پیَدایش ۴۲

(‏۶)‏ یوسف کے بھائی مصر میں (‏ابواب ۴۲۔۴۴)‏

۴۲:‏۱۔۵ منظر بدلتا ہے اور کنعان میں یعقوب کا ذکر آتا ہے جہاں سخت کال تھا۔ جب اُس نے سنا کہ مصر میں بہت زیادہ غلّہ ہے (‏لیکن اُسے یہ معلوم نہ تھا کہ یوسف وہاں ہے)‏ اُس نے اپنے دس بیٹوں کو اناج مول لانے کے لئے بھیجا۔ صرف بنیمین گھر پر رہا۔ جہاں تک یعقوب کو علم تھا اُس کی چہیتی بیوی راخل کا صرف وہی بیٹا باقی تھا۔ 

۴۲:‏۶۔۲۵ جب یوسف کے بھائی اُس کے سامنے حاضر ہوئے تو وہ اُن کے ساتھ بڑی سختی سے پیش آیا۔ اُس نے اُن پر الزام لگایا کہ وہ جاسوس ہیں‏، اُنہیں قیدخانے میں ڈال دیا۔ پھر اُن سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی بنیمین کو اُس کے سامنے حاضر کریں۔ بالآخر شمعون کو یرغمال کے طور پر قیدخانے میں بند کر دیا اور دوسرے بنیمین کو لینے کے لئے کنعان روانہ ہو گئے۔ اُنہیں اناج اور زادِ راہ بھی دیا گیا اور خفیہ طور پر نقدی اُن کے بوروں میں رکھ دی گئی تھی۔ اِس بیان میں یوسف کی اندرونی طور پر اپنے بھائیوں کے لئے محبت اور رحم واضح طور پر دیکھتے ہیں (‏آیات ۲۴‏،۲۵)‏‏، اور اُن کی اُس گناہ کے بارے میں قائلیت بھی نظر آتی ہے کہ اُنہوں نے بیس سال پہلے اپنے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا (‏آیات ۲۱‏،۲۲)‏۔ یوسف چاہتا تھا کہ وہ اپنے گناہ کا اِقرار کریں۔ 

ہمارا ایمان ہے کہ یوسف مسیح کا مثیل ہے جو آنے والی مصیبتوں کے دَور میں اپنے یہودی بھائیوں سے نپٹے گا۔ یوسف کی اپنے بھائیوں سے صلح اور میل ملاپ کے واقعات بائبل کا ایک دل دوز حصہ ہیں۔ تقریباً کوئی اِس جیسی اَور کہانی نہیں جو مسیح کی تصویر کو اِس قدر گہرے‏، تفصیلی اور مکمل طور پر پیش کرے۔ 

مثیل

پرانے عہدنامے میں بعض ایک اشخاص‏، واقعات اور چیزیں بڑے واضح طور پر نئے عہدنامے میں علامات کے طور پر اِستعمال کی گئی ہیں۔ آدم کو مسیح کا مثیل کہا گیا ہے (‏رُومیوں ۵:‏۱۴)‏۔ بعض دیگر اشخاص اور چیزوں کو خصوصی طور پر مثیل کے حوالے سے بیان نہیں کیا گیا‏، تاہم اِن میں اِس قدر مشابہتیں ہیں اور یہ اِس قدر واضح ہیں کہ اِن سے اِنکار نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً یوسف کو مسیح کے مثیل کے طور پر کبھی بھی پیش نہیں کیا گیا‏، تاہم مسیح یسوع اور یوسف میں تقریباً ایک سو مشابہتیں موجود ہیں۔ 

جب خداوند یسوع دو غم زدہ شاگردوں سے اماؤس کو جانے والی سڑک پر باتیں کر رہا تھا تو ’’سب نوشتوں میں جتنی باتیں اُس کے حق میں لکھی ہوئی ہیں وہ اُن کو سمجھا دیں‘‘ (‏لوقا ۲۴:‏۲۷)‏۔ مجسم مسیح نے کہا ’’کتاب کے ورقوں میں میری نسبت لکھا ہوا ہے‘‘ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۷)‏۔ اِس لئے ہم ساری کتابِ مقدس میں سے مسیح کے بارے میں حوالہ جات تلاش کرنے کے لئے حق بجانب ہیں۔ 

پرانے عہدنامے میں اِسرائیل کے تجربے کے سلسلے میں پولس رسول ہمیں بتاتا ہے ’’یہ باتیں اُن پر عبرت کے لئے واقع ہوئیں اور ہم آخری زمانے والوں کی نصیحت کے واسطے لکھی گئیں‘‘ (‏۱۔کرنتھیوں ۱۰:‏۱۱)‏۔ اِس سے اِس نظریے کی بہت زیادہ تصدیق ہوتی ہے کہ نہ صرف وہی مثیل ہیں جن کا خصوصی طور پر ذکر ہوا‏، بلکہ اِس کے علاوہ اَور بہت باتیں ہیں جو مسیح اور اُس کے نئے عہد کی طرف اِشارہ کرتی ہیں۔ 

پولس نے تیمتھیس کو یاد دلایا کہ ہر ایک صحیفہ فائدہ مند ہے (‏۲۔تیمتھیس ۳:‏۱۶)‏۔ اگر ہمیں روحانی بصیرت حاصل ہو تو ہم اِن صحائف سے بہت سے روحانی اسباق سیکھ سکتے ہیں۔ 

عبرانیوں کے خط کا بیشتر حصہ خیمہ اِجتماع اور اُس کی اشیا کی علامتی تشریح پر مبنی ہے۔ یہ سچ ہے کہ محدود طور پر تمثیلی انداز سے ایمان دار پرانے عہدنامے سے بہت زیادہ روحانی فائدہ حاصل کرے گا‏، لیکن حد سے تجاوز کرنے اور ہر ایک چیز کو مثیل بنانے اور تمام تاریخ کو تمثیلی طور پر تبدیل کرنے سے ہمیں احتراز کرنا چاہئے۔ 

علامات کے لئے مصنوعی اور انوکھی تشریحات نے اِس مضمون کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہم اِتنہا پسندی سے کام لیتے ہوئے پرانے عہدنامے کی روحانی دولت سے اِسے محروم نہ کریں۔ اگر کوئی تشریح مسیح کو سربلند کرتی ہے‏، اُس کے لوگوں کی ترقی کا باعث بنتی ہے‏، یا خوش خبری کا پیغام گنہگاروں تک پہنچاتی ہے اور کلامِ مقدس کی مجموعی تعلیم سے ہم آہنگ ہے‏، تو یہ سچائی کا بہترین اِطلاق ہے۔ 

۴۲:‏۲۶۔۲۸ گھر واپس آتے ہوئے ایک بھائی نے اپنے بورے میں نقدی دیکھی۔ اِس سے وہ بہت زیادہ پریشان ہو گئے۔ وہ خائف تھے کہ کہیں اُن پر چوری کا الزام نہ لگا دیا جائے (‏آیات ۲۶۔۲۸)‏۔

۴۲:‏۲۹۔۳۴ جب وہ گھر پہنچے اور اپنی کہانی بتائی تو دوسرے بھائیوں کو بھی اپنے اپنے بورے سے نقدی ملی اور وہ حواس باختہ ہو گئے۔ یعقوب کو کسی طرح چین نہ آتا تھا حالانکہ روبن نے اپنے دونوں بیٹوں کی زندگیاں ضمانت کے طور پر پیش کیں‏، لیکن یہ بزرگ بنیمین کو مصر جانے کے لئے اِجازت دینے سے ڈرتا تھا کہ کہیں اُس پر کوئی آفت نہ آ پڑے۔ 

مقدس کتاب

۱ اور یعؔقوب کو معلوم ہُؤا کہ مِصؔر میں غلّہ ہے تب اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تُم کیوں ایک دُوسرے کا مُنہ تاکتے ہو؟
۲ دیکھو مَیں نے سُنا ہے کہ مِصؔر میں غلّہ ہے ۔ تم وہاں جاؤ اور وہاں سے ہمارے لئِے اناج مول لے آؤ تاکہ ہم زِندہ رہیں اور ہلاک نہ ہوں ۔
۳ سو یُوسُؔف کے دس بھائی غلّہ مول لینے کو مِؔصر میں آئے ۔ پر یعؔقوب نے یُوسُؔف کے بھائی بنیمؔین کو اُسکے بھائیوں کے ساتھ نہ بھیجاکیونکہ اُس نے ککہا کہ کہیں اُس پر کوئی آفت نہ آجائے۔ سو جو لوگ غلّہ خرید نے آئے اُنکے ساتھ اِسؔرائیل کے بیٹے بھی آئے کیونکہ کنعاؔن کے مُلک میں کال تھا۔
۴
۵
۶ اور یُوسُؔف مُلکِ مِصؔر کا حاکمِ تھا اور وہی مُلک کے سب لوگوں کے ہاتھ غلّہ بیچتا تھا ۔ سو یوُسُؔف کے بھائی آئے اور اپنے سر زمین ٹیک کر اُسکے حضُور آداب بجا لائے۔
۷ یُوسؔف اپنے بھائیوں کو دیکھ کر اُنکو پہچان گیا پر اُس نے اُنکے سامنے اپنے آپ کو انجان بنا لیا اور اُن سے سخت لہجہ میں پُوچھا تُم کہاں سے آئے ہو؟ اُنہوں نے کہا کنعانؔ کے مُلک سے اناج مول لینے کو۔
۸ یُوسُؔف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا پر اُنہون نے اُسے نہ پہچانا۔
۹ اور یوُسؔف اُن خوابوں کو جو اُس نے اُنکی بابت دیکھے تھے یاد کر کے اُن سے کہنے لگا کہ تُم جاسُوس ہو۔ تُم آئے ہو کہ اِس مُلک کی بُری حالت دریافت کرو۔
۱۰ اُنہوں نے اُس سے کہا نہیں خُداوند ۔ تیرے غُلام اناج مول لینے آئےہیں۔
۱۱ ہم سب ایک ہی شخص کے بیٹے ہیں۔ ہم سچّے ہیں ۔ تیرے غلام جاسُوس نہیں ہیں ۔
۱۲ اُس نے کہا نہیں بلکہ تُم اِس مُلک کی بُری حالت دریافت کرنے کو آئے ہو۔
۱۳ تب اُنہوں نے کہا تیرے غلام بارہ بھائی ایک ہی شخص کے بیٹے ہیں جو مُلکِ کنعان میں ہے ۔ سب سے چھوٹا اِس وقت ہمارے باپ کے پاس ہے اور ایک کا کُچھ پتا نہیں ۔
۱۴ تب یُوسُؔف نے اُن سے کہا ۔ مَیں تو تُم سے کہہ چُکا کہ تُم جاسُوس ہو۔
۱۵ سو تُمہاری آزمایش اِس طرح کیجائیگی کہ فرؔعون کی حیات کی قسم تُم یہاں سے جانے نہ پاؤ گے جب تک تُمہارا سب سے چھوٹا بھائی یہاں نہ آجائے۔
۱۶ سو اپنے میں سے کسی ایک کو بھیجو کہ وہ تُمہارے بحا۴ی کو لے +۴ے اور تُم قید رہو تا کہ تمُہاری باتوں کی تصدیق ہو کہ تُم سچے ہو یا نہیں ورنہ فرؔعون کی حیات کی قسم تُم ضرور ہی جاسُوس ہو۔
۱۷ اور اُس نے اُن سب کو تین دِن تک اِکھٹّے نظر بند رکھّا ۔
۱۸ اور تیسرے دِن یُوسُؔف نے اُن سے کہا ایک کام کرو تو زِندہ رہو گے کیونکہ مُجھے خُدا کا خوف ہے۔
۱۹ اگر تُم سچّے ہو تو اپنے بھائیوں میں سے ایک کو قَید خانہ میں بند رہنے دو اور تُم اپنے گھر والوں کے کھانے کے لئِے کے کھانے کے لئِے اناج لیجاؤ۔
۲۰ اور اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو میرے پا س لے آؤ ۔ یُوں تُمہاری باتوں کی تصدیق ہو جائیگی اور تُم ہلاک نہ ہوگے۔ سو اُنہوں نے اَیسا ہی کِیا۔
۲۱ اور وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہم دراصل اپنے بھائی کے سبب سے مُجرم ٹھہرے ہیں کیونکہ جب اُس نے ہم سے مِنت کی تو ہم نے یہ دیکھ کر بھی کہ اُسکی جان کَیسی مصُیبت میں ہے اُسکی نہ سُنی ۔ اِسی لئِے یہ مُصیبت ہم پر آپڑی ہے ۔
۲۲ تب رُوبنؔ بول اُٹھا کیا مَیں نے تُم سے نہ کہا تھا کہ اِس بچّے پر ظُلم نہ کرو اور تُم نے نہ سُنا ۔ سو دیکھ لو۔ اب اُسکے خُون کا بدلہ لیا جاتا ہے ۔
۲۳ اور اُنکو معلوم نہ تھا کہ یُوسُؔف اُنکی باتیں سمجھتا ہے اِسلئِے کہ اُنکے درمیان ایک ترجمان تھا۔
۲۴ تب وہ اُنکے پاس سے ہٹ گیا اور رویا اور پھر اُنکے پاس آکر اُن سے باتیں کِیں اور اُن میں سے شمعؔون کو لیکر اُنکی آنکھوں کے سامنے اُسے بندھوادِیا۔
۲۵ پھِر یوُسُؔف نے حُکم کِیا کہ اُنکے بوروں میں اناج بھریں اور ہر شخص کی نقدی اُسی کے بورے میں رکھ دیں اور اُنکو زادِ رہ بھی دیدیں ۔چنانچہ اُنکے لئِے اَیسا ہی کِیاگیا۔
۲۶ اور اُنہوں نے اپنے گدھوں پر غلّہ لاد لِیا اور وہاں سے روانہ ہُؤئے ۔
۲۷ جب اُن میں سے ایک نے منزل پر اپنے گدھے کو چارا دینے کے لئِے اپنا بورا کھولا تو اپنی نقدی بورے کے منہ میں رکھّی دیکھی ۔
۲۸ تب اُس نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ میری نقدی پھیر دی گئی ہے ۔ وہ میرے بورے میں ہے ۔ دیکھ لو! پھر تو وہ حواس باختہ ہو گئے اور ہکاّ بکاّ ہو کر ایک دُوسرے کو دیکھنے اور کہنے لگے خُدا نے ہم سے یہ کیا کِیا؟۔
۲۹ اور وہ مُلکِ کنعان میں اپنے باپ یعؔقوب کے پاس آئے اور ساری واردات اُسے بتائی اور کہنے لگے۔
۳۰ کہ اُس شخص نے جو اُس مُلک کامالکِ ہے ہم سے سخت لہجہ میں باتیں کِیں اور ہمکو اُس مُلک کے جاسُوس سمجھا۔
۳۱ ہم نے اُس سے کہا کہ ہم سچّے آدمی ہیں ۔ ہم جاسُوس نہیں ۔
۳۲ ہم بارہ بھائی ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں ۔ ہم میں سے ایک کا کُچھ پتا نہیں اور سب سے چھوٹا اِس وقت ہمارے باپ کے پاس مُلکِ کنعان میں ہے ۔
۳۳ تب اُس شخص نے جو مُلک کا مالِک ہے ہم سے کہا مَیں اِسی سے جان لُونگا کہ تم سچّے ہو کہ اپنے بھائیوں میں سے کِسی کو میرے پاس چھوڑ دو اور اپنے گھر والوں کے کھانے کے لئِے اناج لیکر چلے جاؤ۔
۳۴ اور اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو میرے پاس لے آؤ۔ تب مَیں جان لُونگا کہ تم جاسوُس نہیں بلکہ سچّے آدمی ہو اور مَیں تُمہارے بھائی کو تُمہارے حوالہ کر دُونگا ۔ پھِر تُم مُلک میں سَوداگری کرنا۔
۳۵ اور یُوں ہوا کہ جب اُنہوں نے اپنے اپنے بورے خالی کئِے تو ہر شخص کی نقدی کی تھیلی اُسی کے بورے میں رکھّی دیکھی اور وہ اور اُنکا باپ نقدی کی تھَیلیاں دیکھ کر ڈر گئے۔
۳۶ اور اُنکے باپ یعؔقوب نے اُن سے کہا تُم نے مُجھے بے اَولاد کر دیا ۔ یوُسف نہیں رہا اور شمعؔون بھی نہیں ہے اور بنیمیؔن کو بھی لیجانا چاہتے ہو۔ یہ سہب باتیں میرے خِلاف ہیں ۔
۳۷ تب رُوؔبن نے اپنے باپ سے کہا گر مَیں اُسے تیرے پاس نہ لے آؤں تو میرے دونوں بیٹوں کو قتل کر ڈالنا۔ اُسے میرے ہاتھ میں سونپ دےاور مَیں اُسے پھر تیرے پاس پہنچاؤ نگا۔
۳۸ اُس نے کہا میرا بیٹا تُمہارے ساتھ نہیں جائیگا کیونکہ اُسکا بھائی مرگیا اور وہ اکیلا ہے ۔ اگر راستہ میں جاتے جاتے اُس پر کوئی آفت آ پڑے تو تُم میرے سفید بالوں کو غم کے ساتھ گورمیں اُتاروگے۔