۱۳۔ کوُہ ِزیؔتون پر بادشاہ کا وعظ (ابواب ۲۴، ۲۵)
ابواب ۲۴ اور ۲۵ میں وُہ باتیں درَج ہیں جن کو کوُہ زیتون پر کا وعظ کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں اُس نے بعض اہم باتوں کا اعلان کیا۔ یہ پورا وعظ نبوتی ہے۔ اِس میں بڑی مصیبُت کے دَور اور خُداوند کی آمدثانی کا ذِکر ہے۔ اِس کا تعلق خاص صِرف بنی اِسرائیل کے ساتھ تو نہیں لیکن بنیادی طور پر اِسرائیل کے ساتھ ہی ہے۔ واقعات کا منظر تو صاف نظر آتا ہے کہ فلستین ہے۔ مثلاً «جو یہُودی ہ میں ہوں، وُہ پہاڑوں پر بھاگ جائیں» (۲۴:۱۶)۔ اِس کی وضع واضح طور پر یہُودی ہے۔ مثلاً «دُعا کرو کہ تم کو … سبُت کے دن بھاگنا نہ پڑے» (۲۴:۲۰)۔ «برگزیدوں» سے مراد خُدا کے برگزیدہ یہُودی ہیں، کلیسیا نہیں۔ اِس وعظ کی نبوتوں یا تماثیل میں کلیسیا کہیں موجود نہیں۔ تشریح کے دوران ہم اِس بات کی وضاحت کریں گے۔
الف۔ یسؔوع ہیکل کی بربادی کی پیش گوئی کرتا ہے (۲۴:۱،۲)
وعظ کے شروع میں ایک اہم بیان ہے کہ «یسؔوع ہیکل سے نکل کر جا رہا تھا۔» یہ بات اُن الفاظ کے سلسلے میں جو اُس نے ابھی ابھی کہے تھے بُہت اہم ہے کہ «تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے … » (۲۳:۳۸)۔ اِس سے ہمیں حِزقی ایل کا وُہ بیان یاد آتا ہے کہ جلال ہیکل سے جدا ہو گیا (حِزقی ایل ۹:۳؛ ۱۰:۴؛ ۱۱:۲۳)۔
شاگرد چاہتے تھے کہ خُداوند ہمارے ساتھ مل کر ہیکل کی تعمیراتی خوبصورتی اور حسن کی تعریف کرے۔ اُن کا دھیان دائمی نہیں بلکہ عارضی باتوں پر تھا۔ وُہ حقیقت نہیں بلکہ سایہ کے پیچھے بھاگتے تھے۔ یسؔوع نے خبردار کیا کہ یہ عمارت ایسی برباد ہو جائے گی کہ «کِسی پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا۔» ططس نے ہیکل کو بچانے کی کوشِش کی مگر ناکام رہا۔ اُس کے فوجیوں نے ہیکل کو آگ لگا دی اور اِس طرح مسیح کی پیش گوئی پُوری ہوئی۔ جب آگ کی گرمی سے سونا (جو تقریباً ہر چیز پر منڈھا ہُوا تھا) پگھلا تو پتھروں کے درمیان بہنے لگا۔ اور وُہیں جم گیا۔ اِس سونے کو حاصل کرنے کے لئے فوجیوں نے ایک ایک پتھر کو الگ الگ کر دیا جیسا کہ ہمارے خُداوند نے پیش گوئی کی تھی۔ یہ سزا ۷۰ء میں اُس وقت پُوری ہوئی جب رؔومیوں نے ططس کے ماتحت یروشلؔیم پر ہلہ بول دیا تھا۔
ب۔ بڑی مصیبُت کا پہلا نصف حصہ (۲۴:۳-۱۴)
۲۴:۳ جب یسؔوع وادی کے پار «زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا (تو) اُس کے شاگردوں نے الگ اُس کے پاس آ کر » تین سوال پوچھے۔
- «یہ باتیں کب ہوں گی؟» یعنی ہیکل کب برباد ہو گی؟
- یسؔوع کے «آنے … کا نشان کیا ہو گا؟» کہ زمین پر بادشاہی قائم کرنے کی خاطر آنے سے پہلے کون سے فوق الفطرت واقعات رُونما ہوں گے؟
- «دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہو گا؟» یعنی اُس کے جلالی دَور کے آغاز سے فوراً پہلے کون سی باتیں اِس اَمر کا اعلان کریں گی؟ (بنیادی طور پر دوسرا اور تیسرا سوال ایک ہی ہیں)۔
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اِن یہُودی شاگردوں کی سوچ زمین پر مسیحِ مَوعُود کے جلالی زمانے کے گرد گھومتؔی ہے۔ اُن کو کلیسیا کی خاطر مسیح کے آنے کا خیال نہیں تھا۔ وُہ اُس کی آمد کے اُس مرحلے کے بارے میں کُچھ نہیں جانتے تھے۔ اُن کی توقع صِرف یہی تھی کہ وُہ قُدرت اور جلال کے ساتھ آئے گا اور اپنے دشمنوں کو ہلاک کر کے دُنیا پر حکمرانی کرے گا۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وُہ دُنیا کے خاتمے کی بات نہیں بلکہ اُس دَور یا زمانے (یٗونانی aion = پشت) کے خاتمے کی بات کر رہے تھے (اگرچہ اُردو ترجمے میں لفظ دُنیا ہی استعمال ہُوا ہے۔ مزید دیکھئے ریفرنس بائبل کا حاشیہ)۔
یسؔوع مسیح نے پہلے سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ نجات دہندہ نے ۷۰ء میں یروشلؔیم کے محاصرے (دیکھئے لُوقاؔ ۲۱:۲۰-۲۴) کو ایک ایسے ہی دوسرے محاصرے کے ساتھ ملا دیا ہے جو بعد کے ایام میں ہونے والا تھا۔ نبوت کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ خُداوند ایک پہلی اور جزوی تکمیل سے غیر محسوس طور پر دُوسری اور کامِل تکمیل کی طرف چلا جاتا ہے۔
دوسرے اور تیسرے سوال کا جواب ۲۴ باب کی ۴-۴۴ آیات میں دیا گیا ہے۔ اِن آیات میں سات سالہ مصیبُت کے زمانے کا بیان ہے جو مسیح کی جلالی آمد سے پہلے ہو گا۔ پہلے ساڑھے تین برسوں کا بیان آیات ۴-۱۴ میں ہے۔ آخری ساڑھے تین برسوں کو بڑی مصیبُت اور یعقوب کی مصیبُت کا وقت (یرمیاہ ۳۰:۷) کہا گیا ہے۔ زمین پر بَسنے والوں کے لئے یہ ایسے دُکھ اور مصیبُت کا زمانہ ہو گا جِس کی مثال نہیں ملتی۔
مصیبُت کے پہلے نصف میں جو حالات ہوں گے، اُن کی خصُوصیات تو ساری تاریخِ اِنسانی میں موجود رہی ہیں۔ لیکن زیر بحث عرصے میں یہ خصُوصیات بُہت زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہوں گی۔ کلیسیا کے ارکان کے ساتھ بھی مصیبُت کا وعدہ ہے (یُوحناؔ ۱۶:۳۳) لیکن یہ اُس مصیبُت سے قطعی فرق ہے جو اِس دُنیا پر اُنڈیلی جائے گی جِس نے خُدا کے بیٹے کو ردّ کر دیا ہے۔
ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خُدا کے غضب کے دن (۱۔تھسلنیکیوں ۱:۱۰؛ ۵:۹؛ ۲۔تھسلنیکیوں ۲:۱-۱۲؛ مُکاشفہ۳:۱۰) کے شروع ہونے سے پہلے کلیسیا زمین پر سے اُٹھا لی جائے گی (۱۔تھسلنیکیوں ۴:۱۳-۱۸)۔
۲۴:۴،۵ مصیبُت کے پہلے نصف کے دوران بُہت سے جھوٹے مسیح ظاہر ہوں گے جو بے شمار لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ آج کل بُہت سے جھوٹے فرقے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ شاید یہ اِسی بات کا پیش خیمہ ہیں، مگر تکمیل نہیں ہیں۔ یہ جھوٹے مذہبی لیڈر یہُودی ہوں گے جو «مسیح» ہونے کا دعویٰ کریں گے۔
۲۴:۶،۷ «تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے … قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی۔» یہ کہنا بُہت آسان ہے کہ ہم اِس نبوت کو پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن جو کُچھ ہم دیکھ رہے ہیں، اُن باتوں کے مُقابلے میں بُہت ہی معمولی اور نرم ہے جو ابھی ہونے والی ہیں۔ حقیقت میں خُدا کے وقت کے گوشوارے میں اگلا واقعہ کلیسیا کا ہُوا میں اُٹھایا جانا یا فضائی اِستقبال ہے (یُوحناؔ ۱۴:۱-۶؛ ۲۔کرنتھیوں ۱۵:۵۱-۵۷)۔ کوئی ایسی نبوت نہیں ہے جو اِس واقعے سے پہلے پُوری ہو گی۔ جب کلیسیا کو دُنیا سے ہٹا لیا جائے گا، اِس کے بعد خُدا کی نبوت کی گھڑی دوبارہ چلنا شروع ہو گی اور مذکورہ حالات بُہت تیزی کے ساتھ ظہور پذیر ہوں گے۔ «جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے۔» آج بھی دُنیا کے لیڈر آبادی کے دھماکے کے سبب کال سے پریشان ہو رہے ہیں، لیکن جب جنگوں کی وجہ سے اجناس کی قِلت ہو گی تو اِس میں تیزی اور شدت آ جائے گی۔
آج کل «بھونچال» بھی توجہ کھینچ رہے ہیں۔ نہ صِرف وُہ بھونچال جو آج کل آ رہے ہیں بلکہ وُہ بھی جو متوقع ہیں۔ مَیں پھر یاد دِل اتا ہوں کہ یہ اصل طوفان سے پہلے کے ہلکے جھونکے ہیں۔ ابھی نجات دہندہ کی باتوں کو پورا ہونا ہے۔
۲۴:۸ آیت آٹھ اِس زمانے کی واضح شناخت کرتی ہے کہ یہ «مصیبُتوں کا شروع» ہی ہو گا۔ گویا یہ دردِ زہ کا آغاز ہے جِس سے وُہ نیا نظام پیدا ہو گا جِس پر اِسرائیل کا مسیحِ مَوعُود بادشاہ حکمران ہو گا۔
۲۴:۹،۱۰ اِس مصیبُت کے دوران ایمان داروں کو بڑی شخصی آزمائشوں کا تجربہ ہو گا۔ جتنے بھی خُداوند کے وفادار ہوں گے، قومیں اُن کے خلاف نہایت نفرت اور عداوت بھری مہم چلائیں گی۔ نہ صِرف اُن پر مذہبی اور دیوانی عدالتوں میں مقدمے چلائے جائیں گے (مرقسؔ ۱۳:۹) بلکہ بُہتیروں کو صِرف اِس لئے شہید کر دیا جائے گا کہ وُہ مسیح کا اِنکار نہیں کریں گے۔ اگرچہ کلیسیائی دَور کے تمام عرصے کے دوران ایسی آزمائشیں ہوتی رہی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اِس کا خاص اِشارہ اُن ۰۰۰،۴۴ا، ایمان داروں کی طرف ہے جن کے سپرد اِس عرصے کے دوران خاص خدمت ہو گی۔
بُہت سے لوگ دُکھ اُٹھانے اور مرنے کے بجائے مسیح کا اِنکار کرنے کو ترجیح دیں گے۔ خاندان کے لوگ اپنے ہی رشتہ داروں اور عزیزوں کی مخبری کر کے اور اُن کو «پکڑوا» کر درِندہ صفت اِیذارسانی کے حوالے کریں گے۔
۲۴:۱۱ «بُہت سے جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بُہتیروں کو گمراہ کریں گے۔» یہ آیت ۵ کے جھوٹے «مسیحیوں» سے الگ ہوں گے۔ «جھوٹے نبی» دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم خُدا کی طرف سے بولتے ہیں۔ اُن کا پتا دو طریقوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ اُن کی نبوتیں ہمیشہ پُوری نہیں ہوتیں اور اُن کی تعلیمات اِنسانوں کو ہمیشہ خُدا سے دُور لے جاتی ہیں۔ «نبیوں» کے ذِکر سے ہمارے اِس بیان کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ مصیبُت اپنی نوعیت میں یہُودی ہو گی۔ «جھوٹے نبی» اِسرائیل کی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ کلیسیا میں خطرہ «جھوٹے اُستادوں» (۲۔پَطرسؔ ۲:۱) کی طرف سے ہوتا ہے۔
۲۴:۱۲ جب چاروں طرف شرارت اور بُرائی دندنا رہی ہو گی تو اِنسانی محبُت بھی ٹھنڈی پڑتی جائے گی۔ ایسے واقعات عام ہوں گے جن میں محبُت کا فقدان ہوتا ہے۔
۲۴:۱۳ «مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وُہ نجات پائے گا۔» بے شک اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ برداشت کے باعث اِنسانوں کی روحوں کو نجات ملے گی۔ بائبل مُقدس ہمیشہ کہتی ہے کہ نجات خُدا کا مفت فضل ہے اور مسیح کی عوضی موت اور قیامت پر ایمان لانے سے ملتی ہے۔ نہ اِس کا یہ مطلب ہے کہ جو برداشت کریں گے جِسمانی ضرر اور نقصان سے بچ جائیں گے۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ بُہت سے ایمان داروں کو شہید کر دیا جائے گا (آیت ۹)۔ یہ ایک عمومی بیان ہے کہ جو لوگ ڈٹے رہیں گے اور مسیح کا اِنکار کئے بغیر ایذائیں برداشت کریں گے، وُہ مسیح کی آمد ثانی کے وقت رہائی پائیں گے۔ کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ اِنکار میں آخری تحفظ ہے۔ صِرف وُہی «نجات پائیں گے» جن کا ایمان سچا ہو گا۔ اگرچہ نجات بخش ایمان لغزش کھا سکتا ہے۔ لیکن اِس میں قائم رہنے کی خصوصیت ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔
۲۴:۱۴ اِس دَور میں «بادشاہی کی اِس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہو گی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔» جیسا کہ ۴:۲۳ کی تفسیر میں بُتایا گیا تھا «بادشاہی کی منادی» سے مراد یہ خوشخبری ہے کہ مسیح اِس دُنیا میں اپنی «بادشاہی» قائم کرنے کے لئے آ رہا ہے اور جو لوگ مصیبُت کے دوران ایمان سے اُسے قبول کریں گے وُہ اُس کی ہزار سالہ بادشاہی کی برکات سے مالا مال ہوں گے۔
آیت ۱۴ کو اکثر غلط استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ثابُت کرنے کی کوشِش کی جاتی ہے کہ مسیح ابھی نہیں آ سکتا کیونکہ بُہت سے قبَیلوں کو تاحال خوشخبری نہیں سنائی گئی۔ یہ مشکل اُس وقت دُور ہو جاتی ہے جب ہم یہ سمجھ لیں گے کہ یہاں بیان اُس آمد کا ہے جو مُقدسوں کے ساتھ ہو گی، اُس آمد کا نہیں جو مُقدسوں کو لے جانے کے لئے ہو گی۔ دوسرے، یہ بات بادشاہی کی خوشخبری کی ہے، خُدا کے فضل کی خوشخبری کی نہیں (۴:۲۳ کی تفسیر ملاحظہ کریں)۔
آیات ۳-۱۴ میں درَج اور مُکاشفہ۶:۱-۱۱ کے واقعات میں حیرت ناک موافقت پائی جاتی ہے۔ سفید گھوڑے کا سوار =جھوٹا مسیح؛ لال گھوڑے کا سوار = جنگ؛ کالے گھوڑے کا سوار =کال؛ اور زَرد گھوڑے کا سوار = وبا اور موت۔ قربان گاہ کے نیچے کی روحیں شہیدوں کی روحیں ہیں۔ مُکاشفہ۶:۱۲-۱۷ میں مذکور واقعات متؔی ۲۴:۱۹-۳۱ کے واقعات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
ج۔ بڑی مصیبُت (۲۴:۱۵-۲۸)
۲۴:۱۵ اب ہم مصیبُت کے درمیانی حصے پر پہنچ گئے ہیں۔ آیت ۱۵ کا مقابلہ دانی ایل ۹:۲۷ سے کریں تو ہمیں اِس بات کا پتا چلتا ہے۔ دانی ایل نے نبوت کی تھی کہ سترویں ہفتے کے درمیان یعنی ساڑھے تین سال کے خاتمے میں مُقدس مقام پر ایک بُت نصب کیا جائے گا۔ مُقدس مقام کا مطلب یروشلؔیم کی ہیکل ہے۔ سارے آدمیوں کو حُکم دیا جائے گا کہ اِس مکروُہ بُت کی پرستش کریں۔ جو حُکم عدولی کرے گا، اُس کو موت کی سزا دی جائے گی (مُکاشفہ۱۳:۱۵)۔
«پس جب تم اُس اُجاڑنے والی مکروُہ چیز کو جِس کا ذِکر دانی ایل کی معرفت ہُوا مُقدس مقام میں کھڑا ہُوا دیکھو (پڑھنے والا سمجھ لے) … » بُت کا کھڑا کیا جانا اُن لوگوں کے لئے نشان ہو گا جو خُدا کے کلام کو جانتے ہیں کہ بڑی مصیبُت شروع ہو گئی ہے۔ غور کریں کہ خُداوند چاہتا ہے کہ جو شخص یہ نبوت «پڑھتا ہے»، وُہ اِس بات کو «سمجھ لے۔»
۲۴:۱۷-۱۹ اُس وقت اِنتہائی جلدی کرنے کی ضُرورتہو گی۔ اگر کوئی شخص «کوٹھے پر» یعنی چھت پر بیٹھا ہو، تو اپنا سب کُچھ پیچھے چھوڑ کر بھاگ جائے۔ چیزیں جمع کرنے میں جو وقت لگے گا، شاید وُہی موت اور زندگی میں فرق کا باعث ہو۔ جو شخص «کھیت میں» کام کر رہا ہے، وُہ «اپنا کپڑا» لینے کو پیچھے نہ لوٹے۔ کپڑے جہاں پڑے ہیں وُہیں چھوڑ کر جان بچانے کی فِکر کرے۔ حاملہ اور دودھ پلاتی عورتوں کو تو خاص مشکل ہو گی۔ اُن کے لئے تیزی سے بچ نکلنا بُہت مشکل ہو گا۔
۲۴:۲۰ ایمان داروں کو «دُعا» کرنی چاہئے کہ یہ بحران «جاڑوں میں» نہ آئے کیونکہ جاڑوں میں سفر کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ اور یہ بھی کہ «سبُت کے دن» نہ ہو کیونکہ شریعت اِس دن سفر کرنے کے فاصلے کو محدود کرتی ہے (خروُج ۱۶:۲۹)۔ سبُت کے دن کا فاصلہ اُن کو خطرے سے دُور لے جانے کے لئے کافی نہیں ہو گا۔
۲۴:۲۱ «کیونکہ اُس وقت ایسی بڑی مصیبُت ہو گی کہ دُنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہو گی۔» یہ بیان اُس «بڑی مصیبُت» کو تاریخ کی ہر ایذا، ہر منظم قتلِ عام، ہر اخراج، ہر نسل کشی اور اِنسانوں کے کِسی طبقے کو صفحۂ ہستی سے ختم کر دینے کے ہر واقعے سے الگ کر دیتا ہے۔ یہ پیش گوئی ماضی کی کِسی اِیذارسانی سے پُوری نہیں ہوتی، کیونکہ واضح طور پر بُتایا گیا ہے کہ اِس کا خاتمہ مسیح کی دُوسری آمد کے ساتھ ہو گا۔
۲۴:۲۲یہ بڑی مصیبُت اِتنی شدید ہو گی کہ «اگر وُہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔» اِس کا یہ مطلب نہیں کہ بڑی مصیبُت جِس کا اِتنی دفعہ خصوصیت سے بیان ہُوا ہے کہ ساڑھے تین سال تک رہے گی، اِس کے عرصے میں کمی کی جائے گی۔ غالباً اِس کا مطلب یہ ہے کہ خُدا معجزانہ طور پر گھڑیوں کو چھوٹا کر دے گا کیونکہ زیادہ تر جنگ اور قتل و غارت دن کی روشنی ہی میں جاری رہتی ہے۔ «برگزیدوں کی خاطر» (جنہوں نے مسیح کو قبول کر لیا ہے) خُدا اِتنی سہولت دے گا کہ اندھیرا جلدی ہو جایا کرے گا۔
۲۴:۲۳-۲۶ آیات ۲۳ اور ۲۴ میں نئے سرے سے خبردار کیا گیا ہے کہ «جھوٹے» مسیحیوں اور «جھوٹے نبیوں» سے ہوشیار رہیں۔ بحران کے ماحول میں یہ افواہیں اُڑیں گی کہ مسیحِ مَوعُود کِسی خفیہ جگہ پر موجود ہے۔ اِن افواہوں کو ایسے افراد کو پھانسنے کے لئے استعمال کیا جائے گا جو خلوصِ دِل اور محبُت کے ساتھ مسیح کے منتظر ہوں گے۔ پس خُداوند تمام شاگردوں کو خبردار کرتا ہے کہ کِسی مقامی اور خفیہ آمد کی خبروں کا اعتبار نہ کریں۔ جو معجزے دِکھاتے ہیں، ضروری نہیں کہ وُہ خُدا کی طرف سے ہوں۔ معجزے شیطان کی طرف سے بھی ہو سکتے ہیں۔ جب وُہ بے دین ظاہر ہو گا (جِس کا ذِکر کلام میں متعدد بار آتا ہے) تو اُسے معجزے کرنے کی شیطانی قوت حاصل ہو گی (۲۔تھسلنیکیوں ۲:۹،۱۰)۔
۲۴:۲۷ مسیح کی آمد ایسی ہو گی کہ کوئی اِس کے بارے میں غلطی میں نہیں رہے گا۔ یہ آمد اچانک، علانیہ، عالمگِیر اور جلالی ہو گی۔ «بجلی کوندنے» کی مانند لمحہ بھر میں سب کو صاف دِکھائی دے گی۔
۲۴:۲۸ اور کِسی قِسم کا اخلاقی بگاڑ اور بے راہ روی اُس کے غیض و غضب سے نہ بچ سکے گی۔ «جہاں مردار ہے وُہاں گِدھ جمع ہو جائیں گے۔» مردار برگشتہ یہُودی ت، مسیحی دُنیا اور دُنیا کے ہر اُس نظام کی تصویر پیش کرتا ہے جِس نے خُدا اور اُس کے مسیح کے خلاف گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ «گِدھ» مثال ہیں خُدا کے غضب یا آفتوں کی جو مسیحِ مَوعُود کے ظاہر ہونے کے سلسلے میں نازل ہوں گی۔
د۔ آمدِثانی (۲۴:۲۹-۳۱)
۲۴:۲۹ بڑی مصیبُت کے اِختتام پر آسمان پر بڑی ہولناک ہلچل ہو گی۔ «سورج تاریک ہو جائے گا۔» اور چونکہ چاند کی روشنی سورج کی روشنی کا محض عکس ہوتی ہے اِس لئے «چاند اپنی روشنی نہ دے گا۔» ستارے آسمان سے گریں گے اور فلکی اَجِسام یعنی سیارے اپنے اپنے مدار سے ہٹ جائیں گے۔ یہ بُتانے کی حاجت نہیں کہ کائنات میں اِتنے وسیع پیمانے پر اِنقلاب آئیں گے تو موسموں، مد و جزر اور آب و ہُوا پر وُہ اثر پڑے گا کہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔
ایک سائنس دان نے اِس کا ہلکا سا تصور اِس بیان میں دیا ہے کہ اگر کوئی سیارہ زمین کے بُہت قریب آ جائے اور اُس کے محور کے جھکائو میں فرق آ جائے تو کیا ہو گا!
«اُس لمحے ایک بھونچال زمین کو لرزا دے گا۔ خاصیتِ اِستمرار ۱؎ کے باعث پانی اور ہُوا مسلسل حرکت میں رہیں گے۔ تند ہُوائیں سطحِ زمین کو اُدھیڑ ڈالیں گی۔ سمندر براعظموں پر چڑھ آئیں گے، کنکر پتھر، ریت اور آبی جانوروں کو بہا
لائیں گے اور اِنہیں خشکی پر لا پھینکیِں گے۔ حرارت بڑھ جائے گی، چٹانیں پگھل جائیں گی، آتش فشاں پہاڑ پھٹ پڑیں گے۔ زمین جگہ جگہ سے شق ہو جائے گی۔ اِن شگافوں میں سے لاوا بہہ کر وسیع علاقوں پر پھیل جائے گا۔ میدانوں سے پہاڑ
اُبھر آئیں گے، جو دوسرے پہاڑوں کے کندھوں پر سوار ہو جائیں گے اور حرکت کریں گے۔ اِس طرح دراڑیں اور رَخنے پڑ جائیں گے۔ جھیلیں جھک جائیں گی اور خالی ہو جائیں گی۔ دریا گزر گاہیں بدِل لیں گے، اور خشکی کے علاقے اپنے باشندوں سمیت
سرک کر سمندر میں جا پڑیں گے۔ جنگلات جلنے لگیں گے۔ تند ہُوائیں اور طوفانی سمندر اُن کو زمین سے اُکھاڑ کر شاخوں اور جڑوں سمیت بڑے بڑے ڈھیروں میں جمع کر دیں گے۔ سمندروں کا پانی بہہ جائے گا اور وُہ ریگستان بن جائیں گے۔»
۲۴:۳۰«اُس وقت ابنِ آدم کا نشان آسمان پر دِکھائی دے گا۔» ہمیں نہیں بُتایا گیا کہ «نشان» کیا ہو گا۔ اُس کی پہلی آمد پر بھی آسمان میں نشان ظاہر ہُوا تھا یعنی ستارہ دِکھائی دیا تھا۔ شاید ایسا ہی کوئی معجزاتی ستارہ اُس کی دُوسری آمد کی خبر دے گا۔ بعض لوگ یقین رکھتے ہیں کہ «ابنِ آدم» خود ہی «نشان» ہے۔ مطلب کُچھ بھی ہو، جب یہ نشان ظاہر ہو گا تو سب کو صاف معلوم ہو جائے گا۔ «اور اُس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی۔» بے شک اِس لئے کہ اُنہوں نے ابنِ آدم کو ردّ کیا تھا۔ مگر بنیادی طور پر «اُس سرزمین» ۱؎ کے قبَیلے یعنی بنی اِسرائیل کے بارہ قبَیلے چھاتی پیٹیں گے۔ «اور وُہ اُس پر جِس کو اُنہوں نے چھیدا ہے نظر کریں گے اور اُس کے لئے ماتم کریں گے جیسا کوئی اپنے اکلوتے کے لئے کرتا ہے» (زِکریاہ ۱۲:۱۰)۔
«اور ابنِ آدم کو بڑی قُدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادِل وں پر آتے دیکھیں گی۔» کیسی شان دار اور عجیب گھڑی ہو گی! جِس پر تھوکا گیا اور جِسے مصلوب کیا گیا، وُہی بے قصور اور زندگی اور جلال کا خُداوند ثابُت ہو گا۔ حلیم اور فروتن یسؔوع خود یہوواہ ظاہر ہو گا۔ ذبح کیا ہُوا برّہ فتح مند ببر کی صورت میں اُترے گا۔ ناصرت کا حقیر بڑھئی بادشاہوں کا بادشاہ اور خُداوندوں کا خُدا بن کر آئے گا۔ آسمان کے بادِل اُس کے رتھ ہوں گے۔ وُہ شاہی قُدرت اور شان و شوکت کے ساتھ آئے گا۔ یہی وُہ گھڑی ہے جِس کے لئے کائنات ہزاروں سال سے کراہ رہی ہے۔
۲۴:۳۱ جب وُہ آئے گا تو ساری دُنیا میں «اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔» اور وُہ «اُس کے برگزیدوں کو … جمع کریں گے» یعنی بنی اِسرائیل میں سے ایمان داروں کو فلستین میں جمع کریں گے۔ وُہ اپنے مسیحِ مَوعُود کا اِستقبال کرنے اور اُس کی جلالی حکومت سے لطف اندوز ہونے کے لئے زمین کے اِس کنارے سے اُس کنارے تک جمع ہوں گے۔
ہ۔ اِنجیر کے درخت کی تمثیل (۲۴:۳۲-۳۵)
۲۴:۳۲ «اب انجیر کے درخت سے ایک تمثیل سیکھو۔» مسیح خُداوند پھر فطرت سے ایک روحانی سبق سکھاتا ہے۔ جب اِنجیر کے درخت کی «ڈالی نرم ہوتی (ہے) … تم جان لیتے ہو کہ گرمی نزدیک ہے۔» ہم دیکھ چکے ہیں کہ انجیر کا درخت اِسرائیلی قوم کی عَلامت ہے (۲۱:۱۸-۲۲)۔ سیکڑوں برسوں سے اِسرائیلی قوم کا نہ کوئی اپنا وطن تھا نہ اپنی حکومت، نہ ہیکل تھی نہ کہانت، قومی زندگی کا کوئی نشان نہیں تھا۔ یہ قوم ساری دُنیا میں تِتر بُتر تھی۔
پھر ۱۹۴۸ء میں اِسرائیل ایک قوم بن گئی، اُن کا اپنا وطن اور اپنی حکومت بن گئی، اُن کا اپنا سِکہ اور اپنی ڈاک ٹکٹیں وغیرہ ہیں، روحانی طور پر یہ قوم ابھی تک ٹھنڈی اور بنجر ہے۔ خُدا کے لئے کوئی پھل پیدا نہیں ہو رہا۔ لیکن قومی لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اِس کی «ڈالی نرم» اور سبز ہے۔
۲۴:۳۳«اِسی طرح جب تم اِن سب باتوں کو دیکھو تو جان لو کہ وُہ نزدیک بلکہ دروازہ پر ہے۔» اِسرائیل کے ایک منظم ملک کی صورت میں اُبھرنے کا مطلب صِرف یہی نہیں کہ مصیبُت کا آغاز نزدیک ہے، بلکہ خود خُداوند نزدیک «بلکہ دروازہ پر ہے۔»
اگر مسیح کا بادشاہی کرنے کے لئے آنا اِتنا نزدیک ہے تو کلیسیا کا فضائی اِستقبال کتنا زیادہ نزدیک ہو گا! اگر ہمیں اُن واقعات کے سائے نظر آ رہے ہیں جن کا اُس کے جلال میں آنے سے پہلے ہونا ضرور ہے تو ہم اُس کے ظہورِ ثانی یعنی دُوسری آمد کے کتنے قریب ہیں (۱۔تھسلنیکیوں ۴:۱۳-۱۸)!
۲۴:۳۴ اِنجیر کے درخت کی مثال دینے کے بعد یسؔوع نے مزید کہا کہ « مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہرگز تمام نہ ہو گی »۔ «یہ نسل» ہرگز مراد وُہ لوگ نہیں ہو سکتے جو اُس وقت زندہ تھے جب مسیح زمین پر تھا۔ وُہ سب تو مر چکے ہیں، لیکن ابھی باب ۲۴ کے واقعات رُونما نہیں ہوئے۔ تو خُداوند کا «یہ نسل» سے کیا مطلب تھا؟ اِس کی دو قابلِ تصور تشریحات ہو سکتی ہیں:
اوّل، ڈبلیو گرانٹ (Grant) اور کُچھ دوسرے افراد کے مطابق یہاں تصور یہ ہے کہ «جو نسل (پشت) اِن باتوں کا آغاز دیکھے گی وُہی اُن کا خاتمہ بھی دیکھے گے۔» جو لوگ اِسرائیلی قوم کو عروج کی طرف آتے ہوئے دیکھ رہے ہیں (یا جو مصیبُت کو شروع ہوتے دیکھیں گے) وُہی لوگ خُداوند یسؔوع کو بادشاہی کرنے کے لئے بادِل وں پر آتے دیکھیں گے۔
دُوسری تشریح یہ ہے کہ «نسل» کو نسل ہی سمجھنا چاہئے اور یٗونانی لفظ کا یہ جائز اور مناسب ترجمہ ہے۔ اِس کا مطلب ہے ایک ہی اصل، نسل یا گھرانے کے لوگ (متؔی ۱۲:۴۵؛ ۲۳:۳۵،۳۶)۔ چنانچہ یسؔوع یہ پیش گوئی کر رہا تھا کہ یہُودی نسل اِن سب باتوں کو پورا ہوتے دیکھنے کے لئے باقی بچی رہے گی۔ وحشیانہ اِیذا رسانیوں کے باوجود اُن کا مسلسل باقی بچے رہنا اور قائم رہنا تاریخ کا ایک مُعجزہ ہے۔
میرے خیال کے مطابق یہاں ایک اَور تصور بھی پایا جاتا ہے۔ یسؔوع کے دِنوں میں یہ «نسل» ایک ایسی نسل تھی جو اُسے مسیحِ مَوعُود تسلیم کرنے سے مستقلاً اِنکار کر رہی تھی۔ میرا خیال ہے کہ یسؔوع یہ پیش گوئی کر رہا تھا کہ میری دُوسری آمد تک اِسرائیلی قوم مسیح کو ردّ کرنے کی حالت پر مسلسل قائم رہے گی۔ پھر ساری بغاوت کچل دی جائے گی۔ اور صِرف اُن ہی کو چھوڑا جائے گا جو اُس کی حکومت کی اطاعت کرنے کو دِل سے آمادہ ہوں گے۔ اور وُہی ہزار سالہ بادشاہی میں داخل ہوں گے۔
۲۴:۳۵ یسؔوع نے زور دیا کہ میری پیش گوئی اٹل ہے۔ اِس مقصد کے لئے اُس نے کہا کہ «آسمان اور زمین ٹل جائیں گے، لیکن میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی»۔ «آسمان» کے ٹلنے کے ضمن میں وُہ نجمی اور فضائی آسمان کی بات کر رہا تھا، یعنی ہمارے اوپر جو نیلی فضا ہے۔ اُس آسمان کی نہیں جو خُدا کی سکونت گاہ ہے (۲۔کرنتھیوں ۱۲:۲-۴)۔ آسمان اور زمین کے پگھل جانے کا بیان ۲۔پَطرسؔ ۳:۱۰-۱۳ اور پھر مُکاشفہ۲۰:۱۱ میں درَج ہے۔
و۔ اُس دن اور گھڑی کا عِلم نہیں (۲۴:۳۶-۴۴)
۲۴:۳۶جہاں تک خُداوند کی آمدِثانی کے صحیح «دن اور … گھڑی» کا تعلق ہے اِس کی «بابُت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صِرف باپ۔» یہ بات ہمیں خبردار کرتی ہے کہ کِسی تاریخ کا تعین نہ کریں اور نہ اُن لوگوں کا یقین کریں جو ایسا کرتے ہیں۔ ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوتا کہ فرشتے بھی نہیں جانتے۔ وُہ بھی محدود مخلوق ہیں اور اُن کا عِلم بھی محدود ہے۔
جو لوگ اُس کی دُوسری آمد سے پہلے زندہ ہوں گے اُن کو «دن» اور «گھڑی» کا تو پتا نہیں ہو گا مگر لگتا ہے کہ جو لوگ اِس نبوت سے واقف ہوں گے شاید وُہ «سال» کو جان سکیِں گے۔ مثلاً اُن کو عِلم ہو گا کہ آمدِثانی ہیکل میں مکروُہ بُت رکھنے کے تقریباً ساڑھے تین سال بعد ہو گی (دانی ایل ۹:۲۷۔ مزید دیکھئے دانی ایل ۷:۲۵؛ ۱۲:۷،۱۱؛ مُکاشفہ۱۱:۲،۳؛ ۱۲:۱۴؛ ۱۳:۵)۔
۲۴:۳۷-۳۹ اُن دِنوں میں البُتہ کُچھ لوگ بالکُل بے پروا ہوں گے جیسا کہ «نوح کے دِنوں میں ہُوا» تھا۔ اگرچہ طوفان کے آنے سے پہلے کے دِنوں میں شرارت اور بدی حد سے بڑھ گئی تھی مگر یہاں اِس پہلو یا خصوصیت پر زور نہیں دیا گیا بلکہ اِس بات پر کہ «لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے۔» دوسرے لفظوں میں یہ کہ وُہ زندگی کے معمول کے کاموں میں یوں مصروف تھے کہ جیسے ہمیشہ تک جیتے رہیں گے۔ اگرچہ اُن کو خبردار کیا گیا تھا کہ طوفان آنے والا ہے، وُہ اِس طرح زندگی بَسر کرتے رہے جیسے کہتے ہوں کہ طوفان ہمارا کُچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جب طوفان آیا تو وُہ تیار نہ تھے۔ حفاظت اور بچائو کی ایک ہی جگہ تھی اور وُہ اُس سے باہر تھے۔ مسیح کی واپسی کے وقت بھی بالکُل ایسا ہی ہو گا۔ مسیح حفاظتی کشتی ہے۔ چنانچہ صِرف وُہی بچیں گے جو مسیح میں ہوں گے۔
۲۴:۴۰،۴۱ «اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہوں گے۔» اُن میں سے «ایک» کو غضب کے لئے «لے لیا جائے گا» اور «دوسرا» ہزار سالہ بادشاہی میں داخل ہونے کے لئے «چھوڑ دیا جائے گا۔» وُہ یک لخت جدا کر دیئے جائیں گے۔ ایک کو غضب کا طوفان بہا لے جائے گا، دوسرا مسیح کی بادشاہی کی برکات سے لطف اندوز ہونے کے لئے چھوڑ دیا جائے گا (آیات ۴۰،۴۱ کو اکثر اُن لوگوں کو خبردار کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو نجات یافتہ نہیں اور اِن کی تشریح فضائی استقبال کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ فضائی اِستقبال مسیح کی دُوسری آمد کا پہلا مرحلہ ہے جب وُہ سارے ایمان داروں کو آسمان پر لے جائے گا اور سارے بے ایمان عدالت کے لئے پیچھے رہ جائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اِطلاق جائز اور مناسب ہو، مگر سیاق و سباق سے واضح ہوتا ہے کہ تشریح کا تعلق مسیح کے بادشاہی کرنے کے لئے آنے کے ساتھ ہونا چاہئے)۔
۲۴:۴۲-۴۴چونکہ مسیح کی واپسی کے دن اور گھڑی کا کُچھ عِلم نہیں، اِس لئے ضرور ہے کہ ہم «جاگتے» رہیں۔ اگر کِسی شخص کو پتا ہو کہ میرے گھر میں نقب لگنے والی ہے تو اگرچہ اُس کو صحیح وقت کا پتا نہیں ہو گا، مگر وُہ تیار رہے گا۔ ابنِ آدم اُس وقت آ جائے گا جب عام لوگوں کو اِس کی بالکُل توقع نہ ہو گی۔ اُن کو «گمان بھی نہ ہو گا۔» اِس لئے اُس کے لوگوں کو اُمید کے ساتھ ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔
ز۔ عقل مند نوکر اور شریر نوکر کی تمثیل (۲۴:۴۵-۵۱)
۲۴:۴۵-۴۷ اِس باب کے اِختتامی حصے میں خُداوند یسؔوع دِکھاتا ہے کہ نوکر اپنے مالک کی واپسی کو مدنظر رکھتے ہوئے جِس قِسم کا سلوک کرتا ہے اِسی سے اُس کا اصل کردار یا فطرت ظاہر ہوتی ہے۔ ہر نوکر سے توقع ہوتی ہے کہ وُہ گھر کے نوکروں چاکروں کو وقت پر کھانا دے گا۔ لیکن مسیح کے خادم ہونے کا دعویٰ کرنے والے سب خالص نہیں ہوتے۔
«عقل مند نوکر» وُہ ہے جو خُدا کے لوگوں کی نگہداشت کرتا ہُوا پایا جائے۔ ایسے نوکر کو بادشاہی میں بُہت وسیع ذمہ داری سنبھالنے کا اعزاز دیا جائے گا۔ مالک «اُسے اپنے سارے مال کا مختار کر دے گا۔»
۲۴:۴۸-۵۱ «خراب نوکر» نام کے ایمان داروں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مالک کے جلد واپس آ جانے کی اُمید کا اُس کے کردار پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وُہ «اپنے ہم خدمتوں کو مارنا … اور شرابیوں کے ساتھ کھانا پینا» شروع کر دیتا ہے۔ ایسے سلوک سے پتا چلتا ہے کہ وُہ بادشاہی کے لئے تیار نہیں ہے۔ جب بادشاہ آئے گا تو اُسے سزا دے گا اور «اُس کو ریاکاروں میں شامِل کرے گا» جہاں لوگ روتے اور دانت پیستے ہیں۔
اِس تمثیل کا اِشارہ مسیحِ مَوعُود بادشاہ کی زمین پر دیدنی واپسی کی طرف ہے۔ مگر اِس اصول کا فضائی استقبال پر بھی یکساں طور پر اِطلاق ہوتا ہے۔ بُہت سے لوگ مسیحی ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن خُدا کے لوگوں کے ساتھ عداوت رکھتے اور بے دین لوگوں کے ساتھ بھائی چارہ رکھتے ہیں۔ اِس طرح وُہ ثابُت کرتے ہیں کہ ہم مسیح کی واپسی کے منتظر نہیں۔ جب وقت آئے گا تو اُن کے لئے برکت نہیں غضب ہو گا۔
ح۔ دس کنواریوں کی تمثیل (۲۵:۱-۱۳)
۲۵:۱-۵«اُس وقت» شروع کے یہ لفظ ظاہر کرتے ہیں کہ اِس کا تعلق باب ۲۴ کے ساتھ ہے۔ یہ صاف طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ تمثیل کا تعلق بادشاہ کی زمین پر واپسی سے بالکُل پہلے اور واپسی کے دوران کے وقت سے ہے۔ یسؔوع «آسمان کی بادشاہی» کو اُن «دس کنواریوں» سے تشبیہ دیتا ہے «جو اپنی مشعلیں لے کر دُولھا کے اِستقبال کو نکلیں»۔ «اُن میں پانچ … عقل مند تھیں۔» اُنہوں نے «اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کپیوں میں تیل بھی لے لیا۔» دُوسری کنواریوں نے ساتھ تیل نہ لیا۔ دُولھا کا اِنتظار کرتے کرتے وُہ سب سو گئیں۔
پانچ «عقل مند» کنواریاں مصیبُت کے دوران مسیح کے سچے شاگردوں کی نمائندہ ہیں۔ «مشعلوں» سے مراد اقرار یا دعویٰ ہے اور «تیل» جیسا کہ عام طور پر مانا جاتا ہے رُوح القُدس کی عَلامت ہے۔ «بے وقوف» کنواریاں اُن لوگوں کی نمائندہ ہیں جو مسیحِ مَوعُود کی آمد کی اُمید کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن کبھی سچے طور پر ایمان نہیں لائے اور اُن کے پاس رُوح القُدس نہیں ہے۔ «دُولھا» مسیح ہے جو بادشاہ ہے۔ اور «دیر لگانے» سے مراد اُس کی پہلی اور دُوسری آمد کے درمیان کا عرصہ ہے۔ یہ حقیقت کہ وُہ دسوں کنواریاں «سو گئیں» ظاہر کرتی ہے کہ بظاہر اُن میں کوئی فرق نہیں تھا۔
۲۵:۶ آدھی رات کو دھوم مچی کہ «دیکھو دُولھا آ گیا!» گذشتہ باب میں ہم نے دیکھا تھا کہ اُس کی آمد کا اِعلان ہولناک نشانوں سے ہو گا۔
۲۵:۷-۹ اُس وقت «سب کنواریاں اُٹھ کر اپنی اپنی مشعل درست کرنے لگیں۔» سب یہی دِکھانا چاہتی تھیں کہ ہم تیار ہیں۔ بے وقوف کنواریوں کے پاس تیل نہیں تھا، اِس لئے وُہ دُوسری کنواریوں سے مانگنے لگیں۔ لیکن اِنہیں تیل «خریدنے» کو جانا پڑا کیونکہ عقل مند کنواریوں نے اُن کو تیل دینے سے اِنکار کر دیا۔ اُن کا یہ اِنکار خود غرضانہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ روحانی دُنیا میں کوئی شخص رُوح القُدس دوسرے شخص کو نہیں دے سکتا۔ بلاشبہ رُوح القُدس خریدا بھی نہیں جا سکتا۔ البُتہ بائبل مُقدس نجات کو بغیر پیسے اور بغیر قیمت کے خریدنے کی اِصطلاح ضرور استعمال کرتی ہے۔
۲۵:۱۰-۱۲ جب بے وقوف کنواریاں تیل خریدنے جا رہی تھیں «تو دُولھا آ پہنچا۔» سریانی اور ویلگیٹ ترجموں میں لِکھا ہے کہ «وُہ اپنی دِل ھن کے ساتھ آ پہنچا۔» یہ بات نبوتی تصویر کے عین مطابق ہے۔ خُداوند یسؔوع اپنی دِل ھن یعنی کلیسیا کے ساتھ واپس آئے گا (۱۔تھسلنیکیوں ۳:۱۳) (شادی آسمان پر ہوتی ہے۔ اِفسیوں ۵:۲۷ اور فضائی استقبال کے بعد)۔ مصیبُت میں سے نکل کر آنے والے مُقدسین کا بقیہ اُس کے ساتھ شادی کے جشن میں چلا جائے گا۔ شادی کا جشن بڑی عمدگی اور موزُونیت کے ساتھ اُس خوشی اور برکت کی تصویر پیش کرتا ہے جو مسیح کی زمینی بادشاہی میں ہو گی۔ عقل مند کنواریاں «اُس کے ساتھ شادی کے جشن میں چلی گئیں۔ اور دروازہ بَند ہو گیا۔» اب بادشاہی میں داخل ہونے کا وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ جب دُوسری کنواریاں آئیں اور اندر آنے کی اِجازت چاہی تو دُولھا نے صاف کہہ دیا کہ « مَیں تم کو نہیں جانتا۔» یہ واضح ثبوت ہے کہ وُہ نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئی تھیں۔
۲۵:۱۳ یسؔوع کہتا ہے کہ اِس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ چونکہ میرے آنے کے «دن اور گھڑی» کا کِسی کو عِلم نہیں اِس لئے «جاگتے رہو۔» ایمان داروں کو اِس طرح زندگی بَسر کرنی چاہئے جیسے خُداوند کِسی لمحہ بھی آیا چاہتا ہے۔ ہماری مشعلیں درست اور تیل سے بھری رہیں۔
ط۔ توڑوں کی تمثیل (۲۵:۱۴-۳۰)
۲۵:۱۴-۱۸ یہ تمثیل بھی سکھاتی ہے کہ جب خُداوند واپس آئے گا تو سچے اور جھوٹے نوکر ہوں گے۔ یہ کہانی «ایک آدمی» کے گرد گھومتؔی ہے جِس نے سفر پر جانے سے پہلے «اپنے گھر کے نوکروں کو» جمع کیا اور ہر ایک کو «اُس کی لیاقت کے مطابق» نقدی کی مُختلفِ مقدار دی۔ «ایک کو پانچ توڑے دیئے، دوسرے کو دو اور تیسرے کو ایک۔» اُن کو اِن توڑوں کو استعمال کر کے اپنے مالک کے لئے آمدنی حاصل کرنا تھی۔ جِس کو «پانچ» توڑے ملے تھے، اُس نے «پانچ توڑے اَور پیدا کر لئے۔» جِس کو «دو» ملے تھے، اُس نے بھی رقم دُگنی کر لی۔ لیکن «جِس کو ایک ملا تھا، اُس نے جا کر زمین کھودی» اور توڑا اُس میں «چھپا دیا۔»
یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ مالک مسیح ہے اور لمبا سفر پہلی اور دُوسری آمد کا درمیانی عرصہ ہے۔ اور تین نوکر مصیبُت کے دوران زندہ اِسرائیلی ہیں جو غیر حاضر خُداوند کے مفادات کی نمائندگی کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اُن کو اِنفرادی لیاقت کے مطابق ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
۲۵:۱۹-۲۳«بڑی مدت کے بعد … مالک آیا اور اُن سے حساب لینے لگا۔» یہ دُوسری آمد کو ظاہر کرتا ہے۔ پہلے دونوں نوکروں کو بالکُل یکساں تعریف ملی «اے اچھے اور دیانت دار نوکر شاباش! تُو تھوڑے میں دیانت دار رہا۔ مَیں تجھے بُہت چیزوں کا مختار بنائوں گا۔» اُن کی خدمت کی جانچ اور آزمائش کا معیار یہ نہیں کہ کتنا کمایا بلکہ یہ کہ کتنی محنت کی۔ ہر ایک نے اپنی لیاقت کا پورا پورا استعمال کیا اور سو فی صد کمایا۔ یہ سچے ایمان داروں کی نمائندگی کرتے ہیں جن کا اَجر یہ ہے کہ مسیحِ مَوعُود کی بادشاہی کی برکات سے حظ اُٹھائیں گے۔
۲۵:۲۴،۲۵تیسرے نوکر کے پاس مالک کو پیش کرنے کے لئے سوائے بہانوں اور بے عزتی کے کُچھ نہ تھا۔ اُس نے مالک پر «سخت آدمی» اور غیر معقول شخص ہونے کا اِلزام لگایا کہ «جہاں نہیں بویا وُہاں سے کاٹتا ہے اور جہاں نہیں بکھیرا وُہاں سے جمع کرتا ہے۔» اپنے لئے اُس نے یہ عذر تراشا کہ تیرے خوف نے مجھے گویا مفلوج کر دیا تھا۔ چنانچہ مَیں نے وُہ توڑا «زمین میں چھپا دیا۔» بے شک یہ نوکر غیر ایمان دار تھا۔ کوئی بھی سچا خادم اپنے مالک کے بارے میں ایسا نہیں سوچ سکتا۔
۲۵:۲۶،۲۷ اُس کے مالک نے اُسے جھڑکا اور ملامت کی اور اُسے «شریر اور سُست نوکر» قرار دیا۔ اور پوچھا کہ « تُو نے میرا توڑا ساہو کاروں کو کیوں نہ دے دیا کہ اِس پر سود ہی کما لیتا؟» اتفاق کی بات ہے کہ آیت ۲۶ میں مالک اپنے اُوپر لگائے گئے اِلزامات سے اِنکار نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے کہ «اگر تیرے خیال کے مطابق مَیں ایسا مالک تھا تو تجھے چاہئے تھا کہ اِس توڑے کو کام میں لاتا۔ تیرے لفظ تجھے بَری نہیں کرتے بلکہ مجرم ٹھہراتے ہیں۔»
۲۵:۲۸،۲۹ اگر اُس نوکر نے بھی ایک توڑے سے ایک توڑا اَور کمایا ہوتا تو مالک اُس کی ویسی ہی تعریف کرتا جیسی دوسرے دو نوکروں کی تھی۔ مگر اُس کے پاس دِکھانے کو کُچھ نہ تھا۔ بَس، زمین میں صِرف ایک گڑھا! اُس کا «توڑا» لے کر «دس توڑوں» والے نوکر کو دے دیا گیا۔ یہاں روحانی دُنیا کے ایک مُسلمہّ اُصول کی پیروی کی گئی ہے کہ «جِس کِسی کے پاس ہے اُسے دیا جائے گا اور اُس کے پاس زیادہ ہو جائے گا۔ مگر جِس کے پاس نہیں ہے، اُس سے وُہ بھی جو اُس کے پاس ہے لے لیا جائے گا۔» جو لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں خُدا کے جلال کے لئے استعمال کیا جائے، اُن کو وسائل مہیا کئے جاتے ہیں۔ وُہ جتنا زیادہ کام کرتے ہیں، اُن کو اُتنی ہی زیادہ توفیق عطا کی جاتی ہے کہ خُدا کے لئے استعمال ہوں۔ اِس کے برعکس اگر ہم اپنی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کرتے تو وُہ جاتی رہتی ہیں۔ کاہلی کا انجام لاغری ہوتا ہے۔
آیت ۲۷ میں «ساہو کاروں» کا ذِکر ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ اگر ہم اپنے مال (صلاحیتوں) کو خُداوند کے لئے استعمال نہیں کر سکتے تو اُن لوگوں کے حوالے کر دیں جو اِنہیں استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ «ساہو کار» مشنری، بائبل سوسائیٹیاں، مسیحی اشاعت خانے، اِنجیل کے ریڈیو اور ٹی۔وی پروگرام وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ جِس دُنیا میں ہم رہتے ہیں، وُہاں روپے پیسے کو بے کار رکھ چھوڑنے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ پیئرسن (Pierson) اِس سلسلے میں کہتا ہے کہ
«ڈرپوک یا بُزدِل روحیں جن میں بادشاہی کی جرأت مندانہ خدمت کرنے کی قابلیت نہیں ہوتی، جو سہارے کے بغیر قدم نہیں اُٹھا سکتیں، وُہ اپنی کمزوری اور ناقابلیت کو دوسروں کی ذہانت اور تیز فہمی کے سپرد کر دیں جو اُن کی نعمتوں اور
مال کو مالک اور اُس کی کلیسیا کے لئے استعمال کر سکتے ہیں … مختار کے پاس روپیہ پیسہ یا دُوسری نعمتؔیں ہوتی ہیں جن کو کام میں لایا جا سکتا ہے۔ مگر اُس میں شاید دُور بینی اور ایمان کی کمی ہو۔ خُداوند کے «ساہو کار» اُن کو
دکھائیں گے کہ مالک کے لئے کس طرح نفع کما سکتے ہیں … کلیسیا کے وجود کا ایک مقصد یہ ہے کہ ایک رُکن کی کمزوری دوسرے رُکن کی قوت سے طاقت پائے اور سب کے تعاون سے کمزور ترین اور کمترین کی طاقت بڑھ جائے۔»
۲۵:۳۰«نکمے نوکر» کو باہر پھینک دیا گیا __ بادشاہی سے خارج کر دیا گیا۔ شریروں کی مصیبُت اُس کے حصے میں آئی۔ وُہ اِس لئے مجرم نہیں ٹھہرا کہ توڑے کو کاروبار میں لگانے میں ناکام رہا تھا بلکہ اُس کے نیک کام نہ کرنے سے ثابُت ہُوا کہ اُس کے پاس نجات والا ایمان نہیں ہے۔
ی۔ بادشاہ قوموں کی عدالت کرتا ہے (۲۵:۳۱-۴۶)
۲۵:۳۱ اِس حصے میں قوموں کی عدالت کا بیان ہے۔ یہ مسیح کے تخت ِعدالت اور بڑے سفید تخت کی عدالت سے الگ واقعہ ہے۔ مسیح کا تخت ِ عدالت وُہ واقعہ ہے جو فضائی اِستقبال کے بعد ہو گا۔ اِس وقت صِرف ایمان داروں کا جائزہ لے کر اُن کو اَجر اور انعام دیئے جائیں گے (رؔومیوں ۱۴:۱۰؛ ۱۔کرنتھیوں ۳:۱۱-۱۵؛ ۲۔کرنتھیوں ۵:۹،۱۰)۔ بڑے سفید تخت کی عدالت ہزار سالہ بادشاہی کے بعد کے زمانے میں ہو گی۔ شریر مُردوں کو سزا ہو گی اور وُہ آگ کی جھیل میں ڈالے جائیں گے (مُکاشفہ۲۰:۱۱-۱۵)۔
قوموں یا غیر قوموں (یٗونانی لفظ کا کوئی ایک مطلب ہو سکتا ہے) کی عدالت زمین پر اُس وقت ہو گی جب مسیح بادشاہی کرنے کو آئے گا۔ آیت ۳۱ سے یہ بات بالکُل واضح ہے۔ «جب ابنِ آدم اپنے جلال میں آئے گا اور سب فرشتے اُس کے ساتھ آئیں گے۔» اگر اِس کو یوایل باب ۳ کے مماثل قرار دینا درست ہے تو یہ واقعہ یروشلؔیم کے باہر یہوسفط کی وادی میں ہو گا (یوایل ۳:۲)۔ قوموں کی عدالت اِس بنیاد پر کی جائے گی کہ اُنہوں نے «بڑی مصیبُت» کے دوران مسیح کے یہُودی بھائیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا (یوایل ۳:۱،۲،۱۲-۱۴؛ متؔی ۲۵:۳۱-۴۶)۔
۲۵:۳۲یہاں یہ بات نہایت قابلِ توجہ ہے کہ تین طبقوں کا ذِکر ہے، بھیڑیں، بکریاں اور مسیح کے بھائی۔ پہلے دو طبقے، جن کی عدالت مسیح کر رہا ہے، وُہ غیر قومیں ہیں جو «بڑی مصیبُت» کے زمانے میں زمین پر زندہ موجود تھیں۔ تیسرا طبقہ مسیح کے وفادار یہُودی بھائیوں کا ہے جنہوں نے اُس مصیبُت کے دوران اِنتہائی ایذارسانی کے باوجود اُس کا اِنکار نہیں کیا۔
۲۵:۳۳-۴۰ بادشاہ «بھیڑوں کو اپنے دہنے اور بکریوں کو بائیں کھڑا» کرتا ہے۔ پھر وُہ بھیڑوں کو اُس جلالی «بادشاہی» میں داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے جو اُن کے لئے «بنایِ عالم سے … تیار کی گئی ہے۔» وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اُنہوں نے جب وُہ (بادشاہ) «بھوکا تھا» اُسے «کھانا کھلایا۔» جب «پیاسا تھا» اُسے «پانی پلایا»، جب «پردیسی تھا» اُسے اپنے گھر میں خوش آمدید کہا۔ جب «ننگا تھا» اُسے «کپڑا پہنایا۔» بیماری میں اُس کی خبر لی اور جب «قید میں تھا» تو اُس کے «پاس آئے۔» «راست باز» بھیڑیں لاعِلمی کا اظہار کرتی ہیں کہ ہم نے کب بادشاہ کے ساتھ کبھی ایسا مہربانی کا سلوک کیا تھا۔ وُہ تو اُس کے زمانے میں دُنیا میں بھی نہیں تھا۔ بادشاہ وضاحت کرتا ہے کہ «چونکہ تم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے کِسی ایک کے ساتھ یہ سلوک کیا اِس لئے میرے ہی ساتھ کیا۔» جو کُچھ اُس کے کِسی شاگرد کے ساتھ کیا جاتا ہے اُس کا اَجر ایسے ہی ملتا ہے جیسے خود اُس کے ساتھ کیا ہو۔
۲۵:۴۱-۴۵ ناراستوں کو حُکم ہوتا ہے کہ «میرے سامنے سے اُس ہمیشہ کی آگ میں چلے جائو جو اِبلیس اور اُس کے فرشتوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔» کیونکہ یعقوب کی مصیبُت کے ہولناک دِنوں میں وُہ اُس کی خبرگیری کرنے سے قاصر رہے تھے۔ جب وُہ اپنے آپ کو یہ کہہ کر معذور ٹھہراتے ہیں کہ ہم نے تجھے کبھی دیکھا تک نہ تھا تو وُہ اُن کو یاد دِل اتا ہے کہ تم میرے پیروکاروں کو نظر انداز کرتے رہے اِس لئے مجھے ہی نظر انداز کرتے رہے۔
۲۵:۴۶ چنانچہ بکریاں «ہمیشہ کی سزا» میں مگر بھیڑیں «ہمیشہ کی زندگی» میں جاتی ہیں۔ لیکن اِس واقعے سے دو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اوّل، کلام کے اِس حصے سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ کُچھ قومیں پُوری کی پُوری نجات پاتی ہیں۔ دوم، کہانی سے یہ غلط نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بھیڑوں نے نیک اعمال کے سبب سے نجات پائی ہے اور بکریوں کو اِس لئے سزا ملی کہ وُہ نیک اعمال کرنے سے قاصر رہیں۔ جہاں تک پہلے مسئلے کا تعلق ہے تو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ خُدا قوموں سے مِن حیث القوم بھی سلوک کرتا ہے۔ پُرانے عہد کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ قوموں کو اُن کے گُناہ کے باعث سزا ملی (یسَعیاہ ۱۰:۱۲-۱۹؛ ۴۷:۵-۱۵؛ حِزقی ایل ۲۵:۶،۷؛ عاموس ۱:۳،۶،۹،۱۱،۱۳؛ ۲:۱، ۴، ۶،؛ عبدیاہ آیت ۱۰؛ زِکریاہ ۱۴:۱-۵)۔ یہ یقین کرنا غیر معقول نہیں کہ قوموں کو الٰہی عتاب کا تجربہ ہوتا رہے گا۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ کِسی قوم کا ہر فرد اِس انجام سے دوچار ہو گا بلکہ یہ کہ الٰہی اِنصاف کے اصول کا اِطلاق قومی بنیاد پر بھی ہو گا اور اِنفرادی بنیاد پر بھی۔
اِس حصے میں لفظ ethne استعمال ہُوا ہے جِس کا ترجمہ «قومیں» کیا گیا ہے۔ اِس کا ترجمہ «غیر قومیں» بھی ہو سکتا ہے۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ کلام کے اِس حصے میں غیر قوم افراد کی عدالت کا بیان ہے۔ مگر خواہ یہ عدالت افراد کی ہو یا قوموں کی مسئلہ یہ ہے کہ اِتنے بڑے ہجوم کو فلستین میں خُداوند کے سامنے کس طرح جمع کیا جا سکتا ہے۔ شاید یہ خیال کرنا بُہتر ہو گا کہ قوموں یا افراد کے طبقات کے نمائندے عدالت کے لئے جمع ہوں گے۔
جہاں تک دوسرے مسئلے کا تعلق ہے، کلام کے اِس حصے سے «اعمال سے نجات» کی تعلیم نہیں دی جا سکتی۔ بائبل مُقدس کی یکساں اور برابر شہادت یہ ہے کہ نجات اعمال سے نہیں بلکہ ایمان سے ہے (اِفسیوں ۲:۸،۹)۔ لیکن ساتھ ہی اِس حقیقت پر بھی برابر زور دیتی ہے کہ سچے ایمان سے نیک اعمال پیدا ہوتے ہیں۔ اگر نیک اعمال نہیں تو یہ ثبوت ہے کہ اِس شخص نے نجات نہیں پائی۔ پس ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ غیر قومیں اِس لئے نجات نہیں پائیں گی کہ اُنہوں نے یہُودی بقیہ کے ساتھ دوستانہ سلوک کیا بلکہ اِس لئے کہ اُن کی اِس مہربانی سے خُداوند کے لئے اُن کی محبُت منعکس ہوتی ہے۔
تین اَور نکات کا ذِکر کرنا ضروری ہے۔ اوّل، بیان ہُوا ہے کہ راست بازوں کے لئے بادشاہی بنائے عالم سے تیار کی گئی ہے (آیت ۳۴) جب کہ جہنم ابلیس اور اُس کے فرشتوں کے لئے تیار کیا گیا تھا (آیت ۴۱)۔ خُدا کی مرضی یہ ہے کہ اِنسان برکت پائیں۔ اصل میں جہنم بنی نوعِ اِنسان کے لئے نہیں تھا۔ لیکن اگر اِنسان زندگی سے دانستہ اِنکار کریں تو لازماً موت کو چن لیتے ہیں۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ خُداوند یسؔوع نے «ہمیشہ کی (وُہی ’ابدی‘) آگ» اور «ہمیشہ کی زندگی» (آیت ۴۶) کا ذِکر کیا۔ جِس ہستی نے ابدی زندگی کی تعلیم دی اُسی نے ہمیشہ کی سزا کی تعلیم بھی دی۔ چونکہ دونوں کو بیان کرنے کے لئے ایک ہی لفظ «ابدی» استعمال ہُوا ہے، اِس لئے ایک کو دوسرے کے بغیر قبول کرنا بے میل اور بے ربط بات ہو گی۔ جِس لفظ کا ترجمہ «ابدی» کیا گیا ہے اگر اِس کا مطلب «ہمیشہ کی» نہیں ہے تو یٗونانی زبان میں کوئی اَور لفظ نہیں جو اِس مفہُوم کو ادا کر سکے۔ لیکن ہم یقینا جانتے ہیں کہ اِس کا مطلب «ہمیشہ کی» ہے کیونکہ یہی لفظ خُدا کی ازلیت کو بیان کرنے کے لئے بھی استعمال ہُوا ہے (۱۔تیمتھیس ۱:۱۷)۔
آخری نکتہ یہ ہے کہ غیر قوموں کی عدالت ہمیں شدت سے یاد دِل اتی ہے کہ مسیح اور اُس کے لوگ ایک ہیں۔ جو بات لوگوں پر اثر کرتی ہے وُہی اُس پر بھی اثر کرتی ہے۔ ہمارے پاس اُس کے ساتھ مہربانی کرنے کے وسیع موقعے ہوتے ہیں۔ طریقہ یہ ہے کہ اُس سے محبُت رکھنے والوں کے ساتھ مہربانی کریں۔
کِتابِ مُقدّس
۱۔ اُسی روز یِسُوعؔ گھر سے نِکل کر جِھیل کے کنارے جا بَیٹھا۔
۲۔ اور اُس کے پاس اَیسی بڑی بِھیڑ جمع ہو گئی کہ وہ کشتی پر چڑھ بَیٹھا اور ساری بِھیڑ کنارے پر کھڑی رہی۔
۳۔ اور اُس نے اُن سے بُہت سی باتیں تمثِیلوں میں کہیں کہ دیکھو ایک بونے والا بِیج بونے نِکلا۔
۴۔ اور بوتے وقت کُچھ دانے راہ کے کنارے گِرے اور پرِندوں نے آ کر اُنہیں چُگ لِیا۔
۵۔ اور کُچھ پتّھرِیلی زمِین پر گِرے جہاں اُن کو بُہت مِٹّی نہ مِلی اور گہری مِٹّی نہ مِلنے کے سبب سے جلد اُگ آئے۔
۶ ۔اور جب سُورج نِکلا تو جل گئے اور جڑ نہ ہونے کے سبب سے سُوکھ گئے۔
۷۔ اور کُچھ جھاڑِیوں میں گِرے اور جھاڑِیوں نے بڑھ کر اُن کو دبا لِیا۔
۸ ۔اور کُچھ اچّھی زمِین میں گِرے اور پَھل لائے۔ کُچھ سَو گُنا کُچھ ساٹھ گُنا کُچھ تِیس گُنا۔
۹۔ جِس کے کان ہوں وہ سُن لے۔
۱۰۔ شاگِردوں نے پاس آ کر اُس سے کہا تُو اُن سے تمثِیلوں میں کیوں باتیں کرتا ہے؟
۱۱۔ اُس نے جواب میں اُن سے کہا اِس لِئے کہ تُم کو آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر اُن کو نہیں دی گئی۔
۱۲۔ کیونکہ جِس کے پاس ہے اُسے دِیا جائے گا اور اُس کے پاس زِیادہ ہو جائے گا اور جِس کے پاس نہیں ہے اُس سے وہ بھی لے لِیا جائے گا جو اُس کے پاس ہے۔
۱۳۔ مَیں اُن سے تمثِیلوں میں اِس لِئے باتیں کرتا ہُوں کہ وہ دیکھتے ہُوئے نہیں دیکھتے اور سُنتے ہُوئے نہیں سُنتے اور نہیں سمجھتے۔
۱۴۔ اور اُن کے حق میں یسعیاہ کی یہ پیشِین گوئی پُوری ہوتی ہے کہ تُم کانوں سے سُنو گے پر ہرگِز نہ سمجھو گے اور آنکھوں سے دیکھو گے پر ہرگِز معلُوم نہ کرو گے۔
۱۵۔ کیونکہ اِس اُمّت کے دِل پر چربی چھا گئی ہے اور وہ کانوں سے اُونچا سُنتے ہیں اور اُنہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں تا اَیسا نہ ہو کہ آنکھوں سے معلُوم کریں اور کانوں سے سُنیں اور دِل سے سمجھیں اور رجُوع لائیں اور مَیں اُن کو
شِفا بخشُوں۔
۱۶۔ لیکن مُبارک ہیں تُمہاری آنکھیں اِس لِئے کہ وہ دیکھتی ہیں اور تُمہارے کان اِس لِئے کہ وہ سُنتے ہیں۔
۱۷۔ کیونکہ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ بُہت سے نبِیوں اور راست بازوں کو آرزُو تھی کہ جو کُچھ تُم دیکھتے ہو دیکھیں مگر نہ دیکھا اور جو باتیں تُم سُنتے ہو سُنیں مگر نہ سُنِیں۔
۱۸۔ پس بونے والے کی تمثِیل سُنو۔
۱۹۔ جب کوئی بادشاہی کا کلام سُنتا ہے اور سمجھتا نہیں تو جو اُس کے دِل میں بویا گیا تھا اُسے وہ شرِیر آ کر چِھین لے جاتا ہے۔ یہ وہ ہے جو راہ کے کنارے بویا گیا تھا۔
۲۰۔ اور جو پتّھرِیلی زمِین میں بویا گیا یہ وہ ہے جو کلام کو سُنتا ہے اور اُسے فی الفَور خُوشی سے قبُول کر لیتا ہے۔
۲۱۔ لیکن اپنے اندر جڑ نہیں رکھتا بلکہ چند روزہ ہے اور جب کلام کے سبب سے مُصِیبت یا ظُلم برپا ہوتا ہے تو فی الفَور ٹھوکر کھاتا ہے۔
۲۲۔ اور جو جھاڑِیوں میں بویا گیا یہ وہ ہے جو کلام کو سُنتا ہے اور دُنیا کی فِکر اور دَولت کا فریب اُس کلام کو دبا دیتا ہے اور وہ بے پَھل رہ جاتا ہے۔
۲۳۔ اور جو اچّھی زمِین میں بویا گیا یہ وہ ہے جو کلام کو سُنتا اور سمجھتا ہے اور پَھل بھی لاتا ہے۔ کوئی سَو گُنا پَھلتا ہے کوئی ساٹھ گُنا کوئی تِیس گُنا۔
۲۴۔ اُس نے ایک اَور تمثِیل اُن کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اُس آدمی کی مانِند ہے جِس نے اپنے کھیت میں اچّھا بِیج بویا۔
۲۵۔ مگر لوگوں کے سوتے میں اُس کا دُشمن آیا اور گیہُوں میں کڑوے دانے بھی بو گیا۔
۲۶ ۔پس جب پتِّیاں نِکلِیں اور بالیں آئِیں تو وہ کڑوے دانے بھی دِکھائی دِئے۔
۲۷۔ نَوکروں نے آ کر گھر کے مالک سے کہا اَے خُداوند کیا تُو نے اپنے کھیت میں اچّھا بِیج نہ بویا تھا؟ اُس میں کڑوے دانے کہاں سے آ گئے؟
۲۸۔ اُس نے اُن سے کہا یہ کِسی دُشمن کا کام ہے۔ نَوکروں نے اُس سے کہا تو کیا تُو چاہتا ہے کہ ہم جا کر اُن کو جمع کریں؟
۲۹۔ اُس نے کہا نہیں اَیسا نہ ہو کہ کڑوے دانے جمع کرنے میں تُم اُن کے ساتھ گیہُوں بھی اُکھاڑ لو۔
۳۰۔ کٹائی تک دونوں کو اِکٹّھا بڑھنے دو اور کٹائی کے وقت مَیں کاٹنے والوں سے کہہ دُوں گا کہ پہلے کڑوے دانے جمع کر لو اور جلانے کے لِئے اُن کے گٹھے باندھ لو اور گیہُوں میرے کھتّے میں جمع کر دو۔
۳۱۔ اُس نے ایک اَور تمثِیل اُن کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اُس رائی کے دانے کی مانِند ہے جِسے کِسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دِیا۔
۳۲۔ وہ سب بِیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر جب بڑھتا ہے تو سب ترکارِیوں سے بڑا اور اَیسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرِندے آ کر اُس کی ڈالِیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔
۳۳۔ اُس نے ایک اَور تمثِیل اُن کو سُنائی کہ آسمان کی بادشاہی اُس خمِیر کی مانِند ہے جِسے کِسی عَورت نے لے کر تِین پَیمانہ آٹے میں مِلا دِیا اور وہ ہوتے ہوتے سب خِمیر ہو گیا۔
۳۴۔ یہ سب باتیں یِسُوعؔ نے بِھیڑ سے تمثِیلوں میں کہِیں اور بغَیر تمثِیل کے وہ اُن سے کُچھ نہ کہتا تھا۔
۳۵۔ تاکہ جو نبی کی معرفت کہا گیا تھا وہ پُورا ہو کہ مَیں تمثِیلوں میں اپنا مُنہ کھولُوں گا۔مَیں اُن باتوں کو ظاہِر کرُوں گا جو بنایِ عالَم سے پوشِیدہ رہی ہیں۔
۳۶ ۔اُس وقت وہ بِھیڑ کو چھوڑ کر گھر میں گیا اور اُس کے شاگِردوں نے اُس کے پاس آ کر کہا کہ کھیت کے کڑوے دانوں کی تمثِیل ہمیں سمجھا دے۔
۳۷۔ اُس نے جواب میں کہا کہ اچّھے بِیج کا بونے والا اِبنِ آدمؔ ہے۔
۳۸ ۔اور کھیت دُنیا ہے اور اچّھا بِیج بادشاہی کے فرزند اور کڑوے دانے اُس شرِیر کے فرزند ہیں۔
۳۹۔ جِس دُشمن نے اُن کو بویا وہ اِبلِیس ہے اور کٹائی دُنیا کا آخِر ہے اور کاٹنے والے فرِشتے ہیں۔
۴۰۔ پس جَیسے کڑوے دانے جمع کِئے جاتے اور آگ میں جلائے جاتے ہیں وَیسے ہی دُنیا کے آخِر میں ہو گا۔
۴۱۔ اِبنِ آدمؔ اپنے فرِشتوں کو بھیجے گا اور وہ سب ٹھوکر کِھلانے والی چِیزوں اور بدکاروں کو اُس کی بادشاہی میں سے جمع کریں گے۔
۴۲۔ اور اُن کو آگ کی بھٹّی میں ڈال دیں گے۔ وہاں رونا اور دانت پِیسنا ہو گا۔
۴۳۔ اُس وقت راست باز اپنے باپ کی بادشاہی میں آفتاب کی مانِند چمکیں گے۔ جِس کے کان ہوں وہ سُن لے۔
۴۴۔ آسمان کی بادشاہی کھیت میں چُھپے خزانہ کی مانِند ہے جِسے کِسی آدمی نے پا کر چُھپا دِیا اور خُوشی کے مارے جا کر جو کُچھ اُس کا تھا بیچ ڈالا اور اُس کھیت کو مول لے لِیا۔
۴۵۔ پِھر آسمان کی بادشاہی اُس سَوداگر کی مانِند ہے جو عُمدہ موتِیوں کی تلاش میں تھا۔
۴۶۔ جب اُسے ایک بیش قِیمت موتی مِلا تو اُس نے جا کر جو کُچھ اُس کا تھا سب بیچ ڈالا اور اُسے مول لے لِیا۔
۴۷۔ پِھر آسمان کی بادشاہی اُس بڑے جال کی مانِند ہے جو دریا میں ڈالا گیا اور اُس نے ہر قِسم کی مچھلِیاں سمیٹ لِیں۔
۴۸ ۔اور جب بھر گیا تو اُسے کنارے پر کھینچ لائے اور بَیٹھ کر اچّھی اچّھی تو برتنوں میں جمع کر لِیں اور جو خراب تِھیں پَھینک دِیں۔
۴۹۔ دُنیا کے آخِر میں اَیسا ہی ہو گا۔ فرِشتے نِکلیں گے اور شرِیروں کو راست بازوں سے جُدا کریں گے اور اُن کو آگ کی بھٹّی میں ڈال دیں گے۔
۵۰۔ وہاں رونا اور دانت پِیسنا ہو گا۔
۵۱۔ کیا تُم یہ سب باتیں سمجھ گئے؟ اُنہوں نے اُس سے کہا ہاں۔
۵۲۔ اُس نے اُن سے کہا اِس لِئے ہر فقِیہہ جو آسمان کی بادشاہی کا شاگِرد بنا ہے اُس گھر کے مالِک کی مانِند ہے جو اپنے خزانہ میں سے نئی اور پُرانی چِیزیں نِکالتا ہے۔
۵۳۔ جب یِسُوعؔ یہ تمثِیلیں ختم کر چُکا تو اَیسا ہُؤا کہ وہاں سے روانہ ہو گیا۔
۵۴۔ اور اپنے وطن میں آ کر اُن کے عِبادت خانہ میں اُن کو اَیسی تعلِیم دینے لگا کہ وہ حَیران ہو کر کہنے لگے کہ اِس میں یہ حِکمت اور مُعجِزے کہاں سے آئے؟
۵۵۔ کیا یہ بڑھئی کا بیٹا نہیں؟ اور اِس کی ماں کا نام مریمؔ اور اِس کے بھائی یعقُوبؔ اور یُوسفؔ اور شمعُوؔن اور یہُوداؔہ نہیں؟
۵۶۔ اور کیا اِس کی سب بہنیں ہمارے ہاں نہیں؟ پِھر یہ سب کُچھ اِس میں کہاں سے آیا؟
۵۷۔ اور اُنہوں نے اُس کے سبب سے ٹھوکر کھائی۔ مگر یِسُوعؔ نے اُن سے کہا کہ نبی اپنے وطن اور اپنے گھر کے سِوا اَور کہِیں بے عِزّت نہیں ہوتا۔
۵۸۔ اور اُس نے اُن کی بے اِعتقادی کے سبب سے وہاں بُہت سے مُعجِزے نہ دِکھائے۔