متؔی ۱۰

۱۰۔ بادشاہ اپنے شاگردوں کو تیار کرتا ہے (۱۶:‏۱۳-‏۱۷:‏۲۷)

الف۔ پَطرسؔ کا اِقرار (۱۶:‏۱۳-‏۲۰)

۱۶:‏۱۳،‏۱۴ «قیصریہ فلپی» گلیل کی جھیل سے ۴۰ کلو میٹر شمال اور دریائے یردن سے تقریباً ۸ کلومیٹر مشرق میں واقع تھا۔ جب یسؔوع اُس کے گرد و نواح کے دیہات میں پہنچا (مرقسؔ ۸:‏۲۷) تو ایک ایسا واقعہ رُونما ہُوا جِس کو اُس کی تعلیمی خدمت کا نقطۂ اوج سمجھا جاتا ہے۔ اُس وقت تک وُہ شاگردوں کی راہنمائی کرتا رہا تھا کہ اُس کی شخصیت کو حقیقی طور پر سمجھ لیں۔ اِس مقصد میں کامیاب ہو جانے کے بعد اب وُہ پورے عزم ور مصمم ارادے کے ساتھ صلیب کی طرف رُخ کرتا ہے۔

آغاز میں وُہ «اپنے شاگردوں» سے سوال کرتا ہے کہ «لوگ ابنِ آدم کو کیا کہتے ہیں؟» یعنی میری شناخت کس طرح کرتے ہیں؟ جواب میں بُتایا جاتا ہے کہ بعض لوگ «یُوحناؔ بپتسمہ دینے والا» اور بعض «ایلیاہ» کہتے ہیں۔ بعض تجھے «یرمیاہ» قرار دیتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ دوسرے «نبیوں میں سے کوئی» ہے۔ عام آدمیوں کے لئے بُہت سے انبیا میں سے کوئی ایک نبی تھا۔ اچھا تھا لیکن سب سے اچھا نہیں تھا۔ بڑا تھا لیکن سب سے بڑا نہیں تھا۔ ایک نبی تھا مگر «وُہ نبی» نہیں تھا۔ اِس میں اُس کی تھوڑی بُہت تعریف تو تھی،‏ مگر اُس کی اصلیت کی تردید ہوتی تھی کہ اگر وُہ کئیوں میں سے ایک ہے تو وُہ جعل ساز ہے کیونکہ خُدا باپ کے برابر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

۱۶:‏۱۵-‏۱۶ چنانچہ اُس نے شاگردوں سے پوچھا کہ «تم مجھے کیا کہتے ہو؟» یہاں «شمعون پطرس» نے وُہ اِقرار کیا جو تاریخی حیثیت اور اہمیّت رکھتا ہے کہ « تُو زندہ خُدا کا بیٹا مسیح ہے!» دوسرے لفظوں میں بنی اِسرائیل کا مسیحِ مَوعُود اور خُدا کا بیٹا ہے۔

۱۶:‏۱۷،‏۱۸ ہمارے خُداوند نے «شمعون بریُوناؔہ» کو «مبارک» ٹھہرایا۔ اُسے برکت دی۔ ایک ماہی گیر خُداوند یسؔوع کے بارے میں اِس تصور تک اپنی ذہانت یا طبعی عقل کی مدد سے نہیں پہنچا تھا بلکہ «خدا» باپ نے فوق الفطرت طور پر اُس پر «ظاہر» کیا تھا،‏ مگر بیٹا پَطرسؔ سے بھی ایک اہم اور ضروری بات کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ یسؔوع نے کہا،‏ « تُو پَطرسؔ ہے اور مَیں اِس پتھر پر اپنی کلیسیا بنائوں گا اور عالمِ ارواح کے دروازے اُس پر غالب نہ آئیں گے۔» ہم جانتے ہیں کہ جتنا اِختلافِ رائے اِس آیت میں پایا جاتا ہے،‏ اِنجیل کی کِسی دُوسری آیت پر شاید ہی پایا جاتا ہو۔ سوال یہ ہے کہ «پتھر» کیا یا کون ہے؟ کُچھ مسئلہ تو اِس لئے پیدا ہوتا ہے کہ یٗونانی زبان میں پَطرسؔ اور پتھر کے لئے لفظ متشابہ ہیں۔ لیکن اِن کے مطالب میں فرق ہے۔ پہلا لفظ petros ہے جِس کا مطلب ہے پتھر یا بھربھری چٹان۔ دوسرا لفظ petra ہے جِس کا مطلب ہے چٹان۔ چنانچہ یسؔوع نے جو بات کہی دراصل یہ تھی کہ « تُو پَطرسؔ (پتھر۔ پہلا مطلب) ہے۔ اور مَیں اِس پتھر (چٹان،‏ دوسرا مطلب) پر اپنی کلیسیا بنائوں گا۔» اُس نے یہ نہیں کہا تھا کہ مَیں پتھر پر کلیسیا بنائوں گا،‏ بلکہ یہ کہ چٹان پر بنائوں گا۔

اگر پَطرسؔ وُہ چٹان نہیں،‏ تو کیا چیز وُہ چٹان ہے؟ اگر ہم سیاق و سباق پر توجہ دیں تو جواب واضح ہے کہ وُہ چٹان پَطرسؔ کا اِقرار ہے کہ مسیح زندہ خُدا کا بیٹا ہے۔ اور یہی وُہ سچائی ہے جِس پر کلیسیا کی بنیاد ہے۔ اِفسیوں ۲:‏۲۰ ہمیں سکھاتی ہے کہ کلیسیا کی تعمیر یسؔوع مسیح پر ہوئی ہے۔ وُہی کونے کے سرے کا پتھر ہے۔ یہ بیان کہ «تم رسولوں اور نبیوں کی نیو پر … تعمیر کئے گئے ہو» یہ مطلب نہیں رکھتا کہ کلیسیا کی بنیاد اُن ہستیوں پر ہے بلکہ یہ کہ خُداوند یسؔوع مسیح کے بارے میں اُن کی تعلیم پر ہے۔

۱۔کرنتھیوں ۱۰:‏۴ میں بیان ہُوا ہے کہ «چٹان» مسیح ہے۔ اِس سلسلے میں مورگن (Morgan) بُہت عمدہ بات یاد دِل اتا ہے:‏

«یاد رکھیں کہ وُہ یہُودی وں سے کلام کر رہا تھا۔ اگر ہم عبرانی صحائف میں لفظ چٹان کے مجازی استعمال کی تحقیق کریں تو ہمیں پتا چلے گا کہ اِس کو اِنسان کے لئے عَلامت کے طور پر کبھی استعمال نہیں کیا گیا بلکہ ہمیشہ خُدا کے لئے۔ اِسی طرح یہاں قیصریہ فلپی میں بھی کلیسیا پَطرسؔ پر تعمیر نہیں کی گئی۔ یسؔوع صنائع بدائع کی بے قدری نہیں کرتا۔ اُس نے اُن کی قدیم عبرانی مثال ہی کو لیا ہے یعنی چٹان جو ہمیشہ ذاتِ الٰہی کی عَلامت تھی اور کہا ہے کہ خود خُدا پر __ زندہ خُدا کے بیٹے مسیح پر __ مَیں اپنی کلیسیا بنائوں گا۔»

پَطرسؔ نے کبھی نہیں کہا کہ مَیں کلیسیا کی نیو ہوں۔ یسؔوع کا ذِکر کرتے ہوئے وُہ دو دفعہ اُسے «پتھر» کہتا ہے (دیکھئے اعمال ۴:‏۱۱،‏۱۲ اور ۱۔پَطرسؔ ۲:‏۴-‏۸)۔ مگر یہاں مثال فرق ہے۔ وُہ پتھر نیو نہیں بلکہ «کونے کے سرے کا پتھر» ہے۔

« مَیں … اپنی کلیسیا بنائوں گا۔» یہ پہلا موقع ہے کہ بائبل مُقدس میں «کلیسیا» کا ذِکر آتا ہے۔ پُرانے عہدنامہ میں اِس کا وجود نہ تھا۔ جب یسؔوع نے یہ الفاظ بولے،‏ اُس وقت بھی کلیسیا ابھی مستقبل میں بننے والی تھی۔ اِس کا قیام پنتکست کے دن ہی ہُوا۔ اور یہ اُن سب افراد پر مشتمل تھی جو مسیح میں حقیقی ایمان دار ہیں۔ خواہ وُہ یہُودی ہوں،‏ خواہ غیر اقوام __ یہ ایک الگ گروُہ ہے جِس کو مسیح کا بدن اور دِل ھن کہا جاتا ہے۔ اِس کو بے مثال آسمانی بلاہٹ حاصل ہے۔ اِس کا مقدر بھی یکتا اور آسمانی ہے۔

متؔی کی اِنجیل میں نمایاں موضوع اِسرائیل اور بادشاہی ہیں۔ اور ہمیں توقع نہیں ہوتی کہ یہاں کلیسیا کا موضوع بھی متعارف ہو گا،‏ لیکن چونکہ اِسرائیل نے مسیح کو ردّ کر دیا،‏ اِس لئے ایک معترضہ دَور __ کلیسیائی دَور __ شروع ہو جاتا ہے جو فضائی اِستقبال تک چلتا رہے گا۔ پھر خُدا بنی اِسرائیل سے بہ حیثیت قوم دوبارہ معاملہ شروع کرے گا۔ اِس لئے نہایت موزوں بات ہے کہ خُدا یہاں کلیسیا کا تعارُف کرائے جو کہ بنی اِسرائیل کے مسیح کو ردّ کرنے کے بعد اُس کا اگلا اِنتظامی اقدام ہے۔

«اور عالمِ ارواح کے دروازے اُس پر غالب نہ آئیں گے۔» اِس کے دو مفہُوم ہو سکتے ہیں۔ اوّل،‏ «عالمِ ارواح کے دروازے» کلیسیا کے خلاف ناکام حملے ہیں۔ کلیسیا اپنے خلاف تمام حملوں میں قائم و دائم رہے گی۔ دُوسری تصویر یہ ہو سکتی ہے کہ کلیسیا خود حملہ آور ہوتی اور فاتح رہتی ہے۔ ہر صورت میں موت کی قوتیں شکست کھائیں گی۔ زندہ ایمان دار آسمان پر اُٹھائے جائیں گے اور جو مسیح میں موئے وُہ زندہ کئے جائیں گے۔

۱۶:‏۱۹ « مَیں آسمان کی بادشاہی کی کنجیاں تجھے دوں گا۔» اِس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمیوں کو بہشت میں داخل کرنے کا اِختیار پَطرسؔ کو دیا گیا۔ زیر نظر بات کا تعلق اِس زمین پر «آسمان کی بادشاہی» کے ساتھ ہے یعنی وُہ حلقہ جو اُن سبھوں پر مشتمل ہے جو بادشاہ کے ساتھ وفاداری کا حلف اُٹھاتے اور مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ «کنجیاں» رسائی حاصل کرنے یا اندر داخل ہونے کو ظاہر کرتی ہیں۔ وُہ کنجیاں جو اِقرار کے حلقے کا دروازہ کھولتی ہیں اُن کا بیان ارشادِ عظیم (متؔی ۲۸:‏۱۹) میں ملتا ہے،‏ یعنی شاگرد بنانا،‏ بپتسمہ دینا اور تعلیم دینا (بپتسمہ نجات کے لئے ضروری نہیں بلکہ شمولیت کی رسم ہے جِس سے لوگ بادشاہ کے ساتھ وفاداری کا علانیہ اِقرار کرتے ہیں)۔ پَطرسؔ نے یہ کنجیاں سب سے پہلے پنتکست کے دن استعمال کیِں۔ یہ کنجیاں دوسروں کو چھوڑ کر صِرف اُسی کو نہیں دی گئی تھیں بلکہ وُہ تمام شاگردوں کا نمائندہ مانا گیا تھا (دیکھئے متؔی ۱۸:‏۱۸ جہاں یہی وعدہ اُن سب سے کِیا گیا ہے)۔

«جو کُچھ تُو زمین پر باندھے گا،‏ وُہ آسمان پر بَندھے گا اور جو کُچھ تُو زمین پر کھولے گا وُہ آسمان پر کھلے گا۔» اِس کے ساتھ میل کھاتا ہُوا دوسرا حوالہ یُوحناؔ ۲۰:‏۲۳ ہے۔ بعض اوقات اِن دونوں حوالوں کی مدد سے یہ مفروضہ ثابُت کرنے کی کوشِش کی جاتی ہے کہ پَطرسؔ اور اُس کے جانشینوں کو گُناہ معاف کرنے کا اِختیار دیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ گُناہ صِرف خُدا ہی معاف کر سکتا ہے۔

اِس آیت کو دو طرح سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اوّل،‏ کہ شاگردوں کو باندھنے اور کھولنے کا اِختیار تھا جو آج ہمیں حاصل نہیں۔ مثال کے طورپر پَطرسؔ نے حننیاہ اور سفیرہ کے گُناہ وں کو اُن پر باندھ دیا اور اُن کو فوری موت کی سزا ملی (اعمال ۵:‏۱-‏۱۰) جب کہ پُولُسؔ نے کرنتھس میں جِس آدمی کی تادیب کی گئی تھی،‏ اُسے گُناہ کے نتائج سے کھول دیا کیونکہ اُس آدمی نے توبہ کر لی تھی (۲۔کرنتھیوں ۲:‏۱۰)۔

اِس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ رسول زمین پر جو کُچھ باندھتے یا کھولتے ہیں دراصل وُہ آسمان پر پہلے ہی بَندھا یا کھلا ہوتا ہے۔ اِس ضمن میں رائری کہتا ہے کہ «باندھنے اور کھولنے کا آغاز رسول نہیں کرتے،‏ بلکہ آسمان کرتا ہے۔ رسول صِرف اِن باتوں کا اعلان کرتے ہیں۔»

آج یہ آیت صِرف ایک ہی مفہُوم میں سچ ہے اور وُہ ہے اُس کا اِظہاری یا بیانیہ مفہُوم ۔ جب کوئی گنہگار اپنے گُناہ وں سے سچی توبہ کرتا اور یسؔوع مسیح کو اپنا خُداوند اور نجات دہندہ قبول کر لیتا ہے تو ایک مسیحی اعلان کر سکتا ہے کہ اُس کے گُناہ معاف ہوئے۔ جب کوئی گنہگار نجات دہندہ کو ردّ کر دیتا ہے تو ایک مسیحی کارِندہ اعلان کر سکتا ہے کہ اُس کے گُناہ قائم ہیں۔ ولیم کیلی لِکھتا ہے کہ «جب بھی کلیسیا خُداوند کے نام میں کام کرتی اور حقیقی معنوں میں اُس کی مرضی پُوری کرتی ہے تو اُس کے کاموں پر خُدا کی مُہر ثبُت ہوتی ہے۔»

۱۶:‏۲۰ ہم دوبارہ دیکھتے ہیں کہ خُداوند یسؔوع نے «اپنے شاگردوں کو حُکم دیا کہ کِسی کو نہ بُتانا مَیں مسیح ہوں۔» بنی اِسرائیل کی بے اعتقادی کے سبب ایسے اِنکشاف سے کُچھ فائدہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اور اگر اُس کو بادشاہ بنانے کی تحریک چل پڑتی تو سخت نقصان ہو سکتا تھا کیونکہ ایسی بے وقت تحریک کو رؔومی نہایت بے رحمی سے کچل ڈالتے۔

سٹوارٹ (Stewart) اِس حصے کو مسیح کی خدمت کا موڑ قرار دیتا ہے۔ وُہ رقم طراز ہے کہ

«آج قیصریہ فلپی میں اناجیل کے دونوں دھاروں کو الگ الگ کیا جا رہا ہے۔ اِس نقطے سے دھارے ایک دوسرا رُخ اِختیار کرتے ہیں۔ ایک دھارا ہر دِل عزیزی کا تھا جو یسؔوع کی خدمت کے اِبُتدائی ایام میں اُبھرا۔ اور لگتا تھا کہ اُسے تخت تک
پہنچا دے گا۔ لیکن وُہ دھارا تو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اب دھارے کا رُخ صلیب کی طرف ہے۔ قیصریہ فلپی میں یسؔوع گویا دوراہے پر آ کھڑا ہُوا،‏ جیسے وُہ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہے اور اپنے پیچھے اُس راستے پر نظر ڈال سکتا ہے جِسے وُہ
طے کر آیا ہے اور اُس کے سامنے ایک تاریک اور نہایت ناخوش گوار راستہ اُس کا منتظر ہے۔ اُس نے ایک نگاہ پیچھے ڈالیجہاں پُرمسرت گزرے دِنوں کی شفق ابھی تک موجود تھی۔ پھر وُہ مڑا اور اُس راہ پر قدم بڑھا دیئے جِس پر سائے ہی سائے
تھے۔ اب اُس کا راستہ کلوری کو جاتا تھا۔»

ب۔ شاگردوں کو اپنی موت اور قیامت کے لئے تیار کرنا (۱۶:‏۲۱-‏۲۳)

۱۶:‏۲۱ اب جب کہ شاگردوں کو یہ شعور حاصل ہو گیا کہ یسؔوع زندہ خُدا کا بیٹا مسیح ہے تو وُہ اُس کی موت اور قیامت کے بارے میں اُس کی پہلی براہِ راست پیش گوئی سننے کو تیار تھے۔ اب وُہ جانتے تھے کہ جِس مقصد کے لئے وُہ آیا ہے،‏ اِس میں ہرگز ناکام نہیں ہو سکتا۔ وُہ جانتے تھے کہ ہم فتح مند فریق کے ساتھ ہیں۔ وُہ جانتے تھے کہ کُچھ بھی ہو گزرے فتح یقینی ہے۔ چنانچہ خُداوند نے تیار دِل وں کو یہ خبر سنائی کہ مجھے «ضرور ہے کہ یروشلؔیم کو» جائوں۔ اور ضرور ہے کہ مذہبی لیڈروں کے ہاتھوں «بُہت دُکھ» اُٹھائوں۔ اور ضرور ہے کہ «قتل کِیا» جائوں اور ضرور ہے کہ «تیسرے دن جی» اُٹھوں۔ یہ خبر کِسی بھی تحریک کا گلا گھونٹ ڈالنے کو کافی تھی۔ساری گفتگو میں صِرف آخری بات کہ «ضرور ہے یہ کہ تیسرے دن جی» اُٹھوں کِسی تحریک کو زندہ رکھ سکتی تھی۔ اِس بات نے سب کُچھ بدِل ڈالا!

۱۶:‏۲۲ پَطرسؔ اِس خیال ہی سے غصے سے بھر گیا کہ ہمارے مالک کے ساتھ ایسا سلوک ہو۔ اُس نے خُداوند کو یوں پکڑا جیسے اُس کا راستہ روک رہا ہو اور احتجاج کرنے لگا کہ «اے خُداوند،‏ خُدا نہ کرے،‏ یہ تجھ پر ہرگز نہیں آنے کا!»

۱۶:‏۲۳ اِس پر خُداوند یسؔوع نے اُسے جھڑکا۔ وُہ تو اِس دُنیا میں آیا ہی گنہگاروں کی خاطر جان دینے کو تھا۔ جو چیز یا جو شخص اُسے اِس مقصد سے روکتا،‏ وُہ خُدا کی مرضی کا مخالف تھا۔ چنانچہ اُس نے پَطرسؔ سے کہا کہ «اے شیطان،‏ میرے سامنے سے دُور ہو۔ تُو میرے لئے ٹھوکر کا باعث ہے کیونکہ تُو خُدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمیوں کی باتوں کا خیال رکھتا ہے۔» پَطرسؔ کو «شیطان» کہنے سے یسؔوع کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ وُہ بدرُوح گرفتہ یا شیطان کے کنٹرول میں ہے۔ مطلب صِرف اِتنا تھا کہ اُس کی باتیں اور حرکات ایسی تھیں جن کی توقع صِرف شیطان سے کی جا سکتی ہے (اور اُس کے نام کا مطلب ہے مخالف) کلوری کے خلاف احتجاج کر کے پَطرسؔ نجات دہندہ کے لئے ایک رُکاوٹ بن رہا تھا۔

ہر مسیحی کی بلاہٹ ہے کہ اپنی صلیب اُٹھائے اور خُداوند یسؔوع کے پیچھے ہو لے۔ لیکن جب صلیب راستے میں ایک رُکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی ہے تو اندر سے ایک آواز آتی ہے «خُدا ایسا نہ کرے! اپنے آپ کو بچا لو۔» یا شاید اپنے عزیز و اقارب کی آوازیں ہمیں فرماں برداری کے راستے سے ہٹا دینے کی کوشِش کرتی ہیں۔ ایسے وقت ہمیں بھی کہنا چاہئے کہ «اے شیطان،‏ میرے سامنے سے دُور ہو۔ تُو میرے لئے ایک رُکاوٹ ہے۔»

ج۔ حقیقی شاگردیت کے لئے تیاری (۱۶:‏۲۴-‏۲۸)

۱۶:‏۲۴ اب خُداوند یسؔوع صاف صاف بیان کرتا ہے کہ میرا شاگرد ہونے میں کن کن باتوں کا سامنا ضروری ہے۔ اپنی خودی کا اِنکار،‏ صلیب اُٹھانا اور اُس کے پیچھے چلنا۔ «خودی» کے اِنکار سے مراد خود اِنکاری نہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو ایسے کامِل طور سے اُس کے کنٹرول میں دے دینا کہ اپنی ذات کا کوئی حق باقی نہ رہے۔ «صلیب اُٹھانے» کا مطلب ہے کہ ہر طرح کی شرمساری اور دُکھ اُٹھانے،‏ بلکہ اُس کی خاطر شہید ہونے کو بھی تیار اور آمادہ ہونا۔ گُناہ اور خودی اور دُنیا کے اعتبار سے مر جانا۔ اور اُس کے «پیچھے ہو لینے» کا مطلب ہے اُس کی طرح زندگی گزارنا۔ اُس نے ایسی زندگی گزاری جِس میں حلیمی،‏ فروتنی،‏ غربُت،‏ ترس،‏ محبُت،‏ فضل اور ہر خدائی وصف اور خوبی شامِل تھی۔

۱۶:‏۲۵ خُداوند دیکھتا ہے کہ دو باتیں شاگردیت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ پہلی تو قُدرتی آزمائش ہے کہ اِنسان «اپنی جان» کو بے آرامی یا تکلیف،‏ درد،‏ تنہائی یا نقصان سے «بچانا» چاہتا ہے اور دُوسری ہے دولت مند بننے کی خواہش۔ جہاں تک پہلی رکاوٹ کا تعلق ہے،‏ یسؔوع نے خبردار کیا کہ جو لوگ خود غرضانہ مقاصد کے لئے زندگی سے چمٹے رہتے ہیں،‏ اُن کو اپنی زندگی کا مقصد کبھی حاصل نہ ہو گا۔ جو لوگ بے دھڑک ہو کر زندگی اُس کے حوالے کر دیتے ہیں،‏ قیمت کا حساب نہیں لگاتے،‏ اُن کو اپنی زندگی کا مقصد مل جاتا ہے۔

۱۶:‏۲۶ دُوسری آزمائش __ دولت مند بننے کی آرزُو __ بالکُل غیر معقول ہے۔ یسؔوع کہتا ہے کہ «فرض کریں کہ ایک ’آدمی‘ اپنے کاروبار میں اِتنا کامیاب ہے کہ ’ساری دُنیا‘ حاصل کر لیتا ہے۔ دولت اور دُنیا کی دیوانہ وار تلاش میں اُس کا وقت اور طاقت اِتنی شد و مد سے صِرف ہو جاتی ہے کہ وُہ اپنی زندگی کے اصل مقصد کو بھول جاتا ہے۔ کیا فائدہ ہے کہ اِنسان اِتنی دولت جمع کرے،‏ پھر مر جائے اور ساری دولت پیچھے چھوڑ جائے اور ابدیت خالی ہاتھ بَسر کرے؟» یہاں اِنسان کے سامنے پیسہ کمانے کی نسبُت کہیں بڑا مقصد ہے۔ اُس کو بلایا گیا ہے کہ بادشاہ کے مقاصد پورے کرے۔ اگر وُہ یہ نہیں کر سکا تو اُس نے کُچھ نہیں کیا۔

۱۶:‏۲۷ اب خُداوند اپنے لوگوں کو اُس «جلال» کی یاد دِل اتا ہے جو دُکھوں کے بعد ملتا ہے۔ وُہ اپنی دُوسری آمد کی طرف اِشارہ کرتا ہے جب وُہ «فرشتوں کے ساتھ» زمین پر واپس آئے گا۔ اُس وقت وُہ اپنے «باپ کے» کے فائق اور افضل «جلال میں» ہو گا۔ «اُس وقت ہر ایک کو» جو اُس کی راہوں پر چلتا ہے «بدِل ہ دے گا۔» کامیاب زندگی بَسر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اِنسان اِس جلالی مستقبل کو اپنے سامنے رکھے،‏ اُس کے لئے منصوبہ بَندی کرے۔ فیصلہ کرے کہ اُس وقت کون سی چیز واقعی اہم ہو گی۔ اور پھر پُوری قوت کے ساتھ اُس کے پیچھے لگ جائے۔

۱۶:‏۲۸ اب یسؔوع ایک چونکا دینے والی بات کرتا ہے کہ «جو یہاں کھڑے ہیں،‏ اُن میں سے بعض ایسے ہیں کہ جب تک ابنِ آدم کو اُس کی بادشاہی میں آتے ہوئے نہ دیکھ لیں گے موت کا مزہ ہرگز نہ چکھیں گے۔» اب مسئلہ یہ ہے کہ وُہ شاگرد توسارے موت کا مزہ چکھ چکے ہیں اور مسیح قُدرت اور جلال کے ساتھ بادشاہی قائم کرنے کے لئے ابھی تک نہیں آیا۔ اِس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ہمیں اِس بات کو نظر انداز کرنا ہو گا کہ یہاں باب کا خاتمہ ہوتا ہے اور اگلے باب کی پہلی آٹھ آیات کو اُس کے اِس پُراسرار بیان کی تشریح سمجھنا ہو گا۔ اِن آیات میں پہاڑ پر مسیح کی صورت بدِل جانے کا واقعہ بیان ہُوا ہے۔ وُہاں پطرس،‏ یعقوب اور یُوحناؔ نے مسیح کو جلالی صورت میں دیکھا۔ اُن کو یہ شرف حاصل ہُوا کہ پہلے ہی ایک جھلک دیکھ لیں کہ اپنی بادشاہی کے جلال میں مسیح کیسا ہو گا۔

یہ بات بالکُل حق بجانب ہے کہ ہم مسیح کی صورت بدِل جانے کو اُس کی آنے والی بادشاہی کی ایک پیشگی تصویر جانیں۔ پَطرسؔ اِس واقعے کو (۲۔پَطرسؔ ۱:‏۱۶) «خُداوند یسؔوع مسیح کی قُدرت اور آمد» کہتا ہے۔ خُداوند یسؔوع مسیح کی قُدرت اور آمد کا مطلب اُس کی دُوسری آمد ہے۔ اور یُوحناؔ اِس پہاڑ پر کے تجربے کے بارے میں کہتا ہے کہ «ہم نے اُس کا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اکلوتے کا جلال» (یُوحناؔ ۱:‏۱۴)۔ مسیح کی پہلی آمد عاجزی اور خاکساری میں ہوئی،‏ لیکن جو آمد جلال میں ہو گی وُہ اُس کی دُوسری آمد ہے۔ چنانچہ آیت ۲۸ کی پیش گوئی اِس پہاڑ پر پُوری ہوئی۔ پطرس،‏ یعقوب اور یُوحناؔ نے ابنِ آدم کو دیکھا،‏ جب وُہ فروتن اور حلیم ناصری نہیں بلکہ جلال کا بادشاہ تھا۔

د۔ شاگردوں کو جلال کے لئے تیار کرنا __ صورت کا تبدیل ہو جانا (۱۷:‏۱-‏۸)

۱۷:‏۱،‏۲ قیصریہ فلپی کے واقعہ کے «چھے دن کے بعد یسؔوع نے پَطرسؔ اور یعقوب اور اُس کے بھائی یُوحناؔ کو ہمراہ لیا» اور گلیل کے کِسی علاقے میں «اِنہیں ایک اُونچے پہاڑ پر الگ لے گیا۔» کئی مفسرین «چھے دن» کو خاص اہمیّت دیتے ہیں۔ مثلاً گیبلئین (Gaebelein) کہتا ہے کہ «چھے اِنسان کا عدد ہے اور کام کرنے کے دنوں کو ظاہر کرتا ہے۔ چھے دن کے بعد یعنی کام کے بعد جب اِنسان کا دن ختم ہو جاتا ہے،‏ پھر خُداوند کا دن __ بادشاہی __ آتا ہے۔»

جب لُوقاؔ کہتا ہے کہ صورت تبدیل ہونے کا واقعہ «کوئی آٹھ روز بعد» (لُوقاؔ ۹:‏۲۸) پیش آیا تھا تو صاف ظاہر ہے کہ وُہ درمیانی دنوں کے ساتھ پہلے اور آخری دن کو بھی شمار کرتا ہے۔ چونکہ آٹھ جی اُٹھنے اور نئے آغاز کا عدد ہے اِس لئے نہایت بجا ہے کہ لُوقاؔ بادشاہی کو نئے آغاز کے مماثل ٹھہراتا ہے۔

پطرس،‏ یعقوب اور یُوحناؔ نے نجات دہندہ کی خاص قربُت حاصل کر لی تھی۔ اُن کو یہ شرف حاصل ہُوا کہ خُداوند کو جلالی صورت میں دیکھیں۔ اب تک اُس کا جلال بشری بدن کے پردے میں ڈھکا رہا تھا،‏ لیکن اِس موقعے پر «اُس کی صورت بدِل گئی اور اُس کا چہرہ سورج کی مانند چمکا اور اُس کی پوشاک نور کی مانند سفید ہو گئی۔» یہ اُس کی الوہیّت کا دیدنی اِظہار تھا۔ جِس طرح کہ پُرانے عہد نامے میں جلالی بادِل خُدا کی حضوری کی عَلامت ہوتا تھا۔ یہ منظر خُداوند یسؔوع کی اُس حالت کی پیشگی جھلک دِکھاتا ہے جو اُس وقت ہو گی جب وُہ بادشاہی قائم کرنے کے لئے دوبارہ آئے گا۔ پھر وُہ قربانی کے برّہ کی صورت میں ظاہر نہیں ہو گا بلکہ یہُوؔداہ کے قبَیلے کا ببر ہو گا۔ جتنے اُس کو دیکھیں گے فوراً پہچان لیں گے کہ یہ خُدا کا بیٹا،‏ بادشاہوں کا بادشاہ اور خُداوندوں کا خُداوند ہے۔

۱۷:‏۳ اُس پہاڑ پر مُو سؔیٰ اور ایلیاہ ظاہر ہوئے۔ وُہ یسؔوع کی آنے والی موت کی باتیں کر رہے تھے جو یروشلؔیم میں ہونے کو تھی (لُوقاؔ ۹:‏۳۰،‏ ۳۱)۔ مُو سؔیٰ اور ایلیاہ پُرانے عہدنامہ کے مُقدسین کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شاید مُو سؔیٰ شریعت کی اور ایلیاہ نبیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر یہ خیال صحیح ہے تو پُرانے عہدنامہ کے دونوں دھارے مسیح کے دُکھوں اور اُن کے بعد کے جلال کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مُو سؔیٰ موت کے راستے سے آسمان پر گیا،‏ اِس لئے وُہ اُن سب کا نمائندہ ہے جن کو ہزار سالہ دَور میں داخل ہونے کے لئے زندہ کیا جائے گا۔ اور ایلیاہ زندہ آسمان پر اُٹھایا گیا،‏ اِس لئے وُہ اُن سب کا نمائندہ ہے جو زندہ اُٹھائے جانے کی راہ سے بادشاہی میں داخل ہوں گے۔

پطرس،‏ یعقوب اور یُوحناؔ تینوں شاگرد نئے عہدنامہ کے مُقدسین کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وُہ اُس ایمان دار یہُودی بقیہ کی جھلک بھی پیش کرتے ہیں جو مسیح کی دُوسری آمد کے وقت زندہ ہو گا اور مسیح کے ساتھ بادشاہی میں داخل ہو گا۔

پہاڑ کے دامن میں جو بھیڑ جمع تھی (آیت ۱۴ بمقابلہ لُوقاؔ ۹:‏۳۷) اُسے غیر قوموں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ وُہ بھی ہزار سالہ بادشاہی کی برکات میں سے حصہ پائیں گی۔

۱۷:‏۴،‏۵ «پطرس» اِس واقعے سے بے حد متاثر ہُوا۔ وُہ تاریخ کا حقیقی شعور رکھتا تھا۔ وُہ اُس جاہ و جلال کو گویا قابو کر لینا چاہتا تھا۔ وُہ بلا توقف رائے دیتا ہے کہ «یہاں تین ڈیرے» یا خیمے بنا لیں۔ ایک یسؔوع کے لئے،‏ «ایک مُو سؔیٰ کے لئے اور ایک ایلیاہ کے لئے۔» وُہ یسؔوع کو اوّل مقام دینے میں بالکُل حق بجانب تھا۔ لیکن غلطی یہ کی کہ اُسے فوقیت نہیں دی۔ یسؔوع کی حیثیت برابری کی نہیں،‏ بلکہ وُہ سب کا خُداوند ہے۔ اُس کو یہ سبق سکھانے کے لئے خُدا باپ نے اُن سب کو ایک «نورانی بادِل » سے گھیر لیا اور اعلان کیا کہ «یہ میرا پیارا بیٹا ہے جِس سے مَیں خوش ہوں اِس کی سنو۔» اُس بادشاہی میں مسیح لاثانی ہو گا۔ وُہ اعلیٰ حضرت شہنشاہ ہو گا جِس کی بات حتمی سند اور بااِختیار ہو گی۔ اور یہی بات موجودہ دَور میں اُس کے پیروکاروں کے دِل وں میں ہونی چاہئے۔

۱۷:‏۶-‏۸ شاگرد نورانی بادِل اور خُدا کی آواز سے دہل گئے اور «منہ کے بل گر» گئے مگر یسؔوع نے اُن سے کہا «اُٹھو۔ ڈرو مت۔» وُہ اُٹھے تو «ایک یسؔوع کے سوا» وُہاں «کِسی کو نہ دیکھا۔» یہی حال بادشاہی میں ہو گا۔

ہ۔ پیش رَو کے بارے میں (۱۷:‏۹-‏۱۳)

۱۷:‏۹ پہاڑ سے اُترتے ہوئے «یسؔوع نے اِنہیں یہ حُکم دیا کہ جب تک ابنِ آدم مُردوں میں سے نہ جی اُٹھے» پہاڑ پر پیش آنے والی باتوں کے بارے میں خاموش رہیں۔ یہُودی رؔومیوں کے جوئے سے رہائی پانے کے لئے اِتنے بے قرار تھے کہ اِنہیں رہائی دِل انے والا کوئی بھی مل جاتا،‏ اُس کا پورے جوش سے خیر مقدم کرتے۔ مگر وُہ اُسے گُناہ سے نجات دہندہ قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ اِسرائیل نے اپنے مسیحِ مَوعُود کو ردّ کر دیا۔ اب اُن کو اُس کے جلال کے رُؤیا کے بارے میں بُتانا بے فائدہ تھا۔ لیکن جی اُٹھنے کے بعد اِس پیغام کی منادی ساری دُنیا میں ہونی تھی۔

۱۷:‏۱۰-‏۱۳ شاگردوں نے ابھی ابھی خُداوند کے قُدرت اور جلال میں آنے کی پیشگی جھلک دیکھی تھی۔ لیکن اُس کا پیش رَو تا حال ظاہر نہیں ہُوا تھا۔ ملاکی نے نبوت کی تھی کہ مسیحِ مَوعُود کی آمد سے پہلے « مَیں ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا» (ملاکی ۴:‏۵،‏۶)۔ چنانچہ «شاگردوں نے» یسؔوع سے اِس بارے میں «پوچھا۔» خُداوند نے اِتفاق کیا کہ «ایلیاہ کا پہلے آنا ضرور ہے» تاکہ سب کُچھ بحال کرے،‏ حالات کی اِصلاح کرے۔ مگر ساتھ ہی سمجھایا کہ «ایلیاہ تو آ چکا۔» صاف ظاہر ہے کہ وُہ «یُوحناؔ بپتسمہ دینے والے کی بابُت» کہہ رہا تھا (دیکھئے آیت ۱۳)۔ یُوحناؔ ایلیاہ تو نہیں تھا مگر «وُہ ایلیاہ کی رُوح اور قوت» میں آیا تھا (لُوقاؔ ۱:‏۱۷)۔ اگر بنی اِسرائیل یُوحناؔ اور اُس کے پیغام کو قبول کر لیتے،‏ تو وُہ اُس کردار کو پورا کرتا جِس کی پیش گوئی ایلیاہ کے حق میں کی گئی تھی (متؔی ۱۱:‏۱۴)۔ لیکن یہ قوم یُوحناؔ کے مشن کی اہمیّت کو نہ سمجھ سکی،‏ اور جیسا دِل چاہا اُس سے سلوک کیا۔ یُوحناؔ کی موت اِس کی عَلامت تھی کہ ابنِ آدم سے کیسا سلوک کیا جائے گا۔ اُنہوں نے پیش رَو کو رَدّ کر دیا۔ وُہ بادشاہ کو بھی ردّ کریں گے۔ شاگرد سمجھ گئے کہ اُس نے «یُوحناؔ بپتسمہ دینے والے کی بابُت کہا ہے۔»

یہ یقینی بات ہے کہ مسیح کی آمدثانی سے پہلے ایک نبی برپا ہو گا جو بنی اِسرائیل کو بادشاہ کی آمد کے لئے تیار کرے گا۔ مگر یہ کہنا ناممکن ہے کہ وُہ خود ایلیاہ ہو گا یا کوئی اَور شخص جو اُس جیسی خدمت کا حامل ہو گا۔

و۔ دُعا اور روزہ کے وسیلے سے خدمت کی تیاری (۱۷:‏۱۴-‏۲۱)

زندگی صِرف پہاڑ کی چوٹی والا تجربہ ہی نہیں ہے۔ روحانی شادمانی کے اوج کے بعد محنت کے دن اور طاقت خرچ کرنے کی گھڑیاں آتی ہیں۔ وقت آتا ہے کہ اِنسان پہاڑ کی چوٹی سے اُترے اور اِنسانی احتیاج کی وادی میں خدمت کرے۔

۱۷:‏۱۴،‏۱۵ پہاڑ کے دامن میں ایک بے قرار اور بے صبر باپ مسیح کا منتظر تھا۔ وُہ «اُس کے آگے گھٹنے ٹیک کر» درد بھری فریاد کرنے لگا کہ میرے بدرُوح گرفتہ بیٹے کو شفا دے۔بیٹے کو «مرگی» کے شدید دَورے پڑتے تھے جن کی وجہ سے وُہ «اکثر آگ میں» اور «اکثر پانی میں بھی» گر پڑتا تھا۔ چنانچہ جل جانا اور تقریباً ڈُوب مرنا اُس کی بدنصیبی میں شامِل تھا۔ وُہ شیطان کے پیدا کردہ دُکھوں کا ایک مُستنَد نمونہ تھا۔

۱۷:‏۱۶ باپ نے «شاگردوں» سے مدد مانگی تھی مگر یہی پتا چلا کہ «اِنسانی مدد عبث ہے» (زبُور ۶۰:‏۱۱؛ ۱۰۸:‏۱۲)۔ وُہ اُسے شفا دینے سے قاصر رہے تھے۔

۱۷:‏۱۷ «اے بے اعتقاد اور کج رَو نسل،‏ مَیں کب تک تمہارے ساتھ رہوں گا؟ کب تک تمہاری برداشت کروں گا؟» یہ بات اُس نے شاگردوں سے کہی۔ اُن میں اِتنا ایمان نہیں تھا کہ مرگی والے لڑکے کو شفا دے سکتے۔ اور اِس لحاظ سے وُہ اپنے زمانے کے یہُودی طبقے کی مانند تھے __ بے اعتقاد اور کج رَو۔

۱۷:‏۱۸ جونہی مرگی والا اُس کے پاس لایا گیا تو «یسؔوع نے اُسے (بدرُوح کو) جھڑکا» اور بیمار «اُسی گھڑی اچھا ہو گیا۔»

۱۷:‏۱۹،‏۲۰ شاگرد اپنی بے بَسی پر حیران تھے۔ چنانچہ «خلوت» میں اُنہوں نے خُداوند سے اِس کی وجہ پوچھی۔ اُس کا جواب بالکُل سیدھا اور صاف تھا۔ «ایمان کی کمی۔» اگر اُن میں «رائی کے دانے» (بیجوں میں سب سے چھوٹا) «کے برابر بھی ایمان» ہوتا تو وُہ «پہاڑ» کو بھی سمندر میں جا پڑنے کا حُکم دے سکتے تھے اور ایسا ہو جاتا۔ بے شک یہاں سمجھنے کی بات ہے کہ سچے ایمان کی بنیاد خُدا کے کِسی حُکم یا وعدہ پر ہوتی ہے۔ اپنی کِسی ترنگ یا لہر کی تشفی کی خاطر کوئی انوکھا یا عجیب کام کرنے کی توقع رکھنا ایمان نہیں بلکہ تکبر اور گستاخی ہے۔ لیکن اگر خُدا کِسی ایمان دار کی کِسی خاص رُخ میں راہنمائی کرتا ہے،‏ یا کِسی کام کا حُکم دیتا ہے تو مسیحی کو ایمان رکھنا چاہئے کہ پہاڑ جیسی بڑی مشکلات معجزانہ طور پر دُور ہو جائیں گی۔ صاحب ِایمان کے لئے کوئی کام ناممکن نہیں ہوتا۔

۱۷:‏۲۱ «یہ قِسم دُعا کے سوا اَور کِسی طرح نہیں نکل سکتی۔» بعض نسخوں میں «دُعا اور روزہ» ہے،‏ لیکن چونکہ اکثر قدیم نسخوں میں «روزہ» کا لفظ موجود نہیں،‏ اِس لئے جدید ترجمے میں بھی اِسے شامِل نہیں کیا گیا۔ البُتہ سنگین صورتِ حال میں دُعا کے ساتھ روزہ رکھنا نہایت موزوں معلوم ہوتا ہے۔

ز۔ یسؔوع شاگردوں کو اپنے پکڑوائے جانے کے لئے تیار کرتا ہے (۱۷:‏۲۲،‏۲۳)

خُداوند یسؔوع دوبارہ بالکُل واضح اور سادہ انداز میں اپنے شاگردوں کو پیشگی خبردار کرتا ہے کہ مَیں قتل کیا جائوں گا۔ لیکن ساتھ ہی فتح کی بات بھی ہے کہ «تیسرے دن زندہ کیا» جائوں گا۔ اگر وُہ اِنہیں اپنی موت کے بارے میں پہلے ہی نہ بُتا دیتا،‏ تو جب موت واقع ہوتی تو وُہ اَور بھی زیادہ پریشان ہو جاتے کہ مسیحِ مَوعُود کے ساتھ جو توقعات وابَستہ تھیں،‏ دُکھ اور ذلت کی موت اُن کے ساتھ مُطابقت نہیں رکھتی۔

فی الحال وُہ اِس بات پر سخت غمگین ہوئے کہ وُہ ہمیں چھوڑ جائے گا اور قتل کیا جائے گا۔ اُنہوں نے اُس کے دُکھ کی پیش گوئی تو سن لی،‏ لیکن لگتا تھا جی اُٹھنے کے وعدے کو سنا ہی نہیں۔

ح۔ پَطرسؔ اور اُس کا اُستاد ٹیکس ادا کرتے ہیں (۱۷:‏۲۴-‏۲۷)

۱۷:‏۲۴،‏۲۵ «کفرنحوم» میں ہیکل کا جزیہ لینے والوں نے پَطرسؔ سے پوچھا کہ کیا تمہارا «اُستاد» وُہ نیم مثقال ادا کرتا ہے جو ہیکل کے اخراجات کے لئے ہر یہُودی سالانہ ادا کرتا ہے؟ پَطرسؔ نے جواب دیا «ہاں،‏ دیتا ہے۔» شاید یہ غلط سوچ رکھنے والا شاگرد مسیح کو پریشانی سے بچانا چاہتا تھا۔

اِس کے بعد جو کُچھ ہُوا،‏ اُس سے خُداوند کے عالمِ کُل ہونے کا پتا چلتا ہے۔ جب پَطرسؔ گھر میں آیا تو خُداوند نے اُس کے بولنے سے پہلے ہی کہا کہ «اے شمعون،‏ تُو کیا سمجھتا ہے؟ دُنیا کے بادشاہ کن سے محصول یا جزیہ لیتے ہیں؟ اپنے بیٹوں سے یا غیروں سے؟» اِس سوال کو اُس زمانے کی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔ بادشاہ رعایا پر محصول اِس لئے عائد کرتا تھا کہ اُس کی حکومت اور گھرانے کے اخراجات پورے ہو سکیِں۔ اِس لئے اپنے خاندان سے محصول وصول نہیں کرتا تھا۔ ہمارے نظامِ حکومت میں حکمران اور اُس کے گھر والوں،‏ سبھوں پر ٹیکس عائد ہوتے ہیں۔

۱۷:‏۲۶ پَطرسؔ نے بالکُل صحیح جواب دیا کہ حکمران «غیروں سے» محصول وصول کرتے ہیں۔ اِس پر یسؔوع نے کہا کہ «پس بیٹے بری ہوئے۔» اِس میں نکتہ یہ تھا کہ ہیکل خُدا کا گھر تھی۔ یسؔوع اُس کا بیٹا ہے۔ اگر وُہ ہیکل کے اخراجات کے لئے خراج دیتا ہے تو گویا اپنے آپ کو خراج ادا کرتا ہے۔

۱۷:‏۲۷ البُتہ غیر ضروری ٹھوکر کھلانے سے بچنے کی خاطر مسیح خُداوند محصول ادا کرنے پر راضی ہُوا۔ لیکن رقم کا بَندوبَست کیسے کرے؟ یہ بات کہیں اَور کبھی درَج نہیں کی گئی کہ یسؔوع اپنے پاس پیسے رکھتا تھا۔ چنانچہ اُس نے پَطرسؔ کو گلیل کی جھیل پر بھیجا اور اُسے کہا کہ جو مچھلی پہلے پکڑی جائے،‏ اُس کا منہ کھولنا «تو ایک مثقال پائے گا۔» چنانچہ پَطرسؔ نے یہ مثقال لے کر آدھا مثقال اپنے لئے اور آدھا مثقال خُداوند یسؔوع کے لئے محصول ادا کیا۔

یہ متحیر کرنے والا مُعجزہ بڑی اِحتیاط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہ ثابُت کرتا ہے کہ مسیح عالمِ کُل ہے۔ اُسے معلوم تھا کہ گلیل کی جھیل کی ساری مچھلیوں میں سے کس کے منہ میں مثقال ہے۔ اُسے معلوم تھا کہ وُہ مچھلی کس مقام پر ہے۔ اور اُسے معلوم تھا کہ یہی پہلی مچھلی ہو گی جِسے پَطرسؔ پکڑے گا۔

اگر یہاں کِسی اِلٰہی اصول کو چوٹ لگتی تو یسؔوع یہ ادائیگی نہ کرتا۔ اخلاقی لحاظ سے اِسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اِس لئے اُس نے ٹھوکر کھلانے کے بجائے ادا کر دینا زیادہ بُہتر سمجھا۔ ایمان دار ہونے کی حیثیت میں ہم شریعت سے آزاد ہیں۔ لیکن جن باتوں میں اخلاقی اصول لاگو نہیں ہوتے،‏ ہمیں دوسروں کے ضمیر کا احترام کرنا چاہئے اور ٹھوکر کھلانے والی کوئی حرکت نہیں کرنی چاہئے۔

کِتابِ مُقدّس

۱۔ پِھر اُس نے اپنے بارہ شاگِردوں کو پاس بُلا کر اُن کو ناپاک رُوحوں پر اِختیار بخشا کہ اُن کو نِکالیں اور ہر طرح کی بِیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دُور کریں۔
۲۔ اور بارہ رسُولوں کے نام یہ ہیں۔ پہلا شمعُوؔن جو پطرسؔ کہلاتا ہے اور اُس کا بھائی اندرؔیاس۔ زبدؔی کا بیٹا یعقُوبؔ اور اُس کا بھائی یُوؔحنّا۔
۳۔ فِلِپُّس اور برتُلماؔئی۔ توما اور متّی محصُول لینے والا۔
۴۔ حلفئی کا بیٹا یعقُوبؔ اور تدّؔیُ۔ شمعُوؔن قنانی اور یہُوداؔہ اِسکریُوتی جِس نے اُسے پکڑوا بھی دِیا۔
۵ ۔اِن بارہ کو یِسُوعؔ نے بھیجا اور اُن کو حُکم دے کر کہا۔ غَیر قَوموں کی طرف نہ جانا اور سامرِیوں کے کِسی شہر میں داخِل نہ ہونا۔
۶۔ بلکہ اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہُوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔
۷۔ اور چلتے چلتے یہ مُنادی کرنا کہ آسمان کی بادشاہی نزدِیک آ گئی ہے۔
۸۔ بِیماروں کو اچّھا کرنا۔ مُردوں کو جِلانا۔ کوڑِھیوں کو پاک صاف کرنا۔ بدرُوحوں کو نِکالنا۔ تُم نے مُفت پایا مُفت دینا۔
۹۔ نہ سونا اپنے کمربند میں رکھنا نہ چاندی نہ پَیسے۔
۱۰۔ راستہ کے لِئے نہ جھولی لینا نہ دو دو کُرتے نہ جُوتِیاں نہ لاٹھی کیونکہ مزدُور اپنی خُوراک کا حق دار ہے۔
۱۱۔ اور جِس شہر یا گاؤں میں داخِل ہو دریافت کرنا کہ اُس میں کَون لائِق ہے اور جب تک وہاں سے روانہ نہ ہو اُسی کے ہاں رہنا۔
۱۲۔ اور گھر میں داخِل ہوتے وقت اُسے دُعایِ خَیر دینا۔اور گھر میں داخِل ہوتے وقت اُسے دُعایِ خَیر دینا۔
۱۳۔ اور اگر وہ گھر لائِق ہو تو تُمہارا سلام اُسے پُہنچے اور اگر لائِق نہ ہو تو تُمہارا سلام تُم پر پِھر آئے۔
۱۴۔ اور اگر کوئی تُم کو قبُول نہ کرے اور تُمہاری باتیں نہ سُنے تو اُس گھر یا اُس شہر سے باہر نِکلتے وقت اپنے پاؤں کی گرد جھاڑ دینا۔
۱۵۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ عدالت کے دِن اُس شہر کی نِسبت سدُوؔم اور عمُورہ کے عِلاقہ کا حال زِیادہ برداشت کے لائِق ہو گا۔
۱۶۔ دیکھو مَیں تُم کو بھیجتا ہُوں گویا بھیڑوں کو بھیڑِیوں کے بیچ میں۔ پس سانپوں کی مانِند ہوشیار اور کبُوتروں کی مانِند بے آزار بنو۔
۱۷۔ مگر آدمِیوں سے خبردار رہو کیونکہ وہ تُم کو عدالتوں کے حوالہ کریں گے اور اپنے عِبادت خانوں میں تُم کو کوڑے ماریں گے۔
۱۸۔ اور تُم میرے سبب سے حاکِموں اور بادشاہوں کے سامنے حاضِر کِئے جاؤ گے تاکہ اُن کے اور غَیر قَوموں کے لِئے گواہی ہو۔
۱۹۔ لیکن جب وہ تُم کو پکڑوائیں تو فِکر نہ کرنا کہ ہم کِس طرح کہیں یا کیا کہیں کیونکہ جو کُچھ کہنا ہو گا اُسی گھڑی تُم کو بتایا جائے گا۔
۲۰۔ کیونکہ بولنے والے تُم نہیں بلکہ تُمہارے باپ کا رُوح ہے جو تُم میں بولتا ہے۔
۲۱۔ بھائی کو بھائی قتل کے لِئے حوالہ کرے گا اور بیٹے کو باپ۔ اور بیٹے اپنے ماں باپ کے برخِلاف کھڑے ہو کر اُن کو مروا ڈالیں گے۔
۲۲۔ اور میرے نام کے باعِث سے سب لوگ تُم سے عداوت رکھّیں گے مگر جو آخِر تک برداشت کرے گا وُہی نجات پائے گا۔
۲۳۔ لیکن جب تُم کو ایک شہر میں ستائیں تو دُوسرے کو بھاگ جاؤ کیونکہ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ تُم اِسرائیلؔ کے سب شہروں میں نہ پِھر چُکو گے کہ اِبنِ آدمؔ آ جائے گا۔
۲۴۔ شاگِرد اپنے اُستاد سے بڑا نہیں ہوتا اور نہ نَوکر اپنے مالِک سے۔
۲۵ ۔شاگِرد کے لِئے یہ کافی ہے کہ اپنے اُستاد کی مانِند ہو۔ اور نَوکر کے لِئے یہ کہ اپنے مالِک کی مانِند۔ جب اُنہوں نے گھر کے مالِک کو بَعَلزؔبُول کہا تو اُس کے گھرانے کے لوگوں کو کیوں نہ کہیں گے؟
۲۶۔ پس اُن سے نہ ڈرو کیونکہ کوئی چِیز ڈھکی نہیں جو کھولی نہ جائے گی اور نہ کوئی چِیز چِھپی ہے جو جانی نہ جائے گی۔
۲۷۔ جو کُچھ مَیں تُم سے اندھیرے میں کہتا ہُوں اُجالے میں کہو اور جو کُچھ تُم کان میں سُنتے ہو کوٹھوں پر اُس کی مُنادی کرو۔
۲۸۔ جو بدن کو قتل کرتے ہیں اور رُوح کو قتل نہیں کر سکتے اُن سے نہ ڈرو بلکہ اُسی سے ڈرو جو رُوح اور بدن دونوں کو جہنّم میں ہلاک کر سکتا ہے۔
۲۹۔ کیا پَیسے کی دو چِڑِیاں نہیں بِکتِیں؟ اور اُن میں سے ایک بھی تُمہارے باپ کی مرضی بغَیر زمِین پر نہیں گِر سکتی۔
۳۰۔ بلکہ تُمہارے سر کے بال بھی سب گِنے ہُوئے ہیں۔
۳۱۔ پس ڈرو نہیں۔ تُمہاری قدر تو بُہت سی چِڑِیوں سے زِیادہ ہے۔
۳۲۔ پس جو کوئی آدمِیوں کے سامنے میرا اِقرار کرے گا مَیں بھی اپنے باپ کے سامنے جو آسمان پر ہے اُس کا اِقرار کرُوں گا۔
۳۳۔ مگر جو کوئی آدمِیوں کے سامنے میرا اِنکار کرے گا مَیں بھی اپنے باپ کے سامنے جو آسمان پر ہے اُس کا اِنکار کرُوں گا۔
۳۴۔ یہ نہ سمجھو کہ مَیں زمِین پر صُلح کرانے آیا ہُوں۔ صُلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہُوں۔
۳۵۔ کیونکہ مَیں اِس لِئے آیا ہُوں کہ آدمی کو اُس کے باپ سے اور بیٹی کو اُس کی ماں سے اور بہُو کو اُس کی ساس سے جُدا کر دُوں۔
۳۶۔ اور آدمی کے دُشمن اُس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔
۳۷۔ جو کوئی باپ یا ماں کو مُجھ سے زیادہ عزِیز رکھتا ہے وہ میرے لائق نہیں اور جو کوئی بیٹے یا بیٹی کو مُجھ سے زیادہ عزِیز رکھتا ہے وہ میرے لائق نہیں۔
۳۸۔ اور جو کوئی اپنی صلِیب نہ اُٹھائے اور میرے پِیچھے نہ چلے وہ میرے لائق نہیں۔
۳۹۔ جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے اُسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطِر اپنی جان کھوتا ہے اُسے بچائے گا۔
۴۰۔ جو تُم کو قبُول کرتا ہے وہ مُجھے قبُول کرتا ہے اور جو مُجھے قبُول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبُول کرتا ہے۔
۴۱۔ جو نبی کے نام سے نبی کو قبُول کرتا ہے وہ نبی کا اجر پائے گا اور جو راست باز کے نام سے راست باز کو قبُول کرتا ہے وہ راست باز کا اَجر پائے گا۔
۴۲۔ اور جو کوئی شاگِرد کے نام سے اِن چھوٹوں میں سے کِسی کو صِرف ایک پِیالہ ٹھنڈا پانی ہی پِلائے گا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں وہ اپنا اجر ہرگِز نہ کھوئے گا۔