پیَدایش ۲۲

(‏۹)‏ اضحاق کی قربانی (‏باب ۲۲)‏

۲۲:‏۱۔۱۰ بائبل میں اِس منظر کی نسبت شاید ہی کوئی اَور دل دوز منظر ہو سوائے کلوری کے۔ یہ صلیب پر خدا کے اکلوتے اور پیارے بیٹے کی موت کا واضح پتا دیتا ہے۔ ابرہام کے ایمان کا یہ کڑا اِمتحان تھا جب خدا
نے اُسے حکم دیا کہ وہ موریاہ کے ملک میں اضحاق کو سوختنی قربانی کے طور پر چڑھائے۔ درحقیقت خدا کا یہ قطعی اِرادہ نہ تھا کہ ابرہام کو اِس قربانی کی اِجازت دے۔ اُس نے تو ہمیشہ اِنسانی قربانی کی مخالفت کی ہے۔ موریاہ وہ پہاڑی سلسلہ ہے
جہاں یروشلیم واقع ہے (‏۲۔تواریخ۳:‏۱)‏ اور جہاں کلوری پہاڑ ہے۔ خدا کے اِن الفاظ ’’اپنے بیٹے اِضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تُو پیار کرتا ہے‘‘ سے ابرہام کا دل چھد گیا ہو گا۔ اِضحاق ابرہام کا اکلوتا بیٹا تھا‏، یعنی اِن معنوں
میں کہ وہ وعدے کا اکلوتا فرزند تھا __ ایک منفرد بیٹا تھا‏، وہ معجزانہ ایمان کا فرزند تھا۔

بائبل میں کسی لفظ کا پہلی بار ذکر اکثر ساری بائبل میں اِس کے استعمال کی مثال قائم کر دیتا ہے۔ پیار (‏آیت ۲)‏ اور سجدہ (‏آیت ۵)‏ ایسے الفاظ ہیں جو بائبل میں پہلی بار اِس باب میں ملتے ہیں۔ ابرہام کا اپنے بیٹے سے پیار‏، خدا کی
خداوند یسوع سے محبت کی ایک مَدَّ ھم سی تصویر ہے۔ اضحاق کی قربانی پرستش کے ایک عظیم عمل کی تصویر ہے __ نجات دہندہ کی قربانی خدا کی مرضی کی تکمیل کو پیش کرتی ہے۔

۲۲:‏۱۱‏، ۱۲ ’’ابرہام! ابرہام۔‘‘ بائبل میں یہ اُن دس میں سے پہلا موقع ہے کہ ایک نام کو دو بار استعمال کیا گیا۔ ایسے ہی سات بار خدا نے اِنسان کو پکارا (‏پیدائش ۲۲:‏۱۱؛ ۴۶:‏۲؛ خروج ۳:‏۴؛ ۱۔سموئیل
۳:‏۱۰؛ لوقا ۱۰:‏۴۱؛ ۲۲:‏۳۱؛ اعمال ۹:‏۴)‏۔ نام کو دو بار استعمال کرنے کا ذکر متی ۷:‏۲۱‏،۲۲؛ ۲۳:‏۳۷ اور مرقس ۱۵:‏۳۴ میں بھی ہے۔ اِن سے خصوصی اہمیت کے حامل معاملات کا اِظہار ہوتا ہے۔ خداوند کا فرشتہ (‏آیت ۱۱)‏ خدا تھا (‏آیت ۱۲)‏۔

۲۲:‏۱۳۔۱۵ اضحاق کی قربانی فی الحقیقت ابرہام کے ایمان کا بہت بڑا اِمتحان تھا۔ خدا نے ابرہام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اُس کے بیٹے کے ذریعے اُس کی نسل کو بہت زیادہ بڑھائے گا۔ زیادہ سے زیادہ اضحاق کی عمر
اِس وقت پچیس برس کی ہو گی اور وہ کنوارہ تھا۔ اگر ابرہام اُس کو ذبح کر دیتا ہے تو وعدہ کیسے پورا ہو گا؟ عبرانیوں ۱۱:‏۱۹ کے مطابق ابرہام کا ایمان تھا کہ اگر وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر بھی دے تو خدا اُسے مُردوں میں سے زندہ کر دے گا۔ یہ
ایمان نہایت غیر معمولی تھا کیونکہ اُس وقت تک دُنیا کی تاریخ میں کسی شخص کو زندہ کرنے کی کوئی مثال موجود نہیں۔ ۲۲:‏۵ میں اُس کے ایمان کو ملاحظہ فرمایئے:‏ ’’ مَیں اور یہ لڑکا دونوں ذرا وہاں تک جاتے ہیں اور سجدہ کر کے پھر تمہارے
پاس لوٹ آئیں گے۔‘‘ ابرہام پہلے تو ایمان سے راست باز ٹھہرایا گیا (‏۱۵:‏۶)‏‏، پھر یہاں اعمال سے راست باز ٹھہرایا گیا (‏یعقوب ۲:‏۲۱)‏۔ اُس کا ایمان اُس کی نجات کا وسیلہ تھا‏، جب کہ اُس کے اعمال اُس کے ایمان کی حقیقت کا ثبوت تھے۔ جب
اضحاق نے پوچھا ’’برہ کہاں ہے؟‘‘ اُس کے باپ نے جواب دیا ’’خدا آپ ہی اپنے واسطے سوختنی قربانی کے لئے برّہ مہیا کرے گا۔‘‘ بالآخر یہ وعدہ آیت ۱۳ میں مذکور برّے سے نہیں بلکہ خدا کے برّے کے ذریعے سے پورا کیا گیا (‏یوحنا ۱:‏۲۹)‏۔

اِس باب میں مسیح کے بارے میں دو نمایاں علامات ہیں۔ اضحاق پہلوٹھا‏، اکلوتا بیٹا ہے جسے اُس کا باپ پیار کرتا ہے اور وہ اپنے باپ کی مرضی کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ وہ علامتی طور پر مُردوں میں سے واپس کیا گیا۔ برّہ دوسری علامت ہے‏، ایک
بے عیب نے دوسرے کے لئے فدیے میں اپنی جان دی۔ اُس کا خون بہایا گیا اور یہ ایک سوختنی قربانی تھی جو ساری کی ساری خدا کے لئے جلائی گئی۔ کسی نے کہا ہے کہ اضحاق کے فدیے کے لئے برّہ مہیا کرتے ہوئے ’’خدا نے ابرہام کے دل کو درد کی ٹیسوں
سے بچا لیا لیکن وہ اپنے دل کو نہ بچا سکا‘‘۔ خداوند کے فرشتے کا ذکر آیت ۱۱ اور ۱۵ میں اور باقی تمام عہد عتیق میں خداوند یسوع مسیح کو پیش کرتا ہے۔ ابرہام نے اُس جگہ کا نام ’’یہوواہ یری‘‘ رکھا یعنی خدا مہیا کرے گا (‏آیت ۱۴)‏۔ پرانے
عہدنامے میں خدا کے سات مرکب ناموں میں سے یہ پہلا نام ہے۔ دیگر درج ذیل ہیں:‏

یہوواہ رافا ’’خداوند تجھے شفا دیتا ہے‘‘ (‏خروج ۱۵:‏۲۶)‏
یہوواہ نسی ’’خداوند میرا جھنڈا ہے‘‘ (‏خروج ۱۷:‏۸۔۱۵)‏
یہوواہ سلوم ’’خداوند ہماری سلامتی‘‘ (‏قضاۃ ۶:‏۲۴)‏
یہوواہ راعی ’’خداوند میرا چوپان ہے‘‘ (‏زبور ۲۳:‏۱)‏
یہوواہ صدقنو ’’خداوند ہماری صداقت‘ (‏یرمیاہ ۲۳:‏۶)‏
یہوواہ شما ’’خداوند وہاں ہے‘‘ (‏حزقی ایل ۴۸:‏۳۵)‏

۲۲:‏۱۶۔۱۹ خداوند نے اپنی ذات کی قسم کھائی کیونکہ اُس سے بڑا کوئی نہیں تھا جس کی وہ قسم کھاتا (‏عبرانیوں ۶:‏۱۳)‏۔ خدا یہاں وعدہ کرتا ہے اور اپنی قسم سے اِس کی تصدیق کرتا ہے اور مسیح کے ذریعے سے غیر
قوموں کے لئے برکت کو شامل کرتا ہے (‏گلتیوں ۳:‏۱۶)‏۔ آیت ۱۷ میں خدا پہلے سے موعودہ وسیع برکت میں اضافہ کرتا ہے:‏ ابرہام کی نسل اپنے دشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہو گی۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُس کی اولاد اپنے مخالفوں پر حکمرانی کرے گی۔ شہر
کے پھاٹک کا مالک ہونے سے یہ بھی مراد ہے کہ وہ شہر کو فتح کریں گے۔

۲۲:‏۲۰۔۲۴ ابرہام کے بھائی نحور کے بارہ بیٹے تھے‏، جب کہ ابرہام کے صرف دو بیٹے تھے یعنی اِسمٰعیل اور اضحاق۔ خدا نے ابرہام سے وعدہ کیا تھا کہ اُس کی اولاد آسمان کے ستاروں کی مانند ہو گی اور یہ صورتِ
حال بھی ابرہام کے ایمان کا ایک اِمتحان تھا۔ شاید اِسی وجہ سے اُس نے اضحاق کے لئے بیوی لینے کے لئے الیعزر کو بھیجا (‏باب ۲۴)‏۔ ۲۲:‏۲۳ میں رِبقہ نام ملاحظہ فرمایئے۔

کِتابِ مُقدّس

۱۔اِن باتوں کے بعد یُوں ہُؤا کہ خُدا نے ابرہامؔ کو آزمایا اور اُسے کہا اَے ابرہامؔ! اُس نے کہا مَیں حاضِر ہُوں۔
۲۔تب اُس نے کہا کہ تُو اپنے بیٹے اِضحاقؔ کو جو تیرا اِکلوتا ہے اور جِسے تُو پِیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہؔ کے مُلک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو مَیں تُجھے بتاؤں گا سوختنی قُربانی کے طَور پر چڑھا۔
۳۔تب ابرہامؔ نے صُبح سویرے اُٹھ کر اپنے گدھے پر چارجامہ کَسا اور اپنے ساتھ دو جوانوں اور اپنے بیٹے اِضحاقؔ کو لِیا اور سوختنی قُربانی کے لِئے لکڑیاں چِیرِیں اور اُٹھ کر اُس جگہ کو جو خُدا نے اُسے بتائی تھی روانہ ہُؤا۔
۴۔تِیسرے دِن ابرہامؔ نے نِگاہ کی اور اُس جگہ کو دُور سے دیکھا۔
۵۔تب ابرہامؔ نے اپنے جوانوں سے کہا تُم یہیں گدھے کے پاس ٹھہرو۔ مَیں اور یہ لڑکا دونوں ذرا وہاں تک جاتے ہیں اور سِجدہ کر کے پِھر تُمہارے پاس لَوٹ آئیں گے۔
۶۔اور ابرہامؔ نے سوختنی قُربانی کی لکڑِیاں لے کر اپنے بیٹے اِضحاقؔ پر رکھّیں اور آگ اور چُھری اپنے ہاتھ میں لی اور دونوں اِکٹّھے روانہ ہُوئے۔
۷۔تب اِضحاقؔ نے اپنے باپ ابرہامؔ سے کہا اَے باپ!اُس نے جواب دِیا کہ اَے میرے بیٹے مَیں حاضِر ہُوں۔اُس نے کہا دیکھ آگ اور لکڑیاں تو ہیں پر سوختنی قُربانی کے لِئے برّہ کہاں ہے؟
۸۔ابرہامؔ نے کہا اَے میرے بیٹے خُدا آپ ہی اپنے واسطے سوختنی قُربانی کے لِئے برّہ مُہیّا کر لے گا۔ سو وہ دونوں آگے چلتے گئے۔
۹۔اور اُس جگہ پُہنچے جو خُدا نے بتائی تھی۔ وہاں ابرہامؔ نے قُربان گاہ بنائی اور اُس پر لکڑِیاں چُنیں اور اپنے بیٹے اِضحاقؔ کو باندھا اور اُسے قُربان گاہ پر لکڑیوں کے اُوپر رکھّا۔
۱۰۔اور ابرہامؔ نے ہاتھ بڑھا کر چُھری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے۔
۱۱۔تب خُداوند کے فرِشتہ نے اُسے آسمان سے پُکارا کہ اَے ابرہامؔ اَے ابرہامؔ! اُس نے کہا مَیں حاضِر ہُوں۔
۱۲۔پِھر اُس نے کہا کہ تُو اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ چلا اور نہ اُس سے کُچھ کر کیونکہ مَیں اب جان گیا کہ تُو خُدا سے ڈرتا ہے اِس لِئے کہ تُو نے اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اِکلوتا ہے مُجھ سے دریغ نہ کِیا۔
۱۳۔اور ابرہامؔ نے نِگاہ کی اور اپنے پِیچھے ایک مینڈھا دیکھا جِس کے سِینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔ تب ابرہامؔ نے جا کر اُس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کے بدلے سوختنی قُربانی کے طَور پر چڑھایا۔
۱۴۔اور ابرہامؔ نے اُس مقام کا نام یہوواؔہ یِری رکھّا چُنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خُداوند کے پہاڑ پر مُہیّا کِیا جائے گا۔
۱۵۔اور خُداوند کے فرِشتہ نے آسمان سے دوبارہ ابرہامؔ کو پُکارا اور کہا کہ
۱۶۔خُداوند فرماتا ہے چُونکہ تُو نے یہ کام کِیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اِکلوتا ہے دریغ نہ رکھّا اِس لِئے مَیں نے بھی اپنی ذات کی قَسم کھائی ہے کہ
۱۷۔مَیں تُجھے برکت پر برکت دُوں گا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمُندر کے کنارے کی ریت کی مانِند کر دُوں گا اور تیری اَولاد اپنے دُشمنوں کے پھاٹک کی مالِک ہو گی۔
۱۸۔اور تیری نسل کے وسِیلہ سے زمِین کی سب قَومیں برکت پائیں گی کیونکہ تُو نے میری بات مانی۔
۱۹۔تب ابرہامؔ اپنے جوانوں کے پاس لَوٹ گیا اور وہ اُٹھے اور اِکٹّھے بیرسبعؔ کو گئے اور ابرہامؔ بیرسبعؔ میں رہا۔
۲۰۔اِن باتوں کے بعد یُوں ہُؤا کہ ابرہامؔ کو یہ خبر مِلی کہ مِلکاہؔ کے بھی تیرے بھائی نحورؔ سے بیٹے ہُوئے ہیں۔
۲۱۔یعنی عُوض جو اُس کا پہلوٹھا ہے اور اُس کا بھائی بُوزؔ اور قمو ایلؔ اَرامؔ کا باپ۔
۲۲۔اور کسدؔ اور حزُوؔ اور فِلداؔس اور اِدلافؔ اور بتیو ایلؔ۔
۲۳۔اور بتیوایلؔ سے رِبقہؔ پَیدا ہُوئی۔ یہ آٹھوں ابرہامؔ کے بھائی نحورؔ سے مِلکاہؔ کے پَیدا ہُوئے۔
۲۴۔اور اُس کی حرم سے بھی جِس کا نام رُومہؔ تھا طِبخؔ اور جاحمؔ اور تخصؔ اور معکہؔ پَیدا ہُوئے۔