پیَدایش ۲۳

(‏۱۰)‏ خاندانی قبرستان (‏باب ۲۳)‏

۲۳:‏۱۔۱۶ جب سارہ نے ۱۲۷ برس کی عمر میں وفات پائی تو ابرہام نے حبرون کے حِتی باشندوں سے مکفیلہ کی غار کی خریداری کا سودا کیا تاکہ اُسے قبرستان کے طور پر استعمال کرے۔ اُس کی زندگی کے سارے سفر میں
جائیداد کی یہ واحد خریداری تھی۔ کلام کے اِس حصے میں قیمت کو بڑھا چڑھا کر سودا بازی کا ذکر ہے جو مشرقی ممالک میں عام رواج ہے۔ اوّلاً تو حتیوں نے یہ صلاح دی کہ ابرہام گورِستان کے لئے کوئی سی جگہ چن لے۔ ابرہام نے وضع داری کے تحت
مفت جگہ لینے سے اِنکار کر دیا کہ عفرون کی ملکیتی غار کے لئے وہ پوری قیمت ادا کرے گا۔ شروع میں تو عفرون نے نہ صرف غار بلکہ پورا کھیت تحفے کے طور پر دینے کی پیش کش کی‏، لیکن ابرہام سمجھ گیا کہ اُس کا یہ شائستہ انداز معانی خیز ہے۔
مالک کی درحقیقت یہ جگہ مفت دینے کی کوئی ایسی نیت نہ تھی۔ جب ابرہام نے یہ جگہ خریدنے کے لئے اپنی خواہش کا اِظہار کیا تو عفرون نے چاندی کی چار سو مثقال قیمت ٹھہرائی اور یہ ظاہر کیا گویا یہ بہت معمولی قیمت ہے۔ دراصل یہ بہت زیادہ
قیمت تھی اور خریدار کا سودے بازی کرنا عام معمول تھا۔ چنانچہ ہر ایک یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ابرہام نے عفرون کی پہلی بار قیمت بتانے پر رضامندی کا اظہار کر دیا۔ ابرہام ایک بے دین شخص کا احسان نہیں لینا چاہتا تھا اور نہ ہی ہمیں
ایسے لوگوں کے احسان مند ہونا چاہئے۔

۲۳:‏۱۷۔۲۰ مکفیلہ کی غار بعد ازاں ابرہام‏، اضحاق‏، رِبقہ‏، یعقوب اور لیاہ کے لئے گورستان بن گئی۔ اِس کی روایتی جگہ پر اَب ایک مسجد ہے۔

کِتابِ مُقدّس

۱۔اور سارہؔ کی عُمر ایک سَو ستائِیس برس کی ہُوئی۔ سارہؔ کی زِندگی کے اِتنے ہی سال تھے۔
۲۔اور سارہؔ نے قریت اربعؔ میں وفات پائی۔ یہ کنعانؔ میں ہے اور حبرُونؔ بھی کہلاتا ہے اور ابرہامؔ سارہؔ کے لِئے ماتم اور نَوحہ کرنے کو وہاں گیا۔
۳۔پِھر ابرہامؔ میّت کے پاس سے اُٹھ کر بنی حِت سے باتیں کرنے لگا اور کہا کہ
۴۔مَیں تُمہارے درمِیان پردیسی اور غریبُ الوطن ہُوں۔ تُم اپنے ہاں گورِستان کے لِئے کوئی مِلکِیّت مُجھے دو تاکہ مَیں اپنے مُردہ کو آنکھ کے سامنے سے ہٹا کر دفن کر دُوں۔
۵۔تب بنی حِت نے ابرہامؔ کو جواب دِیا کہ
۶۔اَے خُداوند ہماری سُن۔ تُو ہمارے درمِیان زبردست سردار ہے۔ ہماری قبروں میں جو سب سے اچھّی ہو اُس میں تُو اپنے مُردہ کو دفن کر۔ ہم میں اَیسا کوئی نہیں جو تُجھ سے اپنی قبر کا اِنکار کرے تاکہ تُو اپنا مُردہ دفن نہ کر سکے۔
۷۔ابرہامؔ نے اُٹھ کر اور بنی حِت کے آگے جو اُس مُلک کے لوگ ہیں آداب بجا لا کر۔
۸۔اُن سے یُوں گُفتگُو کی کہ اگر تُمہاری مرضی ہو کہ مَیں اپنے مُردہ کو آنکھ کے سامنے سے ہٹا کر دفن کر دُوں تو میری عرض سُنو اور صُحرؔ کے بیٹے عِفروؔن سے میری سفارِش کرو۔
۹۔کہ وہ مکفیلہؔ کے غار کو جو اُس کا ہے اور اُس کے کھیت کے کنارے پر ہے اُس کی پُوری قِیمت لے کر مُجھے دے دے تاکہ وہ گورِستان کے لِئے تُمہارے درمِیان میری مِلکِیّت ہو جائے۔
۱۰۔اور عِفروؔن بنی حِت کے درمِیان بَیٹھا تھا۔ تب عِفروؔن حِتّی نے بنی حِت کے سامنے اُن سب لوگوں کے رُوبرُو جو اُس کے شہر کے دروازہ سے داخِل ہوتے تھے ابرہامؔ کو جواب دِیا۔
۱۱۔اَے میرے خُداوند یُوں نہ ہو گا بلکہ میری سُن۔ مَیں یہ کھیت تُجھے دیتا ہُوں اور وہ غار بھی جو اُس میں ہے تُجھے دِئے دیتا ہُوں۔ یہ مَیں اپنی قَوم کے لوگوں کے سامنے تُجھے دیتا ہُوں تُو اپنے مُردہ کو دفن کر۔
۱۲۔تب ابرہامؔ اُس مُلک کے لوگوں کے سامنے جُھکا۔
۱۳۔پِھر اُس نے اُس مُلک کے لوگوں کے سُنتے ہُوئے عِفروؔن سے کہا کہ اگر تُو دینا ہی چاہتا ہے تو میری سُن۔ مَیں تُجھے اُس کھیت کا دام دُوں گا۔ یہ تُومُجھ سے لے لے تو مَیں اپنے مُردہ کو وہاں دفن کرُوں گا۔
۱۴۔عِفرونؔ نے ابرہامؔ کو جواب دِیا۔
۱۵۔اَے میرے خُداوند میری بات سُن۔ یہ زمِین چاندی کی چار سَو مِثقال کی ہے سو میرے اور تیرے درمِیان یہ ہے کیا؟ پس اپنا مُردہ دفن کر۔
۱۶۔اور ابرہامؔ نے عِفروؔن کی بات مان لی۔ سو ابرہامؔ نے عِفرونؔ کو اُتنی ہی چاندی تول کر دی جِتنی کا ذِکر اُس نے بنی حِت کے سامنے کِیا تھا یعنی چاندی کی چار سَو مِثقال جو سَوداگروں میں رائج تھی۔
۱۷۔سو عِفرونؔ کا وہ کھیت جو مَکفیلہؔ میں مَمرے کے سامنے تھا اور وہ غار جو اُس میں تھا اور سب درخت جو اُس کھیت میں اور اُس کی چاروں طرف کی حُدُود میں تھے۔
۱۸۔یہ سب بنی حِت کے اور اُن سب کے رُوبرُو جو اُس کے شہر کے دروازہ سے داخِل ہوتے تھے ابرہامؔ کی خاص مِلکِیّت قرار دِئے گئے۔
۱۹۔اِس کے بعد ابرہامؔ نے اپنی بِیوی سارؔہ کو مَکفیلہؔ کے کھیت کے غار میں جو مُلکِ کنعانؔ میں مَمرے یعنی حبرُونؔ کے سامنے ہے دفن کِیا۔
۲۰۔چُنانچہ وہ کھیت اور وہ غار جو اُس میں تھا بنی حِت کی طرف سے گورِستان کے لِئے ابرہامؔ کی مِلکِیّت قرار دِئے گئے۔