پیَدایش ۶

ہ۔ بدی کا بڑھنا اور عالم گیر طوفان (‏ابواب ۶۔۸)‏

۶:‏۱‏، ۲ آیت ۲ کی دو تفسیریں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ ’’خدا کے بیٹے‘‘‏، وہ فرشتے تھے جنہوں نے اپنے خاص مقام کو چھوڑ دیا (‏یہوداہ آیت۶)‏ اور زمین پر عورتوں سے شادی کی جو ایک قسم کی جنسی بے ضابطگی تھی‏، اور
یہ خدا کی نظر میں مکروہ تھی۔ اِس نظریے کے حامی‏، ایوب ۱:‏۶ اور ۲:‏۱ میں خدا کے بیٹوں کا حوالہ دیتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اِس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کسی وقت خدا کی حضوری میں رہتے تھے۔ فرشتوں کو ’’خدا کے بیٹے‘‘ کہنا سامی
لوگوں کے تصور کے مطابق تھا۔ یہوداہ آیات ۶ اور ۷ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جن فرشتوں نے اپنے خاص مقام کو چھوڑا‏، وہ حد سے زیادہ جنسی بداخلاقی کے مرتکب تھے۔ آیت ۷ کے شروع میں ’’سدوم اور عمورہ‘‘ کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے‏، جو آسمان سے
گرائے ہوئے فرشتوں کے بیان کے فوراً بعد درج کئے گئے ہیں۔

اِس نظریے پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ جہاں تک ہم جانتے ہیں‏، جنسی طور پر فرشتوں میں قوتِ تولید نہیں ہے۔ اِس کی تائید میں متی ۲۲:‏۳۰ میں پیش کیا جاتا ہے جہاں یسوع کہتا ہے کہ فرشتے بیاہ شادی نہیں کرتے۔ درحقیقت اِس آیت میں یہ کہا
گیا ہے کہ آسمان پر فرشتے شادی نہیں کرتے۔ فرشتے اِنسانی شکل میں ابرہام پر ظاہر ہوئے (‏پیدائش ۱۸:‏۱۔۵)‏ اور اِس حوالے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جو سدوم کو گئے اُن کے اِنسانی اعضا اور اِنسانی جذبات تھے۔

اور دوسرا نظریہ یہ ہے کہ خدا کے بیٹے سیت کی دین دار نسل تھی جب کہ اِنسان کی بیٹیاں قائن کی بدکار نسل تھی۔ اِس سے یہ دلیل اخذ کی جاتی ہے کہ گذشتہ سیاق و سباق کا تعلق قائن کی نسل سے ہے (‏باب ۴)‏ اور باب ۵ میں سیت کی نسل کا تذکرہ
ہے۔ اِس نظریے کے مطابق پیدائش ۶:‏۱۔۴ میں ان دونوں نسلوں کی مخلوط شادیوں کا بیان ہے۔ نیز یہ کہ لفظ ’’فرشتے‘‘ اِن آیات میں استعمال نہیں ہوا۔ آیت ۳ اور ۵ میں اِنسان کی بدی کا ذکر ہے۔ اگر فرشتوں نے گناہ کیا تو اِنسانی نسل کو کیوں
برباد کیا گیا؟ دین دار لوگوں کو ’’خدا کے بیٹے‘‘ کہا گیا ہے‏، گو یہ پیدائش ۶:‏۲ کے ہو بہو عبرانی الفاظ کے معنوں میں اِظہار نہیں ہے (‏اِستثنا ۱۴:‏۱؛ زبور ۸۲:‏۶؛ ہوسیع ۱:‏۱۰؛ متی ۵:‏۹)‏۔

اِس نظریے میں بھی کئی مشکلات ہیں۔ یہ کیونکر ممکن تھا کہ سیت کے گھرانے کے تمام مرد دین دار تھے اور قائن کے گھرانے کی ساری عورتیں بے دین تھیں؟ اور کہیں بھی ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ سیت کا سارا گھرانا دین داری پر قائم رہا۔ اگر وہ
قائم رہے تو اُنہیں کیوں برباد کیا گیا؟ اور یہ کیسے ممکن تھا کہ دین دار مردوں اور بے دین عورتوں کے جنسی ملاپ سے سُورمے پیدا ہوں؟

۶:‏۳ خدا نے خبردار کیا کہ اُس کی ’’روح اِنسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے گی‘‘‏، لیکن طوفان کی سزا میں ’’ایک سو بیس برس‘‘ کی تاخیر ہو گی۔ خدا تحمل کرتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ کوئی ہلاک ہو۔
لیکن ہر ایک بات کی ایک حد ہوتی ہے۔ پطرس رسول ہمیں بتاتا ہے کہ یہ مسیح تھا جو نوح کی معرفت بے دینوں میں منادی کر رہا تھا (‏۱۔پطرس ۳:‏۱۸۔۲۰؛ ۲۔پطرس ۲:‏۵)‏۔ اُنہوں نے پیغام کو ردّ کیا اور وہ اَب قید میں ہیں۔

۶:‏۴‏، ۵ جباروں (‏عبرانی نفیلیم بمعنی ’’گرے ہوئے‘‘)‏ کی اُنگر (‏Unger)‏ یوں تشریح کرتا ہے:‏

’’اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ’نفیلیم (‏Nephilim)‏‘ نیم دیوتا جبار تھے اور یہ اِنسان کی بیٹیوں (‏فانی عورتوں)‏ سے خدا کے بیٹوں (‏فرشتوں)‏ کے جنسی ملاپ سے پیدا ہوئے۔ یہ قطعاً ایک غیر فطری ملاپ تھا اور یہ خدا کے تخلیقی نظام کی
خلاف ورزی تھا۔ اور یہ ایسا گھناؤنا فعل تھا جو طوفان کے ذریعے تمام دُنیا کی سزا کا باعث بنا۔‘‘

۶:‏۶‏، ۷ خداوند کا غم‏، اُس کے ذہن کے اچانک بدلنے کو ظاہر نہیں کرتا۔ بلکہ یہ اِنسان کے رویے کی تبدیلی کے جواب میں خدا کی طرف سے مختلف رویے کا اِظہار ہے۔ چونکہ وہ پاک ہے‏، اِس لئے لازم ہے کہ وہ گناہ
کے خلاف ردِّعمل کا اظہار کرے۔

۶:‏۸۔۲۲ ’’مگر نوح خداوند کی نظر میں مقبول ہوا۔‘‘ چنانچہ اُسے آگاہ کیا گیا کہ وہ ایک کشتی بنائے۔ پیمانہ ’’ہاتھ‘‘ کے حساب سے دیا گیا (‏ایک ہاتھ= ۱۸ اِنچ)‏۔ یوں کشتی کی لمبائی ۴۵۰ فٹ‏، چوڑائی ۷۵ فٹ
اور اُونچائی ۴۵ فٹ تھی۔ اِس کے تین عرشے تھے۔ آیت۱۶ میں مذکور روشن دان روشنی کے لئے تھا۔ غالباً یہ ہوا اور روشنی کے لئے کشتی کی لمبائی کے ساتھ ساتھ تھا۔

نوح کو فضل کے وسیلے سے نجات ملی۔ یہ خدا کا اپنا فیصلہ تھا۔ اُس کی فرماں برداری یہتھی کہ ’’جیسا خدا نے اُسے حکم دیا تھا ویسا ہیعمل کیا‘‘ (‏آیت۲۲)‏۔ یہ اِنسانی ذمے داری کا عمل تھا۔ نوح نے اپنے خاندان کو بچانے کے لئے کشتی بنائی
لیکن دروازہ خدا نے بند کیا۔ خدا کا مطلق العنان فعل اور اِنسانی ذمے داری دونوں لازم و ملزوم ہیں۔

بائبل مقدس میں صرف ’’نوح‘‘ (‏آیت ۹)‏ اور حنوک (‏۵:‏۲۲)‏ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ’’خدا کے ساتھ ساتھ‘‘ چلتے رہے۔ اگر حنوک اِس اَمر کی علامت ہے کہ کلیسیا آسمان پر اُٹھائی جائے گی تو نوح اِس بات کی علامت ہے کہ ہزار سالہ دَور کی
مصیبتوں میں ایمان دار یہودی بقیہ محفوظ رہے گا۔

بائبل میں پہلی بار لفظ ’’عہد‘‘ آیت ۱۸ میں استعمال کیا گیا ہے۔ سکوفیلڈ نے بائبل میں آٹھ عہدوں کی نشان دہی کی۔ عدن کا عہد (‏پیدائش ۲:‏۱۶)‏‏، آدم کے ساتھ عہد (‏پیدائش ۳:‏۱۵)‏‏، نوح کے ساتھ عہد (‏پیدائش ۹:‏۱۶)‏‏، ابرہام کے ساتھ عہد
(‏پیدائش ۱۲:‏۲)‏‏، موسیٰ کے ساتھ عہد (‏خروج ۱۹:‏۵)‏‏، فلسطینی عہد (‏اِستثنا ۳۰:‏۳)‏‏، داؤد کے ساتھ عہد (‏۲۔سموئیل ۷:‏۱۶)‏ اور نیا عہد (‏عبرانیوں ۸:‏۸)‏۔ یہ آٹھ عہد اور سلیمانی عہد درجِ ذیل مضمون میں بیان کئے گئے ہیں۔ یاد رکھیں
کہ عہد جیسے پیچیدہ مضمون کے بارے میں خداوند کے لوگوں کے مختلف خیالات ہیں۔

کتابِ مقدس میں مذکور اہم عہد

عدن کا عہد (‏پیدائش ۱:‏۲۸۔۳۰؛ ۲:‏۱۶‏،۱۷)‏

عدن کا عہد اِنسان کی بے گناہی کے دَور میں باندھا گیا۔ اِس کے تحت اِنسان بڑھنے‏، پھلنے اور زمین کو معمور و محکوم کرنے کا ذمے دار تھا۔ اُسے تمام جانداروں پر اِختیار دیا گیا۔ اُسے باغ کی باغبانی اور نگہبانی کرنے کے لئے کہا گیا‏،
اور نیک و بد کی پہچان کے درخت کے سوا اُسے ہر ایک پھل کھانے کی اِجازت تھی۔ موخرالذکر حکم کی نافرمانی کیسزا موت تھی۔

آدم کے ساتھ عہد (‏پیدائش ۳:‏۱۴۔۱۹)‏

اِنسان کے گناہ میں گرنے کے بعد خدا نے سانپ پر لعنت کی اور سانپ اور عورت اور مسیح اور شیطان کے درمیان دشمنی کی پیشگوئی کی۔ شیطان مسیح کو زخمی کرے گا‏، لیکن مسیح شیطان کو برباد کر دے گا۔ عورت دردِزِہ سے بچے جنے گی اور اُس کا شوہر
اُس پر حکومت کرے گا۔ زمین بھی لعنتی ہوئی۔ اِس میں کاشت کاری کے لئے اُسے کانٹوں اور اُونٹ کٹاروں کا سامنا کرنا ہو گا۔ مشقت اور پسینہ اُس کے کام کا حصہ ہو گا۔ اور وہ بالآخر اُسی زمین میں لوٹ جائے گا جس سے وہ نکالا گیا۔

نوح کے ساتھ عہد (‏پیدائش ۸:‏۲۰۔۹:‏۲۷)‏

خدا نے نوح سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی بھی زمین کو ملعون ٹھہرا کر ساری دُنیا کو طوفان سے برباد نہیں کرے گا۔ اُس نے قوسِ قزح کو اِس کا نشان ٹھہرایا۔ لیکن اِس عہد میں اِنسانی حکومت کے قیام اور سزائے موت کا اِختیار بھی شامل ہے۔
خدا نے زمانوں اور موسموں کی باقاعدگی کی ضمانت دی اور اِنسان کو حکم دیا کہ وہ پھر سے زمین پر بڑھے پھلے اور اُسے آباد کرے اور ادنیٰ مخلوقات پر اُس کے اِختیار کی ازسرِنو تصدیق کی۔ پہلے تو خدا نے اِنسان کو صرف سبزی کھانے کی اِجازت
دی‏، لیکن اب گوشت کھانے کی اِجازت بھی دی۔ نوح کی نسل کے سلسلے میں خدا نے حام کے بیٹے کنعان کو ملعون ٹھہرایا کہ وہ سِم اور یافت کا غلام ہو گا۔ اُس نے سم کو خصوصی برکت دی‏، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ مسیح اُس کی نسل سے ہو گا۔ یافت
کو خدا پھیلائے گا اور وہ سم کے ڈیروں میں بسے گا۔

ابرہام کے ساتھ عہد (‏پیدائش ۱۲:‏۱۔۳؛ ۱۳:‏۱۴۔۱۷؛ ۱۵:‏۱۔۸؛ ۱۷:‏۱۔۸)‏

ابرہام کے ساتھ عہد غیر مشروط ہے۔ صرف خدا نے اپنے آپ کو دھواں اُٹھتے ہوئے تنور اور قربانی کے جانور کے دو ٹکڑوں میں سے گزرتی ہوئی جلتی مشعل کی صورت میں ظاہر کیا۔ یہ عمل بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جب دو شخص عہد باندھتے (‏عبرانی=
کاٹنا)‏ تو وہ دونوں یہ ظاہر کرنے کے لئے دو ٹکڑوں میں سے گزرتے کہ وہ عہد کی شرائط پر قائم رہیں گے۔ خدا نے ابرہام پر کوئی شرط عائد نہ کی لہٰذا اِس عہد کے عناصر قائم رہیں گے خواہ کچھ بھی ہو جائے۔

جو افراد خدا کی قدیم اُمت کے لئے کوئی مستقبل نہیں دیکھتے‏، اکثر اِس عہد کو ‏، کم از کم سرزمین کے لحاظ سے مشروط قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ تمام برکتیں کلیسیا کے لئے ہیں‏، یہاں تک کہ
اِسرائیل کے لئے یا تو سرے سے کوئی برکت نہیں یا پھر بہت تھوڑی برکتیں ہیں۔

اِس عہد میں ابرہام اور اُ س کی نسل کے لئے مندرجہ ذیل وعدے ہیں:‏ ایک بہت بڑی قوم (‏اِسرائیل)‏؛ ابرہام کے لئے شخصی برکتیں؛ نام کی سرفرازی؛ دوسروں کے لئے باعثِ برکت (‏پیدائش ۱۲:‏۲)‏؛ اُس کے دوستوں کے لئے الٰہی برکتیں اور اُس کے
دشمنوں کے لئے لعنتیں؛ سب قوموں کے لئے برکت‏، جس کی تکمیل مسیح میں ہوئی (‏پیدائش ۱۲:‏۳)‏؛ کنعان یعنی اِسرائیل و فلسطین کی دائمی ملکیت (‏پیدائش ۱۳:‏۱۴‏،۱۵‏،۱۷)‏؛ اَن گنت فطری اور روحانی نسل (‏پیدائش ۱۳:‏۱۶؛ ۱۵:‏۵)‏؛ وہ اِسمٰعیل
اور اضحاق کے ذریعے بہت قوموں اور بادشاہوں کا باپ ہو گا (‏پیدائش ۱۷:‏۴‏،۶)‏؛ خدا کے ساتھ خصوصی تعلق (‏پیدائش ۱۷:‏۷)‏۔

موسوی عہد (‏خروج ۱۹:‏۵؛ ۲۰:‏۱۔۳۱:‏۱۸)‏

وسیع تر معنوں میں‏، موسوی عہد میں دس احکام شامل ہیں‏، جن میں خدا اور اپنے ہم جنس اِنسان سے متعلق فرائض کا بیان ہے (‏خروج ۲۰:‏۱۔۲۶)‏؛ اِسرائیل کی سماجی زندگی سے متعلق متعدد قوانین (‏خروج ۲۱:‏۱۔۲۴:‏۱۱)‏‏، مذہبی زندگی سے متعلق
تفصیلی رسومات (‏خروج ۲۴:‏۱۲۔ ۳۱:‏۱۸)‏۔ یہ احکامات غیر قوموں کو نہیں بلکہ بنی اِسرائیل کو دیئے گئے۔ یہ مشروط عہد تھا جس میں اِنسان سے فرماں برداری کا تقاضا کیا گیا۔ چنانچہ یہ ’’جسم کے سبب سے ’’کمزور‘‘ تھا (‏رومیوں ۸:‏۳)‏؛ اِس کا
مقصد نجات دینا نہیں‏، بلکہ گناہ کے لئے قائلیت پیدا کرنا اور ناکامی ظاہر کرنا تھا۔ نئے عہدنامے میں دس احکامات میں سے نو کو دُہرایا گیا ہے (‏سوائے سبت کے)‏‏، شریعت کے طور پر نہیں جس کے ساتھ سزا وابستہ ہے بلکہ یہ فضل کے ذریعے نجات
یافتہ لوگوں کا موزوں رویہ ہے۔ مسیحی شریعت کے ماتحت نہیں بلکہ فضل کے ماتحت ہے۔ وہ مسیح کی شریعت (‏۱۔کرنتھیوں ۹:‏۲۱)‏ کے تابع ہے اور یہ اعلیٰ تحریک ہے۔

فلستینی عہد (‏اِستثنا۳۰:‏۱۔۹)‏

اِس عہد کا مستقبل میں اُس سرزمین پر قابض ہونے سے تعلق تھا‏، جس کا خدا نے ابرہام سے وعدہ کیا تھا‏، یعنی دریائے مصر سے لے کر دریائے فرات تک (‏پیدائش ۱۵:‏۱۸)‏۔ اِسرائیل نے کبھی بھی پورے طور پر اِس سرزمین پر قبضہ حاصل نہ کیا۔ سلیمان
کے عہد میں مشرقی حصے کے ممالک باج گزار بن گئے (‏۱۔سلاطین ۴:‏۲۱‏،۲۴)‏‏، لیکن اِسے قبضہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فلستینی عہد میں اِسرائیل کی نافرمانی کے باعث اُن کا قوموں میں تِتر بِتر ہونا اور اُن کی واپسی‏، خداوند کی طرف اُن کا رجوع لانا‏، خداوند کی دوسری آمد‏، اُن کا ملک میں دوبارہ اکٹھا کیا جانا‏، ملک میں اُن کی ترقی و خوش حالی‏، اُن
کے دل کی تبدیلی (‏خداوند سے محبت اور فرماں برداری کا اِظہار)‏ اور اُن کے دشمنوں کی سزا شامل ہے۔

داؤد کے ساتھ عہد (‏۲۔سموئیل ۷:‏۵۔۱۹)‏

خدا نے داؤد سے نہ صرف یہ وعدہ کیا کہ اُس کی سلطنت ہمیشہ قائم رہے گی‏، بلکہ اُس کی نسل ہمیشہ تخت نشین رہے گی۔ یہ ایک غیر مشروط عہد تھا‏، اور اِس کا داؤد کی فرماں برداری اور راست بازی پر اِنحصار نہیں تھا۔ یوسف کے نسب نامے کے مطابق
مسیح سلیمان کے ذریعے داؤد کے تخت کا جائز وارث ہے (‏متی پہلا باب)‏۔

وہ مریم کے نسب نامے کے مطابق ناتن کے ذریعے داؤد کی نسل سے ہے (‏لوقا ۳ باب)‏۔ چونکہ وہ ابد تک زندہ ہے‏، اِس لئے اُس کی بادشاہی ابدی ہے۔ زمین پر اُس کی ہزار سالہ بادشاہی‏، ابدی بادشاہی میں ضم ہو جائے گی۔

سلیمانی عہد (‏۲۔سموئیل ۷:‏۱۲۔۱۵؛ ۱۔سلاطین ۸:‏۴‏،۵؛ ۲۔تواریخ ۷:‏۱۱‏،۱۲)‏

جہاں تک ابدی سلطنت کا تعلق ہے‏، سلیمان کے ساتھ عہد غیر مشروط تھا۔ لیکن اُس کی نسل کے تخت نشین ہونے کے سلسلے میں یہ مشروط تھا (‏۱۔سلاطین ۸:‏۴‏،۵؛ ۲۔تواریخ ۷:‏۱۷‏،۱۸)‏۔ سلیمان کی نسل میں سے کونیاہ (‏جسے یکونیاہ بھی کہا گیا ہے)‏ کو
داؤد کے تخت پر بیٹھنے کے لئے جسمانی نسل سے محروم کر دیا گیا (‏یرمیاہ ۲۲:‏۳۰)‏۔ یسوع سلیمان کی نسل سے نہ تھا‏، جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے‏، ورنہ وہ بھی یکونیاہ کی لعنت کی زَد میں آتا۔

نیا عہد (‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۱۔۳۴؛ عبرانیوں ۸:‏۷۔۱۲؛ لوقا ۲۲:‏۲۰)‏

نیا عہد واضح طور پر اِسرائیل اور یہوداہ کے گھرانے کے ساتھ باندھا گیا ہے (‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۱)‏۔ جب یرمیاہ نے یہ عہد لکھا تو اِس عہد کا تعلق مستقبل سے تھا (‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۱)‏۔ موسوی عہد کی مانند جسے بنی اِسرائیل نے توڑ دیا‏، یہ عہد
مشروط نہیں تھا (‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۲)‏۔ اِس میں خدا غیر مشروط طور پر وعدے کرتا ہے (‏ملاحظہ فرمائیے بار بار کہا گیا ہے ’’مَیں کروں گا‘‘)‏۔ اِسرائیل کی نئی پیدائش (‏حزقی ایل ۳۶:‏۲۵)‏‏، روح القدس کی دِلوں میں سکونت (‏حزقی ایل ۳۶:‏۲۷)‏۔
وہ اُنہیں ایسا دل دے گا جو خدا کی مرضی کو پورا کرے گا (‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۳ الف)‏ خدا اور اُس کے لوگوں کے درمیان منفرد تعلقات ہوں گے (‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۳ ب)‏‏، اِسرائیل میں ہر خاص و عام خداوند کے علم سے رُوشناس ہو گا (‏۳۱:‏۳۴ الف)‏؛ گناہوں
کو معاف کر کے اُنہیں بھلا دیا جائے گا (‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۴ ب)‏ اور قوم کا وجود ہمیشہ قائم رہے گا (‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۵۔۳۷)‏۔

اسرائیل نے مِن حیث القوم ابھی تک نئے عہد سے اِستفادہ نہیں کیا‏، لیکن وہ خداوند کی دوسری آمد پر اِس سے مستفید ہوں گے۔ اِن ایام میں حقیقی ایمان دار عہد کی بعض ایک برکتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کلیسیا کا تعلق نئے عہد سے ہے۔ اِس
حقیقت کو ہم عشائے ربانی میں دیکھتے ہیں‏، جس میں پیالہ اِس عہد کو ظاہر کرتا ہے اور خون جس سے اِس کی تصدیق ہوتی ہے (‏لوقا ۲۲:‏۲۰؛ ۱۔کرنتھیوں ۱۱:‏۲۵)‏۔ پولس اور دیگر رسولوں نے اپنے آپ کو نئے عہد کے خادم کہا (‏۲۔کرنتھیوں ۳:‏۶)‏۔

ہر ایک جاندار کا جوڑا اور اُن کے لئے خوراک کشتی میں لائی گئی۔ نقاد یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کشتی میں اِتنی گنجائش نہیں تھی کہ اِس میں ہر ایک نسل کے جاندار اور اُن کے لئے ایک سال سترہ دِنوں کے لئے خوراک رکھی جا سکے۔ ممکن ہے کہ کشتی
میں صرف بنیادی قسم کے جانور اور پرندے رکھے گئے ہوں‏، اور اُن کی مختلف نسلیں بعد میں ظہور پذیر ہوئی ہوں۔ کشتی میں اُن جانداروں کے لئے کافی حد تک گنجائش تھی۔

کِتابِ مُقدّس

۱۔جب رُویِ زمِین پر آدمی بُہت بڑھنے لگے اور اُن کے بیٹیاں پَیدا ہُوئیِں۔
۲۔تو خُدا کے بیٹوں نے آدمی کی بیٹِیوں کو دیکھا کہ وہ خُوب صُورت ہیں اور جِن کو اُنہوں نے چُنا اُن سے بیاہ کر لِیا۔
۳۔تب خُداوند نے کہا کہ میری رُوح اِنسان کے ساتھ ہمیشہ مُزاحمت نہ کرتی رہے گی کیونکہ وہ بھی تو بشر ہے تَو بھی اُس کی عُمر ایک سَو بِیس برس کی ہو گی۔
۴۔اُن دِنوں میں زمِین پر جبّار تھے اور بعد میں جب خُدا کے بیٹے اِنسان کی بیٹِیوں کے پاس گئے تو اُن کے لِئے اُن سے اَولاد ہُوئی۔ یہی قدِیم زمانہ کے سُورما ہیں جو بڑے نامور ہُوئے ہیں۔
۵۔اور خُداوند نے دیکھا کہ زمِین پر اِنسان کی بدی بُہت بڑھ گئی اور اُس کے دِل کے تصوُّر اور خیال سدا بُرے ہی ہوتے ہیں۔
۶۔تب خُداوند زمِین پر اِنسان کو پَیدا کرنے سے ملُول ہُؤا اور دِل میں غم کِیا۔
۷۔اور خُداوند نے کہا کہ مَیں اِنسان کو جِسے مَیں نے پَیدا کِیا رُویِ زمِین پر سے مِٹا ڈالُوں گا۔ اِنسان سے لے کر حَیوان اور رینگنے والے جاندار اور ہوا کے پرِندوں تک کیونکہ مَیں اُن کے بنانے سے ملُول ہُوں۔
۸۔مگر نُوحؔ خُداوند کی نظر میں مقبُول ہُؤا۔
۹۔نُوحؔ کا نسب نامہ یہ ہے۔ نُوحؔ مَردِ راست باز اور اپنے زمانہ کے لوگوں میں بے عَیب تھا اور نُوحؔ خُدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔
۱۰۔اور اُس سے تِین بیٹے سِمؔ حامؔ اور یافتؔ پَیدا ہُوئے۔
۱۱۔پر زمِین خُدا کے آگے ناراست ہو گئی تھی اور وہ ظُلم سے بھری تھی۔
۱۲۔اور خُدا نے زمِین پر نظر کی اور دیکھا کہ وہ ناراست ہو گئی ہے کیونکہ ہر بشر نے زمِین پر اپنا طرِیقہ بِگاڑ لِیا تھا۔
۱۳۔اور خُدا نے نُوحؔ سے کہا کہ تمام بشر کا خاتِمہ میرے سامنے آ پُہنچا ہے کیونکہ اُن کے سبب سے زمِین ظُلم سے بھر گئی۔ سو دیکھ مَیں زمِین سمیت اُن کو ہلاک کرُوں گا۔
۱۴۔تُو گوپھر کی لکڑی کی ایک کشتی اپنے لِئے بنا۔ اُس کشتی میں کوٹھرِیاں تیّار کرنا اور اُس کے اندر اور باہر رال لگانا۔
۱۵۔اور اَیسا کرنا کہ کشتی کی لمبائی تِین سَو ہاتھ۔ اُس کی چَوڑائی پچاس ہاتھ اور اُس کی اُونچائی تِیس ہاتھ ہو۔
۱۶۔اور اُس کشتی میں ایک رَوشن دان بنانا اور اُوپر سے ہاتھ بھر چھوڑ کر اُسے ختم کر دینا اور اُس کشتی کا دروازہ اُس کے پہلُو میں رکھنا اور اُس میں تِین درجے بنانا۔ نِچلا۔ دُوسرا اور تِیسرا۔
۱۷۔اور دیکھ مَیں خود زمِین پر پانی کا طُوفان لانے والا ہُوں تاکہ ہر بشر کو جِس میں زِندگی کا دَم ہے دُنیا سے ہلاک کر ڈالُوں اور سب جو زمِین پر ہیں مَر جائیں گے۔
۱۸۔پر تیرے ساتھ مَیں اپنا عہد قائِم کرُوں گا اور تُو کشتی میں جانا۔ تُو اور تیرے ساتھ تیرے بیٹے اور تیری بِیوی اور تیرے بیٹوں کی بِیویاں۔
۱۹۔اور جانوروں کی ہر قِسم میں سے دو دو اپنے ساتھ کشتی میں لے لینا کہ وہ تیرے ساتھ جیتے بچیں۔ وہ نر و مادہ ہوں۔
۲۰۔اور پرِندوں کی ہر قِسم میں سے اور چرندوں کی ہر قِسم میں سے اور زمِین پر رینگنے والوں کی ہر قِسم میں سے دو دو تیرے پاس آئیں تاکہ وہ جِیتے بچیں۔
۲۱۔اور تُو ہر طرح کی کھانے کی چِیز لے کر اپنے پاس جمع کر لینا کیونکہ یِہی تیرے اور اُن کے کھانے کو ہو گا۔
۲۲۔اور نُوحؔ نے یُوں ہی کِیا۔ جَیسا خُدا نے اُسے حُکم دِیا تھا وَیسا ہی عمل کِیا۔