پیش کرنا مفید رہے گا جو ہماری دانست میں بائبل اِس سلسلے میں سکھاتی ہے۔

طلاق اور دوبارہ شادی

خُدا کی ہرگز مرضی نہ تھی کہ اِنسان طلاق دیا کرے۔ اُس کی ازلی منشا یہ ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت اُس وقت تک رشتۂ ازدواج میں بَندھے رہیں جب تک موت اُن کو جدا نہ کرے (رؔومیوں ۷:‏۲،‏۳)۔ یسؔوع نے تخلیق کے وقت خُدا کی طرف سے مقرر کر دہ ترتِیب کا بیان کر کے فریسیوں پر اِس نکتے کو واضح کیا (متؔی ۱۹:‏۴-‏۶)۔

خُدا طلاق سے یعنی ایسی طلاق سے جو کلام کے مطابق نہ ہو بیزار ہوتا ہے (ملاکی ۲:‏۱۶)۔ وُہ ہر قِسم کی طلاق سے تو نفرت نہیں کرتا کیونکہ وُہ اپنے بارے میں کہتا ہے کہ « مَیں نے اُس (اِسرائیل) کو طلاق دے دی ہے» (یرمیاہ ۳:‏۴)۔ یہ اِس لئے ہُوا کہ قوم اُسے ترک کر کے بُت پرستی کرنے لگی تھی۔ اِسرائیل بے وفا قوم نکلی۔

متؔی ۵:‏۳۱،‏۳۲ اور ۱۹:‏۹ میں یسؔوع نے سکھایا کہ طلاق کی ممانعت ہے۔ البُتہ زندگی کا کوئی ایک ساتھی جنسی کج رَوی کا مرتکب ہو تو طلاق ہو سکتی ہے۔ مرقسؔ ۱۰:‏۱۱،‏۱۲ اور لُوقاؔ ۱۶:‏۱۸ میں یہ اِستثنائی جملہ درَج نہیں ہے۔

اِس فرق کی بُہترین وضاحت یہ ہے کہ مرقسؔ اور لُوقاؔ دونوں ہی نے پورا مقولہ نقل نہیں کیا۔ چنانچہ طلاق اگرچہ خُدا کے اِرادے کے مطابق بات نہیں تو بھی اِس کی صِرف اُسی صورت میں اِجازت ہے جب کہ زندگی کا کوئی ایک ساتھی بے وفائی کرے۔ یسؔوع نے اِس صورتِ حال میں طلاق کی اِجازت دی ہے،‏ حُکم نہیں دیا۔

بعض عِلما ۱۔کرنتھیوں ۷:‏۱۲-‏۱۶ کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ طلاق اُس صورت میں قابلِ قبول ہے جب ایک ایمان دار کو غیر ایمان دار ساتھی چھوڑ دے۔ پُولُسؔ کہتا ہے کہ «ایسی حالت میں کوئی بھائی یا بہن پابَند نہیں» یعنی دوسرا فرد (چھوڑ دیئے جانے کے باعث) طلاق لینے میں آزاد ہے۔ راقم الحروف کے خیال میں یہ وُہی استثنائی صورتِ حال ہے جِس کا بیان متؔی باب ۵ اور ۱۹ میں ہُوا ہے کہ بے ایمان ساتھی کِسی دوسرے کے ساتھ رہنے کو چلا جاتا ہے۔ اِس لئے ایمان دار پاک کلام کی بنیاد پر صِرف اُسی وقت طلاق لے سکتا ہے جب کہ دوسرا فریق زِنا کا مرتکب ہو۔

اکثر یہ بحث بھی کی جاتی ہے کہ نئے عہدنامہ میں اگرچہ طلاق کی اِجازت ہے،‏ مگر دوبارہ بیاہ کرنے پر کبھی غور نہیں کیا گیا۔ لیکن یہ بحث خود جواب دیتی ہے۔ نئے عہدنامہ میں بے قصور فریق کے دوبارہ شادی کرنے کی مذمت نہیں کی گئی،‏ بلکہ قصور وار فریق کے دوبارہ شادی کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔ اور پاک کلام کے مطابق طلاق لینے یا دینے کا ایک بڑا مقصد دوبارہ شادی کرنے کی اِجازت دینا ہے،‏ وگرنہ تو الگ الگ ہو جانے سے بھی طلاق کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔

اِس موضوع پر کِسی بھی بحث میں ایک سوال کا اُٹھنا ناگزیر ہے کہ «اِن افراد کے بارے میں کیا حُکم ہے جن میں نجات پانے سے پہلے طلاق ہو گئی؟» اِس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ ایمان لانے سے پہلے کی غیر قانونی طلاق یا دوبارہ شادی گُناہ ہیں جو (ایمان لانے پر) بالکُل معاف ہو چکے ہیں۔ (مثال کے طور پر دیکھئے ۱۔کرنتھیوں ۶:‏۱۱۔ جہاں پُولُسؔ زِنا کاری کو بھی ان گُناہ وں کی فہرست میں شامِل کرتا ہے جن کے مرتکب اہلِ کرنتھس پہلے ہوتے رہے تھے)۔ ایمان لانے سے پہلے کئے ہوئے گُناہ ایمان داروں کو مقامی کلیسیا میں شامِل ہونے اور اُس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی راہ میں رُکاوٹ نہیں بنتے۔

ایک زیادہ مشکل سوال بھی ہے۔ اِس کا تعلق اُن مسیحیوں سے ہے جو ایسی وجوُہات کی بِنا پر طلاق لیتے دیتے ہیں جو کلام کے مطابق نہیں ہیں اور دوبارہ شادی بھی کر لیتے ہیں۔ کیا اُن کو مقامی کلیسیا کی رفاقت میں دوبارہ شامِل کیا جا سکتا ہے؟ اِس سوال کے جواب کا اِنحصار اِس بات پر ہے کہ زِناکاری جِسمانی ملاپ کا ایک اِبُتدائی فعل ہے یا ایک جاری عمل ہے؟ اگر یہ لوگ زِناکاری میں زندگی گزار رہے ہیں تو اِنہیں اپنے گُناہ کا نہ صِرف اِقرار کرنا ہو گا بلکہ اپنے موجودہ ساتھی سے بھی الگ ہونا پڑے گا۔ لیکن خُدا کِسی مسئلے کا حل اِس طرح کبھی نہیں کرتا کہ اضافی مسائل پیدا ہو جائیں۔ اگر ازدواجی گنجلکوں کو سُلجھانے سے مرد یا عورتیں گُناہ میں جا پھنسیں اور عورتیں یا بچے بے گھر ہو جائیں یا اُن کے گزارے کی کوئی صورت نہ رہے،‏ تو علاج بیماری سے بھی بدتر ٹھہرا۔

راقم الحروف کی رائے میں وُہ مسیحی جن کو پاک کلام کے خلاف طلاق ہوئی اور اُنہوں نے دوبارہ شادی کر لی،‏ وُہ اپنے گُناہ سے سچے دِل سے توبہ کر کے خُداوند میں اور کلیسیا کی رفاقت میں بحال ہو سکتے ہیں۔ جہاں تک طلاق کا تعلق ہے،‏ ہر معاملہ دوسرے سے فرق معلوم ہوتا ہے۔ اِس لئے ضرور ہے کہ کلیسیا کے بزرگ ہر واقعے کا فرداً فرداً جائزہ لیں،‏ تفتیش کریں اور خُدا کے کلام کے مطابق اُس کا فیصلہ کریں۔ اگر کِسی وقت اِنضباطی کارروائی (disciplinary action) کرنے کی ضُرورتہو تو تمام متعلقہ افراد بزرگوں کے فیصلے کو تسلیم کریں۔

ز۔ یسؔوع قِسم کھانے کی مذمت کرتا ہے (۵:‏۳۳-‏۳۷)

۵:‏۳۳-‏۳۶ موسوی شریعت میں خُدا کا نام لے کر «جھوٹی قِسم » کھانے کی متعدد ممانعتیں تھیں (احبار ۱۹:‏۱۲؛ گنتی ۳۰:‏۲؛ اِستثنا ۲۳:‏۲۱)۔ خُدا کے نام سے قِسم کھانے کا مطلب ہے کہ وُہ میرا گواہ ہے کہ مَیں سچ بول رہا ہوں۔ یہُودی خُدا کا نام لے کر جھوٹی قِسم کھانے سے بچنے کی کوشِش کرتے تھے اور اِس کی جگہ آسمان،‏ زمین،‏ یروشلؔیم یا اپنے سر کی قِسم کھاتے تھے۔

یسؔوع شریعت کے ساتھ اِس طرح کے جوڑ توڑ کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے کیونکہ یہ قطعی ریاکاری ہے۔ وُہ عام گفتگو میں ہر طرح کی قِسم کھانے سے منع کرتا ہے۔ نہ صِرف یہ ریاکاری ہے بلکہ قِسم میں خُدا کے نام کی جگہ دوسرے ناموں کو استعمال کرنے سے ہم اِس گُناہ سے بچ نہیں جاتے۔ «آسمان کی قِسم » کھانا دراصل «خُدا کے تخت کی قِسم » کھانا ہے۔ «زمین کی قِسم » کھانا دراصل «اُس کے پاؤں کی چوکی کی قِسم » کھانا ہے اور «یروشلؔیم کی قِسم » دراصل شاہی سلطنت کی قِسم ہے۔ اگر کوئی «اپنے سر» کی قِسم کھاتا ہے تو اِس میں بھی خُدا شامِل ہوتا ہے کیونکہ وُہ سب کا خالق ہے۔

۵:‏۳۷ ایک مسیحی کے لئے قِسم کھانا قطعی غیر ضروری ہے۔ اُس کی «ہاں» کا مطلب «ہاں» اور «نہ» کا مطلب «نہ» ہونا چاہئے۔ اگر ہم اپنے قول میں اِس طرح زور پیدا کرنے کی کوشِش کرتے ہیں تو تسلیم کرتے ہیں کہ «بدی» یعنی ابلیس ہماری زندگیوں میں حکمران ہے۔ مسیحی کے لئے کِسی بھی حالت میں جھوٹ بولنا جائز نہیں۔

پاک کلام کا یہ حصہ سچائی میں رنگ آمیزی کرنے یا دھوکا دینے کی بھی ممانعت کرتا ہے۔ البُتہ قانونی عدالت میں حلف اُٹھانے سے منع نہیں کرتا۔ یسؔوع نے بھی سردار کاہن کی عدالت میں قِسم کے تحت گواہی دی تھی (متؔی ۲۶:‏۶۳ و مابعد)۔ پُولُسؔ بھی خُدا کو گواہ ٹھہراتا ہے کہ مَیں جو کُچھ لِکھتا ہوں بالکُل سچ ہے (۲۔کرنتھیوں ۱:‏۲۳؛ گلتیوں ۱:‏۲۰)۔

ح۔ ایک مِیل فالتو جانا (۵:‏۳۸-‏۴۲)

۵:‏۳۸ شریعت کہتی ہے کہ «آنکھ کے بدِل ے آنکھ اور دانت کے بدِل ے دانت» (خروُج ۲۱:‏۲۴؛ احبار ۲۴:‏۲۰؛ اِستثنا ۱۹:‏۲۱)۔ یہ سزا دینے کا حُکم بھی تھا اور سزا کو محدود بھی کرتا تھا کہ سزا جرم سے ہرگز زیادہ نہ ہو۔ البُتہ پُرانے عہدنامہ کے مطابق سزا دینے کا اِختیار حکومت کو حاصل تھا کِسی فرد کو نہیں۔

۵:‏۳۹-‏۴۱ یسؔوع نے بُرائی کا بدِل ہ لینے کو منسوخ کر دیا اور اِس طرح شریعت سے آگے راست بازی کی بلند تر سطح تک جا پہنچا۔ اُس نے اپنے شاگردوں کو دکھا دیا کہ ایک وقت تھا کہ اِنتقام لینے کی شرعی اِجازت تھی مگر اب شفقت کے ساتھ مُقابلے سے گریز کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ یسؔوع نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی ہے کہ «شریر کا مقابلہ نہ کرنا۔» اگر کوئی تمہارے «دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر» دو۔ اگر کوئی تمہارے «کُرتے» (اندرونی لباس) کے لئے نالش کرے تو اپنا «چوغہ» (بیرونی لباس جو رات کو اوڑھنے کے کام بھی آتا تھا) بھی اُسے دے دو۔ اگر کوئی آدمی تمہیں اپنا سامان اُٹھوا کر «ایک کوس» بیگار میں لے جانا چاہے تو رضاکارانہ «دو کوس» چلے جاؤ۔

۵:‏۴۲ کلام کے اِس حصے میں یسؔوع نے جو آخری حُکم دیا ہے،‏ آج کے زمانے میں وُہ نہایت ناقابلِ عمل معلوم ہوتا ہے۔ «جو کوئی تجھ سے مانگے اُسے دے اور جو تجھ سے قرض چاہے اُس سے منہ نہ موڑ۔» ہم پر مادی چیزیں حاصل کرنے کا ایسا بھوت سوار ہے اور اپنی ہر شے کے ایسے دِل دادہ ہیں کہ کِسی کو کُچھ دینے کے خیال ہی سے ہمارا منہ لٹک جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم آسمان کے خزانوں پر دھیان لگانے پر آمادہ ہوں اور خوراک و لباس کے سلسلے میں صِرف اپنی ضُرورتکی حد تک مطمئن ہوں تو ہم یسؔوع کے اِن الفاظ کو بڑی خوشی سے قبول کریں گے۔ یسؔوع کے بیان میں فرض کر لیا گیا ہے کہ مانگنے والا شخص واقعی ضُرورتمند ہے۔ اکثر حالات میں یہ معلوم کرنا ممکن نہیں ہوتا کہ ضُرورتواقعی ہے بھی یا نہیں۔

جِس کردار اور سلوک کا مطالبہ خُداوند کرتا ہے،‏ اِنسانی لحاظ سے وُہ ناممکن ہے۔ صِرف وُہی شخص ایسی خود اِنکاری (بلکہ اپنی قربانی دینے) کی زندگی بَسر کر سکتا ہے جو پُوری طرح رُوح القُدس کے کنٹرول میں ہو۔ صِرف وُہی ایمان دار بے عزتی (آیت ۳۹)،‏ بے انصافی (آیت ۴۰) اور بے آرامی (آیت ۴۱) کا جواب محبُت سے دے سکتا ہے،‏ جِس کی زندگی میں یسؔوع بَستا ہو۔

ط۔ اپنے دشمنوں سے محبُت رکھو (۵:‏۴۳-‏۴۸)

۵:‏۴۳ ہمارا خُداوند اپنی بادشاہی میں ایک اعلیٰ تر اور ارفع تر راست بازی کا مطالبہ کرتا ہے اور اِس راست بازی کے آخری نمونے کا تعلق اِنسان کے دشمنوں سے ہے۔ یہ ایسا موضوع ہے جو گذشتہ پیراگراف سے خود بخود پیدا ہو رہا ہے۔ شریعت نے اِسرائیلیوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ «اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبُت کرنا» (احبار ۱۹:‏۱۸)۔ اگرچہ اُن کو وضاحت کے ساتھ یہ حُکم کبھی نہیں دیا گیا تھا کہ «اپنے دشمن سے عداوت» رکھنا،‏ لیکن اُن کے عقائد کی تعلیمات کے پیچھے یہی رُوح کار فرما تھی۔ یہ رویہ خُدا کے لوگوں کو ستانے والوں کے بارے میں پُرانے عہدنامہ کے نظریے کا خلاصہ پیش کرتا ہے (دیکھئے زبُور ۱۳۹:‏۲۱،‏۲۲)۔ یہ خُدا کے دشمنوں سے «راست» دشمنی کا رویہ تھا۔

۵:‏۴۴-‏۴۷ لیکن اب یسؔوع اعلان کرتا ہے کہ ہم اپنے «دشمنوں سے محبُت» رکھیں اور «اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا کریں۔» یہ حقیقت کہ «محبُت» کرنے کا حُکم دیا گیا ہے ظاہر کرتی ہے کہ اِس کا تعلق ارادے سے ہے جذبات سے نہیں۔ اِس سے مراد طبعی لگاؤ یا چاہت بھی نہیں کیونکہ جو ہم کو نقصان پہنچاتے یا ہم سے نفرت کرتے ہیں،‏ اُن سے محبُت کرنا طبعی یا فطری بات نہیں ہوتی۔ یہ فوق الفطرت فضل کا کام ہے۔ اور صِرف وُہی لوگ اِس کا مظاہرہ کر سکتے ہیں جن میں الٰہی زندگی ہوتی ہے۔

اگر ہم صِرف «اپنے محبُت رکھنے والوں ہی سے محبُت» رکھیں تو اِس کا کوئی اَجر کوئی صلہ نہیں۔ یسؔوع کہتا ہے کہ ایسا تو غیر ایمان دار «محصول لینے والے» بھی کرتے ہیں۔ اِس قِسم کی محبُت کے لئے خدائی طاقت کی ضُرورتنہیں ہوتی اور صِرف «اپنے بھائیوں ہی کو سلام کرنے» میں کوئی خوبی یا نیکی نہیں ہے۔ بھائیوں سے مراد رشتہ دار اور دوست ہے۔ غیر نجات یافتہ لوگ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اِس میں کون سی نمایاں مسیحی بات ہوئی؟ اگر ہمارا معیار دُنیا کے معیار سے بلند نہیں ہو گا تو یقینی بات ہے کہ ہم دُنیا پر کوئی اثر مُرتب نہیں کر سکیِں گے۔

یسؔوع نے کہا کہ میرے پیرو بُرائی کے بدِل ے میں بھلائی کریں تاکہ «اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے» ٹھہریں۔ وُہ یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ یہ خُدا کے فرزند بننے کا طریقہ ہے بلکہ اِس طرح ہم ظاہر کرتے ہیں یعنی دوسروں کو دِکھاتے ہیں کہ ہم خُدا کے فرزند ہیں۔ چونکہ خُدا «راست بازوں» یا «ناراستوں» کے ساتھ کوئی طرف داری نہیں کرتا (کہ دونوں ہی «سورج» اور «مینہ» سے یکساں مستفید ہوتے ہیں)۔ اِس لئے چاہئے کہ ہم بھی سب کے ساتھ یکساں شفقت اور اِنصاف کے ساتھ پیش آئیں۔

۵:‏۴۸ یسؔوع اِس حصے کا خاتمہ ایک نصیحت یا تنبیہ کے ساتھ کرتا ہے کہ «پس چاہئے کہ تم کامِل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامِل ہے۔» لفظ «کامِل » کو سیاق و سباق کی روشنی میں سمجھنا چاہئے۔ اِس کا مطلب بے گُناہ یا بے نقص نہیں ہے۔ گذشتہ آیات میں وضاحت کی گئی ہے کہ کامِل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو ہم سے عداوت رکھتے ہیں اُن سے محبُت کریں،‏ جو ہمیں ستاتے ہیں اُن کے لئے دُعا کریں اور دوست دشمن ہر ایک سے مہربانی کا سلوک کریں۔ یہاں کامِل یت سے مراد وُہ روحانی پختگی ہے جِس سے مسیحی بلا تخصیص اور بے طرف داری ہر ایک سے مہربانی کا سلوک کرنے میں خُدا کی تقلید کرنے والے بن سکتے ہیں۔

ی۔ خیرات کرنے میں نیک نیتی (۶:‏۱-‏۴)

۶:‏۱ اِس باب کے پہلے نصف حصے میں یسؔوع ایک فرد کی زندگی میں عملی راست بازی کے تین خاص پہلوؤں کی بات کرتا ہے یعنی سخاوت کے کام (آیات ۱-‏۴)،‏ دُعا (آیات ۵-‏۱۵) اور روزہ (آیات ۱۶-‏۱۸)۔ اِن اٹھارہ آیات میں لفظ «باپ» دس دفعہ آیا ہے اور یہ اُن کو سمجھنے کی کلید ہے۔ راست بازی کے عملی کام لوگوں سے واہ واہ سننے کے لئے نہیں بلکہ اِس لئے کرنے چاہئیں کہ باپ کو پسند آئیں۔

وعظ کے شروع میں یسؔوع ایک آزمائش سے خبردار کرتا ہے کہ ہم خُدا ترسی اور «راست بازی کے کام» اِس مقصد سے نہ کریں کہ دوسرے لوگ اِنہیں دیکھیں۔ وُہ کام کی نہیں بلکہ نیت کی مذمت کرتا ہے۔ اگر ایسے کام کی محرک ہی یہ نیت ہے تو اس کا واحد «اجر» یہی ہے کہ لوگ تعریف کر دیں۔ خُدا ایسی ریاکاری کا اَجر نہیں دے گا۔

۶:‏۲ یہ بات ناقابلِ تصور معلوم ہوتی ہے کہ «ریاکار» جب «عبادت خانوں» میں نذرانے وغیرہ پیش کرتے یا «کوچوں میں» غریب غربا کو خیرات دیتے تھے تو شور و غل کے وسیلے سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے تھے۔ خُداوند اُن کے رویے اور کردار کی مذمت اِن الفاظ سے کرتا ہے کہ «وُہ اپنا اَجر پا چکے» (یعنی اُنہوں نے جو عزت و شہرت اِس دُنیا میں حاصل کر لی،‏ وُہی اُن کا اجر ہے)۔

۶:‏۳،‏۴ جب مسیح کا کوئی پیرو راست بازی یا «خیرات» کا کوئی کام کرتا ہے تو پوشیدگی سے کرنا چاہئے۔ یسؔوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ یہ کام اِتنا پوشیدہ ہونا چاہئے کہ «جو تیرا دہنا ہاتھ کرتا ہے اُسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے۔» یسؔوع یہ واضح ترکیب استعمال کر کے یہ دِکھاتا ہے کہ ہمارے «راست بازی کے کام» دوسروں سے تعریف و توصیف یا اِنسانوں میں شہرت حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ خُدا «باپ» کے لئے ہونے چاہئیں۔ کلام کے اِس حصے کو ایسے نذرانے،‏ ہدیے یا تحفے دینے سے روکنے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے جن کو دوسرے دیکھ سکتے ہیں۔ دراصل بعض خیراتی کام ایسے بھی ہیں جو گمنام رہ کر نہیں کئے جا سکتے۔ یہاں حقیقت میں خیراتی کاموں میں نمود و نمائش اور اِشتہار بازی کی مذمت کی گئی ہے۔

ک۔ خلوصِ نیت سے دُعا مانگنا (۶:‏۵-‏۸)

۶:‏۵ یہاں یسؔوع اپنے شاگردوں کو «دُعا» مانگتے وقت ریاکاری سے خبردار کرتا ہے۔ دُعا مانگتے وقت وُہ جان بوجھ کر ایسی جگہوں پر کھڑے نہ ہوں جہاں لوگ اُن کو دیکھیں اور اُن کی خُدا پرستی کی وجہ سے اُن کی تعریف کریں۔ اگر دُعا مانگنے کا واحد مقصد شہرت حاصل کرنا ہی ہے تو پھر ایسی شہرت ہی اِس کا «اجر» ہے۔

۶:‏۶ آیات ۵ اور ۷ میں «تم» یعنی جمع کا صیغہ استعمال ہُوا ہے۔ لیکن آیت ۶ میں خُدا کے ساتھ علیٰحدگی میں شخصی گفتگو پر زور دیا گیا ہے۔ اِس لئے واحد کا صیغہ «تُو» استعمال کیا گیا ہے۔ مقبول دُعا کا راز یہ ہے کہ دُعا «پوشیدگی» میں («اپنی کوٹھری میں جا اور دروازہ بَند کر کے») کی جائے۔ اگر ہمارا اصل مقصد خُدا تک رسائی حاصل کرنا ہے تو وُہ ضرور ہماری سنے گا اور جواب دے گا۔

اگر کوئی کلام کے اِس حصے کی بنیاد پر عام عبادتی یا جماعتی دُعاؤں سے منع کرتا ہے تو حد سے تجاوز کرتا ہے۔ ابُتدائی کلیسیا اِجتماعی دُعا مانگنے کے لئے جمع ہُوا کرتی تھی (اعمال ۲:‏۴۲؛ ۱۲:‏۱۲؛ ۱۳:‏۳؛ ۱۴:‏۲۳؛ ۲۰:‏۳۶)۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کہاں دُعا مانگتے ہیں بلکہ یہ کہ کیوں دُعا مانگتے ہیں __ اِس لئے کہ لوگ ہمیں دیکھیں یا اِس لئے کہ خُدا ہماری سنے؟

۶:‏۷ دُعا باتوں کو بار بار دُہرانے پر مشتمل نہیں ہونی چاہئے۔ رٹے رٹائے جملے دُعا کا حصہ نہیں ہونے چاہئیں۔ غیر نجات یافتہ لوگ ایسی ہی دُعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ لیکن خُدا «بُہت بولنے» سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ وُہ دِل سے اُٹھنے والی مخلصانہ باتیں سننا چاہتا ہے۔

۶:‏۸ «تمہارا باپ تمہارے مانگنے سے پہلے ہی جانتا ہے کہ تم کن کن چیزوں کے محتاج ہو۔» اِس لئے یہ سوال بُہت معقول معلوم ہوتا ہے کہ «پھر دُعا مانگنے کی ضُرورتہی کیا ہے؟» ضُرورتیہ ہے کہ دُعا میں ہم اپنی حاجات کو تسلیم کرتے اور اقرار کرتے ہیں کہ ہم خُدا ہی پر اِنحصار کرتے ہیں اور یہی ہماری اُس کے ساتھ باہمی گفتگو کی بنیاد ہے۔ مزید برآں دُعا کے جواب میں خُدا وُہ کام بھی کرتا ہے جو دُوسری صورت میں وُہ نہ کرتا (یعقوب ۴:‏۲)۔

ل۔ یسؔوع ایک نمونے کی دُعا سکھاتا ہے (۶:‏۹-‏۱۵)

۶:‏۹ آیات ۹-‏۱۳ میں وُہ دُعا ہے جِس کو عام طو رپر «دُعائے ربانی» یا «خُداوند کی دُعا» کہا جاتا ہے۔ یہ نام استعمال کرتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یسؔوع خود کبھی یہ دُعا نہیں مانگتا تھا۔ اُس نے یہ دُعا بطورِ نمونہ اپنے شاگردوں کو سکھائی تاکہ وُہ اِس کے مطابق اپنی دُعاؤں کو تشکیل دیا کریں۔ یہ اِس لئے نہیں دی گئی کہ وُہ بالکُل اِن ہی الفاظ میں دُعا مانگا کریں،‏ (آیت ۷ اِس اِمکان کی نفی کرتی ہے) کیونکہ رٹے رٹائے الفاظ کو دُہراتے رہنے سے دُعا بے معانی ہو کر رہ جاتی ہے۔

«اے ہمارے باپ،‏ تُو جو آسمان پر ہے۔» دُعا میں خُدا باپ کو مخاطب کرنا چاہئے اور تسلیم کرنا چاہئے کہ وُہ کُل کائنات پر حاکمِ اعلیٰ ہے۔

«تیرا نام پاک مانا جائے۔» ہمیں دُعا کو پرستش سے شروع کرنا چاہئے اور خُدا ہی کی تعریف و تعظیم کرنی چاہئے کیونکہ وُہی اِس کے لائق ہے۔

۶:‏۱۰ «تیری بادشاہی آئے۔» پرستش کے بعد ہمیں یہ مانگنا چاہئے کہ وُہ باتیں ترقی کریں جو خُدا چاہتا ہے۔ ہم اُس کے مقاصد کو اوّلیت دیں اور خاص طور پر اُس دن کے لئے دُعا مانگنی چاہئے جب ہمارا نجات دہندہ خُداوند یسؔوع مسیح اِس دُنیا میں اپنی بادشاہی قائم کر کے راستی سے سلطنت کرے گا۔

«تیری مرضی … پُوری … ہو۔»اِس التجا میں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ خُدا جانتا ہے کہ کیا چیز بُہتر ہے۔ ہم اپنی مرضی کو اُس کے تابع کرتے ہیں اور اِس آرزو کا اِظہار کرتے ہیں کہ ساری دُنیا میں اُسی کی مرضی کو تسلیم کیا جائے۔

«جیسی آسمان پر پُوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔» یہ جملہ پہلے کی تینوں اِلتجاؤں کی وضاحت کر دیتا ہے۔ خُدا کی حمد و ثنا،‏ خُدا کا کُلی اِختیار اور اُس کی مرضی کا پورا ہونا،‏ سب «آسمان» کی حقیقتیں ہیں۔ درخواست یہ ہے کہ باتیں جیسے «آسمان پر» ہیں ویسے ہی «زمین پر» بھی موجود ہوں۔

۶:‏۱۱ «ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔» خُدا کے مقاصد کو اوّلیت دینے کے بعد ہمیں اِجازت ہے کہ اپنی ضروریات پیش کریں۔ یہ التجا تسلیم کرتی ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی خوراک __ روحانی اور جِسمانی دونوں قِسم کی خوراک __ کے لئے خُدا پر اِنحصار کرتے ہیں۔

۶:‏۱۲ «اور جِس طرح ہم نے اپنے قرض داروں کو معاف کیا ہے تُو بھی ہمارے قرض ہمیں معاف کر۔» اِس سے مراد گُناہ کی سزا سے قانونی یا عدالتی معافی نہیں (وُہ معافی خُدا کے بیٹے پر ایمان لانے سے ملتی ہے)۔ اِس سے مراد وُہ پِدرانہ معافی ہے جو باپ کے ساتھ رفاقت و شراکت قائم رکھنے کے لئے ہمیں ضروری طور پر درکار ہے۔ اگر ایمان دار اپنے قصورواروں کو معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تو وُہ اپنے باپ کے ساتھ رفاقت رکھنے کی توقع کس طرح کر سکتے ہیں جِس نے ہماری خطائیں معاف کر دی ہیں؟

۶:‏۱۳ «اور ہمیں آزمائش میں نہ لا۔» یہ درخواست یعقوب ۱:‏۱۳ کی نفی کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے جو بیان کرتی ہے کہ خُدا کِسی کو نہیں آزماتا۔ البُتہ خُدا اِس بات کی اِجازت دیتا ہے کہ وُہ جانچے اور آزمائے جائیں۔ اِس درخواست میں اِنسان کی اپنے لیاقت و قابلیت کے بارے میں ایک صحت مندانہ شک یا بے یقینی کا اِظہار پایا جاتا ہے کہ مَیں آزمائش یا مشکلات کے سامنے کھڑا نہیں رہ سکتا۔ یہاں اپنے تحفظ اور بقا کے لئے خُداوند پر مکمل اِنحصار کو تسلیم کیا گیا ہے۔

«بلکہ بُرائی (یا شریر) سے بچا۔» یہ اُن سب کی دُعا ہے جو دِل سے چاہتے ہیں کہ ہم خُدا کی قُدرت کی مدد سے گُناہ سے بچے رہیں۔ یہ زندگی میں شیطان اور گُناہ کی طاقت سے بچنے اور ہر روز کی نجات کے لئے دِل کی پکار ہے۔

« [کیونکہ بادشاہی اور قُدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔ آمین۔»] بُہت سے قدیم نسخوں میں یہ جملہ موجود نہیں ہے اِس لئے رؔومن کیتھولک ترجمہ میں شامِل نہیں کیا گیا۔ لُوقاؔ ۱۱:‏۲-‏۴ میں بھی موجود نہیں اور یہاں بھی قوسین میں رکھا گیا ہے۔ لیکن ایسی عمدہ حمد ِخُدا دُعا کا عمدہ ترین اِختتام پیش کرتی ہے اور اکثر قلمی نسخوں میں موجود ہے۔ جان کیلون لِکھتا ہے کہ «یہ الفاظ نہ صِرف ہمیں خُدا کے جلال کی طرف بڑھنے پر اُبھارتے ہیں بلکہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ہماری ساری دُعاؤں کی بنیاد سوائے خُدا کے اَور کوئی نہیں۔»

۶:‏۱۴،‏۱۵ یہ آیت ۱۲ کی وضاحت ہے۔ یہ دُعا کا حصہ نہیں بلکہ اِن کا اضافہ اِس حقیقت پر زور دینے کے لئے کیا گیا ہے کہ آیت ۱۲ میں مذکور پِدرانہ معافی مشروط ہے۔

م۔ یسؔوع روزہ رکھنے کے بارے میں تعلیم دیتا ہے (۶:‏۱۶-‏۱۸)

۶:‏۱۶ یسؔوع مسیح ایک تیسری قِسم کی مذہبی ریاکاری کی مذمت کرتا ہے کہ لوگ دیدہ دانستہ روزہ داری کی وضع بناتے ہیں۔ «ریاکار» قصداً «اپنی صورت اُداس» بناتے ہیں،‏ یعنی جب روزہ رکھتے ہیں تو کمزور،‏ نڈھال اور اُداس نظر آنے کی کوشِش کرتے ہیں،‏ مگر یسؔوع کہتا ہے کہ اِس طرح کا پاک باز ہونے کا دِکھاوا مضحکہ خیز بات ہے۔

۶:‏۱۷،‏۱۸ سچے ایمان داروں کو روزہ «پوشیدگی» میں رکھنا چاہئے۔ دِکھاوا اور ظاہر داری نہیں کرنی چاہئے۔ «اپنے سر میں تیل ڈالنا اور منہ دھونا» معمول کے مطابق دِکھائی دینے کا طریقہ ہے۔ اِتنا ہی کافی ہے کہ «باپ» جانتا ہو کہ تم نے روزہ رکھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں کی نسبُت اُس کا «اَجر» زیادہ بُہتر ہو گا۔

روزہ

روزے کا مطلب ہے جِسمانی بھوک کو مٹانے سے گریز کرنا۔ یہ رضاکارانہ بھی ہو سکتا ہے جیسے کہ زیر نظر حوالے میں ہے اور غیررضاکارانہ بھی (جیسا کہ اعمال ۲۷:‏۳۳ یا ۲۔کرنتھیوں ۱۱:‏۲۷ میں ہے)۔ نئے عہدنامہ میں اِس کا تعلق ماتم (متؔی ۹:‏۱۴،‏۱۵) اور دُعا کے ساتھ (لُوقاؔ ۲:‏۳۷؛ اعمال ۱۴:‏۲۳) بھی ہے۔ اِن حوالوں میں روزے کے ساتھ دُعا مانگنا اِس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ مَیں پورے دِل سے خُدا کی مرضی معلوم کرنا چاہتا ہوں۔

نجات کے حصول کے سلسلے میں روزہ رکھنے کا کوئی ثواب نہیں اور نہ روزہ رکھنے سے مسیحی کو خُدا کے سامنے کوئی خاص درَج ہ حاصل ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ایک فریسی نے فخر کیا تھا کہ مَیں ہفتے میں دو بار روزہ رکھتا ہوں،‏ مگر اِس سے اُسے مطلوبہ راست بازی حاصل نہ ہو سکی (لُوقاؔ ۱۸:‏۱۲،‏۱۴)۔ لیکن جب کوئی مسیحی روحانی عمل کے طور پر پوشیدگی میں روزہ رکھتا ہے تو خُدا اُسے دیکھتا اور اَجر دیتا ہے۔ اگرچہ نئے عہدنامہ میں روزہ رکھنے کا حُکم نہیں لیکن اَجر کا وعدہ کر کے روزہ رکھنے کی حوصلہ افزائی ضرور کی گئی ہے۔ روزہ غنودگی اور سُستی کو دُور کرتا ہے۔ اِس لئے دُعائیہ زندگی میں مددگار ثابُت ہو سکتا ہے۔ کِسی بحران کے وقت جب اِنسان خُدا کی مرضی کو پہچاننے کا آرزو مند ہو تو روزہ بُہت قیمتؔی چیز ثابُت ہوتا ہے۔ پھر خود ضبطی کے سلسلے میں روزہ ایک انمول چیز ہے۔ روزے کا معاملہ اِنسان اور خُدا کے درمیان ہوتا ہے اور صِرف اور صِرف اِس خواہش کے ساتھ رکھنا چاہئے کہ مَیں خُدا کو خوش کروں۔ لیکن اگر روزہ باہر سے ٹھونسا جائے یا غلط مقاصد سے رکھا جائے تو بالکُل بے فائدہ ہوتا ہے۔

ن۔ آسمان پر مال جمع کرو (۶:‏۱۹-‏۲۱)

اِس حصے میں ہمارے خُداوند کی بعض اِنقلابی تعلیمات درَج ہیں۔ یہ ایسی تعلیمات ہیں جن کو اکثر یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ باب کے بقیہ حصے کا موضوع یہ ہے کہ مستقبل کے لئے تحفظ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

۶:‏۱۹،‏۲۰ اِنسان ہمیشہ یہ نصیحت کرتے اور مشورہ دیتے ہیں کہ مستقبل مالی لحاظ سے مستحُکم و محفوظ ہونا چاہئے۔ لیکن آیات ۱۹-‏۲۱ میں یسؔوع اِس کے بالکُل برعکس مشورہ دیتا ہے۔ جب وُہ کہتا ہے کہ «اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو» تو وُہ بیان کرتا ہے کہ مادی چیزوں میں کوئی تحفظ ہے نہیں۔ زمین پر جمع شدہ کِسی بھی قِسم کے خزانے کو قُدرتی عناصر (کیڑا یا زنگ) خراب کر سکتے ہیں یا «چور» اِسے چرا کر لے جا سکتے ہیں۔ یسؔوع کہتا ہے کہ صِرف ایک قِسم کی سرمایہ کاری ہے جِس میں کِسی نقصان کا اندیشہ نہیں اور وُہ ہے «آسمان پر مال جمع» کرنا۔

۶:‏۲۱ اِس انقلابی مالی پالیسی کے پیچھے ایک اہم اصول ہے کہ «جہاں تیرا مال ہے وُہیں تیرا دِل بھی لگا رہے گا۔» اگر آپ کا روپیہ پیسہ کِسی سیف میں ہے تو آپ کا دِل اور خواہش بھی وُہیں ہو گی۔ اگر آپ کا خزانہ آسمان پر ہے تو دِل بھی وُہیں لگا رہے گا۔ یہ تعلیم ہمیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ آیا یسؔوع نے جو تعلیم دی تھی،‏ اِس کا مطلب و مقصد بھی وُہی تھا۔ اگر وُہی تھا تو پھر ہمارے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ ہم اپنے دُنیوی مال کے ساتھ کیا کریں؟ اگر اِس کا وُہی مطلب نہیں تھا تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی بائبل مُقدس کے ساتھ کیا کریں؟

س۔ بدن کا چراغ (۶:‏۲۲،‏۲۳)

مستقبل کے تحفظ کے بارے میں یسؔوع کی تعلیم بالکُل غیر روایتی ہے۔ اُسے احساس تھا کہ میرے شاگرد نہیں سمجھ سکتے کہ یہ تعلیم کس طرح کامیاب ہو سکتی ہے۔ اِس لئے اُس نے اِنسانی «آنکھ» کی مثال دے کر روحانی بصیرت کے سبق کی وضاحت کی۔ اُس نے کہا کہ «بدن کا چراغ آنکھ ہے۔» آنکھ کے وسیلے سے بدن روشنی حاصل کرتا ہے۔ اگر «آنکھ» «درست» ہے تو سارا «بدن» «روشنی» سے معمور ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر «آنکھ خراب ہو» تو بصارت خراب ہو جاتی ہے اور روشنی کی بجائے اُس میں «تاریکی» ہوتی ہے۔

اِس کے مضمرات یوں ہیں:‏درست آنکھ اُس شخص کی ہوتی ہے جِس کے ارادے اور مقاصد پاک ہوں۔ جو صِرف ایک ہی خواہش رکھتا ہے کہ خُدا کے مقاصد پورے ہوں اور جو مسیح کی تعلیمات کو لفظ بلفظ قبول کرنے پر آمادہ ہو۔ اُس کا سارا بدن روشنی سے معمور ہوتا ہے۔ وُہ یسؔوع کی باتوں کا یقین کر کے دُنیاوی مال و دولت کو ترک کر دیتا ہے۔ وُہ اپنا مال آسمان پر جمع کرتا ہے اور جانتا ہے کہ حقیقی تحفظ صِرف یہی ہے۔ اِس کے برعکس خراب آنکھ اُس شخص کی ہوتی ہے جو دو دُنیاؤں کے لئے زندگی بَسر کرنے کی کوشِش کر رہا ہے۔ وُہ اپنے دُنیاوی خزانوں کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا،‏ لیکن ساتھ ہی آسمان میں بھی خزانے چاہتا ہے۔ اُس کو مسیح کی تعلیمات ناقابلِ عمل اور نامکمّل معلوم ہوتی ہیں۔ چونکہ وُہ تاریکی سے بھرا ہوتا ہے اِس لئے اُسے واضح راہنمائی حاصل نہیں ہو سکتی۔

اِس کے ساتھ یسؔوع اِس بیان کا اضافہ کرتا ہے کہ «اگر وُہ روشنی جو تجھ میں ہے تاریکی ہو تو تاریکی کیسی بڑی ہو گی!» مراد یہ ہے کہ اگر تم جانتے ہو کہ مسیح تحفظ کے لئے دُنیاوی خزانوں پر بھروسا کرنے سے منع کرتا ہے،‏ لیکن پھر بھی اِن کے پیچھے بھاگتے ہو تو پھر وُہ تعلیم جِس کو ماننے سے اِنکار کیا تاریکی بن جاتی ہے __ یہ اِنتہائی شدید قِسم کا روحانی اندھا پن ہے۔ تم دولت کو اپنے صحیح تناظر میں نہیں دیکھ سکتے۔

ع۔ تم خُدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے (۶:‏۲۴)

یہاں «مالکوں» اور غلاموں کی مثال دے کر سمجھایا گیا ہے کہ اِنسان کے لئے «خدا» اور دولت دونوں کے لئے زندگی بَسر کرنا ناممکن ہے۔ «کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا۔» لازمی بات ہے کہ فرماں برداری اور وفاداری کے معاملے میں وُہ دونوں میں سے «ایک» کو ترجیح دے گا۔ یہی حال «خُدا اور دولت» کے سلسلے میں ہوتا ہے۔ اِن کے مطالبات ایک دوسرے کے اُلٹ ہوتے ہیں۔ اِن میں سے اِنسان کو اِنتخاب کرنا پڑتا ہے۔ یا تو ہم خُدا کو پہلا درَج ہ دیں اور مادہ پرستی کی حکمرانی کو ردّ کریں یا اِن دُنیاوی چیزوں کے لئے زندگی گزاریں اور خُدا کے دعوے اور مطالبے کو ردّ کر دیں۔

ف۔ فِکر نہ کرو (۶:‏۲۵-‏۳۴)

۶:‏۲۵ ہم اِس خطرے میں ہیں کہ ہماری زندگیاں خوراک اور پوشاک کے گرد گھومتؔی رہیں اور ایسا کرتے ہوئے ہم زندگی کے اصل مقصد کو سمجھنے سے قاصر رہ جائیں۔ کلام کے اِس حصے میں یسؔوع اِسی رُجحان پر ضرب لگاتا ہے۔ کیونکہ یہ رُجحان خُدا کی محبُت،‏ حکمت اور قُدرت کا اِنکار کرتا ہے۔ خُدا کی محبُت کا اِنکار اِس طرح کہ اِس میں یہ بات مضمر ہے کہ وُہ ہماری فِکر نہیں کرتا اور حکمت کا اِنکار اِس طرح کہ اِس میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ وُہ نہیں جانتا کہ کیا کر رہا ہے اور قُدرت کا اِنکار اِس طرح کہ اِس میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ وُہ ہماری ضروریات پُوری نہیں کر سکتا۔

۶:‏۲۶ «ہُوا کے پرندوں» سے ثابُت ہوتا ہے کہ خُدا اپنی مخلُوقاؔت کی فِکر کرتا ہے۔ پرندے ہمارے سامنے یہ منادی کرتے ہیں کہ فِکر کرنا کس قدر غیر ضروری ہے۔ وُہ «نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے» پھر بھی خُدا «اُن کو کھلاتا ہے۔» چونکہ مخلُوقاؔت میں ہماری «قدر» پرندوں سے زیادہ ہے اِس لئے ہم یقینی توقع رکھ سکتے ہیں کہ وُہ ہماری ضروریات کی فِکر کرتا ہے۔

لیکن اِس سے ہمیں یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے کہ ہمیں روزمرہ ضروریات کی فراہمی کے لئے کوئی محنت کرنے کی ضُرورتنہیں۔ پُولُسؔ ہمیں یاد دِل اتا ہے کہ «جِسے محنت کرنا منظور نہ ہو وُہ کھانے بھی نہ پائے» (۲۔تھسلنیکیوں ۳:‏۱۰)۔ نہ ہم یہ نتیجہ اخذ کریں کہ کاشت کار کے لئے بیج بونا،‏ فصل کاٹنا اور جمع کرنا سب کُچھ ناواجب اور غلط ہے۔ اپنی روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یہ کام بالکُل ضروری ہے۔ یہاں یسؔوع جِس بات سے منع کر رہا ہے وُہ یہ ہے کہ ہم خُدا پر بھروسا اور توکل چھوڑ کر مستقبل کے تحفظ کے لئے فِکر اور بَندوبَست کرنے میں لگے رہیں (وُہ اِس بات کی مذمت لُوقاؔ ۱۲:‏۱۶-‏۲۱ میں مذکور امیر کاشت کار کی تمثیل سے بھی کرتا ہے)۔

دِل یل یہ ہے کہ اگر خُدا ادنیٰ درَج ے کے جانوروں کو اُن کے تعاون کے بغیر پالتا ہے تو جن کے لئے مخلُوقاؔت وجود میں آئی تو اُن کے تعاون کے ساتھ اِنہیں اَور بھی زیادہ کیوں نہ پالے گا۔

۶:‏۲۷ مستقبل کے لئے فِکر کرنا نہ صِرف خُدا کی بے عزتی کرنا ہے بلکہ بے سود بھی ہے۔ خُداوند اِس کی وضاحت ایک سوال سے کرتا ہے کہ «تم میں ایسا کون ہے جو فِکر کر کے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے» (یا اپنے قد کو ایک ہاتھ بڑھا سکے)؟ ایسا کرنا ناممکن ہے۔ پھر بھی مقابلتاً یہ کام آسان ہے اور فِکر کرکے مستقبل کی ساری ضروریات فراہم کر لینا مشکل ہے۔

۶:‏۲۸-‏۳۰ اِس کے بعد خُداوند مستقبل میں «پوشاک» کے بارے میں فِکر کرنے کی نامعقولیت کو واضح کرتا ہے۔ «جنگلی سوسن (غالباً گُلِ لالہ) … وُہ نہ محنت کرتے نہ کاتتے ہیں» تو بھی اُن کی خوبصورتی اور دِل کشی سلیمان کے شاہی لباس پر سبقت رکھتی ہے۔ اگر خُدا جنگلی پھولوں کو ایسی شاندار پوشاک پہنا سکتا ہے جن کی زندگی نہایت مختصر ہوتی ہے اور اگلی صبح ایندھن کے طور پر «تنور» میں جھونک دی جاتی ہے تو وُہ اپنے لوگوں کی یقینا فِکر کرے گا جو اُس کی عبادت اور خدمت کرتے ہیں۔

۶:‏۳۱،‏۳۲ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں اپنی زندگی مستقبل میں کھانے پینے اور پہننے کی چیزوں کی تلاش کی فِکر میں نہیں گزارنی چاہئے۔ ایمان نہ لانے والی «غیر قومیں» مادی چیزیں جمع کرنے میں دیوانہ وار مصروف و مشغول رہتی ہیں۔ گویا کھانا پینا اور پہننا ہی زندگی ہے۔ لیکن مسیحیوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اُن کا «آسمانی باپ» اُن کی بنیادی ضروریات کو «جانتا ہے۔»

اگر مسیحی مستقبل کی ضروریات کی فراہمی ہی کو مقصدِ حیات بنا لیں تو اُن کا وقت اور قوت مالی وسائل اور ذخیرے جمع کرنے کے لئے وقف ہو کر رہ جائے گا۔ اُن کو کبھی اِطمینان نہیں ہو گا کہ ہم نے کافی کُچھ جمع کر لیا ہے،‏ کیونکہ اِنہیں ہمیشہ دھڑکا لگا رہے گا کہ کوئی ناگہانی آفت پیش آئے گی،‏ لمبی بیماری لگ جائے گی یا کوئی حادِثہ مفلوج کر کے رکھ دے گا۔ اِس کا مطلب ہے کہ خُدا کے لوگ اُس کی خدمت سے جی چرائیں گے اور جِس مقصد کے لئے اُن کو خلق کیا گیا تھا اور جِس مقصد سے اُن کی نئی پیدائش ہوئی تھی وُہ آنکھوں سے اوجھل ہو جائے گا۔ وُہ مرد و زن جو خُدا کی شبیہ پر پیدا ہوئے ہیں اِس زمین پر،‏ اِس دُنیا میں غیر یقینی مستقبل کا شکار ہو کر رہ جائیں گے،‏ حالانکہ اُن کی نگاہیں اَبدی اقدار پر لگی ہونی چاہئیں۔

۶:‏۳۳ اِس لئے خُداوند اپنے پیروکاروں کے ساتھ ایک عہد باندھتا ہے۔ دراصل وُہ کہتا ہے کہ «اگر تم اپنی زندگیوں میں خُدا کے مقاصد کو اوّلیت دو گے تو مَیں تمہاری مستقبل کی ضروریات کی ضمانت دوں گا۔» اگر «تم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش کرو» تو پھر مَیں ذمہ لیتا ہوں کہ تمہیں ضروریاتِ زندگی کی کبھی کمی نہ ہو گی۔

۶:‏۳۴ یہ خُدا کا «سوشل سیکیورٹی پروگرام» ہے۔ ایمان دار کی ذمہ داری ہے کہ خُداوند کے لئے زندگی بَسر کرے،‏ مستقبل کے لئے خُدا پر بھروسا رکھے اور غیر متزلزل توکل رکھے کہ وُہ سب کُچھ مہیا کرے گا۔ اِنسان کا کام (ملازمت وغیرہ) صِرف اُس کی حالیہ ضروریات مہیا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اِس کے علاوُہ جو کُچھ بھی ہے،‏ وُہ خُدا کے کام میں لگا ہُوا ہو۔ ہماری بلاہٹ یہ ہے کہ ایک وقت میں ایک دن جئیں۔ «کل کا دن اپنے لئے آپ فِکر کر لے گا۔»

ص۔ عیب جوئی نہ کرو (۷:‏۱-‏۶)

عیب جوئی کے بارے میں یہ حصہ یسؔوع مسیح کے دُنیاوی مال و دولت کے بارے میں چونکا دینے والی تعلیم کے فوراً بعد آتا ہے۔ اِن دونوں مَوضُوعات کے درمیان تعلق کو سمجھنا بُہت ضروری ہے۔ جو مسیحی سب کُچھ ترک کر دیتا ہے اُس کے لئے دولت مند مسیحیوں پر نکتہ چینی اور تنقید کرنا بُہت آسان ہے۔ لیکن دُوسری طرف جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنے خاندانوں کی مستقبل کی ضروریات کے لئے فراہم کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے،‏ وُہ مسیح کی تعلیم پر لفظ بہ لفظ چلنے کی اہمیّت کو کم کرنے کی کوشِش کرتے ہیں۔ چونکہ کوئی شخص بھی پورے طور پر ایمان پر زندگی بَسر نہیں کرتا اِس لئے ایسی تنقید بالکُل بے جا ہے۔

عیب جوئی نہ کرنے کے حُکم میں مُندرَج ہ ذیل شعبے شامِل ہیں:‏ہم نیتوں پر تنقید نہ کریں۔ صِرف خُدا ہی نیتوں کو جان سکتا ہے۔ ہم ظاہری باتوں کے مطابق فیصلہ نہ دیں (یُوحناؔ ۷:‏۲۴؛ یعقوب ۲:‏۱-‏۴)۔ ہم اُن لوگوں پر اُنگلی نہ اُٹھائیں جو سچے دِل سے ایسی باتوں کے بارے میں ہچکچاتے ہیں،‏ جو اپنی ذات میں اخلاقی نوعیت کی نہیں (رؔومیوں ۱۴:‏۱-‏۵) ہم کِسی دوسرے مسیحی کی عبادت یا خدمت پر نکتہ چینی نہ کریں (۱۔کرنتھیوں ۴:‏۱-‏۵) اور نہ کِسی ہم ایمان کے بارے میں کوئی بُری بات منہ سے نکالیں (یعقوب ۴:‏۱۱،‏۱۲)۔

۷:‏۱ بعض لوگ خُداوند مسیح کے ان الفاظ کی غلط تاویلیں کر کے ہر قِسم کی تنقید یا جانچ پڑتال کی ممانعت کرتے ہیں۔ «خواہ کُچھ بھی ہو جائے» وُہ بڑے پاک باز انداز میں کہتے ہیں،‏ «عیب جوئی نہ کرو،‏ کہ تمہاری بھی عیب جوئی نہ کی جائے۔» مگر یسؔوع یہ تعلیم نہیں دے رہا کہ ہم ایسے لوگ بن جائیں جو کِسی بات میں اِمتؔیاز نہیں کرتے جو کِسی بات کو جانچتے پرکھتے نہیں۔ ہاں،‏ اِس کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ہم اپنی تنقیدی صلاحیت یا قوتِ اِمتؔیاز کو ترک کر دیں۔ نئے عہدنامہ میں دوسروں کے حالات،‏ کردار اور تعلیمات پر جائز اور حق بجانب تنقید کرنے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ علاوُہ ازیں کئی شعبے ہیں جن میں مسیحیوں کو فیصلہ کرنے کا حُکم دیا گیا ہے کہ وُہ نیک اور بد میں اِمتؔیاز کریں۔ یا اچھے اور بُہترین میں اِنتخاب کریں۔ اِن میں یہ باتیں شامِل ہیں:‏

  1. جب ایمان داروں کے درمیان کوئی اِختلاف یا جھگڑا اُٹھ کھڑا ہو تو کلیسیا میں اُن افراد کے سامنے پیش کیا جائے جو ایسے معاملات کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور وُہی اِس کا فیصلہ کریں (۱۔کرنتھیوں ۶:‏۱-‏۸)۔
  2. مقامی کلیسیا اپنے ارکان کے سنگین گُناہ وں کا فیصلہ کر کے مناسب اِقدام کرے (متؔی ۱۸:‏۱۷؛ ۱۔کرنتھیوں ۵:‏۹-‏۱۳)۔
  3. ایمان دار منادی کرنے والوں اور مبشروں کی تعلیمات کو خُدا کے کلام کی روشنی میں جانچیں اور پرکھیں (متؔی ۷:‏۱۵-‏۲۰؛ ۱۔کرنتھیوں ۱۴:‏۲۹؛ ۱۔یُوحناؔ ۴:‏۱)۔
  4. مسیحی دوسروں کو پرکھیں کہ وُہ ایمان دار ہیں یا نہیں اور یوں پُولُسؔ کے حُکم کی تعمیل کریں (۲۔کرنتھیوں ۶:‏۱۴)۔
  5. کلیسیا کے لوگ جانچیں اور فیصلہ کریں کہ کن افراد میں ایلڈر یا ڈِیکن بننے کی ضروری صلاحیت اور اِستعداد ہے (۱۔تیمتھیس ۳:‏۱-‏۱۳)۔
  6. ہمیں یہ بھی اِمتؔیاز کرنا ہے کہ کون لوگ بے قاعدہ چلتے ہیں،‏ کون کم ہمت ہیں،‏ کون کمزور ہیں وغیرہ،‏ تاکہ اُن کے ساتھ بائبل مُقدس کی ہدایات کے مطابق سلوک اور برتاؤ کر سکیِں (۱۔تھسلنیکیوں ۵:‏۱۴)۔

۷:‏۲ یسؔوع نے خبردار کیا کہ عیب جوئی کا اُسی ناپ سے بدِل ہ ملے گا۔ «کیونکہ جِس طرح تم عیب جوئی کرتے ہو اُسی طرح تمہاری بھی عیب جوئی کی جائے گی۔» جو کُچھ بوؤ گے وُہی کاٹو گے۔ یہ تمام اِنسانی زندگی اور معاملات میں کارفرما نظر آتا ہے۔ مرقسؔ (۴:‏۲۴) اِسی اصول کا پاک کلام کو قبول کرنے یا نہ کرنے پر اور لُوقاؔ (۶:‏۳۸) خیرات کرنے میں فراخ دِل ی پر اطلاق کرتا ہے۔

۷:‏۳-‏۵ ہم میں یہ رُجحان ہے کہ دوسروں میں معمولی نقص دیکھ لیتے ہیں جب کہ اپنے اندر وُہی نقص ہمیں نظر نہیں آتا۔ یسؔوع نے ہمارے اِس رُجحان کو بے نقاب کیا اور دانستہ مبالغہ آمیزی (شہتیر کی مثال) سے کام لیا تاکہ نکتہ بالکُل واضح ہو جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جِس کی آنکھ میں شہتیر ہوتا ہے اُس کو دوسرے کی آنکھ کا تنکا زیادہ نظر آتا ہے۔ یہ فرض کرنا ہی بڑی ریاکاری ہے کہ ہم کِسی کے نقص یا عیب دُور کرنے میں مدد کر سکتے ہیں جب کہ ہمارے اندر اِس سے بھی بڑا نقص موجود ہو۔ دوسروں پر اُنگلی اُٹھانے سے پہلے ضروری ہے کہ پہلے اپنا علاج کریں۔

۷:‏۶ آیت چھے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسؔوع کا مقصد ہر قِسم کی تنقید سے منع کرنا نہیں تھا۔ اُس نے شاگردوں کو خبردار کیا کہ «پاک چیز کتوں کو نہ دو» یا «موتی سُؤروں کے آگے نہ ڈالو۔» موسوی شریعت کے مطابق کتے اور سُؤر ناپاک جانور تھے۔ یہاں اِس ترکیب سے مراد بُرے یا بدکردار لوگ ہے۔ جب ہماری ملاقات ایسے لوگوں سے ہوتی ہے جو الٰہی سچائیوں کی تحقیر کرتے اور مسیح کی منادی کا گالیوں اور ایذارسانی سے جواب دیتے ہیں تو پھر ہمارا فرض نہیں رہتا کہ اُن کو اِنجیل کی خوشخبری سناتے جائیں کیونکہ ہمارے زور دینے سے اُن کا قصور اَور بڑھے گا اور اُن کی سزا بھی اَور زیادہ ہو گی۔

یہ کہنے کی ضُرورتنہیں کہ ایسے لوگوں کو پہچاننے کے لئے روحانی بصیرت درکار ہوتی ہے۔ شاید اِسی لئے اگلی آیت میں دُعا کے موضوع پر بات کی گئی ہے جِس کی معرفت ہمیں دانائی اور حکمت حاصل ہوتی ہے۔

ق۔ مانگتے رہو،‏ ڈھونڈتے رہو،‏ دروازہ کھٹکھٹاتے رہو (۷:‏۷-‏۱۲)

۷:‏۷،‏۸ اگر ہم سوچتے ہیں کہ ہم اپنی طاقت اور قوت سے پہاڑی وعظ کی تعلیمات پر عمل کر سکتے ہیں تو ہم اُس فوق الفطرت زندگی کو نظر انداز کر رہے ہیں جِس پر چلنے کا مطالبہ منجی دو عالم کر رہا ہے۔ ایسی زندگی بَسر کرنے کے لئے حکمت یا قوت اُوپر سے ملتی ہے۔ چنانچہ خُداوند دعوت دیتا ہے کہ ہم مانگیں اور مانگتے رہیں،‏ ڈھونڈیں،‏ اور ڈھونڈتے رہیں،‏ دروازہ کھٹکھٹائیں اور کھٹکھٹاتے رہیں۔ مسیحی زندگی گزارنے کے لئے حکمت اور قوت صِرف اُنہی کو ملتی ہے جو پورے دِل سے اور اِستقلال کے ساتھ دُعا مانگتے ہیں۔

اگر آیات ۷ اور ۸ کو سیاق و سباق سے الگ کر کے دیکھا جائے تو ایمان دار کے لئے بلینک چیک ۱؎ معلوم ہوتی ہیں،‏ یعنی ہم جو کُچھ چاہیں حاصل کر سکتے ہیں،‏ مگر یہ بات بالکُل درست نہیں۔ اِن آیات کا مفہُوم اِن کے فوری سیاق و سباق اور دُعا کے بارے میں بائبل مُقدس کی تعلیم کی روشنی میں سمجھا جائے۔ چنانچہ یہاں جو وعدے غیر مشروط معلوم ۱؎ ایسا چیک جِس پر کھاتہ دار اپنے دستخط کر کے دے دیتا ہے۔ وصول کرنے والا اپنی مرضی سے رقم لِکھ کر بینک سے حاصل کر سکتا ہے۔ ہوتے ہیں،‏ دراصل دوسرے حوالوں نے اِن پر شرائط لگا رکھی ہیں۔ مثال کے طور پر زبُور ۶۶:‏۱۸ سے ہم سیکھتے ہیں کہ دُعا مانگنے والے کی زندگی میں کوئی ایسا گُناہ نہیں ہونا چاہئے جِس کا اُس نے اعتراف و اِقرار نہ کیا ہو۔ مسیحی کو دُعا ایمان کے ساتھ مانگنی چاہئے (یعقوب ۱:‏۶-‏۸)۔ دُعا خُدا کی مرضی کے مطابق ہونی چاہئے (۱۔یُوحناؔ ۵:‏۱۴) اور لگاتار مانگتے رہنا چاہئے (لُوقاؔ ۱۸:‏۱-‏۸)۔ دُعا سچے دِل سے ہو (عبرانیوں ۱۰:‏۲۲)۔

۷:‏۹،‏۱۰ جب دُعا مانگنے کی شرائط پُوری ہو جائیں تو ایک مسیحی کو قطعی یقین ہونا چاہئے کہ خُدا سنے گا اور جواب دے گا۔ اِس یقین کی بنیاد خُدا ہمارے باپ کے کردار یا ذات پر ہے۔ اِنسانی سطح پر ہم جانتے ہیں کہ اگر کِسی کا بیٹا «روٹی مانگے» تو اُس کا باپ اُسے «پتھر» نہیں دے گا۔ یا «اگر مچھلی مانگے» تو باپ اُسے «سانپ» نہیں دے گا۔ دُنیاوی باپ اپنے بیٹے کو نہ تو دھوکا دے گا،‏ نہ اُسے کوئی ایسی چیز دے گا جو نقصان دہ ہو۔

۷:‏۱۱ خُداوند کی دِل یل ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف بڑھتی ہے۔ اگر اِنسانی والدین اپنی اولاد کی درخواست پر بُہترین چیز دیتے ہیں تو ہمارا «باپ جو آسمان پر ہے» اِس سے کہیں زیادہ کیوں نہ کرے گا؟

۷:‏۱۲ آیت ۱۲ کا گذشتہ آیت کے ساتھ فوری تعلق یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ہمارا باپ ہمیں اچھی چیزیں دیتا ہے تو جب ہم دوسروں کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا سلوک کرتے ہیں تو اُس باپ کی تقلید اور نقل کرتے ہیں۔ جو سلوک ہم دوسروں سے کرتے ہیں،‏ وُہ اُن کے لئے فائدہ مند ہے یا نہیں،‏ اِس بات کا جائزہ لینے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ اور وُہ یہ کہ دیکھیں کہ وُہی سلوک ہم اپنے لئے پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ یہ « سنہری اصول» ہے۔ مسیح کے دَور سے کوئی ۱۰۰ برس پیشتر ربی ہلیل نے اِسی اصول کو منفی انداز میں پیش کیا تھا،‏ لیکن یسؔوع نے اِسے مثبُت انداز میں بیان کیا ہے۔ اِس طرح یسؔوع واضح کرتا ہے کہ کِسی سے محض بدی کرنے سے گریز کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اُس کے ساتھ بھلائی بھی کرنی ہے۔ مسیحیت صِرف یہی نہیں کہ گُناہ سے بچا جائے اور پرہیز کیا جائے،‏ بلکہ مثبُت نیکی بھی کی جائے۔

یسؔوع کا یہ مقولہ «توریت اور نبیوں کی تعلیم یہی ہے» یعنی یہ مُو سؔیٰ کی «توریت» اور بنی اِسرائیل کے «نبیوں» کی ساری اخلاقی تعلیم کا خلاصہ ہے۔ پرانا عہدنامہ جِس راست بازی کا تقاضا کرتا ہے،‏ اُن ایمان داروں میں پُوری ہوتی ہے جو «رُوح کے مطابق چلتے ہیں» (رؔومیوں ۸:‏۴)۔ اگر اِس آیت کی تعمیل دُنیا بھر میں ہو تو بین الاقوامی تعلقات،‏ قومی سیاست،‏ خاندانی اور کلیسیائی زندگی کے سارے شعبوں میں اِنقلاب آ جائے گا۔

ر۔ تنگ راستہ (۷:‏۱۳،‏۱۴)

اَب خُداوند خبردار کرتا ہے کہ مسیحی شاگردیت کا «دروازہ تنگ» اور «راستہ سکڑا» یعنی مشکل ہے۔ لیکن جتنے لوگ وفاداری کے ساتھ اُس کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں،‏ اُن کو کثرت کی «زندگی» ملتی ہے۔ دُوسری طرف «چوڑا دروازہ» یعنی عیش و عشرت اور نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کی زندگی ہے۔ اِس زندگی کا انجام «ہلاکت» ہے۔ یہاں بحث ابدی ہلاکت کی نہیں بلکہ اپنے وجود کے مقصد کو پورا کرنے میں ناکام رہنے کی ہے۔

اِن آیات کا اِس پیغام پر بھی اِطلاق ہوتا ہے جِس کا تعلق دو راستوں اور نسلِ اِنسانی کے دو قِسم کے حشر سے ہے۔ چوڑا دروازہ اور کشادہ راستہ ہلاکت کو پہنچاتا ہے (اَمثال ۱۶:‏۲۵)۔ تنگ دروازہ اور سُکڑا راستہ زندگی کو پہنچاتا ہے۔ یسؔوع دروازہ (یُوحناؔ ۱۰:‏۹) اور راستہ (یُوحناؔ ۱۴:‏۶) دونوں ہے۔ اگرچہ اِن آیات کا اِس طرح اطلاق کرنا بھی درست ہے،‏ لیکن اِن کا پیغام زیادہ تر ایمان داروں کے لئے ہے۔ یسؔوع کہہ رہا ہے کہ میری پیروی کرنے کے لئے،‏ ایمان نظم و ضبط،‏ بُردباری اور برداشت کی ضُرورتہے۔ لیکن یہ «مشکل» زندگی ہی زندہ رہنے کے لائق زندگی ہے۔ اگر آپ آسان راستہ اِختیار کرتے ہیں تو بے شمار ساتھی مل جائیں گے۔ لیکن جو عمدہ ترین چیزیں خُدا نے آپ کے لئے رکھی ہیں،‏ اِن سے آپ محرؔوم رہ جائیں گے۔

ش۔ اُن کے پھلوں سے اُن کو پہچان لو گے (۷:‏۱۵-‏۲۰)

۷:‏۱۵ جب بھی شاگردیت کی سخت شرائط کی تعلیم دی جاتی ہے تو ساتھ ہی «جھوٹے نبی» بھی موجود ہوتے ہیں جو چوڑے دروازے اور کُشادہ راستے کی وکالت کرتے ہیں۔ وُہ سچائی میں اِس قدر ملاوٹ کر دیتے ہیں کہ بالآخر اِس کا وجود اِتنا بھی نظر نہیں آتا جتنی ماش کے دانے پر سفیدی۔ یہ لوگ دعوے تو کرتے ہیں کہ ہم خُدا کی طرف سے کلام کر رہے ہیں،‏ لیکن دراصل «بھیڑوں کے بھیس میں … » ہوتے ہیں۔ اِن کی وضع قطع سچے ایمان داروں جیسی ہوتی ہے،‏ لیکن باطن میں وُہ «پھاڑنے والے بھیڑیئے» ہوتے ہیں۔ یعنی وُہ بدکار اور بے ایمان افراد ہوتے ہیں جو ناپختہ،‏ ڈانواں ڈول اور کمزور ایمان والوں کو شکار کرتے ہیں۔

۷:‏۱۶-‏۱۸ یہ آیات جھوٹے نبیوں کو پہچاننے کے بارے میں ہیں۔ «اُن کے پھلوں سے تم اُن کو پہچان لو گے۔» اُن کی بے مہار زندگی اور ہلاکت آفریں تعلیم اُن کا بھانڈا پھوڑ دیتی ہے۔ درخت یا پودا اپنی خصُوصیات کے مطابق «پھل» لاتا ہے۔ «جھاڑیوں» کو «انگور» اور «اُونٹ کٹاروں» کو «انجیر» نہیں لگ سکتے۔ «اچھا درخت اچھا پھل» اور « بُرا درخت بُرا پھل» لاتا ہے۔ یہ اصول طبعی دُنیا اور روحانی دُنیا دونوں جگہ کار فرما ہے۔ جو افراد خُدا کی طرف سے بولنے کا دعویٰ کرتے ہیں،‏ اُن کی زندگیوں اور تعلیمات کو خُدا کے کلام سے پرکھنا چاہئے۔ «اگر وُہ اِس کلام کے مطابق نہ بولیں تو اُن کے لئے صبح نہ ہو گی» (یسَعیاہ ۸:‏۲۰)۔ وُہ اِس کلام کے مطابق اِس لئے نہیں بولتے کیونکہ اُن کے باطن روشن نہیں ہوتے۔

۷:‏۱۹،‏۲۰ جھوٹے نبیوں کا حشر یہ ہو گا کہ وُہ «آگ میں» ڈالے جائیں گے۔ جھوٹے اُستادوں اور نبیوں کا انجام «جلد ہلاکت» (۲۔پَطرسؔ ۲:‏۱) ہو گا۔ وُہ اپنے پھلوں سے پہچانے جا سکتے ہیں۔

ت۔ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی (۷:‏۲۱-‏۲۳)

۷:‏۲۱ اب یسؔوع اُن لوگوں کو خبردار کرتا ہے جو اُس کو اپنا نجات دہندہ ماننے کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔ لیکن دِل سے کبھی ایمان نہیں لائے۔ «جو مجھ سے اے خُداوند،‏ اے خُداوند کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہو گا۔» اِس بادشاہی میں صِرف وُہی لوگ داخل ہوتے ہیں جو خُدا «باپ کی مرضی» پر چلتے ہیں۔ خُدا کی مرضی پر چلنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ خُداوند یسؔوع پر ایمان لایا جائے (یُوحناؔ ۶:‏۲۹)۔

۷:‏۲۲،‏۲۳ عدالت کے «دن» جب بے ایمان لوگ مسیح کے سامنے کھڑے ہوں گے تو (مُکاشفہ۲۰:‏۱۱-‏۱۵) «بُہتیرے» اُس سے کہیں گے کہ ہم نے تیرے نام سے «نبوت کی» یا «بدروحیں نکالیں» یا «بُہت سے معجزے» دِکھائے،‏ لیکن اُن کا اِحتجاج بے سود ہو گا۔ یسؔوع اُن سے «صاف» کہہ دے گا کہ «میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی» یعنی مَیں نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ تم میرے ہو۔

اِن آیات سے ہم جانتے ہیں کہ ہر ایک مُعجزہ خُدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور نہ تمام معجزے کرنے والوں کو خُدا نے بھیجا ہوتا ہے۔ معجزے کا مطلب صِرف اِتنا ہوتا ہے کہ کوئی فوق الفطرت قوت کام کر رہی ہے۔ یہ قوت خُدا کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے اور شیطان کی طرف سے بھی۔ شیطان اپنے کارندوں کو قوت دے سکتا ہے کہ عارضی طور پر بدروحوں کو نکال دیں اور یہ تاثر پیدا کریں کہ یہ مُعجزہ خُدا کی طرف سے ہے۔ ایسی صورت میں وُہ اپنی بادشاہی میں پھوٹ نہیں ڈالتا،‏ بلکہ سازِش کرتا ہے کہ مستقبل میں پہلے سے بھی زور دار حملہ کرے۔

ث۔ چٹان پر تعمیر کرنا (۷:‏۲۴-‏۲۹)

۷:‏۲۴،‏۲۵ وعظ کے آخر میں یسؔوع ایک تمثیل بیان کرتا ہے جِس سے فرماں برداری کا سبق پُوری طرح سمجھ میں آ جاتا ہے۔ اِن «باتوں» کو سن لینا ہی کافی نہیں بلکہ ضرور ہے کہ ہم اِن پر عمل بھی کریں۔ جو شاگرد یسؔوع کی باتیں «سنتا اور اُن پر عمل کرتا» ہے،‏ وُہ «اُس عقل مند آدمی کی مانند» ہے «جِس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا۔» اُس کے گھر کی بنیاد ٹھوس اور مضبوط ہے اور جب «مینہ» اور «آندھیاں» زور مارتی ہیں تو وُہ گرتا نہیں۔

۷:‏۲۶،‏۲۷ لیکن جو شخص یسؔوع کی «باتیں سنتا ہے اور اُن پر عمل نہیں کرتا،‏ وُہ اُس بے وقوف آدمی کی مانند» ہے «جِس نے اپنا گھر ریت پر بنایا۔» جب بدحالی اور مخالفت کی آندھیاں چلتی ہیں تو ایسا آدمی اُن کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔ جب «مینہ برسا اور … آندھیاں چلیں» تو وُہ گھر «گر گیا۔» اِس لئے کہ اُس کی بنیاد ٹھوس اور مضبوط نہ تھی۔

جو شخص پہاڑی وعظ کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارتا ہے،‏ دُنیا اُس کو «بے وقوف» مگر یسؔوع اُس کو «عقل مند آدمی» کہتا ہے۔ دُنیا اُس شخص کو عقل مند گردانتی ہے جو آنکھوں دیکھے کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ جو صِرف آج کے لئے اور صِرف اپنی ذات کے لئے جیتا ہے۔ تاہم یسؔوع ایسے شخص کو بے وقوف ٹھہراتا ہے۔ اِنجیل کے پیغام کی وضاحت اور تشریح کے لئے گھر بنانے والے عقل مند اور بے وقوف آدمی کی مثال دینا بالکُل موزوں اور مناسب ہے۔ عقل مند آدمی اپنا پورا بھروسا چٹان یعنی یسؔوع مسیح پر رکھتا ہے کیونکہ وُہ خُداوند اور نجات دہندہ ہے۔ بے وقوف آدمی توبہ کرنے اور یسؔوع مسیح کو اپنا واحد نجات دہندہ ماننے سے اِنکار کرتا ہے۔ لیکن اِس تمثیل کی تشریح ہمیں نجات سے بُہت آگے لے جاتی ہے اور بُتاتی ہے کہ نجات مسیحی کی زندگی کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔

۷:‏۲۸،‏۲۹ جب مسیح خُداوند نے اپنا پیغام ختم کیا تو لوگ بُہت «حیران» ہوئے۔ اگر ہم پہاڑی وعظ پڑھتے اور اِس کی اِنقلابی نوعیت پر حیران نہیں ہوتے تو ہم اِس کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔

لوگوں نے دیکھا کہ یسؔوع کی تعلیم فقیہوں کی تعلیم سے بالکُل فرق ہے۔ وُہ اِختیار کے ساتھ کلام کرتا تھا جب کہ فقیہوں کی باتیں ہر قِسم کی تاثیر سے خالی تھیں۔ وُہ آواز تھا،‏ جب کہ فقیہ محض بازگشت تھے۔ تین عِلما اِس پر یوں تبصرہ کرتے ہیں:‏

«یسؔوع کی تعلیم سے صاف نظر آتا تھا کہ وُہ شریعت کا بانی،‏ شارِح اور منصف ہے۔ یہ حقیقت اُس کی باتوں سے یوں جھلکتی تھی کہ اُس کے سامنے فقیہوں کی تعلیم ٹمٹماتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔»

کِتابِ مُقدّس

۱-۔ اُس وقت رُوح یِسُوعؔ کو جنگل میں لے گیا تاکہ اِبلِیس سے آزمایا جائے۔
۲-۔ اور چالِیس دِن اور چالِیس رات فاقہ کر کے آخِر کو اُسے بُھوک لگی۔
۳- ۔اور آزمانے والے نے پاس آ کر اُس سے کہا اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو فرما کہ یہ پتّھر روٹِیاں بن جائیں۔
۴- ۔اُس نے جواب میں کہا لِکھا ہے کہ آدمی صِرف روٹی ہی سے جِیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خُدا کے مُنہ سے نِکلتی ہے۔
۵-۔ تب اِبلِیس اُسے مُقدّس شہر میں لے گیا اور ہَیکل کے کنگُرے پر کھڑا کر کے اُس سے کہا کہ
۶-۔ اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو اپنے تئِیں نِیچے گِرا دے کیونکہ لِکھا ہے کہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حُکم دے گا اور وہ تُجھے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے اَیسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتّھر سے ٹھیس لگے۔
۷-۔ یِسُوعؔ نے اُس سے کہا یہ بھی لِکھا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کی آزمایش نہ کر۔
۸-۔ پِھر اِبلِیس اُسے ایک بُہت اُونچے پہاڑ پر لے گیا اور دُنیا کی سب سلطنتیں اور اُن کی شان و شوکت اُسے دِکھائی۔
۹-۔ اور اُس سے کہا اگر تُو جُھک کر مُجھے سِجدہ کرے تو یہ سب کُچھ تُجھے دے دُوں گا۔
۱۰-۔ یِسُوعؔ نے اُس سے کہا اَے شَیطان دُور ہو کیونکہ لِکھا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کو سِجدہ کر اور صِرف اُسی کی عبادت کر۔
۱۱-۔ تب اِبلِیس اُس کے پاس سے چلا گیا اور دیکھو فرشتے آ کر اُس کی خِدمت کرنے لگے۔
۱۲- ۔جب اُس نے سُنا کہ یُوحنّا پکڑوا دِیا گیا تو گلِیل کو روانہ ہُؤا۔
۱۳-۔ اور ناصرۃ کو چھوڑ کر کفرنحُوم میں جا بسا، جو جِھیل کے کنارے زبُولُون اور نفتالی کی سرحد پر ہے۔
۱۴–۔ تاکہ جو یسعیاہ نبی کی معرفت کہا گیا تھا وہ پُورا ہو کہ
۱۵-۔ زبُولُون کا عِلاقہ اور نفتالی کا عِلاقہ دریا کی راہ یَردن کے پار غَیر قَوموں کی گلِیل۔
۱۶- ۔یعنی جو لوگ اندھیرے میں بَیٹھے تھے اُنہوں نے بڑی رَوشنی دیکھی اور جو مَوت کے مُلک اور سایہ میں بَیٹھے تھے اُن پر رَوشنی چمکی۔
۱۷- ۔اُس وقت سے یِسُوعؔ نے مُنادی کرنا اور یہ کہنا شرُوع کِیا کہ تَوبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدِیک آ گئی ہے۔
۱۸-۔ اور اُس نے گلِیل کی جِھیل کے کنارے پِھرتے ہُوئے دو بھائِیوں یعنی شِمعُوؔن کو جو پطرسؔ کہلاتا ہے اور اُس کے بھائی اندرؔیاس کو جِھیل میں جال ڈالتے دیکھا کیونکہ وہ ماہی گِیر تھے۔
۱۹-۔ اور اُن سے کہا میرے پِیچھے چلے آؤ تو مَیں تُم کو آدم گِیر بناؤُں گا۔
۲۰ ۔وہ فوراً جال چھوڑ کر اُس کے پِیچھے ہو لِئے۔
۲۱۔ اور وہاں سے آگے بڑھ کر اُس نے اَور دو بھائِیوں یعنی زبدؔی کے بیٹے یعقُوبؔ اور اُس کے بھائی یُوحنّا کو دیکھا کہ اپنے باپ زبدؔی کے ساتھ کشتی پر اپنے جالوں کی مرمّت کر رہے ہیں اور اُن کو بُلایا۔
۲۲۔ وہ فوراً کشتی اور اپنے باپ کو چھوڑ کر اُس کے پِیچھے ہو لِئے۔
۲۳۔ اور یِسُوعؔ تمام گلِیل میں پِھرتا رہا اور اُن کے عِبادت خانوں میں تعلِیم دیتا اور بادشاہی کی خُوشخبری کی مُنادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بِیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دُور کرتا رہا۔
۲۴۔ اور اُس کی شُہرت تمام سُورؔیہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بِیماروں کو جو طرح طرح کی بِیمارِیوں اور تکلِیفوں میں گرِفتار تھے اور اُن کو جِن میں بدرُوحیں تِھیں اور مِرگی والوں اور مفلُوجوں کو اُس کے پاس لائے اور اُس نے اُن کو اچّھا کِیا۔
۲۵۔ اور گلِیل اور دکُپُلس اور یروشلِیم اور یہُودیہ اور یَردن کے پار سے بڑی بِھیڑ اُس کے پِیچھے ہو لی۔