ح۔ آٹھویں آفت۔ ٹِڈیاں (۱۰:۱۔۲۰)
موسیٰ اور ہارون نے فرعون کو آنے والی ٹڈیوں کی آفت سے آگاہ کیا۔ لیکن وہ صرف اِس حد تک رضامند ہو گیا کہ صرف مردوں کو اِجازت دی جائے گی کہ وہ جا کر خداوند کی عبادت کریں۔ بچے اور عورتیں اپنے گھروں میں رہیں گے۔ لیکن خداوند نہیں چاہتا تھا کہ صرف مرد ہی بیابان میں جائیں جب کہ اُن کے خاندان ابھی تک مصر میں رہیں۔ ٹڈیوں کی آفت اِس قدر سخت تھی کہ ایسی آفت پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔ ٹڈیاں سارے ملک پر چھا گئیں اور ہر طرح کی ہریالی کو چٹ کر لیا۔ اِس سے ثابت ہوا کہ سراپس (Serapis) دیوتا ٹڈیوں سے بچانے کے لئے بے بس تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ فرعون ہار ماننے کے لئے تیار تھا، لیکن اُس نے بنی اِسرائیل کو جانے کی اِجازت نہ دی۔
ط۔ نویں آفت۔ تین دن کی تاریکی (۱۰:۲۱۔۲۹)
۱۰:۲۱۔۲۸ نویں آفت تین دن کی تاریکی تھی، ایسی تاریکی جسے ٹٹول سکیں۔ صرف بنی اِسرائیل کے مکانوں میں اُجالا تھا۔ یہ ایک واضح معجزہ تھا۔ یوں مصریوں کا سورج دیوتا را (Ra) بالکل بے نقاب ہو گیا کہ وہ بے بس ہے۔ اَب فرعون نے موسیٰ کو بتایا کہ وہ عورتوں اور بچوں کو بیابان میں لے جائے، لیکن بھیڑ بکریوں اور گائے بیلوں کو مصر میں چھوڑ جائیں۔ اُس کا خیال تھا کہ یہ اُن کی واپسی کی ضمانت ہو گی (یا شاید وہ اپنے ریوڑوں میں اضافہ کرنا چاہتا تھا)۔ لیکن اِس صورت میں یہوواہ کے لئے قربانی کرنے کے لئے اُن کے پاس کچھ نہ ہوتا اور قربانی ہی اُن کی مصر سے روانگی کی وجہ تھی۔ لیکن جب موسیٰ مطلوبہ سمجھوتے کے لئے رضامند نہ ہوا تو فرعون نے اُسے حکم دیا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اُس سے دُور چلا جائے۔
۱۰:۲۹ موسیٰ کے اِس زور دار بیان ’’ تُو نے ٹھیک کہا ہے۔ مَیں پھر تیرا منہ کبھی نہیں دیکھوں گا‘‘ کا ۱۱:۸ کے بیان سے تضاد دِکھائی دیتا ہے جہاں لکھا ہے کہ ’’وہ بڑے طیش میں فرعون کے پاس سے نکل کر چلا گیا۔‘‘ میتھیو ہنری کا خیال ہے کہ ’’پھر …کبھی‘‘ کا مطلب ہے ’’اِس وقت کے بعد‘‘ اور ۱۱:۸ اُسی ملاقات میں شامل ہے۔ وہ لکھتا ہے:
’’چنانچہ اِس ملاقات کے بعد موسیٰ پھر کبھی نہ آیا، جب تک اُسے بلایا نہ گیا۔ ملاحظہ فرمائیں جب لوگ خدا کے کلام کو اپنی زندگی سے خارج کر دیتے ہیں تو وہ اُنہیں اُن کے فریب میں مبتلا رہنے دیتا ہے، اور اُن کے بے شمار بتوں کے مطابق اُنہیں جواب دیتا ہے۔ جب گراسینیوں کے لوگوں نے چاہا کہ مسیح اُن کے پاس سے چلا جائے تو اُس نے اُن کو چھوڑ دیا۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اورخداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ فرعون کے پاس جا کیونکہ مَیں ہی نے اُسکے دِل اور اُنکے نوکروں کے دل کو سخت کر دِیا ہے تاکہ مَیں اپنے یہ نِشان اُنکے بیچ دِکھاؤں۔
۲ اور تُو اپنے بیٹے اور اپنے پوتے کو میرے نِشان اور وہ کام جو میَں نے مصر میں اُنکے درمیان کئے سُنائے اور تُم جان لو کہ خداوند مَیں ہی ہُوں۔
۳ اور مُوسیٰ اور ہارون نے فرعون کے پاس جا کر اُس سے کہا کہ خُداوند عبرانیوں کا خُدا یُوں فرماتا ہے کہ تُو کب تک میرے سامنے نِیچا بننے سے اِنکار کریگا؟میرے لوگوں کو جانےدے کہ وہ میری عِبادت کریں۔
۴ ورنہ اگر تُو میرے لوگوں کو جانے نہ دیگا تو دیکھ کل میں تیرے مُلک میں ٹِڈیاں لے آؤنگا۔
۵ اور وہ زمین کی سطح کو اَیسا ڈھانک لینگی کہ کوئی زمین کو دیکھ بھی نہ سکیگا اور تُمہارا جو کُچھ اولوں سے بچ رہا ہے وہ اُسے کھا جائینگی اور تُمہارے جتنے درخت مَیدان میں لگے ہیں اُنکو بھی چٹ کر جائینگی ۔
۶ اور وہ تیرے اور تیرے نوکروں بلکہ سب مصریوں کے گھروں میں بھر جائینگی اور اَیسا تیرے آباواجداد نے جب سے وہ پیدا ہُوئے اُس وقت سے آج تک نہیں دیکھا ہوگا اور وہ نوٹکر فرعون کے پاس سے چلا گیا۔
۷ تب فرعون کے نوکر فرعون سے کہنے لگے کہ یہ شخص کب تک ہمارے لِئے پھندا بنا رہیگا ؟اِن لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ خُداوند اپنے خدا کی عبادت کریں ۔ کیا تجھے خبر نہیں کہ مصر برباد ہوگیا ؟۔
۸ تب مُوسیٰ اور ہاروُن فرعون کے پاس پھر بُلالئے گئے اور اُس نے اُنکو کہا کہ جاؤاور خداوند اپنے خدا کی عبادت کرو پر وہ کَون کَون ہیں جائینگے ؟۔
۹ مُوسیٰ نے کہا کہ ہم اپنے جوانوں اور بُڈھوں اور اپنے بیٹوں اور بیٹیوں اور اپنی بھیڑ بکریوں اور اپنے گائے بیلوں سمیت جائینگے کیونکہ ہمکو اپنے خُدا کی عِید کر نی ہے ۔
۱۰ تب اُس نے اُنکو کہا کہ خُداوند ہی تُمہارے ساتھ رہے ۔ میں تو ضرور ہی تُمکو بّچوں سمیت جانے دُونگا ۔ خبردار ہو جاؤ ۔ اِس میں تُمہاری خرابی ہے۔
۱۱ نہیں ۔ اَیسا نہیں ہونے پائیگا ۔ سو تُم مرد ہی مرد جاکر خُداوند کی عِبادت کرو کیونکہ تُم یہی چاہتے تھے اور وہ فرعون کے پاس سے نِکال دِئے گئے ۔
۱۲ تب خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ مُلِک مِصر پر اپنا ہاتھ بڑھا تاکہ ٹڈیا ں مُلِک مِصر پر آئیں اور ہر قِسم کی سبزی کو جو اِس مُلک میں اولوں سے بچ رہی ہے چٹ کر جائیں ۔
۱۳ پس موسیٰ نے مُلِک مِصر پر اپنی لاٹھی بڑھائی اور خُداوند نے اُس سارے دِن اور ساری رات پُرواآندھی چلائی اور صبح ہوتے ہوتے پُرواآندھی ٹِڈیاں لے آئی ۔
۱۴ اورٹِڈیاں سارے مُلِک مصر پر چھاگئیں اور وہیں مصر کی حدوُد میں بسیرا کِیا اور اُنکا دَل اَیسا بھاری تھا کہ نہ تو اُن سے پہلے اَیسی ٹِڈیاں کبھی آئیں نہ اُنکے بعد پھر آئینگی ۔
۱۵ کیونکہ اُنہوں نے تمام رُویِ زمین کو ڈھانک لِیا اَیسا کہ مُلک میں اندھیرا ہوگیا اور اُنہوں نے اُس مُلک کی ایک ایک سبزی کو اور درختوں کے میووں کو جواولوں سے بچ گئے تھے چٹ کر لِیا اور مُلِک مصر میں نہ تو کِسی درخت کی نہ کھیت کی کِسی سبزی کی ہریالی باقی رہی۔
۱۶ تب فرعون نے جلد مُوسیٰ اور ہارون کو بُلوا کر کہا کہ میں خُداوند تُمہارے خُدا کا اور تُمہارا گنہگار ہوں ۔
۱۷ سو فقط اِس بار میرا گُناہ بخشو اور خُداوند اپنے خُدا سے شفاعت کرو کہ وہ صِرف اِس مُوت کو مُجھ سے دُور کر دے ۔
۱۸ سو اُس نے فرعون کے پاس سے نکلکر خُداوند سے شفاعت کی ۔
۱۹ اور خُداوند نے بیچھواآندھی بھیجی جو ٹِڈیوں کو اُڑا کر لے گئی اور اُنکو بحِر قُلزم میں ڈالدیا اور مصر کی حُدود میں ایک ٹِڈی بھی باقی نہ رہی ۔
۲۰ پر خُداوند نے فرعون کے دِل کو سخت کر دیا اور اُس نے بنی اِسرائیل کو جانے نہ دِیا ۔
۲۱ پھر خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا تاکہ مُلِک مصر میں تاریکی چھا جائے ۔ اُیسی تاریکی جسے ٹٹول سکیں۔
۲۲ اور مُوسیٰ نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھایا اور تین دِن تک سارے مُلک مصر میں گہری تاریکی رہی ۔
۲۳ تین دِن تک نہ تو کسِی نے کسِی کودیکھااور نہ کوئی اپنی جگہ سے ہلا پر سب بنی اسرائیل کے مکانوں میں اُجالا رہا ۔
۲۴ تب فرعون نے مُوسیٰ کو بُلواکر کہاکہ تُم جاؤ اور خُداوند کی عِبادت کرو ۔ فقط اپنی بھیڑ بکریوں اور گائے بَیلوں کو یہیں چھوڑ جاؤ اور جو تُمہارے بال بچے ہیں اُنکو بھی ساتھ لیتے جاؤ ۔
۲۵ مُوسیٰ نے کہا کہ تُجھے ہمکو قُربانیوں اور سوختنی قُربانیوں کے لئے جانور دینے پڑینگے تاکہ ہم خُداوند اپنے خُدا کے آگے قُربانی کریں۔
۲۶ سو ہمارے چوپائے بھی ہمارے ساتھ جائینگے اور اُنکا ایک کُھر تک بھی پیچھے نہیں چھوڑا جائیگا کیونکہ اُن ہی میں سے ہمکو خُداوند اپنے خُدا کی عِبادت کا سامان لینا پڑیگا اور جب تک ہم وہاں پہنچ نہ جائیں ہم نہیں جانتے کہ کیا کیا لیکر ہمکو خُداوند کئی عِبادت کر نی ہوگی ۔
۲۷ لیکن خُداوند نے فرعون کے دل کو سخت کر دیا اور اُس نے اُنکو جانے ہی نہ دیا ۔
۲۸ اور فرعون نے اُسے کہا میرے سامنے سے چلاجا اور ہوشیار رہ ۔ پھر میرا مُنہ دیکھنے کو مت آنا کیونکہ جس دِن تُو نے میرا منہ دیکھا تُو مارا جائیگا ۔
۲۹ تب مُوسیٰ نے کہا کہ تُو نے ٹھیک کہا ہے ۔ میں پھر تیرا مُنہ کبھی نہیں دیکھُونگا۔