متؔی ۱۱

۱۱۔ بادشاہ اپنے شاگردوں کو ہدایات دیتا ہے (باب ۱۸-‏۲۰)

الف۔ حلیمی کے بارے میں (۱۸:‏۱-‏۶)

اٹھارہویں باب میں اُن لوگوں کی زندگی کے لئے اصول پیش کئے گئے ہیں جو مسیح بادشاہ کی رعایا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

۱۸:‏۱ شاگردوں کا ہمیشہ سے یہی خیال تھا کہ آسمان کی بادشاہی اَمن اور خوش حالی کا سنہری دَور ہو گی۔ اب وُہ اُس بادشاہی میں اِمتؔیازی مُرتبے کی تمنا اور لالچ کرنے لگے۔ خود پروری کی رُوح نے اپنا اِظہار اِس سوال سے کیا «آسمان کی بادشاہی میں بڑا کون ہے؟»

۱۸:‏۲،‏۳ یسؔوع نے ایک «بچے» کو اُن کے بیچ میں کھڑا کیا اور کہنے لگا «اگر تم نہ پھرو اور بچوں کی مانند نہ بنو تو آسمان کی بادشاہی میں ہرگز داخل نہ ہو گے۔» وُہ بادشاہی کی باطنی حقیقت کا بیان کر رہا تھا۔ ایک سچا ایمان دار بننے کے لئے ضرور ہے کہ اِنسان اپنی بڑائی کے خیال کو ترک کرے اور چھوٹے بچے کی طرح نیچی یعنی فروتنی کی حیثیت اِختیار کرے۔ اِس بات کا آغاز اُس وقت ہوتا ہے جب اِنسان مان لیتا ہے کہ مَیں گنہگار اور نالائق ہوں اور قبول کرتا ہے کہ یسؔوع مسیح ہی میری واحد اُمید ہے۔ یہ رویہ پُوری مسیحی زندگی میں جاری رہنا چاہئے۔ یسؔوع یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ میرے شاگرد نجات یافتہ نہیں۔ سوائے یہُوؔداہ اسکریوتی کے سب کے سب اُس پر سچا ایمان رکھتے تھے اور اِس لئے راست باز ٹھہرائے گئے تھے۔ مگر اُن کو اب تک اندر سکونت کرنے والا رُوح القُدس نہیں ملا تھا۔ اِس لئے اُن میں سچی حلیمی کی وُہ قوت نہیں تھی جو آج ہم میں ہے (مگر اِسے لائق طور سے استعمال نہیں کرتے۔ ابھی اُن کو پھرنے کی ضُرورتتھی،‏ تاکہ اُن کی ساری غلط سوچ بدِل کر بادشاہی کے موافق ہو جائے۔

۱۸:‏۴ آسمان کی بادشاہی میں سب سے بڑا شخص وُہ ہے جو اپنے آپ کو «بچے کی مانند چھوٹا» بناتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ آسمان کی بادشاہی کی اقدار اور معیار دُنیا سے بالکُل اُلٹ ہیں۔ ضرور ہے کہ ہماری سوچ کا پورا انداز بالکُل بدِل جائے اور ہم ویسا ہی مزاج رکھیں جیسا مسیح یسؔوع کا بھی تھا (فلپیوں ۲:‏۵-‏۸)۔

۱۸:‏۵ یہاں خُداوند طبعی بچے سے روحانی «بچے» کے موضوع پر آ جاتا ہے۔ جو کوئی اُس کے چھوٹے سے چھوٹے شاگرد کو «اُس کے نام پر» قبول کرتا ہے،‏ اُس کو وُہی اَجر ملے گا جیسے اُس نے خود خُداوند کو قبول کیا۔ جو کُچھ شاگرد کے لئے کیا جاتا ہے،‏ وُہ اُستاد کے لئے کیا گیا سمجھا جائے گا۔

۱۸:‏۶ دُوسری طرف جو کوئی کِسی شاگرد کو گُناہ کی طرف ورغلاتا ہے،‏ وُہ زبردست سزا کا حق دار ہو گا۔ «اُس کے لئے یہ بُہتر ہے کہ بڑی چکی کا پاٹ اُس کے گلے میں لٹکایا جائے اور وُہ گہرے سمندر میں ڈبو دیا جائے۔» بڑی چکی سے یہاں مراد خراس ہے۔ اِس کے پتھر کو گھمانے کے لئے بَیل کی ضُرورتہوتی ہے۔ گُناہ کرنا ہی نہایت بُری بات ہے،‏ مگر کِسی ایمان دار سے گُناہ کروانا اُس کی معصومیت کو تباہ کرنا،‏ اُس کے ذہن کو بگاڑنا اور اُس کی نیک نامی پر دھبا لگانا ہے۔ کِسی دوسرے کی پاکیزگی اور بے گُناہ ی سے کھیلنے سے بُہتر ہے کہ ایسا شخص ظالمانہ موت مرے۔

ب۔ ٹھوکر کھلانے کے بارے میں (۱۸:‏۷-‏۱۴)

۱۸:‏۷ یسؔوع نے واضح کیا کہ «ٹھوکروں کا لگنا ضرور ہے۔» دُنیا،‏ جِسم اور ابلیس باہم ملے ہوئے ہیں تاکہ ہمیں ورغلائیں اور بگاڑیں۔ لیکن اگر کوئی شخص بُری قوتوں کا آلۂ کار بن جائے تو اُس کا قصور نہایت بڑا ہو گا۔ اِس لئے خُداوند تنبیہ کرتا ہے کہ اِنسان کو چاہئے کہ اپنی ذات کو سختی سے قابو میں رکھے اور خُدا کے کِسی فرزند کو آزمائش میں نہ ڈالے۔

۱۸:‏۸،‏۹ گُناہ کرنے والا عضو ہاتھ ہو یا آنکھ ہو،‏ بُہتر ہے کہ اِسے قربان کر دیا جائے،‏ بجائے اِس کے کہ کِسی دوسرے کی زندگی میں خُدا کے کام کو برباد کیا جائے۔ کِسی عضو کے بغیر زندگی میں داخل ہونا اِس سے بُہتر ہے کہ سارے اعضا سلامت ہوں اور اِنسان جہنم میں ڈالا جائے۔ ہمارے خُداوند کا یہ مطلب نہیں کہ بہشت میں بعض بدنوں میں بعض اعضا کی کمی ہو گی،‏ بلکہ وُہ صِرف اُس جِسمانی حالت کی تصویر پیش کرتا ہے جو اِس جہان سے اگلے جہان کے لئے رُخصت ہوتے وقت کِسی ایمان دار کی ہو گی۔ اِس حقیقت میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ جی اُٹھا بدن ہر لحاظ سے مکمل ہو گا۔

۱۸:‏۱۰ اِس کے بعد خُدا کے بیٹے نے «اِن چھوٹوں میں سے کِسی کو» خواہ وُہ بچہ ہو خواہ کوئی اَور حقیر جاننے سے خبردار کیا۔ اِن کی اہمیّت پر زور دینے کے لئے اُس نے یہ بھی کہا کہ «اُن کے فرشتے» ہر وقت خُدا کی حضوری میں رہتے اور اُس کا «منہ … دیکھتے ہیں۔» فرشتوں سے مراد غالباً محافظ یا نگہبان فرشتے ہے (عبرانیوں ۱:‏۱۴ بھی دیکھئے)۔

۱۸:‏۱۱ یہ آیت ہمارے خُداوند کے مشن کا بیان کرتی ہے اور بجا طور سے کلام کے اِس حصے کا نقطۂ عروج ہے۔ اِس کو قوسین میں اِس لئے لِکھا گیا ہے کہ چند ایک قدیم نسخوں میں موجود نہیں ہے جب کہ زیادہ تر نسخوں میں ہے۔

۱۸:‏۱۲،‏۱۳ اور اِن «چھوٹوں» پر ہماری روحوں کے چرواہے کی خاص نگاہ ہوتی ہے۔ «سو بھیڑوں» میں سے اگر صِرف «ایک» بھٹک جائے تو وُہ «ننانوے» کو چھوڑ کر اُس ایک کی تلاش کرتا ہے جب تک وُہ مل نہ جائے۔ اور اُس ایک کے مِل جانے پر گڈریے کو جو خوشی ہوتی ہے اُس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اِن چھوٹوں کی عزت اور قدر کریں کیونکہ یہ اُس کے ہیں۔

۱۸:‏۱۴ وُہ صِرف گڈریے اور فرشتوں ہی کی نظر میں اہم نہیں،‏ بلکہ خُدا «باپ» کی نظر میں بھی نہایت قیمتؔی ہیں۔ وُہ « نہیں چاہتا کہ اِن چھوٹوں میں سے ایک بھی ہلاک ہو۔» اگر وُہ اِتنے اہم ہیں کہ فرشتوں،‏ خُداوند یسؔوع اور خُدا باپ کے مرکزِ نگاہ ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ ہمیں اُن کو کبھی حقیر نہیں جاننا چاہئے چاہے بظاہر وُہ کیسے ہی خستہ حال اور بدصورت نظر آتے ہوں۔

ج۔ ٹھوکر کھلانے والوں کی تادیب کے بارے میں (۱۸:‏۱۵-‏۲۰)

باب کا بقیہ حصہ کلیسیا کے ممبران کے درمیان اختلافات طے کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس میں اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ معافی دینے کی کوئی حد نہیں۔

۱۸:‏۱۵ یہاں واضح اور تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں کہ جب ایک ایمان دار دوسرے کے ساتھ بُرا سلوک کرے تو جِس سے بُرا سلوک کیا گیا ہے اُس پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اوّل،‏ دونوں مل کر علیٰحدگی میں معاملہ صاف کر لیں۔ اگر قصوروار فریق اپنا قصور مان لے تو میل ملاپ ہو جائے گا۔ مشکل یہ ہے کہ ہم ایسا کرتے نہیں۔ اِس کی بجائے ہم دوسروں کے سامنے اِس کا چرچا کرتے ہیں۔ یوں معاملہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتا اور جھگڑا بڑھ جاتا ہے۔ یاد رکھیں کہ پہلا قدم یہ ہے کہ « تُو جا اور خلوت میں بات چیت کر کے اُسے سمجھا۔»

۱۸:‏۱۶ اگر قصور وار بھائی نہ سنے تو جِس پر زیادتی ہوئی ہے،‏ وُہ «ایک دو آدمیوں» کو ساتھ لے جا کر بحالی کی کوشِش کرے۔ اِس سے اُس کی بڑھتی ہوئی ہٹ دھرمی کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔ علاوُہ ازیں ایک گواہ بھی ہو گا جِس کا تقاضا پاک کلام بھی کرتا ہے کہ «… دو گواہوں یا تین گواہوں کے کہنے سے بات پکی سمجھی جائے» (اِستثنا ۱۹:‏۱۵)۔ کلیسیائوں میں اکثر اِس سادہ سے اصول کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اِس طرح جتنی مشکلات اور مسائل پیدا ہوتے ہیں،‏ اُن کا اندازہ لگانا بُہت مشکل ہے۔ اِس معاملے میں تو دُنیاوی عدالتیں زیادہ راستی سے عمل کرتی ہیں جب کہ مسیحی کلیسیائیں اور جماعتیں پیچھے رہ گئی ہیں۔

۱۸:‏۱۷ اگر قصوروار بھائی اب بھی «اِنکار کرے» اور معافی نہ مانگے تو معاملہ مقامی «کلیسیا» کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ معاملہ سننے کی ذمہ داری دیوانی عدالت پر نہیں بلکہ مقامی کلیسیا پر عائد ہوتی ہے۔ ایمان دار کو دوسرے ایمان دار کے خلاف مقدمہ عدالت میں لے جانے کی ممانعت کی گئی ہے (۱۔کرنتھیوں ۶:‏۱-‏۸)۔

اگر مدُعا علیہ کلیسیا کے سامنے بھی اپنے قصور اور زیادتی کو ماننے سے اِنکار کرے تو «اُسے غیر قوم والے اور محصول لینے والے کے برابر» سمجھا جائے۔ مطلب صاف ظاہر ہے کہ اُسے کلیسیا کے دائرے سے خارج مانا جائے۔ وُہ حقیقی ایمان دار ہی کیوں نہ ہو مگر وُہ ایسی زندگی بَسر نہیں کر رہا۔ چنانچہ اُس سے سلوک بھی ویسا ہی کیا جائے۔ اگرچہ وُہ عالمگِیر کلیسیا میں شامِل ہے مگر مقامی کلیسیا کی مراعات سے خارج ہو گا۔ ایسی تادیب ایک نہایت سنجیدہ بات ہے۔ اِس طرح ایمان دار کو عارضی طور پر شیطان کی قوت کے حوالے کر دیا جاتا ہے «تاکہ اُس کی رُوح خُداوند یسؔوع کے دن نجات پائے» (۱۔کرنتھیوں ۵:‏۵)۔ ساری کارروائی کا مق صد یہ ہے کہ وُہ عقل کے ناخن لے اور اپنے گُناہ کا اِقرار کرے۔ جب تک اِس مرحلے تک نہ پہنچے دوسرے ایمان دار اُس کے ساتھ شائستگی اور اخلاق کے ساتھ پیش آئیں۔ لیکن اپنے رویے سے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ہم تیرے گُناہ سے چشم پوشی نہیں کر رہے اور تیرے ساتھ ہم ایمان کی حیثیت سے میل ملاپ نہیں رکھ سکتے۔ اور جب وُہ سچے دِل سے توبہ کرے تو جماعت کو اُسے قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے۔

۱۸:‏۱۸ اِس آیت کا گذشتہ باتوں کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ جب ایک جماعت کلام کے حُکم کے مطابق اور دُعا کے ساتھ کِسی شخص پر تادیبی کارروائی «باندھتی» ہے یعنی اُسے پابَند بناتی ہے تو «آسمان پر» اُس کا احترام کیا جاتا ہے۔ جب ایسا شخص اپنے گُناہ کا اِقرار کرتا اور توبہ کرتا ہے اور جماعت اُسے رفاقت میں بحال کرتی ہے اور پابَندی کو «کھول» دیتی ہے تو خُدا بھی اِس کارروائی کی منظوری دیتا ہے (دیکھئے یُوحناؔ ۲۰:‏۲۳)۔

۱۸:‏۱۹ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ «باندھنے» اور «کھولنے» کے لئے جماعت کتنی بڑی ہونی چاہئے؟ جواب یہ ہے کہ صِرف دو ایمان دار بھی ایسے معاملات کو دُعا میں خُدا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ اُن کو یقین ہونا چاہئے کہ خُدا سنتا ہے۔ آیت ۱۹ خُدا کے دُعائوں کا جواب دینے کا عام وعدہ بھی ہے۔ لیکن موجودہ سیاق و سباق میں اِس کا تعلق اِس دُعا کے ساتھ ہے جو کلیسیا انضباطی اور تادیبی کارروائی کے سلسلے میں کرتی ہے۔ اِس کا مطلب دُعا کے بارے میں دِیگر ساری تعلیم کی روشنی ہی میں سمجھنا چاہئے۔ مثال کے طور پر ضرور ہے کہ ہماری دُعائیں:‏

  1. خُدا کی مرضی کے موافق ہوں (۱۔یُوحناؔ ۵:‏۱۴،‏۱۵)
  2. ایمان کے ساتھ ہوں (یعقوب ۱:‏۶-‏۸)
  3. سچے دِل کے ساتھ ہوں (عبرانیوں ۱۰:‏۲۲) وغیرہ وغیرہ

۱۸:‏۲۰ اِس آیت کی تفسیر بھی سیاق و سباق کے مطابق ہونی چاہئے۔ یہ نئے عہدنامہ کی سادہ ترین کلیسیا کی تشکیل یا بناوٹ کی طرف اِشارہ نہیں کرتی،‏ نہ عام دُعائیہ اجلاس کی بات کرتی ہے بلکہ ایسی کارروائی کی طرف جِس میں کلیسیا دو ایسے مسیحیوں میں میل ملاپ کروا رہی ہے جن میں گُناہ کے باعث جدائی ہو گئی ہو۔ اِس کا بجا طور پر اطلاق ایمان داروں کے اُن تمام اجلاسوں پر ہو سکتا ہے جہاں مسیح کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن یہاں ایک خاص قِسم کا اجلاس پیشِ نظر ہے۔

«میرے نام پر اکٹھے» ہونے کا مطلب ہے اُس کے اِختیار میں اکٹھے ہونا۔ اُس کے کلام کی فرماں برداری کرتے ہوئے،‏ اور اُس کی ذات اور اِختیار کو تسلیم کرتے ہوئے اکٹھے ہونا۔ کوئی گروُہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ صِرف ہم ہی اُس کے نام پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو اُس کی حضوری اِس زمین پر اُس کے بدن کے ایک چھوٹے سے حصے تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ جہاں بھی «دو یا تین» اُس کو خُداوند اور نجات دہندہ تسلیم کرتے ہوئے اکٹھے ہوتے ہیں وُہاں ہی وُہ «اُن کے بیچ میں» ہوتا ہے۔

د۔ غیر محدود معافی کے بارے میں (۱۸:‏۲۱-‏۳۵)

۱۸:‏۲۱،‏۲۲ اِس نکتے پر «پطرس» نے یہ سوال اُٹھایا کہ اگر «میرا بھائی میرا گُناہ کرتا رہے» تو مجھے اُس کو «کتنی دفعہ» معاف کرنا چاہئے۔ اُس کا خیال تھا کہ «سات بار» کا ذِکر کر کے مَیں عام رائج مہربانی یا رعایت کا ثبوت دے رہا ہوں۔ «یسؔوع » نے جواب دیا کہ «سات بار نہیں،‏ بلکہ سات دفعہ کے ستّر بار تک۔» اُس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم لفظی طور پر ۴۹۰ دفعہ معاف کریں۔ یہ «غیر محدود» کہنے کا استعاراتی طریقہ ہے۔

اب کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ «پھر اُوپر بیان کئے گئے اقدامات کا دردِ سر کرنے کی کیا ضُرورتہے،‏ کہ خطا کار کے ساتھ پہلے اکیلے میں بات کرو۔ پھر دو تین بھائیوں کو لے کر جائو اور پھر اُسے کلیسیا کے سامنے پیش کرو،‏ کیوں نہ بَس معاف کر دو اور معاملہ ختم کرو؟»

جواب یہ ہے کہ معافی دینے کے بھی مراحل ہیں،‏ جن کی تفصیل یوں ہے:‏

  1. جب کوئی بھائی میرے ساتھ زیادتی کرے یا میرا گُناہ کرے تو اپنے دِل میںاُسے فوراً معاف کر دینا چاہئے (اِفسیوں ۴:‏۳۲)۔ اِس طرح مَیں معاف نہ کرنے کی تلخ رُوح سے آزاد ہو جائوں گا اور ساری ذمہ داری دوسرے کے کندھوں پر ہو گی۔
  2. مَیں نے اُسے دِل میں تو معاف کر دیا ہے مگر اُسے ابھی تک نہیں بُتایا۔ جبُتک وُہ توبہ نہ کرے علانیہ معافی دینا درست نہیں ہو گا۔ چنانچہ مجھ پر فرض ہے کہ اُس کے پاس جائوں اور محبُت کی رُوح میں اُسے ملامت کروں۔ اور اُمید کروں کہ وُہ اپنی غلطی کو مان لے گا (لُوقاؔ ۱۷:‏۳)۔
  3. جونہی وُہ اپنے گُناہ کا اِقرار کرے اور معافی کا خواست گار ہو،‏ مَیں فوراً بُتائوںکہ اُسے معاف کر دیا گیا ہے (لُوقاؔ ۱۷:‏۴)۔

۱۸:‏۲۳ اب یسؔوع «آسمان کی بادشاہی» کی تمثیل سنا کر خبردار کرتا ہے کہ جن کو معاف کر دیا گیا ہے،‏ اگر وُہ معاف نہیں کرتے تو نتائج کیا ہوں گے۔

۱۸:‏۲۴-‏۲۷ کہانی میں ایک ایسے بادشاہ کا ذِکر ہے جو اپنا قرض وصول کرنا چاہتا تھا۔ ایک نوکر دس ہزار توڑوں کا مقروض تھا۔ وُہ دیوالیہ ہو چکا تھا۔ چنانچہ مالک نے حُکم دیا کہ اُسے اور اُس کے بال بچوں کو غلاموں کے طور پر بیچ کر قرض وصول کر لیا جائے۔ بے بَس نوکر نے مہلت کے لئے درخواست کی کہ موقع دیا جائے تو مَیں «سارا قرض ادا کر دوں گا۔»

اکثر قرض داروں کی طرح وُہ بھی ناقابلِ یقین حد تک اِس خوش فہمی میں مبُتلا تھا کہ مُہلت ملے تو بُہت کُچھ کر سکتا ہوں (آیت ۲۶)۔ گلیل کے کُل محصولات کا مجموعہ ۳۰۰ توڑے ہوتا تھا اور یہ شخص دس ہزار توڑوں کا مقروض تھا۔ اِتنی بڑی رقم کی تفصیل بیان کرنے میں بھی ایک مقصد پوشیدہ ہے کہ سامعین چونک جائیں اور متوجہ ہو کر سنیں۔ دوسرا اِس بات پر زور دینا بھی مقصود ہے کہ ہم پر خُدا کا بُہت ہی بڑا قرض ہے۔ مارٹن لوتھر کہا کرتا تھا کہ خُدا کے سامنے ہم سب بھکاری ہیں۔ ہم یہ قرض اُتار سکنے کی اُمید تک نہیں کر سکتے۔

«مالک» نے دیکھا کہ «نوکر» پشیمان و پریشان ہے تو اُس نے دس ہزار توڑوں کی پُوری رقم معاف کر دی۔ یہ اِنصاف نہیں،‏ بلکہ رحم اور فضل کا تاریخی مظاہرہ تھا۔

۱۸:‏۲۸-‏۳۰ اب اُس نوکر کا ایک ہم خدمت تھا جو اُس کا صِرف «سو دینار» کا مقروض تھا۔ اُسے معاف کرنے کے بجائے اُس شخص نے «اُس کو پکڑ کر اُس کا گلا گھونٹا» اور سارا قرض ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اِس بدنصیب مقروض نے بھی مہلت کی درخواست کی مگر سب بے فائدہ۔ «اُسے قید خانہ میں ڈال دیا کہ جب تک قرض ادا نہ کرے قید رہے۔» یہ تو نہایت ہی مشکل معاملہ ہو گیا کیونکہ قید میں اُسے کُچھ کمانے کا موقع کہاں سے مل سکتا تھا۔

۱۸:‏۳۱-‏۳۴ دوسرے «ہم خدمت» اِس شخص کے غیر مناسب رویے سے سخت ناراض ہوئے اور جا کر «مالک کو سب کُچھ جو ہُوا تھا سنا دیا۔» وُہ اِس بے رحم قرض خواہ پر غضب ناک ہُوا۔ اُسے اتنا بڑا قرض معاف ہُوا تھا مگر وُہ معمولی سا قرض معاف کرنے کو تیار نہ تھا۔ چنانچہ اُس کو «جلادوں» کے حوالہ کیا گیا «کہ جب تک تمام قرض ادا نہ کر دے قید رہے۔»

۱۸:‏۳۵ تمثیل کا مطلب اور اطلاق بالکُل واضح ہے۔ خُدا بادشاہ ہے۔ اُس کے خادموں نے گُناہ کا بڑا قرض اپنے سر چڑھا رکھا تھا جِسے ادا نہیں کر سکتے تھے۔ خُداوند نے بڑا ترس کھا کے اور عظیم فضل کر کے اُن کا قرض ادا کر دیا اور اُن کو مفت اور کامِل معافی عطا کی۔ اب فرض کریں کہ ایک مسیحی دوسرے پر زیادتی کرتا ہے۔ جب اُسے ملامت کی جاتی ہے تو وُہ معافی کا خواست گار ہوتا ہے مگر جِس پر زیادتی ہوئی ہے وُہ معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ خود اُس کو کروڑوں روپے کا قرض معاف ہو چکا ہے۔ مگر وُہ چند سو روپوں کا قرض معاف نہیں کرتا۔ کیا بادشاہ ایسے رویے کو بے سزا چھوڑ دے گا؟ ہرگزنہیں! مجرم کو اِس زندگی میں بھی تادیب کی جائے گی اور مسیح کے تخت ِعدالت کے سامنے بھی نقصان اُٹھائے گا۔

ہ۔ شادی،‏ طلاق اور تجرد کے بارے میں (۱۹:‏۱-‏۱۲)

۱۹:‏۱،‏۲ « گلیل» میں اپنی خدمت پُوری کر چکنے پر خُداوند نے جنوب کی طرف یروشلؔیم کا رُخ کیا۔ اگرچہ اُس نے جو راستہ اِختیار کیا،‏ اُس کا دُرست تعین کرنا ممکن نہیں مگر اِتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ وُہ یردن کے مشرق میں پیریہ میں سے گزرا۔ متؔی اِس علاقے کا عمومی سا بیان یوں کرتا ہے کہ «یردن کے پار یہُودی ہ کی سرحدوں میں آیا۔» پیریہ میں خدمت کا بیان ۱۹:‏۱ سے ۲۰:‏۱۶ یا ۲۰:‏۲۸ تک چلتا ہے۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ کب یردن پار کر کے وُہ یہُودی ہ میں آیا۔

۱۹:‏۳ ایک بڑی بھیڑ شفا پانے کی غرض سے اُس کے پیچھے ہو لی۔ غالباً اِسی بھیڑ کے سبب سے «فریسیوں» کو پتا چل گیا کہ یسؔوع کہاں ہے۔ پس وُہ اُس کے پیچھے لگ گئے کہ کِسی نہ کِسی طرح اُس کے منہ سے ایسی بات کہلوائیں جِس سے اُسے پھنسا سکیِں۔ اُنہوں نے سوال کیا کہ «کیا ہر ایک سبب سے اپنی بیوی کو چھوڑ دینا رَوا ہے؟» یعنی طلاق دے دینا جائز ہے؟ وُہ کوئی بھی جواب دیتا،‏ یہُودی وں کا ایک نہ ایک طبقہ ضرور سخت ناراض ہو جاتا۔ ایک مکُتبۂ فِکر طلاق کے بارے میں خاصا آزاد خیال تھا جب کہ دوسرا اِنتہائی سخت تھا۔

۱۹:‏۴-‏۶ ہمارے خُداوند نے بیان کیا کہ خُدا کا اصل مقصد یہ تھا کہ ایک مرد ایک بیوی کرے۔ جِس خُدا نے «مرد اور عورت» کو خلق کیا،‏ اُس کے فیصلے کے مطابق ازدواجی رِشتہ،‏ والدین کے ساتھ رِشتے پر سبقت رکھتا ہے۔ اُس نے یہ بھی بُتایا کہ شادی دو شخصوں کا ملاپ ہوتی ہے۔ خُدا کا اِرادہ یہ ہے کہ جو ملاپ اُس نے قائم کیا ہے،‏ اُسے اِنسانی فیصلہ یا عمل سے توڑا نہ جائے۔

۱۹:‏۷ فریسیوں کا خیال تھا کہ ہم نے یسؔوع کو پُرانے عہدنامہ کے صریحاً خلاف تعلیم دیتے ہوئے پکڑ لیا ہے۔ کیا «مُو سؔیٰ» نے «طلاق» کی گنجائش نہیں رکھی تھی؟ ایک مرد طلاق نامہ بیوی کے ہاتھ میں تھما کر اُسے گھر سے نکال سکتا تھا (اِستثنا ۲۴:‏۱-‏۴)۔

۱۹:‏۸ یسؔوع نے اتفاق کیا کہ «مُو سؔیٰ» نے طلاق دینے کی «اِجازت» دی تھی مگر اِس لئے نہیں کہ خُدا اِسے اِنسانوں کے لئے کوئی بُہت ہی اچھا عمل سمجھتا تھا بلکہ اِس لئے کہ بنی اِسرائیل «سخت دِل » ہو گئے تھے۔ «مُو سؔیٰ نے تمہاری سخت دِل ی کے سبب سے تم کو اپنی بیویوں کو چھوڑ دینے کی اِجازت دی مگر اِبُتدا سے ایسا نہ تھا۔» خُدا کے نزدیک اعلیٰ ترین اور مثالی بات یہ ہے کہ طلاق کا وجود تک نہ ہو۔ لیکن خُدا بعض اوقات ایسے حالات کی بھی برداشت کرتا ہے جو اُس کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتے۔

۱۹:‏۹ اَب خُداوند نے پورے اِختیار کے ساتھ بیان کیا کہ ماضی میں طلاق دینے کی جو سہولت تھی،‏ اب سے بالکُل ختم کی جاتی ہے۔ اب سے طلاق دینے کی صِرف ایک وجہ جائز ہو گی اور وُہ ہے «حرام کاری»۔ اگر کوئی مرد کِسی اَور وجہ سے طلاق دے کر دُوسری شادی کر لیتا ہے تو وُہ «زِناکاری» کا مجرم ہے۔

اگرچہ براہِ راست تو نہیں کہا گیا،‏ لیکن ہمارے خُداوند کے الفاظ سے یہ مفہُوم اخذ ہوتا ہے کہ جب حرام کاری کے باعث طلاق دی جائے تو بے قصور فریق کو دُوسری شادی کرنے کی آزادی ہے ورنہ طلاق سے کوئی فائدہ نہیں،‏ اور نہ علیٰحدگی اِختیار کرنے سے کوئی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

جنسی بد اخلاقی یا حرام کاری کا عام مطلب زِناکاری ہے۔ تاہم بائبل مُقدس کے بعض عِلما کے خیال کے مطابق اِس سے مراد وُہ حرام کاری ہے جو شادی سے پہلے کی گئی تھی مگر پتا شادی کے بعد لگا (دیکھئے اِستثنا ۲۲:‏۱۳-‏۲۱)۔

۱۹:‏۹ اَب خُداوند نے پورے اِختیار کے ساتھ بیان کیا کہ ماضی میں طلاق دینے کی جو سہولت تھی،‏ اب سے بالکُل ختم کی جاتی ہے۔ اب سے طلاق دینے کی صِرف ایک وجہ جائز ہو گی اور وُہ ہے «حرام کاری»۔ اگر کوئی مرد کِسی اَور وجہ سے طلاق دے کر دُوسری شادی کر لیتا ہے تو وُہ «زِناکاری» کا مجرم ہے۔

اگرچہ براہِ راست تو نہیں کہا گیا،‏ لیکن ہمارے خُداوند کے الفاظ سے یہ مفہُوم اخذ ہوتا ہے کہ جب حرام کاری کے باعث طلاق دی جائے تو بے قصور فریق کو دُوسری شادی کرنے کی آزادی ہے ورنہ طلاق سے کوئی فائدہ نہیں،‏ اور نہ علیٰحدگی اِختیار کرنے سے کوئی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

جنسی بد اخلاقی یا حرام کاری کا عام مطلب زِناکاری ہے۔ تاہم بائبل مُقدس کے بعض عِلما کے خیال کے مطابق اِس سے مراد وُہ حرام کاری ہے جو شادی سے پہلے کی گئی تھی مگر پتا شادی کے بعد لگا (دیکھئے اِستثنا ۲۲:‏۱۳-‏۲۱)۔

طلاق پر مزید بحث کے لئے دیکھئے ۵:‏۳۱،‏۳۲ کی تفسیر۔

۱۹:‏۱۰ جب «شاگردوں» نے طلاق کے بارے میں خُداوند کی تعلیم سنی تو وُہ اپنی سوچ میں اِنتہائی حدوں تک پہنچ گئے کہ اگر طلاق صِرف ایک ہی سبب سے دی جا سکتی ہے تو شادی شدہ حالت میں گُناہ کرنے سے بچنے کے لئے بُہتر ہے کہ بیاہ ہی نہ کیا جائے۔ لیکن اِس طرح وُہ تجرد کی حالت میں گُناہ کرنے سے بچ تو نہیں سکتے۔

طلاق پر مزید بحث کے لئے دیکھئے ۵:‏۳۱،‏۳۲ کی تفسیر۔

۱۹:‏۱۰ جب «شاگردوں» نے طلاق کے بارے میں خُداوند کی تعلیم سنی تو وُہ اپنی سوچ میں اِنتہائی حدوں تک پہنچ گئے کہ اگر طلاق صِرف ایک ہی سبب سے دی جا سکتی ہے تو شادی شدہ حالت میں گُناہ کرنے سے بچنے کے لئے بُہتر ہے کہ بیاہ ہی نہ کیا جائے۔ لیکن اِس طرح وُہ تجرد کی حالت میں گُناہ کرنے سے بچ تو نہیں سکتے۔

۱۹:‏۱۱ چنانچہ نجات دہندہ اُن کو یاد دِل اتا ہے کہ صِرف وُہی مجرد رہ سکتے ہیں جن کو اِس سلسلے میں خاص فضل دیا گیا ہے۔ چنانچہ مُستنَد مقولہ یہ ہے کہ «سب اِس بات کو قبول نہیں کر سکتے مگر وُہی جن کو یہ قُدرت دی گئی ہے۔» اِس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سب لوگ اُس کے نتائج کو نہیں سمجھ سکتے بلکہ ضبطِ نفس اور پرہیز گاری کی یہ زندگی صِرف وُہی لوگ بَسر کر سکتے ہیں جن کی ایسی بلاہٹ ہوئی ہے۔

۱۹:‏۱۲ خُداوند یسؔوع نے سمجھایا کہ «خوجے» تین قِسم کے ہیں۔ بعض اِس لئے خوجے ہیں کہ اُن میں پیدائشی طور سے افزائشِ نسل کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ دوسرے وُہ جن کو آدمیوں نے مصنوعی طریقوں سے خوجہ بنا دیا۔ مشرقی حکمران اکثر آدمیوں کو عملِ جراحی سے خوجہ بنا دیتے تھے اور پھر اُن کو اپنی حرموں کی نگہداشت پر لگا دیتے تھے۔ اور تیسرے وُہ ہیں جن کا خُداوند خاص طور پر ذِکر کرتا ہے یعنی «جنہوں نے آسمان کی بادشاہی کے لئے اپنے آپ کو خوجہ بنایا۔» یہ مرد شادی کر سکتے تھے۔ اِن میں کوئی جِسمانی نقص یا کمزوری بھی نہ تھی۔ لیکن وُہ اپنے آپ کو بادشاہ اور اُس کی بادشاہی کے لئے مخصوص کرتے ہیں۔ اور رضاکارانہ شادی نہیں کرتے تاکہ مسیح کی خدمت میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ بعد میں پُولُسؔ بھی لِکھتا ہے کہ «بے بیاہا شخص خُداوند کی فِکر میں رہتا ہے کہ کس طرح خُداوند کو راضی کرے» (۱۔کرنتھیوں ۷:‏۳۲)۔ اُن کا تجرد جِسمانی وجوُہات کے باعث نہیں بلکہ رضاکارانہ پرہیز گاری کے باعث ہوتا ہے۔

ہر ایک شخص اِس طرح کی زندگی بَسر کرنے کے قابل نہیں ہوتا بلکہ صِرف وُہی جِسے خُدا نے اِس کی توفیق بخشی ہے:‏«لیکن ہر ایک کو خُدا کی طرف سے خاص خاص توفیق ملی ہے۔ کِسی کو کِسی طرح کی،‏ کِسی کو کِسی طرح کی» (۱۔کرنتھیوں ۷:‏۷)۔

و۔ بچوں کے بارے میں (۱۹:‏۱۳-‏۱۵)

یہ بات بُہت دِل چسپ ہے کہ طلاق پر گفتگو کرنے کے فوراً بعد بچوں کا ذِکر کیا گیا ہے (مرقسؔ ۱۰:‏۱-‏۱۶ بھی ملاحظہ کریں)۔ میاں بیوی کی علیٰحدگی سے بچوں ہی کو اکثر سب سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

والدین اپنے چھوٹے «بچوں کو اُس (مسیح) کے پاس لائے» تاکہ اُن کو برکت دے۔ «شاگردوں» نے اِس کو اپنے اُستاد کی خدمت میں رکاوٹ تصور کیا۔ اور والدین کو «جھڑکا»۔ «لیکن یسؔوع » نے شاگردوں کو ٹوکنے کے لئے وُہ الفاظ کہے جن سے وُہ ہر زمانے کے بچوں کا محبوب بن گیا کہ «بچوں کو میرے پاس آنے دو اور اِنہیں منع نہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی ایسوں ہی کی ہے۔»

اِن الفاظ سے کئی اہم سبق حاصل ہوتے ہیں۔ اوّل۔ خُدا کے خادم پر آشکارا ہو جانا چاہئے کہ بچوں تک پہنچنا بھی بُہت اہم ہے کیونکہ اُن کے ذہن بات کو بُہت جلدی قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ اُن کو بھی خُدا کا کلام سنانا اور سمجھانا از حد ضروری ہے۔ دوم،‏ جو بچے خُداوند یسؔوع پر ایمان لانا چاہتے ہوں،‏ اُن کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ روکنا نہیں چاہئے۔ کوئی نہیں جانتا کہ جہنم میں سب سے کم عمر شخص کون ہو گا۔ اگر بچہ نجات پانا چاہتا ہے تو اُسے یہ کہہ کر نہ روکیِں کہ تُو تو ابھی بُہت چھوٹا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی اہم ہے کہ بچوں کو وقت سے پہلے اِقرار کرنے پر مجبور بھی نہ کیا جائے۔ بچے جذباتی باتوں کا اثر بُہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ اِس لئے اِنہیں بشارت کے دبائو والے طریقوں سے بچانا چاہئے۔ نجات پانے کے لئے بچوں کا بالغ ہونا ضروری نہیں،‏ البُتہ بالغوں کو بچوں جیسا بننا ضروری ہے (۱۸:‏۳،‏۴؛ مرقسؔ ۱۰:‏۱۵)۔

سوم،‏ ہمارے خُداوند کے یہ الفاظ اِس سوال کا جواب ہیں کہ «اُن بچوں کا کیا حال ہوتا ہے جو ذمہ داری کی عمر کو پہنچنے سے پہلے اِنتقال کر جاتے ہیں؟» یسؔوع نے فرمایا «… آسمان کی بادشاہی ایسوں ہی کی ہے۔» یہ بات اُن والدین کے لئے خاص تسلی اور اِطمینان کا باعث ہے جن کے بچے اِنتقال کر گئے ہیں۔

بعض اوقات اِس آیت کو بچوں کے بپتسمہ کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے کہ چھوٹے بچے بپتسمے کے وسیلے سے مسیح کے اعضا اور بادشاہی کے وارث بنتے ہیں۔ اگر غور سے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ والدین بچوں کو بپتسمہ کی جگہ پر نہیں بلکہ یسؔوع کے پاس لائے تھے۔ اور یہ بھی معلوم ہو گا کہ وُہ پہلے ہی بادشاہی کے مالک تھے۔ اور یہ بھی معلوم ہو گا کہ کلام کے اِس حصے میں پانی کے ایک قطرے کا بھی ذِکر نہیں۔

ز۔ دولت کے بارے میں _ دولت مند جوان حاکم (۱۹:‏۱۶-‏۲۶)

۱۹:‏۱۶ اِس واقعے سے ہمیں متضاد باتوں کا مطالعہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ابھی ابھی ہم نے دیکھا کہ آسمان کی بادشاہی بچوں کی ہے۔ اب ہم دیکھیں گے کہ بڑوں کا اِس میں داخل ہونا کتنا مشکل ہے!

ایک دولت مند شخص نے پاس آ کر خُداوند سے بظاہر بڑی نیک نیتی سے ایک سوال پوچھا کہ «اے اُستاد مَیں کون سی نیکی کروں تاکہ ہمیشہ کی زندگی پائوں؟» اِس سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وُہ یسؔوع کی حقیقی شناخت سے ناواقف تھا اور نجات کے راستے کو نہیں جانتا تھا۔ اُس نے یسؔوع کو «اے اُستاد» کہہ کر عام اُستادوں یا دوسرے بڑے آدمیوں کی سطح پر رکھا۔ اور «ہمیشہ کی زندگی» کا ذِکر ایسے کیا جیسے یہ بخشش نہیں،‏ بلکہ قرض وصول کرنے کی بات ہو۔

۱۹:‏۱۷ ہمارے خُداوند نے اِن ہی دونوں نکات پر اُس کو اچھی طرح ٹٹولا۔ اُس سے پوچھا کہ « تُو مجھ سے نیکی کی بابُت کیوں پوچھتا ہے؟ نیک تو ایک ہی ہے» یعنی خدا۔ یہاں یسؔوع اپنی الوہیّت سے اِنکار نہیں کر رہا بلکہ اُس شخص کو یہ کہنے کا موقع فراہم کر رہا تھا کہ « مَیں اِسی لئے تو تجھے نیک کہہ رہا ہوں کیونکہ تُو خد ا ہے۔»

نجات کے بارے میں جانچنے کے لئے یسؔوع نے اُس سے کہا کہ «لیکن اگر تُو زندگی میں داخل ہونا چاہتا ہے تو حکموں پر عمل کر۔» نجات دہندہ کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ اِنسان حکموں پر عمل کر کے نجات پا سکتا ہے۔ وُہ شریعت کو اِستعمال کر کے اُس کے دِل میں گُناہ کا احساس پیدا کرنا چاہتا تھا۔ وُہ نوجوان ابھی تک اِسی غلط فہمی میں مبُتلا تھا کہ مَیں «اعمال» کے اصول پر عمل کر کے بادشاہی کا وارث بن سکتا ہوں۔ چنانچہ وُہ اِسی شریعت کی فرماں برداری کرتا رہے جو کہتی ہے کہ یہ کرو اور وُہ کرو۔

۱۹:‏۱۸-‏۲۰ یسؔوع نے وُہ پانچ حُکم دُہرائے جو بنیادی طور پر ہم جنس اِنسانوں کے ساتھ سلوک کرنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور سب سے اُوپر اِس حُکم کو رکھا «اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبُت رکھ۔» وُہ شخص اپنی خود غرضی کی طرف سے آنکھیں بَند کئے ہوئے تھا۔ چنانچہ بڑے فخر سے کہنے لگا کہ مَیں ہمیشہ سے اِن حکموں پر عمل کرتا رہا ہوں۔

۱۹:‏۲۱ اِس پر ہمارے خُداوند نے اُس کی اصل حالت کو بے نقاب کر دیا کہ وُہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبُت نہیں کرتا۔ اِس مقصد کے لئے خُداوند نے اُسے کہا کہ «اپنا مال و اسباب بیچ کر غریبوں کو دے … اور آ کر میرے پیچھے ہو لے۔»

خُداوند کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ وُہ آدمی اگر سب کُچھ بیچ کر خیرات کر دیتا تو نجات پا سکتا تھا۔ نجات پانے کا صِرف ایک ہی طریقہ ہے __ خُداوند پر ایمان۔

لیکن نجات پانے کے لئے ضرور ہے کہ اِنسان تسلیم کرے کہ مَیں نے گُناہ کیا ہے اور خُدا کے پاکیزہ مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ دولت مند شخص اپنی دولت میں کِسی کو شریک کرنے پر آمادہ نہیں تھا جِس سے ثابُت ہوتا ہے کہ وُہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبُت نہیں رکھتا تھا۔ اُسے تو یوں کہنا چاہئے تھا کہ «خُداوند،‏ اگر یہی شرط ہے تو مَیں گنہگار ہوں۔ مَیں اپنی کوشِش سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔ اِس لئے عرض کرتا ہوں کہ اپنے فضل سے مجھے نجات عطا کر»۔ اگر وُہ نجات دہندہ کی ہدایت کے مطابق کرتا تو اُسے نجات کا راستہ مل جاتا۔

۱۹:‏۲۲ مگر وُہ شخص «غمگین ہو کر چلا گیا۔»

۱۹:‏۲۳،‏۲۴ اِس دولت مند شخص کے طرزِ عمل کو دیکھ کر «یسؔوع نے … کہا … کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے۔» دولت اکثر و بیشتر ایک بُت بن جاتی ہے۔ اِنسان اِس پر تکیہ کرنے لگتا ہے۔ اِس لئے ہمارے خُداوند نے اِعلان کیا کہ «اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اِس سے آسان ہے کہ دولت مند آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو۔» خُداوند نے ایک صنعت ِادبی استعمال کی جِسے مبالغہ کہا جاتا ہے،‏ جِس میں کِسی بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے کہ واضح اور ناقابلِ فراموش اثر پیدا ہو۔

یہ تو حقیقت ہے کہ اُونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل نہیں سکتا۔ اکثر مفسر کہتے ہیں کہ «سوئی کا ناکا» شہر کے بڑے پھاٹک میں ایک چھوٹا دروازہ ہوتا تھا اور اُونٹ کو اُس میں سے گزرنے کے لئے گھٹنوں کے بل ہونا پڑتا تھا اور اِنتہائی مشکل سے گزر سکتا تھا۔ لُوقاؔ کی اِنجیل میں اُسی کے بیان (لُوقاؔ ۱۸:‏۱۸-‏۳۰) میں «سوئی» کے لئے جو لفظ استعمال ہُوا ہے وُہ جراح کے نشتر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ سیاق و سباق سے واضح ہوتا ہے کہ خُداوند مشکل کی نہیں بلکہ ناممکن ہونے کی بات کر رہا ہے۔ جہاں تک اِنسان کا سوال ہے ایک دولت مند شخص نجات پا ہی نہیں سکتا۔

۱۹:‏۲۵ یہ باتیں سن کر «شاگرد … بُہت ہی حیران ہوئے»۔ یہ یہُودی تھے اور مُو سؔیٰ کے آئین و احکام کے تحت زندگی گزارتے تھے جِس کے مطابق شریعت پر عمل کرنے والوں کے لئے خُدا نے خوش حالی کا وعدہ کر رکھا تھا۔ چنانچہ وُہ بجا طور پر سمجھتے تھے کہ خوش حالی یا دولت خُدا کی برکت کا ثبوت ہے۔ اور اگر خُدا کی برکت سے محظوظ ہونے والے نجات نہیں پا سکتے تو کون پا سکتا ہے؟

۱۹:‏۲۶ خُداوند نے جواب دیا کہ «یہ آدمیوں سے تو نہیں ہو سکتا لیکن خُدا سے سب کُچھ ہو سکتا ہے۔» اِنسانی لحاظ سے کِسی کے لئے نجات پانا ممکن نہیں۔ صِرف خُدا ہی کِسی رُوح کو نجات دے سکتا ہے۔ لیکن دولت مند شخص کے لئے اپنی مرضی کو مسیح کے تابع کرنا نسبُتاً زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اور اِس کا ثبوت یہ ہے کہ بُہت کم امیر لوگ مسیح پر ایمان لاتے ہیں۔ اُن کا اعتماد دیدنی چیزوں پر ہوتا ہے۔ اِنہیں چھوڑ کر وُہ نادیدنی نجات دہندہ پر بھروسا کرنا اور ایمان لانا مشکل پاتے ہیں۔ صِرف خُدا ہی ایسی تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔

اِس موقعے پر مفسرین اور مبشرین ہمیشہ یہ بات بیچ میں لے آتے ہیں کہ مسیحیوں کے لئے دولت مند ہونا بالکُل جائز اور دُرست ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ وُہ کلام کے اُس حصے کو استعمال کرتے ہیں جِس میں خُداوند دولت کو ردّ کرتا ہے کہ یہ اِنسان کی اَبدی فلاح اور نجات کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ نیز وُہ دُنیاوی دولت جمع کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ایک مسیحی دولت سے کس طرح چمٹا رہ سکتا ہے جب کہ دُنیا میں چاروں طرف دہشت ناک محتاجی اور ناداری پھیلی ہوئی ہے۔ مسیح جلد واپس آنے کو ہے،‏ اور اُس نے زمین پر خزانہ جمع کرنے سے واضح طور پر منع کر رکھا ہے۔ اگر ہم نے خزانہ جمع کر رکھا ہے تو وُہ ہمیں مجرم ٹھہراتا ہے کہ ہم اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبُت نہیں رکھتے۔

ح۔ اَجر اور ایثار کی زندگی بَسر کرنے کے بارے میں (۱۹:‏۲۷-‏۳۰)

۱۹:‏۲۷ «پطرس» خُداوند کی تعلیم کا مطلب سمجھ گیا کہ یسؔوع کہہ رہا ہے کہ «سب کُچھ چھوڑ کر میرے پیچھے ہو لے۔» پَطرسؔ ایک لحاظ سے فخر محسوس کرتا ہے کہ مَیں اور دوسرے شاگردوں نے بالکُل ایسا ہی کیا ہے۔ چنانچہ وُہ پوچھتا ہے کہ «ہم کو کیا ملے گا؟» یہاں پَطرسؔ کا خود غرضی کا رُجحان صاف نظر آتا ہے۔ پرانی فطرت زور سے سر اُٹھاتی ہے۔ یہ ایسی رُوح ہے جِس پر ہم سب کو نظر رکھنی چاہئے۔ وُہ خُداوند کے ساتھ سودا بازی کر رہا تھا۔

۱۹:‏۲۸،‏۲۹ خُداوند نے اُسے یقین دِل ایا کہ میری خاطر جو کُچھ بھی کیا جائے گا،‏ اُس کا اَجر ملے گا اور جہاں تک خاص اُن بارہ کا تعلق ہے،‏ اُن کو ہزار سالہ بادشاہی کے دوران بااِختیار مُرتبہ ملے گا۔ «نئی پیدائش» سے مراد اِس زمین پر مسیح کی مستقبل کی بادشاہی اور حکمرانی ہے۔ اور اِن الفاظ سے اِس کی تشریح ہوتی ہے کہ «جب ابنِ آدم … اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا۔» ہم پہلے اِس اِصطلاح کا بیان کر چکے ہیں کہ اِس سے مراد بادشاہی کا ظہور ہے۔ اُس وقت یہ بارہ شاگرد «بارہ تختوں پر بیٹھ کر اِسرائیل کے بارہ قبَیلوں کا اِنصاف» کریں گے۔ نئے عہدنامہ میں اجر کا تعلق ہزار سالہ بادشاہی کے دوران اِنتظامی عہدوں کے ساتھ نظر آتا ہے (دیکھئے لُوقاؔ ۱۹:‏۱۷،‏۱۹)۔ اُن کو اجر مسیح کے تخت ِعدالت کے سامنے دیا جاتا ہے،‏ لیکن اَجر کا ظہور اُس وقت ہوتا ہے جب خُداوند بادشاہی کرنے کے لئے زمین پر واپس آتا ہے۔

جہاں تک عام ایمان داروں کا تعلق ہے،‏ یسؔوع نے کہا کہ «جِس کِسی نے گھروں یا بھائیوں یا بہنوں یا باپ یا ماں یا بچوں یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اُس کو سو گنا ملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہو گا۔» اِس دُنیا میں وُہ ایمان داروں کی عالمگِیر رفاقت سے محظوظ ہوتے ہیں۔ یوں دُنیاوی رِشتوں کے چھوٹ جانے کا نقصان پورا ہو جاتا ہے۔ وُہ ایک گھر چھوڑتے ہیں تو سیکڑوں مسیحی گھر مل جاتے ہیں جہاں اُن کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ کھیت یا دُوسری قِسم کی دولت چھوٹ جاتی ہے تو وُہ بے حساب روحانی دولت سے مالا مال ہو جاتے ہیں۔

سارے ایمان داروں کے لئے مستقبل کا اَجر «ہمیشہ کی زندگی» ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنا سب کُچھ چھوڑنے اور قربان کرنے سے ہمیشہ کی زندگی کما لیتے ہیں۔ ہمیشہ کی زندگی ایک بخشش ہے۔ اِسے کمایا نہیں جا سکتا۔ نہ یہ کِسی لیاقت یا قابلیت کے باعث ملتی ہے۔ یہاں یہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ جو لوگ سب کُچھ چھوڑ دیتے ہیں،‏ اُن کو آسمان میں ابدی زندگی سے لطف اندوز ہونے کی زیادہ صلاحیت عطا ہوتی ہے۔ ہمیشہ کی زندگی ملے گی تو سارے ایمان داروں کو مگر سب اُس سے یکساں لطف نہیں اُٹھائیں گے۔

۱۹:‏۳۰ آخر میں خُداوند نے سودے بازی کی رُوح سے خبردار کیا۔ اُس نے گویا پَطرسؔ سے یہ کہا «تم میرے لئے جو کُچھ کرو گے،‏ اُس کا اَجر ملے گا،‏ مگر خبردار رہو کہ کوئی بات خود غرضی کی نیت سے نہ کی جائے کیونکہ اِس صورت میں «بُہت سے اوّل آخر ہو جائیں گے اور آخر اوّل۔» اِس کی تشریح اگلے باب میں ایک تمثیل کی مدد سے کی گئی ہے۔ یہ بیان اِس بات سے بھی خبردار کرتا ہے کہ شاگردیت کی راہ پر اچھا آغاز اِتنا اہم نہیں،‏ بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ اِسے ختم کتنی اچھی طرح کیا گیا ہے۔

کلام کے اِس حصے سے آگے بڑھنے سے پہلے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ «آسمان کی بادشاہی» اور «خُدا کی بادشاہی» آیت ۲۳ اور ۲۴ میں ہم معنی ہیں۔

ط۔ تاکستان میں محنت کے اَجر کے بارے میں (۲۰:‏۱-‏۱۶)

۲۰:‏۱،‏۲ گذشتہ باب میں اَجر کے بارے میں بحث ہو رہی تھی۔ یہ تمثیل اُسی کا تسلسل ہے۔ یہ اِس حقیقت کی وضاحت کرتی ہے کہ حقیقی شاگردوں کو جزا ملے گی اور اُن کی جزا یا اَجر کے تعین کا دار و مدار اُس رُوح پر ہے جِس سے اُنہوں نے خدمت کی ہو گی۔

تمثیل میں بیان کیا گیا ہے کہ گھر کا مالک «سویرے نکلا تاکہ اپنے تاکستان میں مزدور لگائے۔» اِن مزدوروں سے طے پایا کہ دن بھر کی مزدوری «ایک دِینار» ہو گی۔ اُس زمانے کے مطابق یہ معقول معاوضہ تھا۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ اُنہوں نے صبح چھے بجے کام شروع کیا۔

۲۰:‏۳،‏۴ صبح نو بجے مالک کو «بازار میں» چند اَور بے روزگار مزدور مل گئے۔ اِس دفعہ مزدوری تو طے نہ کی گئی مگر وُہ مالک کی اِس یقین دہانی پر کہ «جو واجب ہے تم کو دُوں گا» تاکستان میں کام کرنے لگ گئے۔

۲۰:‏۵-‏۷ دوپہر کو اور ۳ بجے سہ پہر کو کُچھ اَور مزدوروں کو اِس بنیاد پر کام پر لگایا گیا کہ واجب مزدوری ادا کی جائے گی۔ ۵ بجے شام اُسے چند اَور بے روز گار مزدور مل گئے۔ وُہ کام تلاش کرتے رہے تھے مگر ملا نہیں تھا۔ اُس نے اُن کو بھی «تاکستان میں» بھیج دیا مگر مزدوری کی کوئی بات نہ کی۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ سب سے پہلے آدمیوں کو مزدوری کے بارے میں سودا بازی کر کے لگایا گیا تھا۔ دوسروں نے مزدوری کی ادائیگی کا معاملہ مالک پر چھوڑ دیا تھا۔

۲۰:‏۸ شام ہوئی تو مالک نے اپنے کارِندے سے کہا کہ «پچھلوں سے لے کر پہلوں تک» سارے مزدوروں کو اُجرت ادا کر دے (اِس طرح سب سے پہلے آنے والے مزدور دیکھ سکتے تھے کہ دوسروں کو کیا ملتا ہے)۔

۲۰:‏۹-‏۱۲ سب کو برابر اُجرت__ ایک ایک دِینار __ملی۔ جو مزدور چھے بجے صبح لگائے گئے تھے،‏ وُہ سوچ رہے تھے کہ ہمیں زیادہ ملے گا۔ لیکن نہیں،‏ اُن کو بھی ایک ایک دینار ہی ملا۔ اُنہوں نے سخت بُرا مانا۔ آخر وُہ دوسروں کی نسبُت سب سے زیادہ دیر تک اور «سخت دھوپ» میں کام کرتے رہے تھے۔

۲۰:‏۱۳،‏۱۴ اُن میں سے ایک کو جو جواب ملا،‏ اُس میں دائمی سبق پائے جاتے ہیں۔ مالک نے کہا «میاں،‏ مَیں تیرے ساتھ بے اِنصافی نہیں کرتا۔ کیا تیرا مجھ سے ایک دِینار نہیں ٹھہرا تھا؟ جو تیرا ہے اُٹھا لے اور چلا جا۔ میری مرضی یہ ہے کہ جتنا تجھے دیتا ہوں،‏ اِس پچھلے کو بھی اُتنا ہی دوں۔» پہلے مزدور نے سودا بازی کر کے دن کا ایک دِینار طے کیا تھا۔ اُسے معاہدے کے مطابق ایک دِینار مزدوری ملی۔ دوسروں نے اپنے آپ کو مالک کے فضل پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اُن کو فضل ملا۔ فضل اِنصاف سے بُہتر ہوتا ہے۔ خُداوند سے اَجر کے لئے سودا بازی کرنے سے بُہتر ہے کہ یہ معاملہ اُسی پر چھوڑ دیں۔

۲۰:‏۱۵ اب مالک نے کہا کہ «کیا مجھے روا نہیں کہ اپنے مال سے جو چاہوں سو کروں؟» بے شک یہاں یہ سبق پوشیدہ ہے کہ خُدا اِختیارِ کُلی رکھتا ہے۔ وُہ جیسا چاہے کر سکتا ہے اور جو کُچھ وُہ چاہتا ہے وُہ ہمیشہ درست ہوتا اور اِنصاف پر مبنی ہوتا ہے۔ مالک نے مزید کہا کہ «یا تُو اِس لئے کہ مَیں نیک ہوں بُری نظر سے دیکھتا ہے؟» یہ سوال اِنسانی فطرت کی خود غرضی کو بے نقاب کرتا ہے۔ چھے بجے صبح آنے والے آدمیوں کو بالکُل وُہی کُچھ ملا جِس کے وُہ حق دار تھے۔ مگر وُہ حسد کرنے لگے کہ جن آدمیوں نے تھوڑے گھنٹے کام کیا تھا،‏ اُن کو بھی اُتنا ہی ملا۔ ہم میں سے اکثر کو یہ اِقرار کرنا پڑے گا کہ ہمیں یہ بے اِنصافی لگتی ہے۔ اِس سے ثابُت ہوتا ہے کہ آسمان کی بادشاہی میں ہمیں ایک نیا اندازِ فِکر اِختیار کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنی لالچی اور دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنے والی رُوح کو خیرباد کہنا ہو گا اور خُداوند کے انداز میں سوچنا ہو گا۔

مالک جانتا تھا کہ اِن سارے مزدوروں کو پیسے کی ضُرورتہے۔ چنانچہ اُس نے لالچ کے مطابق نہیں بلکہ ضُرورتکے مطابق دیا۔ کِسی کو اُس کے حق سے کم نہیں ملا،‏ مگر سب کو اپنی اور اپنے اپنے خاندان کی ضُرورتکے مطابق مل گیا۔ جیمز سٹوأرٹ کے مطابق اِس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ «جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ مَیں آخری اَجر کے بارے میں سودا بازی کر سکتا ہوں،‏ ہمیشہ غلطی پر ہوتا ہے۔ خُدا کی محبُت جو فیصلہ کرتی ہے وُہ آخری ہوتا ہے۔ اُسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔» اِس روشنی میں ہم اِس تمثیل کا جتنا بھی مطالعہ کرتے ہیں اُتنا ہی احساس ہوتا ہے کہ یہ بات نہ صِرف مبنی براِنصاف ہے،‏ بلکہ نہایت خوبصورت ہے۔ جن کو چھے بجے صبح مزدوری پر لگایا گیا تھا،‏ اُن کو یہی بڑا اَجر سمجھنا چاہئے تھا کہ ہمیں ایسے پُرمحبُت مالک کی پورا دن خدمت کرنے کا موقع مل گیا۔

۲۰:‏۱۶ یسؔوع نے اِن الفاظ میں تمثیل کو ختم کیا کہ «اِسی طرح آخر اوّل ہو جائیں گے اور اوّل آخر» (دیکھئے ۱۹:‏۳۰)۔ اَجر کے معاملے میں بُہت سی حیران کن باتیں پیش آئیں گی۔ بعض لوگ جن کا خیال ہے کہ ہم اوّل ہوں گے،‏ وُہ آخر ہو جائیں گے کیونکہ اُن کی خدمت میں فخر اور خود غرضی شامِل تھی۔ دوسرے،‏ جنہوں نے محبُت اور شکرگزاری کے باعث خدمت کی،‏ اِنہیں بُہت زیادہ عزت ملے گی۔

ی۔ خُداوند کی موت اور قیامت کے بارے میں (۲۰:‏۱۷-‏۱۹)

خُداوند پیریہ کو چھوڑ کر یریحو کے راستے «یروشلیم» کو جا رہا تھا (دیکھئے آیت ۲۹)۔ ایک دفعہ پھر «یسؔوع بارہ شاگردوں کو الگ لے گیا» تاکہ اُن کو بُتائے کہ مُقدس شہر میں پہنچنے کے بعد کیا پیش آئے گا کہ دھوکے سے اُسے «سردار کاہنوں اور فقیہوں کے حوالہ کیا جائے گا۔» یہاں یہُوؔداہ کی دغا بازی کی طرف واضح اِشارہ ملتا ہے۔ یہُودی وں کے لیڈر «اُس کے قتل کا حُکم دیں گے۔» لیکن چونکہ اُن کو سزائے موت پر عمل درآمد کرنے کا اِختیار نہیں اِس لئے وُہ «اُسے غیر قوموں کے حوالہ کریں گے۔» رؔومی حکمران غیر قوم ہی تو تھے۔ اُسے ٹھٹھوں میں اُڑایا جائے گا،‏ کوڑے مارے جائیں گے اور مصلوب کریں گے۔ مگر موت اپنے شکار کو اپنے قبضے میں نہ رکھ سکے گی «اور وُہ تیسرے دن زندہ کیا جائے گا۔»

ک۔ بادشاہی میں رُتبے کے بارے میں (۲۰:‏۲۰-‏۲۸)

یہ تیسری مُرتبہ ہے کہ خُداوند نے شاگردوں کو اپنے دُکھوں کے بارے میں بُتایا۔ مگر اِنسانی فطرت کا کیسا افسوس ناک پہلو ہے کہ وُہ اُس کے دُکھوں کے بارے میں نہیں بلکہ اپنی عزت اور جاہ و مقام کے بارے میں سوچ رہے تھے۔

دُکھوں کے بارے میں مسیح کی پہلی پیش گوئی کے موقعے پر پَطرسؔ نے پس و پیش کیا تھا (۱۶:‏۲۲)۔ دُوسری پیش گوئی کے فوراً بعد شاگرد پوچھنے لگے تھے کہ «… بڑا کون ہو گا؟» اِسی طرح اِس تیسرے موقعے پر ہم دیکھتے ہیں کہ یعقوب اور یُوحناؔ اُونچے مقام کا سوچ رہے ہیں۔ اُن کو تکلیف اور دُکھوں کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے،‏ مگر وُہ مسلسل آنکھیں بَند کئے رکھتے ہیں۔ اُن کو صِرف جلال کا وعدہ نظر آتا ہے۔ چنانچہ وُہ بادشاہی کے بارے میں ایک مادہ پرست اور غلط نظریہ قائم کر لیتے ہیں۔

۲۰:‏۲۰،‏۲۱ یعقوب اور یُوحناؔ کی «ماں» ایک درخواست کے ساتھ خُداوند کے پاس آتی ہے کہ «تیری بادشاہی میں» میرے دونوں بیٹے تیری دہنی اور بائیں طرف بیٹھیں۔ اُس کے حق میں یہ بات قابلِ تعریف ہے کہ وُہ اپنے
بیٹوں کو یسؔوع کے نزدیک دیکھنا چاہتی تھی اور وُہ اُس کی آنے والی بادشاہی کے بارے میں نااُمید نہیں تھی۔ مگر وُہ اُن اصولوں کو نہیں سمجھتی تھی جن کے مطابق اُس بادشاہی میں اعزازات دیئے جائیں گے۔

مرقسؔ کہتا ہے کہ زبدی کے بیٹوں نے خود عرض کی تھی (مرقسؔ ۱۰:‏۳۵)۔ ہو سکتا ہے اُنہوں نے اپنی ماں کے کہنے پر ایسا کیا ہو یا تینوں اِکٹھے خُداوند کے پاس آئے ہوں۔ یہاں کِسی قِسم کا تضاد نہیں ہے۔

۲۰:‏۲۲ یسؔوع نے اُن کو صاف صاف جواب دیا کہ «تم نہیں جانتے کہ کیا مانگتے ہو۔» وُہ تاج تو چاہتے تھے مگر صلیب کے بغیر۔ تخت تو چاہتے تھے مگر قربان گاہ اور قربانی کے بغیر۔ جلال تو چاہتے تھے مگر دُکھوں کے بغیر جو جلال کو پہنچاتے ہیں۔ چنانچہ اُس نے اُن سے ایک خاص سوال کیا کہ «جو پیالہ مَیں پینے کو ہوں کیا تم پی سکتے ہو؟» ہمیں یہ تعجب کرنے کی حاجت نہیں کہ «پیالہ» سے اُس کا مطلب کیا تھا۔ وُہ آیات ۱۸ اور ۱۹ میں ابھی ابھی اِس پیالے کا ذِکر کر رہا تھا کہ ضرور ہے کہ مَیں دُکھ اُٹھائوں اور قتل کیا جائوں۔

یعقوب اور یُوحناؔ نے اپنی اُس صلاحیت کا اِظہار کیا کہ ہم دُکھوں میں شریک ہو سکتے ہیں،‏ مگر شاید اُن کا اعتماد جوش اور جذبے پر مبنی تھا کیونکہ وُہ حقیقت کو نہیں جانتے تھے۔

۲۰:‏۲۳ یسؔوع نے اُن کو یقین دِل ایا کہ تم «میرا پیالہ تو پیو گے۔» یعقوب شہید کیا جائے گا اور یُوحناؔ کو ایذائیں دے کر پتمس کے جزیرہ میں جلاوطن کر دیا جائے گا۔ رابرٹ لٹل کہتا ہے کہ «یعقوب شہید کی موت موا اور یُوحناؔ نے شہید جیسی زندگی گزاری۔» یسؔوع نے بُتایا کہ مَیں اپنی مرضی سے بادشاہی میں عزت کے مقامات نہیں دے سکتا۔ «باپ» نے خاص اصول مقرر کر رکھے ہیں جن کی بنیاد پر یہ مُرتبے دیئے جائیں گے۔ وُہ سمجھتے تھے کہ یہ سیاسی سرپرستی کا معاملہ ہے کہ چونکہ ہم مسیح کے اِتنے قریب ہیں اِس لئے ترجیحی مُرتبے حاصل کرنے کے حق دار ہیں۔ لیکن یہاں شخصی طرف داری کا مسئلہ نہیں۔ خُدا کی مشورت کے مطابق خُداوند کی دہنی اور بائیں طرف کی جگہیں دُکھوں کی بنیاد پر عطا کی جائیں گی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہی میں بڑے بڑے اعزازات صِرف پہلی صدی کے مسیحیوں کے لئے مخصوص نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جو مسیحی آج زندہ ہیں،‏ اُن میں سے بعض ـ__ اپنے دُکھوں کے باعث __ یہ درَج ہ پا لیں۔

۲۰:‏۲۴ جب باقی «دسوں» شاگردوں نے سنا کہ زبدی کے بیٹوں نے ایسی درخواست کی ہے تو دونوں بھائیوں سے سخت «خفا ہوئے۔» وُہ اِس لئے ناخوش تھے کہ وُہ خود سب سے بڑا بننا چاہتے تھے۔ اور یعقوب اور یُوحناؔ کی طرف سے پہلے ہی حق جتانے پر ناراض ہو گئے تھے۔

۲۰:‏۲۵-‏۲۷ شاگردوں کی اِن باتوں سے ہمارے خُداوند کو موقع مل گیا کہ خُدا کی بادشاہی میں بڑائی اور اعزاز کے بارے میں ایک اِنقلابی بات کہے۔ «غیر قومیں» بڑائی اور اعزاز کو حکومت اور اِختیار کے پیمانے سے ناپتی ہیں۔ لیکن مسیح کی بادشاہی میں عظمت اور بڑائی خدمت گزاری سے ظاہر ہوتی ہے۔ «جو تم میں بڑا ہونا چاہے،‏ وُہ تمہارا خادم بنے اور جو تم میں اوّل ہونا چاہے وُہ تمہارا غلام بنے۔»

۲۰:‏۲۸ «ابنِ آدم» ادنیٰ خدمت کا کامِل نمونہ ہے۔ وُہ دُنیا میں اِس لئے نہیں آیا کہ «خدمت لے بلکہ اِس لئے کہ خدمت کرے اور اپنی جان بُہتیروں کے بدِل ے فدیہ میں دے۔» تجِسم کے سارے مقصد کو صِرف دو لفظوں میں سمویا جا سکتا ہے «خدمت کرنا» اور «جان دینا۔» یہ سوچ کر ہی حیرت ہوتی ہے کہ جلالی اور سربلند خُداوند نے اپنے آپ کو چرنی اور صلیب تک فروتن کر دیا۔ اُس کی فروتنی اور اِنکساری کی گہرائیوں میں اُس کی عظمت اور بڑائی ظاہر ہوتی ہے۔ ہمیں بھی ایسا ہی کرنا ہو گا۔

اُس نے اپنی جان «بُہتیروں کے بدِل ے فدیہ میں دی۔» اُس کی موت نے گُناہ کے بارے میں خُدا کے جائز تقاضے پورے کر دیئے۔ اُس کا فدیہ ساری دُنیا کے سارے گُناہ وں کو دُور کرنے کے لئے کافی تھا۔ لیکن اِس فدیہ سے صِرف وُہ فیض یاب ہوتے ہیں جو اُس کو خُداوند اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔ کیا آپ نے اُسے خُداوند اور نجات دہندہ قبول کیا ہے؟

ل۔ دو اندھوں کو شفا دینا (۲۰:‏۲۹-‏۳۴)

۲۰:‏۲۹،‏۳۰ اب تک یسؔوع پیریہ سے روانہ ہو کر اور یردن کو عبور کر کے یریحو پہنچ گیا تھا۔ جب وُہ شہر سے نکل رہا تھا تو «دو اندھوں نے … چِلّا کر کہا،‏ اے خُداوند اِبنِ دائود،‏ ہم پر رحم کر۔» اُنہوں نے «ابنِ دائود» کا لقب استعمال کیا جِس سے ثابُت ہوتا ہے کہ اگرچہ وُہ جِسمانی طور پر اندھے تھے مگر اُن کی روحانی بصیرت اِتنی تیز تھی کہ اُنہوں نے پہچان لیا کہ یسؔوع مسیحِ مَوعُود ہے۔ شاید وُہ اندھے اِسرائیل کے اُس بقیہ کے نمائندے ہیں جو اُسے اُس وقت المسیح تسلیم کریں گے جب وُہ بادشاہی کرنے کو واپس آئے گا (یسَعیاہ ۳۵:‏۵؛ ۴۲:‏۷؛ رؔومیوں ۱۱:‏۲۵،‏۲۶؛ ۲۔کرنتھیوں ۳:‏۱۶؛ مُکاشفہ۱:‏۷)۔

۲۰:‏۳۱-‏۳۴ بھیڑ اِنہیں خاموش کرانے کی کوشِش کرنے لگی لیکن وُہ «اَور بھی چِلّا کر» اُس سے درخواست کرنے لگے۔ جب یسؔوع نے پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو تو اُنہوں نے کوئی فالتو بات نہیں کی جیسا ہم دُعا مانگتے وقت اکثر کرتے ہیں بلکہ ایک دم مطلب کی بات کی کہ «اے خُداوند،‏ یہ کہ ہماری آنکھیں کھل جائیں۔» اُن کی واضح درخواست کا واضح جواب ملا۔ «یسؔوع کو ترس آیا اور اُس نے اُن کی آنکھوں کو چھوا۔ اور وُہ فوراً بینا ہو گئے اور اُس کے پیچھے ہو لئے۔»

جہاں تک اُن کے چھونے کا تعلق ہے،‏ گیبلئین (Gaebelein) بُہت عمدہ بات کہتا ہے:‏

«اِس سے پیشتر اِس اِنجیل میں ہم سیکھ چکے ہیں کہ چھو کر شفا دینے کا تمثیلی مطلب کیا ہے۔ جب بھی خُداوند چھو کر شفا دیتا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وُہ شخصی طور پر دُنیا میں موجود ہے اور بنی اِسرائیل کے ساتھ فضل کا سلوک کرتا ہے۔ جب وُہ اپنے منہ کے کلام سے شفا دیتا ہے اور وُہ شخصی طور پر غیر موجود ہو … یا اگر کوئی ایمان کے ساتھ اُسے چھوتا ہے تو اُس زمانے کی طرف اِشارہ ہے جب وُہ دُنیا میں جِسمانی طور پر غیر موجود ہے۔ اور یہ وُہ زمانہ ہے جب غیر قومیں ایمان کے ساتھ اُس کے پاس آتی اور شفا پاتی ہیں۔»

متؔی کے اِس بیان اور مرقسؔ ۱۰:‏۴۶-‏۵۲ اور لُوقاؔ ۱۸:‏۳۵-‏۴۳؛ ۱۹:‏۱ کے بیانات میں موافقت پیدا کرنے میں بُہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔ یہاں دو اَندھے آدمی ہیں جب کہ مرقسؔ اور لُوقاؔ صِرف ایک کا ذِکر کرتے ہیں۔ اکثر یہ رائے پیش کی جاتی ہے کہ مرقسؔ اور لُوقاؔ مشہور اندھے برتلماؔئی کا ذِکر کرتے ہیں۔ لیکن متؔی چونکہ یہ اِنجیل یہُودی وں کے لئے لِکھ رہا ہے اِس لئے دو کا بیان کرتا ہے کیونکہ گواہی کے قابلِ قبول ہونے کے لئے کم سے کم دو گواہوں کا ہونا ضروری تھا (۲۔کرنتھیوں ۱۳:‏۱)۔ متؔی اور مرقسؔ کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب یسؔوع یریحو سے نکل رہا تھا اور لُوقاؔ کے مطابق اُس وقت جب وُہ یریحو کے نزدیک پہنچا۔ دراصل یریحو شہر بھی دو تھے،‏ ایک پرانا یریحو اور دوسرا نیا یریحو۔ اور شفا دینے کا یہ مُعجزہ اغلباً اُس وقت پیش آیا جب یسؔوع ایک یریحو سے نکل کر دوسرے میں داخل ہو رہا تھا۔

کِتابِ مُقدّس

۱۔ جب یِسُوعؔ اپنے بارہ شاگِردوں کو حُکم دے چُکا تو اَیسا ہُؤا کہ وہاں سے چلا گیا تاکہ اُن کے شہروں میں تعلِیم دے اور مُنادی کرے۔
۲۔ اور یُوحنّا نے قَید خانہ میں مسِیح کے کاموں کا حال سُن کر اپنے شاگِردوں کی معرفت اُس سے پُچھوا بھیجا۔
۳۔ کہ آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟
۴۔ یِسُوعؔ نے جواب میں اُن سے کہا کہ جو کُچھ تُم سُنتے اور دیکھتے ہو جا کر یُوحنّا سے بیان کر دو۔
۵۔ کہ اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے پِھرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کِئے جاتے اور بہرے سُنتے ہیں اور مُردے زِندہ کِئے جاتے ہیں اور غرِیبوں کو خُوشخبری سُنائی جاتی ہے۔
۶۔ اور مُبارک وہ ہے جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔
۷۔ جب وہ روانہ ہو لِئے تو یِسُوعؔ نے یُوحنّا کی بابت لوگوں سے کہنا شُرُوع کِیا کہ تُم بیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ہوا سے ہِلتے ہُوئے سرکنڈے کو؟
۸۔ تو پِھر کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا مہِین کپڑے پہنے ہُوئے شخص کو؟ دیکھو جو مہِین کپڑے پہنتے ہیں وہ بادشاہوں کے گھروں میں ہوتے ہیں۔
۹۔ تو پِھر کیوں گئے تھے؟ کیا ایک نبی دیکھنے کو؟ ہاں مَیں تُم سے کہتا ہُوں بلکہ نبی سے بڑے کو۔
۱۰۔ یہ وُہی ہے جِس کی بابت لِکھا ہے کہ دیکھ مَیں اپنا پَیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہُوں جو تیری راہ تیرے آگے تیّار کرے گا۔
۱۱۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہُؤا لیکن جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے۔
۱۲۔ اور یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کے دِنوں سے اب تک آسمان کی بادشاہی پر زور ہوتا رہا ہے اور زورآور اُسے چِھین لیتے ہیں۔
۱۳۔ کیونکہ سب نبِیوں اور تَورَیت نے یُوحنّا تک نبُوّت کی۔
۱۴۔ اور چاہو تو مانو۔ ایلیّاؔہ جو آنے والا تھا یِہی ہے۔
۱۵۔ جِس کے سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے۔
۱۶۔ پس اِس زمانہ کے لوگوں کو مَیں کِس سے تشبِیہ دُوں؟ وہ اُن لڑکوں کی مانِند ہیں جو بازاروں میں بَیٹھے ہُوئے اپنے ساتِھیوں کو پُکار کر کہتے ہیں۔
۱۷۔ ہم نے تُمہارے لِئے بانسلی بجائی اور تُم نہ ناچے۔ ہم نے ماتم کِیا اور تُم نے چھاتی نہ پِیٹی۔
۱۸۔ کیونکہ یُوحنّا نہ کھاتا آیا نہ پِیتا اور وہ کہتے ہیں کہ اُس میں بدرُوح ہے۔
۱۹۔ اِبنِ آدمؔ کھاتا پِیتا آیا اور وہ کہتے ہیں دیکھو کھاؤ اور شرابی آدمی۔ محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کا یار! مگر حِکمت اپنے کاموں سے راست ثابِت ہُوئی۔
۲۰۔ وہ اُس وقت اُن شہروں کو ملامت کرنے لگا جِن میں اُس کے اکثر مُعجِزے ظاہِر ہُوئے تھے کیونکہ اُنہوں نے تَوبہ نہ کی تھی کہ
۲۱۔ اَے خُرازِین تُجھ پر افسوس! اَے بَیت صَیدا تُجھ پر افسوس! کیونکہ جو مُعجِزے تُم میں ظاہِر ہُوئے اگر صُور اور صَیدا میں ہوتے تو وہ ٹاٹ اوڑھ کر اور خاک میں بَیٹھ کر کب کے تَوبہ کر لیتے۔
۲۲۔ مگر مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ عدالت کے دِن صُور اور صَیدا کا حال تُمہارے حال سے زِیادہ برداشت کے لائِق ہو گا۔
۲۳۔ اور اَے کفرنحُوؔم کیا تُو آسمان تک بُلند کِیا جائے گا؟ تُو تو عالَمِ ارواح میں اُترے گا کیونکہ جو مُعجِزے تُجھ میں ظاہِر ہُوئے اگر سدُوؔم میں ہوتے تو آج تک قائِم رہتا۔
۲۴۔ مگر مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ عدالت کے دِن سدُوؔم کے عِلاقہ کا حال تیرے حال سے زِیادہ برداشت کے لائِق ہو گا۔
۲۵۔ اُس وقت یِسُوعؔ نے کہا اَے باپ آسمان اور زمِین کے خُداوند مَیں تیری حمد کرتا ہُوں کہ تُو نے یہ باتیں داناؤں اور عقل مندوں سے چِھپائِیں اور بچّوں پر ظاہِر کِیں۔
۲۶۔ ہاں اَے باپ کیونکہ اَیسا ہی تُجھے پسند آیا۔
۲۷۔ میرے باپ کی طرف سے سب کُچھ مُجھے سَونپا گیا اور کوئی بیٹے کو نہیں جانتا سِوا باپ کے اور کوئی باپ کو نہیں جانتا سِوا بیٹے کے اور اُس کے جِس پر بیٹا اُسے ظاہِر کرنا چاہے۔
۲۸۔ اَے مِحنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تُم کو آرام دُوں گا۔
۲۹۔ میرا جُؤا اپنے اُوپر اُٹھا لو اور مُجھ سے سِیکھو۔ کیونکہ مَیں حلِیم ہُوں اور دِل کا فروتن۔ تو تُمہاری جانیں آرام پائیں گی۔
۳۰۔ کیونکہ میرا جُؤا مُلائِم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔