پیَدایش ۳۸

(‏۲)‏ یہوداہ اور تمر (‏باب ۳۸)‏

۳۸:‏۱۔۱۱ یہوداہ کے تمر کے ساتھ گناہ کی گھناؤنی کہانی‏، خدا کے فضل کو بیان کرتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند یسوع‏، یہوداہ کی نسل سے پیدا ہوا (‏لوقا ۳:‏۲۳)‏۔ تمر اُن پانچ عورتوں میں سے ایک ہے جن کا متی کے پہلے باب کے نسب نامے میں ذکر ہے۔ اِن میں سے تین تو بدچلنی کے گناہ کی مرتکب تھیں یعنی تمر‏، راحب (‏آیت ۵)‏ اور بت سبع (‏آیت ۶)‏۔ دوسری رُوت ایک غیر قوم (‏آیت ۵)‏ اور مریم ایک دین دار کنواری (‏آیت ۱۶)‏ ہے۔ پنک(‏Pink)‏ اخلاقی قصوروں کی اِس کہانی کے گہرے معانی کی نشان دہی کرتا ہے:‏ 

’’۳۷ باب اِس بیان کے ساتھ اِختتام پذیر ہوتا ہے کہ یعقوب کے بیٹے اپنے بھائی یوسف کو مدیانیوں کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں اور مدیانی اُسے مصر میں بیچ دیتے ہیں۔ یہ بالکل مسیح کا مثیل ہے جسے اِسرائیل نے ردّ کر کے غیر قوموں کے حوالے کر دیا۔ جب سے یہودی قائدین نے مسیح کو پیلاطس کے حوالے کیا‏، اُن کے من حیث القوم خدا سے تعلقات منقطع ہو گئے اور خدا نے بھی اُن سے منہ موڑ کر غیر قوموں کی طرف رجوع کیا ہے۔ چنانچہ ہمارے مثیل میں اِس مقام پر ایک اہم موڑ ہے۔ یوسف اَب غیر قوموں کے ہاتھوں میں ہے۔‘‘

یہ کوئی حادثاتی اَمر نہیں کہ ۳۸ باب سے یوسف کی کہانی کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ یوسف کے گھرانے کے دیگر افراد کے بدنام کردار کے مقابلے میں یوسف کا کردار اِس گھناؤنی دُنیا میں ستارے کی طرح چمکتا ہے۔ 

یہوداہ کی سب سے پہلی غلطی تو یہ تھی کہ اُس نے سوع کی بیٹی ایک کنعانی عورت سے شادی کی۔ اُس سے اُس کے تین بیٹے عیر‏، اونان اور سیلہ پیدا ہوئے۔ عیر نے ایک کنعانی عورت تمر سے شادی کی‏، لیکن خدا نے عیر کو اُس کی شرارت کے باعث ہلاک کر ڈالا۔ لیکن اِس شرارت کا بیان نہیں کیا گیا۔ یہ اُس وقت کا دستور تھا کہ مرحوم کا بھائی یا اَور کوئی قریبی رشتے دار بیوہ سے شادی کر کے مرحوم کے لئے اولاد پیدا کرے۔ اونان نے ایسا کرنے سے اِنکار کر دیا کیونکہ پہلوٹھا بچہ عیر کی جائیداد کا قانونی وارث ہو گا نہ کہ اُس کا قانونی بچہ وراثت کو حاصل کرے گا۔ اُس کا گناہ اِس قدر جنسی نہیں تھا‏، بلکہ اِس میں خود غرضی کا عنصر تھا۔ یہ محض ایک واحد فعل نہیں تھا بلکہ یہ مسلسل اِنکار تھا۔ اور اِس اِنکار نے اُس نسب نامے کو متاثر کیا جس سے مسیح داؤد کے تخت کا جائز وارث بننے والا تھا۔ یہ کام اِس قدر خدا کی نظر میں بُرا تھا کہ اُس نے اونان کو ہلاک کر ڈالا۔ اِس کے پیش نظر یہوداہ نے تمر کو کہا کہ وہ اپنے باپ کے گھر واپس چلی جائے جب تک کہ اُس کا تیسرا بیٹا سیلہ شادی کے قابل نہ ہو۔ یہ محض ایک چال تھی۔ وہ سیلہ کو تمر سے ہرگز بیاہنے کے لئے تیار نہ تھا۔ وہ پہلے ہی دو بیٹے کھو چکا تھا اِس لئے وہ اُسے ’’بد شگون عورت‘‘ تصور کرتا تھا۔ 

۳۸:‏۱۲۔۲۳ جب سیلہ جوان ہو گیا اور یہوداہ تمر کے ساتھ اُس کی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا تو اُس نے اُسے اپنی چال میں پھنسانے کا فیصلہ کر لیا۔ اُس نے کسبی کا لباس پہنا اور تمنع کو جانے والی سڑک پر ایک کھلی جگہ پر جا بیٹھی‏، جہاں سے یہوداہ بھیڑوں کی پشم کترنے والوں کے پاس جا رہا تھا۔ اُس نے اُس کے ساتھ مباشرت کی اور اُسے علم نہیں تھا کہ وہ اُس کی اپنی بہو ہے۔ اِس فعل کا معاوضہ بکری کا ایک بچہ ٹھہرا اور کسبی نے یہ مطالبہ کیا کہ جب تک وہ بکری کا بچہ نہ بھیجے وہ اپنی مُہر‏، بازُو بند اور لاٹھی اُس کے پاس رہن رکھ دے۔ شاید بازُو بند وہ ڈوری تھی جس کے ساتھ مُہر لٹکی ہوئی تھی۔ جب یہوداہ نے کوشش کی کہ اُسے بکری کا بچہ دے کر رہن کی چیزیں واپس لے تو ’کسبی‘ کو تلاش نہ کر سکا۔ 

۳۸:‏۲۴۔۲۶ تین ماہ کے بعد تمر پر ایک اِلزام لگا دیا گیا کہ اُس نے کسبی کا کردار ادا کیا کیونکہ وہ بیوہ ہوتے ہوئے حاملہ تھی۔ یہوداہ نے حکم دیا کہ اُسے جلا دیا جائے۔ اِس موقعے پر اُس نے رہن کی چیزیں دکھائیں اور بتایا کہ اِن چیزوں کا مالک اُس متوقع بچے کا باپ ہے۔ یہ واضح ثبوت تھا کہ یہوداہ نے تمر کے ساتھ مباشرت کی ہے۔ والٹر سی۔ رائٹ اِس منظر کو یوں بیان کرتا ہے:‏

’’یہوداہ کے ساتھیوں نے اُسے خبر دی کہ اُس کی بہو تمر نے کسبی کا کردار ادا کیا ہے۔ اُس کا فیصلہ فوری اور حتمی تھا کہ وہ جلائیجائے۔ یہاں پس و پیش اور سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جب اُس کی زبان سے یہ خوف ناک جملہ ادا ہوتا ہے‏، اُس کی آواز میں کسی طرح کا کوئی لرزہ نہیں ہے۔ اِسرائیلی سماج کو ایسی حماقت اور بدی سے ضرور محفوظ رکھنا ہو گا۔ اعلان کر دیا گیا۔ دن مقرر ہو چکا ہے‏، تیاریاں ہو چکی ہیں۔ زندہ جلانے کے لئے کھمبا گاڑ دیا گیا ہے۔ لکڑیوں کا ڈھیڑ جمع کر دیا گیا‏، جلوس تیار ہو چکا ہے۔ لوگ اکٹھے ہو چکے ہیں اور وہ عورت اپنے انجام کے لئے آگے آتی ہے۔ لیکن وہ اپنے ہاتھوں میں نشان‏، یعنی رہن کی چیزیں تھامے ہوئے ہے‏، اُس کے ہاتھوں میں لاٹھی اور مُہر ہیں۔ اور یہ لاٹھی یہوداہ کی لاٹھی ہے اور یہ اُس کی مُہر ہے۔ اور رہن کی یہ چیزیں اُس کے منصف پر الزام بن جاتی ہیں۔ اُس کے جملے کا اب کیا وزن رہ جاتا ہے؟‘‘

۳۸:‏۲۷۔۳۰ جب تمر جننے لگی تو ایک بچے کا ہاتھ پہلے نکلا‏، اور دائی نے اِس پر لال ڈورا باندھ دیا تاکہ یاد رہے کہ یہ پہلے پیدا ہوا تھا۔ لیکن ہاتھ پھر کھینچ لیا گیا اور ایک اَور بچہ پہلے پیدا ہو گیا۔ اُس نے پہلے پیدا ہونے والے بچے کا نام فارص (‏تُو نے اپنے لئے کیسا چاک بنا لیا)‏ اور دوسرے کا نام زارح رکھا۔ اِن دونوں جڑواں بھائیوں کا ذکر متی ۱:‏۳ میں ہے‏، حالانکہ مسیح فارص کی پشت سے پیدا ہوا۔ زارح عکن کے آبا و اجداد میں سے تھا (‏یشوع ۷:‏۱)‏۔ 

یہوداہ کی ایک کنعانی عورت سے شادی (‏آیت ۲)‏ خدا کے لوگوں کا ایسی نسل سے میل جول کی طرف پہلا قدم تھا جو بداخلاقی کے لئے بدنامِ زمانہ نسل تھی۔ بنی اِسرائیل شہوت پرستی سے منسلک کائنات پرستی سے ناپاک ہو جانے والے تھے۔ خدا علیٰحدگی کا خدا ہے‏، اور جب ہم دُنیا سے میل جول بڑھاتے ہیں تو ہمیں اِس کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ اُنہی دِنوں میں اَیسا ہُوا کہ یہؔوداہ اپنے بھائیوں سے جُدا ہو کر ایک عؔدلاّمی آدمی کے پاس جِسکا نام حِیرؔہ تھا گیا۔
۲ اور یُہودؔاہ نے وہاں سُنوؔع نام کِسی کنعانی کی بیٹی کو دیکھا اور اُس سے بیاہ کرکے اُسکے پاس گیا۔
۳ وہ حامِلہ ہوئی اور اُسکے ایک بیٹا ہُوا جِسکا نام اُس نے عؔیر رکھا۔
۴ اور پِھر حاملہ ہُوئی اور ایک بیٹا ہُؤا اُسکا نام اوؔنان رکھاّ ۔
۵ پھر اُسکے ایک اَور بیٹا ہُوا اور اُسکا نام سؔیلہ رکّھا اور یُہوؔداہ کؔزیب میں تھا جب اِس عورت کے یہ لڑکا ہؤا ۔
۶ اور یؔہوداہ اپنے پہلوٹھے بیٹے عیر کے لئے ایک عورت بیاہ لایا جسکا نام تؔمر تھا۔
۷ اور یُہودؔاہ کا پہلوٹھا بیٹا عؔیر خُداوند کی نِگاہ میں شریر تھا ۔ سو خُداوند نے اُسے ہلاک کر دیا۔
۸ تب یؔہوداہ نے اونانؔ سے کہا کہ اپنے بھائی کی بیوی کے پاس جا اور دیور کا حق ادا کر تاکہ تیرے بھائی کے نام سے نسل چلے۔
۹ اور اوؔنان جانتا تھا کہ یہ نسل میری نہ کہلائیگی ۔ سو یُوں ہُوا کہ جب وہ اپنے بھائی کی بیوی کے پاس جاتا تو نطُفہ کو زمین پر گرا دیتا تھا کہ مبادا اُسکے بھا ئی کے نام سے نسل چلے ۔
۱۰ اور اُسکا یہ کام خُداوند کی نظر میں بہت بُرا تھا اِسلئے اُس نے اُسے بھی ہلاک کیا۔
۱۱ تب یہُؔوداہ نے اپنی بہُو تمؔر سے کہ کہ میرے بیٹے سؔیلہ کے بالغ ہونے تک تُو اپنے باپ کے گھر بیوہ بَیٹھی رہ کیونکہ اُس نے سوچا کہ کہیں یہ بھی اپنے بھائیوں کی طرح ہلاک نہ ہو جائے سو تؔمر اپنے باپ کے گھر میں جا کر رہنے لگی ۔
۱۲ اور ایک عرصہ کے بعد اَیسا ہوا کہ سُؔوع کی بیٹی جو یُہوؔداہ کی بیوی تھھی مر گئی اور جب ُیہؔوداہ کو اُسکا غم بُھولا تو وہ اپنے عدُلاّمی دوست حِیرؔہ کے ساتھ اپنی بھیڑوں کی پشم کے کترنے والوں کے پاس تمِنت کو گیا ۔
۱۳ اور تؔمر کو یہ خبر مِلی کہ تیرا خُسر اپنی بھیڑوں کی پشم کترنے کے لئے تمِؔنت کو جا رہا ہے۔
۱۴ تب اُس نے اپنے رنڈا پے کے کپڑوں کو اُتار پھینکا اور بُرقع اوٹھا اور اپنے کو ڈھانگا اور عیؔنیم کے پھاٹک کے برابر جو تمِنؔت کی رہ پر ہے جا بیَٹھی کیونکہ اُس نے دیکھا کہ سؔیلہ بالغ ہو گیا مگر یہ اُس سے بیاہی نہیں گئی ۔
۱۵ یُہوداؔہ اُسے دیکھ کر سمجھا کہ کوئی کسبی ہے کیونکہ اُس نے اپنا مُنہ ڈھانک رکّھا تھا ۔
۱۶ سو وہ راستہ سے اُسکی طرف کو پِھرا اور اُس سے کہنے لگا کہ ذرا مُجھے اپنے ساتھ مباشرت کر لینے دے کیونکہ اِسے بالکل نہیں معلوم تھا کہ وہ اِسکی بہُو ہے۔ اُس نے کہا تو مجھے کیا دیگا تا کہ میرے ساتھ مُباشرت کرے؟۔
۱۷ اُس نے کہا مَیں ریوڑ میں سے بکری کا ایک بچہّ تُجھے بھیجدونگا۔ اُس نے کہا اُس کہ اُسکے بھیجنے تک تُو میرے پاس کچھ رہن کر دیگا؟۔
۱۸ اُس نے کہا تُجھے رہن کیا دوں ؟ اُس نے کہا اپنی مُہر اور اپنا بازو بند اور اپنی لاٹھی جو تیرے ہاتھ میں ہے۔ اُس نے یہ چیزیں اُسے دِیں اور اُس کے ساتھ مُباشرت کی اور وہ اُس سے حامِلہ ہوگئی۔
۱۹ پِھر وہ اُٹھ کر چلی گئی اور بُرقع اُتار کر رنڈاپے کا جوڑا پہن لیا۔
۲۰ اور یُہوؔدا ہ نے اپنے عُدلاّمی دوست کے ہاتھ بکری کا بچّہ بھیجا تا کہ اُس عورت کے پاس سے اپنا رہن واپس منگائے پر وہ عورت اُسے نہ مِلی ۔
۲۱ تب اُس نے اُس جگہ کے لوگو سے پوچھا کہ وہ کسبی جو عینؔیم میں راستہ کے برابر بَیٹھی تھی کہاں ہے ؟ اُنہوں نے کہا یہاں کوئی کسبی نہ تھی۔
۲۲ تب اُس نے یہوؔداہ نے کہا خَیر ! اُس رہن کو وہی رکھے ہم تو بدنام نہ ہوں ۔ میَں نے تو بکری کا بچّہ بھیجا پر وہ تجھے نہیں مِلی۔
۲۳
۲۴ اور قریباً تین مہینے کے بعد یہوؔداہ نے کہا کہ اُسے باہر نِکال لاؤ کہ وہ جلائی جائے۔
۲۵ جب اُسے باہر نِکالا تو اُس نے اپنے خُسر کو کہلا بھیجا کہ میرے اُسی شخص کا حمل ہے جِسکی یہ چیزیں ہیں ۔ سو تُو پہچان تو سہی کہ یہ مہراور بازو بند اور لاٹھی کس کی ہے؟۔
۲۶ تب یہوؔداہ نے اِقرار کیا اور کہا کہ وہ مُجھ سے زیادہ صادِق ہے کیونکہ میَں نے اُسے اپنے بیٹے سیلؔہ سے نہیں بیاہا اور وہ پھر کبھی اُسکے پاس نہ گیا۔
۲۷ اور اُسکے وضعِ حمل کے وقت معلوم ہُؤا کہ اُسکے پیٹ میں تَواٗؔم ہیں ۔
۲۸ اور جب وہ جننے لگی تو ایک بچّے کا ہاتھ باہر آیا اور دائی نے پکڑ کر اُسکے ہاتھ میں لال ڈورا باندھ دِیا اور کہنے لگی کہ یہ پہلے پیدا ہؤا ۔
۲۹ اور یُوں ہؤا کہ اُس نے اپنا ہاتھ پھر کینچ لیا ۔ اِتنے میں اُسکا بھائی پَیدا ہو گیا۔ تب وہ دائی بول اُٹھی کہ کیسے زبردستی نِکل پڑا؟ سو اُسکا نام فاؔرص رکھاّ گیا ۔
۳۰ پھر اُسکا بائی جِسکے ہاتھ میں لال ڈورابندھا تھا پیدا ہؤا اور اُسکا نام زاؔرح رکھاّ گیا۔