پیَدایش ۲۶

(‏۲)‏ اضحاق اور ابی مَلِک (‏باب ۲۶)‏

۲۶:‏۱۔۶ اضحاق کا قحط کے سلسلے میں اپنے باپ جیسا ردِّعمل تھا (‏باب ۱۲ اور ۲۰)‏۔ جب وہ جنوب کی طرف سفر کر رہا تھا‏، تو خداوند جرار کے مقام پر اُس پر ظاہر ہوا اور اُسے خبردار کیا کہ وہ مصر میں نہ
جائے۔ جرار مصر کی راہ پر نصف فاصلے پر ایک قیام گاہ تھی۔ خدا نے اضحاق کو بتایا کہ وہ جرار میں عارضی طور پر قیام کرے‏، لیکن اِس کے بجائے اُس نے وہاں سکونت اِختیار کر لی۔ خدا نے اُس کے ساتھ‏، ابرہام سے کئے ہوئے وعدے کی ازسرِنو
تصدیق کی۔

۲۶:‏۷۔۱۷ اضحاق نے خوف کے رُوبرو اپنے باپ کے سے ردِّعمل کا اِظہار کیا۔ اُس نے جرار کے باشندوں سے اپنی بیوی کے بارے میں غلط بیانی کی کہ وہ میری بہن ہے۔ یہ ایک افسوس ناک داستان ہے کہ باپ کی کمزوری
بیٹے میں بھی دُہرائی گئی۔ جب یہ فریب بے نقاب ہو گیا اور اِس کے لئے ملامت کی گئی تو اضحاق نے اِقرار کر لیا۔ اِقرار برکتوں کا باعث ہے۔ اضحاق جرار میں بہت زیادہ امیر بن گیا۔ وہ اِس قدر دولت مند تھا کہ اُس وقت کے حکمران ابی مَلِک نے
اُسے کہا کہ وہ اِس جگہ کو چھوڑ دے۔ چنانچہ اضحاق جرار کو چھوڑ کر جرار کی وادی میں جا بسا جو وہاں سے زیادہ دُور نہ تھی۔

۲۶:‏۱۸۔۲۵ فلستیوں نے ابرہام کے کھودے ہوئے کنوؤں کو بند کر دیا تھا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوواردوں کی آمد کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔ اضحاق نے پھر سے کنوؤں کو کھدوایا۔ فلستیوں سے عِسق
(‏جھگڑا)‏ اور سِتنہ (‏مخالفت)‏ کے کنوؤں پر جھگڑا ہوا۔ بالآخر وہ فلستیوں کے علاقے سے چلا گیا۔ اب کی بار جب اُنہوں نے کنواں کھودا تو کوئی جھگڑا نہ ہوا اِس لئے اُس نے اِس کا نام رحوبوت رکھا (‏وسیع جگہ یا کمرا)‏۔ وہاں سے وہ بیرسبع
کو گیا جہاں خدا نے اُسے پھر سے یقین دلایا کہ وہ اُسے برکت دے گا۔ اور وہاں اضحاق نے مذبح بنایا (‏پرستش)‏‏، خیمہ لگایا (‏سکونت)‏ اور وہاں کنواں کھودا (‏تازہ دم ہونے کے لئے اِہتمام)‏ جیسے جسمانی دُنیا میں پانی ایک بنیادی ضرورت ہے‏،
بعینہٖ روحانی دُنیا میں خدا کا کلام بنیادی ضرورت ہے۔

۲۶:‏۲۶۔۳۲ آیات ۲۶۔۳۱ کے بارے میں ایک مفسر کہتا ہے:‏

’’جب اِضحاق حتمی طور پر اہلِ جرار سے علیٰحدگی اِختیار کر لیتا ہے تو وہ اُس کے پاس آتے ہیں کہ خدا سے برکت حاصل کریں … جب مسیحی اپنے آپ کو دُنیا سے علیٰحدہ کر لیتا ہے تو وہ بہتر طور سے اُس کی مدد کر سکتا ہے …‘‘

جب اِضحاق نے ابی مَلِک کے ساتھ اَمن کے ساتھ رہنے کا معاہدہ کیا تو عین اُسی دن اضحاق کے نوکروں کو پانی مل گیا۔ ابرہام نے اِس سے قبل اُس جگہ کا نام بیرسبع رکھا کیونکہ اُس نے اپنے معاصر ابی مَلِک کے ساتھ عہد کیا تھا (‏۲۱:‏۳۱)‏۔ اب
عین اُنہی حالات میں اضحاق نے اِس کا نام پھر سے سبع یا بیرسبع رکھا۔

۲۶:‏۳۴‏، ۳۵ جب عیسو نے یہودتھ اور بشامتھ دو بے دین عورتوں سے شادی کی تو اِس کا اُس کے والدین کو بہت زیادہ رنج ہوا۔ اِس سے وہ مزید اپنے پیدائشی حق کے اہل نہ رہا۔

کِتابِ مُقدّس

۱۔اور اُس مُلک میں اُس پہلے کال کے عِلاوہ جو ابرہامؔ کے ایّام میں پڑا تھا پِھر کال پڑا۔ تب اِضحاقؔ جرارؔ کو فِلستِیوں کے بادشاہ اَبی مَلِکؔ کے پاس گیا۔
۲۔اور خُداوند نے اُس پر ظاہِر ہو کر کہا کہ مِصرؔ کو نہ جا بلکہ جو مُلک میں تُجھے بتاؤں اُس میں رہ۔
۳۔تُو اِسی مُلک میں قیام رکھ اور مَیں تیرے ساتھ رہُوں گا اور تُجھے برکت بخشُوں گا کیونکہ مَیں تُجھے اور تیری نسل کو یہ سب مُلک دُوں گا اور مَیں اُس قَسم کو جو مَیں نے تیرے باپ ابرہامؔ سے کھائی پُورا کرُوں گا۔
۴۔اور مَیں تیری اَولاد کو بڑھا کر آسمان کے تاروں کی مانِند کر دُوں گا اور یہ سب مُلک تیری نسل کو دُوں گا اور زمِین کی سب قومیں تیری نسل کے وسِیلہ سے برکت پائیں گی۔
۵۔اِس لِئے کہ ابرہامؔ نے میری بات مانی اور میری نصیحت اور میرے حُکموں اور قوانِین و آئِین پر عمل کِیا۔
۶۔پس اِضحاقؔ جرارؔ میں رہنے لگا۔
۷۔اور وہاں کے باشِندوں نے اُس سے اُس کی بِیوی کی بابت پُوچھا۔ اُس نے کہا وہ میری بہن ہے کیونکہ وہ اُسے اپنی بِیوی بتاتے ڈرا۔ یہ سوچ کر کہ کہِیں رِبقہؔ کے سبب سے وہاں کے لوگ اُسے قتل نہ کر ڈالیں کیونکہ وہ خُوب صُورت تھی۔
۸۔جب اُسے وہاں رہتے بُہت دِن ہو گئے تو فلستِیوں کے بادشاہ ابی مَلِکؔ نے کِھڑکی میں سے جھانک کر نظر کی اور دیکھا کہ اِضحاقؔ اپنی بِیوی رِبقہؔ سے ہنسی کھیل کر رہا ہے۔
۹۔تب ابی مَلِکؔ نے اِضحاقؔ کو بُلا کر کہا کہ وہ تو حقیقت میں تیری بِیوی ہے۔ پِھر تُو نے کیوں کر اُسے اپنی بہن بتایا؟ اِضحاقؔ نے اُس سے کہا اِس لِئے کہ مُجھے خیال ہُؤا کہ کہِیں مَیں اُس کے سبب سے مارا نہ جاؤں۔
۱۰۔اَبی مَلِکؔ نے کہا تُو نے ہم سے کیا کِیا؟ یُوں تو آسانی سے اِن لوگوں میں سے کوئی تیری بِیوی کے ساتھ مُباشرت کر لیتا اور تُو ہم پر اِلزام لاتا۔
۱۱۔تب ابی مَلِکؔ نے سب لوگوں کو یہ حُکم کِیا کہ جو کوئی اِس مَرد کو یا اِس کی بِیوی کو چُھوئے گا سو مار ڈالا جائے گا۔
۱۲۔اور اِضحاقؔ نے اُس مُلک میں کھیتی کی اور اُسی سال اُسے سَو گُنا پَھل مِلا اور خُداوند نے اُسے برکت بخشی۔
۱۳۔اور وہ بڑھ گیا اور اُس کی ترقّی ہوتی گئی یہاں تک کہ وہ بُہت بڑا آدمی ہو گیا۔
۱۴۔اور اُس کے پاس بھیڑ بکرِیاں اور گائے بَیل اور بُہت سے نوکر چاکر تھے اور فِلستِیوں کو اُس پر رشک آنے لگا۔
۱۵۔اور اُنہوں نے سب کُنوئیں جو اُس کے باپ کے نوکروں نے اُس کے باپ ابرہامؔ کے وقت میں کھودے تھے بند کر دِئے اور اُن کو مِٹّی سے بھر دِیا۔
۱۶۔اور ابی مَلِکؔ نے اِضحاقؔ سے کہا کہ تُو ہمارے پاس سے چلا جا کیونکہ تُو ہم سے زِیادہ زورآور ہو گیا ہے۔
۱۷۔تب اِضحاقؔ نے وہاں سے جرارؔ کی وادی میں جا کر اپنا ڈیرا لگایا اور وہاں رہنے لگا۔
۱۸۔اور اِضحاقؔ نے پانی کے اُن کُنوؤں کو جو اُس کے باپ ابرہامؔ کے ایّام میں کھودے گئے تھے پِھر کُھدوایا کیونکہ فلستِیوں نے ابرہامؔ کے مَرنے کے بعد اُن کو بند کر دِیا تھا اور اُس نے اُن کے پِھر وُہی نام رکھّے جو اُس کے باپ نے رکھّے تھے۔
۱۹۔اور اِضحاقؔ کے نوکروں کو وادی میں کھودتے کھودتے بہتے پانی کا ایک سوتا مِل گیا۔
۲۰۔تب جرارؔ کے چرواہوں نے اِضحاقؔ کے چرواہوں سے جھگڑا کِیا اور کہنے لگے کہ یہ پانی ہمارا ہے اور اُس نے اُس کنوئیں کا نام عِسقؔ رکھّا کیونکہ اُنہوں نے اُس سے جھگڑا کِیا۔
۲۱۔اور اُنہوں نے دُوسرا کُنواں کھودا اور اُس کے لِئے بھی وہ جھگڑنے لگے اور اُس نے اُس کا نام سِتنہؔ رکھّا۔
۲۲۔سو وہ وہاں سے دُوسری جگہ چلا گیا اور ایک اور کُنواں کھودا جِس کے لِئے اُنہوں نے جھگڑا نہ کِیا اور اُس نے اُس کا نام رحوبوؔت رکھّا اور کہا کہ اب خُداوند نے ہمارے لِئے جگہ نِکالی اور ہم اِس مُلک میں برومند ہوں گے۔
۲۳۔وہاں سے وہ بیرسبعؔ کو گیا۔
۲۴۔اور خُداوند اُسی رات اُس پر ظاہِر ہُؤا اور کہا کہ مَیں تیرے باپ ابرہامؔ کا خُدا ہُوں۔ مت ڈر کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہُوں اور تُجھے برکت دُوں گا اور اپنے بندہ ابرہامؔ کی خاطِر تیری نسل بڑھاؤں گا۔
۲۵۔اور اُس نے وہاں مذبح بنایا اور خُداوند سے دُعا کی اور اپنا ڈیرا وہِیں لگا لِیا اور وہاں اِضحاقؔ کے نوکروں نے ایک کُنواں کھودا۔
۲۶۔تب ابی مَلِکؔ اپنے دوست اخوزت اور اپنے سِپہ سالار فِیکُلؔ کو ساتھ لے کر جرارؔ سے اُس کے پاس گیا۔
۲۷۔اِضحاقؔ نے اُن سے کہا کہ تُم میرے پاس کیوں کر آئے حالانکہ مُجھ سے کِینہ رکھتے ہو اور مُجھ کو اپنے پاس سے نِکال دِیا؟
۲۸۔اُنہوں نے کہا ہم نے خُوب صفائی سے دیکھا کہ خُداوند تیرے ساتھ ہے سو ہم نے کہا کہ ہمارے اور تیرے درمیان قَسم ہو جائے اور ہم تیرے ساتھ عہد کریں۔
۲۹۔کہ جَیسے ہم نے تُجھے چُھؤا تک نہیں اور سِوا نیکی کے تُجھ سے اور کُچھ نہیں کِیا اور تُجھ کو سلامت رُخصت کِیا تُو بھی ہم سے کوئی بدی نہ کرے گا کیونکہ تُو اب خُداوند کی طرف سے مُبارک ہے۔
۳۰۔تب اُس نے اُن کے لِئے ضِیافت تیّار کی اور اُنہوں نے کھایا پِیا۔
۳۱۔اور وہ صُبح سویرے اُٹھے اور آپس میں قَسم کھائی اور اِضحاقؔ نے اُن کو رُخصت کِیا اور وہ اُس کے پاس سے سلامت چلے گئے۔
۳۲۔اُسی روز اِضحاقؔ کے نوکروں نے آ کر اُس سے اُس کُنوئیں کا ذِکر کِیا جِسے اُنہوں نے کھودا تھا اور کہا کہ ہم کو پانی مِل گیا۔
۳۳۔سو اُس نے اُس کا نام سبعؔ رکھّا اِسی لِئے وہ شہر آج تک بیرسبعؔ کہلاتا ہے۔
۳۴۔جب عیسوؔ چالِیس برس کا ہُؤا تو اُس نے بیرؔی حِتّی کی بیٹی یہودِتھؔ اور اَیلونؔ حِتّی کی بیٹی بشامتھؔ سے بیاہ کِیا۔
۳۵۔اور وہ اِضحاقؔ اور رِبقہؔ کے لِئے وبالِ جان ہُوئِیں۔