پیَدایش ۲۵

(‏۱۲)‏ ابرہام کی نسل (‏۲۵:‏۱۔۱۸)‏

۲۵:‏۱۔۶۱۔تواریخ ۱:‏۳۲ میں قطورہ کو ابرہام کی حرم کہا گیا ہے۔ آیت ۶ سے اِس کی تصدیق ہوتی ہے۔ یوں اُس کا بیوی سے کم مقام تھا‏، یعنی گھر میں اُسے بیوی کے پورے حقوق حاصل نہ تھے۔ ایک بار پھر خدا‏،
ازدواجی بے قاعدگی کی نشاندہی کرتا ہے جسے اُس نے کبھی بھی پسند نہ کیا۔

۲۵:‏۷۔۱۸ ابرہام نے ایک سو پچھتر برس کی عمر میں دم چھوڑ دیا۔ وہ دوسرا شخص تھا جسے حبرون کی غار میں دفن کیا گیا۔ ۱۲۔۱۶ آیات میں مذکور اِسمٰعیل کے بارہ بیٹوں سے ابرہام کے ساتھ خدا کے وعدے کی تکمیل
ہوتی ہے۔ ’’اُس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے‘‘ (‏۱۷:‏۲۰)‏۔ اسمٰعیل کی موت کے بعد بائبلی بیان میں اضحاق مرکزی حیثیت اِختیار کر لیتا ہے۔

ب۔ اِضحاق (‏۲۵:‏۱۹۔۲۶:‏۳۵)‏

(‏۱)‏ اِضحاق کا خاندان (‏۲۵:‏۱۹۔۳۴)‏

۲۵:‏۱۹۔۲۶ شادی کے تقریباً بیس سال بعد تک ربقہ بانجھ تھی۔ تب‏، اضحاق کی دعا کے جواب میں وہ حاملہ ہوئی۔ اُس کے بطن میں دو لڑکوں کی مزاحمت نے اُسے پریشان کر دیا‏، حتیٰ کہ اُسے بتایا گیا کہ اُس کے بیٹے
دو مخالف قوموں (‏اِسرائیل اور ادومی)‏ کے سردار ہوں گے۔ جُڑواں بیٹوں میں سے پہلوٹھے کا نام عیسو (‏بالوں والا)‏ اور دوسرے کا نام یعقوب (‏اڑنگا لگانے والا)‏ رکھا گیا۔ حتیٰ کہ پیدائش پر ہی یعقوب نے عیسو کی ایڑی کو پکڑنے سے اُس پر
حاوی ہونے کی کوشش کی۔ اضحاق ساٹھ برس کا تھا جب اُس کے جڑواں بیٹے پیدا ہوئے۔

۲۵:‏۲۷‏،۲۸ جب یہ دونوں لڑکے بڑھے تو عیسو ماہر شکاری بن گیا اور اِس کے برعکس یعقوب دِھیمے مزاج کا ڈیرے میں رہنے والا تھا۔ اضحاق عیسو کو زیادہ پیار کرتا تھا‏، لیکن ربقہ یعقوب کو پیار کرتی تھی۔ شاید
وہ امی کا لاڈلا تھا۔

۲۵:‏۲۹۔۳۴ پہلوٹھا ہونے کی حیثیت سے عیسو باپ کی ملکیت کے دُگنے حصے کا وارث ہونے کا مستحق تھا __ یعنی جو حصہ کسی دوسرے بیٹے کو ملتا‏، اُس سے دوگنا حصہ اُسے ملتا۔ اِسے پیدائشی حق کہا جاتا تھا۔ وہ اپنے
قبیلے اور خاندان کا سربراہ بنتا۔ عیسو کے سلسلے میں اِس کا یہ بھی مطلب ہوتا کہ وہ مسیح کے آبا و اجداد میں سے ہو۔ ایک دن جب عیسو شکار کر کے واپس آیا تو اُس نے دیکھا کہ یعقوب کوئی لال لال شے پکا رہا ہے۔ اُس نے لال لال شے حاصل کرنے
کے لئے اِس قدر منت سماجت کی کہ اُس کا نام ’’ادوم‘‘ (‏یعنی لال)‏ پڑ گیااور یہ نام اُس کی اولاد کے ساتھ چسپاں ہو گیا یعنی وہ ادُومی کہلائے۔ جب یعقوب نے پہلوٹھے کے حق کے عوض دال کی پیش کش کی تو عیسو کی حماقت یہ تھی کہ وہ مان گیا۔
اِس دال کے لئے وہی چاہت تھی جو ممنوعہ پھل کے لئے خواہش تھی۔ آیت ۲۳ کی پیش گوئی کی جُزوی طور پر ۲۹۔۳۴ آیات میں تکمیل ہو گئی۔ خدا یعقوب کے اِس طریقِ کار کو نظر انداز نہیں کرتا‏، لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ __ یعقوب نے پہلوٹھے کے
حق کی اہمیت کی قدر کی اور دین دارانہ نسل میں اپنے مقام کو عزت کی نگاہ سے دیکھا‏، جب کہ عیسو نے اپنی جسمانی بھوک کی تسکین کو روحانی برکتوں پر ترجیح دی۔

یہ باب یوں اِختتام پذیر ہوتا ہے کہ عیسو نے اپنے پہلوٹھے ہونے کے حق سے کیا سلوک کیا نہ کہ یعقوب نے اپنے بھائی سے کیا سلوک کیا۔ عیسو کی نسل اِسرائیل کی سخت دشمن بنی۔ عبدیاہ کی کتاب میں اُن کے حتمی انجام کا اعلان کیا گیا ہے۔

کِتابِ مُقدّس

۱۔اور ابرہامؔ نے پِھر ایک اور بِیوی کی جِس کا نام قطُورہؔ تھا۔
۲۔اور اُس سے زِمرانؔ اور یُقسانؔ اور مِدانؔ اور مِدیانؔ اور اِسباؔق اور سُوخؔ پَیدا ہُوئے۔
۳۔اور یُقسانؔ سے سِباؔ اور دداؔن پَیدا ہُوئے اور ددانؔ کی اَولاد سے اَسُوریؔ اور لطوسیؔ اور لُومیؔ تھے۔
۴۔اور مِدیانؔ کے بیٹے عیفاہؔ اور عِفر ؔاور حنُوؔک اور ابیداعؔ اور الدوعاؔ تھے۔ یہ سب بنی قطُورؔہ تھے۔
۵۔اور ابرہامؔ نے اپنا سب کُچھ اِضحاقؔ کو دِیا۔
۶۔اور اپنی حرموں کے بیٹوں کو ابرہامؔ نے بُہت کُچھ اِنعام دے کر اپنے جِیتے جی اُن کو اپنے بیٹے اِضحاقؔ کے پاس سے مشرِق کی طرف یعنی مشرِق کے مُلک میں بھیج دِیا۔
۷۔اور ابرہامؔ کی کُل عُمر جب تک کہ وہ جِیتا رہا ایک سَو پچھتّر برس کی ہُوئی۔
۸۔تب ابرہامؔ نے دَم چھوڑ دِیا اور خُوب بُڑھاپے میں نِہایت ضعِیف اور پُوری عُمر کا ہو کر وفات پائی اور اپنے لوگوں میں جا مِلا۔
۹۔اور اُس کے بیٹے اِضحاقؔ اور اِسمٰعیلؔ نے مَکفیلہؔ کے غار میں جو مَمرے کے سامنے حِتّی صُحرؔ کے بیٹے عِفرونؔ کے کھیت میں ہے اُسے دفن کِیا۔
۱۰۔یہ وُہی کھیت ہے جِسے ابرہامؔ نے بنی حِتؔ سے خرِیدا تھا۔ وہِیں ابرہامؔ اور اُس کی بِیوی سارہؔ دفن ہُوئے۔
۱۱۔اور ابرہامؔ کی وفات کے بعد خُدا نے اُس کے بیٹے اِضحاقؔ کو برکت بخشی اور اِضحاقؔ بئیر لَحی روئیؔ کے نزدِیک رہتا تھا۔
۱۲۔یہ نسب نامہ ابرہامؔ کے بیٹے اِسمٰعیلؔ کا ہے جو ابرہامؔ سے سارہؔ کی لَونڈی ہاجرہؔ مِصری کے بطن سے پَیدا ہُؤا۔
۱۳۔اور اِسمٰعیلؔ کے بیٹوں کے نام یہ ہیں۔ یہ نام ترتِیب وار اُن کی پَیدایش کے مُطابِق ہیں۔ اِسمٰعیلؔ کا پہلوٹھا نبایوتؔ تھا۔ پِھر قِیدارؔ اور اَدبئیلؔ اور مِبسامؔ۔
۱۴۔اور مِشماعؔ اور دُومہؔ اور مسّاؔ۔
۱۵۔حددؔ اور تَیماؔ اور یطُورؔ اور نفیسؔ اور قِدمہؔ۔
۱۶۔یہ اِسمٰعیلؔ کے بیٹے ہیں اور اِن ہی کے ناموں سے اِن کی بستِیاں اور چھاؤنیاں نامزد ہُوئِیں اور یِہی بارہ اپنے اپنے قبِیلہ کے سردار ہُوئے۔
۱۷۔اور اِسمٰعیلؔ کی کُل عُمر ایک سَو سَینتِیس برس کی ہُوئی تب اُس نے دَم چھوڑ دِیا اور وفات پائی اور اپنے لوگوں میں جا مِلا۔
۱۸۔اور اُس کی اَولاد حویلہؔ سے شورؔ تک جو مِصرؔ کے سامنے اُس راستہ پر ہے جِس سے اَسُورؔ کو جاتے ہیں آباد تھی۔ یہ لوگ اپنے سب بھائِیوں کے سامنے بسے ہُوئے تھے۔
۱۹۔اور ابرہامؔ کے بیٹے اِضحاقؔ کا نسب نامہ یہ ہے۔ ابرہامؔ سے اِضحاقؔ پَیدا ہُؤا۔
۲۰۔اِضحاقؔ چالِیس برس کا تھا جب اُس نے رِبقہؔ سے بیاہ کِیا جو فدّان ارامؔ کے باشِندہ بیتُوایلؔ ارامی کی بیٹی اور لابنؔ ارامی کی بہن تھی۔
۲۱۔اور اِضحاقؔ نے اپنی بِیوی کے لِئے خُداوند سے دُعا کی کیونکہ وہ بانجھ تھی اور خُداوند نے اُس کی دُعا قبُول کی اور اُس کی بِیوی رِبقہؔ حامِلہ ہُوئی۔
۲۲۔اور اُس کے پیٹ میں دو لڑکے آپس میں مُزاحمت کرنے لگے۔ تب اُس نے کہا اگر اَیسا ہی ہے تو مَیں جِیتی کیوں ہُوں؟ اور وہ خُداوند سے پُوچھنے گئی۔
۲۳۔خُداوند نے اُسے کہا دو قومیں تیرے پیٹ میں ہیں اور دو قبیلے تیرے بطن سے نِکلتے ہی الگ الگ ہو جائیں گے اور ایک قبیلہ دُوسرے قبیلہ سے زورآور ہو گا اور بڑا چھوٹے کی خِدمت کرے گا۔
۲۴۔اور جب اُس کے وضعِ حمل کے دِن پُورے ہُوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اُس کے پیٹ میں تَوأم ہیں۔
۲۵۔اور پہلا جو پَیدا ہُؤا تو سُرخ تھا اور اُوپر سے اَیسا جَیسے پشمِینہ اور اُنہوں نے اُس کا نام عیسوؔ رکھّا۔
۲۶۔اُس کے بعد اُس کا بھائی پَیدا ہُؤا اور اُس کا ہاتھ عیسوؔ کی ایڑی کو پکڑے ہُوئے تھا اور اُس کا نام یعقُوبؔ رکھّا گیا۔ جب وہ رِبقہؔ سے پَیدا ہُوئے تو اِضحاقؔ ساٹھ برس کا تھا۔
۲۷۔اور وہ لڑکے بڑھے اور عیسوؔ شِکار میں ماہِر ہو گیا اور جنگل میں رہنے لگا اور یعقُوبؔ سادہ مِزاج ڈیروں میں رہنے والا آدمی تھا۔
۲۸۔اور اِضحاقؔ عیسوؔ کو پیار کرتا تھا کیونکہ وہ اُس کے شِکار کا گوشت کھاتا تھا اور رِبقہؔ یعقُوبؔ کو پیار کرتی تھی۔
۲۹۔اور یعقُوبؔ نے دال پکائی اور عیسوؔ جنگل سے آیا اور بے دَم ہو رہا تھا۔
۳۰۔اور عیسوؔ نے یعقُوبؔ سے کہا کہ یہ جو لال لال ہے مُجھے کِھلا دے کیونکہ مَیں بے دَم ہو رہا ہُوں۔ اِسی لِئے اُس کا نام ادُوؔم بھی ہو گیا۔
۳۱۔تب یعقُوبؔ نے کہا تُو آج اپنا پہلوٹھے کا حق میرے ہاتھ بیچ دے۔
۳۲۔عیسوؔ نے کہا دیکھ مَیں تو مرا جاتا ہُوں پہلوٹھے کا حق میرے کِس کام آئے گا؟
۳۳۔تب یعقُوبؔ نے کہا کہ آج ہی مُجھ سے قَسم کھا۔ اُس نے اُس سے قَسم کھائی اور اُس نے اپنا پہلوٹھے کا حق یعقُوبؔ کے ہاتھ بیچ دِیا۔
۳۴۔تب یعقُوبؔ نے عیسوؔ کو روٹی اور مسُور کی دال دی۔ وہ کھا پی کر اُٹھا اور چلا گیا۔ یُوں عیسوؔ نے اپنے پہلوٹھے کے حق کو ناچِیز جانا۔