خُروج ۱۳

۱۳:‏۱۔۱۵ خدا نے مصر میں اِسرائیلیوں کے پہلوٹھوں کو موت سے بچایا تھا۔ چنانچہ اِنسان اور حیوان کے پہلوٹھے خداوند کے لئے مخصوص کئے گئے یعنی وہ خدا کی ملکیت تھے۔ اِس سے قبل کہ بعد ازاں لاوی کے قبیلے کو اِس خدمت کے لئے مخصوص کیا گیا پہلوٹھے خدا کے کاہن بن گئے۔ پاک جانوروں کے پہلوٹھوں کو ایک سال کے اندر خداوند کے لئے قربان کرنا تھا۔ ناپاک جانوروں مثلاً گدھے کے پہلوٹھے کی قربانی نہیں دی جا سکتی تھی۔ چنانچہ برّے کی موت سے اُس کا فدیہ دینا تھا‏، یعنی برّے کو اُس کی جگہ مرنا تھا۔ اگر گدھے کا فدیہ نہ دیا جاتا تو اُس کی گردن مروڑ ڈالنا تھا۔ یہاں مخلصی اور تباہی میں اِنتخاب تھا۔ بعد ازاں یہ گنجائش دی گئی کہ گدھے کا فدیہ روپے کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے (‏احبار ۲۷:‏۲۷؛ گنتی ۱۸:‏۱۵)‏۔ پہلوٹھا بچہ چونکہ گناہ میں پیدا ہوا‏، اُسے بھی پانچ مثقال کے زرِ فدیہ سے مخلصی دلانا پڑتی تھی (‏گنتی ۱۸:‏۱۶)‏۔ یہ اِس اَمر کی یاد دہانی تھی کہ خدا کی نظر میں اِنسان کی اخلاقی طور پر ناپاک حالت ہے۔ 

جیسے پہلوٹھے کی تقدیس خدا کے لئے مخصوصیت کو ظاہر کرتی تھی‏، بعینہٖ بے خمیری روٹی کی عید اخلاقی پاکیزگی کو ظاہر کرتی تھی جس کی مخلصی یافتہ لوگوں سے توقع کی جاتی تھی۔ سات دن تک لوگوں کو بے خمیری روٹی کھانا تھی‏، اور اُنہیں حکم دیا گیا تھا کہ اُن کے گھروں میں بالکل خمیر نہ ہو۔ پہلوٹھے کی تقدیس اور بے خمیری روٹی کی عید میں آنے والی نسلوں کے لئے تمثیلی اسباق تھے کہ کس طرح خدا نے اپنے لوگوں کو مصر سے رِہائی دلائی۔ 

۱۳:‏۱۶ بعد ازاں یہودیوں نے آیات ۹ اور ۱۶ کی لفظی طور پر پیروی کی اور خدا کے کلام کی آیات کو تعویذوں میں بند کر کے اُنہیں اپنی پیشانیوں اور کلائیوں پر باندھتے تھے۔ لیکن اِس کے روحانی معانی یہ ہیں کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں (‏ہاتھ سے )‏ اور جن باتوں کی ہم خواہش (‏آنکھوں سے)‏ کرتے ہیں وہ خدا کے کلام کے مطابق ہو۔ 

۱۳:‏۱۷۔۲۰ مصر سے کنعان کو جانے کے لئے سیدھا راستہ فلستیوں کے ملک سے ہے۔ یہ ساحلی سڑک یعنی شاہراہِ ہورس (‏Horus)‏ سے دو ہفتوں کا سفر ہے۔ لیکن اِس پر بہت زیادہ آمد و رفت تھی اور یہ مسلسل مصری فوجوں کی زیر نگرانی تھی۔ خدا نے اپنے لوگوں کو حملے اور اِس سے پیدا ہونے والی دل شکنی سے بچانے کے لئے جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی راستے کو اِختیار کرنے کی ہدایت کی۔ بنی اِسرائیل کو بڑے منظم طریقے سے لے جایا گیا۔ یوسف کے ساتھ قسم کھانے کے سبب سے وہ اُس کی ہڈیوں کو اپنے آبائی ملک کنعان کو لیتے گئے۔ ایک مفسر لکھتا ہے:‏ 

’’اِسرائیل کے لئے جو سمندر دو ٹکڑے کیا گیا اُسے بائبل میں ’یام سُوف‘ کہا گیا ہے جس کا لغوی مطلب ہے ’سرکنڈوں کاسمندر‘ (‏خروج۱۳:‏۱۸)‏۔ جس علاقے کو اَب کڑوی جھیلوں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے‏، ممکن ہے کہ قدیم ایام میں وہ بحرِ قلزم کے ساتھ منسلک تھا۔ یوں ’سرکنڈوں کا سمندر‘ بعد ازاں بحرِقلزم کہلایا۔ بحرِ قلزم کو پار کرنے کی جگہ کے بارے میں بہت سے نظریات ہیں‏، لیکن اِن میں سے کسی کو مستند قبولیت حاصل نہیں ہوئی۔‘‘ 

۱۳:‏۲۱‏، ۲۲ خدا کی اپنے لوگوں میں حضوری کا اِظہار دن کے وقت بادل کے ستون اور رات کے وقت آگ کے ستون سے ہوتا تھا۔ میتھیو ہنری کے خیال کے مطابق یہ ’’مسلسل موجود معجزات‘‘ تھے۔ اِس جلالی بادل کو عبرانی میں ’’شکینہ‘‘ کہا جاتا تھا جس کا مطلب ہے سکونت کرنا (‏یہ عبرانی اور عربی مصدر ’’سکن‘‘ سے مشتق ہے)‏۔ ستون سے خدا کی اپنے لوگوں کے لئے راہنمائی اور اُن کے دشمنوں سے تحفظ کا اِظہار ہوتا تھا (‏خروج ۱۴:‏۱۹‏،۲۰)‏۔ اِن دونوں صورتوں میں یہ خداوند یسوع مسیح کی بہت اچھی تصویر ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ اور خُداوند نے مُوسیٰ کو فرمایا کہ ۔
۲ سب پہلوٹھوں کو یعنی جو بنی اِسرائیل میں خواہ اِنسان ہو خواہ حیوان پہلوٹھی کے بچے ہوں اُنکو میرے لئے مُقدس ٹھہراکیونکہ وہ میرے ہیں۔
۳ اور مُوسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تُم اِس دِن کو یاد رکھنا جس میں تُم مصر سے جو غلامی کا گھر ہے نکلے کیونکہ خُداوند اپنے زورِ بازو سے تُم کو وہاں سے نکال لایا ۔اس میں خمیری روٹی کھائی نہ جائے ۔
۴ تُم ابیب کے مہینے میں آج کے دن نکلے ہو ۔
۵ سو جب خُداوند تجھ کو کِنعانیوں اور حِتّیوں اور اموریوں اور حویوں اور یبوسیوں کے ملک میں پہنچا دے جسے تُجھ کو دینے کی قسم اُس نے تیرے باپ دادا سے کھائی تھی اور جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے تو تُو اِسی مہینے میں یہ عبادت کیا کرنا ۔
۶ سات دن تک تو تُو بے خمیری روٹی کھانا اور ساتوٰیں دن خُداوند کی عید منانا ۔
۷ بے خمیری روٹی ساتوں دن کھائی جائے اور خمیری روٹی تیرے پاس دکھائی بھی نہ دے اور نہ تیرے مُلک کی حدود میں کہیں کچھ خمیر نظر آئے ۔
۸ اور تُو اُس روز اپنے بیٹے کو یہ بتانا کہ اس دن کو میں اس کام کے سبب سے مانتا ہوں جو خُداوند نے میرے لئے اُس وقت کیا جب میں مُلک مصِر سے نکلا ۔
۹ یہ ہی تیرے پاس گویا تیرے ہاتھ میں ایک نشان اور تیری دونوں آنکھوں کہ سامنے ایک یادگار ٹھہرے تاکہ خُداوند کی شریعت تیری زبان پر ہوکیونکہ خُداوند نے تجھ کو اپنے زورِبازو سے ملک مصر سے نکلا ۔
۱۰ پس تُو اِس رسم کو اِسی وقت مُعیِّن میں سال بسال ماناکرنا۔
۱۱ اور جب خُداوند اُس قَسم کے مُطابق جو اُس نے تجھ سے اور تیرے باپ دادا سے کھائی تُجھ کو کنعانیوں کے مُلک میں پہنچا کر وہ مُلک تُجھکو دے دے ۔
۱۲ تو تُو پہلوٹھی کے بچوں کو اور جانوروں کے پہلوٹھوں کو خُداوند کےلئے الگ کر دینا ۔ سب نر بچے خُداوند کے ہونگے ۔
۱۳ اور گدھے کے پہلے بّچے کے فِدیہ میں بّرہ دینا اور اگر تُو اُسکا فدیہ نہ دے تو اُسکی گردن توڑڈالنا اور تیرے بیٹوں میں جتنے پہلوٹھے ہوں اُن سب کا فدیہ تُجھ کو دینا ہوگا ۔
۱۴ اور جب آیندہ زمانہ میں تیرا بیٹا تُجھ سے سوال کرے کہ یہ کیا ہے ؟تو تُو اُسے یہ جواب دینا کہ خُداوند ہمکو مصر سےجو غلامی کا گھر ہے بزورِبازُو نکال لایا ۔
۱۵ اور جب فرعون نے ہمکو جانے دینا نہ چاہا تو خُداوند نے مُلِک مصر میں اِنسان اور حیوان دونوں کے پہلوٹھے مار دِئے اِسلئے میں جانوروں کے سب نر بچّوں کو اپنی اپنی ماں کے رِحم کو کھولتے ہیں خُداوند کے آگے قُربانی کرتا ہُوں لیکن اپنے بیٹوں کے سب پہلوٹھوں کا فدیہ دِیتا ہوں ۔
۱۶ اور یہ تیرے ہاتھ پر ایک نشان اور تیری پیشانی پر ٹیکوں کی مانند ہوں کیونکہ خُداوند اپنے زورِبازو سے ہمکو مصر سے نِکال لایا۔
۱۷ اور جب فرعون نے اُن لوگوں کو جانے کی اِجازت دے دی تو خُدا انکو فلستیوں کے مُلک کے راستہ سے نہیں لے گیا اگرچہ اُدھر سے نزدِیک پڑتا کیونکہ خُدا نے کہا اَیسا نہ ہو کہ یہ لوگ لڑائئ بھڑائی دیکھ کر پچھتا نے لگیں اور مصر کو لوٹ جائیں ۔
۱۸ بلکہ خُدا اِنکو چکّر کھِلا کر بحِر قلزم کے بیابان کے راستہ سے لے گیا اور بنی اِسرائیل مُلِکمصر سے مُسلّح نکلے تھے ۔
۱۹ اور مُوسیٰ یُوسُف کی ہڈیوں کو ساتھ لیتا گیا کیو نکہ اُس نے بنی اِسرائیلسے کہکر کہ خُدا ضرور تُمہاری خبر لیگا اِس بات کی سخت قسم لے لی تھی کہ تُم یہاں سے میری ہڈیاں اپنے ساتھ لیتے جانا۔
۲۰ اور اُنہوں نے سکات سے کُوچ کر کے بیابان کے کنارے ایتام میں ڈیرا کیا۔
۲۱ اور خُداوند اُنکودِن کو راستہ دِکھانے کے لئے ستُون میں اور رات کو روشنی دینے کے لئے آگ کے ستُون میں ہو کر اُنکے آگے چلاکر تا تھا تاکہ وہ دِن اور رات دونوں چل سکیں ۔
۲۲ وہ بادل کا ستُون دِن کو اور آگ کا ستُون رات کو اُن لوگوں کے آگے ہٹتا نہ تھا۔