۱۳:۱۔۳ مصر سے بیت ایل کو واپسی ابرام کی خدا سے رفاقت کی بحالی تھی۔ جو خدا سے برگشتہ ہو چکے ہیں، ’’بیت ایل کو واپسی‘‘ اُن کے لئے ایک مسلسل پکار ہے۔
(۳) لوط اور مَلِکِ صدق کے ساتھ تجربات (۱۳:۵۔۱۴:۲۴)
۱۳:۵۔۱۳ لوط اور ابرام کے چرواہوں کا اپنے ریوڑوں کے لئے چراگاہوں پر جھگڑا ہوا۔ نہایت شائستگی، مہربانی اور بے غرضی سے ابرام نے لُوط کو پیش کش کی کہ وہ اپنی مرضی سے ساری زمین سے جو چاہے منتخب کر لے۔
اُس نے اِنکساری کی روح میں اپنی نسبت دوسرے کو بہتر تصور کیا (فلپیوں ۲:۳)۔ لوط نے یردن کی ترائی کی چراگاہوں کو منتخب کیا، جو سدوم اور عمورہ کے گناہ آلود شہروں سے ملحق تھیں۔ گو لوط ایک حقیقی ایمان دار تھا (۲۔پطرس ۲:۷،۸)
لیکن وہ دُنیادار بھی تھا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ’’اُس نے اپنے مویشیوں کے لئے گھاس حاصل کر لی، لیکن ابرام نے اپنے بچوں کے لئے فضل حاصل کر لیا‘‘ (آیات ۱۵،۱۶)۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سدوم کے لوگ خداوند کی نظر میں نہایت بدکار اور گنہگار تھے، لیکن یہ حقیقت بھی لوط کے اِنتخاب میں رکاوٹ کا باعث نہ بنی۔ دنیوی دلدل میں پھنسنے کے لئے اُس کے اقدامات ملاحظہ فرمائیے: اُس کے نوکروں کا جھگڑا ہوا
(آیت ۷)، اُس نے آنکھ اُٹھا کر نظر دوڑائی (آیت۱۰)، اُس نے چن لیا (آیت۱۱)، اُس نے سدوم کی طرف اپنا ڈیرا لگایا (آیت ۱۲)، اُس نے اُس جگہ سے دُور سکونت اِختیار کی جہاں خدا کا کاہن رہتا تھا (۱۴:۱۲)، وہ پھاٹک پر بیٹھتا
تھا، یعنی وہاں جو سیاسی وقار کا مقام تھا (۱۹:۱)۔ وہ سدوم میں ایک مقامی افسر بن گیا۔
۱۳:۱۴۔۱۸ ابرام نے یردن کی ترائی کا اِنتخاب نہ کیا لیکن خدا نے اُسے اور اُس کی نسل کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کنعان کی ساری سرزمین دے دی۔ علاوہ ازیں خداوند نے اُس سے وعدہ کیا کہ اُس کی نسل اَن گنت ہو
گی۔ حبرون میں سکونت کرنے کے بعد ابرام نے خداوند کے لئے اپنی تیسری قربان گاہ بنائی __ یعنی خدا کے لئے ہمیشہ قربان گاہ بنائی لیکن اپنے لئے کبھی گھر نہ بنایا۔
ملاحظہ فرمائیے کہ خدا نے ابرام سے کہا کہ وہ ساری سرزمین میں پھر کر اپنی ملکیت کو دیکھے۔ چنانچہ ہم ایمان سے خدا کے وعدوں پر قابض ہوں۔
کِتابِ مُقدّس
۱۔ اور ابرؔام مؔصر سے اپنی بیوی اور اپنے سب مال اور لوُطؔ کو ساتھ لیکر کنعؔان کے جنوب کی طرف چلا۔
۲۔ اور ابرؔام کے پاس چَوپائے اور سونا چاندی بکثرت تھا۔
۳۔ اور وہ کنعؔان کے جنوب سے سفر کرتا ہوا بیتؔ ایل میں اُس جگہ پہنچا جہاں پہلے بیتؔایل اور عؔی کے درمیان اُسکا ڈیرا تھا۔
۴۔ یعنی وہ مقام جہاں اُس نے شروع میں قربان گاہ بنائی تھی اور وہاں ابرؔام نے خُداوند سے دُعا کی۔
۵۔ اور لوُطؔ کے پاس بھی جو ابراؔم کا ہم سفر تھع بھیڑ بکریاں گائے بیل اور ڈیرے تھے۔
۶۔ اور اُس مُلک میں اِتنی گنایش نہ تھی کہ وہ اِکٹھے رہیں کیونکہ اُنکے پاس اِتنا مال تھا کہ وہ اِکٹھے نہیں رہ سکتے تھے۔
۷۔ اور ابراؔم کے چرواہوں اور لوُطؔ کے چرواہوں میں جھگڑا ہوا اور کنعانی اور فرزأی اُس وقت مُلک میں رہتے تھے۔
۸۔ تب ابراؔم نے لُوطؔ سے کہا کہ میرے اور تیرے درمیان اور میرے چرواہوں اور تیرے چرواہوں کے درمیان جھگڑانہ ہُوا کرے کیونکہ ہم بھائی ہیں ۔
۹۔ کیا یہ سارا مُلک تیرے سامنے نہیں ؟ سو تُو مجھ سے الگ ہو جا۔ اگر تُو بائیں جائے تو مَیں دہنے جاؤنگا اور اگر تُو دہنے جاٖئے تو میں بائیں جاؤنگا۔
۱۰۔ تب لوُطؔ نے آنکھ اُٹھا کر یرؔدن کی ساری ترائی پر جو ضُغؔر کی طرف ہے نظر دَوڑائی کیونکہ وہ اِس سے پیشتر کہ خُداوند نے سؔدوم اور عمؔورہ کو تباہ کیا خُداوند کے باغ اور مؔصر کے مُلک کی مانند خوب سیراب تھی۔
۱۱۔ سو لُوطؔ نے یرؔدن کی ساری ترائی کو اپنے لِئے چُن لِیا اور وہ مشرق کی طرف چلا اور وہ ایک دُوسرے سے جُدا ہوگئے۔
۱۲۔ ابراؔم تو مُلک کنعان میں رہا اور لُوطؔ نے ترائی کے شہروں میں سکونت اِختیار کی اور سؔدوم کی طرف اپنا ڈیرا لگایا۔
۱۳۔ اور سؔدوم کے لوگ خُداوند کی نظر میں نہایت بدکار اور گنہگار تھے ۔
۱۴۔ اور لُوطؔ کے جُدا ہو جانے کے بعد خُداوند نے ابراؔم سے کہا کہ اپنی آنکھ اُٹھا اور جِس جگہ تُو ہے وہاں سے شِمال اور جنوب اور مشرق اور مغرب کی طرف نظر دَوڑا ۔
۱۵۔ کِیونکہ یہ تمام مُلک جو تُو دیکھ رہا ہے مَیں تجھ کو اور تیری نسل کو ہمیشہ کے لئے دُونگا۔
۱۶۔ اور میں تیری نسل کو خاک کے ذرّوں کی ماند بناؤنگا اَیسا کہ اگر کوئی شخص خاک کے ذرّوں کو گِن سکے تو تیری نسل بھی گِن لی جائیگی ۔
۱۷۔ اُٹھ اور اِس ملک کے طُول و عرض میں سَیر کر کیونکہ مَیں ااِسے تجھ کو دُونگا۔
۱۸۔ اور ابراؔم نے اپنا ڈیرا اُٹھایا اور ممؔزے کے بلُوطوں میں جو حبؔون میں ہیں جا کر رہنے لگا اور وہاں خُداوند کے لِئے ایک قُربان گاہ بنائی ۔