ج۔ قائن اور ہابل (باب ۴)
۴:۱ ’’آدم اپنی بیوی حوا کے پاس گیا‘‘، کا مطلب ہے کہ اُس نے اُس سے مباشرت کی۔ جب قائن پیدا ہوا تو آدم نے تسلیم کیا کہ اُس کی پیدائش صرف اور صرف خدا کی توفیق کی وجہ سے ہے۔ ’’قائن‘‘ (’’حاصل کیا
گیا‘‘) نام رکھنے سے حوا کا یہ خیال ہو گا کہ اُس نے موعودہ نسل کو جنم دیا ہے۔
۴:۲۔۶ آیت ۳ الف یعنی ’’چند روز کے بعد‘‘ کا دورانیہ دُنیا کی آبادی کی خاطر خواہ ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ لازماً کسی وقت قائن اور ہابل کو یہ تعلیم دی گئی ہو گی کہ گنہگار اِنسان پاک خدا تک رسائی قربانی
کے لہو کے باعث ہی حاصل کر سکتا ہے۔ قائن نے اِس مکاشفے کو رَدّ کر دیا اور بغیر خون کے پھلوں اور سبزیوں کا ہدیہ لایا۔ ہابل خدا کے فرمان پر ایمان لایا اور جانوروں کی قربانی پیش کی، اور یوں ایمان سے خدا کی راست بازی کو حاصل کیا
(عبرانیوں ۱۱:۴)۔ وہ اپنی ’’بھیڑ بکریوں کے پہلوٹھے‘‘ لایا۔ اُس کا اِعتقاد تھا کہ خداوند کو سب سے اعلیٰ شے پیش کی جائے۔ ہابل کی قربانی خدا کے برّے کی فدیے کی موت کی طرف اِشارہ کرتی ہے__ اُس برّے کی طرف جو ساری دُنیا کے گناہوں
کو اُٹھا لے جاتا ہے۔
۴:۷ چونکہ قائن کا حاسدانہ غصہ قتل کا ابتدائی مرحلہ تھا، خدا نے اُسے بڑی محبت سے خبردار کیا۔ آیت ۷ کے کئی مختلف مفہوم اخذ کئے جا سکتے ہیں۔
-
’’اگر تُو بھلا کرے‘‘ (یعنی توبہ کرنے سے) تو اپنے غصے اور احساسِ جرم سے آزادی حاصل کر سکے گا۔ ’’اگر تُو بھلا نہ کرے‘‘ (ہابل سے نفرت جاری رکھنے سے) ’’ تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے‘‘، یعنی وہ تجھے تباہ و برباد کرنے کے
لئے تیار ہے۔ وہ ’’تیرا مشتاق ہے۔‘‘ -
’’اگرتُو بھلا کرے‘‘ (یا ہفتادی ترجمے کے مطابق، اگر تُو صحیح طور سے قربانی گزرانے) تو کیا تجھے قبول نہیں کیا جائے گا؟ یہاں قربانی کو احسن طریقے سے گزراننے کی طرف اِشارہ ہے۔ ہابل نے ایک معقول قربانی کے پیچھے اپنے آپ کو چھپا
کر بھلا کیا اور قائن نے بغیر خون کے قربانی دے کر بُرا کیا، اور اِس کے بعد اُس کا رویہ باطل پرستش کا براہِ راست نتیجہ تھا۔ - اُردو ترجمے میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ ’’اگر تُو بھلا کرے تو کیا تُو مقبول نہ ہو گا؟ اور اگر تُو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے پر تُو اُس پر غالب آ۔‘‘
۴:۸۔۱۲ قائن کا حاسدانہ غصہ جلد ہی بُرے عمل یعنی اپنے بھائی کے قتل میں تبدیل ہو گیا۔ گو ہابل مر گیا، وہ اَب بھی ہمارے لئے گواہی کا باعث ہے کہ ایمان کی زندگی اہمیت کی حامل زندگی ہے (عبرانیوں ۱۱:۴)۔
جب خداوند کے پُر محبت سوال کا غیر تائب اور گستاخانہ انداز سے جواب دیا گیا تو اُس نے قائن کی سزا کا اعلان کیا کہ وہ زمین سے روزی حاصل نہیں کر سکے گا بلکہ وہ بیابان میں آوارہ پھرے گا۔
۴:۱۳ ۔۱۶ قائن کی منہ بسورتے ہوئے شکایت اپنے گناہ کے احساسِ جرم کے بجائے، اِس کے نتائج کی ندامت کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن اِس کے باوجود خداوند نے اِس ’’خانہ خراب‘‘ کے خوف کو کم کرنے کے لئے اُس کی
زندگی کے تحفظ کے لئے ایک ’’نشان‘‘ ٹھہرایا۔ اور جو کوئی اُسے قتل کرے، اُسے ملعون ٹھہرایا۔ ’’قائن خداوند کے حضور سے نکل گیا۔‘‘ یہ سب سے زیادہ افسوس ناک روانگی ہے۔
۴:۱۷۔۲۴ قائن نے اپنی بہن یا کسی دوسری خونی رشتے دار سے شادی کی۔ جیسا کہ پیدائش ۴:۳ میں بیان کیا گیا ہے، اِس میں آبادی کے بڑھنے کا اِشارہ موجود ہے اور پیدائش ۵:۴ میں خصوصی طور پر بیان ہے کہ آدم
کے اَور بھی بیٹے اور بیٹیاں تھیں۔ اُس دَور میں قریبی رِشتہ داروں میں شادیاں ممنوع نہیں تھیں (کیونکہ نسلی طور پر یہ خطرناک نہ تھا)۔
آیات ۱۷۔۲۴ میں قائن کی نسل کی فہرست دی گئی ہے اور مختلف شعبوں میں ’پہل‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی پہلا شہر جس کا نام حنوک رکھا گیا۔ کثیر الازواجی کا پہلا واقعہ، مویشی پالنے کا آغاز، موسیقی اور دھات کی صنعت کا آغاز، پہلا گیت جس
کا مضمون قتل اور تشدد ہے۔ اِس گیت میں ’’لمک اپنی بیویوں‘‘ کو بتاتا ہے کہ اُس نے ایک ’’جوان‘‘ کو اپنے دفاع کی خاطر مار ڈالا۔ چونکہ یہ قتل پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا تھا، اِس لئے لمک اِنتقامی کارروائی سے بے خوف اور
محفوظ ہے۔
۴:۲۵، ۲۶ یہ اَمر ہمارے لئے باعثِ اِطمینان ہے کہ سیت کی دین دارانہ نسل کو متعارف کرایا گیا ہے۔ بالآخر اِسی نسل سے مسیح پیدا ہونے والا تھا۔ جب ’’انوس‘‘ (مطلب کمزور یا فانی ) پیدا ہوا، تو لوگ خدا
کے لئے یہوواہ (خداوند) کا نام استعمال کرنے لگے یا شاید عوامی عبادت میں یہواہ کے نام سے پرستش کرنے لگے۔
کِتابِ مُقدّس
۱۔ اور آدمؔ اپنی بیوی حوّاؔ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور اسکے قاؔئن پیدا ہوا ۔ تب اُس نے کہا مجھے خُداوند سے ایک مرد مِلا۔
۲۔ پھر قاؔئن کا بھائی ہابلؔ پیدا ہوا اور ہابلؔ بھیڑ بکریوں کا چرواہا اور قائِن کِسان تھا۔
۳۔ چند روز کے بعد یُوں ہوا کہ قاؔئِن اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خُداوند کے واسطے لایا۔
۴۔ اور ہابل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کُچھ پہلوٹھے بچوں کا اور کُچھ اُنکی چربی کا ہدیہ لایا اور خُداوند نے ہاؔبل کو اور اُسکے ہدیہ کو منظور کِیا ۔
۵۔ پر قاؔئنِ کو اور اُسکے ہدیہ کو منظور نہ کیا اِسلئے قاؔئنِ نہایت غضبناک ہُوا اور اُسکا مُنہ بِگڑا ۔
۶۔ اور خُداوند نے قاؔئنِ سے کہا تُو کیوں غضبناک ہُوا ؟۔ اور تیرا مُنہ کیوں بگڑا ہُوا؟۔
۷۔ اگر تُو بھلا کرے تو کیا مقبول نہ ہوگا؟ اور اگر تُو بھلا نہ کرے تو گُناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مُشتاق ہے پار تُو اُس پر غالب آ۔
۸۔ اور قاؔئنِ نے اپنے بھائی ہاؔبل کو کُچھ کہا اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یُوں ہوا کہ قاؔئنِ نے اپنے بھائی ہاؔبل پر حملہ کِیا اور اُسے قتل کر ڈالا ۔
۹۔ تب خُداوند نے قاؔئن سے کہا کہ تیرا بھائی ہابل کہا ہے؟ اُس نے کہا مجھے معلوم نہیں ۔ کیا میں اپنے بھائی کا مُحافظ ہُوں؟
۱۰۔ پھر اُس نے کہا تو نے کیا کِیا ؟ تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھکو پُکارتا ہے ۔
۱۱۔ اب تُوزمین کی طرف سے لعنتی ہُوا۔ جس نے اپنے مُنہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خُون لے۔
۱۲۔ اور زمین کو جوتے گا تو ہو اب تجھے اپنی پَیداوار نہ دیگی اور زمین پر تُو خانہ خراب اور آوارہ ہوگا۔
۱۳۔ تب قاؔئن نے خُداوند سے کہا کہ میری سزا برداشت سے باہر ہے ۔
۱۴۔ دیکھ آج تُو نے مجھے رُویِ زمین سے نِکل دیا ہے اور مَیں تیرے حضور سے رُوپوش ہوجاءنگا اور زمین پر خانہ خراب اور آوارہ رہونگا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی مجھے پائیگا قتل کر ڈالیگا۔
۱۵۔ تب خُداوند نے اُسے کہا نہیں بلکہ جو قاؔئِن کو قتل کرے اُس سے سات گُنا بدلہ لیا جائیگا اور خُداوند نے قاؔئِن کے لئِے ایک نِشان ٹھہرایا کہ کوئی اُسے پاکر مار نہ ڈالے۔
۱۶۔ سو قاؔئِن خُداوند کے حضور سے نِکل گیا اور عدؔن کے مشرق کی طرف نُود کے علاقہ میں جا بسا۔
۱۷۔ اور قاؔئِن اپنی بیوی کے پاس گیا اور وہ حاملِہ ہوئی اور اُسکے حؔنوک پَیدا ہوا اور اُس نے ایک شہر بسایا اور اُسکا نام اپنے بیٹے کے نام پر حؔنوک رکھا۔
۱۸۔ اور حؔنوک سے عؔیراد پَیدا ہوا اور عیؔراد سے محؔویا ایل پَیدا ہوا اور محؔویاایل سے متؔوساایل پَیدا ہوا اور متؔوساایل سے لمکؔ پیدا ہوا ۔
۱۹۔ اور لمؔک دو عورتیں بیاہ لایا۔ ایک کا نام عدؔہ اور دُوسری کا نام ضِلّہ تھا ۔
۲۰۔ اور عدہؔ کے یاؔبل پَیدا ہوا ۔ وہ اُن کا باپ تھا جو خیموں میں رہتےاور جانور پالتے ہیں ۔
۲۱۔ اور اُسکے بھائی کا نام یوؔبل تھا ۔ وہ بین اور بانسلی بجانے والوں کا باپ تھا۔
۲۲۔ اور ضِلّہ کے بھی توؔبلقائِن پَیدا ہوا جو پیتل اور لوہے کے سب تیز ہتھیاروں کا بنانے والاتھا اور نمعؔہ توؔبلقائِن کی بہن تھی ۔
۲۳۔ اور لمؔک نے اپنی بیویوں سے کہا کہ اَے عدؔہ اور ضِلؔہ میری بات سُنواَے لمؔک کی بیویو یرے سخن پر کان لگائو۔مِیں نے ایک مرد کو جس نے مجھے زخمی کیا مار ڈالا اور ایک جوان کو جس نے میرے چوٹ لگائی قتل کر ڈالا۔
۲۴۔ اگر قؔائِن کا بدلہ سات گُنا لیا جائیگا تو لمؔک کا سترّ اور سات گُنا۔
۲۵۔ اور آدمؔ پھر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اُسکے ایک اَور بیٹا ہُوا اور اُسکا نام سیؔت رکھاّ اور وہ کہنے لگی کہ خُدا نے ہاؔبل کے عِوض جسکو قاؔئنِ نے قتل کیا مجھے دُوسرا فرزند دیا۔
۲۶۔ اور سیّت کے ہاں بھی ایک بیٹا پیدا ہُوا جِسکا نام اُس نے اؔنُوس رکھاّ۔ اُس وقت سے لوگ یہوؔواہ کا نام لیکر دُعا کرنے لگے۔