پیَدایش ۴۴

۴۴:‏۱۔۱۳ جب بھائی کنعان کو واپس جانے لگے تو یوسف نے حکم دیا کہ اُس کا چاندی کا پیالہ بنیمین کے بورے میں چھپا دیا جائے۔ نہ صرف اِس پیالے سے وہ مے پیتا بلکہ فال کھولنے کے لئے بھی اِسے استعمال کرتا تھا __ شاید اِس کا مطلب خوابوں کی تعبیر تھا۔ 

بعد ازاں خدا کے لوگوں کو فالگیری سے منع کر دیا گیا (‏اِستثنا ۱۸:‏۱۰۔۱۲)‏۔ لیکن اِن اِبتدائی ایام میں بھی ممکن نہیں لگتا کہ یوسف فال کھولنے کے لئے مصری طریقہ استعمال کرتا ہو۔ اُسے خدا کی طرف سے ہدایت و بصیرت حاصل ہوتی تھی‏، لیکن شاید اِس پیالے کی مدد سے وہ اپنے بھائیوں پر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ وہ واقعی مصری ہے۔ 

بعض ازاں جب یوسف کے بھائیوں پر پیالہ چرانے کا الزام لگایا گیا تو اُنہوں نے اپنی بے گناہی پر اِصرار کیا اور بڑی جلد بازی سے اعلان کر دیا کہ جس کے پاس سے یہ پیالہ ملے اُسے ہلاک کر دیا جائے۔ یوسف کا منتظم اِس بات پر متفق ہو گیا کہ مجرم اُس کا غلام بن جائے گا۔ جب پیالہ بنیمین کے بورے سے برآمد ہوا تو وہ سب سخت پریشان ہو کر شہر کو واپس مڑے۔

۴۴:‏۱۴۔۱۷ جب یوسف نے اُنہیں ملامت کی تو یہوداہ نے رضامندی کا اِظہار کیا کہ وہ سب اُس کے غلام بن جائیں گے‏، لیکن یوسف نے کہا کہ صرف بنیمین ہی اُس کا غلام بنے گا‏، اور باقی گھر واپس جا سکتے ہیں۔ بنیمین کے بورے میں چاندی کا پیالہ رکھنے اور اُسے واپس جانے سے روکنے کا مقصد یہ تھا کہ اُس کے بھائی اپنے خونی واقعے کے جرم کو تسلیم کریں۔ جارج ولیم لکھتا ہے:‏

’’اُس نے اِس طور سے عمل کیا تاکہ اُن کے گناہ اُنہیں یاد دلائے جائیں اور وہ اپنی زبان سے اُن کا اِقرار کریں … شمعون اور بعد ازاں بنیمین کو روکنے کا بڑی مہارت سے منصوبہ بنایا گیا تھا تاکہ معلوم کیا جائے کہ کیا ابھی تک اُنہیں اپنے قیدی بھائی کا چلّانا اور غم زدہ باپ کے آنسو یاد ہیں۔ اُس کا منصوبہ بڑی حد تک کامیاب رہا۔ اُس کی سختی اور مہربانی نے اُنہیں بے چین کر دیا اور اُس کی نیکی نے اُن کی توبہ تک نوبت پہنچائی۔‘‘

یہ سارا منظر آنے والے ایام کی نشان دہی کرتا ہے جب اِسرائیل کا بقیہ مسیح کی موت کے سلسلے میں اپنے گناہ کا اِقرار کرے گا اور اُس کے لئے ماتم کریں گے جیسا کوئی اپنے اکلوتے کے لئے کرتا ہے (‏زکریاہ ۱۲:‏۱۰)‏۔ 

۴۴:‏۱۸۔۳۴ یہوداہ نے یوسف کے نزدیک جا کر اُسے بنیمین کو لانے کی مشکلات کا تفصیلاً بیان کیا۔ کیسے یوسف نے چھوٹے بیٹے کی موجودگی کا تقاضا کیا اور کیسے اُن کا باپ ابھی تک اپنے ایک بیٹے کے کھو جانے پر غم کرتا ہے اور بنیمین کے مصر جانے پر اُس نے کتنا اِحتجاج کیا اور کیسے یہوداہ نے اُس کی حفاظت کی ضمانت دی۔ یہوداہ نے بتایا کہ اگر بھائی بنیمین کے بغیر واپس جاتے ہیں تو اُن کا باپ مر جائے گا‏، چنانچہ اُس نے پیش کش کی کہ وہ خود بنیمین کی جگہ مصر میں رہ کر غلام کی حیثیت سے یوسف کی خدمت کرے گا۔ 

یہوداہ میں کس قدر تبدیلی آ چکی تھی! ۳۷ باب میں اُس نے بڑی بے دردی سے نفع کی خاطر یوسف کو بیچ دیا اور اُسے اپنے باپ کی دل شکنی پر ذرا ترس نہ آیا۔ ۳۸ باب میں وہ دھوکا دہی اور بدچلنی کا مرتکب ہوا۔ لیکن خدا اُس کے دل میں کام کر رہا تھا۔ چنانچہ ۴۳ باب میں وہ بنیمین کا ضامن بن گیا۔ اَب ۴۴ باب میں وہ یوسف کے سامنے سفارشی التجا کرتا ہے اور اپنے آپ کو غلام کی حیثیت سے پیش کرتا ہے تاکہ بنیمین کے کھو جانے سے اُس کا باپ مزید غم کے بوجھ تلے نہ دب جائے۔ غلامی کے لئے اپنے بھائی کو بیچنے اور اب اپنے بھائی کی خاطر غلام بننے‏، اپنے باپ کے ساتھ سنگ دِلی کے اِظہار اور اب اُس کی بھلائی کے لئے ایثار و قربانی۔ یہ سب یہوداہ کی زندگی میں خدا کے فضل کی ترقی ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ پھر اُس نے اپنے گھر کےمنُتِظم کو حُکم کیا کہ اِن آدمیوں کے بوروں میں جِتنا اناج وہ لے جاسکیں بھر دے اور ہر شخص کی نقدی اُسی کے بورے کے مُنہ میں رکھ دے۔
۲ اور میرا چاندی کا پیالہ سب سے چھوڑے کے بورے کے مُنہ میں اُسکی نقدی کے ساتھ رکھنا ۔ چنانچہ اُس نے یُوؔسف کے فرمانے کے مطُابق عمل کیا۔
۳ صُبح روشنی ہوتے ہی یہ آدمی اپنے گدوں کے ساتھ رخصت کر دیئے گئے۔
۴ وہ شہر سے نِکل کر ابھی دُور بھی نہیں گئے تھعے کہ یُوؔسف نے اپنے گھر کے منتظم سے کہا کہ جا اِن لوگوں کا پیچھا کر اور جب تک اُنکو جالے تو اُن سے کہنا کہ نیکی کے عوض تُم نے بدی کیوں کی ؟۔
۵ کیا یہ وہی چیز نہیں جِس سے میرا آقا پِیتا اور اِسی سے ٹھیک فال بھی کھولا کرتا ہے ۔؟ تُم نے جو یہ کیا سو بُرا کیا۔
۶ اور اُس نے اُنکو جا لِیا اور یہی باتیں اُن سے کہیں ۔
۷ تب اُنہوں نے اُس سے کہا کہ ہمارا خُداوند اَیسی باتیں کِیوں کہتا ہے ؟ خُدا نہ کر کہ تیرے خادِم اَیسا کام کریں ۔
۸ بھلا جو نقدی ہمکو اپنے بوروں کے مُنہ میں مِلی اُسے تو ہم مُلکِ کنعان سے تیرے پاس واپس لے آُئے ۔ پھر تیرے آقا کے گھر سے چاندی یا سونا کیونکر چُراسکتے ہیں ؟۔
۹ سو تیرے خادِموں میں سے جس کسی کے پاس وہ نکلے وہ مار دِیا جائے اور ہم بھی اپنے خُداوند کے غلام ہو جائینگے۔
۱۰ اُس نے کہا کہ تُمہارا ہی کہنا سہی۔ جسکے پاس وہ نِکل آئے وہ میرا غلام ہو گا اور تُم بے گناہ ٹھہرو گے۔
۱۱ تب اُنہوں نے جلدی کی اور ایک ایک نے اپنا بورا زمین پر اُتار لیا اور ہر شخص نے اپنا بورا کھول دِیا ۔
۱۲ سو وہ ڈُھونڈنے لگا اور سب سے بڑے سے شروع کرکے سب سے چھوٹے پر تلاشی ختم کی اور پیالہ بینؔمین کے بورے میں مِلا ۔
۱۳ تب اُنہوں نے اپنے پیراہن چاک کئِے اور ہر ایک اپنے گدھے کو لاد اُلٹا شہر کو پِھرا ۔
۱۴ اور یُؔہوداہ اور اُسکےبھائی یُوؔسف کے گھر آئے ۔ وہ اب تک وہیں تھا ۔ سو وہ اُسکےآگے زمین پر گرِے۔
۱۵ تب یُوؔسف نے اُن سے کہا تم نے یہ کیسا کام کیا؟ کیا تمکو معلوم نہیں کہ مجھ سا آدمی ٹھیک فال کھولتا ہے؟۔
۱۶ یؔہوداہ نے کہا کہ ہم اپنے خُداوند سے کیا کہیں؟۔ ہم کیا بات کریں یا کیونکر اپنے کو بری ٹھہرائیں ؟ خُدا نے تیرے خادِموں کی بدی پکڑ لی۔ سو دیکھ! ہم بھی اور وہ بھی جِسکے پاس پیالہ نِکلا دونوں اپنے خُداوند کے غلام ہیں ۔
۱۷ اُس نے کہا خُدا نہ کرے کہ میَں ایسا کروں ۔ جس شخص کے پاس یہ پیالہ نِکلا وُہی میرا غُلام ہوگا اور تُم اپنے باپ کے پاس سلامت چلے جاؤ۔
۱۸ تب یہؔوداہ اُسکے نزدیک جا کر کہنے لگا اے میرے خُداوند ذرا اپنے خادم کو اجازت دے کہ اپنے خُداوند کے کان میں ایک بات کہے اور تیرا غضب تیرے خادِم پر نہ بھڑکے کیونکہ تو فرؔعون کی مانند ہے۔
۱۹ میرے خُداوند نے اپنے خادِموں سے سوال کیا تھا کہ تمہارا باپ یا تُمہارا بھائی ہے؟۔
۲۰ اور ہم نے اپنے خُداوند سے کہا تھا کہ ہمارا ایک بوڑھا باپ ہے اور اُس کے بڑھاپے کا ایک چھوٹا لڑکا بھی ہے۔ اور اُسکا بھائی مرگیاہے اور وہ اپنی ماں کا ایک ہی رہ گیا ہے۔ سو اُسکا باپ اُس پر جان دیتا ہے۔
۲۱ تب تو نے اپنے خادموں سے کہا کہ اُسے میرے پاس لے آؤ کہ میَں اُسے دیکھوں ۔
۲۲ ہم نے اپنے خُداوند کو بتایا کہ وہ لڑکا اپنے باپ کو چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ اگر وہ اپنے باپ کو چھوڑے تو اُسکا باپ مر جائیگا۔
۲۳ پھر تو نے اپنے خادِموں سے کہا کہ جب تک تُمہارا چھو ٹا بھائی تمہارے ساتھ نہ آئے تُم پھر میرا مُنہ نہ دیکھو گے۔
۲۴ اور یُوں ہُؤا کہ جب ہم اپنے باپ کے پاس جو تیرا خادِم ہے پہنچے تو ہم نے اپنے خُداوند کی باتیں اُس سے کہیں۔
۲۵ ہمارے باپ نے کہا پھر جا کر ہمارے لئِے کچھ اناج مول لاؤ۔
۲۶ ہم نے کہا ہم نہیں جاسکے ۔ اگر ہمارا سب سے چھوٹا بھائی ہمارے ساتھ ہو تو ہم جائینگے کیونکہ جب تک ہمارا سب سے چھوٹا بھائی ہمارے ساتھ نہ ہو ہم اُس شخص کا مُنہ نہ دیکھینگے ۔
۲۷ اور تیرے خادِم میرے باپ نے ہم سے کہا تُم جانتے ہو کہ میری بیوی کے مُجھ سے دو بیٹے ہوئے۔
۲۸ ایک تو مجُھے چوڑ ہی گیا اور میَں نے خیال کیا کہ وہ ضرور پھاڑ ڈالا گیا ہوگا اور میَں نے اُسے اُس وقت سے پھر نہیں دیکھا ۔
۲۹ اب اگر تُم میرے سفید بالوں کو غم کے ساتھ قبر میں اُتاروگے۔
۳۰ سو اب اگر میں تیرے خادم اپنے باپ کے پاس جاؤں اور یہ لڑکا ہمارے ساتھ نہ ہو تو چونکہ اُسکی جان اس لڑکے کی جان کے ساتھ وابستہ ہے۔
۳۱ وہ یہ دیکھ کر کہ لڑکا نہیں آیا مر جائیگا اور تیرے خادم اپنے باپ کے جو تیرا خادم ہے سفید بالوں کو غم کے ساتھ قبر میں اُتارینگے۔
۳۲ اور تیرا خادم اپنے باپ کے سامنے اس لڑکے کا ضامن بھی ہو چُکا ہے۔ اور یہ کہا ہے کہ اگر میَں اُسے تیرے پاس واپس نہ پہنچادُوں تو میَں ہمیشہ کے لئِے اپنے باپ کا گہنگار ٹھہرؤنگا۔
۳۳ اِسلئے اب تیرے خادِم کو اجازت ہو کہ وہ اِس لڑکے کے بڈلے اپنے خُداوند کا غُلام ہو کر رہ جائے اور یہ لڑکا اپنے بھائیوں کے ساتھ چلا جائے ۔
۳۴ کیونکہ لڑکے کے بغیر میَں کیا مُنہ لیکر اپنے باپ کے پاس جاؤں ۔؟ کہیں اَیسا نہ ہو کہ مجُھے وہ مُصیبت دیکھنی پڑے جو اَیسے حال میں میرے باپ پر آئیگی۔