۲:۱۔۳ خدا نے اپنے تخلیقی کام سے فراغت کے بعد ساتویں دن آرام کیا۔ اِس آرام کا تھکاوٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ کام کو احسن طریقے سے مکمل کرنے کے اِطمینان کا آرام ہے۔ گو خدا نے اُس وقت اِنسان کو
یہ حکم نہیں دیا کہ وہ سبت کو منائے البتہ اُس نے سات دِنوں میں ایک دن آرام کرنے کے اصول کو قائم کیا۔
۲:۴۔۶ نام ’’خداوند خدا‘‘ (یہوواہ الوہیم) آیت ۴ میں پہلی بار آتا ہے اور وہ بھی اِنسان کی تخلیق کے بعد (۱:۲۷)۔ الوہیم کی حیثیت سے خدا خالق ہے۔ یہوواہ کی حیثیت سے اُس کا اِنسان کے ساتھ عہد کا
تعلق ہے۔ اِس حقیقت کو نہ سمجھنے کی بنا پر بائبل کے بعض نقادوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ خدا کے مختلف نام اِس لئے ہیں کیونکہ یہاں مصنف تبدیل ہو گیا ہے۔
’’یہ ہے … پیدائش‘‘ (آیت ۴) کا اِشارہ باب ۱ میں پیدائش کی طرف ہے۔ آیت ۵ میں یوں لکھا ہے: ’’اور زمین پر اَب تک کھیت کا کوئی پودا نہ تھا اور نہ میدان کی کوئی سبزی اَب تک اُگی تھی‘‘، یہ الفاظ۱:۱۰میں مذکور زمین کے حالات کو بیان
کرتے ہیں، جب کہ سبزہ نظر آنے سے پہلے خشک زمین نظر آئی۔ ’’زمین‘‘ بارش کی بجائے ’’کُہر‘‘ سے سیراب ہوئی۔
۲:۷ اِنسان کی تخلیق کا مکمل بیان اَب دیا گیا ہے۔ ’’خدا نے‘‘ اُس کے جسم کو ’’زمین کی مٹی سے … ‘‘، لیکن خدا کے زندگی کا دَم پھونکنے سے وہ ’’جیتی جان ہوا۔‘‘ آدم نام (سرخ یا ’’زمین‘‘) اُس سرخ مٹی
کی بنا پر دیا گیا جس سے وہ بنایا گیا تھا۔
۲:۸ ۔۱۴ خدا نے عدن میں جو باغ لگایا وہ مشرق کی طرف تھا، یعنی بائبل میں سمتوں کے حوالے سے وہ فلسطین کے مشرق میں تھا۔ یہ مسوپتامیہ کے علاقے میں دِجلہ اور فرات کے دریاؤں کے درمیان ہے۔ ’’نیک و بد کی
پہچان کے درخت‘‘ سے اِنسان کی فرماں برداری مطلوب تھی۔ اِس پھل کا کھانا اِس وجہ سے غلط تھا کہ خدا نے منع کیا تھا۔ مختلف صورتوں میں یہ پھل اَب بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔
۲:۱۵۔۲۳ اِس حکم کو توڑنے کی سزا موت تھی (آیت ۱۷)۔ یہ فوری طور پر روحانی موت تھی اور بتدریج جسمانی موت۔ جانوروں اور پرندوں کے نام رکھنے کے عمل میں آدم نے محسوس کیا کہ وہ نر اور مادہ تھے۔ ہر ایک
کا ساتھی تھا، وہ ایک جیسے تھے، لیکن مختلف بھی تھے۔ اِس مشاہدے نے آدم کو تیار کیا کہ اُس کا بھی کوئی ایسا ساتھی ہو جو اُس کی مانند ہو۔ اُس کی دُلھن، اُس کی ’’پسلیوں‘‘ میں سے ایک پسلی سے بنائی گئی، جو اُس وقت نکالی گئی جب وہ
سو رہا تھا۔ بعینہٖ مسیح کے پہلو سے جب اُس نے شدید کرب و اذیت میں اپنا لہو بہایا، اُس کی دُلھن تیار کی گئی۔ عورت آدم کے سر سے نہیں نکالی گئی کہ وہ اُس پر حکومت کرے، اور نہ اُس کے پاؤں ہی سے نکالی گئی کہ پاؤں تلے روندی جائے بلکہ
اُس کے بازُوؤں کے نیچے سے کہ اُس کی حفاظت کی جائے اور دل کے قریب سے تاکہ اُس سے محبت کی جائے۔
دُنیا میں گناہ کے داخل ہونے سے پہلے خدا نے مرد کو سربراہی دی۔ پولس اِس حقیقت کے لئے تخلیق کے نظام سے دلیل پیش کرتا ہے کہ مرد پہلے پیدا کیا گیا اور تخلیق کا مقصد یہ تھا کہ عورت مرد کے لئے بنائی گئی (۱۔کرنتھیوں ۱۱:۸،۹)۔ گو
عورت نے پہلے گناہکیا، لیکن یہ کہا گیا ہے کہ سربراہآدم کی معرفت گناہ دُنیا میں داخل ہوا۔ اِس کی حیثیت سربراہ کی تھی، اِس لئے وہ ذمہ دار تھا۔
آیت ۱۹ میں صاف ظاہر ہے کہ ’’خداوند خدا نے کُل دشتی جانور … بنائے‘‘، یعنی اِس سے پیشتر کہ اُس نے اِنسان کو بنایا۔
۲:۲۴ آیت ۲۴ کے مطابق خدا نے یک زوجگی کا دستور قائم کیا۔ تمام الٰہی دستوروں کی طرح یہ دستور بھی اِنسان کی بھلائی کے لئے قائم کیا گیا اور اِس کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی کہ ہم اِس کی سزا سے بچ
جائیں گے۔ شادی کا تعلق مسیح اور کلیسیا کے تعلق کو پیش کرتا ہے (اِفسیوں ۵:۲۲۔۳۲)۔
۲:۲۵ گو آدم اور حوا عدن میں کپڑے پہنے بغیر رہتے تھے، تاہم وہ ’’شرماتے نہ تھے۔‘‘
کِتابِ مُقدّس
۱۔سو آسمان اور زمِین اور اُن کے کُل لشکر کا بنانا ختم ہُؤا۔
۲۔اور خُدا نے اپنے کام کو جِسے وہ کرتا تھا ساتویں دِن ختم کِیا اور اپنے سارے کام سے جِسے وہ کر رہا تھا ساتویں دِن فارِغ ہُؤا۔
۳۔اور خُدا نے ساتویں دِن کو برکت دی اور اُسے مُقدّس ٹھہرایا کیونکہ اُس میں خُدا ساری کائِنات سے جِسے اُس نے پَیدا کِیا اور بنایا فارِغ ہُؤا۔
۴۔یہ ہے آسمان اور زمِین کی پَیدایش جب وہ خلق ہُوئے جِس دِن خُداوند خُدا نے زمِین اور آسمان کو بنایا۔
۵۔اور زمِین پر اب تک کھیت کا کوئی پَودا نہ تھا اور نہ مَیدان کی کوئی سبزی اب تک اُگی تھی کیونکہ خُداوند خُدا نے زمِین پر پانی نہیں برسایا تھا اور نہ زمِین جوتنے کو کوئی اِنسان تھا۔
۶۔بلکہ زمِین سے کُہر اُٹھتی تھی اور تمام رُویِ زمِین کو سیراب کرتی تھی۔
۷۔اور خُداوند خُدا نے زمِین کی مِٹّی سے اِنسان کو بنایا اور اُس کے نتھنوں میں زِندگی کا دَم پُھونکا تو اِنسان جِیتی جان ہُؤا۔
۸۔اور خُداوند خُدا نے مشرِق کی طرف عدن میں ایک باغ لگایا اور اِنسان کو جِسے اُس نے بنایا تھا وہاں رکھّا۔
۹۔اور خُداوند خُدا نے ہر درخت کو جو دیکھنے میں خُوش نُما اور کھانے کے لِئے اچھّا تھا زمِین سے اُگایا اور باغ کے بیِچ میں حیات کا درخت اور نیک و بَد کی پہچان کا درخت بھی لگایا۔
۱۰۔اور عدن سے ایک دریا باغ کے سیراب کرنے کو نِکلا اور وہاں سے چار ندِیوں میں تقسِیم ہُؤا۔
۱۱۔پہلی کا نام فیسونؔ ہے جو حویِلہ کی ساری زمِین کو جہاں سونا ہوتا ہے گھیرے ہُوئے ہے۔
۱۲۔اور اِس زمِین کا سونا چوکھا ہے اور وہاں موتی اور سنگِ سُلیمانی بھی ہیں۔
۱۳۔اور دُوسری ندی کا نام جیحوؔن ہے جو کُوؔش کی ساری زمِین کو گھیرے ہُوئے ہے۔
۱۴۔اور تِیسری ندی کا نام دِجلہؔ ہے جو اَسُورؔ کے مشرِق کو جاتی ہے اور چَوتھی ندی کا نام فراتؔ ہے۔
۱۵۔اور خُداوند خُدا نے آدمؔ کو لے کر باغِ عدن میں رکھّا کہ اُس کی باغبانی اور نِگہبانی کرے۔
۱۶۔اور خُداوند خُدا نے آدمؔ کو حُکم دِیا اور کہا کہ تُو باغ کے ہر درخت کا پَھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے۔
۱۷۔لیکن نیک و بَد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جِس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مَرا۔
۱۸۔اور خُداوند خُدا نے کہا کہ آدمؔ کا اکیلا رہنا اچھّا نہیں۔ مَیں اُس کے لِئے ایک مددگار اُس کی مانِند بناؤں گا۔
۱۹۔اور خُداوند خُدا نے کُل دشتی جانور اور ہوا کے کُل پرِندے مِٹّی سے بنائے اور اُن کو آدمؔ کے پاس لایا کہ دیکھے کہ وہ اُن کے کیا نام رکھتا ہے اور آدمؔ نے جِس جانور کو جو کہا وُہی اُس کا نام ٹھہرا۔
۲۰۔اور آدمؔ نے کُل چَوپایوں اور ہوا کے پرِندوں اور کُل دشتی جانوروں کے نام رکھّے پر آدمؔ کے لِئے کوئی مددگار اُس کی مانِند نہ مِلا۔
۲۱۔اور خُداوند خُدا نے آدمؔ پر گہری نِیند بھیجی اور وہ سو گیا اور اُس نے اُس کی پسلیوں میں سے ایک کو نِکال لِیا اور اُس کی جگہ گوشت بھر دِیا۔
۲۲۔اور خُداوند خُدا اُس پسلی سے جو اُس نے آدمؔ میں سے نِکالی تھی ایک عَورت بنا کر اُسے آدمؔ کے پاس لایا۔
۲۳۔اور آدمؔ نے کہا کہ یہ تو اب میری ہڈِّیوں میں سے ہڈّی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے اِس لِئے وہ ناری کہلائے گی کیونکہ وہ نر سے نِکالی گئی۔
۲۴۔اِس واسطے مَرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی بِیوی سے مِلا رہے گا اور وہ ایک تن ہوں گے۔
۲۵۔اور آدمؔ اور اُس کی بِیوی دونوں ننگے تھے اور شرماتے نہ تھے۔