متؔی ۲

۲۔ مسیحِ مَوعُود اور بادشاہ کی اِبُتدائی سال (باب ۲)

۱لف۔ مجوسی بادشاہ کو سجدہ کرنے آتے ہیں (۲:‏۱-‏۱۲)

۲:‏۱،‏۲ مسیح کی پیدائش سے متعلقہ واقعات کی توارِیخی ترتِیب کے بارے میں اُلجھن کا شکار ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ آیت ایک سے ظاہر ہو سکتا ہے کہ ہیرودیس نے یسؔوع کو اُس وقت قتل کروانے کی کوشِش کی جب مرؔیم اور یُوسؔف ابھی بیت لحم میں قیام پذیر تھے۔ لیکن متحدہ شہادت سے پتا چلتا ہے کہ یہ واقعہ ایک یا دو سال بعد کا ہے۔ آیت ۱۱ میں متؔی کہتا ہے کہ مجوسیوں کی یسؔوع سے ملاقات ایک «گھر» میں ہوئی تھی۔ ہیرودیس نے حُکم دیا تھا کہ دو سال یا اِس سے کم عمر کے لڑکوں کو قتل کیا جائے (آیت ۱۶)۔ اِس حقیقت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شاہی پیدائش کے بعد ایک غیر معینہ عرصہ گزر چکا تھا۔

ہیرودیس اعظم عیسو کی نسل سے تھا اِس لئے روایتاً یہُودی وں کا دشمن تھا۔ اُس نے یہُودی ت کو قبول کر لیا تھا۔ لیکن غالباً اِس کے پیچھے سیاسی مصلحت اور محرکات تھے۔ اُس کے دورِ حکومت کے آخری ایام تھے جب «پورب سے مجوسی» «یہُودی وں کے بادشاہ» کو تلاش کرتے کرتے وُہاں پہنچے۔ شاید یہ افراد بُت پرست کاہن تھے،‏ جن کے رسم و رواج قُدرتی عناصر کے گرد گھومتے تھے۔ اپنے عِلم و دانش اور مستقبل کے حالات دریافت کر لینے کی صلاحیت کے باعث اُن کو اکثر بادشاہوں کے مشیر مقرر کیا جاتا تھا۔ ہمیں کُچھ عِلم نہیں کہ یہ مجوسی مشرق میں کہاں کے باشندے تھے،‏ اُن کی تعداد کیا تھی اور سفر میں اُن کو کتنا عرصہ لگا۔

اُن کو «بادشاہ» کی پیدائش کی خبر «پورب میں اُس کے ستارہ» سے ملی اور وُہ اُس کو سجدہ کرنے آئے۔ عین ممکن ہے کہ وُہ مسیحِ مَوعُود کی آمد کے بارے میں پُرانے عہدنامہ کی پیش گوئیوں سے واقف تھے۔ شاید وُہ بلعام کی اِس پیش گوئی کو بھی جانتے تھے کہ «یعقوب میں سے ایک ستارہ نکلے گا» (گنتی ۲۴:‏۱۷) اور اُنہوں نے اِس کو ستر ہفتوں کی اُس پیش گوئی کے ساتھ ملایا ہو جِس میں مسیح کی پہلی آمد کے بارے میں بُتایا گیا ہے (دانی ایل ۹:‏۲۴،‏۲۵)۔ لیکن زیادہ قرینِ قیاس بات یہی ہے کہ اُن کو یہ عِلم فوق الفطرت انداز میں پہنچا تھا۔

ستارے کے ظہور کے بارے میں متعدد سائنسی تشریحات پیش کی گئی ہیں۔ مثلاً بعض لوگ کہتے ہیں کہ اُس وقت کرّہ ہائے سماوی کا اجتماع ہُوا تھا۔ لیکن اِس ستارے کا مدار بالکُل بے قاعدہ تھا۔ یہ مجوسیوں کے آگے آگے چل کر اُن کو یروشلؔیم سے اُس گھر تک لے آیا جہاں یسؔوع کا قیام تھا (آیت ۹)۔ پھر وُہ ٹھہر گیا۔ درحقیقت یہ سب کُچھ اِتنا غیر معمولی تھا کہ اِسے مُعجزہ ہی قرار دے سکتے ہیں۔

۲:‏۳ جب «ہیرودیس بادشاہ» نے سنا کہ ایک بچہ پیدا ہُوا ہے جو یہُودی وں کا بادشاہ بنے گا تو وُہ «گھبرا گیا»۔ یہ بچہ اُس کی بے اَمن حکومت کے لئے خطرہ تھا۔ «اِس کے ساتھ یروشلؔیم کے سب لوگ گھبرا گئے۔» وُہ شہر جِس کو ایسی خبر پر خوش ہونا چاہئے تھا،‏ وُہ ہر ایسی خبر سے گھبرا جاتا تھا جِس سے اُس کی موجودہ حیثیت میں فرق آتا ہو،‏ یا جِس سے رؔومی حاکموں کے ناراض ہو جانے کا خدشہ ہو۔ حالانکہ اِن غیر قوم حاکموں کو سخت ناپسند کیا جاتا تھا۔

۲:‏۴-‏۶ ہیرودیس نے یہُودی مذہبی لیڈروں کو طلب کر لیا تاکہ معلوم کرے کہ «مسیح کی پیدائش کہاں ہونی چاہئے؟» «سردار کاہنوں» سے سردار کاہن اور اُس کے بیٹے (اور غالباً گھرانے کے دِیگر افراد بھی) مراد ہے۔
«قوم کے … فقیہوں» سے مراد وُہ لوگ ہیں جو مذہبی راہنما تو نہیں تھے،‏ لیکن مُو سؔیٰ کی شریعت کے ماہر عالم تھے۔ وُہ شریعت کو محفوظ رکھتے،‏ اُس کی تعلیم دیتے اور سنہیڈرن (یہُودی وں کی سب سے بڑی عدالت اور مذہبی مجلس) میں جج کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ اِن کاہنوں اور فقیہوں نے فوراً میکاہ ۵:‏۲ کا حوالہ دیا جو «یہُودی ہ کے بیت لحم» کی شناخت کرتا ہے کہ بادشاہ یہیں پیدا ہو گا۔ میکاہ کی نبوت کے متن میں اِس شہر کو «بیت لحم افراتاہ» کہا گیا ہے۔ چونکہ فلستین میں متعدد قصبے تھے جن کا نام «بیت لحم» تھا اِس لئے یہ حوالہ شناخت کرتا ہے کہ مذکورہ قصبہ افراتاہ کے علاقے میں ہے جو کہ یہُوؔداہ کے قبَیلے کی حدود میں ہے۔

۲:‏۷،‏۸ «ہیرودیس (بادشاہ) نے مجوسیوں کو چپکے سے بلا کر اُن سے تحقیق کی کہ وُہ ستارہ کس وقت دکھائی دِیا تھا۔» یہ چپکے سے بلانا اُس کی جلادانہ نیت کی چغلی کھاتا ہے۔ اگر وُہ صحیح بچے پر ہاتھ نہ ڈال سکا تو اُسے ایسی معلومات کی ضُرورتپیش آئے گی۔ اپنی نیت کو چھپانے کی غرض سے وُہ مجوسیوں کو اُس بچے کی تلاش میں بھیجتا اور اُن سے درخواست کرتا ہے کہ جب مل جائے تو مجھے خبر دینا۔

۲:‏۹ جب مجوسی روانہ ہو گئے تو «جو ستارہ اُنہوں نے پورب میں دیکھا تھا» وُہ دوبارہ نظر آنے لگا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِس ستارے نے مشرق سے سارے راستے اِن کی راہنمائی نہیں کی تھی۔ مگر اب وُہ یقینا اُن کی راہنمائی کرتا ہُوا اُس گھر تک لے آیا «جہاں وُہ بچہ تھا۔»

۲:‏۱۰ یہاں خاص طور سے ذِکر کیا گیا ہے کہ مجوسی «ستارے کو دیکھ کر نہایت خوش ہوئے۔» یہ غیر قوم افراد تن دہی اور جاں فشانی سے مسیح کی تلاش کر رہے تھے۔ ہیرودیس اُسے مار ڈالنے کے منصوبے بنائے بیٹھا تھا جب کہ کاہنوں اور فقیہوں کو کوئی پروا نہیں تھی اور یروشلؔیم کے لوگ گھبرائے ہوئے تھے۔ اِن رویوں سے پہلے سے ہی پتا چلتا ہے کہ مسیحِ مَوعُود کو بعد میں کس طرح قبول کیا جائے گا۔

۲:‏۱۱ مجوسیوں نے اُس گھر میں داخل ہو کر بچے کو اُس کی ماں مرؔیم کے پاس دیکھا۔ اُنہوں نے اُس کے آگے گر کر اُسے سجدہ کیا اور قیمتؔی نذرانے یعنی سونا،‏ مُر اور لبان اُس کو پیش کئے۔ غور کریں کہ اُنہوں نے یسؔوع کو اُس کی ماں کے پاس دیکھا۔ عام حالات میں ماں کا ذِکر پہلے آتا ہے اور بچے کا بعد میں۔ مگر یہ بچہ یکتا اور بے مثال ہے چنانچہ اِس کا ذِکر پہلے آنا ضرور ہے (آیات ۱۳،‏۱۴،‏۲۰ اور ۲۱ بھی دیکھئے)۔ مجوسیوں نے یسؔوع کو سجدہ کیا،‏ مرؔیم یا یُوسؔف کو نہیں (اِس بیان میں یُوسؔف کا کوئی ذِکر نہیں،‏ بُہت جلد اِس اِنجیلی بیان سے وُہ بالکُل ہی غائب ہو جائے گا)۔ یسؔوع ہی ہماری پرستش کا حق دار ہے۔ مرؔیم یا یُوسؔف قطعاً نہیں۔

مجوسیوں کے نذرانوں میں معنوں کے خزانے پوشیدہ ہیں۔ «سونا» الوہیّت اور جلال کی عَلامت ہے۔ یہ اُس کی الٰہی ذات کی پُرجلال کامِل یت کا بیان کرتا ہے۔ «لبان» ایک مرہم یا خوشبو ہے اور بے گُناہ زندگی کی کامِل یت کی خوشبو کا پتا دیتا ہے۔ « مُر» ایک کڑوی جڑی بوٹی ہے۔ یہ اُن دکھوں کی آگاہی دیتا ہے جو وُہ دُنیا کے گُناہ وں کو اُٹھانے کے سلسلے میں برداشت کرنے کو تھا۔ غیر قوم افراد کے یہ نذرانے ہمیں یسَعیاہ ۶۰:‏۶ کی زبان و بیان کی یاد دِل ا دیتے ہیں۔ یسَعیاہ نے پیش گوئی کی تھی کہ غیر قومیں ہدیئے لے کر مسیحِ مَوعُود کی خدمت میں حاضر ہوں گی۔ مگر اُس نے صِرف سونے اور لبان کا ذِکر کیا ہے۔ «… وُہ … سونا اور لبان لائیں گے اور خُداوند کی حمد کا اِعلان کریں گے۔» یسَعیاہ نے « مُر» کا ذِکر کیوں چھوڑ دیا؟ اِس لئے کہ وُہ مسیح کی آمدِثانی کا بیان کر رہا تھا جب وُہ بڑی قُدرت اور بڑے جلال کے ساتھ آئے گا۔ اُس وقت مُر نہیں ہو گا کیونکہ اُسے دُکھ نہیں اُٹھانے ہوں گے۔ لیکن متؔی مُر کو شامِل کرتا ہے کیونکہ مسیح کی پہلی آمد اُس کے سامنے ہے۔ متؔی کی اِنجیل میں مسیح کے دُکھوں کا بیان ہے جب کہ یسَعیاہ میں اُس بڑے جلال کا جو بعد میں آئے گا۔

۲:‏۱۲ خُدا نے مجوسیوں کو خواب میں خبردار کر دیا کہ ہیرودیس کے پاس واپس نہ جائیں۔ چنانچہ وُہ حُکم مان کر «دُوسری راہ سے اپنے ملک کو روانہ ہوئے۔» جو شخص بھی سچے دِل کے ساتھ یسؔوع کے ساتھ ملاقات کرتا ہے اُسی راہ سے واپس نہیں آتا۔ یسؔوع کے ساتھ حقیقی ملاقات زندگی کو یکسر بدِل ڈالتی ہے۔

ب۔ یُوسؔف،‏ مرؔیم اور یسؔوع مصر میں پناہ لیتے ہیں (۲:‏۱۳-‏۱۵)

۲:‏۱۳،‏۱۴ بچپن ہی سے ہمارے خُداوند کے سر پر موت کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ صاف نظر آتا ہے کہ وُہ مرنے ہی کے لئے پیدا ہُوا تھا۔ لیکن اُسے مقررہ وقت پر مرنا ضرور تھا۔ جو شخص بھی خُدا کی مرضی پر چلتا ہے،‏ اُس وقت تک نہیں مرتا جب تک اُس کا کام مکمل نہ ہو جائے۔ «خُداوند کے فرشتہ نے یُوسؔف کو خواب میں» خبردار کر دیا کہ اپنے خاندان کو لے کر «مصر کو بھاگ جا»۔ ہیرودیس اپنا «تلاش اور ہلاک» کرنے کا مشن شروع کرنے کو تھا۔ یہ خاندان ہیرودیس کے غضب کے باعث «پناہ گیر» بن گیا۔ ہمیں معلوم نہیں کہ وُہ کتنا عرصہ مصر میں رہے،‏ لیکن ہیرودیس کی موت سے اُن کی وطن واپسی کے راستے کھل گئے۔

۲:‏۱۵ یہاں پُرانے عہدنامہ کی ایک اَور نبوت نئے معانی میں لپٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ خُدا نے ہوسیع «نبی کی معرفت کہا تھا» کہ « مَیں نے … اپنے بیٹے کو مصر سے بلایا» (ہوسیع ۱۱:‏۱)۔ اپنے اصل سیاق و سباق میں اِس کا اِشارہ بنی اِسرائیل کی مصر سے رہائی کی طرف تھا جو خروُج کے موقعے پر پایۂ تکمیل کو پہنچی تھی۔ مگر اِس بیان کا مطلب دُہرا ہے کہ مسیحِ مَوعُود کی تاریخ بھی بنی اِسرائیل کے بالکُل مُشابہہو گی۔ یہ پیش گوئی مسیح کی زندگی میں پُوری ہوئی۔ وُہ مصر سے اِسرائیل میں واپس آیا۔

جب خُداوند راستی کے ساتھ بادشاہی کرنے کو واپس آئے گا تو مصر بھی اُن ممالک میں شامِل ہو گا جو ہزار سالہ برکات میں شریک ہوں گے (یسَعیاہ ۱۹:‏۲۱-‏۲۵؛ صفنیاہ ۳:‏۹،‏۱۰؛ زبُور ۶۸:‏۳۱)۔ یہ قوم جو روایتی طور پر بنی اِسرائیل کی دشمن ہے،‏ اِس پر ایسی مہربانی کیوں؟ کیا یہ خُدا کی طرف سے اَجر کی عَلامت ہے کہ اِس ملک نے خُداوند یسؔوع کو پناہ دی تھی؟

ج۔ ہیرودیس بیت لحم کے بچوں کو قتل کرواتا ہے (۲:‏۱۶-‏۱۸)

۲:‏۱۶ جب مجوسی بادشاہ کے پاس واپس نہ گئے تو «ہیرودیس» کو احساس ہو گیا کہ بچے بادشاہ کو تلاش کرنے کی میری چال ناکام ہو گئی ہے اور مجوسی مجھے دھوکا دے گئے ہیں تو احمقانہ غصے اور طیش میں آ کر اُس نے حُکم صادر کیا کہ «بیت لحم اور اُس کی سب سرحدوں کے اندر کے اُن سب لڑکوں کو قتل» کر دیا جائے «جو دو دو برس کے یا اِس سے چھوٹے تھے۔» قتل ہونے والے بچوں کی تعداد کے اندازے کے بارے میں اِختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک مُصنِفّ کی رائے میں تقریباً چھبیس بچے قتل ہوئے ہوں گے۔ تعداد کا سیکڑوں تک پہنچنا ممکن معلوم نہیں ہوتا۔

۲:‏۱۷،‏۱۸ بچوں کے قتل کے بعد جو «رونا اور بڑا ماتم» ہُوا،‏ وُہ «یرمیاہ نبی» کی نبوت کی تکمیل تھی کہ

«خُداوند یوں فرماتا ہے کہ
رامہ میں ایک آواز سنائی دی۔
نوحہ اور زار زار رونا۔
راخل اپنے بچوں کو رو رہی ہے۔
وُہ اپنے بچوں کی بابُت تسلی پذیر
نہیں ہوتی کیونکہ وُہ نہیں ہیں» (یرمیاہ ۳۱:‏۱۵)۔

نبوت میں «راخل» بنی اِسرائیل قوم کی نمائندگی کرتی ہے۔ قوم کے غم کو راخل سے منسوب کیا گیا جِسے رامہ میں (بیت لحم کے نزدیک جہاں قتلِ عام ہُوا تھا) دفن کیا گیا تھا۔ تصویر یہ ہے کہ جب غم زدہ والدین اُس کی قبر کے قریب سے گزرتے تھے تو گویا وُہ بھی اُن کے ساتھ رو اور ماتم کر رہی ہے۔ اپنے نو عمر حریف کو ختم کرنے کی کوشِش میں ہیرودیس کو حاصل تو کُچھ نہ ہُوا،‏ البُتہ تاریخ میں بدنام اور بے عزت افراد کی فہرست میں اُس کا نام بھی شامِل ہو گیا۔

د۔ یُوسؔف،‏ مرؔیم اور یسؔوع ناصرت میں مستقل رہائش اِختیار کرتےہیں (۲:‏۱۹-‏۲۳)

ہیرودیس کی وفات کے بعد «خُداوند کے فرشتہ نے … یُوسؔف کو» یقین دِل ایا کہ اَب وطن واپس جانے میں کوئی خطرہ نہیں۔ «اِسرائیل کے ملک» میں واپس آنے پر یُوسؔف نے سنا کہ ہیرودیس کا بیٹا «ارخلاؤس اپنے باپ ہیرودیس کی جگہ یہُودی ہ میں بادشاہی کرتا ہے» تو وُہ اُس علاقے میں جانے سے ہچکچانے لگا۔ خُدا نے «خواب میں» اُس کی تشویش اور خدشے کی تصدیق کر دی۔ چنانچہ وُہ شمال کی طرف «گلیل کے علاقے کو روانہ ہو گیا اور ناصرت نام ایک شہر میں جا بَسا۔»

اِس باب میں متؔی چوتھی دفعہ یاد دِل اتا ہے کہ نبوت پُوری ہوئی ہے۔ یہاں وُہ کِسی نبی کا نام نہیں لیتا بلکہ صِرف اِتنا کہتا ہے کہ «نبیوں کی معرفت کہا گیا تھا» کہ مسیحِ مَوعُود «ناصری کہلائے گا۔» پُرانے عہدنامہ کی کِسی آیت میں یہ بات براہِ راست نہیں کہی گئی۔ بُہت سے عِلما کا خیال ہے کہ یہاں متؔی نے یسَعیاہ ۱۱:‏۱ کی طرف اِشارہ کیا ہے جہاں مرقوم ہے کہ «یسی کے تنے سے ایک کونپل نکلے گی اور اُس کی جڑوں سے ایک بارآور شاخ پیدا ہو گی۔» جِس عبرانی لفظ کا ترجمہ «کونپل» کیا گیا ہے،‏ وُہ «نصر» ہے۔ لیکن یہ تعلق دُور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔ زیادہ بُہتر تشریح یہ ہو گی کہ جو شخص بھی ناصرت میں رہتا تھا،‏ وُہ «ناصری» کہلاتا تھا۔ باقی لوگ اِس قصبے کو تحقیر کی نظروں سے دیکھا کرتے تھے۔ نتن ایل اِسی بات کو اِس مثالی سوال سے ظاہر کرتا ہے کہ «کیا ناصرت سے کوئی اچھی چیز نکل سکتی ہے؟» (یُوحناؔ ۱:‏۴۶)۔ اِس «غیر اہم» قصبے کے ساتھ جو حقارت وابَستہ تھی،‏ وُہ اُس کے باشندوں کے حصے میں بھی آتی تھی۔ چنانچہ جب آیت ۲۳ میں کہا گیا ہے کہ «وُہ ناصری کہلائے گا» تو مطلب یہ ہے کہ اُس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک روا رکھا جائے گا۔ اگرچہ ہمیں کوئی نبوت نہیں ملتی کہ یسؔوع ناصری کہلائے گا لیکن ایک نبوت میں یہ ضرور کہا گیا ہے کہ «وُہ آدمیوں میں حقیر و مردود» (یسَعیاہ ۵۳:‏۳) ہو گا۔ ایک اَور نبوت میں کہا گیا ہے کہ وُہ اِنسان نہیں بلکہ کیڑا ہو گا جو سب آدمیوں میں انگشت نما اور حقیر ہو گا (زبُور ۲۲:‏۶)۔ چنانچہ اگرچہ نبیوں نے بالکُل وُہی لفظ تو استعمال نہیں کئے تھے،‏ لیکن اِنکار نہیں کیا جا سکتا کہ متعدد نبوتوں کی رُوح یہی ہے۔

بُہت حیرت افزا بات ہے کہ جب قادر خُدا اِس زمین پر آیا تو اُسے ایک ملامت اور حقارت بھرا عرف دیا گیا۔ جو لوگ اُس کی پیروی کرتے ہیں اُن کا اِعزاز ہے کہ اِس میں بھی شامِل ہوں (عبرانیوں ۱۳:‏۱۳)۔

کِتابِ مُقدّس

۱۔ جب یِسُوعؔ ہیرودؔیس بادشاہ کے زمانہ میں یہُودیہ کے بَیت لحم میں پَیدا ہُؤا تو دیکھو کئی مجُوسی پُورب سے یروشلِیم میں یہ کہتے ہُوئے آئے کہ
۲۔ یہُودِیوں کا بادشاہ جو پَیدا ہُؤا ہے وہ کہاں ہے؟ کیونکہ پُورب میں اُس کا ستارہ دیکھ کر ہم اُسے سِجدہ کرنے آئے ہیں۔
۳۔ یہ سُن کر ہیرودؔیس بادشاہ اور اُس کے ساتھ یروشلِیم کے سب لوگ گھبرا گئے۔
۴۔ اور اُس نے قَوم کے سب سردار کاہِنوں اور فقِیہوں کو جمع کر کے اُن سے پُوچھا کہ مسِیح کی پَیدایش کہاں ہونی چاہئے؟
۵۔ اُنہوں نے اُس سے کہا یہُودیہ کے بَیت لحم میں کیونکہ نبی کی معرفت یُوں لِکھا گیا ہے کہ
۶۔ اَے بَیت لحم یہُوداؔہ کے علاقے تُو یہُوداؔہ کے حاکِموں میں ہرگِز سب سے چھوٹا نہیں۔ کیونکہ تُجھ میں سے ایک سردار نکِلے گا جو میری اُمّت اِسرائیلؔ کی گلّہ بانی کرے گا۔
۷۔ اِس پر ہیرودؔیس نے مجُوسِیوں کو چُپکے سے بُلا کر اُن سے تحقِیق کی کہ وہ ستارہ کِس وقت دِکھائی دِیا تھا۔
۸۔ اور یہ کہہ کر اُنہیں بَیت لحم کو بھیجا کہ جا کر اُس بچّے کی بابت ٹِھیک ٹِھیک دریافت کرو اور جب وہ مِلے تو مُجھے خبر دو تاکہ مَیں بھی آ کر اُسے سِجدہ کرُوں۔
۹۔ وہ بادشاہ کی بات سُن کر روانہ ہُوئے اور دیکھو جو ستارہ اُنہوں نے پُورب میں دیکھا تھا وہ اُن کے آگے آگے چلا۔ یہاں تک کہ اُس جگہ کے اُوپر جا کر ٹھہر گیا جہاں وہ بچّہ تھا۔
۱۰۔ وہ ستارے کو دیکھ کر نِہایت خُوش ہُوئے۔
۱۱ ۔اور اُس گھر میں پُہنچ کر بچّے کو اُس کی ماں مریمؔ کے پاس دیکھا اور اُس کے آگے گِر کر سِجدہ کِیا اور اپنے ڈِبّے کھول کر سونا اور لُبان اور مُر اُس کو نذر کِیا۔
۱۲ ۔اور ہیرودؔیس کے پاس پِھر نہ جانے کی ہدایت خواب میں پا کر دُوسری راہ سے اپنے مُلک کو روانہ ہُوئے۔
۱۳ ۔جب وہ روانہ ہو گئے تو دیکھو خُداوند کے فرِشتہ نے یُوسفؔ کو خواب میں دِکھائی دے کر کہا اُٹھ۔ بچّے اور اُس کی ماں کو ساتھ لے کر مِصرؔ کو بھاگ جا اور جب تک کہ مَیں تُجھ سے نہ کہُوں وہیں رہنا کیونکہ ہیرودؔیس اِس بچّے کو تلاش کرنے کو ہے تاکہ اِسے ہلاک کرے۔
۱۴۔ پس وہ اُٹھا اور رات کے وقت بچّے اور اُس کی ماں کو ساتھ لے کر مِصرؔ کو روانہ ہو گیا۔
۱۵۔ اور ہیرودؔیس کے مَرنے تک وہیں رہا تاکہ جو خُداوند نے نبی کی معرفت کہا تھا وہ پُورا ہو کہ مِصرؔ میں سے مَیں نے اپنے بیٹے کو بُلایا۔
۱۶۔ جب ہیرودؔیس نے دیکھا کہ مجُوسِیوں نے میرے ساتھ ہنسی کی تو نِہایت غُصّے ہُؤا اور آدمی بھیج کر بَیت لحم اور اُس کی سب سرحدّوں کے اندر کے اُن سب لڑکوں کو قتل کروا دِیا جو دو دو برس کے یا اِس سے چھوٹے تھے۔ اُس وقت کے حِساب سے جو اُس نے مجُوسِیوں سے تحقِیق کی تھی۔
۱۷۔ اُس وقت وہ بات پُوری ہُوئی جو یِرمیاؔہ نبی کی معرفت کہی گئی تھی کہ
۱۸ ۔رامہ میں آواز سُنائی دی۔ رونا اور بڑا ماتم۔ راخِل اپنے بچّوں کو رو رہی ہے اور تسلّی قبُول نہیں کرتی اِس لِئے کہ وہ نہیں ہیں۔
۱۹۔ جب ہیرودؔیس مَر گیا تو دیکھو خُداوند کے فرِشتہ نے مِصرؔ میں یُوسفؔ کو خواب میں دِکھائی دے کر کہا کہ
۲۰۔ اُٹھ اِس بچّے اور اِس کی ماں کو لے کر اِسرائیلؔ کے مُلک میں چلا جا کیونکہ جو بچّے کی جان کے خواہاں تھے وہ مَر گئے۔
۲۱۔ پس وہ اُٹھا اور بچّے اور اُس کی ماں کو ساتھ لے کر اِسرائیلؔ کے مُلک میں آ گیا۔
۲۲ ۔مگر جب سُنا کہ اَرخلاؔؤس اپنے باپ ہیرودؔیس کی جگہ یہُودیہ میں بادشاہی کرتا ہے تو وہاں جانے سے ڈرا اور خواب میں ہدایت پا کر گلِیل کے عِلاقہ کو روانہ ہو گیا۔
۲۳۔ اور ناصرۃ نام ایک شہر میں جا بسا تاکہ جو نبِیوں کی معرفت کہا گیا تھا وہ پُورا ہو کہ وہ ناصری کہلائے گا۔