۷:۱ لفظ ’’آ‘‘ آیت ایک میں پہلی بار آتا ہے۔ یہ پُرفضل خوش خبری کی دعوت ہے۔ تحفظ کی ’’کشتی میں آ۔‘‘
۷:۲ ۔۱۸ کوئی ایسی وجہ بیان نہیں کی گئی کہ نوح کو یہ حکم کیوں دیا گیا کہ وہ پاک جانوروں کے سات جوڑے اور ناپاک جانوروں کا صرف ایک جوڑا کشتی میں لائے۔ شاید خوراک (۹:۳) یا قربانی (۸:۲۰) کی ضرورت
کے لئے ’’پاک‘‘ جانوروں کے زائد جوڑے لائے گئے۔ بارش کے شروع ہونے اور زمین کے سوتے پھوٹنے سے ’’سات‘‘ دن قبل کشتی جانداروں سے بھر گئی۔ طوفان ’’چالیس دن اور چالیس رات‘‘ تک جاری رہا، بائبل میں چالیس کا عدد آزمائے جانے کا عدد ہے۔
۷:۱۹ ۔۲۴ جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کیا یہ ایک مقامی طوفان تھا؟ اِن الفاظ پر غور فرمائیے: ’’سب اُونچے پہاڑ جو دُنیا میں ہیں چھپ گئے۔‘‘ کیا ضرورت تھی کہ خدا نوح کو حکم دیتا کہ وہ فٹ بال کے ڈیڑھ
گراؤنڈ اور ۸۰۰ ریل کے ڈبوں کے برابر لمبی کشتی بنائے تاکہ وہ ایک مقامی طوفان میں محفوظ ہو سکے؟ وہ بڑی آسانی سے آٹھ لوگوں کو اور جانوروں کو کسی اَور علاقے میں لے جاتا۔ دُنیا کے مختلف حصوں سے ایک عالم گیر طوفان کی روایات موصول ہوئی
ہیں۔ اراراط پہاڑ ۱۷۰۰۰ فٹ بلند ہے اور طوفان اِس سے ۱۵ ہاتھ بلند تھا (آیات ۱۹،۲۰)۔ اِتنا زبردست سیلاب کس طرح کسی خاص علاقے تک محدود رکھا جا سکتا تھا؟ پیدائش ۹:۱۵ میں خدا نے وعدہ کیا کہ تمام جانداروں کی ہلاکت کے لئے پانی کا
طوفان پھر نہ ہو گا۔ مقامی طور پر پانی کے کئی طوفان آئے ہیں، لیکن اِ س کے بعد عالم گیر طوفان کبھی نہیں آیا۔ پطرس پانی سے دُنیا کی تباہی کو، مستقبل میں آگ سے دُنیا کی تباہی کی علامت کے طور پر استعمال کرتا ہے (۲۔پطرس ۳:۶)۔
کشتی مسیح کی تصویر ہے۔ طوفان خدا کی عدالت کو ظاہر کرتا ہے۔ یسوع کلوری پہاڑ پر الٰہی غضب کے طوفان سے گزرا۔ جو مسیح میں ہیں وہ نجات یافتہ ہیں، جو اِس سے باہر ہیں، وہ ہلاکت کے فرزند ہیں (۱۔پطرس ۳:۲۱)۔
کِتابِ مُقدّس
۱۔ اور خُدا وند نے نُوحؔ سے کہا کہ تُو اپنے پُورے خاندان کے ساتھ کشتی میں آ کیونکہ مَیں نے تجھی کو پنے سامنے اِس زمانہ میں راستباز دیکھا ہے ۔
۲۔ کُل پاک جانوروں میں ساتھ سات نر اور اُنکی مادہ اور اُن میں جو پاک نہیں ہیں دو دو نر اور اُنکی مادہ اپنے ساتھ لے لینا۔
۳۔ اور ہوا کے پرندوں میں سے بھی سات سات نر اور مادہ لینا تاکہ زمین پر اُنکی نسل باقی رہے۔
۴۔ کیونکہ سات دِن کے بعد مَیں زمین پر چالیس دِن اور چالیس رات پانی برساوٗں گااور ہر جاندار شے کو جِسے مَیں نے بنایا زمین پر سے مِٹا ڈالُونگا۔
۵۔ اور نُوحؔ نے وہ سب جیَسا خُداوند نے اُسے حکم دیا تھا کِیا ۔
۶۔ اور نُوحؔ چھ سَوبرس کا تھا جب پانی کا طوفان زمین پر آیا۔
۷۔ تب نُوحؔ اور اُسکے بیٹے اور اُسکی بیوی اور اُسکے بیٹوں کی بیویاں اُسکے ساتھ طُوفان کے پانی سے بچنے کے لئے کشتی میں گئے ۔
۸۔ اور پاک جانوروں میں سے اور اُن جانوروں میں سے جو پاک نہیں اور پرندوں میں سے اور زمین پر کے ہر رینگنے والے جاندار میں سے۔
۹۔ دو دو نر اور مادہ کشتی میں نوُحؔکے پاس گءے جَیسا خُدا نے نُوحؔ کو حُکم دیا تھا۔
۱۰۔ اور سات دِن کے بعد اَیسا ہوا کہ طُوفان کا پانی زمین پر آگیا۔
۱۱۔ نُوحؔ کی عمُر چھ سواں سال تھا کہ اُس کے دُوسرے مہینے کی ٹِھیک سترھویں تاریخ کو بڑے سمندر کے سب سوتے پُھوٹ نِکلےاور آسمان کی کِھڑکیاں کُھل گئیں ۔
۱۲۔ چالیس دِن اور چالیس رات زمین پر بارش ہوتی رہی۔
۱۳۔ اُسی روز نُوحؔ اور نُوحؔ کے بیٹے سؔم اور حؔام اور یافؔت اور نُوحؔ کی بیوی اور اُسکے بیٹوں کی تینوں بیویاں۔
۱۴۔ اور ہر قِسم کا جانور اور ہر قِسم کا چوپایہ اور ہر قسم کا زمین پر کارینگنے والا جاندار اور ہر قِسم کا پرندہ اور ہر قِسم کی چڑیا یہ سب کشتی میں داخِل ہوئے ۔
۱۵۔ اور جو زندگی کا دم رکھتے ہیں اُن میں سے دو دو کشتی میں نُوحؔ کے پاس آئے ۔
۱۶۔ اور جواندر آئے وہ جَیسا خُدا نے اُسے حُکم دیا تھا سب جانوروں کے نر و مادہ تھے۔ تب خُدا وند نے اُسکو باہر سے بند کر دیا ۔
۱۷۔ اور چالیس دِن تک زمین پر طُوفان رہا اور پانی بڑھا اور اُس نے کشتی کو اُوپراُٹھا دِیا۔سو کشتی زمین پر سے اُٹھ گئی۔
۱۸۔ اور پانی زمین پر چڑھتا ہی گیا اور بہت بڑھا اور کشتی پانی کے اُوپر تیرتی رہی۔
۱۹۔ اور پانی زمین پر بہت ہی زیادہ چڑھا اور سب اُونچے پہاڑ جو دُنیا میں ہیں چھپ گئے ۔
۲۰۔ پانی اُن سے پندرہ ہاتھ اَور اُوپر چڑھا اور پہاڑ ڈوب گئے۔
۲۱۔ اور سب جانور جو زمین پر چلتے تھے پرندے اور چوپائے اور جنگلی جانور اور زمین پر کے سب رینگنے والے جاندار اور سب آدمی مر گئے ۔
۲۲۔ اور خُشکی کے سب جاندار جنکے نتھنوں میں زندگی کا دم تھا مرگئے ۔
۲۳۔ بلکہ ہر جاندار شَے جو رُویِ زمین پر تھی مر مِٹی ۔ کیا اِنسان کیا حَیوان ۔ کیا رینگنے والا جاندار کیا ہوا کا پرندہ یہ سب کے سب زمین پر سے مرمِٹے ۔ فقط ایک نُوحؔباقی بچیا وہ جو اُسکے ساتھ کشتی میں تھے ۔
۲۴۔ اور پانی زمین پر ایک سَو پچاس دِن تک چڑھتا رہا۔