متؔی ۱۴

۱۴۔ بادشاہ کا دُکھ اور موت (ابواب ۲۶،‏۲۷)

الف۔ یسؔوع کو قتل کرنے کی سازِش (۲۶:‏۱-‏۵)

۲۶:‏۱،‏۲یہ اِس اِنجیل میں چوتھی اور آخری مُرتبہ ہے کہ یسؔوع اپنے شاگردوں کو پہلے سے بُتاتا ہے کہ مَیں مروں گا (۱۶:‏۲۱؛ ۱۷:‏۲۳؛ ۲۰:‏۱۸)۔ اُس کے اعلان میں یہ بات مضمر تھی کہ عید فسح کا میرے صلیب دیئے جانے کے وقت سے قریبی تعلق ہے۔ «تم جانتے ہو کہ دو دن کے بعد عید فسح ہو گی اور ابنِ آدم مصلوب ہونے کو پکڑوایا جائے گا۔» اِس سال عید فسح کو اپنا حقیقی مفہُوم مل جائے گا۔ بالآخر فسح کا برّہ آ گیا تھا اور بُہت جلد ذبح ہو گا۔

۲۶:‏۳-‏۵ اِدھر وُہ یہ الفاظ کہہ رہا تھا،‏ اُدھر «سردار کاہن اور قوم کے بزرگ کائفا نام سردار کاہن کے دیوان خانہ میں جمع» ہو رہے تھے تاکہ یسؔوع کو پکڑوانے اور قتل کرنے کی سازِش پر عمل کرنے کی چالیں تیار کریں۔ وُہ چاہتے تھے کہ اُسے چپکے سے پکڑوا کر مروا ڈالیں،‏ مگر ساتھ ہی سوچتے تھے کہ «عید» کے موقعے پر ایسا کرنا نادانی ہو گی مبادا اُس کے قتل پر لوگوں کا ردِعمل بے حد شدید ہو۔ یہ بات ناقابلِ یقین لگتی ہے کہ اِسرائیل کے مذہبی راہنمائوں نے اپنے مسحِ مَوعُود کو مروا ڈالنے کی سازِش میں پہل کی۔ اُن کو تو اُسے پہچاننے،‏ تسلیم کرنے اور تخت نشین کرنے میں آگے آگے ہونا چاہئے تھا۔ اِس کے برعکس وُہ اُس کے دشمنوں کا ہراول دستہ بن گئے۔

ب۔ بیت عنیاہ میں یسؔوع کو عطر مَلا جاتا ہے (۲۶:‏۶-‏۱۳)

۲۶:‏۶،‏۷ یہ خوش گوار واقعہ کاہنوں کی بے ایمانیوں اور دغابازیوں،‏ شاگردوں کی کم ظرفی اور یہُوؔداہ کی نمک حرامی کے درمیان پیش آیا۔ «جب یسؔوع بیت عنیاہ میں شمعون کوڑھی کے گھر میں تھا» تو ایک عورت نے آ کر «قیمتؔی عطر» سے بھرا «عطردان» «اُس کے سر پر» اُنڈیل دیا۔ اُس کے نذرانے کے بیش قیمت ہونے سے ثابُت ہوتا ہے کہ اُسے خُداوند یسؔوع سے کتنی زیادہ عقیدت تھی۔ عملاً وُہ کہہ رہی تھی کہ دُنیا کی کوئی چیز اِس ہستی سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔

۲۶:‏۸،‏۹ اُس کے «شاگردوں» اور خصُوصاً یہُوؔداہ (یُوحناؔ ۱۲:‏۴،‏۵) نے اِس بات کو بُہت بڑا «ضیاع» سمجھا۔ اُن کے خیال میں اِس کا بُہتر استعمال یہ تھا کہ «بِک کر غریبوں کو دیا» جاتا۔

۲۶:‏۱۰-‏۱۲ یسؔوع نے اُن کی غلط سوچ کو درست کیا۔ اُس کی حرکت «ضیاع» نہیں بلکہ «زیبا» تھی۔ علاوُہ ازیں نہایت موزوں وقت پر کی گئی تھی۔ غریبوں کی مدد کِسی وقت بھی کی جا سکتی ہے،‏ لیکن دُنیا کی ساری تاریخ میں صِرف یہی موقع تھا جب نجات دہندہ کو اُس کے دفن کے لئے مسح کیا جا سکتا تھا۔ وُہ لمحہ آ پہنچا تھا اور صِرف ایک «عورت» روحانی اِمتؔیاز کے باعث اُس لمحے سے فائدہ اُٹھا رہی تھی۔ اُس نے یقین کیا کہ خُداوند نے اپنی موت کی جو پیش گوئی کی وُہ بالکُل سچی ہے۔ اُس نے سوچا کہ یہ موقع پھر نہیں آنے کا۔ اور بعد میں ثابُت ہُوا کہ اُس کی سوچ بالکُل درست تھی۔ جن عورتوں نے اُس کی تدفین کے بعد اُسے خوشبو لگانے کا منصوبہ بنایا،‏ مسیح کے جی اُٹھنے نے اُن کے سارے منصوبوں پر پانی پھیر دیا (مرقسؔ ۱۶:‏۱-‏۶)۔

۲۶:‏۱۳ خُداوند یسؔوع نے محبُت کی اِس مخلصانہ حرکت کو بقا بخش دی۔ « مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تمام دُنیا میں جہاں کہیں اِس خوشخبری کی منادی کی جائے گی یہ بھی جو اِس نے کیا اِس کی یادگاری میں کہا جائے گا۔» سچے دِل سے کیا ہُوا عبادت کا ہر کام آسمان کی وسعتوں کو معطر کر دیتا ہے اور خُداوند کی یادداشت میں اَن مٹ نقش چھوڑتا ہے۔

ج۔ یہُوؔداہ کی غداری (۲۶:‏۱۴-‏۱۶)

۲۶:‏۱۴،‏۱۵ «اُس وقت اُن بارہ میں سے ایک نے» __ شاگردوں میں سے ایک جو خُداوند یسؔوع کے ساتھ رَہا کِیا،‏ جو اُس کے ساتھ جگہ جگہ گھومتا پھرتا رہا،‏ جو اُس کے معجزے دیکھتا رہا،‏ جو اُس کی بے مثال تعلیم سنتا رہا،‏ اور جِس نے اُس کی بے گُناہ زندگی کا مُعجزہ دیکھا۔ وُہ شخص جِس کے بارے میں یسؔوع کہہ سکتا تھا کہ «بلکہ میرے دِل ی دوست نے … جو میری روٹی کھاتا تھا» (زبُور ۴۱:‏۹)۔ یہی وُہ شخص تھا جِس نے «چاندی کے تیس سِکوں» کے عوض اپنے مالک پر «لات اُٹھائی۔» کاہنوں نے موقعے پر ہی اُسے یہ حقیر رقم ادا کر دی۔

شمعون کے گھر میں جِس عورت نے مسیح پر عطر ڈالا اور یہُوؔداہ کا تقابل بُہت ہی نمایاں نظر آتا ہے۔ عورت نے نجات دہندہ کی اِنتہائی قدر کی،‏ مگر یہُوؔداہ نے اِنتہائی بے قدری کی۔

۲۶:‏۱۶ اِس طرح جِس شخص کو یسؔوع سے سوائے مہر و محبُت کے کُچھ نہیں ملا تھا،‏ وُہ نکل گیا تاکہ اِس ہولناک سودے میں اپنا حصہ ادا کرے۔

د۔ آخری فسح (۲۶:‏۱۷-‏۲۵)

۲۶:‏۱۷ عید فطیر کا پہلا دن تھا۔ اِس موقعے پر یہُودی گھروں سے سارا خمیر دُور کر دیا جاتا تھا۔ یسؔوع نے اپنے شاگردوں کو یروشلؔیم میں بھیجا تاکہ «فسح تیار» کریں۔ خیال کریں کہ اُس وقت خُداوند کے دِماغ میں کس قِسم کے خیالات کا ہجوم ہو گا۔ اِس کھانے کی ہر تفصیل نہایت تلخ اہمیّت رکھتی ہے۔

۲۶:‏۱۸-‏۲۰ یسؔوع نے اپنے شاگردوں کو ایک «شخص» کے پاس بھیجا جِس کا نام بھی نہیں بُتایا گیا۔ وُہ آدمی اِنہیں اپنے «ہاں» یعنی اپنے گھر لے گیا۔ یہ گھر خُداوند نے مقرر کر رکھا تھا،‏ مگر کِسی کو اِس کا عِلم نہ تھا۔ غیر واضح ہدایات شاید اِس لئے دی گئیں کہ سازشیوں کو پتا نہ چل سکے۔ کُچھ بھی ہو،‏ ہم دیکھتے ہیں کہ یسؔوع کو تمام افراد کے بارے میں کامِل عِلم تھا،‏ کہ وُہ کہاں ہوں گے اور وُہ تعاون کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ اُس کے الفاظ پر غور کریں» «اُستاد فرماتا ہے کہ میرا وقت نزدیک ہے۔ مَیں اپنے شاگردوں کے ساتھ تیرے ہاں عید فسح کروں گا۔» اُسے معلوم ہے کہ موت قریب ہے،‏ مگر وُہ پورے توازن کے ساتھ اُس کا سامنا کرتا ہے۔ اُس نے پورے وقار کے ساتھ کھانے کا بَندوبَست کیا۔ اُس گمنام آدمی کے لئے کتنا بڑا اعزاز تھا کہ اُس نے آخری فسح کے لئے اپنا گھر خُداوند کو دیا!

۲۶:‏۲۱-‏۲۴ جب وُہ فسح کھا رہے تھے تو خُداوند نے دھچکا لگانے والا اعلان کیا کہ «تم میں سے ایک مجھے پکڑوائے گا۔» شاگردوں کے دِل غم اور شرمندگی سے بھر گئے۔ اُن کا اپنے اُوپر سے اعتماد اُٹھ گیا۔ ایک ایک کر کے وُہ پوچھنے لگے ’‘اے خُداوند،‏ کیا مَیں ہوں؟» جب سوائے یہُوؔداہ کے سب پوچھ چکے تو یسؔوع نے اُن کو بُتایا کہ «جِس نے میرے ساتھ طباق میں ہاتھ ڈالا ہے وُہی مجھے پکڑوائے گا۔» پھر خُداوند نے روٹی کا ایک نوالہ لیا اور اُسے شوربے میں ڈبو کر یہُوؔداہ کو دیا (یُوحناؔ ۱۳:‏۲۶)۔ یہ خصوصی دوستی اور محبُت کا نشان تھا۔ اُس نے اِنہیں یاد دِل ایا کہ جو کُچھ میرے ساتھ ہونے والا ہے،‏ اُسے ایک لحاظ سے روکا نہیں جا سکتا۔ لیکن پھر بھی غدار ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا۔ «اگر وُہ آدمی پیدا نہ ہوتا تو اُس کے لئے اچھا ہوتا۔» یہُوؔداہ نے دیدہ دانستہ نجات دہندہ کو بیچ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ اِس لئے وُہ ذاتی طور پر ذمہ دار ہے۔

۲۶:‏۲۵ جب آخر کار یہُوؔداہ نے سیدھا سیدھا پوچھ ہی لیا کہ «کیا مَیں ہوں؟» تو یسؔوع نے جواب دیا «ہاں»۔

ہ۔ خُداوند کی پہلی عِشاء (۲۶:‏۲۶-‏۲۹)

یُوحناؔ ۱۳:‏۳۰ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ جونہی یہُوؔداہ نے روٹی کا نوالہ لے لیا وُہ باہر نکل گیا۔ اور یہ رات کا وقت تھا۔ اِس لئے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جب عشائے ربانی کی پاک رسم جاری کی گئی تو یہُوؔداہ وُہاں موجود نہیں تھا (مگر عِلما میں اِس بارے میں بُہت اختلافِ رائے ہے)۔

۲۶:‏۲۶ اپنی آخری فسح منانے کے بعد نجات دہندہ نے وُہ رسم مقرر کی جِسے ہم عشائے ربانی کہتے ہیں۔ ضروری عناصر یعنی روٹی اور مے فسح کے کھانے کا حصہ ہونے کے باعث پہلے ہی میز پر موجود تھے۔ یسؔوع نے اُن کو نئے معانی پہنا دیئے۔ پہلے «یسؔوع نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی اور شاگردوں کو دے کر کہا لو کھائو۔ یہ میرا بدن ہے۔» چونکہ تاحال اُس کا بدن صلیب پر دیا نہیں گیا تھا،‏ اِس لئے صاف ظاہر ہے کہ وُہ اِستعاراتی معنوں میں بات کر رہا تھا اور روٹی کو اپنے بدن کی عَلامت کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔

۲۶:‏۲۷،‏۲۸ یہی بات «پیالہ» پر صادق آتی ہے۔ پیالے کا لفظ اُن کے اندر کی مَے کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ پیالے میں انگور کا شیرہ تھا جِس کو «نئے عہد کے خون» کی عَلامت ٹھہرایا گیا۔ فضل کے غیر مشروط «نئے عہد» کی توثیق اُس کے قیمتؔی خون سے ہو گی۔ جو «بُہتیروں کے لئے گُناہ وں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے۔» اُس کا خون تمام بنی نوعِ اِنسان کی معافی کے لئے «کافی» ہے لیکن یہاں وُہ «بُہتیروں کے لئے … بہایا جاتا ہے۔» اِس لئے کہ یہ خون صِرف اُن کے گُناہ وں کو دُور کرنے کے لئے «موثر» ہوتا ہے جو ایمان لاتے ہیں۔

۲۶:‏۲۹ اِس کے بعد نجات دہندہ نے شاگردوں کو یاد دِل ایا کہ «انگور کا یہ شیرہ پھر کبھی نہ پیوں گا» جب تک بادشاہی کرنے کے لئے زمین پر واپس نہ آئوں گا۔ پھر اُس شیرے کی نئی اہمیّت ہو گی۔ یہ اُس کے «باپ کی بادشاہی» کی شادمانی اور برکت کو ظاہر کرے گا۔

اکثر یہ سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ عشائے ربانی کے لئے ہم خمیری روٹی استعمال کریں یا بے خمیری۔ خمیر اُٹھائی ہوئی مے استعمال کریں یا بے خمیر کا شیرہ۔ اِس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ خُداوند نے بے خمیری روٹی اور خمیر اُٹھا کر بنائی گئی مَے (اُس زمانے میں ہر مے خمیر اُٹھا کر بنائی جاتی تھی) استعمال کی تھی۔ جو لوگ یہ دِل یل دیتے ہیں کہ خمیری روٹی مثیل کو (خمیر گُناہ کا مثیل ہے) خراب کر دیتی ہے،‏ اُن کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہی بات خمیر اُٹھائی ہوئی مے پر بھی صادق آتی ہے۔ یہ بات بے حد المناک ہے کہ ہم ’عناصر» پر اِتنی بحث کرنے لگتے ہیں کہ ’خود خُداوند‘ کو بھول جاتے ہیں۔ پُولُسؔ اِس بات پر زور دیتا ہے کہ روٹی نہیں بلکہ روٹی کے روحانی معانی اصل اہمیّت رکھتے ہیں۔ «کیونکہ ہمارا بھی فسح یعنی مسیح قربان ہُوا۔ پس آئو ہم عید کریں۔ نہ پُرانے خمیر سے اور نہ بدی اور شرارت کے خمیر سے،‏ بلکہ صاف دِل ی اور سچائی کی بے خمیر روٹی سے» (۱۔کرنتھیوں ۵:‏۷،‏۸)۔ روٹی کے اندر جو «خمیر» ہے اُسے کوئی اہمیّت حاصل نہیں بلکہ اُس خمیر کو جو «ہماری زندگیوں» میں موجود ہے۔

و۔ خود اِعتماد شاگرد (۲۶:‏۳۰-‏۳۵)

۲۶:‏۳۰ عشائے ربانی کے بعد اِس چھوٹے سے گروُہ نے ایک «گیت» گایا۔ غالباً «عظیم ہیلّل» یعنی زبُور ۱۱۳-‏۱۱۸ میں سے کوئی زبُور گایا ہو گا۔ پھر وُہ یروشلؔیم سے باہر چلے گئے۔ قدرون کا نالہ پار کر کے اور کوُہ زیتون کی مغربی ڈھلان چڑھ کر گتسمنی باغ میں جا پہنچے۔

۲۶:‏۳۱ اپنی زمینی خدمت کے دوران خُداوند یسؔوع پُوری وفاداری سے شاگردوں کو خبردار کرتا رہا تھا کہ تمہارے آگے کس قِسم کا راستہ ہے۔ اب اُس نے اِنہیں بُتایا کہ «اِسی رات» تم مجھے چھوڑ دو گے۔ جب وُہ آنے والے طوفان کی شدت اور غضب کو دیکھیں گے تو خوف تلے دَب کر رہ جائیں گے۔ اپنی جانیں بچانے کے لئے اپنے اُستاد کو چھوڑ دیں گے۔ زِکریاہ کی نبوت پُوری ہو گی کہ «چرواہے کو مار کہ گلّہ پراگندہ ہو جائے» (۱۳:‏۷)۔

۲۶:‏۳۲ لیکن اُس نے اِنہیں بے اُمید نہیں چھوڑا۔ اگرچہ وُہ خُداوند کے ساتھ تعلق رکھنے پر شرمندہ ہوں گے مگر وُہ اُن سے دست بردار نہیں ہو گا بلکہ جی اُٹھنے کے بعد وُہ «گلیل» میں اُن سے ملے گا۔ بُہت خوب! ایسا دوست جو کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا۔

۲۶:‏۳۳،‏۳۴ پَطرسؔ نے جلد بازی سے خُداوند کو ٹوکا کہ بے شک دوسرے تیرا ساتھ چھوڑ جائیں مگر مَیں «کبھی نہیں چھوڑوں گا۔» یسؔوع نے اُس کے «کبھی نہیں» کو درست کیا کہ «اِسی رات … تین بار۔» مرغ کے بانگ دینے سے پہلے یہ تیز مزاج شاگرد اپنے مالک کا اِنکار کرے گا۔

۲۶:‏۳۵ پَطرسؔ اپنی وفاداری پر زور دیتا اور کہتا رہا کہ «مجھے مرنا بھی پڑے تو بھی تیرا اِنکار ہرگز نہ کروں گا۔» دوسرے سارے شاگرد بھی اُس کے ہم زُبان ہو گئے۔ وُہ سب کُچھ سچے دِل سے کہہ رہے تھے۔ بات صِرف اِتنی تھی کہ وُہ اپنے دِل وں سے ناواقف تھے۔

ز۔ گتسمنی میں جاں کنی (۲۶:‏۳۶-‏۴۶)

جو شخص بھی گتسمنی باغ کا ذِکر کرتا ہے،‏ اُسے یقینا احساس ہوتا ہے کہ مَیں پاک زمین پر قدم رکھ رہا ہوں۔ جو شخص بھی اِن واقعات پر تبصرہ کرنے لگتا ہے،‏ اُس کو خاص دہشت اور سکوت کا احساس ہوتا ہے۔ گوئے کنگ لِکھتا ہے کہ «اِس واقعے کی آسمانی اور رفیع خصوصیت اِنسان کے دِل میں خوف اور دہشت پیدا کر دیتی ہے کہ ہمارے چھونے سے یہ کہیں خراب نہ ہو جائے۔»

۲۶:‏۳۶-‏۳۸ گتسمنی (بمعنی زیتون کا حوض یا زیتون کا کولھو) باغ میں داخل ہو کر یسؔوع نے اپنے گیارہ میں سے آٹھ شاگردوں سے کہا کہ «یہیں بیٹھے رہنا۔» اور «پَطرسؔ اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر» باغ کے زیادہ اندر چلا گیا۔ اِس سے شاید یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کُچھ شاگرد زیادہ بھانپ سکے اور کُچھ کم۔ اُس نے اِن تینوں کو صاف صاف بُتایا کہ «میری جان نہایت غمگین ہے،‏ یہاں تک کہ مرنے کی نوبُت پہنچ گئی ہے۔» یہ اُس کراہیت کا اِظہار ہے جو مسیح اُس گھڑی کے بارے میں محسوس کر رہا تھا جب اُسے بنی نوعِ اِنسان کے لئے گُناہ کی قربانی بننا تھا۔ ہم جو گُناہ آلودہ ہیں تصور بھی نہیں کر سکتے کہ اُس پاک ہستی کے لئے جو گُناہ سے ناواقف نہ تھی ہمارے لئے گُناہ ٹھہرایا جانا کیا معانی رکھتا تھا (۲۔کرنتھیوں ۵:‏۲۱)۔

۲۶:‏۳۹ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ یسؔوع اُن تین شاگردوں کو بھی چھوڑ کر «ذرا آگے بڑھا» یعنی باغ میں کُچھ اَور آگے چلا گیا۔ اُس وقت کوئی بھی اُس کے دُکھ میں شریک نہیں ہو سکتا تھا،‏ نہ اُس کی یہ دُعا مانگ سکتا تھا کہ «اے میرے باپ! اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔ تو بھی نہ جیسا مَیں چاہتا ہوں،‏ بلکہ جیسا تُو چاہتا ہے،‏ ویسا ہی ہو۔»

مبادا ہم یہ سوچنے لگیں کہ یہ دُعا یسؔوع کی نارضا مندی یا پیچھے ہٹ جانے کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے ہمیں یُوحناؔ ۱۲:‏۲۷،‏۲۸ میں اُس کے اِن الفاظ کو یاد رکھنا چاہئے کہ «میری جان گھبراتی ہے۔ پس مَیں کیا کہوں؟ اے باپ! مجھے اِس گھڑی سے بچا لیکن مَیں اِسی سبب سے تو اِس گھڑی کو پہنچا ہوں۔ اے باپ! اپنے نام کو جلال دے۔» اِس لئے یہ دُعا کہ «یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے» اِس مقصد کے لئے نہ تھا کہ خُدا اُسے صلیب پر جانے سے بچا لے کیونکہ اِسی مقصد کے لئے تو وُہ دُنیا میں آیا تھا!

عِلم البدیع کے مطابق یہ دُعا ایک خاص اندازِ بیان ہے۔ اُس نے یہ دُعا اِس لئے نہیں مانگی کہ اُس کا جواب چاہتا تھا بلکہ مقصد ایک سبق سکھانا تھا۔ گویا وُہ کہہ رہا تھا کہ «اے باپ! اگر میرے صلیب پر چڑھنے کے علاوُہ گنہگاروں کو بچانے کا کوئی اَور راستہ ہے،‏ تو اِس وقت ظاہر کر دے۔ لیکن اِن ساری باتوں میں تیری مرضی کے خلاف کُچھ نہیں چاہتا۔»

اِس کا جواب کیا تھا؟ کُچھ بھی نہیں۔ آسمان خاموش تھا۔ یہ خاموشی بڑی فصاحت کے ساتھ سب کُچھ بُتا رہی تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ گنہگاروں کو راست باز ٹھہرانے کا خُدا کے پاس کوئی طریقہ نہ تھا سوائے اِس کے کہ مسیح،‏ گُناہ سے ناواقف نجات دہندہ،‏ ہمارا عوضی ہو کر مرے۔

۲۶:‏۴۰،‏۴۱ وُہ «شاگردوں» کے پاس واپس آیا تو «اُن کو سوتے پایا۔» اُن کی روحیں تو «مستعد» تھیں مگر «جِسم کمزور» تھے۔ جب ہم اپنی دُعائیہ زندگیوں پر نظر دوڑائیں تو ہم اُن کو موردِ الزام ٹھہرانے کی ہرگز جرأت نہیں کر سکتے کیونکہ جِس وقت ہمارے ذہنوں کو مستعد ہونا چاہئے وُہ پریشان خیالی کا شکار ہوتے ہیں۔ جِس طرح خُداوند نے پَطرسؔ سے کہا اُسی طرح اُسے کتنی دفعہ ہمیں بھی کہنا پڑتا ہے کہ «کیا تم میرے ساتھ ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکے؟ جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو؟»

۲۶:‏۴۲ «پھر دوبارہ اُس نے جا کر یوں دُعا کی» اور اپنے باپ کی مرضی کی تابع فرمانی کرنے کے عزم کا اِظہار کیا۔ وُہ دُکھوں اور موت کے پیالے کو تلچھٹ تک پینے کو تیار تھا۔

وُہ اپنی دُعائیہ زندگی میں لازماً تنہا تھا۔ اُس نے شاگردوں کو دُعا مانگنا سکھایا،‏ اور وُہ اُن کے دیکھتے ہوئے دُعا مانگا کرتا تھا۔ لیکن اُس نے اُن کے ساتھ کبھی دُعا نہیں مانگی۔ اُس کے کام اور شخصیت اور ذات کی یکتائی مانع آتی تھی کہ کوئی اَور اُس کی دُعائیہ زندگی میں شریک ہو۔

۲۶:‏۴۳-‏۴۵ جب وُہ دُوسری دفعہ اپنے شاگردوں کے پاس آیا تو «اِنہیں پھر سوتے پایا۔» تیسری دفعہ بھی ایسا ہی ہُوا۔ اِس دفعہ اُس نے کہا کہ «اب سوتے رہو اور آرام کرو۔ دیکھو وقت آ پہنچا ہے اور ابنِ آدم گنہگاروں کے حوالہ کیا جاتا ہے۔»

۲۶:‏۴۶ اب اُس کے ساتھ جاگ کر مستعد رہنے کا موقع نکل چکا تھا۔ غداری سے پکڑوانے والے کے قدموں کی آواز آ رہی تھی۔ یسؔوع نے کہا «اُٹھو،‏ چلیں۔» پسپائی کے لئے نہیں،‏ بلکہ دشمن کا سامنا کرنے کے لئے۔

گتسمنی باغ سے باہر نکلنے سے پہلے،‏ آئیے ہم ذرا رُک جائیں،‏ اُس کی آہوں اور سسکیوں کو سنیں،‏ اُس کے غم پر غور کریں اور دِل کی گہرائیوں سے اُس کا شکر ادا کریں۔

ح۔ گتسمنی باغ میں یسؔوع کو دھوکے سے پکڑوایا جاتا ہے (۲۶:‏۴۷-‏۵۶)

بے گُناہ نجات دہندہ کو اُس کے اپنے ہی ایک مخلوق نے دھوکے کے ساتھ گرفتار کروا دیا۔ یہ بات تاریخ میں سب سے بڑی بے قاعدہ بات معلوم ہوتی ہے۔ یہُوؔداہ کی کمینگی اور ناقابلِ عذر غداری کو سوائے اِنسانی خباثت کے اَورکس طرح بیان کیا جا سکتا ہے؟

۲۶:‏۴۷ یسؔوع اپنے گیارہ شاگردوں سے بات کر ہی رہا تھا کہ «یہُوؔداہ» ایک جتھے کو لے کر آ پہنچا جِس کے ہاتھ میں «تلواریں اور لاٹھیاں» تھیں۔ ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہُوؔداہ نے ہتھیار لانے کو نہیں کہا ہو گا۔ وُہ جانتا تھا کہ نجات دہندہ کبھی مزاحمت نہیں کرتا نہ لڑائی میں مقابلہ کرتا ہے۔ یہ ہتھیار اِس بات کی عَلامت تھے کہ سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے مصمم اِرادہ کر رکھا ہے کہ اُسے فرار ہونے کا موقع دیئے بغیر گرفتار کر لیا جائے۔

۲۶:‏۴۸ یہُوؔداہ نے بھیڑ کو نشان دے رکھا تھا کہ «جِس کا مَیں بوسہ لوں وُہی ہے۔» بوسہ محبُت کا عالمگِیر نشان ہے،‏ مگر یہُوؔداہ نے اِسے اِنتہائی گھٹیا مقصد کے لئے استعمال کیا۔

۲۶:‏۴۹ خُداوند کے قریب آتے ہوئے یہُوؔداہ نے کہا «اے ربی،‏ سلام» اور «اُس کے بوسے لئے»۔ کلام کے اِس حصے میں «بوسہ لینے» کے لئے دو مُختلفِ لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ آیت ۴۸ میں تو معمول کا لفظ ہے جب کہ آیت ۴۹ میں زیادہ زور دار لفظ استعمال ہُوا ہے جِس کا مطلب ہے بار بار بوسہ لینا یا بوسوں کا مظاہرہ کرنا۔

۲۶:‏۵۰ بڑے متوازن اور دِل کو مجرم ٹھہرانے والے انداز میں «یسؔوع » نے اُس کو جواب دیا «میاں! جِس کام کو آیا ہے وُہ کر لے۔» بے شک اِن الفاظ نے یہُوؔداہ کے سراپے میں آگ لگا دی،‏ لیکن واقعات اِس تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے کہ کُچھ کر نہیں سکتا تھا۔ ہجوم نے آگے بڑھ کر بلا توقف خُداوند یسؔوع کو گرفتار کر لیا۔

۲۶:‏۵۱ «یسؔوع کے ساتھیوں میں سے ایک» … یُوحناؔ ۱۸:‏۱۰ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ وُہ پَطرسؔ تھا،‏ اُس نے تلوار چلا کر سردار کاہن کے نوکر کا کان اُڑا دیا۔ یہ تو ممکن نہیں کہ پَطرسؔ نے کان کا نشانہ لیا تھا۔ اُس نے یقینا اُس کا کام تمام کر دینے کو ہاتھ چلایا تھا،‏ لیکن اُس کا وار خالی گیا۔ اِس میں بھی الٰہی مشیت کار فرما تھی۔

۲۶:‏۵۲ یہاں خُداوند یسؔوع کے اخلاق کا جلال تیزی سے چمکتا ہُوا نظر آتا ہے۔ پہلے اُس نے پَطرسؔ کو جھڑکا۔ «اپنی تلوار کو میان میں کر لے کیونکہ جو تلوار کھینچتے ہیں،‏ وُہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائیں گے۔» مسیح کی بادشاہی میں فتوحات دُنیوی ذرائع سے حاصل نہیں کی جاتیں۔ روحانی جنگ میں مسلح طاقت کا سہارا لینا تباہی و بربادی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بادشاہی کے دشمن بے شک تلواریں استعمال کریں مگر بالآخر شکست سے دوچار ہوں گے۔ مسیح کے سپاہی کو تو دُعا اور خُدا کے کلام اور رُوح سے معمور زندگی پر تکیہ کرنا چاہئے۔

لُوقاؔ طبیب ہمیں بُتاتا ہے کہ یسؔوع نے اُسی وقت ملخس نامی نوکر کا کان اچھا کر دیا (لُوقاؔ ۲۲:‏۵۱؛ یُوحناؔ ۱۸:‏۱۰)۔ کیا یہ فضل کا عجیب مظاہرہ نہیں تھا؟ وُہ اپنے عداوت رکھنے والوں سے بھی محبُت رکھتا تھا اور جو اُس کی جان کے درپے تھے،‏ اُن پر مہربان تھا۔

۲۶:‏۵۳،‏۵۴ اگر یسؔوع اُس ہجوم کی مزاحمت کرنا چاہتا تو اُسے پَطرسؔ کی حقیر سی تلوار کی ضُرورتنہ پڑتی۔ وُہ «فرشتوں کے بارہ تُمن سے زیادہ» کو طلب کر سکتا تھا (یعنی ۰۰۰،‏۳۶ سے ۷۲۰۰۰ فرشتے) مگر اِس طرح خُدا کا منصوبہ باطل ہو جاتا۔ اُس کے پکڑوائے جانے،‏ دُکھ اُٹھانے،‏ مصلوب ہونے اور جی اُٹھنے کے بارے میں جتنی بھی پیش گوئیاں تھیں،‏ اُن سب کا پورا ہونا «ضرور» تھا۔

۲۶:‏۵۵ پھر یسؔوع نے بھیڑ کو یاد دِل ایا کہ تمہارا یوں ہتھیار اُٹھا کر مجھے پکڑنے آنا کیسا غیر موزوں فعل ہے۔ وُہ جانتے تھے کہ یہ شخص نہ کبھی کِسی پر سختی یا زیادتی کرتا ہے،‏ نہ کِسی کو لُوٹتا ہے بلکہ بڑے سکون کے ساتھ «ہر روز ہیکل میں بیٹھ کر» تعلیم دیتا تھا۔ وُہ اُسے بڑی آسانی سے اُس وقت گرفتار کر سکتے تھے مگر نہیں کیا۔ اب «تلواریں اور لاٹھیاں لے کر» کیوں آئے تھے؟ اُن کی حرکت بالکُل نامعقول تھی۔

۲۶:‏۵۶ مگر خُداوند کو معلوم تھا کہ اِنسان کی شرارت صِرف خُدا کے مقررہ منصوبے کو پورا کرے گی۔ «مگر یہ سب کُچھ اِس لئے ہُوا ہے کہ نبیوں کے نوشتے پورے ہوں۔» یہ محسوس کر کے کہ اب ہمارا اُستاد بچ نہیں سکتا «سب شاگرد اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے» جیسے اُن پر ناگہانی دہشت چھا گئی ہو۔ اگر اُن کی بزدِل ی ناقابلِ عذر ہے تو ہماری بزدِل ی اُن سے بڑھ کر ناقابلِ عذر ہے۔ ابھی تک رُوح القُدس اُن کے اندر سکونت نہیں کر رہا تھا جب کہ ہمارے اندر کرتا ہے۔

ط۔ کائفا کے سامنے پیشی (۲۶:‏۵۷-‏۶۸)

۲۶:‏۵۷ یسؔوع کی دو بڑی پیشیاں ہوئیں۔ پہلی پیشی یہُودی لیڈروں کے سامنے مذہبی عدالت (آج کل کی زُبان میں شریعت کورٹ) میں ہوئی۔ دُوسری پیشی رؔومی حاکموں کے سامنے سرکاری (دیوانی) عدالت میں ہوئی۔ چاروں اناجیل کے بیانات کو ملانے سے واضح ہوتا ہے کہ ہر پیشی کے کے تین مرحلے تھے۔ یہُودی عدالت کے بارے میں یُوحناؔ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسؔوع کو پہلے کائفا کے سُسر حنا سردار کاہن کے سامنے پیش کیا گیا۔ متؔی کے بیان کا آغاز دوسرے مرحلے سے ہوتا ہے۔ جب اُسے «کائفا نام سردار کاہن کے پاس لے گئے» تھے۔ سنہیڈرن یعنی یہُودی وں کی مذہبی عدالت کے ارکان وُہیں «جمع ہو گئے تھے۔» عام معمول یہ تھا کہ ملزم کو اپنے دفاع کی تیاری کا موقع دیا جاتا تھا لیکن آج یہ یہُودی لیڈر اِتنی جلدی میں تھے کہ اُنہوں نے اپنی بے صبری میں یسؔوع کو ایک منصفانہ مقدمے سے محرؔوم رکھا۔

آج کی خاص رات فریسیوں،‏ صدوقیوں « فقیہوں اور بزرگوں» نے جو سنہیڈرن کے ارکان تھے،‏ سارے اصولوں اور آئین و قوانین کو بالائے طاق رکھ دیا۔ اُن کو عدالتی کارروائی کے لئے رات کے وقت یا کِسی بھی یہُودی عید کے دوران جمع ہونا شرعاً جائز نہ تھا۔ ایک پُوری رات گزرنے سے پہلے موت کا فتویٰ صادر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اور اگر وُہ ہیکل کے اِحاطے میں اُس مخصوص ہال میں جمع نہ ہوتے جو گھڑے ہوئے پتھروں سے بنایا گیا تھا،‏ تو اُن کے فتوے کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوتی تھی۔ یعنی اُس کی پابَندی لازمی نہیں ہوتی تھی۔ یسؔوع سے خلاصی پانے کا بھوت اُن پر ایسا سوار تھا کہ اُنہوں نے اپنے ہی قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں۔

۲۶:‏۵۸ کائفا عدالت کی کرسی صدارت پر بیٹھا تھا۔ سنہیڈرن مُدَّعی بھی تھی اور جیوری بھی۔ یہ بے قاعدہ ترکیب تھی کیونکہ یہ بات قانون کے منافی ہے کہ مُدَّعی خود ہی جیوری ہو۔ یسؔوع مُدُعا علیہ تھا اور «پطرس» ایک تماشائی تھا اور وُہ بھی فاصلے پر،‏ جہاں کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا۔ وُہ «پیادوں کے ساتھ نتیجہ دیکھنے کو بیٹھ گیا۔»

۲۶:‏۵۹-‏۶۱ یہُودی لیڈر یسؔوع «کے خلاف جھوٹی گواہی ڈھونڈنے لگے» مگر اِنہیں بے حد دِقت پیش آئی۔ اگر وُہ اپنے اوّلین فرض کو پورا کرتے تو زیادہ کامیاب رہتے۔ اور فرض یہ تھا کہ آئینی طریقۂ کار پر عمل کرتے اور اُس کی بے گُناہ ی کی شہادتیں ڈھونڈتے۔ بالآخر «دو» «جھوٹے گواہوں» نے ایسی گواہی دی جِسے اُنہوں نے اپنے مطلب کے مطابق بدِل لیا۔ اُنہوں نے یسؔوع کے یہ الفاظ عدالت کے سامنے پیش کئے کہ «اِس مُقدس کو ڈھا دو تو مَیں اُسے تین دن میں کھڑا کر دوں گا» (یُوحناؔ ۲:‏۱۹-‏۲۱)۔ گواہوں کے مطابق اُس نے یروشلؔیم کی «ہیکل کو ڈھا دینے» اور اُسے دوبارہ بنا دینے کی دھمکی دی تھی۔ درحقیقت اُس نے اپنی موت اور بعد میں جی اُٹھنے کی پیش گوئی کی تھی۔ یہُودی وں نے اِس پیش گوئی کو اُسے مار ڈالنے کا بہانہ بنا لیا۔

۲۶:‏۶۲،‏۶۳ وُہ اِلزامات لگاتے رہے مگر اِس دوران یسؔوع کُچھ نہ بولا۔ «جِس طرح برّہ جِسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور جِس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زبان ہے» (یسَعیاہ ۵۳:‏۷)۔ سردار کاہن اُس کی خاموشی سے تنگ آ گیا۔ وُہ اُسے کوئی بیان دینے پر مجبور کرنے لگا۔ لیکن پھر بھی نجات دہندہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ اِس پر سردار کاہن کہنے لگا « مَیں تجھے زندہ خُدا کی قِسم دیتا ہوں کہ اگر تُو خُدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔» مُو سؔیٰ کی شریعت کا حُکم تھا کہ اگر سردار کاہن کِسی یہُودی کو قِسم دے تو وُہ ضرور گواہی دے (احبار ۵:‏۱)۔

۲۶:‏۶۴ یسؔوع یہُودی تھا اور شریعت کے تابع تھا۔ چنانچہ اُس نے جواب دیا « تُو نے خود کہہ دیا۔» اور ساتھ ہی اپنے مسیحِ مَوعُود اور ذاتِ الٰہی ہونے کے بارے میں زیادہ پُرزور الفاظ استعمال کئے۔ «اِس کے بعد تم ابنِ آدم کو قادرِ مطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادِل وں پر آتے دیکھو گے۔» فی الحقیقت وُہ کہہ رہا تھا کہ «جیسا تُو نے کہا مَیں خُدا کا بیٹا مسیح ہوں۔ اِس وقت میرا جلال اِنسانی بدن میں چھپا ہُوا ہے۔ مَیں فقط ایک اِنسان نظر آتا ہوں۔ تم مجھے میری پست حالی کے ایام میں دیکھ رہے ہو۔ مگر وُہ دن آتا ہے جب تم یہُودی مجھے جلالی حالت میں دیکھو گے۔ جب مَیں ہر لحاظ سے خُدا کے برابر ہوں گا۔ اُس کی دہنی طرف بیٹھا ہوں گا اور آسمان کے بادِل وں پر آئوں گا۔»

آیت ۶۴ میں لفظ «تُو» کائفا کے لئے اور لفظ «تم» وُہاں موجود یہُودی وں کے لئے استعمال ہُوا ہے۔ یہ یہُودی اُن اِسرائیلیوں کے نمائندے ہیں جو مسیح کے جلال میں ظاہر ہوتے وقت زندہ ہوں گے اور صاف صاف دیکھیں گے کہ یہ خُدا کا بیٹا ہے۔ بعض اوقات اِس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ یسؔوع نے کبھی اپنے آپ کو ’خُدا کا بیٹا‘ نہیں کہا لیکن یہاں وُہ حلف اُٹھاتا ہے کہ مَیں اِس سے کم نہیں ہوں۔

۲۶:‏۶۵-‏۶۷ کائفا نکتے کو سمجھ گیا۔ یسؔوع نے مسیحِ مَوعُود کے بارے میں دانی ایل نبی کی نبوت کی طرف اِشارہ کیا تھا۔ « مَیں نے رات کو رُؤیا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص آدم زاد کی مانند آسمان کے بادِل وں کے ساتھ آیا اور قدیم الایام تک پہنچا۔ وُہ اُسے اُس کے حضور لائے» (دانی ایل ۷:‏۱۳)۔ سردار کاہن کے ردِّعمل سے ثابُت ہوتا ہے کہ یسؔوع خُدا کے برابر ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے (ملاحظہ کریں یُوحناؔ ۵:‏۱۸)۔ اُس نے «اپنے کپڑے پھاڑے»۔ یہ نشان تھا کہ گواہ کفر بک رہا ہے۔ اُس نے سنہیڈرن کے سامنے جو اِشتعال انگیز الفاظ بولے اُن سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ یسؔوع قصوروار ہے۔ اور جب اُن کا فیصلہ پوچھا گیا تو کونسل نے جواب دیا کہ «وُہ قتل کے لائق ہے۔»

۲۶:‏۶۸ مقدمے کے دوسرے مرحلے میں اِن ثالثوں نے «اُس کے منہ پر تھوکا اور اُس کے مُکے مارے۔» اور اُس کو طعنے دیئے اور ٹھٹھوں میں اُڑایا۔ اور کہنے لگے کہ «اگر تُو مسیح ہے» تو اپنے مارنے والوں کی نبوت سے شناخت کر۔ یہ ساری کارروائی نہ صِرف غیر منصفانہ اور اُن کے دائرۂ اِختیار سے باہر تھی،‏ بلکہ شرم ناک بھی تھی۔

ی۔ پَطرسؔ یسؔوع کا اِنکار کرتا اور زار زار روتا ہے (۲۶:‏۶۹-‏۷۵)

۲۶:‏۶۹-‏۷۲ اب پَطرسؔ کی تاریک ترین گھڑی آ پہنچی تھی۔ وُہ «باہر صحن میں بیٹھا تھا» کہ ایک لونڈی نے آ کر الزام لگایا کہ تُو بھی یسؔوع کا ساتھی ہے۔ اُس نے فوراً اور زور دار تردید کی « مَیں نہیں جانتا کہ کیا کہتی ہے۔» پھر وُہ اُٹھ کر «ڈیوڑھی میں چلا گیا» غالباً وُہ بچنا چاہتا تھا کہ کوئی اَور نہ دیکھ لے۔ مگر وُہاں ایک «دُوسری» لونڈی نے اُسے پہچان لیا اور سب کو سنا کر کہنے لگی کہ «یہ بھی یسؔوع ناصری کے ساتھ تھا۔» اِس دفعہ پَطرسؔ نے قِسم کھائی کہ « مَیں اِس آدمی کو نہیں جانتا۔» اور وُہ آدمی اُس کا اُستاد ہی تھا۔

۲۶:‏۷۳،‏۷۴ «تھوڑی دیر کے بعد» پاس کھڑے کئی لوگ کہنے لگے کہ «بے شک تُو بھی اُن میں سے ہے کیونکہ تیری بولی سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔» اَب عام انداز کا اِنکار کافی نہیں تھا۔ اِس لئے اُس نے قِسم یں کھا کر اور لعنت کر کے تاکید کے ساتھ کہا کہ «مَیں اِس آدمی کو نہیں جانتا۔» اِس موقعے پر ایک مرغ نے پَطرسؔ کو بے قرار کر دیا۔ «فی الفور مرغ نے بانگ دی۔»

۲۶:‏۷۵ اِس مانوس آواز نے نہ صِرف صبح کی خاموشی کو درہم برہم کر دیا بلکہ پَطرسؔ کے دِل میں بھی ہلچل مچا دی۔ اُس کی ساری اکڑ جاتی رہی۔ اُسے خُداوند کی بات یاد آئی «اور وُہ باہر جا کر زار زار رویا۔»

اِنکاروں کی تعداد اور وقت کے بارے میں اناجیل میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے۔ متؔی،‏ لُوقاؔ اور یُوحناؔ کے مطابق یسؔوع نے کہا تھا کہ «اِسی رات مرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تین بار میرا اِنکار کرے گا» (متؔی ۲۶:‏۳۴،‏ مزید دیکھئے لُوقاؔ ۲۲:‏۳۴؛ یُوحناؔ ۱۳:‏۳۸)۔ مرقسؔ کی اِنجیل میں یہ نبوت یوں درَج ہے کہ « تُو …مرغ کے دو بار بانگ دینے سے پہلے تین بار میرا اِنکار کرے گا» (مرقسؔ ۱۴:‏۳۰)۔

ممکن ہے ایک سے زیادہ مرغوں نے بانگیں دی ہوں۔ ایک نے رات کے دوران اور دوسرے نے صبح کو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اناجیل میں پَطرسؔ کے کم سے کم چھے مُختلفِ اِنکاروں کا بیان درَج ہے (۱) ایک لونڈی کے سامنے (متؔی ۲۶:‏۶۹،‏۷۰؛ مرقسؔ ۱۴:‏۶۶-‏۶۸)،‏ (۲) دُوسری لونڈی کے سامنے (متؔی ۲۶:‏۷۱،‏۷۲؛ مرقسؔ ۱۴:‏۶۹،‏۷۰) (۳) پاس کھڑے لوگوں کے سامنے (متؔی ۲۶:‏۷۳،‏۷۴؛ مرقسؔ ۱۴:‏۷۰،‏۷۱،‏ (۴) ایک آدمی کے سامنے (لُوقاؔ ۲۲:‏۵۸،‏ (۵) ایک اَور آدمی کے سامنے (لُوقاؔ ۲۲:‏۵۹،‏۶۰)،‏ (۶) سردار کاہن کے نوکر کے رشتہ دار کے سامنے (یُوحناؔ ۱۸:‏۲۶،‏۲۷)۔ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ آخری آدمی دوسروں سے فرق تھا کیونکہ اُس نے کہا کہ «کیا مَیں نے تجھے اُس کے ساتھ باغ میں نہیں دیکھا؟» دوسروں کے بارے میں یہ بیان نہیں کہ اُنہوں نے یہ الفاظ کہے تھے۔

ک۔ صبح کے وقت سنہیڈرن کے سامنے پیشی (۲۷:‏۱،‏۲)

مذہبی طور پر مقدمہ چلانے کا تیسرا مرحلہ صبح کے وقت پیش آیا کہ سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے یسؔوع کے خلاف مشورہ کیا۔ قانون یہ تھا کہ اگر ملزم کو بری نہ کیا جائے تو مقدمے کا فیصلہ ایک ہی دن میں نہیں کیا سکتا تھا۔ فیصلہ سنانے سے پہلے ضروری تھا کہ ایک رات گزر جائے «تاکہ رحم کے جذبات کو اُبھرنے کا موقع مل سکے۔» زیر نظر مقدمے میں معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی لیڈر رحم کے ہر احساس کو دبا دینے پر تُلے ہوئے تھے۔ تاہم،‏ چونکہ رات کو مقدمہ چلانا خلافِ قاعدہ بات تھی اِس لئے اُنہوں نے صبح کو اجلاس طلب کیا تاکہ فیصلے کو قانونی جواز مہیا کیا جا سکے۔

رؔومی حکومت کے تحت یہُودی لیڈروں کو سزائے موت دینے کا اِختیار نہیں تھا۔ اِس لئے اُنہوں نے جلدی سے یسؔوع کو رؔومی گورنر پنطیُس پیلاطُس کے سامنے جا پیش کیا۔

اگرچہ وُہ ہر رؔومی چیز سے سخت نفرت کرتے تھے،‏ لیکن اِس وقت اُس طاقت کو استعمال کر کے اپنی اُس سے بھی بڑی نفرت کا مطالبہ پورا کرنے پر آمادہ تھے۔ یسؔوع کی مخالفت نے جانی دشمنوں کو متحد کر دیا تھا۔

ل۔ یہُوؔداہ کا پچھتاوا اور موت (۲۷:‏۳-‏۱۰)

۲۷:‏۳،‏۴ یہُوؔداہ کو احساس ہُوا کہ مَیں نے بے گُناہ کا خون بہانے کے لئے اُسے دھوکے سے پکڑوایا ہے تو پچھتایا اور «وُہ تیس روپے سردار کاہنوں اور بزرگوں کے پاس واپس» لے آیا۔ چند گھنٹے پہلے یہ اعلیٰ درَج ے کے سازشی اُسے ہاتھوں ہاتھ لے کر اُس کے ساتھ ہر طرح سے تعاون کر رہے تھے،‏ لیکن اب اُنہوں نے صاف اِنکار کر دیا کہ «ہمیں کیا،‏ تُو جان۔» دھوکے بازی اور غداری کا یہی صِلہ ہُوا کرتا ہے۔ یہُوؔداہ «پچھتا رہا تھا۔» لیکن یہ وُہ پچھتاوا نہیں جو خُدا ترسی سے ہوتا اور نجات کو پہنچاتا ہے۔ وُہ اپنے جرم کے لئے نہیں،‏ بلکہ اُن نتائج سے شرمسار اور پریشان تھا جو اُس کے جرم سے پیدا ہوئے تھے۔ وُہ اب بھی یسؔوع مسیح کو خُداوند اور نجات دہندہ ماننے کو تیار نہ تھا۔

۲۷:‏۵ مایوسی اور بے بَسی کے عالم میں یہُوؔداہ اُن «روپیوں کو مُقدس میں پھینک کر چلا گیا» (یہ وُہ جگہ تھی جہاں صِرف کاہن داخل ہو سکتے تھے) اور جا کر خود کشی کر لی۔ اِس بیان کا اعمال ۱:‏۱۸ سے مقابلہ کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اُس نے خود کو ایک درخت پر پھانسی دی تھی۔ رسہ ٹوٹ گیا۔ اُس کا جِسم ایک کھڑی چٹان پر گرا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔

۲۷:‏۶ «سردار کاہن» اِتنے «روحانی» تھے کہ اُنہوں نے اِس رقم کو «ہیکل کے خزانہ میں ڈالنا روا» نہ سمجھا کیونکہ یہ «خون کی قیمت» تھی۔ دراصل قصوروار وُہ خود تھے کیونکہ اُنہوں نے رقم ادا کی تھی کہ مسیحِ مَوعُود کو اُن کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ بات اِنہیں قطعاً پریشان نہیں کر رہی تھی جیسا کہ خُداوند نے کہا تھا وُہ پیالے اور رکابی کو اُوپر سے تو دھو کر صاف کرتے تھے،‏ لیکن اُن کے اندر دھوکے بازی،‏ غداری،‏ ریاکاری اور قتل و غارت گری بھری ہوئی تھی۔

۲۷:‏۷-‏۱۰ اُنہوں نے اِس رقم سے «کمہار کا کھیت» خریدا جہاں ناپاک غیر قوم پردیسیوں کو دفن کیا جا سکے۔ اِنہیں کیا خبر تھی کہ کتنے غیر قوم لٹیروں کے گروُہ اُن کے مُلک پر یلغار کریں گے اور اُن کے گلی کوچوں میں خون بہائیں گے۔ اُس وقت سے آج تک یہ کھیت اِس قوم کے لئے «خون کا کھیت» ہے۔

اِن سردار کاہنوں نے نادانستہ طور پر زِکریاہ (۱۱:‏۱۲،‏۱۳) کی پیش گوئی پُوری کر دی کہ دفن کی رقم کمہار سے خریداری کے لئے استعمال ہو گی۔ عجیب بات ہے کہ زِکریاہ کے حوالے میں «کمہار» کی جگہ ترجمہ «خزانہ» بھی ہو سکتا ہے۔

سردار کاہنوں کو یہ رقم ہیکل کے خزانے میں ڈالنے پر پس و پیش اور شک تھا۔ چنانچہ اُنہوں نے «کمہار» والے مفہُوم کی پیش گوئی پُوری کر دی اور اِس رقم سے کمہار کا کھیت خرید لیا۔

متؔی اِس نبوت کو «یرمیاہ» سے منسوب کرتا ہے جب کہ صاف ظاہر ہے کہ یہ زِکریاہ کی کتاب سے آئی ہے۔ غالباً اِس کی وجہ یہ ہے کہ نبیوں کی فہرست میں یرمیاہ کا نام سب سے پہلے آتا تھا۔ یہ فہرست متعدد قدیم عبرانی نسخوں میں موجود ہے اور تالمود کی روایت میں بھی محفوظ ہے۔ اِسی قِسم کا ایک استعمال لُوقاؔ ۲۴:‏۴۴ میں نظر آتا ہے جہاں عبرانی مُسلمہّ کُتب کے پورے تیسرے حصے کو «زبُور» کا نام دیا گیا ہے۔

م۔ پیلاطُس کے سامنے یسؔوع کی پہلی پیشی (۲۷:‏۱۱-‏۱۴)

یہُودی وں کو یسؔوع کے خلاف اصل شکایات تو مذہبی تھیں اور اِسی بنیاد پر اُس پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔ لیکن رؔومی عدالت میں مذہبی الزامات کوئی وزن نہیں رکھتے تھے۔ یہُودی یہ بات بخوبی جانتے تھے۔ چنانچہ جب پیلاطس کے سامنے پیش ہوئے تو اُنہوں نے یسؔوع کے خلاف تین ’سیاسی‘ الزامات پر زور دیا (لُوقاؔ ۲۳:‏۲)۔ (۱) کہ وُہ اِنقلابی اور باغی ہے اِس لئے رؔومی سلطنت کے لئے خطرہ ہے۔ (۲) وُہ لوگوں کو اُکساتا ہے کہ محصول ادا نہ کریں۔ اِس طرح حکومت کے خزانے اور خوش حالی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ (۳) وُہ بادشاہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اِس لئے شہنشاہ کے لئے خطرہ ہے۔

متؔی کی اِنجیل میں ہم دیکھتے ہیں کہ پیلاطس تیسرے الزام کے متعلق پوچھ گچھ کرتا ہے۔ جب اُس سے پوچھا گیا کہ «کیا تُو یہُودی وں کا بادشاہ؟» تو یسؔوع نے جواب دیا کہ «ہاں،‏ مَیں ہوں۔» اِس پر یہُودی لیڈروں نے اُس پر الزامات کا طوفان کھڑا کر دیا تاکہ اُسے اِنتہائی طور پر بدنام کریں۔ پیلاطس نے مدُعا علیہ کی خاموشی پر «بُہت تعجب کیا۔» وُہ جواب دے کر اُن کے ایک الزام کو بھی اہمیّت نہیں دینا چاہتا تھا۔ غالباً گورنر نے پہلے کبھی کِسی کو نہیں دیکھا تھا جو ایسے حملے کے رُوبرو خاموش کھڑا رہا ہو۔

ن۔ یسؔوع یا بَراَ بّا (۲۷:‏۱۵-‏۲۶)

۲۷:‏۱۵-‏۱۸ دستور تھا کہ عید فسح پر رؔومی گورنر یہُودی وں کی خاطر اُن کی مرضی کے مطابق «ایک قیدی … چھوڑ دیتا تھا۔» اِسی طرح کا ایک مجرم « بَراَ بّا» تھا جِسے چھوڑا جا سکتا تھا۔ وُہ یہُودی تھا اور بغاوت اور قتل کا مجرم تھا (مرقسؔ ۱۵:‏۷)۔ چونکہ وُہ رؔومی حکومت کے خلاف بغاوت کا مجرم تھا اِس لئے غالباً یہُودی وں میں ہر دِل عزیز تھا۔ چنانچہ پیلاطس نے یہُودی وں کو پیش کش کی «یسؔوع اور بَراَ بّا» میں سے کِسی ایک کو رِہائی کے لئے چن لیں۔ مگر اُنہوں نے بَراَ بّا کی رہائی کے لئے شور مچایا۔ گورنر کو کوئی حیرانی نہ ہوئی۔ وُہ جانتا تھا کہ عوام کی رائے کو بڑی حد تک سردار کاہنوں نے اِس طرف ڈھالا ہے کیونکہ وُہ یسؔوع سے جلتے تھے۔

۲۷:‏۱۹ تھوڑی دیر کے لئے کارروائی رُک گئی۔ پیلاطُس کی بیوی کی طرف سے ایک خادم پیغام لے کر آیا کہ مجھے یسؔوع کے بارے میں بُہت پریشان کن خواب آیا ہے اِس لئے «تُو اِس راست باز سے کُچھ کام نہ رکھ۔»

۲۷:‏۲۰-‏۲۳ «سردار کاہنوں اور بزرگوں نے» پس منظر میں رہ کر لوگوں کو اُکسایا کہ « بَراَ بّا کی رہائی» اور «یسؔوع کی موت» کے لئے شور مچائیں۔ اِس لئے جب پیلاطس نے اُن سے دوبارہ پوچھا کہ کس کی رہائی چاہتے ہیں تو وُہ قاتل کے حق میں چِلّانے لگے۔ پیلاطس فیصلے میں پس و پیش کے باعث پھنس گیا تو بھیڑ سے پوچھنے لگا «پھر یسؔوع کو جو مسیح کہلاتا ہے کیا کروں؟» وُہ ایک زُبان ہو کر اُسے صلیب دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔ رؔومی گورنر کو اُن کا یہ رویہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ اُسے کیوں صلیب دوں؟ اُس نے کیا جرم کیا ہے؟ لیکن اَب اُن سے ٹھنڈے دِل سے غور کرنے کی اپیل کا موقع گزر چکا تھا۔ ہجوم کی جذباتیت غالب آ چکی تھی۔ پس ایک ہی نعرہ تھا۔ «اُسے صلیب دی جائے۔»

۲۷:‏۲۴ پیلاطُس کو صاف نظر آنے لگا کہ لوگ معاف کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ بلوا ہُوا چاہتا ہے۔ چنانچہ اُس نے «لوگوں کے روبرو اپنے ہاتھ دھوئے» اور اعلان کیا کہ «مَیں اِس راست باز کے خون سے بری ہوں»۔ یہ تاریخ میں اِنصاف کا سب سے بڑا خون تھا۔ وُہ پانی پیلاطس کے قصور کو کبھی دھو نہیں سکتا۔

۲۷:‏۲۵ ہجوم اِتنا دیوانہ ہو چکا تھا کہ قصور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ وُہ قصور اپنے سر لینے کو تیار تھے۔ «اِس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر!» اُس وقت سے لے کر یہُودی قوم اِس لعنت کا شکار چلے آتے ہیں۔ کہیں تو اِنہیں مخصوص بَستیوں میں پابَند کر دیا جاتا ہے،‏ کہیں منظم طور سے اُن کا قتلِ عام ہوتا ہے۔ کبھی وُہ مشقت کیمپوں میں اور کبھی گیس چیمبرز میں بَند کر کے ہلاک کئے جاتے ہیں۔ وُہ اپنے مسیح مَوعُود کو ردّ کرنے اور اُس کا خون بہانے کے جرم کی سزا پاتے آ رہے ہیں۔ ابھی اُن کو «یعقوب کی ہولناک مصیبُت» کا سامنا کرنا باقی ہے۔ یعنی مصیبُت کے وُہ سات سال جن کا بیان متؔی باب ۲۴ اور مُکاشفہابواب ۶-‏۱۹ میں درَج ہے۔ یہ لعنت اُس وقت تک رہے گی جب تک وُہ ردّ کئے گئے یسؔوع کو اپنا مسیحِ مَوعُود بادشاہ تسلیم نہیں کریں گے۔

۲۷:‏۲۶ پیلاطُس نے « بَراَ بّا کو اُن کی خاطر چھوڑ دیا» اور اُس وقت سے بَراَ بّا کی رُوح دُنیا پر غالب ہے۔ آج بھی راست باز بادشاہ کو ردّ کر کے قاتل کو تخت پر بٹھایا جاتا ہے۔ اِس کے بعد دستور کے مطابق مجرم کو «کوڑے مارے گئے۔» یہ کوڑا چمڑے کی رَسی کا بنا ہوتا تھا۔ دھات کے تیز اور نوکیلے ٹکڑے اِس میں لگے ہوتے تھے۔ یہ کوڑا مجرم کی ننگی پیٹھ پر مارا جاتا تھا۔ اُس کی ایک ایک ضرب گوشت کے ٹکڑے نوچ لیتی تھی اور خون کی دھاریں اُبلنے لگتی تھیں۔ اب وُہ کمزور اور بزدِل رؔومی گورنر بالکُل بے بَس ہو چکا تھا۔ اُس نے یسؔوع کو سپاہیوں کے حوالے کر دیا کہ «صلیب دی جائے۔»

س۔ سپاہی یسؔوع کو ٹھٹھوں میں اُڑاتے ہیں (۲۷:‏۲۷-‏۳۱)

۲۷:‏۲۷،‏۲۸ اب «حاکم کے سپاہیوں نے یسؔوع کو قلعے میں لے جا کر ساری پلٹن اُس کے گرد جمع کی۔» غالباً کئی سو آدمی ہوں گے۔ اِس کے بعد جو کُچھ ہُوا،‏ اُس کا تصور کرنا مشکل ہے! کائنات کا خالق اور سنبھالنے والا بدتمیز سپاہیوں کے نرغے میں تھا۔ اُس پر وُہ ظلم توڑے گئے،‏ ایسی بے عزتی کی گئی کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حقیر اور گنہگار مخلوق وُہ کُچھ کر گزری کہ اُس کی یاد سے تاریخ آج بھی سر جھکا لیتی ہے۔ اُنہوں نے «اُس کے کپڑے اُتار کر اُسے قِرمزی چوغہ پہنایا۔» یہ شاہی چوغے کی نقل تھی۔ لیکن یہ چوغہ آج ہمیں ایک پیغام دے رہا ہے۔ چونکہ قِرمزی رنگ کا تعلق گُناہ کے ساتھ ہے (یسَعیاہ ۱:‏۱۸) اِس لئے قِرمزی چوغہ یہ تصویر پیش کرتا ہے کہ میرے گُناہ یسؔوع پر رکھے گئے تاکہ خُدا کا راست بازی کا چوغہ مجھے پہنایا جا سکے (۲۔کرنتھیوں ۵:‏۲۱)۔

۲۷:‏۲۹،‏۳۰ اُنہوں نے «کانٹوں کا تاج بنا کر اُس کے سر پر رکھا۔» اُن کے اِس بھونڈے مذاق سے آگے دیکھیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اُس نے «کانٹوں کا تاج» پہنا تاکہ ہم «جلال کا تاج» پہن سکیِں۔ اُنہوں نے اُسے گُناہ کا بادشاہ بنا کر ٹھٹھوں میں اُڑایا۔ ہم اُسے گنہگاروں کا نجات دہندہ مان کر سجدہ کرتے ہیں۔

اُنہوں نے اُسے ایک «سرکنڈا» پکڑایا ــ__ شاہی عصا کی نقل __ وُہ بے خبر تھے کہ یہ سرکنڈا تھامنے والا ہاتھ دُنیا پر حکمرانی کرتا ہے۔ یسؔوع کا وُہ ہاتھ جِس میں کِیل کا نشان ہے آج کائنات کی حکومت کا عصا تھامے ہوئے ہے۔

وُہ اُس کے آگے «گھٹنے ٹیک» کر اور اُسے «یہُودی وں کا بادشاہ» کہہ کہہ کر اُس کا مذاق اُڑانے لگے۔ اِسی پر بَس نہیں کیا بلکہ وُہ اُس کے منہ پر تھوکنے لگے __ اُس واحد کامِل اِنسان کے منہ پر جِس کا کوئی ثانی نہیں۔ اور «وُہی سرکنڈا لے کر اُس کے سر پر مارنے لگے۔»

یسؔوع پورے صبر کے ساتھ یہ سب کُچھ برداشت کرتا رہا۔ منہ سے ایک لفظ تک نہ نکالا۔ «اُس پر غور کرو جِس نے اپنے حق میں بُرائی کرنے والے گنہگاروں کی اِس قدر مخالفت کی برداشت کی تاکہ تم بے دِل ہو کر ہمت نہ ہارو» (عبرانیوں ۱۲:‏۳)۔

۲۷:‏۳۱ اور آخر میں «اُسی کے کپڑے اُسے پہنائے اور مصلوب کرنے کو لے گئے۔»

ع۔ بادشاہ کو صلیب دیا جانا (۲۷:‏۳۲-‏۴۴)

۲۷:‏۳۲ ہمارا خُداوند اپنی «صلیب» اُٹھا کر کُچھ دُور تک چلتا رہا (یُوحناؔ ۱۹:‏۱۷) پھر سپاہیوں نے «شمعون نام ایک کرینی آدمی کو پا کر اُسے بیگار میں پکڑا» (کرینی = شمالی افریقہ میں کرینے کا باشندہ) «کہ یسؔوع کی صلیب اُٹھائے۔» بعض لوگوں کا خیال ہے وُہ یہُودی تھا جب کہ بعض کہتے ہیں وُہ حبشی تھا۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اُسے خُداوند کی صلیب اُٹھانے کا عجیب اعزاز حاصل ہُوا۔

۲۷:‏۳۳ «گلگتا» ارامی زبان میں کھوپڑی کو کہتے ہیں۔ یٗونانی میں kranion ہے جو لاطینی سے ہوتے ہوئے انگریزی میں آ کر «کلوری» بن گیا جو اُردو میں بھی مستعمل ہے۔ شاید اِس جگہ کا یہ نام اِس لئے ہُوا کہ وُہ پہاڑی کھوپڑی کی شکل کی تھی یا شاید اِس لئے کہ وُہاں مجرموں کو موت کے گھاٹ اُتارا جاتا تھا۔ آج اِس کا محلِ وقوع غیر یقینی ہے۔

۲۷:‏۳۴ یسؔوع کو کیلوں سے صلیب پر جڑنے سے پہلے سپاہیوں نے «پت ملی ہوئی مے» اُسے پینے کو دی۔ یہ مے خواب آور دوا کے طور پر استعمال ہوتی تھی اور سزائے موت پانے والے مجرموں کو پلاتے تھے تاکہ احساسِ درد کم ہو۔ یسؔوع نے اُسے پینے سے اِنکار کر دیا۔ ضرور تھا کہ وُہ پورے ہوش و حواس کے ساتھ اِنسان کے گُناہ وں کا پورا بوجھ اُٹھائے۔ احساسِ درد میں کمی کا کوئی جواز نہیں تھا۔

۲۷:‏۳۵ متؔی صلیب دیئے جانے کا بیان بڑے سادہ اور غیر جذباتی انداز میں کرتا ہے۔ وُہ کِسی بات کو ڈرامائی رنگ نہیں دیتا،‏ نہ صحافیوں کی طرح سنسنی خیزی پر مائل ہوتا ہے اور نہ دہشت انگیز تفاصیل بیان کرتا ہے۔ وُہ صِرف واقعہ بیان کرتا ہے کہ «اُنہوں نے اُسے صلیب پر چڑھایا۔» لیکن ابدیت بھی اِن الفاظ کی گہرائیوں تک نہیں اُتر سکتی۔

زبُور ۲۲:‏۱۸ کی پیش گوئی کے مطابق سپاہیوں نے «اُس کے کپڑے قرعہ ڈال کر بانٹ لئے۔» قرعہ خاص اُس کے بِن سِلے چوغے پر ڈالا گیا۔ اُس کی ساری دُنیوی جائیداد یہی تھی۔ دُنیا میں واحد کامِل زندگی اُس ہستی کی تھی جِس کے قبضۂ ملکیت میں کُچھ نہیں تھا اور جِس نے اپنے پیچھے صِرف تن کے کپڑے چھوڑے۔

۲۷:‏۳۶ پہرے دار سپاہیوں کو کوئی احساس نہیں تھا کہ تاریخ مُرتب ہو رہی ہے۔ کاش اُن کو عِلم ہوتا تو وُہ «بیٹھ» کر اُس کی «نگہبانی» نہ کرتے بلکہ گھٹنوں کے بل ہو کر اُسے سجدہ کرتے۔

۲۷:‏۳۷ مسیح کے «سر سے اُوپر» اُنہوں نے ایک کُتبہ لگا دیا کہ «یہ یہُودی وں کا بادشاہ یسؔوع ہے۔» چاروں اناجیل میں خاص الفاظ میں تھوڑا بُہت فرق پایا جاتا ہے۔ مرقسؔ (۱۵:‏۲۶) کہتا ہے «یہُودی وں کا بادشاہ» لُوقاؔ (۲۳:‏۳۸) کے مطابق «یہ یہُودی وں کا بادشاہ ہے» اور یُوحناؔ (۱۹:‏۱۹) کے مطابق «یسؔوع ناصری یہُودی وں کا بادشاہ۔» سردار کاہنوں نے اِحتجاج کیا کہ لقب بیانِ حتمی کی شکل میں نہیں بلکہ ملزم کی طرف سے دعوے کی صورت میں ہونا چاہئے۔ لیکن پیلاطس نے اُن کے اِحتجاج کو ردّ کر دیا۔ حقیقت لِکھی گئی تھی اور سب اُسے دیکھ سکتے تھے۔ یُوحناؔ ۱۹:‏۱۹-‏۲۲ کے مطابق یہ کُتبہ عبرانی،‏ لاطینی اور یٗونانی تینوں زبانوں میں لِکھا ہُوا تھا۔

۲۷:‏۳۸ خُدا کے بے گُناہ بیٹے کے دونوں طرف «دو ڈاکوئوں» کو صلیب پر چڑھایا گیا تھا کیونکہ کیا یسَعیاہ نے سات سو سال پہلے نبوت سے نہیں بُتایا تھا کہ «وُہ خطاکاروں کے ساتھ شمار کیا گیا» (۵۳:‏۱۲)؟ شروع میں تو دونوں ڈاکو اُسے طعنے اور اِلزام دینے لگے (آیت ۴۴) لیکن ایک نے عین وقت پر توبہ کر کے نجات پائی اور چند ہی گھڑیوں بعد وُہ یسؔوع کے ساتھ فردوس میں تھا (لُوقاؔ ۲۳:‏۴۲،‏۴۳)۔

۲۷:‏۳۹،‏۴۰ صلیب خُدا کی محبُت کو آشکار کرتی ہے۔ ساتھ ہی اِنسان کی خباثت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ راہ گیر بھی تھوڑی دیر رُک کر اُس چرواہے پر ٹھٹھے مارتے اور طعنے دیتے تھے جو بھیڑوں کے لئے اپنی جان دے رہا تھا۔ «اے مُقدس کے ڈھانے والے اور تین دن میں بنانے والے اپنے تئیں بچا۔ اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو صلیب پر سے اُتر آ۔» یہ قومی بے اعتقادی اور بے ایمانی کی زبان ہے۔ «ہم دیکھیں گے تو ایمان لائیں گے»۔ یہ آزاد خیالی کے فلسفے کے حامیوں کی بھی زُبان ہے «صلیب پر سے اُتر آ۔» دوسرے لفظوں میں «صلیب کی ٹھوکر کو دُور کر دے تو ہم ایمان لائیں گے۔» سالویشن آرمی کے بانی ولیم بوتھ کہتے ہیں «اُن کا دعویٰ تھا کہ اگر یسؔوع صلیب پر سے اُتر آئے تو ہم ایمان لائیں گے۔ مگر ہم اِس لئے ایمان لائے ہیں کہ وُہ صلیب پر رہا۔»

۲۷:‏۴۱-‏۴۴ سردار کاہن،‏ فقیہ اور بزرگ بھی اُن لوگوں کے ساتھ مل گئے۔ وُہ نادانستہ طور پر بُہت بصیرت بھری بات کہہ رہے تھے۔ «اِس نے اَوروں کو بچایا۔ اپنے تئیں نہیں بچا سکتا۔» وُہ تو طعن کے طور پر کہتے تھے مگر ہم نے اِسے حمد و ثنا کے گیت کے طور پر اپنا لیا ہے۔

یہ بات خُداوند کی زندگی میں بھی درست تھی اور آج ہمارے لئے بھی درست ہے۔ جب ہم اپنے آپ کو بچانے کی کوشِش میں لگ جاتے ہیں تو دوسروں کو نہیں بچا سکتے۔

مذہبی لیڈر اُس کے نجات دہندہ ہونے کے دعوے کو ٹھٹھوں میں اُڑاتے تھے۔ وُہ اُس کے اُن دعوئوں کی تضحیک کرتے تھے کہ مَیں «اِسرائیل کا بادشاہ ہوں،‏ مَیں خُدا کا بیٹا ہوں۔» یہاں تک کہ لعن طعن کرنے میں ڈاکو بھی اُن کے ساتھ شامِل ہو گئے۔ اپنے خُدا کو رُسوا کرنے میں مذہبی لیڈر ڈاکوئوں کا ساتھ دینے لگے۔

ف۔ تاریکی کے تین گھنٹے (۲۷:‏۴۵-‏۵۰)

۲۷:‏۴۵ یسؔوع نے بے حد دُکھ اُٹھایا۔ اُس کی اِنتہائی بے عزتی کی گئی۔ اُسے نہایت بُری طرح ٹھٹھوں میں اُڑایا گیا،‏ مگر یہ سب کُچھ اُس اذیت اور کرب کے سامنے کُچھ بھی نہیں تھا جِس کا سامنا اُسے اِس مرحلے پر ہُوا۔ «چھٹے گھنٹے سے لے کر نویں گھنٹے تک یعنی دوپہر سے لے کر تیسرے پہر (بارہ بجے دوپہر سے تین بجے سہ پہر ) تک تمام ملک میں اندھیرا چھایا رہا۔» یہ اندھیرا نہ صِرف ملک فلستین پر بلکہ اُس کی مُقدس جان پر بھی چھایا ہُوا تھا،‏ کیونکہ اِسی وقت کے دوران اُس نے ہمارے گُناہ وں کی بے بیان لعنت اپنے اُوپر اُٹھائی ہوئی تھی۔ اِن تین گھنٹوں میں وُہ جہنم سمٹ آیا تھا،‏ ہماری خطاکاریوں کے خلاف خُدا کا وُہ غضب یکجا ہو گیا تھا جِس کے سزاوار ہم تھے۔ ہمیں تو سب کُچھ دُھندِل ا سا نظر آتا ہے۔ ہم جان ہی نہیں سکتے کہ یسؔوع کے لئے یہ کیا معانی رکھتا تھا۔ اُس نے گُناہ کے بارے میں خُدا کے ہر راست مطالبے کو پورا کر دیا۔ ہم تو صِرف اِتنا جانتے ہیں کہ اِن تین گھنٹوں کے دوران اُس نے وُہ قیمت ادا کر دی،‏ وُہ قرض بے باق کر دیا جو ہمارے ذمہ تھا اور اِنسان کی مخلصی کا کام پورا کر دیا۔

۲۷:‏۴۶ تیسرے پہر (تین بجے) کے قریب اُس نے بڑی آواز سے چلّا کر کہا «ایلی۔ ایلی۔ لما شبقتنی؟ یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟» اِس کا جواب زبُور ۲۲:‏۳ میں ملتا ہے۔ «لیکن تُو قدوس ہے۔ تُو جو اِسرائیل کی حمد و ثنا میں تخت نشین ہے۔» چونکہ خُدا قدوس ہے وُہ گُناہ کو نظر انداز نہیں کر سکتا بلکہ ضرور ہے کہ گُناہ کی سزا دے۔ خُداوند یسؔوع نے تو کوئی گُناہ نہیں کیا تھا۔ وُہ سر تا پا بے گُناہ تھا۔ لیکن اُس نے ہمارے گُناہ وں کو اپنے اوپر لے لیا۔ اور جب خُدا نے بطور منصف اُس پر نگاہ کی اور ہمارے گُناہ وں کو اُس بے گُناہ عوضی پر دیکھا تو اُس نے اپنے عزیز بیٹے سے کنارہ کشی کر لی۔ اور یہی جدائی تھی جِس نے یسؔوع کے دِل کو چیر کر رکھ دیا۔

۲۷:‏۴۷،‏۴۸ جب یسؔوع نے چِلّا کر «ایلی۔ ایلی …» کہا تو «جو وُہاں کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے سن کر کہا یہ ایلیاہ کو پکارتا ہے۔» یہ بات واضح نہیں کہ اُنہوں نے الفاظ کو سمجھنے میں غلطی کی یا از راہِ مذاق ایسا کہہ رہے تھے۔ مزید برآں ایک شخص نے «سپنچ» لے کر «سرکہ میں ڈبویا» اور لمبے سے «سرکنڈے» پر رکھ کر اُس کے ہونٹوں تک بلند کیا۔ زبُور ۶۹:‏۲۱ سے ثابُت ہوتا ہے کہ یہ حرکت رحم کے تحت نہیں تھی بلکہ اُسے مزید تکلیف دینے کے لئے تھی۔

۲۷:‏۴۹ عام رُجحان یہ تھا کہ دیکھیں کہ «ایلیاہ» وُہ یہُودی روایت پُوری کرنے کو آتا ہے یا نہیں جو اُس سے منسوب ہے کہ وُہ راست بازوں کی مدد کو آتا ہے۔ مگر یہ ایلیاہ کے آنے کا وقت نہیں (ملاکی ۴:‏۵) بلکہ یسؔوع کے مرنے کا وقت تھا۔

۲۷:‏۵۰ «یسؔوع نے پھر بڑی آواز سے چِلّا کر جان دے دی۔» بڑی آواز سے چِلّانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وُہ کمزوری میں نہیں بلکہ قوت میں مرا۔ یہ حقیقت کہ اُس نے «جان دے دی» اُس کی موت کو دوسروں سے ممیز کرتی ہے۔ ہم اِس لئے مرتے ہیں کہ مجبور ہیں،‏ ہمارا مرنا ٹھہر چکا ہے۔ وُہ اِس لئے مرا کہ اُس نے مرنے کا اِنتخاب کیا۔ کیا اُس نے نہیں کہا تھا کہ « مَیں اپنی جان دیتا ہوں تاکہ اُسے پھر لے لوں۔ کوئی اُسے مجھ سے چھینتا نہیں بلکہ مَیں اُسے آپ ہی دیتا ہوں۔ مجھے اُس کے دینے کا بھی اِختیار ہے اور اُسے پھر لینے کا بھی اِختیار ہے» (یُوحناؔ ۱۰:‏۱۷،‏۱۸)۔

ص۔ ہیکل کا پردہ پھٹتا ہے (۲۷:‏۵۱-‏۵۴)

۲۷:‏۵۱ ایک بُنا ہُوا بھاری پردہ ہیکل کے پاک مقام اور پاک ترین مقام کو الگ الگ کرتا تھا۔ جِس وقت یسؔوع نے جان دی ایک اَن دیکھے ہاتھ نے اُسے «اوپر سے نیچے تک» پھاڑ دیا۔ اُس وقت تک اِس «پردہ» نے سوائے سردار کاہن کے باقی سب کو پاک ترین مقام سے جہاں خُدا کی سکونت تھی باہر رکھا ہُوا تھا۔ صِرف ایک شخص اندرونی پاک مقام میں داخل ہو سکتا تھا،‏ اور وُہ بھی سال میں صِرف ایک دن۔ یہ شخص سردار کاہن ہوتا تھا۔

عبرانیوں کی کتاب سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پردہ یسؔوع کے بدن کی عَلامت تھا۔ اُس کا پھٹنا یہ تصویر پیش کرتا ہے کہ اُس نے موت کے وسیلے سے اپنا بدن دے دیا۔ اور اُس کی موت کے وسیلے سے یعنی «ہمیں یسؔوع کے خون کے سبب سے اُس نئی اور زندہ راہ سے پاک مکان میں داخل ہونے کی دِل یری ہے جو اُس نے پردہ یعنی اپنے جِسم میں سے ہو کر ہمارے واسطے مخصوص کی ہے» (عبرانیوں ۱۰:‏۱۹،‏۲۰)۔ اب چھوٹے سے چھوٹا ایمان دار بھی دُعا اور حمد و ثنا کے ساتھ خُدا کی حضوری میں داخل ہو سکتا ہے۔ لیکن ہرگز نہ بھولیں کہ یہ اعزاز ہمارے لئے نہایت بھاری قیمت __ یسؔوع کے خون __ سے خریدا گیا ہے۔

خُدا کے بیٹے کی موت نے عناصرِ قُدرت میں بھی زبردست ہلچل مچا دی۔ گویا بے جان تخلیق اپنے خالق کے درد کو محسوس کر رہی تھی۔ ایسا زبردست زلزلہ آیا کہ «چٹانیں تڑک گئیں اور قبریں کھل ۔»

۲۷:‏۵۲-‏۵۳ مگر یاد رکھیں اِس موقعے پر جی اُٹھنے والے «یسؔوع کے جی اُٹھنے کے بعد» ہی قبروں سے نکلے اور یروشلؔیم میں گئے جہاں وُہ «بہُتوں کو دِکھائی دیئے۔» بائبل مُقدس اِس سلسلے میں خاموش ہے کہ یہ جی اُٹھے مُقدسین دوبارہ مرے یا خُداوند یسؔوع کے ساتھ آسمان پر گئے۔

۲۷:‏۵۴ فطرت میں اِس عجیب ہنگامہ خیزی نے رؔومی «صوبہ دار» کو قائل کر دیا کہ یسؔوع واقعی «خُدا کا بیٹا تھا۔» صوبے دار کا اِن الفاظ سے کیا مطلب تھا؟ کیا وُہ پورے طور پر اِقرار کر رہا تھا کہ یسؔوع مسیح خُداوند اور نجات دہندہ ہے یا صِرف اِتنا تسلیم کر رہا تھا کہ وُہ اِنسان سے بڑھ کر کُچھ ہے؟ ہم یقین سے کُچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن اِتنا ضرور ثابُت ہوتا ہے کہ اُس پر پورے واقعے کی دہشت چھا گئی تھی اور اُسے احساس ہو گیا تھا کہ فطرت میں جو ہلچل مچی ہے،‏ اِس کا تعلق یسؔوع کی موت کے ساتھ ہے جو دوسرے دو اُس کے ساتھ مصلوب تھے اُن کی موت کے ساتھ نہیں ہے۔

ق۔ وفا شعار عورتیں (۲۷:‏۵۵،‏۵۶)

یہاں اُن عورتوں کا خاص ذِکر ہے جو وفاداری سے «یسؔوع کی خدمت کرتی ہوئی» گلیل سے اُس کے پیچھے پیچھے یروشلؔیم تک آئی تھیں۔ «اُن میں مرؔیم مگدِل ینی تھی اور یعقوب اور یوسیس کی ماں مرؔیم » اور زبدی کی بیوی سلومی شامِل تھیں۔ اِن عورتوں کی بے خوف عقیدت خاص طور پر چمک رہی ہے۔ وُہ اُس وقت بھی یسؔوع کے ساتھ ساتھ تھیں جب مرد شاگرد اپنی جانیں بچانے کو بھاگ گئے تھے۔

ر۔ یسؔوع کا یُوسؔف کی قبر میں دفنایا جانا (۲۷:‏۵۷-‏۶۱)

۲۷:‏۵۷،‏۵۸ ارمتؔیاہ کا «یُوسؔف» ایک «دولت مند آدمی» تھا۔ وُہ سنہیڈرن (یہُودی وں کی مجلسِ اعلیٰ) کا ممبر تھا۔ وُہ کونسل کے اِس فیصلے سے متفق نہ تھا کہ یسؔوع کو پیلاطس کے سامنے پیش کیا جائے (لُوقاؔ ۲۳:‏۵۱)۔ اگر وُہ اُس وقت تک خفیہ «شاگرد تھا» تو اَب اُس نے ہر احتیاط کو دُور پھینک دیا۔ اُس نے بڑی دِل یری کے ساتھ «پیلاطس کے پاس جا کر» اپنے خُداوند کی لاش کو دفن کرنے کی اِجازت مانگی۔ ذرا تصور کریں کہ پیلاطس کس قدر حیران ہُوا ہو گا۔ اور یہُودی وں کو کیسا اِشتعال آیا ہو گا کہ سنہیڈرن کا ایک ممبر علانیہ طور پر اُس مصلوب کا ساتھ دے رہا ہے۔ ایک لحاظ سے جب یُوسؔف نے یسؔوع کو دفن کیا تو معاشی،‏ معاشرتی اور مذہبی لحاظ سے اپنے آپ کو دفن کر دیا۔ اِس عمل نے اُسے ہمیشہ کے لئے اُس نظام سے الگ کر دیا جِس نے خُداوند یسؔوع کو مروایا تھا۔

۲۷:‏۵۹،‏۶۰ «پیلاطس» نے اِجازت دے دی اور «یُوسؔف» نے بڑی محبُت کے ساتھ لاش کو خوشبودار مسالے لگائے اور «صاف مہین چادر میں لپیٹا» اور لپیٹتے ہوئے درمیان میں بھی مسالے رکھے۔ پھر لاش کو «اپنی نئی قبر میں جو اُس نے چٹان میں کھدوائی تھی رکھا۔» قبر کا منہ «ایک بڑے پتھر» سے بَند کر دیا گیا۔ یہ پتھر ایک خراس کے پتھر کی شکل کا تھا جو نیچے نالی یا جھری کے اندر کنارے کے بَل کھڑا تھا۔ یہ بھی ٹھوس چٹان سے کاٹ اور تراش کر بنایا گیا تھا۔

صدیوں پہلے یسَعیاہ نے نبوت کی تھی کہ «اُس کی قبر بھی شریروں کے درمیان ٹھہرائی گئی اور وُہ اپنی موت میں دولت مندوں کے ساتھ ہُوا» (یسَعیاہ ۵۳:‏۹)۔

اُس کے دشمنوں نے بے شک منصوبہ بنایا ہو گا کہ اُس کی لاش کو ہنوم کی وادی میں پھینک دیں گے تاکہ وُہاں کے کُوڑے کی آگ سے جل جائے یا اُسے لومڑیاں وغیرہ کھا جائیں،‏ مگر خُدا نے اُن کے منصوبے باطل کر دیئے۔ اُس نے یُوسؔف کو استعمال کیا تاکہ یقینی طور پر وُہ «دولت مندوں کے ساتھ» دفن ہو۔

۲۷:‏۶۱ جب یُوسؔف وُہاں سے چلا گیا تو «مرؔیم مگدِل ینی» اور دُوسری مرؔیم یعنی یعقوب اور یوسیس کی ماں وُہاں بیٹھی دیر تک قبر کو دیکھتی رہیں۔

ش۔ قبر پر پہرہ (۲۷:‏۶۲-‏۶۶)

۲۷:‏۶۲-‏۶۴ فسح کا پہلا دن «تیاری کا دن» کہلاتا ہے۔ یہی دن تھا جب یسؔوع کو صلیب دی گئی۔ «دوسرے دن» سردار کاہن اور فریسی بے حد پریشان تھے۔ اُن کو یاد تھا کہ یسؔوع نے دوبارہ جی اُٹھنے کے بارے میں کیا کہا تھا۔ اِس لئے وُہ پیلاطس کے پاس گئے اور درخواست کی کہ قبر پر خصوصی پہرہ بٹھایا جائے۔ بیان یہ کیا کہ ہم اُس کے شاگردوں کو اُس کی لاش چرانے سے روکنا چاہتے ہیں مبادا وُہ یہ تاثر پھیلا دیں کہ وُہ جی اُٹھا ہے اور «یہ پچھلا دھوکا پہلے سے بھی بُرا ہو،‏» یعنی یہ خبر کہ وُہ جی اُٹھا ہے اُس کے اِس دعوے سے بھی بُری ہو گی کہ مَیں مسیحِ مَوعُود اور خُدا کا بیٹا ہوں۔

۲۷:‏۶۵،‏۶۶ پیلاطس نے جواب دیا «تمہارے پاس پہرے والے ہیں۔ جائو۔ جہاں تک تم سے ہو سکے اُس کی نگہبانی کرو۔» غالباً اِس کا مطلب ہے کہ ایک رؔومی محافظ دستہ اُن کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ یا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ «تمہاری درخواست منظور کی جاتی ہے۔ اب محافظ دستہ تمہارے سپرد کرتا ہوں۔» ممکن ہے کہ پیلاطس کے لہجے میں طنز ہو جب اُس نے کہا کہ «جہاں تک تم سے ہو سکے اُس کی نگہبانی کرو۔» اُنہوں نے پُوری کوشِش کی۔ قبر پر مُہریں لگا دیں،‏ پہرے دار بٹھا دیئے،‏ لیکن اُن کا پہرہ اور نگہبانی کے سارے اِنتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔

مقدس کتاب

۱- اُس وقت چَوتھائی مُلک کے حاکِم ہیرودؔیس نے یِسُوعؔ کی شُہرت سُنی۔
۲- اور اپنے خادِموں سے کہا کہ یہ یُوؔحنّا بپتِسمہ دینے والا ہے۔ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اِس لِئے اُس سے یہ مُعجِزے ظاہِر ہوتے ہیں۔
۳- کیونکہ ہیرودیس نے اپنے بھائی فِلِپُّس کی بِیوی ہیرودِؔیاس کے سبب سے یُوحنّا کو پکڑ کر باندھا اور قَید خانہ میں ڈال دِیا تھا۔
۴- کیونکہ یُوحنّا نے اُس سے کہا تھا کہ اِس کا رکھنا تُجھے روا نہیں۔
۵- اور وہ ہر چند اُسے قتل کرنا چاہتا تھا مگر عام لوگوں سے ڈرتا تھا کیونکہ وہ اُسے نبی جانتے تھے۔
۶- لیکن جب ہیرودؔیس کی سالگِرہ ہُوئی تو ہیرودِؔیاس کی بیٹی نے محفِل میں ناچ کر ہیرودؔیس کو خُوش کِیا۔
۷- اِس پر اُس نے قَسم کھا کر اُس سے وعدہ کِیا کہ جو کُچھ تُو مانگے گی تُجھے دُوں گا۔
۸- اُس نے اپنی ماں کے سِکھانے سے کہا مُجھے یُوؔحنّا بپتِسمہ دینے والے کا سر تھال میں یہِیں منگوا دے۔
۹- بادشاہ غمگِین ہُؤا مگر اپنی قَسموں اور مِہمانوں کے سبب سے اُس نے حُکم دِیا کہ دے دِیا جائے۔
۱۰- اور آدمی بھیج کر قَید خانہ میں یُوحنّا کا سر کٹوا دِیا۔
۱۱- اور اُس کا سر تھال میں لایا گیا اور لڑکی کو دِیا گیا اور وہ اُسے اپنی ماں کے پاس لے گئی۔
۱۲- اور اُس کے شاگِردوں نے آ کر لاش اُٹھا لی اور اُسے دفن کر دِیا اور جا کر یِسُوعؔ کو خبر دی۔
۱۳- جب یِسُوعؔ نے یہ سُنا تو وہاں سے کشتی پر الگ کِسی وِیران جگہ کو روانہ ہُؤا اور لوگ یہ سُن کر شہر شہر سے پَیدل اُس کے پِیچھے گئے۔
۱۴- اُس نے اُتر کر بڑی بِھیڑ دیکھی اور اُسے اُن پر ترس آیا اور اُس نے اُن کے بِیماروں کو اچّھا کر دِیا۔
۱۵- اور جب شام ہُوئی تو شاگِرد اُس کے پاس آ کر کہنے لگے کہ جگہ وِیران ہے اور وقت گُذر گیا ہے۔ لوگوں کو رُخصت کر دے تاکہ گاؤں میں جا کر اپنے لِئے کھانا مول لیں۔
۱۶- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا اِن کا جانا ضرُور نہیں۔ تُم ہی اِن کو کھانے کو دو۔
۱۷- اُنہوں نے اُس سے کہا کہ یہاں ہمارے پاس پانچ روٹِیوں اور دو مچھلِیوں کے سِوا اَور کُچھ نہیں۔
۱۸- اُس نے کہا وہ یہاں میرے پاس لے آؤ۔
۱۹- اور اُس نے لوگوں کو گھاس پر بَیٹھنے کا حُکم دِیا۔ پِھر اُس نے وہ پانچ روٹِیاں اور دو مچھلِیاں لِیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر برکت دی اور روٹِیاں توڑ کر شاگِردوں کو دِیں اور شاگِردوں نے لوگوں کو۔
۲۰- اور سب کھا کر سیر ہو گئے اور اُنہوں نے بچے ہُوئے ٹُکڑوں سے بھری ہُوئی بارہ ٹوکرِیاں اُٹھائِیں۔
۲۱- اور کھانے والے عَورتوں اور بچّوں کے سِوا پانچ ہزار مَرد کے قرِیب تھے۔
۲۲- اور اُس نے فوراً شاگِردوں کو مجبُور کِیا کہ کشتی میں سوار ہو کر اُس سے پہلے پار چلے جائیں جب تک وہ لوگوں کو رُخصت کرے۔
۲۳- اور لوگوں کو رُخصت کر کے تنہا دُعا کرنے کے لِئے پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب شام ہُوئی تو وہاں اکیلا تھا۔
۲۴- مگر کشتی اُس وقت جِھیل کے بِیچ میں تھی اور لہروں سے ڈگمگا رہی تھی کیونکہ ہوا مُخالِف تھی-۔
۲۵- اور وہ رات کے چَوتھے پہر جِھیل پر چلتا ہُؤا اُن کے پاس آیا-۔
۲۶-شاگِرد اُسے جِھیل پر چلتے ہُوئے دیکھ کر گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ بُھوت ہے اور ڈر کر چِلاّ اُٹھے-۔
۲۷–یِسُوعؔ نے فوراً اُن سے کہا خاطِر جمع رکھّو۔ مَیں ہُوں۔ ڈرو مت۔
۲۸– پطرس نے اُس سے جواب میں کہا اَے خُداوند اگر تُو ہے تو مُجھے حُکم دے کہ پانی پر چل کر تیرے پاس آؤں۔
۲۹- اُس نے کہا آ۔ پطرسؔ کشتی سے اُتر کر یِسُوعؔ کے پاس جانے کے لِئے پانی پر چلنے لگا۔
۳۰– مگر جب ہوا دیکھی تو ڈر گیا اور جب ڈُوبنے لگا تو چِلاّ کر کہا اَے خُداوند مُجھے بچا!
۳۱- یِسُوعؔ نے فوراً ہاتھ بڑھا کر اُسے پکڑ لِیا اور اُس سے کہا اَے کم اِعتقاد تُو نے کیوں شک کِیا؟
۳۲- اور جب وہ کشتی پر چڑھ آئے تو ہوا تھم گئی۔
۳۳- اور جو کشتی پر تھے اُنہوں نے اُسے سِجدہ کر کے کہا یقِیناً تُو خُدا کا بیٹا ہے۔
۳۴- وہ پار جا کر گنّیسرؔت کے عِلاقہ میں پُہنچے۔
۳۵- اور وہاں کے لوگوں نے اُسے پہچان کر اُس سارے گِرد نواح میں خبر بھیجی اور سب بِیماروں کو اُس کے پاس لائے۔
۳۶- اور وہ اُس کی مِنّت کرنے لگے کہ اُس کی پوشاک کا کنارہ ہی چُھو لیں اور جِتنوں نے چُھؤا وہ اچّھے ہو گئے۔