خُروج ۱۸

د۔ موسیٰ اور یترو (‏باب ۱۸)‏

۱۸:‏۱۔۱۲ باب ۱۸ میں خروج کی کتاب کی ایک واضح تقسیم کی گئی ہے۔ ابھی تک ہم نے مَن‏، چٹان جس کو لاٹھی سے مارا گیا اور چشمے کے بارے میں معلوم کیا جو مسیح کے تجسم‏، اُس کی موت اور روح القدس دیئے جانے کی علامت ہیں۔ اب ایسا لگتا ہے کہ ہم مسیح کے مستقبل کے جلال کا خاکہ دیکھیں گے۔ موسیٰ زمین پر حکومت کرنے والے مسیح کا مثیل ہے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اُس کے بیٹے یہودیوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور یترو غیر قوم کی اور موسیٰ کی غیر قوم بیوی صفورہ کلیسیا کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ سب ہزار سالہ بادشاہت کی برکتوں سے لطف اندوز ہوں گے __ یعنی یہودی اور غیر قوم اِس میں رعایا ہوں گے اور کلیسیا مسیح کے ساتھ زمین پر بادشاہی کرے گی۔ 

واقعات تاریخی طور پر سلسلے وار نہیں ہیں۔ بیان کیا گیا ہے کہ یترو آیت ۵ میں کوہِ سینا پر موسیٰ کے پاس آتا ہے لیکن اِسرائیلی ۱۹:‏۲ تک کوہِ سینا پر نہیں پہنچے تھے۔ ایک مفسر کا خیال ہے کہ یہ ترتیب‏، شریعت دیئے جانے کے لئے یہوواہ کے ساتھ ملاقات کے لگاتار بیان کے لئے راہ تیار کرنے کے لئے تھی۔ غالباً موسیٰ نے اپنی بیوی اور دو بیٹوں کو مدیان میں چھوڑ دیا تھا جب وہ واپس مصر کو گیا۔ اب یترو‏، صفورہ‏، جیرسوم اور الیعزر (‏میرا خدا میری مدد)‏ کو موسیٰ کے پاس بچھڑے ہوئے پر مسرت ملاپ کے لئے لاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یترو یہاں واحد حقیقی خدا پر ایمان لایا‏، گو کچھ علما کا خیال ہے کہ وہ پہلے سے ہی یہوواہ کا پرستار تھا۔ 

۱۸:‏۱۳۔۲۷ جب یترو نے دیکھا کہ لوگوں کے اِنصاف کے لئے موسیٰ کے پاس حد سے زیادہ کام ہے تو اُس نے اپنے داماد کو مشورہ دیا کہ وہ لائق اشخاص کو چن لے جو خدا ترس اور سچے اور رِشوت کے دشمن ہوں جو اِس کام میں اُس کی مدد کریں۔ یترو کا مشورہ تھا کہ وہ ہزار ہزار‏، سو سو ‏، پچاس پچاس اور دس دس آدمیوں پر حاکم بنا دے۔ اِس سے موسیٰ کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا اور کام بھی جلدی ہو جائے گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یترو کا مشورہ خدا کی طرف سے دیا گیا تھا کہ اپنے اِختیارات دوسروں کو تفویض کئے جائیں۔ بعض ایک کا یہ خیال ہے کہ خدا اپنا فضل دیئے بغیر لوگوں کو ذمہ داری نہیں سونپتا۔ اِس وقت تک خدا موسیٰ سے ایسے باتیں کرتا رہا‏، جیسے ایک دوست سے باتیں کرتا ہو‏، اُن کے درمیان کوئی تیسرا شخص نہ تھا۔ چنانچہ موسیٰ کو اپنے کام کو جاری رکھنا چاہئے تھا جب تک خدا خود دیگر اِنتظامات نہ کرتا۔ 

مقدس کتاب

۱ اور جو کچھ خُداوند نےمُوسیٰ اور اپنی قَوم اِسرائیل کے لئے کِیا اور جس طرح سے خُداوند نے اِسرائیل کو مصر سے نکالا سب مُوسیٰ کےسُسر یترو نےجو مِدیان کا کاہن تھا سُنا۔
۲ اور مُوسیٰ کے سسر یترو نے مُوسیٰ کی بیوی صفورہ کو جو میکے بھیج دی گئی تھی ۔
۳ اور اُسکے دونوں بیٹوں کو ساتھ لِیا ۔ اِن میں سے ایک کا نام مُوسیٰ نے یہ کہکر الیعز جیر سوم رکھا تھا کہ مَیں پر دیس میں مُسافر ہُوں۔
۴ اور دوسرے کا نام الیعزر یہ کہکر رکھا تھا کہ میرے باپ کا خُدا میرا مدد گار ہوا اور اُس نے مُجھے فرعون کی تلوار سے بچایا۔
۵ اور مُوسیٰ کا سسر یترو اُسکے بیٹوں اور بیوی کو لیکر مُوسیٰ کے پاس اُس بیابان میں آیا جہاں خُدا کے پہاڑکے پاس اُسکا ڈیرا لگاتھا ۔
۶ اور مُوسیٰ سے کہا کہ میں تیرا سسر یترو تیری بیوی کو اور اُسکے ساتھ اسکے دونوں بیٹوں کو لیکر تیرے پاس آیا ہوں۔
۷ تب مُوسیٰ اپنے سسر سے ملنے کو باہر نکلا اور کو رنش بجا لا کر اُسکو چُوما اور وہ ایک دوسرے کی خیروعافیت پُوچھتے ہوئے خَیمہ میں آئے ۔
۸ اور مُوسیٰ نے اپنے سسر کو بتایا کہ خُداوند نے اِسرائیل کی خاطر فرعون کے ساتھ کیا کیا کِیا اور اِن لوگوں پر راستہ میں کیا کیا مُصیبتیں پڑیں اور خُداوند اُنکو کس کس طرح بچاتا آیا ۔
۹ اور تیو ان سب اِحسانوں کے سبب سے خُداوند نے اِسرائیل پر کئے کہ اُنکو مصریوں کے ہاتھ سے نجات بخشی باغ باغ ہوا۔
۱۰ اور تیرونے کہا خُداوند مُبارک ہو جس نے تُمکو مصریوں کے ہاتھ اور فرعون کے ہاتھ سے نجات بخشی اور جس نے اس قوم کو مصریوں کے پنجہ سے چھڑایا۔
۱۱ اب میں جان گیا کہ خُداوند سب معبودوں سے بڑا ہے کیونکہ وہ اُن کاموں میں جو اُنہو ں نے غرورسے کئے اُن پر غالب ہُوا۔
۱۲ اور مُوسیٰ کے سسر تیرو نے خُدا کے لئے سوختنی قربانی اورذبیحے چڑھائے اور ہارون اور اِسرائیل کے سبب بزرگ مُوسیٰ کے سسر کے ساتھ خُدا کے حضور کھانا کھانے آئے ۔
۱۳ اور دوسرے دن مُوسیٰ لوگوں کی عدالت کرنے بیٹھا اور لوگ مُوسیٰکے آس پاس صُبح سے شام تک کھڑے رہے ۔
۱۴ اور جب مُوسیٰ کے سسر نے سب کچھ جو وہ لوگوں کے لئے کرتا تھا دیکھ لیا تو اُس سے کہا یہ کیا کام ہے جو تُو لوگوں کے لئے کرتا ہے ؟ تُو کیوں آپ اکیلا بیٹھتا ہے اور سب لوگ صُبح سےشام تک تیرے آس پاس کھڑے رہتے ہیں۔
۱۵ مُوسیٰ نے اپنے سسر سے کہا اِسکا سبب یہ ہے کہ لوگ میرے پاس خُدا سے دریافت کرنے کے لئے آتے ہیں۔
۱۶ جب اُن میں کُچھ جھگڑا ہوتا ہےتو وہ میرے پاس آتےہیں اور میں اُنکے درمیان اِنصاف کرتا اور خُداکےا حکاماور شریعت اُنکو بتاتا ہُوں۔
۱۷ تب مُوسیٰ کے سسر نے اُس سے کہا کہ تو اچھا کام نہیں کرتا ۔
۱۸ اِس سے تُو بلکہ یہ لوگ بھی جو تیرے ساتھ ہیں قطی گُھل جا ئینگے کیو نکہ یہ کام تیرے لئے بہت بھاری ہے۔ تُو اکیلا اِسے نہیں کر سکتا ۔
۱۹ سو اب تُو میری بات سُن ۔ میَں تُجھے صلاح دیتا ہوں اور خُدا تیرے ساتھ رہے ۔ تُو اِن لوگوں کے لئے خُدا کے سامنے جایا کر اور اِنکے سب معاملے خُدا کے پاس پہنچا دِیا کر ۔
۲۰ اور تُو رسوم اور شریعت کی باتیں اِنکو سِکھایا کر اور جس راستہ اِنکو چلنا اور ہر کام اِنکو کرنا ہو وہ اِنکو بتا یا کر۔
۲۱ اور تُو اِن لوگوں میں سے ایسےلالق اشخاص چُن لے جو خُدا ترس اور سچے اور رشوت کے دشمن ہوں اور اُنکو ہزار ہزار اور سو سو اور پچاس پچاس اور دس دس آدمیو ں پر حاکم بنا دے۔
۲۲ کہ وہ ہر وقت لوگوں کا اِنضاف کِیا کریں اور اَیسا ہو کر بڑے بڑے مقدمے تو وہ تیرے پاس لائیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا فیصلہ حُود ہی کر دِیا کریں۔ یُوں تیرا بوجھ ہلکا ہو جا ئیگا اور وہ بھی اُسکے اُٹھانے میں تیرے شریک ہونگے ۔
۲۳ اگر تُو یہ کام کرے اور خُدا بھی تُجھے ایسا ہی حکم دے تو تُو سب کچھ جھیل سکیگا اور یہ لوگ بھی اپنی جگہ اطمینان سےجا ئینگے ۔
۲۴ اور مُوسیٰ نے اپنے سسر کی بات مانکر جیسا اُس نے بتایا تھا ویسا ہ ہی کیا ۔
۲۵ چُنانچہ مُوسیٰ نے سب اِسرائیلیوں میں سے لا لق اشخاص چُنے اور اُنکو ہزار ہزار اور سو سو اور پچاس پچاس اور دس دس آدمیوں کے اوپر حاکم مُقرر کیا ۔
۲۶ سو یہی ہر وقت لوگوں کا اِنضاف لگے ۔ مشکل مقدمات تو وہ موسیٰ کے پاس لے آتے تھے پر چھوٹی چھوٹی باتوں کا فیصلہ خُود ہی کر دیتے تھے ۔
۲۷ پھر موسیٰ نے اپنے سسر کو رخصت کیا اور وہ اپنے وطن کو روانہ ہو گیا ۔