۱۲۔ بادشاہ کا پیش کیا جانا اور ردّ کیا جانا (ابواب ۲۱-۲۳)
الف۔ فاتحانہ داخلہ (۲۱:۱-۱۱)
۲۱:۱-۳ یریحو سے نکلے تو یسؔوع «زیتون کے پہاڑ» کی مشرقی طرف پہنچا جہاں بیت عنیاہ اور «بیت فگے» واقع تھے۔ یہاں سے سڑک زیتون کے پہاڑ کے گرد جنوب کو گھومتؔی اور یہوسفط کی وادی میں اُترتی تھی۔ پھر قدرون کے نالے کو عبور کر کے اوپر کو چڑھتی ہوئی «یروشلیم» تک جاتی تھی۔
یسؔوع نے «دو شاگردوں» کو بیت عنیاہ بھیجا۔ اِنہیں پہلے سے بُتا دیا کہ «وُہاں گدھی بَندھی ہوئی اور اُس کے ساتھ بچہ پائو گے۔» اِنہیں کہا کہ اِن جانوروں کو «کھول کر میرے پاس لے آئو۔» اگر کوئی تمہارے اِس کام کو چیلنج کرے تو اِنہیں بُتانا کہ «خُداوند کو اِن کی ضُرورتہے۔» اِس پر مالک رضامند ہو جائے گا۔ شاید مالک یسؔوع کو جانتا تھا اور اُس نے پہلے کِسی وقت مدد کرنے کی پیش کش کی ہو گی۔ مگر یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ خُداوند عالمِ کل ہے اور اعلیٰ ترین اِختیار کا مالک ہے۔ تمام باتیں یسؔوع کے بُتانے کے مطابق رُونما ہوئیں۔
۲۱:۴،۵ اِن جانوروں کو استعمال کرنے سے زِکریاہ اور یسَعیاہ نبی کی پیش گوئیاں پُوری ہوئیں کہ صیون کی بیٹی سے کہو کہ
دیکھ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے
وُہ حلیم ہے اور گدھے پر سوار ہے
بلکہ لادُو کے بچہ پر۔
۲۱:۶ «شاگردوں نے» اپنے کپڑے اُن جانوروں پر ڈال دیئے تو یسؔوع گدھی کے بچے پر سوار ہو گیا (مرقسؔ ۱۱:۷) اور یروشلؔیم کو روانہ ہُوا۔ یہ بُہت تاریخی لمحہ تھا۔ دانی ایل کی نبوت کے اُنہتر ہفتے اب ختم ہو گئے تھے۔ اِس «کے بعد وُہ ممسوح قتل کیا جائے گا» (دانی ایل ۹:۲۶)۔
اِس طرح سوار ہو کر یروشلؔیم میں داخل ہونے سے خُداوند نے دانستہ اور کھلم کھلا دعویٰ کیا کہ مَیں مسیحِ مَوعُود ہوں۔ لینگ (Lang) متوجہ کرتا ہے کہ
«یسؔوع نے دانستہ وُہ پیش گوئی پُوری کی جِس کے بارے میں اُن دنوں یہ اتفاقِ رائے پایا جاتا تھا کہ یہ مسیحِ مَوعُود کے متعلق ہے۔ پہلے وُہ اپنے مُرتبے کے بارے میں اعلان کو خطرناک سمجھتا تھا لیکن اب وُہ خاموشی کو ناقابلِ تصور شمار کرتا ہے۔ اِس واقعے کے بعد یہ کہنا قطعی ناممکن ہو گیا کہ اُس نے اپنے بارے میں کبھی صریح طور سے اعلان نہیں کیا۔ بعد کے زمانے میں جب یروشلؔیم پر مسیحِ مَوعُود کو قتل کر ڈالنے کا الزام لگایا جاتا، تو وُہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ مسیحِ مَوعُود نے کوئی ایسا نشان ہی نہیں دیا تھا جِسے سب لوگ پہچان سکتے۔»
۲۱:۷،۸ لوگوں نے اُس کی راہ میں «کپڑوں» اور «کھجور کی ڈالیوں» کا گویا قالین بچھا دیا تھا جِس پر سے گزرتا ہُوا وُہ یروشلؔیم کو جا رہا تھا۔ لوگوں کے نعرے اُس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
۲۱:۹ «بھیڑ … پکار پکار کر کہتی تھی، ابنِ داؔؤدکو ہوشعنا! مبارک ہے وُہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے۔» زبُور ۱۱۸:۲۵،۲۶ کے اِس اِقتباس کا اِطلاق واضح طور پر مسیحِ مَوعُود کی آمد پر ہوتا ہے۔ «ہوشعنا» کا اصل مطلب ہے «ابھی نجات دے»۔ شاید لوگوں کا مطلب تھا کہ ’ہمیں ظالم رؔومیوں سے نجات دے‘۔ بعد کے زمانے میں یہ اِصطلاح حمد و ستائش کی پکار بن گئی۔ «ابنِ دائود» اور «مبارک ہے وُہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے» اِن اِصطلاحوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اُسے مسیحِ مَوعُود تسلیم کر رہے تھے کہ یہی وُہ مبارک ہستی ہے جو یہوواہ کے اِختیار سے اُس کی مرضی کو پورا کرنے کے لئے آ رہی ہے۔ مرقسؔ کے بیان میں لوگوں کے نعروں میں سے ایک اَور نعرہ قلم بَند کیا گیا ہے کہ «مبارک ہے ہمارے باپ داؔؤدکی بادشاہی جو آ رہی ہے» (مرقسؔ ۱۱:۱۰)۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کو خیال تھا کہ بادشاہی ابھی قائم ہو گی جِس میں یسؔوع تخت پر بیٹھے گا۔ «عالمِ بالا پر ہوشعنا» پکارنے سے بھیڑ گویا آسمان کو پکار رہی تھی کہ مسیحِ مَوعُود کی حمد و ثنا میں زمین کے ساتھ شامِل ہو۔ یا اُسے پکار رہی تھی کہ عرشِ معلی سے ہمیں نجات دے۔
مرقسؔ ۱۱:۱۱ میں مرقسؔ تحریر کرتا ہے کہ یروشلؔیم میں داخل ہونے پر یسؔوع ہیکل میں گیا۔ ہیکل کے اندر نہیں بلکہ صحن میں۔ عام خیال کے مطابق یہ خُدا کا گھر تھا۔ لیکن یسؔوع کو وُہاں سکون نہیں تھا کیونکہ کاہن اور لوگ اُس کو اُس کا جائز مقام دینے سے اِنکار کرتے تھے۔ مختصر سا جائزہ لینے کے بعد نجات دہندہ اپنے بارہ شاگردوں کے ہمراہ بیت عنیاہ چلا گیا۔ یہ اتوار کی شام تھی۔
۲۱:۱۰،۱۱ اِس عرصے میں شہر کے اندر اُس کی شناخت کے بارے میں حیرانی اور گھبراہٹ تھی۔ جن لوگوں نے اُس کے بارے میں دریافت کیا اُن کو صِرف اِتنا بُتایا گیا کہ «یہ گلیل کے ناصرت کا نبی یسؔوع ہے۔» اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی نہ سمجھ سکا تھا کہ وُہ مسیحِ مَوعُود ہے۔ ایک ہفتہ بھر کے اندر یہی متلون مزاج بھیڑ پکارنے لگے گی کہ «اُسے صلیب دے! اُسے صلیب دے!»
ب۔ ہیکل کو پاک صاف کرنا (۲۱:۱۲،۱۳)
۲۱:۱۲ اپنی علانیہ خدمت کے آغاز میں یسؔوع نے ہیکل کے اِرد گرد کو کاروباری سرگرمیوں سے پاک صاف کیا تھا (یُوحناؔ ۲:۱۳-۱۶) لیکن ہیکل کے بیرونی صحن میں مقرر سے زیادہ محصول لینے اور منافع خوری نے پھر سر اُٹھا لیا تھا۔ قربانی کے جانور اور پرندے وُہاں لائے جاتے اور اِنتہائی مہنگے داموں بیچے جاتے تھے۔ «صراف» دوسرے سِکوں کو نیم مثقال میں تبدیل کرتے تھے کیونکہ یہُودی مردوں کو ہیکل میں خاص محصول کے طور پر سالانہ نیم مثقال ادا کرنا ہوتا تھا۔ صراف اِس تبادِل ۂ زَر میں شرح سے زیادہ وصول کرتے تھے۔ اب جب کہ یسؔوع کی خدمت اِختتام کو پہنچ رہی تھی، اُس نے اُن سب کو وُہاں سے باہر نکال دیا جو اِن سرگرمیوں کے وسیلے سے منافع کماتے تھے۔
۲۱:۱۳ یسؔوع نے یسَعیاہ اور یرمیاہ سے اِقتباس کرتے ہوئے ہیکل کو ناپاک کرنے، تجارتی کاروبار اور نامِلنساری کی مذمت کی۔ یسَعیاہ ۵۶:۷ سے اِقتباس دے کر اُس نے یاد دِل ایا کہ ہیکل «دُعا کا گھر» ہے۔ مگر اُنہوں نے اُسے «ڈاکوئوں کی کھوُہ» بنا دیا تھا (یرمیاہ ۷:۱۱)۔
ہیکل کا یہ پاک صاف کرنا یروشلؔیم میں داخل ہونے کے بعد یسؔوع کا پہلا کام تھا۔ اِس طرح اُس نے صاف صاف واضح کر دیا کہ مَیں ہیکل کا مالک ہوں۔
اِس واقعے میں آج ہمارے لئے دو سبق موجود ہیں۔ اپنی کلیسیائی زندگی میں ہمیں بھی اُس کی پاک صاف کرنے کی قُدرت کی ضُرورتہے تاکہ بازار اور کھانے کی دعوتیں اور پیسہ بٹورنے کی اِسی قِسم کی اَور سبَیلوں کو نکال باہر کریں۔ اور اپنی شخصی زندگی میں اِس بات کی ضُرورتہے کہ مسیح ہمیں مسلسل پاک کرتا جائے کیونکہ ہمارے بدن بھی اُس کی ہیکل ہیں۔
ج۔ کاہنوں اور فقیہوں کا غصہ (۲۱:۱۴-۱۷)
۲۱:۱۴ اگلے منظر میں ہم مسیح خُداوند کو ہیکل کے صحن میں «اندھوں اور لنگڑوں» کو شفا دیتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جہاں کہیں وُہ جاتا، محتاج اور ضُرورتمند لوگ اُس کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔ اور وُہ اُن کی ضروریات پُوری کئے بغیر اُن کو لوٹاتا نہ تھا۔
۲۱:۱۵،۱۶ لیکن مخالفوں کی آنکھیں بھی اُس پر لگی رہتی تھیں۔ جب اُن «سردار کاہنوں اور فقیہوں نے … لڑکوں کو … ابنِ داؔؤدکو ہوشعنا پکارتے دیکھا» تو نہایت خفا ہوئے۔
وُہ آ کر یسؔوع سے کہنے لگے «تُو سنتا ہے کہ یہ کیا کہتے ہیں؟» گویا وُہ چاہتے تھے کہ یسؔوع اُن لڑکوں کو اُسے مسیحِ مَوعُود کہہ کر پکارنے سے منع کر دے۔ اگر یسؔوع مسیحِ مَوعُود نہ ہوتا تو یہ نہایت موزوں موقع تھا کہ وُہ ایسا کہہ دیتا اور ہمیشہ کے لئے فیصلہ ہو جاتا، مگر اُس کے جواب نے ثابُت کر دیا کہ بچے درست کہہ رہے تھے۔ اُس نے ہفتادی ترجمے میں سے زبُور ۸:۲ کا حوالہ دیا کہ «بچوں اور شیر خواروں کے منہ سے تُو نے حمد کو کامِل کرایا۔» اگر یہ مبینہ عالم کاہن اور فقیہ اُس کی بحیثیت المسیح حمد اور ثنا نہیں کرتے تو پھر چھوٹے بچے خُداوند کی حمد کریں گے۔ بعض اوقات بچے اپنی عمر سے بڑھ کر روحانی بصیرت رکھتے ہیں اور اُن کے ایمان اور محبُت بھرے الفاظ سے خُداوند کے نام کو غیر معمولی جلال ملتا ہے۔
۲۱:۱۷ یسؔوع نے ان مذہبی لیڈروں کو چھوڑ دیا کہ اِس سچائی پر غور کرتے رہیں اور خود «بیت عنیاہ میں گیا اور رات کو وُہیں رہا۔»
د۔ انجیر کا بے پھل درخت (۲۱:۱۸-۲۲)
۲۱:۱۸،۱۹ «صبح کو» خُداوند یروشلؔیم کو واپس آ رہا تھا کہ اُس نے انجیر کا ایک درخت دیکھا۔ وُہ «اُس کے پاس گیا» مگر اپنی بھوک مٹانے کے لئے اُس میں کوئی پھل نہ پایا۔ اُس پر «پتوں کے سوا … کُچھ نہ» تھا۔ چنانچہ خُداوند نے اُس درخت سے کہا کہ «آئندہ تجھ میں کبھی پھل نہ لگے» «اور انجیر کا درخت اُسی دم سوکھ گیا۔»
مرقسؔ کے بیان (۱۱:۱۲-۱۴) میں بُتایا گیا ہے کہ انجیر کا موسم نہ تھا۔ اِس لئے نجات دہندہ کا اُس پر لعنت بھیجنا غیر معقول اور بد مزاجی پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ نجات دہندہ کے بارے میں ایسا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تو پھر مسئلے کا حل کیا ہے؟
سر زمینِ بائبل میں انجیر کے درختوں پر کھانے کے لائق کُچھ پھل پہلے آتے ہیں اور پتے بعد میں نکلتے ہیں۔ یہ اصل فصل کے پیش رَو ہوتے ہیں۔ اگر یہ اگیتے انجیر نہ لگیں تو مطلب ہوتا ہے کہ بعد میں باقاعدہ پھل بھی نہیں آئیں گے۔
یہ واحد مُعجزہ ہے جِس میں مسیح نے برکت دینے کے بجائے لعنت کی اور زندگی کو بحال کرنے کے بجائے ہلاک کر دیا۔ یہ بات ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ لیکن اِس قِسم کی تنقید سے مسیح کی ذات کے بارے میں بے عِلمی کا اِظہار ہوتا ہے۔ وُہ خُدا ہے اور کائنات پر اِختیارِ کُلی رکھتا ہے۔ اُس کے بعض کام ہمارے لئے نہایت پُر اَسرار ہیں۔ لیکن ہمیں اِس یقین کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے کہ اُس کے سارے کام دُرست ہوتے ہیں۔ اِس واقعے میں خُداوند جانتا تھا کہ یہ درخت کبھی پھل نہیں لائے گا۔ اور اُس نے وُہی کام کیا جو ایک کاشت کار یا باغبان بے پھل درخت کو باغ سے اُکھاڑ نکالنے میں کرتا ہے۔
جو لوگ ہمارے خُداوند پر نکتہ چینی کرتے ہیں کہ اُس نے درخت پر لعنت کی وُہ بھی مانتے ہیں کہ یہ عَلامت ؔی عمل تھا۔ اِس واقعے سے نجات دہندہ نے اُس ہنگامہ خیز خیر مقدم کی تشریح کر دی جو اُسے یروشلؔیم میں داخلے کے وقت ملا تھا۔ انگور اور زیتون کے درخت کی طرح انجیر کا درخت بھی اسرائیلی قوم کی نمائندگی کرتا ہے۔ یسؔوع قوم کے پاس آیا تو اُس میں صِرف پتے ہی پتے تھے یعنی قوم صِرف دعویٰ کرتی تھی، لیکن خُدا کے لئے اُس میں کوئی پھل نہیں تھا جب کہ یسؔوع قوم سے پھل کا بھوکا تھا۔
چونکہ اُن میں اگیتا پھل موجود نہیں تھا اِس لئے خُداوند جانتا تھا کہ اِن بے اعتقاد لوگوں میں بعد میں بھی پھل پیدا نہیں ہو گا۔ چنانچہ اُس نے بے پھل انجیر پر لعنت بھیجی۔ اِس طرح اُس غضب کی تصویر سامنے آ گئی جو ۷۰ء میں قوم پر نازل ہونے کو تھا۔
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ بے اعتقاد (ایمان نہ لانے والے) اِسرائیلی ہمیشہ بے پھل رہیں گے۔ مگر قوم کا ایک بقیہ وُہ بھی ہے جو فضائی اِستقبال کے بعد کے زمانے میں مسیحِ مَوعُود کی طرف پھرے گا۔ وُہ بڑی مصیبُت کے ایام اور ہزار سالہ بادشاہی کے دوران پھل لائیں گے۔
اگرچہ اِس حصے کی اِبُتدائی تشریح کا تعلق اِسرائیل قوم کے ساتھ ہے مگر اِس کا اطلاق ہر زمانے کے لوگوں پر ہوتا ہے جو باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں مگر اُس کے ساتھ ساتھ نہیں چلتے۔
۲۱:۲۰-۲۲ جب «شاگردوں نے» درخت کے یوں ایک دَم سوکھ جانے پر تعجب کا اِظہار کیا تو خُداوند نے اِنہیں کہا کہ «اگر ایمان رکھو» تو اِس سے بھی بڑے بڑے معجزے کرو گے۔ مثلاً پہاڑ سے کہو گے کہ « تُو اُکھڑ جا اور سمندر میں جا پڑ» تو ایسا ہی ہو گا۔ «اور جو کُچھ دُعا میں ایمان کے ساتھ مانگو گے، وُہ سب تم کو ملے گا۔»
ہمیں پھر کہنا پڑتا ہے کہ دُعا کے بارے میں اِن غیر مشروط وعدوں کو اِس موضوع پر بائبل مُقدس کی پُوری تعلیم کی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔ آیت ۲۲ کا یہ مطلب نہیں کہ ہر مسیحی جو چاہے سو مانگ سکتا ہے تو اُسے ملے گا بلکہ اُسے اُن شرائط کے مطابق مانگنا چاہئے جو بائبل مُقدس نے عائد کر رکھی ہیں۔
ہ۔ یسؔوع کے اِختیار پر اعتراض کیا جاتا ہے (۲۱:۲۳-۲۷)
۲۱:۲۳ جب یسؔوع ہیکل کے بیرونی صحن میں آیا تو «سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے» اُسے تعلیم دینے سے روک کر پوچھا کہ تعلیم دینے اور معجزے کرنے اور ہیکل کو پاک صاف کرنے کا اِختیار تجھے «کس نے دیا ہے؟» اُن کا خیال تھا کہ کُچھ بھی جواب دے، ہم اُسے پھانس لیں گے۔ اگر وُہ کہتا ہے کہ خُدا کا بیٹا ہونے کے باعث مجھے خود ہی اِختیار حاصل ہے تو وُہ اُس پر کفر کا الزام لگا سکتے تھے۔ اگر وُہ کہتا کہ یہ اِختیار آدمیوں کی طرف سے ہے تو وُہ اُسے جھوٹا ٹھہرانے کی کوشِش کرتے۔ اگر کہتا کہ یہ اِختیار خُدا کی طرف سے ہے تو وُہ اُسے چیلنج کر سکتے تھے کہ اِسے ثابُت کر۔ وُہ اپنے آپ کو عقیدے کے محافظ سمجھتے تھے کیونکہ وُہ عِلم اِلٰہی کے تربیت یافتہ تھے جنہیں اِنسانوں نے باقاعدہ مقرر کیا تھا اور اِختیار دیا تھا کہ لوگوں کی دینی اُمور میں راہنمائی کریں۔ یسؔوع نے نہ تو باقاعدہ تعلیم پائی تھی، اور نہ اُسے بنی اِسرائیل کے سرداروں نے اَسناد جاری کی تھیں۔ اُن کے چیلنج سے صدیوں پرانی اُس خفگی اور ناراضی کا اِظہار ہوتا ہے جو پیشہ ور مذہب پرست اُن افراد کے خلاف ظاہر کرتے آئے ہیں جو خُدا کی قُدرت سے مسح ہو کر کام کرتے ہیں۔
۲۱:۲۴،۲۵ یسؔوع نے یہ پیش کش کی کہ مَیں اپنے اِختیار کے بارے میں اِس صورت میں بیان کرنے کو تیار ہوں کہ تم بھی میرے ایک سوال کا جواب دو۔ سوال یہ ہے کہ «یُوحناؔ کا بپتسمہ کہاں سے تھا؟ آسمان کی طرف سے یا اِنسان کی طرف سے؟» یُوحناؔ کے «بپتسمہ» کا مطلب ہے یُوحناؔ کی «خدمت»۔ مراد یہ ہوئی کہ یُوحناؔ کو خدمت کا اِختیار کس نے دیا تھا؟ کیا اُس کا تقرر اِنسان کی طرف سے ہُوا تھا یا خُدا کی طرف سے؟ اِسرائیلی قوم کے لیڈروں نے اُسے کون سی سند دی تھی؟ جواب تو صاف ظاہر تھا۔ یُوحناؔ کو خُدا نے بھیجا تھا۔ اُس کو اِختیار خُدا کی طرف سے عطا ہُوا تھا، اِنسان کے دستخطوں سے نہیں ملا تھا۔
اب قوم کے یہ سردار ایک مخمصے میں پھنس گئے۔ اگر وُہ کہتے کہ یُوحناؔ خُدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا تو خود پھنستے تھے۔ یُوحناؔ لوگوں کو بُتاتا رہا تھا کہ یسؔوع ہی مسیحِ مَوعُود ہے۔ اگر یُوحناؔ کا اِختیار خُدا کی طرف سے تھا تو اُنہوں نے کیوں توبہ نہ کی اور کیوں مسیح پر ایمان نہ لائے؟
۲۱:۲۶ اِس کے برعکس اگر وُہ کہتے کہ یُوحناؔ کو خُدا نے مقرر نہیں کیا تھا، تو اُن کی حیثیت ایسی ہو جاتی کہ سارے لوگ اُن سے خفا ہونے لگتے کیونکہ اکثریت اِس بات پر متفق تھی کہ «یُوحناؔ» خُدا کی طرف سے «نبی» تھا۔ اگر وُہ صحیح جواب دیتے کہ یُوحناؔ کو خُدا نے بھیجا تھا تو اُن کو خود ہی اپنے سوال کا جواب مل جاتا۔ یسؔوع وُہی مسیحِ مَوعُود تھا یُوحناؔ جِس کا پیش رَو تھا۔
۲۱:۲۷ چنانچہ اُنہوں نے حقائق کا سامنا کرنے سے اِنکار کر دیا اور کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے۔ ہم یُوحناؔ کے اِختیار کے سرچشمے کے بارے میں کُچھ نہیں بُتا سکتے۔ اِس پر یسؔوع نے کہا کہ « مَیں بھی تم کو نہیں بُتاتا کہ اِن کاموں کو کس اِختیار سے کرتا ہوں۔» وُہ اِنہیں وُہ بات کیوں بُتاتا جِسے وُہ پہلے ہی جانتے تھے، لیکن تسلیم کرنا نہیں چاہتے تھے۔
و۔ دو بیٹوں کی تمثیل (۲۱:۲۸-۳۲)
۲۱:۲۸-۳۰ سردار کاہن اور قوم کے بزرگ یُوحناؔ کی ایمان اور توبہ کی بلاہٹ کو ماننے سے اِنکاری تھے۔ یہ تمثیل اُن کے لئے ملامت کے نشتر کی حیثیت رکھتی ہے۔ یسؔوع نے بیان کیا کہ «ایک آدمی کے دو بیٹے تھے۔» اُن سے کہا گیا کہ جا کر «تاکستان» میں «کام» کریں۔ ایک نے اِنکار کیا مگر بعد میں اُس نے اِرادہ بدِل ا اور جا کر کام کرنے لگا۔ دوسرے نے جانے کا وعدہ کیا مگر گیا نہیں۔
۲۱:۳۱،۳۲ جب یسؔوع نے پوچھا کہ «اِن دونوں میں سے کون اپنے باپ کی مرضی بجا لایا؟» تو مذہبی لیڈروں نے کہا «پہلا» اور یوں نادانستہ اپنے اُوپر الزام لگایا۔
پھر خُداوند نے اِس تمثیل کا مطلب بیان کیا۔ «محصول لینے والے اور کسبیاں» پہلے بیٹے کی مانند ہیں۔ اُنہوں نے فوری طور پر یُوحناؔ بپتسمہ لینے والے کے پیغام پر عمل نہ کیا، لیکن بالآخر اُن میں سے بہُتوں نے توبہ کی اور یسؔوع پر ایمان لے آئے۔ مذہبی لیڈر دوسرے بیٹے کی مانند تھے۔ اُنہوں نے ظاہر تو کیا کہ ہم یُوحناؔ کی منادی کو درست تسلیم کرتے ہیں، لیکن اُنہوں نے اپنے گُناہ وں سے ہرگز توبہ نہ کی، نہ پر ایمان لائے۔ اِس لئے جو سر تا پا گنہگار تھے، وُہ تو خُدا کی بادشاہی میں داخل ہو گئے، لیکن اپنے آپ سے مطمئن مذہبی لیڈر باہر رہ گئے۔ آج بھی معاملہ یہی ہے۔ اقبالی گنہگار خوشخبری کو بڑے شوق سے قبول کرتے ہیں جب کہ جھوٹی اور رسمی خُدا پرستی کا نقاب اوڑھنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
یسؔوع نے کہا کہ «یُوحناؔ راست بازی کے طریق پر تمہارے پاس آیا» یعنی وُہ اِس بات کی منادی کرتا ہُوا آیا کہ توبہ اور ایمان کے وسیلے سے راست بازی کی ضُرورتہے۔
ز۔ تاکستان کے شریر ٹھیکے داروں کی تمثیل (۲۱:۳۳-۴۶)
۲۱:۳۳-۳۹ اپنے اِختیار کے بارے میں سوال کا مزید جواب دینے کے لئے یسؔوع نے ایک اَور تمثیل سنائی کہ «ایک مالک نے تاکستان لگایا اور اُس کی چاروں طرف احاطہ گھیرا اور اُس میں حوض کھودا اور بُرج بنایا۔ اور اُسے باغبانوں کو ٹھیکے پر دے کر پردیس چلا گیا»۔ «پھل کے موسم» میں اُس نے فصل میں سے اپنا حصہ لینے کے لئے «اپنے نوکروں کو … بھیجا۔» لیکن ٹھیکے داروں نے نوکروں کو پکڑ کر «کِسی کو پیٹا اور کِسی کو قتل کیا اور کِسی کو سنگسار کیا۔» پھر اُس نے «اور نوکروں کو بھیجا۔» اُن کے ساتھ بھی وُہی سلوک ہُوا۔ تیسری دفعہ اُس نے «اپنے بیٹے کو اُن کے پاس … بھیجا۔» اُس کا خیال تھا کہ ٹھیکے دار «میرے بیٹے کا تو لحاظ کریں گے۔» وُہ اچھی طرح جانتے تھے کہ «یہی وارث ہے۔» چنانچہ «میراث پر قبضہ» کرنے کے ارادے سے اُسے «قتل کر دیا۔»
۲۱:۴۰،۴۱ تمثیل کے اِس نکتے پر خُداوند نے کاہنوں اور بزرگوں سے پوچھا کہ مالک اُن ٹھیکے داروں کے ساتھ «کیا کرے گا؟» اُنہوں نے جواب دیا کہ «اُن بدکاروں کو بُری طرح ہلاک کرے گا اور تاکستان کا ٹھیکہ دوسرے باغبانوں کو دے گا جو موسم پر اُس کو پھل دیں۔»
اِس تمثیل کی تشریح کرنا مشکل نہیں۔ مالک خُدا ہے، تاکستان بنی اِسرائیل ہیں (زبُور ۸۰:۸؛ یسَعیاہ ۵:۱-۷؛ یرمیاہ ۲۰:۲۱)۔ اِرد گرد باڑ یا اِحاطہ مُو سؔیٰ کی شریعت ہے جو بنی اِسرائیل کو غیر قوموں سے جدا کرتی اور اُن کو خُداوند کے لئے مخصوص قوم کی حیثیت سے محفوظ رکھتی تھی۔ حوض جِس میں مَے جمع ہوتی تھی سے مراد وُہ پھل ہے جو بنی اِسرائیل کو خُدا کے لئے پیدا کرنا چاہئے تھا۔ بُرج سے مراد قوم کے لئے یہوواہ کی نگہبانی اور محافظت ہے اور باغبان یا ٹھیکے دار سردار کاہن اور فقیہ ہیں۔
خُدا بار بار اپنے خادم اور نبی بھیجتا رہا اور اپنی قوم بنی اِسرائیل میں رفاقت و شراکت، پاکیزگی اور محبُت کا پھل تلاش کرتا رہا۔ مگر قوم نبیوں کو ستاتی اور اُن میں سے بعض کو قتل کرتی رہی۔ بالآخر خُدا نے یہ کہتے ہوئے اپنے بیٹے کو بھیجا کہ «وُہ میرے بیٹے کا تو لحاظ کریں گے» (آیت ۳۷)۔ سردار کاہن اور فقیہ کہنے لگے «یہی وارث ہے۔» کیسا مُہلک اِقبال تھا! وُہ آپس میں علیٰحدگی میں تو کہتے تھے کہ یسؔوع خُدا کا بیٹا ہے (مگر علانیہ اُس کا اِنکار کرتے تھے)۔ چنانچہ اُنہوں نے اُس کے اِختیار کے بارے میں سوال کا خود ہی جواب دے دیا۔ اُس کا اِختیار اِس حقیقت میں تھا کہ وُہ خُدا کا بیٹا ہے۔
تمثیل میں اُن کے حوالے سے بیان ہُوا ہے کہ اُنہوں نے کہا کہ «یہی وارث ہے۔ آئو اِسے قتل کر کے اِس کی میراث پر قبضہ کر لیں» (آیت ۳۸)۔ مزید یہ کہ «اگر ہم اِسے یونہی چھوڑ دیں تو سب اِس پر ایمان لے آئیں گے اور رؔومی آ کر ہماری جگہ اور قوم دونوں پر قبضہ کر لیں گے» (یُوحناؔ ۱۱:۴۸)۔ چنانچہ اُنہوں نے اُسے ردّ کر دیا۔ باہر پھینک دیا اور مصلوب کر دیا۔
۲۱:۴۲ جب نجات دہندہ نے اُن سے پوچھا کہ تاکستان کا مالک کیا کرے گا تو اپنے جواب سے اُنہوں نے خود کو مجرم ٹھہرایا جیسا کہ وُہ آیات ۴۲ اور ۴۳ میں کہتا ہے۔ اُس نے زبُور ۱۱۸:۲۲ سے اِقتباس کیا کہ «جِس پتھر کو معماروں نے ردّ کیا وُہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ یہ خُداوند کی طرف سے ہُوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔» جب پتھر یعنی مسیح نے اپنے آپ کو معماروں یعنی اِسرائیل کے لیڈروں کے سامنے پیش کیا تو اُن کے تعمیراتی منصوبوں میں اُس کے لئے جگہ نہ تھی۔ اُنہوں نے اُسے بیکار قرار دے کر ایک طرف پھینک دیا۔ لیکن اپنی موت کے بعد وُہ مُردوں میں سے جی اُٹھا اور خُدا نے اُسے فوقیت اور نمایاں جگہ دی۔ وُہ خُدا کی عمارت میں اعلیٰ ترین جگہ میں لگایا گیا ہے۔ «اِسی واسطے خُدا نے بھی اُسے بُہت سر بلند کیا اور اُسے وُہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے» (فلپیوں ۲:۹)۔
۲۱:۴۳ اب یسؔوع نے علانیہ کہا کہ «خُدا کی بادشاہی» بنی اِسرائیل سے «لے لی جائے گی اور اُس قوم کو جو اُس کے پھل لائے دے دی جائے گی۔» اور ایسا ہی ہُوا۔ برگزیدہ قوم بنی اِسرائیل کو فی الحال برطرف اور اَندھا کر دیا گیا ہے۔ جِس نسل نے مسیحِ مَوعُود کو ردّ کر دیا تھا، اُسے سخت دِل کر دیا ہے۔ یہ نبوت کہ «خُدا کی بادشاہی … اُس قوم کو جو اُس کے پھل لائے دے دی جائے گی» دُہرا مفہُوم رکھتی ہے:(۱) کلیسیا، جو ایمان لانے والے یہُودی وں اور غیر قوم افراد پر مشتمل ہے۔ «مُقدس قوم اور … خُدا کی خاص ملکیت ہے» (۱۔پَطرسؔ ۲:۹)۔ (۲) بنی اِسرائیل کا وُہ حصہ جو ایمان لایا اور اُس کی دُوسری آمد کے وقت زمین پر زندہ موجود ہو گا۔ مخلصی یافتہ اِسرائیل خُدا کے لئے پھل لائے گا۔
۲۱:۴۴ «اور جو اِس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، لیکن جِس پر وُہ گرے گا اُسے پیس ڈالے گا۔» آیت کے پہلے حصے میں پتھر زمین پر ہے دوسرے حصے میں وُہ اُوپر سے اُتر رہا ہے۔ یہ بات مسیح کی دو آمدوں کا پتا دیتی ہے۔ جب وُہ پہلی دفعہ آیا تو یہُودی لیڈروں نے اُس سے ٹھوکر کھائی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ جب وُہ دوبارہ آئے گا تو عدالت کرنے کو اُترے گا اور اپنے دشمنوں کو دُھول کی طرح بکھیر دے گا۔
۲۱:۴۵،۴۶ سردار کاہن اور فریسی سمجھ گئے کہ اِن تماثیل کا براہِ راست نشانہ ہم ہیں اور مسیح نے اپنے اِختیار کے بارے میں ہمارے سوال پر ہمیں نشانہ بنایا ہے۔ چنانچہ وُہ چاہتے تھے کہ اُسے اُسی وقت پکڑ لیں «لیکن لوگوں سے ڈرتے تھے کیونکہ وُہ اُسے نبی جانتے تھے۔»
ح۔ شادی کی ضیافت کی تمثیل (۲:۱-۱۴)
۲۲:۱-۶ یسؔوع نے ابھی سردار کاہنوں اور فریسیوں کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ اب اُس نے شادی کی ضیافت کی تمثیل سنائی جِس میں یہ تصویر پیش کی کہ برگزیدہ بنی اِسرائیل کو برطرف کر دیا گیا ہے اور حقیر اور قابلِ نفرت سمجھے جانے والے غیر قوم لوگ میز پر مہمان ہیں۔ اُس نے «آسمان کی بادشاہی» کو «اُس بادشاہ کی مانند» قرار دیا «جِس نے اپنے بیٹے کی شادی» کی ضیافت کی۔ دعوت دو مرحلوں میں دی گئی۔ پہلے پیشگی دعوت جو نوکروں نے ذاتی طور پر پہنچائی اور مدعوین نے آنے سے صاف اِنکار کر دیا۔ دُوسری دفعہ اعلان کیا گیا کہ ضیافت تیار ہے۔ بعض مدعوین نے اِس کی حقارت کی کہ ہم اپنے کھیتوں اور کاروبارِ زندگی میں اِتنے مصروف ہیں کہ آ نہیں سکتے۔ دوسروں نے نہایت شدید ردِّ عمل دِکھایا۔ اُنہوں نے «نوکروں کو پکڑ کر بے عزت کیا اور مار ڈالا۔»
۲۲:۷-۱۰ اب بادشاہ «غضب ناک ہُوا اور اُس نے … اُن خونیوں کو ہلاک کر دیا اور اُن کا شہر جلا دیا۔» اُس نے مدعوین کی پہلی فہرست کو پھاڑ ڈالا اور دعوتِ عام دے دی کہ جو آنا چاہے آئے۔ اِس دفعہ شادی کے ہال میں ایک نشست بھی خالی نہ رہی۔
۲۲:۱۱-۱۳ البُتہ «مہمانوں» کے درمیان ایک ایسا آدمی بھی موجود تھا «جو شادی کے لباس میں نہ تھا۔» مالک نے اُسے ٹوکا کہ تم اِس ضیافت میں شامِل ہونے کے لائق نہیں تو وُہ مہمان کوئی جواب نہ دے سکا۔ «اُس کا منہ بَند ہو گیا۔» بادشاہ نے حُکم دیا کہ اُس کے ہاتھ پائوں باندھ کر باہر اندھیرے میں ڈال دیا جائے جہاں «رونا اور دانت پیسنا ہو گا۔»
۲۲:۱۴ مسیح خُداوند نے اِن الفاظ کے ساتھ تمثیل کو ختم کیا کہ «کیونکہ بلائے ہوئے بُہت ہیں مگر برگزیدہ تھوڑے۔»
جہاں تک اِس تمثیل کے مطلب کا تعلق ہے تو بادشاہ خُدا ہے۔ اور اُس کا بیٹا خُداوند یسؔوع ہے۔ شادی کی ضیافت اُس خوشی کے جشن کی نمائندگی کرتی ہے جو آسمان کی بادشاہی کی خصوصیت ہے۔ اگر اِس تمثیل میں کلیسیا کو مسیح کی دِل ھن کے طور پر متعارف کرایا جائے تو بات غیر ضروری طور پر پیچیدہ ہو جائے گی۔ مرکزی خیال تو بنی اِسرائیل کا برطرف کیا جانا ہے نہ کہ کلیسیا کی بلاہٹ اور مقصد۔
دعوت کے پہلے مرحلے میں تصویر یہ ہے کہ یُوحناؔ بپتسمہ دینے والا اور بارہ شاگرد بڑی مہربانی سے بنی اِسرائیل کو شادی کی ضیافت میں آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ مگر قوم نے دعوت قبول کرنے سے اِنکار کر دیا۔ «مگر اُنہوں نے آنا نہ چاہا» (آیت ۳)۔ یہ الفاظ اُن کے اِنکار کا نقطہ عروج ہیں اور صلیب دیئے جانے کے موقع پر ڈرامائی انداز میں سامنے آتے ہیں۔
دعوت کے دوسرے مرحلے میں اِنجیل کی اُس بشارت کی طرف اِشارہ ہے جو یہُودی وں کو دی گئی اور جِس کا بیان اعمال کی کتاب میں ہے۔ بعض لوگوں نے اِس پیغام کی تحقیر کی۔ بعضوں نے بشارت سنانے والوں پر ظلم اور تشدد کیا بلکہ اکثر رسولوں کو شہید کیا گیا۔
بادشاہ بجا طور پر بنی اِسرائیل سے ناراض ہُوا۔ اُس نے «اپنا لشکر» یعنی ططس اور رؔومی لشکر کو بھیجا۔ اُنہوں نے ۷۰ء میں یروشلؔیم اور اُس کے اکثر باشندوں کو تہس نہس کر دیا۔ وُہ اِس مفہُوم میں «اُس کا لشکر» تھے کہ اُس نے اِنہیں اِسرائیل کو سزا دینے کے لئے آلۂ کار بنایا۔ اگرچہ وُہ شخصی طور پر خُداوند کو نہیں جانتے تھے مگر تھے وُہ اُسی کا لشکر۔
اب اِسرائیل قومی لحاظ سے برطرف کیا ہُوا ہے اور انجیل غیر قوموں کے پاس جاتی ہے۔ اِن میں نیک و بد یعنی عزت و احترام کے ہر درَج ے اور طبقے کے لوگ شامِل ہیں (اعمال ۱۳:۴۵،۴۶؛ ۲۸:۲۸)۔ لیکن جتنے لوگ مسیح کے پاس آتے ہیں، اُن کی حقیقت اور خلوص کو فرداً فرداً جانچا جاتا ہے۔ شادی کے لباس کے بغیر شخص وُہ فرد ہے جو دعویٰ تو کرتا ہے کہ مَیں ضیافت کے لئے تیار ہوں مگر وُہ کبھی خُداوند یسؔوع کے وسیلے سے خُدا کی راست بازی سے ملبَس نہیں ہُوا (۲۔کرنتھیوں ۵:۲۱)۔ دراصل جو شخص شادی کا لباس پہنے ہوئے نہیں اُس کے لئے کوئی عذر نہ تھا، نہ اب ہے۔ رائری لِکھتا ہے کہ اُس زمانے میں رواج تھا کہ جِس شخص کے پاس شادی کی پوشاک نہیں ہوتی تھی اُسے مہیا کی جاتی تھی۔ صاف ظاہر ہے کہ اُس شخص نے ایسی پیش کش اور اعزاز سے فائدہ نہ اُٹھایا۔ اور جب بادشاہی میں داخل ہونے کے اُس کے حق کو چیلنج کیا گیا تو مسیح کے بغیر ہونے کے باعث اُس کا منہ بَند ہو گیا (رؔومیوں ۳:۱۹)۔ باہر کی تاریکی اُس کا مقدر ہوئی جہاں رونا اور دانت پیسنا ہے۔ رونا جہنم کے عذاب کی عَلامت ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دانت پیسنا خُدا کے خلاف مسلسل بغاوت اور عداوت کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اِس تصور کی نفی ہو جاتی ہے کہ جہنم کی آگ پاک صاف کرنے کی تاثیر رکھتی ہے۔
آیت ۱۴ کا تعلق پُوری تمثیل کے ساتھ ہے، صِرف اُس آدمی کے واقعے کے ساتھ نہیں جو شادی کی پوشاک کے بغیر تھا۔ «بلائے ہوئے بُہت ہیں» یعنی انجیل کی دعوت تو بہُتوں کو دی جاتی ہے «مگر برگزیدہ تھوڑے۔» بعض لوگ دعوت کو قبول کرنے سے اِنکار کر دیتے ہیں۔ اور جو قبول کرتے بھی ہیں اُن میں سے بھی کُچھ جھوٹا اِقرار کرنے والے ثابُت ہوتے ہیں۔ جتنے لوگ بھی اِنجیل کی خوشخبری کو قبول کرتے ہیں، وُہ «برگزیدہ» ہیں۔ کوئی شخص برگزیدہ ہے یا نہیں یہ اِس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خُداوند مسیح کے بارے میں اُس کا کیا رویہ ہے۔ بقول جیننگز (Jennings)
«ضیافت کا لطف اُٹھانے کو تو سبھوں کو بلایا گیا ہے، لیکن سب دعوت دینے والے پر یہ بھروسا کرنے پر آمادہ نہیں کہ وُہ اِس ضیافت کے لائق پوشاک بھی مہیا کرے گا۔»
ط۔ قیصر کا اور خُدا کا حق ادا کرنا (۲۲:۱۵-۲۲)
بائیسواں باب سوالوں کا باب ہے۔ تین مُختلفِ وفدوں نے آ کر خُدا کے بیٹے کو پھانسنے کی کوشِش کی۔
۲۲:۱۵،۱۶ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ «فریسیوں» اور «ہیرودیوں» کا ایک وفد آیا۔ یہ دونوں گروُہ ایک دوسرے کے شدید مخالف تھے، مگر نجات دہندہ کے خلاف مشترکہ عداوت نے اِنہیں عارضی طور پر متحد کر دیا۔ اُن کا مقصد یہ تھا کہ مسیح کو ایسا سیاسی بیان دینے پر اُکسائیں جِس کے مضمرات بُہت خطرناک ہوں۔ قیصر کے ساتھ وفاداری کے سلسلے میں یہُودی وں میں اِختلافات پائے جاتے تھے۔ اِس گروُہ نے اِن اختلافات کا فائدہ اُٹھانے کی ٹھانی۔ کُچھ یہُودی غیر قوم شہنشاہ کی تابع فرمانی کرنے کے شدید مخالف تھے۔ لیکن ہیرودیوں کی طرح بعض دوسرے یہُودی زیادہ رواداری کے حامی تھے۔
۲۲:۱۷ پہلے تو اُنہوں نے بڑی عیاری کے ساتھ اُس کے کردار کی پاکیزگی کی تعریف کی۔ اُس کی حق کی پابَندی، بے خوفی اور بے طرف داری کو سراہا۔ پھر اُنہوں نے ایک پہلودار سوال کیا «قیصر کو جزیہ دینا روا ہے یا نہیں؟»
اگر یسؔوع جواب دیتا کہ «نہیں» تو نہ صِرف ہیرودیوں کو اپنا دشمن بنا لیتا بلکہ رؔومی حکومت کے خلاف بغاوت کا ملزم بھی ٹھہرتا۔ فریسی اُسے دھکیلتے ہوئے لے جاتے اور اُس پر فردِ جرم عائد کر دیتے۔ اگر وُہ کہتا کہ «ہاں» تو یہُودی وں کی شدید قوم پرست رُوح سے متصادم ہوتا تھا۔ عام لوگ اُس کی حمایت کرنا چھوڑ دیتے۔ اِسی حمایت کی وجہ سے مذہبی لیڈر اُس پر ہاتھ ڈالنے اور اُس کا کام تمام کرنے سے اب تک رُکے ہوئے تھے۔
۲۲:۱۸،۱۹ یسؔوع نے بلا تامل اُن کو «ریاکار» کہا کہ وُہ اُس کو پھانسنے کی کوشِش میں تھے۔ پھر اُس نے کہا کہ «جزیہ کا سِکہ مجھے دِکھائو۔» اُنہوں نے اُسے ایک دِینار دکھایا کیونکہ یہی سِکہ رؔومی حکومت کو جزیہ ادا کرنے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ جب بھی یہُودی اُس سِکے پر قیصر کی شبیہ اور نام دیکھتے تو اُن کو یہ یاد کر کے بڑا دُکھ ہوتا کہ ہم غیر قوموں کے محکوم ہیں اور اِنہیں جزیہ دیتے ہیں۔ یہ دِینار اُن کو یاد دِل اتا تھا کہ ہم اپنے گُناہ کے سبب سے رؔوم کے غلام ہیں۔ اگر وُہ یہُوؔداہ کے وفادار رہتے تو جزیہ دینے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔
۲۲:۲۰،۲۱ یسؔوع نے اُن سے پوچھا کہ «یہ صورت اور نام کس کا ہے؟» وُہ یہی جواب دینے پر مجبور تھے کہ «قیصر کا۔» اِس پر خُداوند نے اُن سے کہا کہ «جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خُدا کا ہے خُدا کو ادا کرو۔» اِس سوال جواب میں وُہ خود ہی پھنس گئے۔ اُن کو اُمید تھی کہ قیصر کو جزیہ دینے کے سوال سے ہم یسؔوع کو پھانس لیں گے۔ لیکن اُس نے اُن کو بے نقاب کر دیا کہ خُدا کے واجبات ادا نہیں کرتے تھے۔ اگرچہ یہ کام بے حد تلخ تھا تو بھی وُہ قیصر کو اُس کا حق ادا کرتے تھے مگر اِس حقیقت کی پروا نہیں کرتے تھے کہ خُدا بھی ہماری زندگیوں پر حق رکھتا ہے۔ اور اِس وقت اُن کے سامنے وُہ ہستی کھڑی تھی جو خُدا کی ذات کا نقش (عبرانیوں ۱:۳) تھی اور وُہ اُسے اُس کا جائز مقام نہیں دے رہے تھے۔
یسؔوع کے جواب سے ثابُت ہوتا ہے کہ ایمان دار دُہری شہریت رکھتا ہے۔ وُہ اِنسانی حکومت کی فرماں برداری کرنے اور اُس کی مالی مدد کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اُسے اپنے حکمرانوں کی بُرائی نہیں کرنی اور نہ اُس حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لئے کوئی اِقدام کرنے ہیں بلکہ اُس پر فرض ہے کہ اِختیار رکھنے والوں کے حق میں دُعا مانگے۔ اور آسمان کا شہری ہوتے ہوئے وُہ خُدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ اگر اِن دونوں میں کبھی تصادُم کی صورت پیدا ہوتی ہے تو اُس کی اوّلین وفاداری خُدا کے ساتھ ہو گی (اعمال ۵:۲۹)۔
ہم جب آیت ۲۱ کا حوالہ دیتے ہیں تو اکثر قیصر کے حصے پر تو زور دیتے ہیں مگر خُدا کے حصے کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔ یہ بالکُل وُہی غلطی ہے جِس کے لئے یسؔوع نے فریسیوں کو ملامت کی تھی۔
۲۲:۲۲ جب فریسیوں نے اُس کا جواب «سنا» تو وُہ جان گئے کہ ہم مات کھا گئے ہیں۔ وُہ تعجب کر کے وُہاں سے کھسک جانے کے سوا اَور کیا کر سکتے تھے!
ی۔ صدوقی اور قیامت کے بارے میں اُن کا معما (۲۲:۲۳-۳۳)
۲۲:۲۳،۲۴ جیسا کہ پہلے ذِکر ہُوا صدوقی اپنے زمانے کے آزاد خیال دینی لیڈر تھے۔ وُہ جِسم کی قیامت، فرشتوں کے وجود اور معجزوں کا اِنکار کرتے تھے، بلکہ وُہ اُتنی باتوں کا اِقرار نہیں کرتے تھے جتنی کا اِنکار کرتے تھے۔ اب صدوقیوں کا ایک وفد یسؔوع کے پاس آیا اور ایک ایسی کہانی گھڑ لایا جِس سے قیامت کا تصور مضحکہ خیز معلوم ہو۔ اُنہوں نے شریعت سے وُہ بات پیش کی جِس میں اپنے مرحوم بھائی کی بیوُہ سے شادی کرنے کا حُکم ہے (اِستثنا ۲۵:۵)۔ اِس حُکم کے مطابق اگر کوئی اِسرائیلی «بے اولاد» مر جاتا تھا تو «اُس کے بھائی» کا فرض تھا کہ بیوُہ سے شادی کرے تاکہ خاندان کا نام اِسرائیل میں باقی رہے اور میراث خاندان ہی میں رہے۔
۲۲:۲۵-۲۸ اُنہوں نے جو مسئلہ پیش کیا، اُس کا تعلق ایک ایسی عورت سے تھا جِس کا شوُہر بے اولاد مر گیا۔ اِس پر اُس نے اپنے شوُہر کے ایک بھائی سے بیاہ کر لیا۔ دوسرا شوُہر بھی بے اولاد مر گیا۔ چنانچہ اُس نے تیسرے سے بیاہ کیا، حتیٰ کہ اِسی طرح ساتویں بھائی تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ «سب کے بعد وُہ عورت بھی مر گئی۔» اب وُہ سوال کیا گیا جِس کا مقصد اُس ہستی کو شرمسار کرنا تھا جو خود قیامت ہے (یُوحناؔ ۱۱:۲۵) کہ «پس وُہ قیامت میں اُن ساتوں میں سے کس کی بیوی ہو گی؟ کیونکہ سب نے اُس سے بیاہ کیا تھا۔»
۲۲:۲۹ بنیادی طور پر اُن کی دِل یل یہ تھی کہ قیامت کا تصور اَن حل مسائل پیش کرتا ہے، اِس لئے غیر معقول ہے۔ چنانچہ سچا نہیں۔ یسؔوع نے واضح کر دیا کہ مشکل اِس عقیدے میں نہیں بلکہ اُن کی اپنی سوچ اور ذہنوں میں تھی۔ وُہ «کتابِ مُقدس» اور «خُدا کی قُدرت» سے ناواقف تھے۔
اوّل، وُہ «کتابِ مُقدس» کو نہیں جانتے تھے۔ بائبل مُقدس میں کہیں ذِکر نہیں کہ میاں بیوی کا رِشتہ جاری رہے گا۔ وُہاں سب مرد اور عورتیں فرشتوں کی مانند ہوں گے۔
دوم، وُہ «خُدا کی قُدرت» کو نہیں جانتے تھے۔ اگر وُہ اِنسان کو خاک سے پیدا کر سکتا ہے تو کیا وُہ مر جانے والوں کی خاک کو زندہ نہیں کر سکتا اور اُن کو جلالی بدن نہیں بنا سکتا؟
۲۲:۳۰-۳۲ پھر خُداوند نے کتابِ مُقدس سے ایک دِل یل پیش کی جِس سے ثابُت ہوتا ہے کہ قیامت قطعی طور پر لازمی ہے۔ خروُج ۳:۶ میں خُدا نے اپنے بارے میں فرمایا ہے کہ « مَیں ابرہام کا خُدا اور اضحاق کا خُدا اور یعقوب کا خُدا ہوں۔» یسؔوع نے اِس حقیقت کی طرف توجہ دِل ائی کہ «وُہ تو مُردوں کا خُدا نہیں بلکہ زندوں کا ہے۔» خُدا نے اُن آدمیوں کے ساتھ عہد باندھے تھے۔ مگر وُہ اُن وعدوں کے پورے طور پر پورا ہونے سے پہلے مر گئے تو خُدا کس طرح ایسے تین افراد کا خُدا ہونے کی بات کر سکتا ہے جن کے بدن قبروں میں پڑے ہیں؟ وُہ جو کبھی جھوٹا یا ناکام نہیں ہو سکتا، اپنے اُن وعدوں کو کس طرح پورا کر سکتا ہے جو اُن اِنسانوں سے کئے تھے جو مر چکے ہیں؟ اِس کا ایک ہی جواب ہے __ قیامت!
۲۲:۳۳ پس تعجب کی بات نہیں کہ «لوگ یہ سن کر اُس کی تعلیم سے حیران ہوئے۔» ہم بھی حیران ہوتے ہیں۔
ک۔ عظیم حُکم (۲۲:۳۴-۴۰)
۲۲:۳۴-۳۶ «جب فریسیوں نے سنا کہ اُس نے» ہمارے حریف «صدوقیوں کا منہ بَند کر دیا» تو وُہ اُس کے ساتھ گفتگو کرنے کو آ جمع ہوئے۔ اُن کا خاص نمائندہ ایک «عالمِ شرع» تھا۔ اُس نے یسؔوع سے پوچھا کہ «توریت
میں کون سا حُکم بڑا ہے؟»
۲۲:۳۷،۳۸ بڑے ماہرانہ انداز میں یسؔوع نے مختصر طور پر بُتا دیا کہ خُدا کے بارے میں اِنسان کا فرض یہ ہے کہ «خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبُت رکھ»۔ مرقسؔ کے بیان میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ «اور اپنی ساری طاقت سے» (مرقسؔ ۱۲:۳۰)۔ اِس کا مطلب ہے کہ اِنسان کا پہلا فرض اپنے پورے وجود سے خُدا سے محبُت کرنا ہے۔ بیان کیا گیا ہے کہ دِل جذبات کی اور جان اِرادہ کی اور عقل ذہانت کی اور طاقت جِسمانی فطرت کی نمائندگی کرتی ہے۔
۲۲:۳۹،۴۰ یسؔوع نے یہ بھی کہا کہ اِنسان کی دُوسری ذمہ داری یہ ہے کہ «اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبُت» رکھے۔ خُدا اور اِنسان کے ساتھ محبُت پورے مذہب کا اِحاطہ کرتی ہے۔ اور مُو سؔیٰ، نبیوں، ہمارے نجات دہندہ اور رسولوں کا مقصد یہی محبُت پیدا کرنا تھا، ہم کو اِن الفاظ پر غور کرتے رہنا چاہئے کہ «اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبُت رکھ۔» ہم سوچیں کہ ہم اپنے آپ سے کتنی زیادہ محبُت رکھتے ہیں۔ ہماری کتنی سرگرمیوں کا مرکز ہماری اپنی ذات کی نگہداشت اور آرام ہوتا ہے۔ پھر ہم یہ تصور کریں کہ اگر ہم یہی محبُت اپنے پڑوسی پر نچھاور کریں تو حالات کیسے ہوں گے۔ پھر ایسا ہی کریں۔ یہ کردار فطرت کے مطابق نہیں ہے۔ صِرف وُہی لوگ ایسا کر سکتے ہیں جو نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں اور مسیح کو اپنے وسیلے سے ایسا کرنے دیتے ہیں۔
ل۔ داؔؤدکا بیٹا داؔؤدکا خُداوند ہے (۲۲:۴۱-۴۶)
۲۲:۴۱،۴۲ یسؔوع نے عالمِ شرع کو جو جواب دیا، فریسی اِس سے بھونچکا رہ گئے۔ ابھی وُہ سنبھل نہیں پائے تھے کہ یسؔوع نے اُن سے ایک اِشتعال انگیز سوال پوچھا کہ «تم مسیح کے حق میں کیا سمجھتے ہو؟ وُہ کس کا بیٹا ہے؟»
فریسیوں کی اکثریت یقین نہیں رکھتی تھی کہ یسؔوع ہی مسیح ہے۔ وُہ ابھی تک مسیحِ مَوعُود کے منتظر تھے۔ اِس لئے یسؔوع اُن سے یہ نہیں پوچھ رہا تھا کہ «تم میرے بارے میں کیا سمجھتے ہو؟» (اگرچہ یہ بات بھی شامِل تھی) بلکہ وُہ ایک عام انداز میں پوچھ رہا تھا کہ جب مسیحِ مَوعُود ظاہر ہو گا تو کس کا بیٹا ہو گا؟
اُنہوں نے بالکُل صحیح جواب دیا کہ وُہ «داؔؤدکا بیٹا» ہو گا یعنی اُس کی نسل سے ہو گا۔
۲۲:۴۳،۴۴ اِس پر خُداوند یسؔوع نے زبُور ۱۱۰:۱ کا اِقتباس پیش کیا جہاں داؔؤدکہتا ہے کہ «خُداوند نے میرے خُداوند سے کہا میری دہنی طرف بیٹھ جب تک مَیں تیرے دشمنوں کو تیرے پائوں کے نیچے نہ کر دوں۔» یہاں پہلی دفعہ لفظ «خُداوند» کا مطلب خُدا باپ اور دُوسری دفعہ مطلب مسیحِ مَوعُود ہے۔ چنانچہ داؔؤدنے مسیحِ مَوعُود کو خُداوند کہا ہے۔
۲۲:۴۵ اب یسؔوع نے سوال پیش کیا کہ «جب داؔؤداُس کو خُداوند کہتا ہے تو وُہ اُس کا بیٹا کیونکر ٹھہرا؟» جواب یہ ہے کہ مسیحِ مَوعُود داؔؤدکا بیٹا بھی ہے اور داؔؤدکا خُداوند بھی کیونکہ وُہ خُدا اور بشر دونوں ہے۔ خُدا ہونے کے باعث وُہ داؔؤدکا خُداوند اور بشر ہونے کے باعث داؔؤدکا بیٹا ہے۔
اگر فریسیوں کا ذہن کھلا ہوتا تو وُہ جان لیتے کہ یسؔوع ہی مسیحِ مَوعُود ہے اور مرؔیم کے شجرہ سے داؔؤدکا بیٹا اور اپنے کاموں، تعلیم اور کردار کے باعث خُدا کا بیٹا ہے۔
۲۲:۴۶ مگر اُنہوں نے دیکھنے اور سمجھنے سے اِنکار کر دیا۔ وُہ اُس کی عقل و دانش سے بالکُل چکرا گئے اور اب سوالوں کے ذریعے اُس کو پھانسنے سے باز آ گئے۔ اب اُنہوں نے کوئی دوسرا طریقہ استعمال کرنے کی ٹھانی __ تشدد کا طریقہ۔
م۔ بڑے بول اور چھوٹے کاموں کے خلاف تنبیہ (۲۳:۱-۱۲)
۲۳:۱-۴ اِس باب کی اِفتتاحی آیات میں نجات دہندہ لوگوں کو اور «اپنے شاگردوں» کو «فریسیوں اور فقیہوں» سے خبردار رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ یہ راہنما «مُو سؔیٰ کی گدی پر» بیٹھے تھے یعنی مُو سؔیٰ کی توریت کی تعلیم دیتے تھے۔ عام طور پر اُن کی تعلیم قابلِ اعتماد تھی، مگر اُن کے اعمال ایسے نہیں تھے۔ اُن کا عقیدہ اُن کے کردار سے بُہتر تھا، یعنی بول بڑے تھے اور کام چھوٹے۔ اِس لئے یسؔوع نے کہا کہ «جو کُچھ وُہ تمہیں بُتائیں وُہ سب کرو اور مانو، لیکن اُن کے سے کام نہ کرو۔ کیونکہ وُہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔»
وُہ لوگوں سے بُہت بھاری مطالبات (وُہ شریعت کے الفاظ کے بال کی کھال نکالتے تھے، یعنی اِنتہائی قِسم کی تشریح) کرتے تھے۔ لیکن اِن بھاری بوجھوں کو اُٹھانے میں کِسی کی مدد نہیں کرتے تھے۔
۲۳:۵ وُہ مذہبی رسوم اِس لئے ادا کرتے تھے کہ لوگ اِنہیں دیکھیں۔ اُن کے باطن خالص نہیں تھے۔ ایک مثال تو یہ ہے کہ تعویذ استعمال کرتے تھے۔ خُدا نے یہ حُکم دیا تھا کہ شریعت «تیرے ہاتھ پر ایک نشان اور تیری پیشانی پر ٹیکوں کی مانند ہو» (خروُج ۱۳:۹،۱۶؛ اِستثنا ۶:۸،۱۱:۱۸)۔ اِس سے خُدا کی مراد یہ تھی کہ شریعت کے احکام مسلسل اُن کے سامنے رہیں اور اُن کے کاموں کے راہنما ہوں۔ چنانچہ وُہ پاک کلام کے حصوں کو چمڑے میں منڈھا کر اپنے بازُوئوں یا ماتھوں پر باندھا کرتے تھے۔ اُن کو شریعت کے حکموں پر چلنے کی کوئی پروا نہیں تھی بلکہ وُہ حکموں کو مضحکہ خیز حد تک بڑے بڑے تعویذوں کی شکل میں پہن کر اپنے آپ کو بُہت روحانی دِکھانے کی فِکر میں رہتے تھے۔ شریعت یہ بھی کہتی تھی کہ یہُودی اپنے پیراہنوں کے کناروں پر جھالر لگائیں اور ہر کنارے کی جھالر کے اُوپر آسمانی رنگ کا ڈورا ٹانکیِں (گنتی ۱۵:۳۷-۴۱؛ اِستثنا ۲۲:۱۲)۔ اِس اِمتؔیازی آراستگی کا مقصد اُن کو یہ یاد دِل انا تھا کہ تم ایک اِمتؔیازی قوم ہو، اور تمہیں دُوسری قوموں سے الگ ہو کر چلنا ہے۔ فریسی روحانی سبق کو تو پسِ پشت ڈال دیتے تھے مگر جھالریں بڑی بڑی بناتے تھے۔
۲۳:۶-۸ وُہ اپنی اہمیّت دِکھانے کے لئے «ضیافتوں … اور عبادت خانوں میں» خصوصی اور عزت کی جگہ کے لئے دھکم دھکا اور چھینا جھپٹی کرتے تھے۔ اور «بازاروں میں سلام» کروا کے اپنی اَنا کی پرورش کرتے تھے۔ خاص طور پر «ربی کہلانا» تو بُہت ہی پسند کرتے تھے (ربی کا مطلب ہے «میرا معزز» یا «اُستاد»)۔
۲۳:۹،۱۰ یہاں خُداوند نے شاگردوں کو وُہ القاب استعمال کرنے سے خبردار کیا جو خُدا کے لئے مخصوص ہونے چاہئیں۔ ہم «ربی» نہ کہلائیں۔ اِس کو اپنے لئے اِمتؔیازی لقب نہ بنائیں کیونکہ «اُستاد» تو ایک ہی ہے یعنی «مسیح»۔ ہم کِسی آدمی کو اپنا «باپ» نہ کہیں کیونکہ خُدا ہمارا «باپ» ہے۔ ویسٹن (Weston) بُہت بصیرت افروز بات لِکھتا ہے:
«یہ القاب خُدا کے ساتھ اِنسان کے بنیادی اور لازمی تعلق کا بیان کرتے ہیں۔ تین باتوں سے ایک مسیحی تشکیل پاتا ہے:وُہ کیا ہے، کیا ایمان رکھتا ہے اور کیا کرتا ہے یعنی عقیدہ، تجربہ اور عمل۔ اِنسان کو اپنے روحانی وجود کے لئے تین چیزوں کی ضُرورتہے:زندگی، تعلیم اور ہدایت۔ یہی تین باتیں ہمارے خُداوند نے اِن سات الفاظ میں بیان کیِں کہ «راہ اور حق اور زندگی مَیں ہوں»۔ کِسی اِنسان کو اپنا باپ نہ مانو، کیونکہ کوئی اِنسان نہ روحانی زندگی دے سکتا نہ اِسے قائم رکھ سکتا ہے۔ کِسی اِنسان کو بے خطا اُستاد نہ مانو، کِسی اِنسان کو روحانی ڈِکٹیٹر بننے کا موقع نہ دو۔ خُدا اور مسیح کے ساتھ آپ کا تعلق اِتنا ہی قریبی ہے جتنا کِسی دوسرے اِنسان کا ہو سکتا ہے۔»
نجات دہندہ کا مطلب واضح ہے کہ آسمان کی بادشاہی میں سارے ایمان دار ایک ایسی اخوت یا برادری میں شریک ہیں جہاں ایسے اِمتؔیازی القاب کوئی مقام نہیں رکھتے جو ایک کو دوسرے پر اِمتؔیازی درَج ہ دیتے ہیں۔ ذرا غور کریں کہ آج کی مسیحیت میں کیسے کیسے پُرشکوُہ القاب استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً عزت مآب، تقدس مآب، فادر (باپ) وغیرہ، یہاں تک کہ بے ضرر سا لقب «ڈاکٹر» بھی یٗونانی میں «اُستاد» کے معانی رکھتا ہے (اِتنی بات تو صاف ہے کہ اِس تنبیہ کا تعلق روحانی تعلقات سے ہے فطری، پیشہ ورانہ یا نظری تعلقات سے نہیں۔ مثلاً بچے کو اپنے والد کو «باپ» کہنے سے یا مریض کو اپنے معالج کو «ڈاکٹر» کہہ کر مخاطب کرنے سے منع نہیں کیا گیا)۔ جہاں تک دُنیاوی رِشتوں کا تعلق ہے تو اصول یہ ہے کہ «جِس سے ڈرنا چاہئے اُس سے ڈرو۔ جِس کی عزت کرنا چاہئے اُس کی عزت کرو» (رؔومیوں ۱۳:۷)۔
۲۳:۱۱،۱۲ ایک دفعہ پھر ہمیں اِس حقیقت میں آسمان کی بادشاہی کی اِنقلابی خصوصیت نظر آتی ہے کہ حقیقی عظمت اِنسانی سوچ سے بالکُل اُلٹ باتوں میں ہوتی ہے «جو تم میں بڑا ہے وُہ تمہارا خادم بنے۔ اور جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وُہ چھوٹا کیا جائے گا۔ اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وُہ بڑا کیا جائے گا۔» حقیقی عظمت جھک کر خدمت کرتی ہے۔ فریسی جو اپنے آپ کو بڑا بناتے ہیں چھوٹے کئے جائیں گے۔ سچے شاگرد جو اپنے آپ کو چھوٹا بناتے ہیں مقررہ وقت پر بڑے کئے جائیں گے۔
ن۔ فقیہوں اور فریسیوں پر افسوس (۲۳:۱۳-۳۶)
اِس کے بعد خُداوند یسؔوع اپنے زمانے کے مذہبی ریاکاروں پر آٹھ افسوس کرتا ہے، جیسے ہم بھی اکثر کہتے ہیں «ہائے، تم پر افسوس!»
۲۳:۱۳ پہلا افسوس اُن کے ہٹیلے پن اور دوسروں کی راہ میں رکاوٹ ہونے پر ہے۔ وُہ «بادشاہی» میں داخل ہونے سے خود بھی اِنکار کرتے ہیں اور دوسرے «داخل ہونے والوں کو» بھی زبردستی روکتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ مذہبی لیڈر ہی اکثر فضل کی خوشخبری کے مخالف بلکہ شدید مخالف ہوتے ہیں۔ سوائے نجات کی خوشخبری کے وُہ ہر بات کو ہنس ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں۔ نفسانی آدمی خُدا کے فضل کو حاصل نہیں کرنا چاہتا اور یہ بھی نہیں چاہتا کہ خُدا دوسروں پر فضل کرے۔
۲۳:۱۴ دوسرے افسوس میں اِس بات پر ناراضی کا اِظہار کیا گیا ہے کہ وُہ «بیوائوں کے گھروں کو دبا بیٹھتے» ہیں۔ اور پھر ایسی حرکتوں کی پردہ پوشی کے لئے لمبی لمبی دُعائیں مانگتے ہیں۔ جدید دَور میں بعض فرقے بھی اِسی قِسم کے ہتھ کنڈے استعمال کرتے ہیں۔ عمر رسیدہ بیوائوں اور سادہ لوح ایمان داروں سے اُن کی جائیداد «چرچ» کے نام لِکھوا لیتے ہیں۔ اِس قِسم کی خُدا پرستی کرنے والے ریاکاروں کو «زیادہ سزا ہو گی۔»
۲۳:۱۵ اُن پر تیسرا الزام یہ ہے کہ اُن کے جوش و جذبے کا رُخ غلط طرف کو ہوتا ہے۔ وُہ ایک مرید کرنے کے لئے بے حد کوشِش کرتے ہیں مگر جب کامیاب ہوئے تو اپنے سے «دونا» شریر بنا دیتے ہیں۔ بِدعتی فرقوں کا جوش و جذبہ جدید دَور میں اِس کی عمدہ مثال پیش کرتا ہے۔
۲۳:۱۶-۲۲ چوتھے افسو س میں خُداوند اُن کی غیر دیانت دارانہ دِل یل بازی کی مذمت کرتا ہے۔ اُنہوں نے اپنی منتوں کو ٹالنے کے لئے دِل ائل کا ایک جھوٹا اور غلط نظام کھڑا کر رکھا تھا۔ مثلاً وُہ کہتے تھے کہ «اگر کوئی مُقدس کی قِسم کھائے» تو اِس قِسم کو پورا کرنا فرض نہیں لیکن «اگر مُقدس کے سونے کی قِسم کھائے» تو قِسم کو پورا کرنا ضروری ہے۔ وُہ کہتے تھے کہ قربان گاہ پر چڑھی ہوئی نذر کی قِسم کی پابَندی کرنا لازم ہے، لیکن اگر خالی قربان گاہ کی قِسم کھائی جائے تو کوئی بات نہیں۔ اِس طرح وُہ سونے کو خُدا پر (ہیکل خُدا کا گھر تھی) اور قربان گاہ پر چڑھی ہوئی نذر (کِسی نہ کِسی شکل میں دولت) کو خود قربان گاہ پر فوقیت دیتے تھے۔ اُن کی دِل چسپی روحانی باتوں میں نہیں بلکہ مادی چیزوں میں تھی۔ زیادہ دِل چسپی لینے میں تھی دینے میں نہ تھی۔
یسؔوع نے اِنہیں «اندھے راہ بُتانے والو» کہہ کر اُن کی دِل یل تراشی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ ہیکل کا سونا اِس لئے خصوصی قدر و قیمت والا بن جاتا تھا کہ ہیکل خُدا کا مسکن تھی۔ اور نذر کی قدر و قیمت قربان گاہ کی مرہونِ منت ہوتی تھی۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ سونا بذاتہٖ قیمتؔی چیز ہے وُہ اندھے ہیں۔ یہ اُسی قدر ہی قیمتؔی ہوتا ہے جِس قدر خُدا کی خدمت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جو نذرانے نفسانی مقاصد کی خاطر چڑھائے جاتے ہیں بے وقعت اور بے قدر ہوتے ہیں۔ جو خُداوند کو یا خُداوند کے نام سے دیئے جاتے ہیں، وُہ دائمی قدر و قیمت رکھتے ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ یہ فریسی جِس چیز کی بھی قِسم کھاتے، خُدا اُس میں شامِل ہوتا تھا اور اُن قِسم وں کو پورا کرنا اُن کا لازمی فرض بنتا تھا۔ اِنسان بظاہر سچی دِل یل بازی سے اِن فرائض سے بچ نہیں سکتا۔ قِسم یں ہمیں پابَند کر دیتی ہیں اور وعدوں کو لازماً پورا کرنا چاہئے۔ فرائض سے پہلوتہی کرنے کے لئے ٹیکنیکل نکتے نکالنا اور دِل یلیں دینا بے کار بات ہے۔
۲۳:۲۳،۲۴ پانچواں افسوس سچائی اور حقیقت سے عاری رسم پرستی کے خلاف ہے۔ «فقیہ اور فریسی» پودینے اور سونف جیسی معمولی چیزوں پر خُداوند کو دہ یکی دینے میں پُوری احتیاط کرتے تھے۔ یسؔوع نے ایسی احتیاط اور ذرا ذرا سی تفصیل کا خیال رکھنے پر اُن کی ملامت نہیں کی، بلکہ اِس بات پر کہ «جب «اِنصاف اور رحم» یا دوسروں کے ساتھ وفاداری دِکھانے کا موقع آتا تھا تو وُہ اِنتہائی بے احتیاط ہو جاتے تھے۔ اپنی بات کو زور دار بنانے کے لئے خُداوند ایک نہایت موثر ادبی صنعت استعمال کرتا ہے۔ وُہ کہتا ہے کہ «تم مچھر کو چھانتے ہو اور اُونٹ کو نگل جاتے ہو۔» مچھر یعنی ایک ننھا سا بھنگا اکثر میٹھے مشروب میں گر جاتا تھا پینے والے، دانت بھینچ کر مشروب کی چسکیاں لیتے تو یہ مچھر چھن جاتا تھا۔ غیر اہم باتوں میں اِتنی احتیاط کرنا اور فلستین کے سب سے بڑے حرام جانور کو نگل جانا کیسی مضحکہ خیز بات ہے۔ فریسیوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں کا بے حد خیال رہتا تھا، لیکن ریاکاری، بددیانتی، ظلم اور حرص جیسے بڑے بڑے گُناہ وں سے اندھے بنے رہتے تھے۔ وُہ نیک و بد کا ادراک کھو بیٹھے تھے۔
۲۳:۲۵،۲۶ چھٹے افسوس کا تعلق ظاہر پرستی سے ہے۔ فریسی ظاہری طور پر بااخلاق اور مذہب کے پابَند بنے رہنے پر بڑی توجہ دیتے تھے، لیکن اُن کے دِل «لُوٹ اور ناپرہیز گاری» سے بھرے ہوئے تھے۔ اُن کو چاہئے تھا کہ «پہلے پیالے اور رکابی کو اندر سے صاف» کرتے یعنی توبہ اور ایمان کے ساتھ اپنے دِل وں کو صاف کرتے۔ صِرف اِسی صورت میں اُن کا ظاہری کردار قابلِ قبول ہو سکتا تھا۔ ہم جو کُچھ ہیں، اور جو رائے ہم دوسروں کو چاہتے ہیں کہ ہمارے متعلق قائم کریں، اِس میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ خُدا ہمارے باطن میں سچائی چاہتا ہے (زبُور ۵۱:۶)۔
۲۳:۲۷،۲۸ ساتویں افسوس میں بھی ظاہر پرستی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ چھٹے افسوس میں حرص کو چھپانے کو لتاڑا گیا ہے جب کہ ساتویں میں «ریاکاری اور بے دینی» کی پردہ پوشی کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔
قبروں کو سفیدی اِس لئے کی جاتی تھی کہ یہُودی لوگ کہیں بے احتیاطی سے اُن کو چھو نہ لیں اور رسمی طور پر ناپاک نہ ہو جائیں۔ یسؔوع نے فقیہوں اور فریسیوں کو «سفیدی پھری ہوئی قبروں کی مانند» ٹھہرایا جو اُوپر سے تو صاف ستھری دِکھائی دیتی ہیں مگر اندر نجاست سے بھری ہوتی ہیں۔ لوگ سوچتے تھے کہ ان مذہبی لوگوں کے ساتھ میل جول سے ہم پاک ہو جاتے ہیں جب کہ حقیقت میں یہ ناپاک کر دینے والا تجربہ ہوتا تھا کیونکہ وُہ ریاکاری اور شرارت اور بدکاری سے بھرے ہوئے تھے۔
۲۳:۲۹،۳۰ آخری افسوس اِس بات پر تھا جِسے ہم بظاہر عقیدت و احترام اور باطن میں قتلِ اِنسانی کہہ سکتے ہیں۔ «فقیہ اور فریسی» ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ ہم پُرانے عہدنامہ کے نبیوں کی بڑی عزت کرتے اور اُن سے بے حد عقیدت رکھتے ہیں۔ اِس مقصد کے لئے وُہ اُن کے مقبرے بنواتے یا اُن کی مرمت کرواتے تھے اور اُن کی یادگاروں پر پھول چڑھاتے تھے۔ اُن کی یاد میں تقریروں کے دوران دعوے کرتے تھے کہ «اگر ہم اپنے باپ دادا کے زمانے میں ہوتے تو نبیوں کے خون میں اُن کے شریک نہ ہوتے۔»
۲۳:۳۱ یسؔوع نے اُن سے کہا کہ «اِس طرح تم اپنی نسبُت گواہی دیتے ہو کہ تم نبیوں کے قاتلوں کے فرزند ہو۔» مگر وُہ کس طرح یہ گواہی دیتے تھے۔ گذشتہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وُہ خود کو اپنے باپ دادا سے جنہوں نے نبیوں کا خون کیا لا تعلق ثابُت کرتے ہیں۔ اوّل، وُہ اِقرار کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا نے، جن کے وُہ جِسمانی طور سے فرزند تھے، نبیوں کا خون بہایا تھا۔ لیکن یسؔوع نے لفظ «فرزند» اُن لوگوں کے مفہُوم میں استعمال کیا جن کی خصُوصیات ایک جیسی ہوتی ہیں۔ وُہ جانتا تھا کہ ایک طرف تو وُہ نبیوں کی قبروں کو آراستہ کر رہے ہیں تو ساتھ ہی دُوسری طرف وُہ اُس کو مار ڈالنے کی سازشیں بھی کر رہے تھے۔ دوم، گذشتہ نبیوں کے لئے اِتنی عزت و احترام دِکھانے سے وُہ تسلیم کرتے تھے کہ «ہم صِرف مُردہ نبیوں کو پسند کرتے ہیں۔» اِن معنوں میں بھی وُہ اپنے باپ دادا کے فرزند تھے۔
۲۳:۳۲ ہمارے خُداوند نے مزید کہا کہ «غرض اپنے باپ دادا کا پیمانہ بھر دو۔» باپ دادا نے نبیوں کو قتل کر کے پیمانہ جزوی طور پر بھر دیا تھا، اور فقیہ اور فریسی خُداوند یسؔوع اور اُس کے پیروکاروں کو قتل کر کے بُہت جلد پورا بھر دیں گے۔ اِس طرح جو کام اُن کے باپ دادا نے شروع کیا تھا اُسے ایک دہشت ناک نقطۂ عروج تک پہنچا دیں گے۔
۲۳:۳۳ اِس موقعے پر خُدا کے مسیح نے یہ گرج دار الفاظ کہے کہ «اے سانپو! اے افعی کے بچو! تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے؟» کیا مجِسم محبُت ایسے تباہ کُن الفاظ کہہ سکتی ہے؟ ہاں، کیونکہ سچی محبُت راست اور پاک ہوتی ہے۔ یہ تصور اگرچہ عام ہے مگر بائبل کے مطابق نہیں کہ یسؔوع ایک بے ضرر مصُلح ہے اور سوائے محبُت کے اَور کوئی جذبہ نہیں رکھتا۔ محبُت ہمیشہ مبنی بر اِنصاف ہونی چاہئے۔ محبُت کا رویہ سخت بھی ہو سکتا ہے۔
یہ حقیقت بڑی سنجیدگی سے یاد رکھنی چاہئے کہ «جہنم کی سزا» کے لفظ شرابیوں اور رحمت ِخُداوندی سے محرؔوم لوگوں کو نہیں بلکہ مذہبی لیڈروں کو کہے گئے تھے۔ آج عالم گیریت کا دَور ہے اور بُہت سے اِنجیلی مسیحی ایسی قوتوں کے ساتھ میل ملاپ کے وعدے اور معاہدے کر رہے ہیں جو مسیح کی صلیب کے جانی دشمن ہیں۔ بُہتر ہے کہ یسؔوع کے نمونے پر غور کیا جائے اور وُہ بات یاد رکھی جائے جو یاہو نے یہوسفط سے کہی تھی کہ «کیا مناسب ہے کہ تُو شریروں کی مدد کرے اور خُداوند کے دشمنوں سے محبُت رکھے؟»
۲۳:۳۴،۳۵ یسؔوع نہ صِرف اپنی موت کو پہلے سے دیکھ رہا تھا بلکہ اُس نے فریسیوں اور فقیہوں کو صاف صاف بُتا دیا کہ جن پیغامبروں یعنی «نبیوں اور دانائوں اور فقیہوں» کو مَیں تمہارے پاس بھیجوں گا، تم اُن کو قتل کرو گے۔ جو شہید ہونے سے بچ جائیں گے، اُن کو «اپنے عبادت خانوں میں کوڑے مارو گے اور شہر بہ شہر ستاتے پھرو گے۔» اِس طرح اِسرائیل کے لیڈر شہادت کی تاریخ کا سارا جرم اپنے کھاتے میں جمع کر لیں گے۔ اور «راست بازوں کا خون … ہابل کے خون سے لے کر … زِکریاہ کے خون تک» اُن کی گردن پر ہو گا۔ زِکریاہ کے خون کا ذِکر ۲۔تواریخ ۲۴:۲۰،۲۱ میں درَج ہے۔ بائبل مُقدس کی عبرانی ترتِیب کے مطابق ۲۔تواریخ پُرانے عہدنامہ کی آخری کتاب ہے۔ (یہ زِکریاہ پُرانے عہدنامہ کی اِسی نام کی کتاب کا مُصنِفّ نہیں تھا)۔
۲۳:۳۶ ماضی کا سارا گُناہ اُس زمانے کے لوگوں پر آئے گا جن سے یسؔوع بات کر رہا تھا۔ گویا ماضی میں جتنا بھی بے گُناہ خون بہایا گیا تھا وُہ بے گُناہ نجات دہندہ کی موت میں آکر جمع ہو جاتا اور نقطۂ عروج کو پہنچتا ہے۔ جو قوم اپنے مسیحِ مَوعُود سے عداوت رکھتی اور بے وجہ اُسے مجرموں کی صلیب پر چڑھا دیتی ہے، اِس پر کثرت سے سزا اور غضب اُنڈیلا جائے گا۔
س۔ یسؔوع یروشلؔیم پر نوحہ کرتا ہے (۲۳:۳۷-۳۹)
۲۳:۳۷ یہ باب بُہت ہی اہم ہے جِس میں کِسی دوسرے باب کی نسبُت خُداوند کے سب سے زیادہ افسوس درَج ہیں، یہ اُس کے آنسوئوں کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ پہلے تو وُہ فریسیوں پر افسوس کرنے اور اُن کی خامیوں کو واشگاف کرنے کے بعد اُس شہر پر درد ناک نوحہ کرتا ہے جِس نے موقع کھو دیا۔ «اے یروشلیم! اے یروشلیم!» نام کو دُہرانے میں ایسا زبردست احساس پایا جاتا ہے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شہر «نبیوں» کو قتل اور خُدا کا پیغام لانے والوں کو سنگسار کرتا رہا تھا۔ تو بھی خُداوند اِس سے محبُت رکھتا ہے۔ خُداوند نے حفاظت کی خاطر اُس کے فرزندوں کو بڑی محبُت سے اپنے پاس جمع کرنا چاہا «جِس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے۔» مگر اِس شہر نے نہ چاہا۔
۲۳:۳۸ اپنے نوحہ کے اِختتام میں خُداوند یسؔوع نے کہا کہ «دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے۔» بنیادی طور پر گھر سے یہاں مراد ہیکل ہے۔ مگر یروشلؔیم کا شہر بھی شامِل ہو سکتا ہے۔ بلکہ خود قوم بھی مراد ہو سکتی ہے۔ یسؔوع کی موت اور دُوسری آمد کے درمیان ایک وقفہ ہو گا، جِس کے دوران ایمان نہ لانے والا اِسرائیل اُسے نہیں دیکھے گا (اُس کے جی اُٹھنے کے بعد صِرف ایمان داروں نے اُسے دیکھا)۔
۲۳:۳۹ آیت ۳۹ مستقبل میں دُوسری آمد کو دیکھتی ہے جب اِسرائیل کا ایک ایمان دار حصہ اُس کو مسیحِ مَوعُود بادشاہ کی حیثیت سے قبول کرے گا۔ یہ قبولیت اِن الفاظ میں پوشیدہ ہے کہ «مبارک ہے وُہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے۔»
یہاں ایسا کوئی اِشارہ نہیں کہ جنہوں نے خُداوند کو قتل کیا ہے، اُن کو ایک اَور موقع ملے گا۔ وُہ یروشلؔیم کی بات کر رہا تھا اور یوں مجازِ مرسل کے مطابق وُہ اُس کے باشندوں اور عمومی لحاظ سے اِسرائیل کی بات کر رہا تھا۔ اگلی دفعہ جب یروشلؔیم کے باشندے اُسے اُس کی موت کے بعد دیکھیں گے تو وُہ موقع ہو گا جب «وُہ اُس پر جِس کو اُنہوں نے چھیدا ہے نظر کریں گے اور اُس کے لئے ماتم کریں گے جیسا کوئی اپنے اکلوتے کے لئے کرتا ہے» (زِکریاہ ۱۲:۱۰)۔ یہُودی حساب سے کوئی ماتم اِتنا شدید اور تلخ نہیں ہوتا جیسا اکلوتے کے لئے ہوتا ہے۔
کِتابِ مُقدّس
۱۔ اُس وقت یِسُوعؔ سبت کے دِن کھیتوں میں ہو کر گیا اور اُس کے شاگِردوں کو بُھوک لگی اور وہ بالیں توڑ توڑ کر کھانے لگے۔
۲۔ فرِیسِیوں نے دیکھ کر اُس سے کہا کہ دیکھ تیرے شاگِرد وہ کام کرتے ہیں جو سبت کے دِن کرنا روا نہیں۔
۳۔ اُس نے اُن سے کہا کیا تُم نے یہ نہیں پڑھا کہ جب داؤُد اور اُس کے ساتھی بُھوکے تھے تو اُس نے کیا کِیا؟
۴۔ وہ کیونکر خُدا کے گھر میں گیا اور نذر کی روٹِیاں کھائِیں جِن کو کھانا نہ اُس کو روا تھا نہ اُس کے ساتِھیوں کو مگر صِرف کاہِنوں کو؟
۵۔ یا تُم نے تَورَیت میں نہیں پڑھا کہ کاہِن سبت کے دِن ہَیکل میں سبت کی بے حُرمتی کرتے ہیں اور بے قُصُور رہتے ہیں؟
۶۔ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ یہاں وہ ہے جو ہَیکل سے بھی بڑا ہے۔
۷۔ لیکن اگر تُم اِس کے معنی جانتے کہ مَیں قُربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہُوں تو بے قصُوروں کو قُصُوروار نہ ٹھہراتے۔
۸۔ کیونکہ اِبنِ آدمؔ سبت کا مالِک ہے۔
۹۔ اور وہ وہاں سے چل کر اُن کے عِبادت خانہ میں گیا۔
۱۰۔ اور دیکھو وہاں ایک آدمی تھا جِس کا ہاتھ سُوکھا ہُؤا تھا۔ اُنہوں نے اُس پر اِلزام لگانے کے اِرادہ سے یہ پُوچھا کہ کیا سبت کے دِن شِفا دینا روا ہے؟
۱۱۔ اُس نے اُن سے کہا تُم میں اَیسا کَون ہے جِس کی ایک ہی بھیڑ ہو اور وہ سبت کے دِن گڑھے میں گِر جائے تو وہ اُسے پکڑ کر نہ نِکالے؟
۱۲ ۔پس آدمی کی قدر تو بھیڑ سے بُہت ہی زِیادہ ہے۔ اِس لِئے سبت کے دِن نیکی کرنا روا ہے۔
۱۳۔ تب اُس نے اُس آدمی سے کہا کہ اپنا ہاتھ بڑھا۔اُس نے بڑھایا اور وہ دُوسرے ہاتھ کی مانِند دُرُست ہو گیا۔
۱۴۔ اِس پر فرِیسِیوں نے باہر جا کر اُس کے برخِلاف مشورَہ کِیا کہ اُسے کِس طرح ہلاک کریں۔
۱۵۔سُوعؔ یہ معلُوم کر کے وہاں سے روانہ ہُؤا اور بُہت سے لوگ اُس کے پِیچھے ہو لِئے اور اُس نے سب کو اچّھا کر دِیا۔
۱۶۔ اور اُن کو تاکِید کی کہ مُجھے ظاہِر نہ کرنا۔
۱۷۔ تاکہ جو یسعیاہ نبی کی معرفت کہا گیا تھا وہ پُورا ہو کہ
۱۸۔ دیکھو یہ میرا خادِم ہے جِسے مَیں نے چُنا۔میرا پیارا جِس سے میرا دِل خُوش ہے۔مَیں اپنا رُوح اِس پر ڈالوں گا اور یہ غَیر قَوموں کو اِنصاف کی خبر دے گا۔
۱۹۔ یہ نہ جھگڑا کرے گا نہ شور اور نہ بازاروں میں کوئی اِس کی آواز سُنے گا۔
۲۰۔ یہ کُچلے ہُوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور دُھواں اُٹھتے ہُوئے سَن کو نہ بُجھائے گا جب تک کہ اِنصاف کی فتح نہ کرائے۔
۲۱۔ اور اِس کے نام سے غَیر قَومیں اُمّید رکھّیں گی۔
۲۲۔ اُس وقت لوگ اُس کے پاس ایک اندھے گُونگے کو لائے جِس میں بدرُوح تھی۔ اُس نے اُسے اچّھا کر دِیا۔ چُنانچہ وہ گُونگا بولنے اور دیکھنے لگا۔
۲۳۔ اور ساری بِھیڑ حَیران ہو کر کہنے لگی کیا یہ اِبنِ داؤُد ہے؟
۲۴۔ فرِیسِیوں نے سُن کر کہا یہ بدرُوحوں کے سردار بَعَلزؔبُول کی مدد کے بغَیر بدرُوحوں کو نہیں نِکالتا۔
۲۵۔ اُس نے اُن کے خیالوں کو جان کر اُن سے کہا جِس بادشاہی میں پُھوٹ پڑتی ہے وہ وِیران ہو جاتی ہے اور جِس شہر یا گھر میں پُھوٹ پڑے گی وہ قائِم نہ رہے گا۔
۲۶۔ اور اگر شَیطان ہی نے شَیطان کو نِکالا تو وہ آپ اپنا مُخالِف ہو گیا۔ پِھر اُس کی بادشاہی کیونکر قائِم رہے گی؟
۲۷۔ اور اگر مَیں بَعَلزؔبُول کی مدد سے بدرُوحوں کو نِکالتا ہُوں تو تُمہارے بیٹے کِس کی مدد سے نِکالتے ہیں؟ پس وُہی تُمہارے مُنصِف ہوں گے۔
۲۸۔ لیکن اگر مَیں خُدا کے رُوح کی مدد سے بدرُوحوں کو نِکالتا ہُوں تو خُدا کی بادشاہی تُمہارے پاس آ پُہنچی۔
۲۹۔ یا کیونکر کوئی آدمی کِسی زورآور کے گھر میں گُھس کر اُس کا اسباب لُوٹ سکتا ہے جب تک کہ پہلے اُس زورآور کو نہ باندھ لے؟ پِھر وہ اُس کا گھر لُوٹ لے گا۔
۳۰۔ جو میرے ساتھ نہیں وہ میرے خِلاف ہے اور جو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا وہ بکھیرتا ہے۔
۳۱۔ اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ آدمِیوں کا ہر گُناہ اور کُفر تو مُعاف کِیا جائے گا مگر جو کُفر رُوح کے حق میں ہو وہ مُعاف نہ کِیا جائے گا۔
۳۲۔ اور جو کوئی اِبنِ آدمؔ کے برخِلاف کوئی بات کہے گا وہ تو اُسے مُعاف کی جائے گی مگر جو کوئی رُوحُ القُدس کے برخِلاف کوئی بات کہے گا وہ اُسے مُعاف نہ کی جائے گی نہ اِس عالَم میں نہ آنے والے میں۔
۳۳۔ یا تو درخت کو بھی اچّھا کہو اور اُس کے پَھل کو بھی اچّھا یا درخت کو بھی بُرا کہو اور اُس کے پَھل کو بھی بُرا کیونکہ درخت پَھل ہی سے پہچانا جاتا ہے۔
۳۴۔ اَے سانپ کے بچّو تُم بُرے ہو کر کیونکر اچّھی باتیں کہہ سکتے ہو؟ کیونکہ جو دِل میں بھرا ہے وُہی مُنہ پر آتا ہے۔
۳۵۔ اچّھا آدمی اچّھے خزانہ سے اچّھی چِیزیں نِکالتا ہے اور بُرا آدمی بُرے خزانہ سے بُری چِیزیں نِکالتا ہے۔
۳۶۔ اور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو نِکمّی بات لوگ کہیں گے عدالت کے دِن اُس کا حِساب دیں گے۔
۳۷۔ کیونکہ تُو اپنی باتوں کے سبب سے راست باز ٹھہرایا جائے گا اور اپنی باتوں کے سبب سے قُصُوروار ٹھہرایا جائے گا۔
۳۸۔ اِس پر بعض فقِیہوں اور فرِیسِیوں نے جواب میں اُس سے کہا اَے اُستاد ہم تُجھ سے ایک نِشان دیکھنا چاہتے ہیں۔
۳۹۔ اُس نے جواب دے کر اُن سے کہا اِس زمانہ کے بُرے اور زِنا کار لوگ نِشان طلب کرتے ہیں مگر یُوناہ نبی کے نِشان کے سِوا کوئی اَور نِشان اُن کو نہ دِیا جائے گا۔
۴۰۔ کیونکہ جَیسے یُوؔناہ تِین رات دِن مچھلی کے پیٹ میں رہا وَیسے ہی اِبنِ آدمؔ تِین رات دِن زمِین کے اندر رہے گا۔
۴۱۔ نِینوؔہ کے لوگ عدالت کے دِن اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اِن کو مُجرِم ٹھہرائیں گے کیونکہ اُنہوں نے یُوؔناہ کی مُنادی پر تَوبہ کر لی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو یُوؔناہ سے بھی بڑا ہے۔
۴۲۔ دکھّن کی ملِکہ عدالت کے دِن اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ اُٹھ کر اِن کو مُجرِم ٹھہرائے گی۔ کیونکہ وہ دُنیا کے کنارے سے سُلیماؔن کی حِکمت سُننے کو آئی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو سُلیماؔن سے بھی بڑا ہے۔
۴۳۔ جب ناپاک رُوح آدمی میں سے نِکلتی ہے تو سُوکھے مقاموں میں آرام ڈُھونڈتی پِھرتی ہے اور نہیں پاتی۔
۴۴۔ تب کہتی ہے مَیں اپنے اُس گھر میں پِھر جاؤُں گی جِس سے نِکلی تھی اور آ کر اُسے خالی اور جھڑا ہُؤا اور آراستہ پاتی ہے۔
۴۵۔ پِھر جا کر اَور سات رُوحیں اپنے سے بُری ہمراہ لے آتی ہے اور وہ داخِل ہو کر وہاں بستی ہیں اور اُس آدمی کا پِچھلا حال پہلے سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ اِس زمانہ کے بُرے لوگوں کا حال بھی اَیسا ہی ہو گا۔
۴۶ ۔جب وہ بِھیڑ سے یہ کہہ رہا تھا اُس کی ماں اور بھائی باہر کھڑے تھے اور اُس سے بات کرنا چاہتے تھے۔
۴۷۔ کِسی نے اُس سے کہا دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تُجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
۴۸ ۔اُس نے خبر دینے والے کو جواب میں کہا کَون ہے میری ماں اور کَون ہیں میرے بھائی؟
۴۹۔ اور اپنے شاگِردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا دیکھو میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں۔
۵۰۔ کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وُہی میرا بھائی اور میری بہن اور ماں ہے۔