(۲) میان سے نکالی ہوئی تلوار کا نشان (۲۱: ۱۔۱۷)
۲۱: ۱۔۷ خدا اپنے ارادے کا اِظہار کرتا ہے کہ مَیں اپنی تیز تلوار سے یہوداہ اور یروشلیم کو اُجاڑ ڈالوں گا۔ حزقی ایل ٹھنڈی سانس بھر کر لوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ خدا کا عنقریب نازل ہونے والا
غضب نہایت ہولناک ہے۔
۲۱: ۸۔۱۷ بابل کی تلوار خوں ریزی کے لئے تیار ہے (آیات ۸۔۱۳) اور خدا کے قہر کو ٹھنڈا کرے گی (آیات ۱۴۔۱۷)۔ آیات ۱۰ اور ۱۳ بہت مشکل ہیں۔ شاید خیال یہ ہے:
یہ موقع نہیں تھا کہ یہوداہ خوش ہو۔ اُنہوں نے اِس سے سارے ہتھیاروں اور آفتوں کی تحقیر کی تھی جن کو لکڑی کہا گیا ہے۔ چنانچہ اب اُن کو فولاد کی بنی ہوئی تلوار کا سامنا کرنا ہو گا اور امکان ہے کہ تحقیر کرنے والا عصا یعنی یہوداہ
نابود ہو جائے۔
(۳) راہ سے دو راستے نکالنے کا نشان (۲۱: ۱۸۔۳۲)
۲۱: ۱۸۔۲۴ اِس کے بعد ہمیں شاہِ بابل ملکِ موعود کی طرف بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ راستے کے دوراہے پر پہنچتا ہے۔ ایک راستہ یروشلیم کو اور دوسرا ربہ (عمون کا دارالسلطنت) کو جاتا
ہے۔ وہ کون سے شہر پر پہلے حملہ کرے؟ وہ شگون لینے کے تین طریقے استعمال کرتا ہے:
- وہ ایک تیر پر یروشلیم کے لئے اور دوسرے پر ربہ کے لئے نشان لگاتا ہے۔
- وہ اپنے خاندانی معبودوں سے پوچھتا ہے۔
- وہ کسی ذبح کئے ہوئے جانور کے جگر پر نظر کرتا ہے۔ فیصلہ کیا ہوا؟ پہلے یروشلیم پر حملہ کر۔
۲۱: ۲۵۔۲۷ آیت ۲۵ میں مذکور ’’مجروح شریر شاہِ اسرائیل‘‘ صدقیاہ ہے۔ اُس کی بادشاہی کا تختہ اُلٹ دیا گیا ہے۔ اور وہ خدا کے لوگوں کا آخری بادشاہ ہو گا جب تک کہ مسیحِ موعود نہ آئے ’’جس کا حق
ہے‘‘ کہ بادشاہی کرے۔ میتھیو ہنری اِس کی یوں تفسیر کرتا ہے:
’’صدقیاہ کے بعد داؤد کے گھرانے سے اَور کوئی بادشاہ نہ ہو گا جب تک مسیح نہ آئے، جس کا سلطنت پر حق ہے، جو داؤد کی نسل سے ہے جس میں یہ وعدہ کامل طور سے پورا ہونا تھا کہ مَیں (بادشاہی) اُسے دوں
گا۔ اُس کے باپ داؤد کا تخت اُسے ملے گا (لوقا ۱: ۳۲)۔ چونکہ اُس کا حق ہے اِس لئے معین وقت پر وہ اُس پر قابض ہو گا۔ اور مَیں اُسے دوں گا۔ یہاں اِس کا ذکر اُن سب کی تسلی کی خاطر کیا گیا جنہیں خدشہ تھا کہ
داؤد کے ساتھ کیا گیا وعدہ ہمیشہ کے لئے ناکام ہو گیا ہے۔ خدا کہتا ہے ’’نہیں، یہ وعدہ یقینی ہے کیونکہ مسیحِ موعود کی بادشاہت تااَبد قائم رہے گی۔‘‘
۲۱: ۲۸۔۳۲ اِس کے بعد شاہِ بابل بنی عمون پر چڑھائی کرے گا اور اُنہیں بالکل نیست کر دے گا۔
تاریخی اور حالیہ واقعات کا سلسلہ ایسی مثالوں سے بھرے ہیں کہ خدا اِنسانی حکومتوں کا تختہ اُلٹتا ہے جب تک کہ مسیح (دوبارہ) نہ آئے جس کا حق ہے کہ بادشاہی کرے۔
کِتابِ مُقدّس
۱۔اور خُداوند نے جَیسا اُس نے فرمایا تھا سارہؔ پر نظر کی اور اُس نے اپنے وعدہ کے مُطابِق سارہؔ سے کِیا۔
۲۔سو سارہؔ حامِلہ ہُوئی اور ابرہامؔ کے لِئے اُس کے بُڑھاپے میں اُسی مُعیّن وقت پر جِس کا ذِکر خُدا نے اُس سے کِیا تھا اُس کے بیٹا ہُؤا۔
۳۔اور ابرہامؔ نے اپنے بیٹے کا نام جو اُس سے سارہؔ کے پَیدا ہُؤا اِضحاقؔ رکھّا۔
۴۔اور ابرہامؔ نے خُدا کے حُکم کے مُطابِق اپنے بیٹے اِضحاقؔ کا خَتنہ اُس وقت کِیا جب وہ آٹھ دِن کا ہُؤا۔
۵۔اور جب اُس کا بیٹا اِضحاقؔ اُس سے پَیدا ہُؤا تو ابرہامؔ سَو برس کا تھا۔
۶۔اور سارہؔ نے کہا کہ خُدا نے مُجھے ہنسایا اور سب سُننے والے میرے ساتھ ہنسیں گے۔
۷۔اور یہ بھی کہا کہ بھلا کوئی ابرہامؔ سے کہہ سکتا تھا کہ سارہؔ لڑکوں کو دُودھ پِلائے گی؟ کیونکہ اُس سے اُس کے بُڑھاپے میں میرے ایک بیٹا ہُؤا۔
۸۔اور وہ لڑکا بڑھا اور اُس کا دُودھ چُھڑایا گیا اور اِضحاقؔ کے دُودھ چُھڑانے کے دِن ابرہامؔ نے بڑی ضِیافت کی۔
۹۔اور سارہؔ نے دیکھا کہ ہاجرہؔ مِصری کا بیٹا جو اُس کے ابرہامؔ سے ہُؤا تھا ٹھٹھّے مارتا ہے۔
۱۰۔تب اُس نے ابرہامؔ سے کہا کہ اِس لَونڈی کو اور اُس کے بیٹے کو نِکال دے کیونکہ اِس لَونڈی کا بیٹا میرے بیٹے اِضحاقؔ کے ساتھ وارِث نہ ہو گا۔
۱۱۔پر ابرہامؔ کو اُس کے بیٹے کے باعِث یہ بات نِہایت بُری معلُوم ہُوئی۔
۱۲۔اور خُدا نے ابرہامؔ سے کہا کہ تُجھے اِس لڑکے اور اپنی لَونڈی کے باعِث بُرا نہ لگے۔ جو کُچھ سارہؔ تُجھ سے کہتی ہے تُو اُس کی بات مان کیونکہ اِضحاقؔ سے تیری نسل کا نام چلے گا۔
۱۳۔اور اِس لَونڈی کے بیٹے سے بھی مَیں ایک قَوم پَیدا کرُوں گا اِس لِئے کہ وہ تیری نسل ہے۔
۱۴۔تب ابرہامؔ نے صُبح سویرے اُٹھ کر روٹی اور پانی کی ایک مشک لی اور اُسے ہاجرہؔ کو دِیا بلکہ اُسے اُس کے کندھے پر دھر دِیا اور لڑکے کو بھی اُس کے حوالہ کر کے اُسے رُخصت کر دِیا۔ سو وہ چلی گئی اور بیرسبعؔ کے بیابان میں آوارہ پِھرنے لگی۔
۱۵۔اور جب مشک کا پانی ختم ہو گیا تو اُس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے نِیچے ڈال دِیا۔
۱۶۔اور آپ اُس کے مُقابِل ایک تِیر کے ٹپّے پر دُور جا بَیٹھی اور کہنے لگی کہ مَیں اِس لڑکے کا مَرنا تو نہ دیکُھوں۔ سو وہ اُس کے مُقابِل بَیٹھ گئی اور چِلّا چِلّا کر رونے لگی۔
۱۷۔اور خُدا نے اُس لڑکے کی آواز سُنی اور خُدا کے فرِشتہ نے آسمان سے ہاجرہؔ کو پُکارا اور اُس سے کہا اَے ہاجرہؔ تُجھ کو کیا ہُؤا؟ مت ڈر کیونکہ خُدا نے اُس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اُس کی آواز سُن لی ہے۔
۱۸۔اُٹھ اور لڑکے کو اُٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کیونکہ مَیں اُس کو ایک بڑی قَوم بناؤں گا۔
۱۹۔پِھر خُدا نے اُس کی آنکھیں کھولِیں اور اُس نے پانی کا ایک کُنواں دیکھا اور جا کر مشک کو پانی سے بھر لِیا اور لڑکے کو پِلایا۔
۲۰۔اور خُدا اُس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑا ہُؤا اور بیابان میں رہنے لگا اور تِیرانداز بنا۔
۲۱۔اور وہ فاران کے بیابان میں رہتا تھا اور اُس کی ماں نے مُلکِ مِصرؔ سے اُس کے لِئے بِیوی لی۔
۲۲۔پِھر اُس وقت یُوں ہُؤا کہ ابی مَلِکؔ اور اُس کے لشکر کے سردار فِیکُلؔ نے ابرہامؔ سے کہا کہ ہر کام میں جو تُو کرتا ہے خُدا تیرے ساتھ ہے۔
۲۳۔اِس لِئے تُو اب مُجھ سے خُدا کی قَسم کھا کہ تُو نہ مُجھ سے نہ میرے بیٹے سے اور نہ میرے پوتے سے دغا کرے گا بلکہ جو مِہربانی مَیں نے تُجھ پر کی ہے وَیسی ہی تُو بھی مُجھ پر اور اِس مُلک پر جِس میں تُو نے قیام کِیا ہے کرے گا۔
۲۴۔تب ابرہامؔ نے کہا مَیں قَسم کھاؤں گا۔
۲۵۔اور ابرہامؔ نے پانی کے ایک کُنوئیں کی وجہ سے جِسے ابی مَلِکؔ کے نوکروں نے زَبردستی چِھین لِیا تھا ابی ملکؔ کو جِھڑکا۔
۲۶۔ابی مَلِکؔ نے کہا مُجھے خبر نہیں کہ کِس نے یہ کام کِیا اور تُو نے بھی مُجھے نہیں بتایا اور نہ مَیں نے آج سے پہلے اِس کی بابت کُچھ سُنا۔
۲۷۔پِھر ابرہامؔ نے بھیڑ بکرِیاں اور گائے بَیل لے کر ابی مَلِکؔ کو دِئے اور دونوں نے آپس میں عہد کِیا۔
۲۸۔اور ابرہامؔ نے بھیڑ کے سات مادہ بچّوں کو لے کر الگ رکھّا۔
۲۹۔اور ابی مَلِکؔ نے ابرہامؔ سے کہا کہ بھیڑ کے اِن سات مادہ بچّوں کو الگ رکھنے سے تیرا مطلب کیا ہے؟
۳۰۔اُس نے کہا کہ بھیڑ کے اِن ساتوں مادہ بچّوں کو تُو میرے ہاتھ سے لے تاکہ وہ میرے گواہ ہوں کہ مَیں نے یہ کُنواں کھودا۔
۳۱۔اِسی لِئے اُس نے اُس مقام کا نام بیرسبعؔ رکھّا کیونکہ وہِیں اُن دونوں نے قَسم کھائی۔
۳۲۔سو اُنہوں نے بیرسبعؔ میں عہد کِیا۔ تب ابی مَلِکؔ اور اُس کے لشکر کا سردار فِیکُلؔ دونوں اُٹھ کھڑے ہُوئے اور فِلستِیوں کے مُلک کو لَوٹ گئے۔
۳۳۔تب ابرہامؔ نے بیرسبعؔ میں جھاؤ کا ایک درخت لگایا اور وہاں اُس نے خُداوند سے جو ابدی خُدا ہے دُعا کی۔
۳۴۔اور ابرہامؔ بُہت دِنوں تک فِلستِیوں کے مُلک میں رہا۔