۵۔ مسیحِ مَوعُود کی قُدرت اور فضل کے مُعجزات اور لوگوں پر اُن کے مُختلفِ اَثرات (۸:۱-۹:۳۴)
ابواب ۸-۱۲ میں خُداوند یسؔوع اِسرائیلی قوم کے سامنے ناقابلِ تردید ثبوت پیش کرتا ہے کہ مَیں ہی مسیحِ مَوعُود ہوں جِس کے بارے میں انبیا نے لِکھا تھا۔ مثال کے طور پر یسَعیاہ نے لِکھا تھا کہ مسیحِ مَوعُود اندھوں کی آنکھیں کھولے گا، بہروں کے کان کھولے گا، لنگڑوں کو اچھا کرے گا اور گونگوں کو زبان دے گا (یسَعیاہ ۳۵:۵،۶)۔ یسؔوع نے یہ ساری پیش گوئیاں پُوری کر کے ثابُت کر دیا کہ مَیں ہی مسیحِ مَوعُود ہوں۔ اِسرائیلی اپنے صحائف کے حوالوں سے دیکھتے تو اِنہیں شناخت کرنے میں ذرّہ بھر دِقت نہ ہوتی کہ یہی مسیح ہے۔ مگر اُس شخص سے بڑھ کر کوئی اَندھا نہیں ہوتا جو دیکھنا ہی نہ چاہے۔
اِن ابواب میں جو واقعات درَج ہیں، وُہ ایک مَوضُوعاتی ترتِیب سے پیش کئے گئے ہیں۔ توارِیخی ترتِیب کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔ یہ خُداوند کی خدمت کی مکمل رُوداد نہیں ہے بلکہ اُن واقعات کو پیش کیا گیا ہے جن کو رُوح القُدس نے منتخب کیا تاکہ نجات دہندہ کی زندگی کے چیدہ چیدہ خصائص اور پہلوؤں کو نمایاں کیا جائے۔ اِس میں مُندرَج ہ ذیل باتیں شامِل ہیں:
- بیماریوں، بدروحوں، موت اور عناصرِ قُدرت پر مسیح کا کامِل اِختیار۔
- اُس کا یہ دعویٰ کہ مَیں اُن لوگوں کی زندگی کا کامِل خُداوند اور مالک ہوں جو میرے پیچھے آنا چاہیں۔
- بنی اِسرائیل اور خصُوصاً مذہبی لیڈروں کی طرف سے اُسے ردّ کرنے کی شدت میں مسلسل اضافہ۔
- غیر اقوام نے انفرادی طور پر اُسے شوق سے نجات دہندہ تسلیم کیا۔
الف۔ کوڑھ پر قُدرت (۸:۱-۴)
۸:۱ اگرچہ یسؔوع کی تعلیم اِنقلابی اور اِنتہا درَج ے کو پہنچی ہوئی تھی، لیکن اُس میں دوسروں کو متاثر کرنے اور اپنی طرف کھینچنے کی قوت تھی، یہاں تک کہ «بُہت سی بھیڑ» اُس کے پیچھے ہو لیتی تھی۔ سچائی اپنا ثبوت آپ ہوتی ہے۔ لوگ اُسے پسند کریں یا نہ کریں لیکن کبھی اُسے بھلا نہیں سکتے۔
۸:۲ ایک کوڑھی نے اُسے سجدہ کیا اور شفا کے لئے اِلتجا کرنے لگا۔ یہ کوڑھی ایمان رکھتا تھا کہ خُداوند مجھے شفا دے سکتا ہے اور سچے ایمان کو کبھی مایوسی نہیں ہوتی۔ کوڑھ گُناہ کی نہایت عمدہ تصویر پیش کرتا ہے، کیونکہ یہ کراہیت پیدا کرتا ہے۔ یہ تباہ کن اور ہلاکت آفرین مرض ہے۔ دوسروں کو لگ جاتا ہے اور بعض قِسم کا کوڑھ اِنسانی طور پر ناقابلِ علاج ہوتا ہے۔
۸:۳ کوڑھی اچھوت ہوتے تھے۔ اگر کوئی اُس سے چھو جاتا تو اُسے بھی کوڑھ لگ جانے کا خطرہ ہوتا تھا۔ اور جہاں تک یہُودی وں کا تعلق ہے، کوڑھی کو چھونے والا شخص رسمی طور پر ناپاک ہو جاتا تھا۔ وُہ بنی اِسرائیل کی جماعت کے ساتھ مل کر عبادت نہیں کر سکتا تھا۔ مگر جب یسؔوع نے اُس کوڑھی کو «چھوا» اور شفا بخش کلمات کہے تو «وُہ فوراً کوڑھ سے پاک صاف ہو گیا۔» ہمارا نجات دہندہ گُناہ سے پاک صاف کرنے کی قُدرت رکھتا ہے اور پاک صاف ہونے والا شخص عبادت کرنے کا اہل ہوتا ہے۔
۸:۴ متؔی کی اِنجیل میں یہ پہلا موقع ہے کہ یہ بات قلم بَند کی گئی ہے کہ جِس شخص کے لئے مُعجزہ ہُوا یسؔوع نے اُسے «حُکم دیا» کہ «کِسی سے نہ کہنا» (مزید دیکھئے ۹:۳۰؛ ۱۲:۱۶؛ ۱۷:۹ مرقسؔ ۵:۴۳؛ ۷:۳۶؛ ۸:۲۶)۔ اِس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وُہ جانتا تھا کہ بُہت سے لوگ صِرف رؔومی جوئے سے خلاصی حاصل کرنا چاہتے اور اِسی مقصد سے مجھے بادشاہ بنانے کی کوشِش میں ہیں۔ مگر وُہ جانتا تھا کہ اِسرائیلی قوم ابھی تک توبہ کی طرف مائل نہیں اور کہ یہ قوم میری قیادت کو ردّ کرے گی اور یہ بھی کہ مجھے پہلے صلیب تک پہنچنا ضرور ہے۔
موسوی شریعت کے مطابق «کاہن» معالج یا طبیب کے فرائض بھی سرانجام دیتا تھا۔ جو کوئی کوڑھی پاک صاف ہوتا یعنی شفا پاتا تھا تو اُس کا فرض تھا کہ نذر لے کر کاہن کے پاس حاضر ہو تاکہ اُس کے پاک ہونے کا اِعلان کیا جائے (احبار ۱۴:۴-۶)۔ بے شک کوئی نادر موقع ہی ہوتا تھا کہ کوئی کوڑھی شفایاب ہوتا تھا۔ لیکن یہ موقع اِتنا نادر تھا کہ کاہن کو چوکنا ہو کر تفتیش کرنی چاہئے تھی کہ کیا مسیحِ مَوعُود واقعی برپا ہو گیا ہے۔ مگر کتابِ مُقدس میں کِسی ایسے ردِّ عمل کا بیان نہیں۔ یسؔوع نے کوڑھی سے کہا کہ اِس معاملے میں شریعت کی تعمیل کرے۔
اِس معجزے کے روحانی مضمرات واضح ہیں۔ مسیحِ مَوعُود اِسرائیل کے پاس قوم کی بیماری سے شفا دینے کی قُدرت لے کر آیا تھا اور یہ مُعجزہ اُس نے ایک ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن یہ قوم ابھی اپنے مخلصی دینے والے کے لئے تیار نہ تھی۔
ب۔ فالج پر قُدرت (۸:۵-۱۳)
۸:۵،۶ یہاں ایک غیر قوم «صوبہ دار» کے ایمان اور یہُودی وں کے مسیح کو قبول نہ کرنے میں زبردست تقابل ہے۔ اگر اِسرائیل اپنے بادشاہ کو تسلیم نہیں کرے گا تو حقیر و ناچیز غیر یہُودی تو تسلیم کریں گے۔ صوبہ دار رؔومی فوج کا ایک افسر تھا جو تقریباً ایک سو آدمیوں پر مامور ہوتا تھا۔ یہ صوبہ دار کفرنحوم یا اُس کے قرب و جوار میں تعینات تھا۔ وُہ یسؔوع کے پاس «آیا» اور اپنے «خادم» کے لئے شفا کی درخواست کی۔ یہ خادم نہایت تکلیف دِہ فالج کا شکار تھا۔ یہاں ہمیں غیر معمولی ہمدردی کا مظاہرہ نظر آتا ہے کیونکہ اکثر افسر اپنے خادموں کی قطعاً پروا نہیں کرتے تھے۔
۸:۷-۹ جب خُداوند یسؔوع نے ساتھ جا کر اُسے شفا دینے کی رضامندی کا اِظہار کیا تو صوبہ دار نے وُہ بات کی جِس سے اُس کے ایمان کی سچائی اور گہرائی کا پتا چلتا ہے۔ اُس نے کہا، « مَیں اِس لائق نہیں کہ تُو میری چھت کے نیچے آئے۔» اور اِس کی ضُرورتبھی نہیں کیونکہ تُو صِرف زبان سے کہہ دینے سے میرے خادم کو شفا دے سکتا ہے۔ مَیں «اختیار» کی حقیقت کو جانتا اور سمجھتا ہوں۔ مَیں اپنے افسرانِ بالا کے احکام پر عمل کرتا ہوں اور اپنے ماتحتوں کو احکام دیتا ہوں اور وُہ مانتے ہیں۔ تیرے الفاظ میرے خادم کی بیماری پر اِس سے کہیں بڑھ کر اِختیار رکھتے ہیں۔
۸:۱۰-۱۲ یسؔوع نے اُس غیر قوم شخص کے ایمان پر «تعجب کیا۔» پاک کلام میں صِرف دو ایسے موقعے بیان ہوئے ہیں جب یسؔوع نے تعجب کیا۔ دوسرا موقع وُہ تھا جب یسؔوع نے یہُودی وں کی بے اعتقادی پر تعجب کیا (مرقسؔ ۶:۶)۔ اُس کو «ایسا (زبردست) ایمان» خُدا کی برگزیدہ قوم «اِسرائیل میں بھی نہیں» ملا تھا۔ اِسی بات کی بنیاد پر اُس نے بُتایا کہ میری آنے والی بادشاہی میں غیر اقوام دُنیا کے دُور و نزدیک سے جوق در جوق آ کر شامِل ہوں گی اور یہُودی قوم کے ایمان دار آبا و اجداد کے ساتھ رفاقت و شراکت سے لطف اندوز ہوں گی جب کہ «بادشاہی کے بیٹے باہر اندھیرے میں ڈالے جائیں گے» جہاں وُہ روئیں اور دانت پیسیں گے۔ «بادشاہی کے بیٹے» وُہ ہیں جو پیدائشی یہُودی تھے اور جو خُدا کو اپنا بادشاہ تسلیم کرنے کا اِقرار تو کرتے تھے لیکن دِل سے کبھی ایمان نہ لائے۔ یہ اصول تو آج بھی کار فرما ہے۔ بُہت سے لوگوں کو مسیحی گھروں میں پیدا ہونے اور پرورش پانے کا شرف حاصل ہے۔ لیکن وُہ مسیح کو ردّ کرتے ہیں۔ اِس لئے وُہ جہنم میں ہلاک ہوں گے، جب کہ جنگلوں میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے والے وحشی لوگ آسمانی جلال اور شان و شوکت میں داخل ہوں گے، اِس لئے کہ وُہ اِنجیل کے پیغام پر ایمان لاتے ہیں۔
۸:۱۳ «یسؔوع نے صوبہ دار سے کہا، جا، جیسا تُو نے اِعتقاد کیا تیرے لئے ویسا ہی ہو۔» خُدا کی ذات پر ایمان جتنا مضبوط ہو گا اُسی تناسب سے اِس کا اَجر ملے گا۔ «اور اُسی گھڑی خادم نے شفا پائی» حالانکہ یسؔوع بُہت فاصلے پر تھا۔ اِس واقعے میں ہمیں مسیح کی موجودہ وقت کی خدمت نظر آتی ہے۔ وُہ غیر مستحق غیر اقوام کو گُناہ کے فالج سے شفا دے رہا ہے، حالانکہ جِسمانی طور پر خود موجود نہیں۔
ج۔ بُخار پر قُدرت (۸:۱۴،۱۵)
«یسؔوع نے پَطرسؔ کے گھر میں آکر اُس کی ساس کو تپ میں پڑی دیکھا۔ اُس نے اُس کا ہاتھ چھوا اور تَپ اُس پر سے اُتر گئی۔» عام طور پر بخار یا تپ اِنسان کو بُہت کمزور کر کے رکھ دیتی ہے، لیکن یہ شفا اِتنی فوری اور کامِل تھی کہ وُہ بَستر سے اُٹھ کر یسؔوع کی «خدمت کرنے لگی۔» یہ شکر گزاری کا نہایت موزوں اِظہار تھا کہ نجات دہندہ نے میرے لئے اِتنا بڑا کام کیا ہے۔ ہمیں بھی جب شفا ملتی ہے تو اُس بزرگ خاتون کی تقلید کرنی چاہئے اور نئی مخصوصیت اور نئے زور کے ساتھ اُس کی خدمت کرنی چاہئے۔
د۔ بدروحوں اور طرح طرح کی بیماریوں پر قُدرت (۸:۱۶،۱۷)
«جب شام ہوئی» اور سبُت گزر گیا (دیکھئے مرقسؔ ۱:۲۱-۳۴) تو لوگ بُہت سے افراد کو اُس کے پاس لائے «جن میں بدروحیں تھیں۔» یہ قابلِ رحم افراد وُہ تھے جن کے اندر بدروحیں بَستی اور اُن کو کنٹرول کرتی تھیں۔ کئی دفعہ تو ایسے افراد فوق البشر عِلم اور قوت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ کئی دفعہ بدروحیں اُن کو بے حد تکلیف اور اذیت دیتی تھیں۔ اُن کا رویہ بعض اوقات پاگلوں جیسا ہوتا تھا، لیکن جِسمانی یا ذہنی بیماری کے باعث نہیں بلکہ بدروحوں کی وجہ سے۔ یسؔوع نے اُن بدروحوں کو «زُبان ہی سے کہہ کر نکال دیا۔» مزید برآں اُس نے «سب بیماروں کو اچھا کر دیا۔» اِس طرح یسَعیاہ ۵۳:۴ کی وُہ پیش گوئی پُوری ہوئی کہ «اُس نے آپ ہماری کمزوریاں لے لیں اور بیماریاں اُٹھا لیں۔» ایمان سے شفا دینے والے اکثر آیت ۱۷ کو اِس بات کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں کہ شفا کفارے میں ہے اِس لئے جِسمانی شفا ایک ایسی چیز ہے جِسے ایمان دار ایمان کی بنیاد پر مانگ سکتا، بلکہ دعوے کے ساتھ مانگ سکتا ہے۔ لیکن یہاں خُدا کا رُوح نبوت کا اِطلاق ہمارے نجات دہندہ کی زمین پر شفا دینے کی خدمت پر کرتا ہے نہ کہ صلیب پر اُس کے کام پر۔
اب تک ہم نے اِس باب میں چار معجزوں پر غور کیا ہے جو کہ مُندرَج ہ ذیل ہیں:
- یہُودی کوڑھی کو شفا دینا۔ یسؔوع موقعے پر موجود تھا۔
- صوبے دار کے خادم کو شفا دینا۔ یسؔوع موقعے سے دُور تھا۔
- پَطرسؔ کی ساس کو شفا دینا۔ یسؔوع گھر میں موجود تھا۔
- اُن سارے افراد کو شفا دینا جو بدروحوں کے قبضے میں تھے۔ یسؔوع وُہاں موجود تھا۔
گائبلین (Gaebelein) کہتا ہے کہ یہ مُعجزات ہمارے خُداوند کی خدمت کے چار مراحل کی مثال پیش کرتے ہیں:
- اپنی پہلی آمد کے موقعے پر اپنی قوم اِسرائیل میں خدمت کرتا ہے۔
- غیر قوموں کا دَور۔ مسیح غیر حاضر ہے۔
- دُوسری آمد۔ جب وُہ گھر میں داخل ہو گا، اِسرائیل کے ساتھ اپنا تعلق بحال کرے گا اور بیمار دُخترِ صیون کو شفا دے گا۔
- ہزار سالہ بادشاہی، جب سب بیمار اور بدروحوں کے ستائے ہوئے لوگ شفا پائیں گے۔
یہ مُعجزات کے وسیلے سے مسیح کی تعلیم کے ارتقا کا ایک نہایت دِل چسپ تجزیہ ہے۔ اِس سے ہمیں ہوشیار اور چوکنا ہو جانا چاہئے کہ پاک صحائف میں بُہت گہرے معانی بھی پوشیدہ ہیں۔ لیکن ساتھ ہی خبردار رہیں کہ تشریح کے اِس طریقے کو اِنتہا تک نہ لے جائیں کہ متن پرمضحکہ خیز تفسیر ٹھونسنے لگیں۔
ہ۔ اِنسانی اِنکار کا مُعجزہ (۸:۱۸-۲۲)
ہم نے مسیح کو بیماریوں اور بدروحوں پر اپنا اِختیار اِستعمال کرتے دیکھا ہے۔ مگر جب اُس کا واسطہ عورتوں اور مردوں سے پڑتا ہے تو اُسے مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ اِنسانی اِنکار کا مُعجزہ ہے۔
۸:۱۸-۲۰ یسؔوع کفر نحوم سے گلیل کی جھیل کو پار کر کے مشرق کی طرف جانے کی تیاریاں کر رہا تھا کہ اِتنے میں ایک فقیہ جِسے اپنے آپ پر بُہت اِعتماد اور مان تھا آگے بڑھا اور وعدہ کرنے لگا کہ «جہاں کہیں تُو جائے گا مَیں تیرے پیچھے چلوں گا»۔ مسیح کے جواب نے اُسے چیلنج کیا کہ پہلے قیمت کا حساب لگا لے کیونکہ یہ خود اِنکاری کی زندگی ہے۔ « لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہُوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر ابنِ آدم کے لئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں۔» اپنی علانیہ خدمت کے دوران اُس کا اپنا کوئی گھر نہ تھا۔ تاہم ایسے گھر ضرور موجود تھے جہاں بطور مہمان اُس کا خیر مقدم کیا جاتا تھا اور عام طور سے اُسے سونے کو جگہ مل جاتی تھی۔ اُس کی بات کا اصل مطلب روحانی ہے۔ یہ دُنیا اُس کو حقیقی اور دائمی آرام فراہم نہ کر سکی۔ اُس کے سپرد ایک کام تھا اور جب تک یہ کام پورا نہ ہو جاتا وُہ آرام نہیں کر سکتا تھا۔ یہی حال اُس کے پیروکاروں کا ہے۔ یہ دُنیا اُن کے آرام کی جگہ نہیں ہے __ یا کم سے کم ہونی نہیں چاہئے۔
۸:۲۱ «ایک اَور شاگرد» بھی بُہت اچھا اِرادہ رکھتا تھا۔ اُس نے بھی یسؔوع کی پیروی کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن اُس کے نزدیک ایک کام تھا جو مسیح کے پیچھے ہو لینے پر سبقت رکھتا تھا۔ «خُداوند مجھے اِجازت دے کہ پہلے جا کر اپنے باپ کو دَفن کروں۔» اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آیا اُس وقت اُس کا باپ مر چکا تھا یا نہیں۔ بنیادی مسئلہ تو متضاد الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ «خُداوند مجھے … پہلے»۔ اُس نے خود کو مسیح سے پہلے رکھا۔ یہ بات بالکُل موزوں و مناسب ہے کہ اِنسان اپنے باپ کی اچھی طرح تجہیز و تدفین کرے۔ لیکن یہ بات اُس وقت غلط ہو جاتی ہے جب اُسے نجات دہندہ کی بلاہٹ پر فوقیت دی جائے۔
۸:۲۲ یسؔوع نے اُسے جواب دیا کہ « تُو میرے پیچھے چل اور مُردوں کو اپنے مُردے دفن کرنے دے۔» مراد ہے کہ روحانی طور پر مُردہ لوگوں کو اپنے جِسمانی طور پر مُردہ لوگوں کو دَفن کرنے دے۔ یہ کام تو ایک غیر نجات یافتہ شخص بھی کر سکتا ہے مگر ایک کام ایسا بھی ہے جِسے صِرف تُو ہی کر سکتا ہے۔ اپنی زندگی کی بُہترین صلاحیتیں اُس کام میں لگاؤ جو دائمی ہے۔ یہ تو نہیں بُتایا گیا کہ اِن دو شاگردوں کا ردِعمل کیا تھا، مگر معلوم یہی ہوتا ہے کہ وُہ مسیح کو چھوڑ کر چلے گئے تاکہ دُنیا میں آرام و آسائش کا مقام حاصل کریں اور غیر ضروری اور معمولی چیزوں سے دامن بھرتے رہیں۔ اُن پر فتوے دینے اور اُن کی مذمت کرنے سے پہلے ہم کو شاگردیت کی اُن دو شرائط پر اپنے آپ کو پرکھنا چاہئے جو کلام کے اِس حصے میں یسؔوع نے بیان کی ہیں۔
و۔ عناصرِ فطرت پر قُدرت (۸:۲۳-۲۷)
گلیل کی جھیل فوری اور شدید طوفانوں کے لئے مشہور ہے۔ شمال میں دریائے یردن کی وادی سے ہُوائیں تیزی کے ساتھ نکلتی ہیں اور تنگ گھاٹی میں اُن کی رَفتار اَور بھی تیز ہو جاتی ہے۔ جب جھیل سے ٹکراتی ہیں تو ہر قِسم کی کشتی رانی نہایت خطرناک ہو جاتی ہے۔
زیر نظر موقعے پر یسؔوع جھیل کو مغرب سے مشرق کی طرف عبور کر رہا تھا۔ جب طوفان آیا تو وُہ کشتی میں «سوتا تھا»۔ خوف زَدہ شاگردوں نے اُسے جگایا اور مدد کے لئے دیوانہ وار التجائیں کرنے لگے۔ اُن کے حق میں اِتنی بات قابلِ تعریف ہے کہ وُہ صحیح شخص کے پاس آئے۔ پہلے تو یسؔوع نے اُن کی کم اِعتقادی پر اِنہیں جھڑکا۔ پھر اُس نے «ہُوا اور پانی کو ڈانٹا»۔ فوراً «بڑا اَمن ہو گیا» اور «لوگ تعجب کر کے کہنے لگے» کہ عناصرِ فطرت بھی ہمارے «معمولی» سے مسافر کا حُکم مانتے ہیں۔ وُہ نہیں سمجھتے تھے کہ آج اِس کشتی میں کائنات کا مالک اور سنبھالنے والا ہمارے ساتھ موجود ہے!
سارے شاگردوں کو جلدی یا بہ دیر طوفانوں کا سامنا ہوتا ہے۔ کئی دفعہ محسوس ہوتا ہے کہ لہریں ہم کو نگل جائیں گی۔ مگر یہ جاننا کیسی اِطمینان بخش بات ہے کہ یسؔوع ہمارے ساتھ کشتی میں ہے۔ جِس جہاز پر سمندر اور خشکی اور آسمانوں کا مالک موجود ہو اُسے کوئی طوفان نگل نہیں سکتا اور کوئی ہستی نہیں جو خُداوند یسؔوع کی طرح زندگی کے طوفانوں کو تھما سکے!
ز۔ یسؔوع دو آسیب زَدہ آدمیوں کو شفا دیتا ہے (۸:۲۸-۳۴)
۸:۲۸ گلیل کی جھیل کے مشرقی کنارے پر «گدرینیوں کا ملک» تھا۔ جب یسؔوع وُہاں پہنچا تو اُسے «دو» ایسے بد رُوح گرفتہ آدمی ملے جو غار نُما «قبروں» میں رہتے تھے اور اِتنے «تند مزاج» تھے کہ اُس علاقے میں سے ہو کر گزرنا نہایت خطرناک تھا۔
۸:۲۹-۳۱ جب یسؔوع وُہاں پہنچا تو بدروحیں چِلّا اُٹھیں «اے خُدا کے بیٹے (یسؔوع ) ہمیں تجھ سے کیا کام؟کیا تُو اِس لئے یہاں آیا ہے کہ وقت سے پہلے ہمیں عذاب میں ڈالے؟» وُہ جانتی تھیں کہ یسؔوع کون ہے اور کہ بالآخر وُہ ہمیں ہلاک کرے گا۔ اِس لحاظ سے اُن کا عِلم الٰہی آج کے بُہت سے آزاد خیال عِلما کی نسبُت زیادہ صحیح تھا۔ اُن بدروحوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ ہمیں اِن آدمیوں میں سے نکال دے گا۔ اِس لئے اُنہوں نے درخواست کی «ہمیں سؤروں کے غول میں بھیج دے۔» یہ غول نزدیک ہی چر رہا تھا۔
۸:۳۲ خاصی عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ یسؔوع نے اُن کی درخواست منظور کر لی۔ کامِل اِختیار کے مالک خُداوند نے بدروحوں کی درخواست کیوں منظور کر لی؟ اِس بات کو سمجھنے کے لئے ہمیں دو حقیقتوں کو یاد رکھنے کی ضُرورتہے۔ اوّل، بدروحیں بے بدنی کی کیفیت سے بُہت کتراتی ہیں۔ وُہ اِنسانوں کے اندر سکونت رکھنا چاہتی ہیں۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو جانوروں یا دُوسری مخلوق میں رہنا پسند کرتی ہیں۔ دوم، بدروحوں کا ہمیشہ مقصد ہلاک کرنا ہوتا ہے۔ اگر یسؔوع اُن کو اُن آسیب زَدہ افراد میں سے صِرف نکال دیتا تو یہ اُس علاقے کے لوگوں کے لئے ایک مصیبُت بن جاتیں۔ اُن کو سؤروں میں داخل ہونے کی اِجازت دے کر یسؔوع نے اِنہیں دوسرے آدمیوں اور عورتوں میں داخل ہونے سے روک دیا اور اُن کی تباہ کن یا ہلاکت خیز طاقت کو صِرف جانوروں تک محدود کر دیا۔ ابھی وقت نہیں آیا تھا کہ خُداوند اُن کو بالآخر ہلاک کر دیتا۔ جونہی وُہ سؤروں میں گھس گئیں «سارا غول کڑاڑے (کنارے) پر سے جھپٹ کر جھیل میں جا پڑا اور پانی میں ڈُوب مرا۔»
اِس واقعے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بدروحوں کا آخری مقصد تباہ یا ہلاک کرنا ہوتا ہے۔ اور یہ خوف ناک امکان بھی سامنے آتا ہے کہ دو آدمیوں میں اِتنی تعداد میں بدروحیں بَس سکتی ہیں جن سے کوئی دوُہزار سؤر ہلاک ہو سکتے ہیں (مرقسؔ ۵:۱۳)۔
۸:۳۳،۳۴ سُؤر چرانے والے اِس واقعے کی خبر لے کر شہر کو دوڑے۔ نتیجہ یہ ہُوا کہ شہر کے لوگ سخت پریشان ہوئے اور یسؔوع کے پاس آ کر «منت کی کہ ہماری سرحدوں سے باہر چلا جا۔» اُس وقت سے یسؔوع پر نکتہ چینی کی جاتی ہے کہ اُس نے سؤروں کو بلا ضُرورتمروا دیا اور اُسے باہر چلے جانے کو کہا جاتا ہے کیونکہ وُہ جانوروں کی نسبُت ِاِنسانی جانوں کی زیادہ قدر کرتا ہے۔ اگر گراسینی یہُودی تھے تو سؤر پالنا اُن کے لئے خلافِ شرع تھا۔ خیر، یہُودی تھے یا غیر یہُودی بہرحال اُن کی غلطی یہ ہے کہ وُہ سؤروں کے غول کو دو اِنسانوں کے شفا پانے سے زیادہ اہم اور قیمتؔی سمجھتے تھے۔
ح۔ گُناہ معاف کرنے کا اِختیار (۹:۱-۸)
۹:۱ گراسینیوں نے یسؔوع کو ردّ کر دیا، چنانچہ وُہ گلیل کی جھیل کو دوبارہ عبور کر کے کفرنحوم میں آ گیا۔ اب کفرنحوم اُس کا «اپنا شہر» بن چکا تھا۔ ناصرت کے لوگوں نے یسؔوع کو ہلاک کرنے کی کوشِش کی تھی (لُوقاؔ ۴:۲۹-۳۱)۔ اِس کے بعد سے اُس نے کفرنجوم کو «اپنا شہر» بنا لیا تھا۔ یہی جگہ ہے جہاں اُس نے بعض بڑے بڑے معجزے دِکھائے۔
۹:۲ چار آدمی «ایک مفلوج» کو چارپائی پر ڈال کر اُس کے پاس لائے۔ مرقسؔ بیان کرتا ہے کہ بھیڑ کے سبب سے اُن کو چھت ادھیڑ کر مفلوج کو یسؔوع کے سامنے لٹکانا پڑا (مرقسؔ ۲:۱-۱۲)۔ «یسؔوع نے اُن کا ایمان دیکھ کر مفلوج سے کہا، بیٹا خاطر جمع رکھ، تیرے گُناہ معاف ہوئے۔» غور کریں کہ یسؔوع نے «اُن کا» ایمان دیکھا۔ ایمان ہی نے اُن کو اُبھارا تھا کہ اِس معذور شخص کو شفا کے لئے یسؔوع کے پاس لائیں۔ ہمارے خُداوند نے سب سے پہلے اِس ایمان کا اَجر دیا اور اعلان کیا کہ اُس کے «گُناہ معاف ہوئے۔» طبیب ِاعظم نے علامات کا علاج کرنے سے پہلے اسباب کو دُور کیا۔ بیماری کے اثر سے پہلے اُس کی جڑ دُور کر دی۔ اُس نے بڑی برکت پہلے دی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یسؔوع نے کِسی کو کبھی روحانی نجات دیئے بغیر شفا بخشی؟
۹:۳-۵ «بعض فقیہوں نے» یسؔوع سے اُس مرد کے گُناہ وں کی معافی کا اعلان سن کر «اپنے دِل میں» اُس پر کفر کا اِلزام لگا دیا کیونکہ گُناہ تو صِرف خُدا ہی معاف کر سکتا ہے اور وُہ اُس کو خُدا تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے! خُداوند یسؔوع عالِم کُل ہے۔ اُس کو اُن کے خیالات معلوم تھے۔ اُس نے اُن کو جھڑکا کیونکہ اُن کے دِل وں میں بے ایمانی کے «بُرے خیال» تھے۔ پھر اُن سے سوال پوچھا کہ «آسان کیا ہے۔ یہ کہنا کہ تیرے گُناہ معاف ہوئے یا یہ کہنا کہ اُٹھ اور چل پھر؟» درحقیقت دونوں باتیں «کہنا» آسان ہیں مگر کون سی بات «کرنا» مشکل ہے؟ اِنسانی لحاظ سے دونوں ہی مشکل ہیں۔ لیکن پہلے حُکم کا نتیجہ نظر نہیں آ سکتا، جب کہ دوسرے حُکم کے اثرات فوراً نظر آتے ہیں اور آئے بھی۔
۹:۶،۷ فقیہوں کو یہ دِکھانے کے لئے کہ «ابنِ آدم کو زمین پر گُناہ معاف کرنے کا اِختیار ہے» (اور اِس لئے بطور خُدا اُس کی تعظیم ہونی چاہئے) یسؔوع نے بَندہ نوازی سے کام لیتے ہوئے اُن کو وُہ مُعجزہ دِکھایا جِسے دیکھ سکیِں۔ چنانچہ اُس نے مفلوج سے مخاطب ہو کر کہا کہ «اُٹھ، اپنی چارپائی اُٹھا اور اپنے گھر چلا گیا۔»
۹:۸ جب لوگوں نے اُسے اپنی چارپائی اُٹھا کر اپنے گھر کو جاتے دیکھا تو اُنہوں نے دو جذبات کا اِظہار کیا۔ ایک ڈر، دوسرے حیرت۔ ڈر اِس لئے کہ وُہ ایک فوق الفطرت ہستی کے حضور میں تھے۔ چنانچہ وُہ «خُدا کی تمجید کرنے لگے» کہ «اُس نے آدمیوں کو ایسا اِختیار بخشا۔» لیکن وُہ معجزے کے مفہُوم اور اہمیّت کو بالکُل نہ سمجھ سکے۔ مفلوج کی «دیدنی» شفا کا مقصد اِس بات کی تصدیق کرنا تھا کہ اُس آدمی کے گُناہ واقعی معاف ہو گئے ہیں۔ یہ ایک «نادیدنی» مُعجزہ تھا۔ اِس سے اُن کو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ جو کُچھ ہم نے دیکھا ہے، وُہ اِس بات کا مظاہرہ نہیں کہ خُدا نے آدمیوں کو کوئی اِختیار دے دیا ہے بلکہ یہ کہ خُداوند یسؔوع مسیح کی شخصیت میں خود خُدا کی حضوری ہمارے درمیان آ گئی ہے۔ لیکن وُہ کُچھ بھی نہ سمجھے۔
جہاں تک فقیہوں کا تعلق ہے، ہم بعد کے واقعات سے جانتے ہیں کہ وُہ اپنی نفرت اور بے اعتقادی میں اَور زیادہ سخت ہوتے گئے۔
ط۔ متؔی کی بلاہٹ (۹:۹-۱۳)
۹:۹ متؔی اپنی بلاہٹ کا سادہ اور اور اِنکسارانہ بیان درَج کرتا ہے۔ اِس طرح یسؔوع کے گرد جو تناؤ کا ماحول بڑھتا جا رہا تھا، اُس کے بیان میں کُچھ وقفہ پیدا ہو جاتا ہے۔ متؔی محصول لینے والا یعنی کسٹم ہاؤس کا افسر تھا۔ یہُودی اُس سے اور اُس کے ساتھی افسروں سے سخت نفرت رکھتے تھے۔ ایک تو اِس لئے کہ یہ لوگ بُہت بدقماش تھے، دوسرے اِس لئے کہ لوگوں پر تشدد کر کے محصول لیتے تھے۔ تیسرے اور سب سے زیادہ اِس لئے کہ وُہ رؔومیوں کے لئے محصول جمع کرتے تھے۔ اور رؔومی اِسرائیلیوں پر حکمران تھے۔
یسؔوع «محصول کی چوکی» کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اُس نے متؔی کو وُہاں دیکھا اور «اُس سے کہا میرے پیچھے ہو لے۔» متؔی کا ردِّعمل فوری تھا۔ «وُہ اُٹھ کر اُس کے پیچھے ہو لیا۔» اُس نے بددیانتی کا روایتی کاروبار ترک کر دیا اور ایک دَم یسؔوع کا شاگرد بن گیا۔ کِسی نے کیا خوب کہا ہے، «اُس نے ایک آرام دِہ ملازمت چھوڑ دی، لیکن اپنی عاقبُت سنوار لی۔ اچھی آمدنی پر لات مار دی، لیکن عزت پا لی۔ ایک معقول تحفظ کو خیرباد کہہ دیا، لیکن ایسی مہم جوئی پا لی جِس کا اُسے کبھی خواب میں بھی خیال نہیں آیا تھا۔» اور اُس کا یہ اعزاز ہی کیا کم ہے کہ یسؔوع کے بارہ شاگردوں میں شمار ہُوا اور وُہ اِنجیل لِکھی جو اُسی کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے؟
۹:۱۰ جِس ضیافت کا یہاں ذِکر ہے، اُس کا اہتمام متؔی ہی نے یسؔوع کے اعزاز میں کیا تھا (لُوقاؔ ۵:۲۹)۔ اُس نے یسؔوع کا علانیہ اِقرار کرنے اور اپنے ساتھیوں کو نجات دہندہ سے متعارف کرانے کے لئے یہ طریقہ اِختیار کیا۔ چنانچہ لازماً مہمان «محصول لینے والے» اور ایسے ہی افراد تھے جن کو عام لوگ «گنہگار» کہتے تھے۔
۹:۱۱ اُس زمانے میں رواج تھا کہ کھانے کے لئے چوکیوں پر نیم دراز ہو کر بیٹھتے تھے اور رُخ میز کی طرف ہوتا تھا۔ جب «فریسیوں نے دیکھا» کہ یسؔوع سماج کے «بازاری لوگوں» سے میل ملاپ رکھتا ہے تو وُہ اُس کے شاگردوں کے پاس جا کر اُس پر الزام لگانے لگے کہ جو «گنہگاروںکے ساتھ میل ملاپ رکھتا ہے، وُہ بھی گنہگار ہوتا ہے۔» اُن کے نزدیک کوئی سچا نبی «گنہگاروں» کے ساتھ کھانا نہیں کھا سکتا۔
۹:۱۲ یسؔوع نے اُن کی بات سن کر جواب دیا کہ «تندرستوں کو طبیب درکار نہیں بلکہ بیماروں کو۔» فریسی اپنے آپ کو تندرست گردانتے تھے اور ماننا نہیں چاہتے تھے کہ ہمیں یسؔوع کی ضُرورتہے (حالانکہ اصل میں روحانی طور پر سخت بیمار تھے اور شفا پانے کی اشد ضُرورتتھی)۔ لیکن اِن کے برعکس محصول لینے والے اور گنہگار اپنی اصل حالت کو ماننے اور مسیح کے نجات بخش فضل کو تلاش کرنے پر زیادہ آمادہ تھے۔ چنانچہ وُہ اِلزام درست تھا! یسؔوع واقعی گنہگاروں کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ اگر وُہ فریسیوں کے ساتھ کھانا کھاتا تو بھی اِلزام درست ہوتا۔ شاید کُچھ زیادہ ہی درست ہوتا! اگر ہماری جیسی دُنیا میں یسؔوع گنہگاروں کے ساتھ کھانا نہ کھاتا، تو ہمیشہ اکیلا ہی کھاتا۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جب وُہ گنہگاروں کے ساتھ کھاتا تھا تو وُہ کبھی اُن کے بُرے طور طریقوں میں شریک نہیں ہوتا تھا، نہ اپنی گواہی کے بارے میں کِسی قِسم کا سمجھوتا کرتا تھا۔ وُہ اِس موقعے کو آدمیوں کو سچائی اور پاکیزگی کی طرف بلانے کے لئے استعمال کرتا تھا۔
۹:۱۳ فریسیوں کی مشکل یہ تھی کہ اگرچہ وُہ یہُودی ت کے رسم و رواج کی پُوری احتیاط اور درستی کے ساتھ پیروی کرتے تھے، لیکن اُن کے دِل احساس سے عاری، بے رحم اور سخت تھے۔ اِسی لئے یسؔوع نے اُن کو ایک چیلنج دیا کہ یہوواہ کے اِن الفاظ پر غور کرو کہ « مَیں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہوں» (ہوسیع ۶:۶ سے اِقتباس)۔ اگرچہ قربانیوں کا نظام خُدا نے مقرر کیا تھا، لیکن وُہ ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ یہ رسم و رواج باطنی راست بازی کا بدِل بن کر رہ جائیں۔ خُدا شریعت پرست یا رسم پرست نہیں ہے اور وُہ ایسے رسم و رواج سے کبھی خوش نہیں ہوتا جن کا شخصی اور ذاتی راست بازی سے دُور کا واسطہ بھی نہ ہو۔ وُہ توریت کے لفظوں پر تو عمل کرتے تھے، لیکن جن کو روحانی مدد درکار تھی، اُن کے لئے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے تھے۔ وُہ صِرف اُن ہی لوگوں سے میل ملاپ رکھتے تھے جو اُن کی طرح اپنے آپ ہی کو راست باز سمجھتے تھے۔
اِس کے برعکس یسؔوع نے اُن کو واضح طور سے بُتا دیا کہ « مَیں راست بازوں کو نہیں بلکہ گنہگاروں کو بلانے آیا ہوں۔» اُس نے رحم اور قربانی کے لئے خُدا کی خواہش کو پورے طور پر پورا کیا۔ ایک مفہُوم میں اِس دُنیا میں کوئی راست باز نہیں ہے اِس لئے وُہ تمام لوگوں کو «توبہ» کی طرف بلانے آیا تھا۔ لیکن یہاں نکتہ یہ ہے کہ اُس کی بلاہٹ صِرف اُن لوگوں کے لئے فائدہ مند ہے جو اپنے آپ کو گنہگار تسلیم کرتے ہیں۔ وُہ ایسے لوگوں کو شفا نہیں دے سکتا جو فریسیوں کی طرح بیمار ہونے کا اِنکار کرتے اور اپنے آپ کو راست باز گردانتے ہوں اور توبہ کی حاجت محسوس نہ کرتے ہوں۔
ی۔ یسؔوع سے روزہ کے بارے میں اِستفسار کیا جاتا ہے (۹:۱۴-۱۷)
۹:۱۴ اُس وقت تک «یُوحناؔ» بپتسمہ دینے والا غالباً قید ہو چکا تھا۔ اُس کے شاگرد ایک مسئلہ لے کر یسؔوع کے پاس آئے۔ وُہ خود «اکثر روزہ رکھتے» تھے جب کہ یسؔوع کے شاگرد «روزہ نہیں رکھتے» تھے۔ کیوں نہیں رکھتے؟
۹:۱۵ خُداوند نے جواب دینے کے لئے تمثیل سنائی۔ وُہ خود «دُولھا» تھا اور اُس کے شاگرد «براتی» تھے۔ «جب تک» وُہ اُن کے «ساتھ» تھا اِنہیں روزہ رکھنے کی ضُرورتنہ تھی کیونکہ روزہ ماتم کی عَلامت ہے۔ مگر وُہ دن آنے کو تھے جب وُہ «اُن سے جدا کیا جائے» تب اُس کے شاگرد «روزہ رکھیں گے۔» اور واقعی وُہ اُن سے جدا کیا گیا __ اُس کی موت اور تدفین ہوئی۔ اور اپنے صعود سے لے کر وُہ اپنے شاگردوں سے جِسمانی لحاظ سے جدا ہے۔ اگرچہ یسؔوع کے الفاظ روزہ رکھنے کا حُکم نہیں دیتے، لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ روزہ اُن لوگوں کے لئے نہایت موزوں فعل ہے جو دُولھا کی واپسی کا اِنتظار کر رہے ہیں۔
۹:۱۶ یُوحناؔ کے شاگردوں کے سوال نے یسؔوع کو یہ بات بُتانے کی تحریک دی کہ یُوحناؔ کے ساتھ شریعت کے دَور کا خاتمہ اور فضل کے دَور کا آغاز ہوتا ہے۔ یسؔوع یہ وضاحت بھی کرتا ہے کہ ان دونوں کے اصولوں کو باہم ملایا نہیں جا سکتا۔ شریعت اور فضل کو باہم ملانا ایسا ہی ہے جیسے «کورے کپڑے کا پیوند پرانی پوشاک میں» لگا دیا جائے۔جب اِس پوشاک کو دھوئیں گے تو نیا کپڑا سکڑ جائے اور پرانا کپڑا پھٹ جائے گا۔ کورے کپڑے کا پیوند الگ ہو جائے گا۔ اور اِس طرح پوشاک پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو جائے گی۔ گائبلین (Gaebelein) بجا طور پر شکوُہ کرتا ہے کہ
«وُہ یہُودی ت نُما مسیحیت خُدا کی نظر میں زیادہ مکروُہ ہے جو فضل اور اِنجیل کا پرچار کرتی ہے مگر شریعت کی پابَندی اور رسوماتی راست بازی کو پالتی ہے۔ اِس کے مُقابلے میں وُہ اِسرائیلی قوم زیادہ قابلِ برداشت تھی جو خُدا کی پیروی کرنے کا دعویٰ کرتی مگر بُتوں کی پوجا کرتی تھی۔»
۹:۱۷ یا مُندرَج ہ بالا مرکب ایسے ہے جیسے «نئی مَے پرانی مَشکوں میں» بھر دی جائے۔ نئی مَے کے خمیر اُٹھنے کا دباؤ پرانی مشکوں کو پھاڑ ڈالے گا کیونکہ اُن کی لچک ختم ہو چکی ہے۔ اِنجیل کی زندگی اور آزادی رسم پرستی کی مشکوں کو برباد کر دیتی ہے۔
مسیحی دَور کے آغاز کا لازمی نتیجہ ایک دباؤ اور تناؤ کی صورت میں ظاہر ہونا تھا۔ جو خوشی اور شادمانی مسیح لایا تھا وُہ پُرانے عہدنامہ کے تکلفات اور رسومات میں سما ہی نہیں سکتی تھی۔ ضرور تھا کہ ایک بالکُل نیا نظام قائم ہو۔ ایک مفسر اِس بات کو یوں واضح کرتا ہے کہ
«بادشاہ نے اپنے شاگردوں کو نئے اور پُرانے کے مرکب سے خبردار کیا … تو بھی کلیسیا کی تاریخ میں بعینہٖ یہی کُچھ ہوتا رہا ہے۔ یہُودی ت کو پیوند لگا کر کلیسیاؤں میں اپنا لیا گیا ہے اور پرانی پوشاک پر «مسیحیت» کا لیبل لگا دیا گیا ہے۔ نتیجے میں ایک ایسا آمیزہ تیار ہو گیا ہے جِس میں سوائے اُلجھن کے اَور کُچھ نہیں۔ یہ نہ یہُودی ت ہے نہ مسیحیت بلکہ زندہ خُدا پر یقین اور بھروسا رکھنے کی جگہ رسومات نے لے لی ہے جو مردہ کاموں کے مترادف ہیں۔ مفت نجات کی نئی مَے کو رسومات پرستی کی پرانی مشکوں میں بھر دیا گیا ہے۔ انجام کیا ہُوا؟ کیوں مشکیِں پھٹ کر برباد ہو گئی ہیں اور مَے بہہ گئی ہے، زندگی بخش انمول مَے کا بیشتر حصہ ضائع ہو گیا ہے اور شریعت کی دہشت جاتی رہی ہے؟ اِس لئے کہ اِسے فضل کے ساتھ ملا دیا گیا ہے اور فضل کی خوبصورتی اور خاصہ جاتا رہا ہے، اِس لئے کہ اِس کو شریعت کے اعمال کے ساتھ گڈمڈ کر دیا گیا ہے۔»
ک۔ لاعلاج مریضوں کو شفا دینے اور مُردوں کو زندہ کرنے کی قُدرت (۹:۱۸-۲۶)
۹:۱۸،۱۹ یسؔوع شرعی نظام کی تبدیلی پر گفتگو کر رہا تھا کہ عبادت خانے کا ایک «سردار» آ مخل ہُوا۔ اُس کی «بیٹی» ابھی ابھی «مری» تھی۔ اُس نے آتے ہی خُداوند کو سجدہ کیا اور درخواست کی کہ چل کر اُس کی زندگی بحال کر۔ یہ بُہت خلافِ معمول بات تھی کہ یہ سردار یسؔوع سے مدد مانگ رہا تھا۔ اکثر یہُودی لیڈر ایسا کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف سے تضحیک اور نفرت سے ڈرا کرتے تھے۔ یسؔوع اُس کی درخواست پر اپنے شاگردوں کے ہمراہ اُس سردار کے گھر کو چل پڑا۔
۹:۲۰ اب ایک اَور مداخلت ہوئی۔ اِس دفعہ ایک «عورت» آ گئی۔ اُس کے «بارہ برس سے» خون جاری تھا۔ یسؔوع ایسی مداخلت سے کبھی خفا اور ناراض نہیں ہوتا تھا۔ وُہ اپنے رویے اور مزاج میں ہمیشہ توازن برقرار رکھتا تھا اور لوگ ہر وقت اُس کے پاس آ سکتے تھے۔
۹:۲۱،۲۲ عِلم طِب اِس «عورت» کی مدد کرنے میں ناکام ثابُت ہُوا تھا بلکہ اُس کی حالت مزید خراب ہوتی جا رہی تھی (مرقسؔ ۵:۲۶)۔ اِنتہائی مایوس ہو کر وُہ یسؔوع کے پاس آئی۔ وُہ چاروں طرف ایک بھیڑ سے گھرا ہُوا تھا۔ وُہ عورت بھیڑ میں سے راستہ بناتی ہوئی اُس کے قریب پہنچی اور «اُس کی پوشاک کا کنارہ چھوا۔» یسؔوع سچے ایمان کو ہمیشہ دیکھ لیتا ہے اور اُس پر توجہ دیتا ہے۔ وُہ اُس کی طرف مُڑا اور اُسے بُتا دیا کہ تُو شفا پا گئی ہے۔ «وُہ عورت اُسی گھڑی اچھی ہو گئی۔» بارہ برسوں میں پہلی دفعہ وُہ کامِل صحت سے فیض یاب ہوئی۔
۹:۲۳،۲۴ اب بیان عبادت خانے کے سردار کی طرف پھرتا ہے جِس کی بیٹی مر گئی تھی۔ «جب یسؔوع سردار کے گھر میں آیا» تو پیشہ ور ماتم کرنے والے بقول شخصے «مصنوعی غم» سے نڈھال ہو کر بَین کر رہے اور « غُل مچا » رہے تھے۔ یسؔوع نے حُکم دیا کہ سارے افراد باہر چلے جائیں اور ساتھ ہی اِعلان کیا کہ «لڑکی مری نہیں بلکہ سوتی ہے»۔ اکثر مفسروں کی رائے ہے کہ یہاں یسؔوع نے «سونا» موت کے اِستعارے کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن بعض کا خیال ہے کہ لڑکی غشی کے عالم میں تھی۔ یہ تشریح اِس بات سے اِنکار نہیں کرتی کہ اگر لڑکی مَر بھی گئی ہوتی تو یسؔوع اُس کو زندہ کر دیتا، بلکہ اِس بات پر زور دیتی ہے کہ یسؔوع اِتنا سچا، کھرا اور دیانت دار تھا کہ وُہ مُردوں میں سے زندہ کرنے کی عزت لینے کو تیار نہیں تھا جب کہ لڑکی مری نہیں تھی۔ ایک مفسر اِس بات کی طرف توجہ دِل اتا ہے کہ لڑکی کا باپ اور سب دوسرے لوگ کہتے تھے کہ لڑکی مر گئی ہے۔ «یسؔوع » نے کہا کہ «لڑکی مری نہیں۔»
۹:۲۵،۲۶ معاملہ کُچھ بھی ہو، خُداوند نے لڑکی «کا ہاتھ پکڑا» تو مُعجزہ رُونما ہُوا۔ وُہ «لڑکی اُٹھی» اور پورے علاقے میں معجزے کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔
ل۔ بینائی عطا کرنے کی قُدرت (۹:۲۷-۳۱)
۹:۲۷،۲۸ جب یسؔوع سردار کے گھر سے آگے بڑھا «تو دو اندھے اُس کے پیچھے پکارتے ہوئے چلے۔» وُہ بینائی پانے کے لئے اِلتجائیں کر رہے تھے۔ اگرچہ وُہ طبعی بصارت سے محرؔوم تھے، لیکن گہری روحانی بصیرت رکھتے تھے۔ اُنہوں نے یسؔوع کو «ابنِ داؔؤد » کہہ کر مخاطب کیا۔ اِس طرح اُنہوں نے اِقرار کیا کہ یہی وُہ مسیحِ مَوعُود اور اِسرائیل کا بادشاہ ہے جِس کا مدتوں سے اِنتظار تھا۔ اور وُہ جانتے تھے کہ جب مسیحِ مَوعُود آئے گا تو اُس کی ایک اہلیت یہ ہو گی کہ وُہ اَندھوں کو بینائی عطا کرے گا (یسَعیاہ ۴۲:۷ بحوالہ لُوقاؔ ۴:۱۸)۔ یسؔوع نے اُن کے ایمان کو آزمانے کے لئے پوچھا کہ «کیا تم کو اعتقاد ہے کہ مَیں یہ کر سکتا ہوں؟» وُہ اِس آزمائش میں پورے اُترے اور بلا توقف جواب دیا کہ «ہاں خُداوند»!
۹:۲۹،۳۰ اب طبیب اعظم نے «اُن کی آنکھیں چھو کر» اِنہیں یقین دِل ایا کہ چونکہ تم ایمان لائے اِس لئے دیکھنے لگو گے، اور فوراً اُن کی آنکھیں بالکُل درست ہو گئیں۔
اِنسان کہتا ہے «دیکھنے سے ایمان پیدا ہوتا ہے۔» خُدا کہتا ہے «ایمان لانے سے دیکھنا پیدا ہوتا ہے۔» یسؔوع نے مرتھا سے کہا، «کیا مَیں نے تجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تُو ایمان لائے گی تو خُدا کا جلال دیکھے گی؟» (یُوحناؔ ۱۱:۴۰)۔ عبرانیوں کا مُصنِفّ رقم طراز ہے کہ «ایمان ہی سے ہم معلوم کرتے ہیں… » (عبرانیوں ۱۱:۳)۔ یُوحناؔ رسول لِکھتا ہے کہ « مَیں نے تم کو جو … ایمان لائے ہو … لِکھیں کہ تمہیں معلوم ہو» (۱۔یُوحناؔ ۵:۱۳)۔ خُدا ایسے ایمان سے خوش نہیں ہوتا جو پہلے معجزے کا تقاضا کرتا ہے۔ وُہ چاہتا ہے کہ ہم اُس پر صِرف اِس لئے ایمان رکھیں کہ وُہ خُدا ہے۔
اِن شفا پانے والوں کو یسؔوع نے کیوں «تاکید کر کے کہا» کہ کِسی کو نہ بُتائیں؟ ۸:۴ کی تفسیر کرتے ہوئے ہم نے اِس رائے کا اِظہار کیا تھا کہ غالباً وُہ نہیں چاہتا تھا کہ وقت سے پہلے یہ تحریک بھڑک اُٹھے کہ اِسے بادشاہ بنایا جائے۔ لوگ ابھی تک غیر تائب تھے۔ جب تک وُہ نئے سرے سے پیدا نہ ہوتے مسیح اُن پر بادشاہی نہیں کر سکتا تھا۔ علاوُہ ازیں اگر یسؔوع کے حق میں کوئی اِنقلابی تحریک اُٹھ کھڑی ہوتی تو رؔومی حکومت کی طرف سے یہُودی وں کے خلاف سخت اِنتقامی کارروائی کی جاتی۔ اِن تمام باتوں کے علاوُہ بطور بادشاہ بادشاہی کرنے سے پہلے اُس کو صلیب پر چڑھنا ضرور تھا۔ کلوری کے راستے سے روکنے والی ہر چیز خُدا کے پہلے سے مقرر کردہ منصوبے کے خلاف تھی۔
۹:۳۱ اپنی بینائی کی بحالی پر وُہ دونوں آدمی شکر گزاری سے دیوانے ہوئے جا رہے تھے۔ وُہ خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ اُنہوں نے «اُس تمام علاقہ میں اُس کی شہرت پھیلا دی۔» ہو سکتا ہے کہ ہم اُن کی بھرپور گواہی کی تعریف بھی کرنے لگیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ وُہ سخت نافرمان ثابُت ہوئے۔ لگتا ہے کہ اُن کی حرکت سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہُوا کیونکہ لوگوں میں رُوح کی تحریک سے دِل چسپی نہیں بلکہ عام تجِسس پیدا ہُوا۔
م۔ گویائی دینے کی قُدرت (۹:۳۲-۳۴)
۹:۳۲ پہلے یسؔوع نے مُردوں کو زندہ کیا، پھر اندھوں کو بینائی دی، اب گونگوں کو گویائی دیتا ہے۔ اِن معجزوں میں ایک روحانی سلسلہ معلوم ہوتا ہے۔ پہلے زندگی، پھر سمجھ اور اِدراک، اِس کے بعد گواہی۔
ایک بدرُوح نے اُس آدمی کو گونگا بنا رکھا تھا۔ کِسی شخص کو اُس آدمی کی بُہت فِکر تھی۔ اِس لئے وُہ اُس بدرُوح گرفتہ آدمی کو یسؔوع کے پاس لے آیا۔ خُدا اُن گمنام مگر عالی مُرتبت افراد کو برکت دے جو دوسروں کو یسؔوع کے پاس لانے کا وسیلہ بنتے ہیں!
۹:۳۳ جیسے ہی «وُہ بدرُوح نکال دی گئی تو گونگا بولنے لگا۔» ہم تصور کر سکتے ہیں کہ وُہ اپنی بحال شدہ قوت ِگویائی کو اُس ہستی کی حمد و ثنا اور گواہی کے لئے استعمال کرنے لگا جِس نے کمال فضل اور مہربانی سے اُسے شفا عطا کی تھی۔ عام لوگوں نے تسلیم کیا کہ «اِسرائیل» ایسے مُعجزات دیکھ رہا ہے جن کی پہلے مثال نہیں ملتی۔
۹:۳۴ «مگر فریسیوں» نے جواب دیا یسؔوع «بدروحوں کے سردار کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے۔» یہی وُہ بات ہے جِس کو بعد میں یسؔوع نے وُہ گُناہ قرار دیا جِس کی معافی نہیں ہو سکتی (۱۲:۳۲)۔ وُہ رُوح القُدس کے وسیلے سے معجزے کرتا تھا۔ اِن معجزوں کو شیطان کی قوت سے منسوب کرنا رُوح القُدس کے خلاف کفر ہے۔ دوسرے لوگ مسیح کے شفا بخش لمس سے برکات پا رہے تھے جب کہ فریسی روحانی طور پر مُردہ، اَندھے اور گونگے ہی رہے۔
کِتابِ مُقدّس
۱-۔ وہ اِس بِھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بَیٹھ گیا تو اُس کے شاگِرد اُس کے پاس آئے۔
۲- ۔اور وہ اپنی زُبان کھول کر اُن کو یُوں تعلِیم دینے لگا۔
۳- ۔مُبارک ہیں وہ جو دِل کے غرِیب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے۔
۴- ۔مُبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں کیونکہ وہ تسلّی پائیں گے۔
۵- ۔مُبارک ہیں وہ جو حلِیم ہیں کیونکہ وہ زمِین کے وارِث ہوں گے۔
۶-۔ مُبارک ہیں وہ جو راست بازی کے بُھوکے اور پِیاسے ہیں کیونکہ وہ آسُودہ ہوں گے۔
۷- ۔مُبارک ہیں وہ جو رحم دِل ہیں کیونکہ اُن پر رحم کِیا جائے گا۔
۸- ۔مُبارک ہیں وہ جو پاک دِل ہیں کیونکہ وہ خُدا کو دیکھیں گے۔
۹ -۔مُبارک ہیں وہ جو صُلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خُدا کے بیٹے کہلائیں گے۔
۱۰- ۔مُبارک ہیں وہ جو راست بازی کے سبب سے ستائے گئے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے۔
۱۱-۔ جب میرے سبب سے لوگ تُم کو لَعن طَعن کریں گے اور ستائیں گے اور ہر طرح کی بُری باتیں تُمہاری نِسبت ناحق کہیں گے تو تُم مُبارک ہو گے۔
۱۲-۔ خُوشی کرنا اور نِہایت شادمان ہونا کیونکہ آسمان پر تُمہارا اجر بڑا ہے اِس لِئے کہ لوگوں نے اُن نبِیوں کو بھی جو تُم سے پہلے تھے اِسی طرح ستایا تھا۔
۱۳-۔ تُم زمِین کے نمک ہو لیکن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو وہ کِس چِیز سے نمکِین کِیا جائے گا؟ پِھر وہ کِسی کام کا نہیں سِوا اِس کے کہ باہر پَھینکا جائے اور آدمِیوں کے پاؤں کے نِیچے رَوندا جائے۔
۱۴-۔ تُم دُنیا کے نُور ہو۔ جو شہر پہاڑ پر بسا ہے وہ چِھپ نہیں سکتا۔
۱۵-۔ اور چراغ جلا کر پَیمانہ کے نِیچے نہیں بلکہ چراغ دان پر رکھتے ہیں تو اُس سے گھر کے سب لوگوں کو رَوشنی پُہنچتی ہے۔
۱۶-۔ اِسی طرح تُمہاری رَوشنی آدمِیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تُمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تُمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجِید کریں۔
۱۷-۔ یہ نہ سمجھو کہ مَیں تَورَیت یا نبِیوں کی کِتابوں کو منسُوخ کرنے آیا ہُوں۔ منسُوخ کرنے نہیں بلکہ پُورا کرنے آیا ہُوں۔
۱۸-۔ کیونکہ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک آسمان اور زمِین ٹل نہ جائیں ایک نُقطہ یا ایک شوشہ تَورَیت سے ہرگِز نہ ٹلے گا جب تک سب کُچھ پُورا نہ ہو جائے۔
۱۹-۔ پس جو کوئی اِن چھوٹے سے چھوٹے حُکموں میں سے بھی کِسی کو توڑے گا اور یہی آدمِیوں کو سِکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکن جو اُن پر عمل کرے گا اور اُن کی تعلِیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔
۲۰-۔ کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر تُمہاری راست بازی فقِیہوں اور فرِیسِیوں کی راست بازی سے زِیادہ نہ ہو گی تو تُم آسمان کی بادشاہی میں ہرگِز داخِل نہ ہو گے۔
۲۱-۔ تُم سُن چُکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ خُون نہ کرنا اور جو کوئی خُون کرے گا وہ عدالت کی سزا کے لائِق ہو گا۔
۲۲-۔ لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جو کوئی اپنے بھائی پر غُصّے ہو گا وہ عدالت کی سزا کے لائِق ہو گا اور جو کوئی اپنے بھائی کو پاگل کہے گا وہ صدرعدالت کی سزا کے لائِق ہو گا اور جو اُس کو احمق کہے گا وہ آتشِ جہنّم کا سزاوار ہو گا۔
۲۳-۔ پس اگر تُو قُربان گاہ پر اپنی نذر گُذرانتا ہو اور وہاں تُجھے یاد آئے کہ میرے بھائی کو مُجھ سے کُچھ شِکایت ہے۔
۲۴-۔ تو وہیں قُربان گاہ کے آگے اپنی نذر چھوڑ دے اور جا کر پہلے اپنے بھائی سے مِلاپ کر۔ تب آ کر اپنی نذر گُذران۔
۲۵-۔ جب تک تُو اپنے مُدّعی کے ساتھ راہ میں ہے اُس سے جلد صُلح کر لے۔ کہِیں اَیسا نہ ہو کہ مُدّعی تُجھے مُنصِف کے حوالہ کر دے اور مُنصِف تُجھے سِپاہی کے حوالہ کر دے اور تُو قَید خانہ میں ڈالا جائے۔
۲۶-۔ مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک تُو کَوڑی کَوڑی ادا نہ کر دے گا وہاں سے ہرگِز نہ چُھوٹے گا۔
۲۷-۔ تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ زِنا نہ کرنا۔
۲۸-۔ لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جِس کِسی نے بُری خواہِش سے کِسی عَورت پر نِگاہ کی وہ اپنے دِل میں اُس کے ساتھ زِنا کر چُکا۔
۲۹-۔ پس اگر تیری دہنی آنکھ تُجھے ٹھوکر کِھلائے تو اُسے نِکال کر اپنے پاس سے پَھینک دے کیونکہ تیرے لِئے یِہی بِہتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بدن جہنّم میں نہ ڈالا جائے۔
۳۰-۔ اور اگر تیرا دہنا ہاتھ تُجھے ٹھوکر کِھلائے تو اُس کو کاٹ کر اپنے پاس سے پَھینک دے کیونکہ تیرے لِئے یِہی بِہتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بدن جہنّم میں نہ جائے۔
۳۱-۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو کوئی اپنی بِیوی کو چھوڑے اُسے طلاق نامہ لِکھ دے۔
۳۲-۔ لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جو کوئی اپنی بِیوی کو حرام کاری کے سِوا کِسی اَور سبب سے چھوڑ دے وہ اُس سے زِنا کراتا ہے اور جو کوئی اُس چھوڑی ہُوئی سے بیاہ کرے وہ زِنا کرتا ہے۔
۳۳-۔ پِھر تُم سُن چُکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ جُھوٹی قَسم نہ کھانا بلکہ اپنی قَسمیں خُداوند کے لِئے پُوری کرنا۔
۳۴-۔ لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ بِالکُل قَسم نہ کھانا۔ نہ تو آسمان کی کیونکہ وہ خُدا کا تخت ہے۔
۳۵-۔ نہ زمِین کی کیونکہ وہ اُس کے پاؤں کی چَوکی ہے۔ نہ یروشلِیم کی کیونکہ وہ بُزرگ بادشاہ کا شہر ہے۔
۳۶-۔ نہ اپنے سر کی قَسم کھانا کیونکہ تُو ایک بال کو بھی سفید یا کالا نہیں کر سکتا۔
۳۷-۔ بلکہ تُمہارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں ہو کیونکہ جو اِس سے زِیادہ ہے وہ بدی سے ہے۔
۳۸-۔ تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔
۳۹-۔ لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ شرِیر کا مُقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے۔
۴۰-۔ اور اگر کوئی تُجھ پر نالِش کر کے تیرا کُرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اُسے لے لینے دے۔
۴۱-۔ اور جو کوئی تُجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اُس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔
۴۲-۔ جو کوئی تُجھ سے مانگے اُسے دے اور جو تُجھ سے قرض چاہے اُس سے مُنہ نہ موڑ۔
۴۳-۔ تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے مُحبّت رکھ اور اپنے دُشمن سے عداوت۔
۴۴-۔ لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے مُحبّت رکھّو اور اپنے ستانے والوں کے لِئے دُعا کرو۔
۴۵-۔ تاکہ تُم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو کیونکہ وہ اپنے سُورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راست بازوں اور ناراستوں دونوں پر مِینہ برساتا ہے۔
۴۶-۔ کیونکہ اگر تُم اپنے مُحبّت رکھنے والوں ہی سے مُحبّت رکھّو تو تُمہارے لِئے کیا اجر ہے؟ کیا محصُول لینے والے بھی اَیسا نہیں کرتے؟
۴۷- ۔اور اگر تُم فقط اپنے بھائِیوں ہی کو سلام کرو تو کیا زِیادہ کرتے ہو؟ کیا غَیر قَوموں کے لوگ بھی اَیسا نہیں کرتے؟
۴۸ -۔پس چاہئے کہ تُم کامِل ہو جَیسا تُمہارا آسمانی باپ کامِل ہے۔