۲۔ اِسرائیل کے بزرگ (ابواب ۱۲۔۵۰)
الف۔ اَبرہام (۱۲:۱۔۲۵:۱۸)
(۱) اَبرہام کی بلاہٹ (۱۲:۱۔۹)
۱۲:۱۔۳ خداوند نے ابرہام کو اُس وقت بلایا جب وہ ابھی اُور (Ur) میں تھا۔ (آیت ایک کا اعمال ۷:۱،۲ سے مقابلہ کریں)۔ ابرام کو بلایا گیا کہ وہ اپنے ملک، اپنے خاندان اور اپنے باپ کے گھر کو چھوڑے
اور مسافرانہ زندگی کے لئے روانہ ہو (عبرانیوں۱۱:۹)۔ خدا نے اُس کے ساتھ بہت خوبصورت عہد باندھا جس میں درج ذیل نہایت اہم وعدے شامل ہیں۔ ایک ملک یعنی کنعان کی سرزمین، ایک بڑی قوم یعنی یہودی قوم، مادی اور روحانی ترقی۔ یہ سب
برکتیں ابرام اور اُس کی نسل کے لئے تھیں، ابرام اور اُس کی نسل کے لئے نام کی سرفرازی۔ وہ دوسروں کے لئے برکت کا باعث ہوں گے۔ اسرائیل کے دوست برکت پائیں گے اور سامی نسل کے مخالفین ملعون ٹھہریں گے: ’’زمین کے سب قبیلے‘‘ ابرام کے
وسیلے سے برکت پائیں گے۔ اِس کا اشارہ خداوند یسوع مسیح کی طرف ہے جو ابرہام کی نسل سے ہو گا۔ اِس عہد کی تجدید کی گئی اور اِسے وُسعَت دی گئی، دیکھیں ۱۳:۱۴۔۱۷؛ ۱۵:۴۔۶؛ ۱۷:۱۰۔۱۴ اور ۲۲:۱۵۔۱۸۔
۱۲:۴۔۹ ’’حاران میں ضائع شدہ سالوں‘‘ جن میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، کے بعد ابرام اپنی بیوی سارَی (Sarai) اپنے بھتیجے لُوط، دیگر رشتہ داروں اور اَملاک کے ساتھ کنعان کی طرف روانہ ہوا۔ پہلے تو وہ سکم
میں آئے جہاں اُس نے خداوند کے لئے ایک قربان گاہ بنائی۔ مخالف کنعانیوں کا وجود صاحبِ ایمان کے لئے رُکاوٹ کا باعث نہ تھا۔ ابرام نے اِس کے بعد بیت ایل (خدا کا گھر) اور عی (Ai) کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ نہ صرف اُس نے اپنے لئے خیمہ
لگایا بلکہ خداوند کے لئے قربان گاہ بھی بنائی۔ یہ بات خدا کے بندے کی ترجیحات پر بہت زیادہ روشنی ڈالتی ہے۔ آیت ۹ میں لکھا ہے کہ ابرام جنوب کی طرف بڑھ گیا۔
(۲) مصر کو جانا اور واپسی (۱۲:۱۰۔۱۳:۴)
۱۲:۱۰۔۲۰ تاہم ایمان کی اپنی لغزشیں اور فروگزاشتیں بھی ہیں۔ سخت کال کے دوران ابرام نے الٰہی اِنتخاب کے مقام کو چھوڑا اور مصر کو چلا گیا، اور مصر دُنیا کی علامت ہے۔ یہ سفر تکلیف دِہ ثابت ہوا۔ ابرام
پر خوف طاری ہو گیا تھا کہ شاید فرعون اُس کی خوبصورت بیوی کو اپنی حرم بنانے کے لئے اُسے مار ڈالے۔ چنانچہ اَبرام نے سارَی کے حق میں جھوٹ بولا کہ وہ اُس کی بہن ہے۔ یہ سچ ہے کہ وہ اُس کی سوتیلی بہن تھی (۲۰:۱۲) لیکن یہ پھر بھی
جھوٹ تھا کیونکہ اِس کا مقصد فریب دینا تھا۔ ابرام کی یہ چال کار گر ہوئی (اِس کے لئے اُسے بہت انعام و اکرام ملے)، لیکن یہ چال ساری کے خلاف تھی (کیونکہ اُسے فرعون کے گھر میں لے جایا گیا)، اور یہ چال فرعون کے لئے بھی نقصان دِہ
تھی (اُس پر اور اُس کے گھرانے پر بلائیں نازل ہوئیں)۔ ابرام کو ملامت کرنے کے بعد اُس نے اُسے واپس کنعان میں بھیج دیا۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم جسمانی ہتھیاروں سے روحانی جنگ نہ لڑیں۔ مقصد ذرائع کو راست قرار نہیں دے سکتا، اور ممکن نہیں کہ ہم گناہ کریں اور اِس کی سزا سے بچ جائیں۔
خدا نے ابرام کو چھوڑا نہیں، لیکن اُس نے گناہ کی چال کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ فرعون نے ابرام کو علانیہ ملامت کی اور بڑی ذِلت سے اُسے ملک سے نکال دیا۔
لفظ ’’فرعون،‘‘ نام نہیں بلکہ ایک لقب تھا، مثلاً جیسے قیسر، بادشاہ، شہنشاہ، صدر وغیرہ۔
کِتابِ مُقدّس
۱۔ اور خُداوند نے اؔبرام سے کہا کہ تُو اپنے وطن اور اپنے ناتے داروں کے بیچ سے اور اپنے باپ کے گھر سے نِکل کر اُس مُلک میں جاجو مَیں تجھے دِکھاؤنگا۔
۲۔ اور میں تجھے ایک بڑی قَوم بناؤنگا اور برکت دُونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا۔ سو تُو باعثِ برکت ہوا۔
۳۔ جو تجھے مبارک کہیں اُنکو میں برکت دُونگا اور جو تُجھ پر لعنت کرے اُس پر مَیں لعنت کرونگا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائینگے۔
۴۔ سو ابؔرام خُداوند کے کہنے کے مُطابق چل پڑا اور لُوطؔ اُس کے ساتھ گیا اور ابرؔام پچھتر برس کا تھا جب وہ حاؔران سے روانہ ہوا۔
۵۔ اور ابراؔم نے اپنی بیوی سارَؔی اور پانے بتیجے لُوطؔ کو اسور سب ما کو جو اُنہوں نے جمع کیا تھا اور اُن آدمیوں کو جو اُنکو حارؔان میں مَل گئے تھے ساتھ لِیا اور وہ مُلک ِ کنعاؔن کو روانہ ہوئے اور مُلکِ کنعؔان میں آئے ۔
۶۔ اور ابرؔام اُس مُلک مین سے گُزرتا ہوا مقامِ سِؔکم میں مؔورہ کے بلوط تک پہنچا۔ اُس وقت مُلک میں کنعانی رہتے تھے ۔
۷۔ تب خُداوند نے ابرؔام کو دِکھائی دیکر کہا کہ یہی مُلک مَیں تیری نسل کو دُونگا اور اُس نے وہاں خُداوند کے لِئے جو اُسے دِکھائی دیا تھا ایک قُربان گاہ بنائی ۔
۸۔ اور وہاں سے کُوچ کر کے اُس پہار کی طرف گیا جو بیتؔ ایل کے مشرق میں ہے اور اپنا ڈیرا اَیسے لگایا کہ بیت ایل مغرب میں عُؔی مشرق میں ہے پڑا اور وہاں اُس نے خُداوند کے لئے ایک قُربان گاہ بنائی اور خُداوند سے دُعا کی۔
۹۔ اور ابراؔم سفر کرتا کرتا جنوب کی طرف بڑھ گیا۔
۱۰۔ اور اُس مُلک میں کال پڑا اور ابرؔام مؔصر کو گیا کہ ہواں ٹِکا رہے کیونکہ مُلک میں سخت کال تھا۔
۱۱۔ اور اَیسا ہوا کہ جب وہ مؔصر میں داخِل ہونے کو تھا تو اُس نے اپنی بیوی ساؔرَی سے کہا کہ دیکھ مَیں جانتا ہوں کہ تُو دیکھنے میں خوبصورت عورت ہے۔
۱۲۔ اور یوں ہوگا کہ مصری تجھے دیکھ کر کہینگے کہ یہ اُسکی بیوی ہے۔ سو وہ مجھے توہ مار ڈالینگے۔ مگر تجھے زندہ رکھ لینگے۔
۱۳۔ سو تُو یہ کہہ دینا کہ مَیں اِسکی بہن ہوں تا کہ تیرے سبب سے میری خَیر ہواور میری جان تیری بدولت بچی رہے۔
۱۴۔ اور یُوں ہُوا کہ جب ابرؔام مؔصر میں آیا تو مصریوں نے اُس عورت کو دیکھا کہ وہ نہایت خوبصور ہے۔
۱۵۔ اور فؔرعون کے اُمرا نے اُسے دیکھ کر فرعؔون کے حضور میں اُسکی تعریف کی اور وہ عورت فرعؔون کے گھر میں پہنچائی گئی۔
۱۶۔ اور اُس نے اُسکی خاطر ابؔرام پر اِحسان کِیا اور بھیڑ بکریاں اور گائے بیل اور گدھے اور غلام اور لَونڈیاں اور گدھیاں اور اُونٹ اُسکے پاس ہوگئے ۔
۱۷۔ پر خُداوند نے فرؔعون اور اُسکے خاندان پر ابرؔام کی بیوی سارَؔی کے سبب سے بڑی بلائیں نازِل کیِں ۔
۱۸۔ تب فرعؔون نے ابراؔم کو بُلا کر اُس سے کہا کہ تُو نے مجھ سے یہ کِیا کیا ؟ تُو نے مجھے کیون نہ بتایا کہ یہ تیری بیوی ہے ؟۔
۱۹۔ یہ کیوں کہا کہ وہ میری بہن ہے۔ ؟ اِسی لِئے مَیں نے اُسے لیا کہ وہ میری بیوی بنے۔ سو دیکھ تیری بیوی حاضر ہے۔ اُسکو لے اور چلا جا۔
۲۰۔ اور فرعؔون نے اُسکے حق میں اپنے آدمیوں کو ہدایت کی اور اُنہوں نے اُسے اور اُسکی بیوی کو اُسکے سب مال کے ساتھ روانہ کر دیا۔