خُروج ۷

۷:‏۱۔۵ باب ۶ کے آخر تک موسیٰ پریشان تھا کہ زور آور فرعون کیسے اُس کمزور مقرر (‏speaker)‏ کی بات پر دھیان دے گا۔ خدا کا یہ جواب تھا کہ موسیٰ فرعون کے سامنے خدا کے نمائندے اور ترجمان کی حیثیت سے کھڑا ہو گا۔ موسیٰ ہارون سے بات کرے گا اور ہارون فرعون تک پیغام پہنچائے گا۔ فرعون اِس پیغام کو قبول نہ کرے گا‏، لیکن بالآخر خدا اپنے لوگوں کو مخلصی دے گا۔ 

۷:‏۶ موسیٰ اور ہارون کی بالترتیب ۸۰ اور ۸۳ سال عمر تھی جب اُنہوں نے مخلصی کی اِس عظیم خدمت کا آغاز کیا۔ دورِ حاضر میں ہم اِسے ’’بڑھاپے‘‘ کی عمر سے موسوم کرتے ہیں‏، لیکن خدا مردوں اور عورتوں کو اپنے جلال کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔

ب۔ دوسری بار رُوبرو ہونا (‏۷:‏۷۔۱۳)‏

فرعون کو آنے والے مصائب سے پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ جب ہارون نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ سانپ بن گیا۔ فرعون کے داناؤں اور جادوگروں نے بھی شیطانی قوتوں سے ایسا ہی معجزہ دِکھا دیا۔ ۲۔ تیمتھیس۳:‏۸ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ مصر کے اُن جادوگروں کے نام ینّیس اور یمبریس تھے۔ اُنہوں نے موسیٰ اور ہارون کی نقل کرتے ہوئے اُن کا مقابلہ کیا‏، لیکن ہارون کی لاٹھی اُن کی لاٹھیوں کو نگل گئی۔ خدا نے اپنی من مانی سے نہیں بلکہ فرعون کی ہٹ دھرمی کے باعث اُس کے دل کو سخت کر دیا۔ اب پہلی آفت کا وقت تھا۔ 

۵۔ پہلی نو آفتیں (‏۷:‏۱۴۔۱۰:‏۲۹)‏

الف۔ پہلی آفت۔ دریائے نیل کا خون میں تبدیل ہو جانا (‏۷:‏۱۴۔۲۵)‏

۷:‏۱۴۔۱۸ خداوند نے موسیٰ کو بتایا کہ جب فرعون دریا پر جائے تو وہ اُس سے شخصی طور پر ملاقات کرے (‏وہ غالباً مقدس دریائے نیل پر نہانے کے لئے جاتا تھا)‏۔ موسیٰ کو حکم دیا گیا کہ وہ بادشاہ کو خبردار کرے کہ مچھلیاں مر جائیں گی‏، دریا سے تعفن اُٹھے گا۔ اور جب موسیٰ کی لاٹھی سے پانی خون بن جائے گا تو مصریوں کو اِس سے کراہیت ہو گی۔ 

۷:‏۱۹۔۲۵ موسیٰ اور ہارون نے وہی کیا جیسا کہ خدا نے اُنہیں حکم دیا تھا۔ دریائے نیل اور مصر کی ساری سرزمین کا پانی خون بن گیا‏، مچھلیاں مر گئیں اور دریا سے تعفن اُٹھنے لگا۔ مصر کے جادوگروں نے دریائے نیل کے بجائے کہیں اَور پانی تلاش کر کے اِس معجزے کی نقل کی۔ اِس سے غالباً فرعون کی حوصلہ افزائی ہوئی کہ وہ موسیٰ کے اِس مطالبے کو نہ مانے کہ اُس کے لوگوں کو جانے دیا جائے۔ اِن سات دِنوں میں جب دریائے نیل کا پانی خراب ہو چکا تھا‏، تو لوگوں نے کنوئیں کھود کر پانی حاصل کیا۔ 

مقدس کتاب

۱ پھر خدا وند نے موسیٰ سے کہا دِیکھ میں نے تجھے فِرعون کے لئے گویا خدا ٹھہریا اور تیرا بھائی ہارُون تیرا پیغمبر ہو گا ۔
۲ جو جو حُکم میں تجھےدُوں سو تُو کہنا اور تیرا بھائی ہارون اُسے فِرعون سے کہے کہ وہ بنی اسرائیل کو انپے مُلک سے جانے دے ۔
۳ اور میں فِرعون کے دل کو سخت کرونگا اور اپنے نشان اور عجائب مُلک مصر میں کثرت سے دِکھا ؤنگا ۔
۴ تو بھی فِرعون تُمہاری نہ سُنیگا ۔ تب میں مصر کو ہاتھ لگاؤنگا اور اُسے بڑی بڑی سزائیں دے کر اپنے لوگوں بنی اسرائیل کے جتھوں کو مُلک مصر سے نکال لاؤنگا ۔
۵ اور میں جب مصر پر ہاتھ چلاؤنگا اور بنی اسرائیل کو ان میں سے نکال لاؤنگا تب مصری جانینگے کہ میں کاخداوند ہوں ۔
۶ موسیٰ اور ہارون نے جیسا خداوند نے اُن کو حُکم دیا ویسا ہی کیا ۔
۷ اور موسیٰ اِسی برس اور ہارون تراسی برس کا تھا جب وہ فرعون سے ہم کلام ہوئے ۔
۸ اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا ۔
۹ کہ جب فرعون تُم کو کہے کہ اپنا معجزہ دکھاؤ تو ہارون سے کہنا کہ اپنی لاٹھی کو لے کر فرعون کہ سامنے ڈال دے تاکہ وہ سانپ بن جائے ۔
۱۰ اور موسیٰ اور ہارون فرعون کہ پاس گئے اور انہوں نے خداوند کے حکم کہ مطابق کیا اور ہارون نے اپنی لاٹھی فرعون اور اُس کہ خادموں کہ سامنے ڈال دی اور وہ سانپ بن گئی ۔
۱۱ تب فرعو ن نے بھی داناؤں اور جادوگروں کو بلوایا اور مصر کہ جادو گروں نے بھی اپنی جادو سے ایسا ہی کیا ۔
۱۲ کیونکہ انہوں نے بھی اپنی اپنی لاٹھی سامنے ڈالی اور وہ سانپ بن گیئں لیکن ہارون کی لاٹھی اُن کی لاٹھیوں کو نگل گئی ۔
۱۳ اور فرعون کا دل سخت ہوگیا اور جیسا خداوند نے کہدیا تھا اُس نے اُن کی نہ سنُی۔
۱۴ تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ فرعون کا دل مُتصّب ہے ۔وہ ان لوگوں کو جانے نہیں دیتا ۔
۱۵ اب تُو صُبح کو فرعون کہ پاس جا۔وہ دریا پر جائیگا۔سو تُو لب دریا اُس کی ملاقات کے لئے کھڑا رہنا اور جو لاٹھی سانپ بن گئی تھی اُسے ہاتھ میں لے لینا۔
۱۶ اور اُس سے کہناکہ خداوند عبرانیوں کہ خدا نے مجھے تیرے پاس یہ کہنے کو بھیجا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ بیابان میں میری عبادت کریںاور اب تک تُو نے کُچھ سماعت نہیں کی ۔
۱۷ پس خداوند یُوں فرماتا ہے کہ تُو اِسی سے جان لیگا کہ میں خداوند ہوں۔دیکھ میَں اپنے ہاتھ کی لاٹھی کو دریا کہ پانی پر مارونگا اور وہ خون ہو جائیگا ۔
۱۸ اور جو مچھلیاں دریا میں ہیں مر جائینگی اور دریا سے تعفن اُٹھیگا اور مصریوں کو دریا کا پانی پینے سے کر اہیت ہو گی ۔
۱۹ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ ہارون سے کہہ اپنی لاٹھی لے اور مصر میں جتنا پانی ہے یعنی دریا ؤں اور نہرؤں اور جھیلوں اور تالابوں پر اپنا ہاتھ بڑھا تاکہ وہ کُون بن جائیں اور سار ےمُلک مصر میں پتھر اور لکڑی کے برتنوں میں بھی خُون ہی خُون ہو گا ۔
۲۰ اور موسیٰ اور ہارون نے خداوند کے حُکم کے مُطابق کیا ۔ اُس نے لاٹھی اُٹھا کر اُسے فِرعون اور اُس کے خادموں کے سامنے دریا کے پانی پر مارا اور دریا کا پانی سب خُون ہو گیا ۔
۲۱ اور دریا کی مچھلیاں مر گئیں اور دریا سے تعفن اُٹھنے لگا اور مصر ی دریا کا پانی پی نہ سکے اور تمام مُلک مصر میں خُون ہی خُون ہو گیا ۔
۲۲ تب مصر کے جادُوگرؤں نے بھی اپنے جادُو سے ایسا ہی کیا پر فِرعون کا دل سخت ہو گیا اور جیسا خداوند نے کہہ دیا تھا اُس نے اُن کی نہ سُنی ۔
۲۳ اور فِرعون لَوٹکر اپنے گھر چلا گیا اور اُسکے دل پر کُچھ اثر نہ ہوا ۔
۲۴ اور سب مصریوں نے دریا کے آس پاس پینے کے پانی کے لئے کُوئیں کھودڈالے کیونکہ وہ دریا کا پانی نہیں پی سکتے تھے ۔
۲۵ اور جب سے خداوند نے دریا کو مارا اُسکے بعد سات دن گُزرے۔