خُروج ۲۰

ب۔ دس احکام (‏باب ۲۰)‏

خداوند یسوع مسیح نے دس احکام کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصہ یہ تھا کہ خدا سے محبت کی جائے اور دوسرے حصے میں پڑوسی سے محبت کی تعلیم دی گئی ہے (‏متی ۲۲:‏۳۷۔۴۰)‏۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پہلے چار احکام میں خدا سے محبت کی تعلیم دی گئی ہے‏، جب کہ بعض پانچویں حکم کو بھی اِس میں شامل کرتے ہیں کیونکہ ’’خداوند اپنے خدا‘‘ کے الفاظ پہلے پانچ احکام میں پائے جاتے ہیں۔ 

۱

۲۰ :‏۱۔۳ ’’غیر معبودوں کو نہ ماننا‘‘۔ اِس میں دیوتاؤں کی پرستش کی ممانعت کی گئی ہے۔ سوائے یہوواہ کے کسی اَور معبود کی پرستش نہ کی جائے۔ 

۲

۲۰:‏۴۔۶ ’’تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔‘‘ نہ صرف بتوں کی پرستش بلکہ اُنہیں بنانے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔ اِس میں تصویریں‏، تشبیہیں اور بت شامل ہیں جو عبادت میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ اِس میں ہر طرح کی تصویریں اور بت شامل نہیں کیونکہ خیمۂ اجتماع میں کھدے ہوئے کروبی بنائے گئے تھے۔ اور خدا نے موسیٰ کو پتیل کا سانپ بنانے کا حکم دیا (‏گنتی ۲۱:‏۸)‏۔ بلاشبہ اِس حکم میں یہ بتایا گیا ہے کہ کسی تصویر یا شبیہ کو معبود کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ 

خدا غیور خدا ہے۔ وہ اپنے لوگوں کی پرستش اور محبت کی غیرت رکھتا ہے۔ وہ موروثی کمزوریوں‏، غربت‏، بیماریوں اور کوتاہ زندگی سے اُن کی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہے۔ اور ہزاروں (‏پشتوں)‏ پر جو اُس سے محبت رکھتے اور اُس کے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہے۔ 

۳

۲۰ :‏۷ خدا کا نام بے فائدہ لینا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اِس کا یہ مطلب ہے کہ کسی غلط بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے خدا کے نام کی قسم کھانا۔ اِس میں دین کی بے حرمتی‏، لعنت کرنا‏، منتوں کو پورا نہ کرنا‏، اور وعدے کو سچا ثابت کرنے کے لئے قسم کھانا اور اُسے پورا نہ کرنا بھی شامل ہے۔ 

۴

۲۰:‏۸۔۱۱ ’’ تُوسبت کا دن پاک ماننا۔‘‘ سب سے پہلے اِس کا ذکر پیدائش ۲:‏۱۔۳ میں ہے اور اِس کا مَنّ کے ساتھ بھی ذکر کیا گیا ہے (‏پیدائش ۱۶ باب)‏۔ لیکن اب باقاعدہ طور پر بنی اِسرائیل کو سخت پابندی کے لئے دیا گیا۔ یہ آرام کی تصویر ہے۔ ایمان دار اب مسیح میں اِس آرام سے روحانی طور پر مستفید ہوتے ہیں۔ اور مخلوقات ہزار سالہ بادشاہت میں اِس سے مستفید ہو گی۔ سبت ہفتے کا ساتواں دن ہے جو جمعہ کو غروبِ آفتاب سے شروع ہو کر ہفتے کو غروبِ آفتاب تک رہتا ہے۔ نئے عہدنامے میں مسیحیوں کو کہیں بھی سبت کی پابندی کا حکم نہیں دیا گیا۔ 

۵

۲۰:‏۱۲ ’’ تُو اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا‘‘۔ عزت کا مطلب ہے فرماں برداری کرنا۔ اِس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ والدین کی فرماں برداری کی زندگی ایک ایسی زندگی ہے‏، جو عمومی طور پر طویل زندگی کی ضمانت دیتی ہے۔ نافرمانی اور گناہ کی زندگی اکثر قبل از وقت موت کا باعث بنتی ہے۔ یہ پہلا حکم ہے جس کے ساتھ ایک وعدہ منسلک ہے (‏افسیوں ۶:‏۲)‏۔ اِس میں اِختیار کے احترام کی بھی تعلیم دی گئی ہے۔ 

۶

۲۰:‏۱۳ ’’ تُو خون نہ کرنا۔‘‘ اِس حکم میں سزائے موت نہیں بلکہ قتل منع کیا گیا ہے۔ اِس حکم میں اِنسانی زندگی کے احترام کی تاکید کی گئی ہے۔

۷

۲۰:‏۱۴ ’’ تُو زِنا نہ کرنا۔‘‘ اِس ممانعت میں ازدواجی زندگی کے احترام پر زور دیا گیا اور اِس میں دوسرے کے بدن کو بے حرمت کرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔ اِس میں ہر طرح کا ناجائز جنسی رویہ اور عمل شامل ہے۔ 

۸

۲۰:‏۱۵ ’’ تُوچوری نہ کرنا۔‘‘ اِس کا مطلب ہے ہر وہ عمل جس سے کسی کو ناجائز طور پر اُس کی جائیداد سے محروم کیا جائے۔ اِس میں نجی جائیداد کے احترام کی تعلیم دی گئی ہے۔ 

۹

۲۰:‏۱۶ ’’ تُو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا۔‘‘ اِس حکم میں کسی دوسرے شخص کے کردار کے بارے میں ایسے بیانات دینے سے منع کیا گیا ہے جو صحیح نہ ہوں اور جن کی بنا پر کسی شخص کو ممکن ہے کہ سزا یا سزائے موت دی جائے۔ اِس میں اچھے شخص کی نیک نامی کے احترام کی تاکید کی گئی ہے۔ 

۱۰

۲۰:‏۱۷ ’’ تُو … لالچ نہ کرنا۔‘‘ دسویں حکم میں عمل کی نسبت اِنسانی سوچ کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ اِس سے ظاہر ہے کہ کسی ایسی چیز کی خواہش کرنا جو خداوند کسی کو نہیں دینا چاہتا‏، گناہ ہے۔ پولس بیان کرتا ہے کہ اِس حکم نے اُس کی زندگی میں گناہ کی گہری قائلیت پیدا کی۔

۲۰:‏۱۸۔۲۱ دس احکام کے دیئے جانے کے بعد لوگ خدا کی حضوری سے خوف زدہ ہو گئے۔ وہ ڈرتے تھے کہ اگر خدا نے براہِ راست اُن سے کلام کیا تو وہ مر جائیں گے‏، چنانچہ موسیٰ اُن کا درمیانی بن گیا۔ 

۲۰:‏۲۲۔۲۶ موسوی شریعت کا مطلب یہ تھا کہ خدا لوگوں پر اُن کی گنہگار حالت کو ظاہر کرے۔ اِس کے بعد خدا نے اپنی محبت سے اُنہیں قربان گاہ بنانے کی ہدایات دیں‏، اور اُن کو یاد دلایا کہ گنہگار صرف بہائے ہوئے لہو کی بنیاد پر خدا کے پاس آ سکتے ہیں۔ قربان گاہ مسیح کی یاد دلاتی ہے جو خدا کے پاس آنے کا راستہ ہے۔ اِنسان مسیح کی کاملیت میں اپنی شخصی کاوِشوں‏، یا اِنسانی حصولات کی سیڑھیوں سے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔ ممکن ہے کہ لمبے لباس میں سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے کاہن برہنہ ہو جائے جو اِس سنجیدہ موقعے کے لئے نامناسب ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ اور خُدا نے یہ سب باتیں اُنکو بتائیں۔ ۔
۲ خُداوندتیرا خُدا جو تُجھے مُلِک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہُوں۔
۳ میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا ۔
۴ تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مُورت نہ بنا نا ۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔
۵ تو اُنکے آگے سجدہ نہ انکی عبادت کرنا کیونکہ میں خُداوند تیرا خُدا غیور خُدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں انکی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں ۔
۶ اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں ۔
۷ تو خُداوند اپنے خُدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ جو اسکا نام بے فائدہ لیتا ہے خُداوند اسے بے گناہ ٹھہرائیگا۔
۸ یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا ۔
۹ چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا ۔
۱۰ لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرابیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو۔
۱۱ کیونکہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دن آرام کیا اسلئے خُداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا۔
۱۲ تو اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا تاکہ تیری عمر اس مُلِکک میں جو خُداوند تیرا خُدا تُجھے دیتا ہے دراز ہو ۔
۱۳ تو خُون نہ کر ۔
۱۴ تُو زِنانہ کر۔ّ
۱۵ تُو چوری نہ کر۔
۱۶ تو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی دینا ۔
۱۷ تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا ۔ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اسکے غلام اور اسکی لونڈی اور اسکے بیل اور اسکے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا ۔
۱۸ اور سب لوگوں نے بادل گرجتے اور بجلی چمکتے اور قرناکی آواز ہوتے اور پہاڑ سے دھواں اُٹھتے دیکھا اور جب لوگوں نے دِیکھا تو کانپ اُٹھے اور دور کھٹرے ہوگئے ۔
۱۹ اور مُوسیٰ سے کہنے لگے تُو ہی ہم سے باتیں کیا کر اور ہم سن لیا کریں گے لیکن خُدا ہم سے باتیں نہ کرے تانہ ہو کہ ہم مر جائے ۔
۲۰ مُوسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تم ڈرو مت کیو نکہ خُدا اس لئے آیا ہے کہ تمہارا امتحان کرے اور تم کو اُس کا خوف ہو تاکہ تم گناہ نہ کرو ۔
۲۱ اور وہ لوگوں دور ہی کھڑے رہے اور مُوسیٰ اُس گہری تاریکی کے نزدیک گیا جہاں خُدا تھا۔
۲۲ اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا تُو بنی اِسرائیل سے یہ کہنا کہ تُم نے خود دِیکھاکہ میں نے آسمان پر سے تمہارے ساتھ باتیں کیں۔
۲۳ تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا یعنی چاندی یا سونے کے دیوتا اپنے لئے نہ گھڑلینا ۔
۲۴ اور تو مٹی کی ایک قربانگاہ میرے لئے بنایا کرنا اور اُس پر اپنی بھیڑ بکریوں اور گائے بیلوں کی سوختنی قربانیاں اور سلامتی کی قربانیاں چڑھنا جہاں جہاںمیں اپنے نام کی یاد گاری کراؤنگا وہاں میں تیرے پاس ؤکر تجھے برکت دونگا ۔
۲۵ اور اگر تُو میرے لئے پتھر کی قربانگاہ بنائے تو تراشے ہوئے پتھر سے بنانا کیونکہ اگر تو اس پر اپنے اوزار لگائے تو تُو اسے ناپاک کر دیگا۔
۲۶ اور تُو اُس پرسیڑھیو ں سے ہر گز نہ چڑھناتانہ ہو کہ تیری برہنگی اُس پر ظاہر ہو۔