د۔ بت پرستی کا اچانک پھوٹ پڑنا (ابواب ۳۲،۳۳)
(۱) سونے کا بچھڑا (۳۲:۱۔۱۰)
جب موسیٰ کو لوگوں کے پاس واپس آنے میں دیر ہو گئی، تو اُنہوں نے ہارون سے کہا کہ وہ اُنہیں ایک بت بنا دے۔ اُس نے بڑی عاجزی سے اُن کی ہاں میں ہاں ملا کر اُن کی سونے کی بالیوں کو بچھڑے کے رُوپ میں ڈھال دیا اور یہ ایک ایسا عمل تھا جسے واضح طور پر ممنوع قرار دیا گیا تھا (خروج ۲۰:۴)۔ تب اُنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی، اُنہوں نے کھایا پیا اور کھیل کود میں لگ گئے۔ وہ ایک بچھڑے کی صورت میں (آیت ۵) خداوند کی پرستش کر رہے تھے۔ جب خداوند کے لوگوں نے مصر کو چھوڑا تو اُس نے اُنہیں سونے کی برکت دی (خروج ۱۲:۳۵،۳۶)، لیکن لوگوں کے گناہ آلودہ دِلوں کے باعث یہ برکت لعنت میں تبدیل ہو گئی۔ خدا نے موسیٰ کو بتایا کہ پہاڑ کے دامن میں کیا ہو رہا ہے (آیات ۷،۸) اور اِس قوم کو برباد کرنے کی دھمکی دی (آیات ۹، ۱۰)۔
(۲) شفاعت اور موسیٰ کا غصہ (۳۲:۱۱۔۳۵)
۳۲:۱۱۔۱۳ اپنے جواب میں موسیٰ بائبل کے ایک عظیم شافع کی حیثیت سے نظر آتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ وہ کس قدر زور دار دلیل استعمال کرتا ہے۔ لوگ خدا کے لوگ تھے (آیات ۱۱،۱۲)۔ خدا نے اُن پر اِس قدر مہربانی کی کہ اُس نے اُنہیں مصر سے رہائی دلائی (آیت ۱۱)۔ مصری بڑے فخر سے دیکھیں گے جو کچھ خدا اپنے لوگوں کے لئے کر رہا تھا، جو کہ مصری کرنے سے قاصر رہے تھے(آیت۱۲)۔ خدا نے بزرگوں سے عہد باندھے تھے، لازم تھا کہ وہ اُن میں سچا ٹھہرے۔
۳۲:۱۴ ’’تب خداوند نے اُس بُرائی کے خیال کو چھوڑ دیا‘‘ (آیت ۱۴)۔ اِس سیاق و سباق میں لفظ ’’ بُرائی‘‘ کا مطلب ہے سزا دینا۔ موسیٰ کی سفارش کے جواب میں خدا نے اُس سزا کے خیال کو چھوڑ دیا، جو وہ اپنے لوگوں کو دینا چاہتا تھا۔
۳۲:۱۵۔۲۰ موسیٰ شہادت کی لوحیں لئے پہاڑ سے نیچے اُترا۔ راستے میں وہ یشوع سے ملا۔ جب وہ لوگوں کے پاس آیا تو وہ بڑے جذباتی انداز سے بت پرستی کا جشن منا رہے تھے۔ جائز غصے سے اُس نے شریعت کی لوحوں کو پٹک کر توڑ ڈالا۔ اُس نے سونے کے بچھڑے کو آگ میں جلایا۔ پھر اُسے باریک پیس کر پانی پر چھڑکا اور لوگوں کو پلوایا (آیت ۲۰)۔ شاید یہ اِس بات کی علامت ہے کہ گناہ تلخ اور کڑوی دوا کی طرح ہمارے پاس واپس آتا ہے۔
۳۲:۲۱۔۲۴ جب موسیٰ نے ہارون سے اِس سارے معاملے کے بارے میں پوچھا جس کے لئے وہ سزا کے مستحق تھے تو اُس نے اِس طرح ظاہر کیا گویا کہ سونے کا بچھڑا بڑے پُراسرار طریقے سے خود بہ خود بن گیا ہو (آیت ۲۴)۔ صرف موسیٰ کی شفاعت پر خداوند نے ہارون کو نہ مارا (اِستثنا ۹:۱۹،۲۰)۔
۳۲:۲۵۔۲۹ کچھ لوگ ابھی تک بے قابو تھے۔ جب موسیٰ نے وفادار پیروکاروں کو بلایا تو لاوی کے قبیلے نے اِس بلاہٹ کا اثبات میں جواب دیا اور ’’بے قابو‘‘ لوگوں کو تلوار سے قتل کیا۔ حتیٰ کہ قریبی ساتھیوں اور رِشتہ داروں کو نہ بخشا (آیات ۲۵۔۲۹)۔ یہاں شریعت کو توڑنے کے سبب سے تین ہزار لوگ موت کے گھاٹ اُتار دیئے گئے۔ پنتکست کے دن فضل کی خوش خبری نے تین ہزار لوگوں کو نجات دی۔ یہ لاویوں کی وفاداری تھی جس کے سبب سے اُنہیں کہانت کی خدمت کے لئے چنا گیا (آیت ۲۹)۔
۳۲:۳۰ ۔۳۵ موسیٰ خداوند سے ملنے کے لئے پہاڑ پر واپس گیا۔ اُس کا خیال تھا کہ شاید وہ لوگوں کے گناہ کا کفارہ دے سکے (آیات ۳۰۔۳۲)۔ خداوند کے جواب کے دو پہلو تھے۔ اوّل کہ وہ اُن لوگوں کو سزا دے گا جنہوں نے بچھڑا بنایا (اُس نے اِس سزا کے طور پر اُن میں مری بھیجی۔ آیت ۳۵)۔ دوم، جب موسیٰ ملکِ موعود میں اپنے لوگوں کو لے کر جائے گا تو وہ موسیٰ کے آگے آگے اپنا فرشتہ بھیجے گا۔ آیت ۳۲ میں موسیٰ کا نہایت درخشاں کردار نظر آتا ہے __ وہ اپنے لوگوں کی خاطر مرنے کو تیار تھا۔ ’’میرا نام کتابِ حیات میں سے مٹا دے۔‘‘ یہ ایک تمثیلی انداز تھا جس سے وہ یہ کہہ رہا تھا، ’’میری زندگی کو ختم کر دے۔‘‘ خدا نے موسیٰ کی جان تو بچا لی، لیکن اُس نے اپنے پیارے بیٹے کی جان نہ بچائی۔ کون ہمارے خداوند کی مانند ہے جو راست باز تھا، لیکن ناراستوں کے لئے موا!
مقدس کتاب
۱ اور جب لوگوں نے دِیکھا کہ مُوسیی نے پہاڑ سے اُتر نے میں دیر لگائی تو وہ ہارُون کے پاس جمع ہو کر اُس سے کہنے لگے کہ اُٹھ ہمارے لئے دیوتا بنا دے جو ہمارے آگے آگے چلے کیو نکہ ہم نہیں جانتے کہ اِس مرد مُوسیٰ کو جو ہم کو مُلکِ مصر سے نکا لکر لایا کیا ہو گا ۔
۲ ہارُون نے اُن سے کہا تُمہاری بیویوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں اُنکو اُتار کر میرے پاس لے آؤ۔
۳ چُنانچہ سب لوگ اُنکے کانوں سئ سونے کی بالیا ں اُتا ر اُتار کر اُنکو ہارُون کے پاس لے آئے ۔
۴ اور اُس نے اُنکو اُنکے ہاتھوں سے لیکر ایک ڈھالا ہوا بچھڑا بنا یا جس کی صُورت چھَینی سے ٹھیک کی ۔ تب وہ کہنے لگے اَے اِسرائیل یہی تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو ملکِ مصر سے نکا لکر لایا ۔
۵ یہ دِیکھ کہ ہارُون نے اُسکے آگے ایک قُربانگاہ بنائی اور اُس نے اِعلان کر دیا کہ کل خُداوند کے لئے عید ہو گی ۔
۶ اور دُوسرے دِن صُبح سویرے اُٹھکر اُنہوں نے قُربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قُر بانیاں گُذرانیں۔ پھر اُن لوگوں نے بیٹھ کر کھایا پِیا اور اُٹھ کر کھیل کُود میں لگ گئے ۔
۷ تب خُداوند نے موُسیٰ کو کہا نیچے جا کیو نکہ تیرے لوگ جنکو تُو مُلکِ مصِر سے نکال لایا بگڑ گئے ہیں ۔
۸ وہ اُس راہ سے جسکا مَیں نے اُنکو حُکم دیا تھا بہت جلد پھر گئے ہین ۔ اُنہوں نے اپنے لئے ڈھالا ہوا بچھڑا بنا یا اور اُسے پُو جا اور اُسکے لئے قُر بانی چڑھا کر یہ بھی کہا کہ اے اسرِائیل یہ تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو مُلک مصر سے نکا ل کر لایا ۔
۹ اور خُداوند نے موسیٰ سے کہا مَیں اِس قُوم کو دِیکھتا ہُو ں کہ یہ گردن کش قوم ہے ۔
۱۰ اِسلئے تُو مُجھے اب چھوڑ دے کہ میرا غضب ساُن پر بھڑکے اور مَیں اُنکو بھسم کردُوں ااور مَیں تجھے ایک بڑی قوم بناؤنگا ۔
۱۱ تب موسیٰ نے خُداوند اپنے خُدا کے آگے سمنت کر کے کہا اَے خُداوند کیوں تیرا غضب اپنے لوگوں پر بھڑکتا ہے جنکو تُو قُوتِ عظیم اور دستِ قوی سے مُلکِ مصِر سے نکال کر لایا ہے ۔
۱۲ مصِر لوگ یہ کیوں کہنے پائیں کہ وہ اُنکو بُرائی کے لئے نکال لے گیا تاکہ اُنکو پہاڑوں میں مار ڈالے اور اُنکو رُوی زمین پر سے فنا کر دے ؟ سو تُو اپنے قہر و غضب سے باز رہ اور اپنے لوگو ں سے اِس بُرائی کرنے کے خیال کو چھوڑ دے ۔
۱۳ تُو اپنے بندوں ابرہام اور اِضحاق اور یعقوب کو یاد کر جن سئ تُو نے اپنی ہی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ مَیں تُمہاری نسل کو آسمان کے تاروں کی مانند بڑھاؤنگا اور یہ سارا مُلک جسکا مَیں نے ذکر کیا ہے تُمہاری نسل کو بخشونگا کہ وہ سدا اُسکے مالک رہیں ۔
۱۴ تب خُداوند نے اپس بُرائی کے خیال کو چھوڑ دیا جو اُس نے کہا تھا کہ اپنے لوگوں سے کر یگا ۔
۱۵ اور موسیٰ شہادت کی دونوں لَوحیں ہاتھ میں لِئے ہو ئے اُلٹا پھرا اور پہاڑ سے نیچے اُترا اور وہ لَوحیں اِدھر سے اور اُدھر سے دونوں طرف سے لکھی ہو ئی تھیں ۔
۱۶ اور وہ لَوحیں خُدا ہی کی بنائی ہوئی تھیں اور جو لکھا ہوا تھا وہ بھی خُدا کا ہی لکھا اور اُن پر کندہ کیا ہوا تھا ۔
۱۷ اور جب یشوع نے لوگوں کی للکار کی آواز سُنی تو موسیٰ سے کہا کہ لشکر گاہ میں لڑائی کا شور ہو رہا ہے ۔
۱۸ موسیٰ نے کہا یہ آواز نہ تو فتمندوں کا نعرہ ہے نہ مغلُوبوںکی فریاد بلکہ مجھے تو گانے والوں کی آواز سُنائی دیتی ہے ۔
۱۹ اور لشکر گاہ کے نزدیک آکر اُس نے وہ بچھڑا اور اُنکا ناچنا دیکھا ۔ تب موسیٰ کا غضب بھڑکا اور اُس نے اُن لُوحوں کو اپنے ہاتھوں میں سے پٹک دیا اور اُنکو پہاڑ کے نیچے توڑ ڈالا ۔
۲۰ اور اُس نے اُس بچھڑے کو جِسے اُنہوں نے بنایا تھا لیا اور اُسکو آگ میں جلایا اور اُسے باریک پیس کر پانی پر چھڑکا اور اُسی میں سے بنی اسرائیل کو پلوایا ۔
۲۱ اور موسیٰ نے ہارُون سے کہا کہ اِن لوگوں نےتیرے ساتھ کیا کیِاتھا جو تُو نے اُنکو اِتنے بڑے گناہ مین پھنسا دیا ۔
۲۲ ہارُون نے کہا کہ میرے مُلک کا غضب نہ بھڑکے ۔ تُو اِن لوگوں کو جانتا ہے بدی پر تُلے رہتے ہیں ۔
۲۳ چنانچہ اِنہی نے مجھے کہا کہ ہمارے لئے دیوتا بنا دے جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اِس آدمی موسیٰ کو جو ہمکو مُلک مصر سے نکال کر لایا کیا ہو گیا۔
۲۴ تب مَیں اِن سے کہا کہ جس جس کے ہاں سونا ہو وہ اُسے اُُتار لائے ۔ پس اِنہو ں نے اُسے مجھ کو دیا اور مَیں نے اُسے آگ میں ڈالا تو یہ بچھڑا نکل پڑا ۔
۲۵ جب موسیٰ نے دیکھا کہ لوگ بے قابو ہو گئے کیونکہ ہارُون نے اُنکو بے لگام چھوڑ کر اُنکو اُنکے دُشمنوں کے درمیان ذلیل کر دیا ۔
۲۶ تو موسیٰ نے لشکرگاہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا جو خُداوند کی طرف ہے وہ میرے پاس آجائے ۔ تب سب بنی لا وی اُسکے پاس جمع ہو گئے ۔
۲۷ اور اُس نے اُن سے کہا کہ خُداوند اِسرائیل کا خُدایُوں فرماتاہے کہ تُم اپنی اپنی ران سے تلوار لٹکا کر پھاٹک پھاٹک گُھوم گھُوم کر سارے لشکر گاہ میں اپنے اپنے بھائیوں اور اپنے اپنے ساتھیوں اوراپنے اپنے پڑوسیوں کو قتل کرتے پھرو ۔
۲۸ اور بنی لاوی نے مُو سیٰ کے کہنے کے مُوافُق عمل کِیا چنا نچہ اُس دن لوگوں میں سے قریباً تِین ہزار مرد کھیت آئے ۔
۲۹ اور مُوّسیٰ نے کہا کہ آج خُداوند کے لئے اپنے آپ کو مخصوص کرو بلکہ ہر شخص اپنے ہی بیٹے اور اپنے ہی بھائی کے خلاف ہوتاکہ وہ تمکو آج ہی برکت دے ۔
۳۰ اور دُوسرے دن مُوّسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تُم نے بڑاگُناہ کِیا اور اب مَیں خداوند کے پاس اُوپر جاتاہُوں۔ شاید مَیں تُمہارے گُناہ کا کفارہ دے سکُوں۔
۳۱ اور مُوسیٰ خُداوند کے پاس لوٹکر گیا اور کہنے لگا ہائے اِن لوگوں نے بڑا گُناہ کِیا کہ اپنے لئے سونے کا دیوتا بنایا ۔
۳۲ اور اب اگر تُو اِنکا گُناہ معاف کردے تو خیر ورنہ میرانام اُس کِتاب میں سے جو تُونے لکھی ہے ہٹادے ۔
۳۳ اور خُداوند نے مُوسیٰ کہا کہ جِس نے گُناہ کِیا ہے مَیں اُسی کے نام کو اپنی کِتاب میں سے مِٹائونگا ۔
۳۴ اب تُو روانہ ہو اور لوگوں کو اُس جگہ لے جا جو مَیں نے تُجھے بتائی ہے ۔دیکھ میرا فرشتہ تیرے آگے آگے چلیگا لیکن مَیں اپنے مُطالبہ کے دن اُنکے گُناہ کی سزا دُونگا ۔
۳۵ اور خُداوند نے اُن لوگوں میں مری بھیجی کیونکہ جو بچھڑا ہارُون نے بنایا وہ اُن ہی کا بنوایا ہُوا تھا ۔