پیَدایش ۲۰

(‏۷)‏ اَبرہام اور ابی مَلِک (‏باب ۲۰)‏

۲۰:‏۱۔۱۸ یہ بات بالکل ناقابلِ یقین معلوم ہوتی ہے کہ ابرہام نے بیس سال قبل جو غلطی فرعون کے سامنے کی تھی‏، سارہ کو بہن کہتے ہوئے پھر سے اُسی غلطی کو دُہرائے گا۔ یہ واقعی ناقابلِ یقین بات ہے‏، یعنی
جب تک ہم خود گناہ کی طرف اپنے مسلسل میلان کو تسلیم نہ کریں‏، جرار میں ابی مَلِک کے ساتھ واقعہ ابرہام کے مصر کے واقعے سے بہت حد تک ملتا ہے (‏۱۲:‏۱۰۔۱۷)‏۔ خدا نے اضحاق کی پیدائش سے اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے الٰہی کردار ادا کیا۔
اُس نے ابی مَلِک کو مار دینے کی دھمکی دی۔ وہ تاریخ میں محض ایک تماشائی نہیں بلکہ اِس سے بڑھ کر ہے۔ وہ پرانی اِنسانیت کے حامل لوگوں کے ذریعے سے بھی اپنے لوگوں کو اپنا نقصان کرنے سے روکنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ اِس واقعے میں
بے دین ابی مَلِک نے ’’خدا کے دوست‘‘ ابرہام کی نسبت زیادہ راست بازی کے عمل کا اِظہار کیا (‏ابی مَلِک نام نہیں بلکہ ایک لقب ہے)‏۔ جب ایک دُنیوی آدمی ایک ایمان دار کو ملامت کرے تو یہ کس قدر شرم ناک بات ہے۔ جب نصف سچائی کو مکمل
سچائی کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ جھوٹ ہے۔ حتیٰ کہ ابرہام نے کسی حد تک خدا کو بھی موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی کہ اُس نے اُسے اُس کے باپ کے گھر سے آوارہ کیا۔ عقل مندی کا تقاضا یہ تھا کہ وہ بڑی اِنکساری سے اپنے گناہ کو تسلیم
کر لیتا۔ تاہم وہ اَب بھی مردِ خدا تھا۔ چنانچہ خداوند نے ابی مَلِک کو اُس کے پاس بھیجا تاکہ ابرہام اُس کے گھرانے کے لئے دعا کرے اور اُن کی عورتوں کو اُن کے بانجھ پن سے شفا ملے۔

اِن الفاظ ’’تیری داد رسی ہو گئی‘‘ (‏آیت ۱۶)‏ کا لغوی مطلب ہے ’’یہ آنکھوں پر نقاب ڈالنے کے مترادف ہے۔‘‘ اور اِس کا مطلب ہے وہ انعام جو تسکین دیتا ہے۔ چنانچہ ہم اِسے یوں پڑھیں گے:‏ ’’وہ لوگ جو تیرے ساتھ ہیں اُن کے سامنے یہ اِنعام
علانیہ گواہی ہے کہ ناراستی کا ازالہ کیا گیا ہے۔‘‘

کِتابِ مُقدّس

۱۔ (باب نمبر ۲۰) اور ابؔرہام وہاں سے جنوب کے مُلک کی طرف چلا اور قؔادِس اور شؔور کے درمیان ٹھہرا اور جؔرار میں قیام کیا۔
۲۔ اور اؔبرہام نے اپنی بیوی ساؔرہ کے حق میں کہا کہ وہ میری بہن ہے اور جؔرار کے بادشاہ اؔبی مَلک نے سارؔہ کو بُلوالیا۔
۳۔ لیکن رات کو خُدا ابیؔ مَلِک کے پاس خواب میں آیا اور اُ سے کہا کہ دیکھ تُو اُس عورت کے سبب سے جِسے تُو نے لِیا ہے ہلاک ہو گا کیو نکہ وہ شوہر والی ہے۔
۴۔ پر اؔبی مَلِک نے اُس سے صُحبت نہیں کی تھی۔ سو اُس نے کہا اَے خُداوند کیا تُو صادق قوم کو بھی ماریگا؟
۵۔ کیا اُس نے خُود مُجھ سے نہیں کہا کہ یہ میری بہن ہے؟ اور وہ آپ بھی یہی کہتی تھی کہ وہ میرا بھائی ہے۔ مَیں نے تو اپنے سّچے دِل اور پاکیزہ ہاتھو ں سے یہ کیا۔
۶۔ اور خُدا نے اُسے خواب میں کہا ہاں میں جانتا ہوں کہ تُو نے اپنے سّچے دل سے یہ کیا اور مَیں نے بھی تجھے رہکا کہ تُو میرا گُنا نہ کرے۔ اِسی لِئے مَیں نے تجھے اُسکو چُھونے نہ دِیا۔
۷۔ اب تو اُس مرد کی بیوی کو واپس کر دے کیونکہ وہ نبی ہے اور تیرے لئےِ دُعا کریگا اور تُو جیتا رہیگا۔ پر اگر تُو اُسے واپس نہ کرے تو جان لے کہ تُو بھی اور جِتنے تیرے ہیں سب ضرور ہلاک ہونگے۔
۸۔ تب ابؔی مَلِک نے صُبح سویرے اُٹھ کر اپنے سب نوکروں کو بُلایا اور اُنکو یہ سب باتین کہ سُنائیں۔ تب وہ لوگ بہت ڈر گئے ۔
۹۔ اور ابؔی مَلِک نے ابرؔہام کو بُلا کر اُس سے کہا کہ تُو نے ہم سے یہ کیا کِیا؟ اور مُجھ سے تیرا کیا قصُور ہُوا کہ تو مجھ پر اور میری بادشاہی پر ایک گُناہِ عظیم لایا؟ تُونے مجُھ سے وہ کام کِئے جن کا کرنا مُناسب نہ تھا۔
۱۰۔ ابؔی مَلِک نے ابرؔہام سے یہ بھی کہا کہ تُو نے کیا سمجھ کر یہ بات کی؟۔
۱۱۔ ابرؔہام نے کہ کہ میرا خیال تھا کہ خُدا کا خوف تواِس جگہ ہرگز نہ ہوگا اور وُہ مُجھے میری بیوی کے سبب سے مار ڈالینگے ۔
۱۲۔ اور فی الحقیقت وہ میری بہن بھی ہے کیونکہ وہ میرے باپ کی بیٹی ہے اگرچہ میری ماں کی بیٹی نہیں ۔ پھر وہ میری بیوی ہوئی۔ اور جب خُدا نے میرے باپ کے بھر سے مجھے آوارہ کِیا تو میں نے اِس سے کہا کہ مُجھ پر یہ تیری مہربانی ہوگی کہ
۱۳۔اور جب خُدا نے میرے باپ کے گھر سے مُجھے آوارہ کِیا تو مَیں نے اِس سے کہا کہ مُجھ پر یہ تیری مِہربانی ہو گی کہ جہاں کہِیں ہم جائیں تُو میرے حق میں یِہی کہنا کہ یہ میرا بھائی ہے۔
۱۴۔تب ابی مَلِکؔ نے بھیڑ بکرِیاں اور گائے بَیل اور غُلام اور لَونڈِیاں ابرہامؔ کو دِیں اور اُس کی بِیوی سارہؔ کو بھی اُسے واپس کر دِیا۔
۱۵۔ اور ابؔی مَلِک نے کہا کہ دیکھ میرا مُلک تیرے سامنے ہے ۔ جہاں جی چاہے رہ۔
۱۶۔ اور اُس نے ساؔرہ سے کہ کہ دیکھ مَیں نے تیرے بھائی کو چاندی کے ہزار سِکےّ دِئے ہیں ۔ وہ اُن سب کے سامنے جو تیرے ساتھ ہیں تیرے لئِے آنکھ کا پردہ ہے اور سب کے سامنے تیری داد رسی ہوگئی۔
۱۷۔ تب ابرؔہام نے خُدا سے دُعا کی اور خُدا نے ابؔی مَلِک اور اُسکی بیوی اور اُسکی لونڈیوں کو شفا بخشی اور اُنکے اَولاد ہونے لگی۔
۱۸۔ کیونکہ خُداوند نے ابرؔہام کی بیوی ساؔرہ کے سبب سے ابؔی مَلِک کے خاندان کے سب رَحِم بند کردِئے تھے۔