(۸) وہ جو جماعت میں شریک نہیں ہو سکتے تھے (۲۳:۱۔۸)
مختلف لوگ خداوند کی جماعت میں داخل ہونے سے محروم رکھے گئے یعنی اُن کے شہری اور عبادت گزار کی حیثیت سے پورے حقوق نہیں تھے
- وہ شخص جس کے اعضائے تولید کو نقصان پہنچا ہوا تھا، یا تھے ہی نہیں۔
- ایک حرام زادہ شخص __ وہ جو ناجائز تعلقات کی پیدائش تھا۔
- عمونی یا موآبی۔
- ادومی یا مصری۔ آیت ۴ میں کہا گیا ہے کہ موآبیوں نے ’’روٹی اور پانی سے اِسرائیلیوں کا اِستقبال نہ کیا‘‘۔
جب کہ اِستثنا ۲:۲۹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض موآبیوں نے کھانے پینے کی چیزیں یہودیوں کو بیچیں۔ ’’روٹی اور پانی لے کر اِستقبال کرنا‘‘ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے، پُرتپاک اِستقبال۔ موآبیوں نے ایسا اِستقبال نہ کیا۔
خوجے جماعتی عبادت میں شریک نہیں ہو سکتے تھے۔ حرام زادے، موآبی اور عمونی کو دسویں پشت تک جماعت سے خارِج رکھا جاتا۔ ادومی اور مصری تین پشتوں کے بعد داخل ہو سکتے تھے۔ اگر کوئی خداوند کی طرف رجوع لاتا تو اِن اُصولوں میں گنجائش موجود تھی۔ داؤد کے سورماؤں میں عمونی اور موآبی دونوں شامل تھے (۱۔تواریخ ۱۱:۳۹،۶۴)۔ بعضوں کا خیال ہے کہ اِس اُصول کا اِطلاق مردوں پر ہوتا تھا، اِس لئے رُوت پر اِس کا اطلاق نہ ہوا۔ بعض کی دانست میں ’’دسویں پشت‘‘ ایک محاورہ ہے اور اِس کا مطلب ہے لامحدود عرصے تک۔
(۹) لشکرگاہ میں صفائی (۲۳:۹۔۱۴)
آیت ۹ فوجی خدمت کی خاطر گھر سے دُور مردوں کو درپیش آزمائشوں کے بارے میں اِنتباہ ہے (یا شاید یہ آیات ۱۰۔۱۴ کا دیباچہ ہے)۔
اِحتلام کے سلسلے میں قانون یہ ظاہر کرتا ہے کہ جس اُصول سے زندگی پیدا کرنے کا تعلُّق ہے، اُس کے تقدس کو قائم رکھا جائے۔
ہر ایک سپاہی کے لئے لازم تھا کہ وہ لشکرگاہ کی صفائی کے پیش نظر اپنے ہتھیاروں میں ایک میخ بھی رکھے۔ فُضلے کو فوری طور پر ڈھانپ دینا ضروری تھا۔ اگر تاریخ میں تمام فوجیں اِس سادہ سے قانون کی پیروی کرتیں، تو وہ اکثر اوقات بہت سی متعدی بیماریوں کے پھیلنے سے بچ جاتیں۔
(۱۰) سماجی اور مذہبی قوانین (۲۳:۱۵۔۲۵)
۲۳:۱۵، ۱۶ اگر کوئی بدیشی غلام اپنے آقا سے فرار ہو کر آزاد ہو جاتا تو اُسے اُس کے مالک کے پاس واپس نہ کیا جاتا۔ یوں اِسرائیل کو مظلوم کی پناہ گاہ بننا تھا۔
۲۳:۱۷، ۱۸ حکم دیا گیا کہ کسی فاحشہ عورت اور لُوطی کو ملک میں برداشت نہیں کیا جائے گا، اور ایسے غیر اخلاقی دھندے کی کمائی کو خداوند کے گھر میں منت کی ادائیگی کے لئے نہ لایا جائے۔ ’’کُتے‘‘ کا مطلب ہے لُوطی۔
۲۳:۱۹، ۲۰ یہودی کو کسی دوسرے یہودی کو اُدھار دی گئی رقم پر سُود لینے کی اِجازت نہ تھی، لیکن کسی غیر قوم سے سود لینے کی اُنہیں اِجازت تھی۔یہ خروج ۲۲:۲۵ میں پہلے سے دیئے ہوئے اُصول کی مزید تفصیل ہے، جس میں غریبوں سے سود لینے کی ممانعت کی گئی ہے۔
۲۳:۲۱۔۲۳ مَنّتیں رضاکارانہ تھیں۔ لازم نہیں تھا کہ کوئی شخص خداوند کے حضور مَنّت مانتا، لیکن اگر وہ منت مان لیتا تو اُس پر یہ فرض تھا کہ وہ اِسے پورا کرے۔
۲۳:۲۴،۲۵ مسافروں کو اِجازت تھی کہ وہ اپنی موجودہ ضرورت کے مطابق انگور توڑ کر کھائیں، لیکن اُنہیں برتن میں ڈالنے کی اِجازت نہیں تھی، اور اُنہیں کھیت میں سے بالیں توڑنے کی اِجازت تھی، لیکن وہ صرف ہاتھوں سے بالیں توڑ سکتے تھے اور اُنہیں ہنسوا استعمال کرنے کی اِجازت نہیں تھی۔ خداوند کے ایام میں اُ س کے بارہ شاگردوں نے اِس رعایت کا فائدہ اُٹھایا (مرقس ۲:۲۳)۔
مقدس کتاب
۱ جس کے خُصے کچلے گئے ہوں یا آلت کاٹ ڈالی گئی ہو وہ خداوند کی جماعت میں آنے نہ پائے ۔
۲ کوئی حرامزادہ خداوند کی جماعت میں داخل نہ ہو دسویں پُشت تک اُس نسل میں سے کوئی خداوند کی جماعت میں آنے نہ پائے۔
۳ کوئی عمونی یا موآبی خداوند کی جماعت میں داخل نہ ہو دسویں پُشت تک اُن کی نسل میں سے کوئی خداوند کی جماعت میں کبھی آنے نہ پائے۔
۴ اِس لیے کہ جب تُم مصر سے نکل کر آ رہے تھے تو اُنہوں نے روٹی اور پانی لے کر راستہ میں تمہارا استقبال نہیں کیا بلکہ بعور کے بیٹے بلعام کو میسوپوتامیہ کے فتور سے اُجرت پر بُلوایا تاکہ وہ تُجھ پر لعنت کرے ۔
۵ لیکن خداوند تیرے خدا نے بلعام کی نہ سُنی بلکہ خداوند تیرے خدا نے تیرے لیے اُس لعنت کو برکت سے بدل دیا اِس لیے کہ خداوند تیرے خدا کو تجھ سے محبت تھی ۔
۶ تُو اپنی زندگی بھر کبھی اُن کی سلامتی یا سعادت کا خواہاں نہ ہونا ۔
۷ تُو کسی ادومی سے نفرت نہ رکھنا کیونکہ وہ تیرا بھائی ہے تُو کسی مصری سے بھ نفرت نہ رکھنا کیونکہ تُو اُس کے ملک میں پردیسی ہو کر رہا تھا ۔
۸ اُن کی تیسری پُشت کے جو لڑکے پیدا ہوں وہ خداوند کی جماعت میں آنے پائیں ۔
۹ جب تُو اپنے دُشمنوں سے لڑنے کے لیے دل باندھ کر نکلے تو اپنے کو ہر بُری چیز سے بچائے رکھنا ۔
۱۰ اگر تمہارے درمیان کوئی ایسا آدمی ہو جو رات کو احتلام کے سبب سے ناپاک ہو گیا ہو تو وہ خیمی گاپ سے باہر نکل جائے اور خیمہ گاہ کے اندر نہ آئے
۱۱ لیکن جب شام ہونے لگے تو وہ پانی سے غُسل کرے اور جب آفتاب غروب ہو جائے تو خیمہ گاہ میں آئے۔
۱۲ اور خیمہ گاہ کے باہر تُو پھر کوئی جگہ ایسی ٹھہرا دینا جہاں تُو اپنی حاجت کے لیے جا سکے ۔
۱۳ اور اپنے ساتھ اپنے ہتھیاروں میں ایک میخ بھی رکھنا تاکہ جب باہر تُجھے حاجت کے لیے بیٹھنا ہو تو اُس سے جگہ کھود لیا کرو اور لوٹتے وقت اپنے فضلہ کو ڈھانک دیا کرو۔
۱۴ اَس لیے کہ خداوند تیرا خدا تیرے خیمہ گاہ میں پھرا کرتا ہے تاکہ تجھ کو بچائے اور تیرے دُشمنوں کو تیرے ہاتھ میں کر دے سو تیری خیمہ گاہ پاک رہے تا نہ ہو کہ وہ تجھ میں نجاست کو دیکھ کر تجھ سے پھر جائے۔
۱۵ اگر کسی کا غلام اپنے آقا کے پاسچ سے بھاگ کر تیرے پاس پناہ لے تو تُو اُسے اُس کے آقا کے حوالہ نہ کردینا ۔
۱۶ بلکہ وہ تیرے ساتھ تیرے ہی درمیان تیری بستیوں میں سے جو اُسے اچھی لگے اُسے چُن کر اُسی جگہ رہے سو تُو اُسے ہرگز نہ ستانا ۔
۱۷ اسرائیلی لڑکیوں میں کوئی فاحشہ نہ ہو اور نہ اسرائیلی لڑکوں میں لوئی لوطی ہو ۔
۱۸ تُو کسی فاحشہ کی خرچی یا کُتے کی اُجرت کسی منت کے لیے خداوند اپنے خدا کے گھر میں نہ لانا کیونکہ یہ دونوں خداوند تیرے خدا کے نزدیک مکروہ ہیں ۔
۱۹ تُو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا خواہ وہ روپے کا سود ہو یا اناج کا سود یا کسی ایسی چیز کا سود ہو جو بیاج پر دی جایا کرتی ہے ۔
۲۰ تُو پردیسی کو سود پر قرضہ دے تو دیکھ پر اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا تاکہ خداوند تیرا خدا اُس ملک میں جس پر تو قبضہ کرنے جا رہا ہے تیرے سب کاموں میں جن کو ہاتھ لگائے تجھ کو برکت دے ۔
۲۱ جب تُو خداوند اپنے خدا کی خاطر منت مانے تواُس کے پورا کرنے میں دیر نہ کرنا اِس لیے کہ خداوند تیرا خدا ضرور اُس کو تجھ سے طلب کرے گا تب تو گنہگار ٹھہرے گا ۔
۲۲ لیکن اگر تُو منت نہ مانے تو تیرا کوئی گناہ نہیں ۔
۲۳ جو کچھ تیرے منہ سے نکلے اُسے دھیان کر کے پورا کرنا اور جیسی منت تُو نے خداوند اپنے خدا کے لیے مانی ہو اُس کے مطابق رضا کی قُربانی جس کا وعدہ تیری زبان سے ہوا گذراننا ۔
۲۴ جب تُو اپنے ہمسایہ کےتاکستان میں جائے تو جتنے انگور چاہے پیٹ بھر کر کھانا پر کچھ اپنے برتن میں نہ رکھ لینا ۔
۲۵ جب تُو اپنے ہمسایہ کے کھڑے کھیت میں جائے تو اپنے ہاتھ سے بالیں توڑ سکتا ہے پر اپنے ہمسایہ کے کھڑے کھیت کو ہنسوا نہ لگانا ۔