پیَدایش ۱۹

۱۹:‏۱۔۱۱ سدوم ہم جنس پرستی کا متبادل بن گیا تھا۔ لیکن جنسی بے راہ رَوی ہی شہر کی بربادی کا واحد سبب نہ تھا۔ حزقی ایل ۱۶:‏۴۹‏،۵۰ میں خداوند سدوم کے گناہ کو اِن الفاظ میں بیان
کرتا ہے:‏ ’’غرور‏، روٹی کی سیری اور راحت کی کثرت۔‘‘

لوط نے دونوں فرشتوں کا اِستقبال کیا اور اصرار کیا کہ وہ اُس کے ہاں رات بسر کریں‏، کیونکہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ باہر رہنے سے وہ کون سے خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اِس کے باوجود شہر کے مرد ان آسمانی مہمانوں کے ساتھ بدفعلی
کرنے کے لئے اِصرار کر رہے تھے۔ اپنے دونوں مہمانوں کو بچانے کی کوشش میں لوط نے بڑی بے حیائی سے اپنی دونوں بیٹیوں کی پیش کش کر دی۔ صرف ایک معجزے سے اِس صورتِ حال پر قابو پا لیا گیا کیونکہ فرشتوں نے وقتی طور پر سدوم کے مردوں کو
اَندھا کر دیا۔ 

ہم جنس پرستی

پرانے عہدنامے (‏پیدائش ۱۹:‏۱۔۲۶؛ احبار ۱۸:‏۲۲؛ ۲۰:‏۱۳)‏ اور نئے عہدنامے (‏رومیوں ۱:‏۱۸۔۳۲؛ ۱۔کرنتھیوں ۶:‏۹؛ ۱۔تیمتھیس ۱:‏۱۰)‏ میں خدا ہم جنس پرستی کے گناہ کی
ملامت کرتا ہے۔ اُس نے سدوم اور عمورہ کے شہروں کو برباد کرنے سے اِس گناہ کے خلاف اپنے غضب کا اِظہار کیا۔ موسوی شریعت کے تحت ہم جنسیت کے گناہ کی سزا موت تھی۔ کوئی لونڈے باز آسمان کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ 

موجودہ دَور میں ’’لونڈے بازوں‘‘ کو اپنے طریقِ زندگی کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ پولس کہتا ہے کہ اُنہوں نے ’’اپنے آپ میں اپنی گمراہی کے لائق بدلہ پایا‘‘ (‏رومیوں ۱:‏۲۷ب)‏۔ اِس سے ایک قسم کا سرطان اور ایڈز
ایسی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ 

دیگر تمام گنہگاروں کی طرح ہم جنس پرست مرد یا عورت اپنے گناہ سے توبہ کر لے اور خداوند یسوع مسیح کو اپنا شخصی نجات دہندہ قبول کر لے تو وہ نجات پا سکتے ہیں۔ خداوند ہم جنس پرست مرد یا عورت کو پیار کرتا ہے‏، حالانکہ وہ اُن کے
گناہ سے نفرت کرتا ہے۔ 

ہم جنس پرستی کے عمل اور رُجحان میں بڑا فرق ہے۔ بائبل میں ہم جنس پرستی کے عمل نہ کہ رُجحان کی ملامت کی گئی ہے۔ متعدد لوگوں کی اپنے ہم جنس ساتھیوں کی طرف رغبت ہوتی ہے‏، لیکن وہ اِس رُجحان سے مغلوب نہیں ہوتے۔ خدا کے روح کی قوت سے
وہ آزمائش کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے آپ پر ضبط کر کے پاکیزگی کی زندگی گزارتے ہیں۔ بہت سے ایمان داروں نے ہم جنس پرستی کے رُجحان پر افسوس کا اِظہار اور توبہ کی ہے۔

لیکن اِسے تبدیل نہیں کر سکے۔ تب اُنہوں نے اپنے آپ کو صبر اور پاکیزگی کے لئے خداوند کے روح کے سپرد کیا‏، جو فی الحقیقت تقدیس ہے۔ مسیح کے ساتھ عہد کرتے ہوئے اُنہوں نے اپنے اندرونی عیب کی خدا کے استعمال کے لئے پیش کش کی تاکہ
الٰہی قدرت اِنسانی کمزوری میں کامل ہو۔

بعض لوگ خدا کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم جنس پرستی کا رُجحان پیدائشی طور پر ہے۔ لیکن یہ خدا کی غلطی نہیں بلکہ اِنسان کی گناہ آلود فطرت کی غلطی ہے۔ گناہ میں گرے ہوئے آدم کے ہر ایک فرزند میں بدی کے رُجحانات ہیں۔ ہر
ایک شخص میں مختلف قسم کی کمزوریاں ہیں۔ آزمائش گناہ نہیں بلکہ آزمائش میں گر جانا گناہ ہے۔ 

جیسے کہ دیگر بُری خواہشات سے مخلصی حاصل ہو سکتی ہے ہم جنس پرستی کے رُجحانات سے بھی رہائی مل سکتی ہے۔ تاہم ہر ایک صورتِ حال میں دین دارانہ مشاورتی مدد نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ 

مسیحیوں کو چاہئے کہ وہ ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کے طرزِ زندگی کو نہیں بلکہ اُنہیں قبول کریں‏، کیونکہ وہ بھی اِنسان ہیں جن کے لئے مسیح نے اپنی جان دی ہے۔ اور ایمان داروں کو چاہئے کہ ہر ممکن طریقے سے کوشش کریں کہ اُنہیں
’’پاکیزگی‘‘ کی زندگی کے لئے جیتیں کیونکہ اِس کے بغیر کوئی شخص خدا کو نہیں دیکھ سکے گا (‏عبرانیوں ۱۲:‏۱۴)‏۔

۱۹:‏۱۲۔۲۹ فرشتوں نے اِصرار کیا کہ لوط اور اُس کا خاندان شہر کو چھوڑ دیں۔ لیکن جب اُس نے اپنے دامادوں کو یہ مشورہ دیا‏، تو اُن کا خیال تھا کہ وہ اُن سے مذاق کر رہا ہے۔ جب بحران کا وقت
آیا تو اُس کی برگشتہ زندگی نے اُس کی گواہی کی تردید کی۔ جب صبح ہوئی تو فرشتے لوط‏، اُس کی بیوی اور بیٹیوں کو سدوم سے لے کر باہر نکلے۔ اِس کے باوجود لوط نے گناہ کے مضافاتی شہروں کے قریب ضُغر میں سکونت اِختیار کرنے کو ترجیح
دی۔ چونکہ سدوم میں دس راست باز آدمی بھی نہ ملے اِس لئے خدا نے اُسے برباد کر دیا۔ تاہم خدا نے ابرہام کی دعا کا جواب دیا‏، کیونکہ ’’خدا نے ابرہام کو یاد کیا‏، اور اُن شہروں کو جہاں لوط رہتا تھا غارت کرتے وقت لوط کو
اُس بلا سے بچایا۔‘‘

گو لوط کی بیوی نے شہر کو چھوڑ دیا‏، لیکن اُس کا دل ابھی تک وہاں تھا‏، چنانچہ خدا نے اُسے سزا دی۔ ’’لوط کی بیوی کو یاد رکھو‘‘(‏لوقا۱۷:‏۳۲)‏‏، اِن الفاظ سے مسیح نے اُن سب کو خبردار کیا جو
نجات کی پیش کش کو معمولی بات سمجھتے ہیں۔ 

۱۹:‏۳۰۔۳۸ ضغر کو چھوڑ کر لوط نے بھاگ کر ایک پہاڑ کی کھوہ میں پناہ لی۔ وہاں اُس کی بیٹیوں نے اُسے شراب میں مدہوش کیا اور پھر اُس سے ہم آغوش ہوئیں۔ بڑی بیٹی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کا اُس نے
موآب نام رکھا‏، اور چھوٹی کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا اور اُس نے اُس کا نام بن عمی رکھا۔ اُن سے پیدا ہونے والی نسلیں موآبی اور عمونی کہلائیں جو بنی اِسرائیل کے لئے مسلسل سر دردی بنی رہیں۔ یہ موآبی عورتیں تھیں جنہوں نے
اِسرائیلی مردوں کے ساتھ حرام کاری شروع کی (‏گنتی ۲۵:‏۱۔۳)‏ اور عمونیوں نے بنی اِسرائیل کو مولک دیوتا کی پرستش سکھائی اور اِس پرستش میں بچوں کی قربانی بھی شامل تھی (‏۱۔سلاطین ۱۱:‏۳۳؛ یرمیاہ
۳۲:‏۳۵)‏۔ ۲۔پطرس ۲:‏۷‏،۸ میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ لوط ایک راست باز شخص تھا‏، لیکن دُنیوی مال و دولت کی وجہ سے وہ اپنی گواہی (‏آیت ۱۴)‏‏، اپنی بیوی (‏آیت
۲۶)‏‏، اپنے دامادوں‏، اپنے دوستوں‏، اپنی رفاقت (‏سدوم میں اَب کوئی باقی نہ بچا تھا)‏ اور اپنی جائیداد (‏وہ وہاں ایک امیر شخص کی حیثیت سے داخل ہوا اور غربت کی حالت میں وہاں سے
نکلا)‏‏، اپنے کردار (‏آیت ۳۵)‏‏، اپنی زندگی کے کام اور تقریباً اپنی زندگی (‏۲۲)‏ سے محروم ہو گیا۔ اُس کی بیٹیوں کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سدوم کے گندے اور خراب اخلاقی معیار سے
متاثر تھیں۔ ’’اِتنی بڑی نجات سے غافل رہ کر ہم کیونکر بچ سکتے ہیں‘‘ (‏عبرانیوں ۲:‏۳)‏۔

کِتابِ مُقدّس

۱۔ اور وہ دونوں فرشتے شام کو سؔدُوم میں آئے اور لؔوُط سؔدُوم کے پھاٹک پر بَیٹھا تھا اور لؔوُط اُنکو دیکھ کر اُن کے اِستقبال کے لئے اُٹھا اور زمین تک جُھکا۔
۲۔ اور کہا اَے میرے خُداوند اپنے خادِم کے گھر تشریف لے چلئے اور رات بھر آرام کیجئے اور اپنے پاؤں دھوئیے اور صُبح اُٹھکر اپنی راہ لَیجئے اور اُنہوں نے کہا نہیں ہم چَوک ہی میں رات کاٹ لینگے۔
۳۔ لیکن جب وہ بہت بجِد ہُوا تو وہ سُسکے ساتھ چل کر اُسکے گھر میں آئے اور اُس نے اُنکے لِئے ضیافت تیار کی اور بے خمیری روٹی پکائی اور اُنہوں نے کھایا۔
۴۔ اور اِس سے پیشتر کہ وہ آرام کرنے کے لِئے لیتیں سؔدُوم شہر کے مردوں نے جوان سے لیکر بُڈھے تک سب لوگوں نے ہر طرف سے اُس گھر کو گھیر لیا۔
۵۔ اور اُنہوں نے لؔوُط کو پُکار کر اُس سے کہا وہ مرد جو آج رات تیرے ہاں آئے کہاں ہیں؟ اُنکو ہمارے پاس باہر لے آ تاکہ ہم اُن سے صحبت کریں۔
۶۔ تب لؔوُط نِکل کر اُنکے پاس دروازہ پر گیا اور اپنے پیچھے کواڑ بند کر دیا۔
۷۔اور کہا کہ اَے بھائیو! اَیسی بدی تو نہ کرو۔
۸۔ دیکھو! میری دوبیٹیان ہیں جو مرد سے واقف نہیں ۔ مرضی ہو تو مَیں اُنکو تمہارے پاس لے آؤں اور جو تُمکو بھلا معلوم ہو اُن سے کرو۔ مگر اِن مردوں سے کُچھ نہ کہنا کیونکہ وہ اِسی واسطے میری پناہ میں آئے ہیں۔
۹۔ اُنہوں نے کہا یہاں سے ہٹ جا۔ پِھر کہنے لگے کہ یہ شخص ہمارے درمیان قیام کرنے آیا تھا اور اب حکومت جتاتا ہے ۔ سو ہم تیرے ساتھ اُن سے زیادہ بدسلوکی کرینگے ۔ تب وہ اُس مرد یعنی لؔوُط پر پِل پڑے اور نزدیک آئے تاکہ کِواڑ توڑ ڈالیں ۔

۱۰۔ لیکن اُن مردوں نے اپنے ہاتھ بڑھا کر لؔوُط کو اپنے پاس گھر میں کھینچ لیا اور دروازہ بند کردیا۔
۱۱۔ اور اُن مردوں کو جو گھر کے دروازہ پر تھے کیا چھوٹے کیا بڑے اندھا کر دیا۔ سو وہ دروازہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے۔
۱۲۔ تب اپن مردوں نے لؔوُط سے کہا کیا یہاں تیرا اور کوئی ہے ۔؟۔ داماد اور اپنے بیٹوں اور بیٹیوں اور جو کئی تیرا ِس شہر میں ہو سب کو اِس مقام سے باہر نِکال لے جا۔
۱۳۔ کیونکہ ہم اِس مقام کو نیست کرینگے اِسلئے کہ اُنکا شور خُداوند کے حضوربہت بلند ہُوا ہے اور خُداوند نے اُسے نیست کرنے کو ہمیں بھیجا ہے۔
۱۴۔ تب لؔوُط نے باہر جاکر اپنے دامادوں سے جنہوں نے اُسکی بیٹیاں بیاہی تھیں باتیں کیں اور کہا کہ اُٹھواور اِس مقام سے نِکلو کیونکہ خُداوند اِس شہر کو نیست کریگا۔ لیکن وہ اپنے دامادوں کی نظر میں مُضحِک سا معلوم ہُوا۔
۱۵۔جب صُبح ہوئی تو فرشتوں نے لؔوُط سے جلدی کرائی اور کہا کہ اُٹھ اپنی بیوی اور اپنی دونوں بیٹیوں کو جو یہاں ہیں لے جا۔ اَیسا نہ ہو کہ تُو بھی اِس شہر کی بدی میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو جائے۔
۱۶۔ مگر اُس نے دیر لگائی تو اُن مردوں نے اُسکا اور اُسکی بیوی اور اُسکی دونوں بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا کیونکہ خُداوند کی مہربانی اُس پر ہوئی اور اُسے نِکال کی شہر سے باہر کر دیا۔
۱۷۔ اور یُوں ہُوا کہ جب وہ اپنکو باہر نِکال لائے تو اُس نے کہا اپنی جان بچانے کو بھاگ۔ نہ تو پیچھے مُڑ کر دیکھنا نہ کہیں مَیدان میں ٹھہرنا۔ اُس پہاڑ کو چلا جا۔ تانہ ہو کہ تو ہلاک ہو جائے۔
۱۸۔ لؔوُط نے اُن سے کہا کہ اَے میرے خُداوند اَیسا نہ کر۔
۱۹۔ دیکھ تُو نے اپنے خادم پر کرم کی نظر کی ہے اور اَیسا فضل کِیا کہ میری جان بچائی ۔ مَیں پہاڑ تک جا نہیں سکتا۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ مجھ پر مُصیبت آپڑے اور مَیں مر جاؤں۔
۲۰۔دیکھ یہ شہر اَیسا نزدیک ہے کہ وہاں بھاگ سکتا ہوُں اور یہ چھوٹا بھی ہے ۔ اِجازت ہو تو میں وہاں چلا جاؤں ۔ وہ چھوٹا سا بھی ہے ۔ اور میری جان بچ جائیگی ۔
۲۱۔اُس نے اُس سے کہا کہ دیکھ مَیں اِس بات میں بھی تیرا لحاظ کرتا ہوں کہ اِس شہر کو جِسکا تو نے ذِکر کیا ہے غارت نہیں کرونگا۔
۲۲۔ جلدی کر اور وہاں چلا جا کیونکہ مَیں کچھ نہیں کر سکتا جب تک کہ تُو وہاں پہنچ نہ جائے۔ اَسی لئے اُس شہر کا نام ضُؔغر کہلایا۔
۲۳۔ اور زمین پر دُھوپ نِکل چُکی تھی جب لؔوُط ضُؔغر میں داخل ہُوا۔
۲۴۔ تب خُداوند نے اپنی طرف سے سؔدُوم اور عؔمورہ پر گندھک اور آگ آسمان سے برسائی۔
۲۵۔اور اُس نے اُن شہر وں کو اور اُس ساری ترائی کو اور اُن شہروں کے سب رہنے والون کو اور سب کُچھ جو زمین سے اُگا تھا غارت کِیا۔
۲۶۔ مگر اُسکی بیوی نے اُسکے پیچھے سے مُڑ کر دیکھا اور وہ نمک کا سُتون بن گئی۔
۲۷۔ اور ابرؔہام صبح سویرے اُٹھ کر اُس جگہ گیا جہاں وہ خُداوند کے حضور کھڑا ہوا تھا۔
۲۸۔ اُس نے سؔدُم اور عؔمورہ اور اُس ترائی کی ساری زمین کی طف نظر کی اور کیا دیکھتا ہے کہ زمین پر سے دُھوان اِیسا اُٹھ رہا ہے جَیسے بھٹیّ کا دُھواں ۔
۲۹۔ اور یُوں ہُوا کہ جب خُدا نے اُس ترائی کے شہروں کو نیست کِیا تو خُدا نے ابرؔہام کو یاد کیا اور اُن شہروں کو جہاں لؔوُط رہتا تھا غارت کرتے وقت لؔوُط کو اُس بلا سے بچایا۔
۳۰۔اور لؔوُط ضُغؔر سے نِکل کر پہاڑ پر جا بسا اور اُس کی دونوں بیٹیاں اُسکے ساتھ تھیں کیونکہ اُسے ضُؔغر میں بستے ڈرلگا اور وہ اور اُسکی دونوں بیٹیاں ایک غار میں رہنے لگے۔
۳۱۔تب پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ ہمارا باپ بُڈ ّھا ہے اور زمین پر کوئی مرد نہیں جو دُنیا کے دستور کے مُطابق ہمارے پاس آئے ۔
۳۲۔ آؤ ہم اپنے باپ کو مِے پِلائیں اور اُس سے ہم آغوش ہوں تاکہ اپنے باپ سے نسل باقی رکھّیں ۔
۳۳۔ سو اُنہوں نے اُسی رات اپنے باپ کو مِے پِلائی اور پہلوٹھی اندر گئی اور اپنے باپ سے ہم آغوش ہوئی پر اُس نے نہ جانا کہ وہ کب لیتی اور کب اُٹھ گئی۔
۳۴۔اور دُوسرے روز یُوں ہُؤا کہ پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ دیکھ کل رات کو مَیں اپنے باپ سے ہم آغوش ہُوئی۔ آؤ آج رات بھی اُس کو مَے پِلائیں اور تُو بھی جا کر اُس سے ہم آغوش ہو تاکہ ہم اپنے باپ سے نسل باقی رکھّیں
۳۵۔سو اُس رات بھی اُنہوں نے اپنے باپ کو مَے پِلائی اور چھوٹی گئی اور اُس سے ہم آغوش ہُوئی پر اُس نے نہ جانا کہ وہ کب لیٹی اور کب اُٹھ گئی۔
۳۶۔سو لُوطؔ کی دونوں بیٹِیاں اپنے باپ سے حامِلہ ہُوئِیں۔
۳۷۔اور بڑی کے ایک بیٹا ہُؤا اور اُس نے اُس کا نام موآؔب رکھّا۔ وُہی موآبیوں کا باپ ہے جو اب تک مَوجُود ہیں۔
۳۸۔اور چھوٹی کے بھی ایک بیٹا ہُؤا اور اُس نے اُس کا نام بِن عمّی رکھّا۔ وُہی بنی عَمّون کا باپ ہے جو اب تک مَوجُود ہیں۔