خُروج ۲۳

۲۳:‏۱۔۱۲ عدالتی معاملات میں جھوٹی بات کو پھیلانا ممنوع قرار دیا گیا۔ مجرم کے دِفاع کے لئے شریر سے مل کر سازِش کرنا‏، بڑے ہجوم کا ساتھ دینا‏، یا غریب کی طرف داری کرنا بھی منع تھا۔ یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ کسی دشمن کے جانور سے دشمنی ظاہر نہ کی جائے۔ اگر یہ گم شدہ ہو تو اِسے اُس کے مالک کے پاس پہنچا دیا جائے‏، اگر وہ بوجھ کے تلے گر جائے تو اُسے اُٹھا کھڑا کرنے میں اُس کی مدد کی جائے۔ بتایا گیا ہے کہ غریب کے ساتھ اِنصاف کیا جائے‏، اور صادقوں اور بے گناہوں کو شرارت کے تحت قانونی چالاکیوں سے مجرم نہ ٹھہرایا جائے۔ رشوت لینے اور پردیسی پر ظلم کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ ساتواں سال سبت کا سال تھا اور اِس دوران زمین کو یونہی چھوڑ دینے کا حکم تھا۔ غریبوں کو اِجازت تھی کہ اُس سال کے دوران جو کچھ اُگے‏، وہ اُسے لے سکیں۔ اور ساتواں دن مالک‏، غلام اور جانور کے لئے آرام کا دن تھا۔ 

۲۳:‏۱۳۔۱۷ یہودیوں کو دوسرے معبودوں (‏بتوں)‏ کا نام لینے سے بھی منع کیا گیا‏، سوائے اِس کے کہ انبیا کی طرح اُنہیں ردّ کرتے ہوئے اُن کا ذِکر کرنے کی اِجازت دی تھی۔ یہوواہ کے لئے تین بڑی عیدیں منانے کے لئے کہا گیا تھا۔

  1. بے خمیری روٹی کی عید۔ یہ عید‏، عید فسح کے فوراً بعد سال کے شروع میں منائی جاتی۔ اِس کی اہمیت یہ تھی کہ لوگ اپنی زندگیاں بدی اور شرارت سے پاک کریں۔
  2. فصل کاٹنے کی عید۔ اِسے پنتکست اور ہفتوں کی عید بھی کہا جاتا تھا۔ یہ پنتکست کے دن روح القدس کے نزول اور کلیسیا کی تشکیل کو ظاہر کرتا ہے۔
  3. جمع کرنے کی عید۔ اِسے خیموں کی عید بھی کہا جاتا تھا۔ یہ ہزار سالہ دَور میں اِسرائیل کے ملک میں تحفظ سے سکونت کرنے کی علامت ہے۔ بالغ مردوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ اِن عیدوں کو منائیں‏، دوسروں کے لئے اِن کا منانا اِختیاری تھا۔ نئے عہدنامے میں ہم دیکھتے ہیں کہ نہ صرف یوسف بلکہ مریم اور لڑکا یسوع یروشلیم کو عید فسح منانے کے لئے جاتے ہیں (‏لوقا ۲:‏۴۱)‏۔

۲۳:‏۱۸‏، ۱۹ خمیری روٹی (‏گناہ کی علامت ہے)‏ اور قربانی کا خون ایک ساتھ خدا کے حضور چڑھانے کی اِجازت نہیں تھی۔ قربانی کی چربی خداوند کی تھی کیونکہ یہ بہترین حصہ تھا‏، اِسے صبح تک رکھ چھوڑنے کی اِجازت نہیں تھی‏، غالباً اِسے جلانے کا حکم تھا۔ پہلے پھلوں کا بہترین حصہ خداوند کے گھر لانے کا حکم تھا۔ کسی جانور کو اُس کی ماں کے دودھ میں پکانے سے منع کیا گیا تھا۔ غالباً اِس کا تولیدی رسومات سے تعلق تھا جو بت پرست اقوام مناتی تھیں۔ اِس حکم کی بنا پر کٹر یہودی گوشت اور دودھ ملے کھانوں کو پکانے کے لئے الگ الگ برتن استعمال کرتے تھے۔ اور وہ بالائی کے ساتھ گوشت کھانے سے گریز کرتے تھے۔ 

(‏۷)‏ فتح سے متعلق قوانین (‏۲۳:‏۲۰۔۳۳)‏

یہاں خدا نے اِسرائیلیوں کے آگے آگے ایک فرشتہ (‏بذاتِ خود خداوند)‏ بھیجنے کا وعدہ کیا جو اُنہیں موعودہ سرزمین میں لے جائے گا اور وہ غیر قوم بے دین باشندوں کو نکال دے گا۔ اگر یہودیوں نے بت پرستی سے گریز کر کے خداوند کی فرماں برداری کی تو وہ اُن کے لئے بڑے بڑے کام کرے گا۔ نافرمانی کے خلاف آگاہی سے متعلق ہنری لکھتا ہے:‏

’’اچھا ہے کہ ہم اپنے محسن اور محافظ کو غصہ نہ دلائیں‏، کیونکہ اگر ہمارا دفاع جاتا رہے‏، اور بھلائی کے سرچشمے سے ہمارا تعلق منطقع ہو جائے تو ہم برباد ہو جائیں گے۔‘‘ 

یہ ملک بحرِ قلزم سے فلستیوں کے ملک (‏بحیرۂ روم)‏ اور بیابان (‏نجف‏، کنعان کے جنوب میں)‏ سے دریائے فرات تک ہو گا۔ 

ملاحظہ فرمائیے کہ ملک کے باشندوں کو نکال دینے کا حکم دیا گیا۔ اُن کے ساتھ کسی معاہدے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ بت پرستی اور اُس ملک کے باشندوں سے کسی طرح کے میل جول کی اِجازت نہیں تھی۔ خدا نے پہلے ہی وعدہ کیا تھا کہ وہ شریر کنعانیوں کو برباد کر دے گا اور اِسرائیلیوں کو اِس کے لئے تعاون کرنا تھا۔ اِس میں ایک نہایت ہی اہم روحانی اصول پوشیدہ ہے۔ خدا ہمیں ہمارے دشمنوں پر فتح دے گا (‏دُنیا‏، جسم اور شیطان پر)‏ لیکن وہ ہم سے توقع کرتا ہے کہ ہم ایمان کی اچھی کشتی لڑیں۔

آیت ۳۳ کی تصویر ۲۔کرنتھیوں ۶:‏۱۴۔۱۸ میں ملاحظہ فرمایئے۔ خدا کی ہمیشہ یہ مرضی رہی ہے کہ اُس کے لوگ دُنیا سے علیٰحدہ رہیں۔ چونکہ اِسرائیلی اِس حکم کو ماننے سے قاصر رہے اِس لئے اُن کا زوال شروع ہو گیا۔ یہ اب بھی ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ ’’بُری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں۔‘‘

مقدس کتاب

۱ تُو جھوٹی بات نہ پھیلانا اور نا راست گواہ ہو نے کے لئے شرِیروں کا ساتھ نہ دینا ۔
۲ بُرائی کرنے کے لئے کِسی بھیڑ کی پیروی نہ کرنا اور نہ کسی مُقدمہ میں اِنصاف کا خُون کرانے کے لئے بھیڑ کا مُنہ دیکھ کر کُچھ کہنا ۔
۳ اور نہ مُقدمہ میں کنگال کی طرفداری کرنا ۔
۴ تُو تیرے دُشمن کا بیل یا گدھا تُجھے بھٹکتا ہوا ملے تو تُو ضرور اُسے اُسکے پاس پھیر کر لے آنا ۔
۵ اگر تُو اپنے دُشمن کے گدھے کو بوجھ کے نیچے دبا ہوا دیکھے اور اُسکی مدد کرنے کو جی بھی نہ چاہتا ہو تو بھی ضرور اُسے مدد دینا ۔
۶ تُو اپنے کنگال لوگوں کے مُقدمہ میں اِنصاف کا خُون نہ کر نا ۔
۷ جُھوٹے مُعاملہ سے دُور رہنا اور بے گُناہوں اور صادِقوں کو قتل نہ کرنا کیو نکہ مَیں شریرکو راست نہیں ٹھہراؤنگا ۔
۸ تُو رِشوت نہ لینا کیو نکہ رِشوت بِیناؤں کو اندھا کر دیتی ہے اور صادقوں کی با توں کو پلٹ دیتی ہے ۔
۹ اور پردیسی پر ظُلم نہ کرنا کیو نکہ تُم پردیسی کے دل کو جانتے ہو اِسلئے کہ تُم خُود بھی مُلِک مصر میں پردیسی تھے ۔
۱۰ اور چھ برس تک تُو زمین میں بونا اور اُسکا غلّہ جمع کر نا ۔
۱۱ پر ساتویں برس اُسے یُوں ہی چھوڑدینا کہ پڑتی رہے تاکہ تیری قُوم کے مسکین اُسے کھایئں اور جو اُن سے بچے اُسے جنگل کے جانور چرلیں ۔ اپنے انگور اور زیتون کے باغ سے بھی اَیسا ہی کرنا ۔
۱۲ چھ دن تک اپنا کام کاج کرنا اور ساتویں دن آرام کرنا تاکہ تیرے بیل اور گدھے کو آرام مِلے اور تیری لَونڈی کا بیٹا اور پردیسی تازہ دم ہو جایئں ۔
۱۳ اور تُم سب باتوں میں جو مَیں نے تُم سے کہی ہیں ہوشار رہنا اور دُوسرے معبُودوں کا نام تک نہ لینا بلکہ وہ تیرے مُنہ سے سُنائی بھی نہ دے ۔
۱۴ تُو سال بھر میں تین بار میرے لِئے عید منانا ۔
۱۵ عید فطیر کو ماننا ۔ اپس میں میرے حُکم کے مُطابق ابیب مہینے کے مُقّررہ وقت پر سات دِن تک بے خمیری روٹیاں کھانا ( کیو نکہ اُسی مہینے میں تُو مِصر سے نکلا تھا ) اور کو ئی میرے آگے خالی ہاتھ نہ آئے ۔
۱۶ اور جب تیرے کھیت میں جِسے تُو نے محنت سے بویا پہلا پھل آئے تو فصل کا ٹنے کی عید ماننا اور سال کے آخر میں جب تُو اپنی مِحنت کا پھل کھیت سے جمع کرے تو جمع کرنے کی عید منانا ۔
۱۷ اور سال میں تینوں مرتبہ تُمہارے ہاں کے سب مرد خُداوند خُدا کے آگے حاضر ہو ا کریں ۔
۱۸ تُو خمیری روٹی کے ساتھ میرے ذبیحہ کا خُون نہ پڑھا نا اور میری عید کی چربی صُبح تک باقی نہ رہنے دینا ۔
۱۹ تُو اپنی زمین کے پہلے پھلوں کا پہلا حِصہ خُداوند اپنے خُدا کے گھر میں لانا ۔ تُو حلوان کو اُسکی ماں کے دُودھ میں نہ پکانا ۔
۲۰ دیکھ مَیں ایک فرشتہ تیرے آگے بھیجتا ہوں کہ راستہ میں تیرا نگہبان ہو اور تجھے اُس جگہ پہنچا دے جسے مَیں نے تیار کیا ہے ۔
۲۱ تُم اُسکے آگے ہوشار رہنا اور اُسکی بات ماننا ۔ اُسے ناراض نہ کرنا کیو نکہ وہ تُمہاری خطا نہیں بخشیگا اِسلئے کہ میرا نام اُس میں رہتا ہے ۔
۲۲ پر اگر تُو سچ مچ اُسکی بات مانے اور جو مَیں کہتا ہوں وہ سب کرے تو مَیں تیرے دُشمنوں کا دُشمن اور تیرے مُخالِفوں کا مُخالف ہُونگا ۔
۲۳ اِسلئے کہ میرا فرشتہ تیرے آگے آگے چلیگا اور تجھے اموریوں اور حِتّیوں اور فرزّیوں اور کنعانیوں اور حوّیوں اور یبوسیوں میں پہنچا دیگا اور مَیں انکو ہلاک کر ڈالُونگا ۔
۲۴ تُو اُنکے معُنودوں کو سجدہ نہ کر نا نہ اُنکی عبادت کر نا نہ انکے سے کام کر نا بلکہ اُنکو بالکل اُلٹ دینا اور اُنکے سُتونوں کو ٹُکڑے ٹُکڑے کر ڈالنا ۔
۲۵ اور تُم خُداوند اپنے خُدا کی عبادت کرنا تب وہ تیری روٹی اور پانی پر برکت دیگا اور مَیں تیرے بیچ سے بیماری کو دُور کر دُونگا ۔
۲۶ اور تیرے مُلک میں نہ تو کسی کے اِسقاط ہو گا اور نہ کوئی بانجھ رہیگی اور مَیں تیری عمر پوری کرونگا ۔
۲۷ مَیں اپنی ہیبت کو تیرے آگے آگے بھیجونگا اور مَیں اُن سب لوگوں کو جنکے پاس تُو جائیگا شکت دُونگا اور مَیں اَیسا کرونگا کہ تیرے سب دُشمن تیرے آگے اپنی پُشت پھیردینگے ۔
۲۸ مَیں تیرے آگے زنبوُروں بھیجونگا جو حوّی اور کنعانی اور حِتّی کو تیرے سامنے سے بھگا دینگے ۔
۲۹ مَیں اُنکو ایک ہی سال میں تیرے آگے سے دُور نہیں کرونگا تا نہ ہو کہ زمین ویِران ہو جائے اور جنگلی دِرندے زیادہ ہو کر تجھے ستانے لگیں ۔
۳۰ بلکہ مَیں تھوڑا تھوڑا کر کے اُنکو تیرے سامنے سے دُور کرتا رہونگا جب تک تُو شُمار میں بڑھ کر مُلک کا وارث نہ ہو جائے ۔
۳۱ مَیں بِحرقُلزم سے لے کر فلستیوں کے سمندر تک اور بیابان سے لےکر نِہر فرات تک تیری حدّیں با ندھُونگا کیونکہ مَیں اُس مُلک کے باشندوں کو تُمہارے ہاتھ میں کردُونگا اور تُو اُنکو اپنے آگے سے نکا ل دیگا ۔
۳۲ تُو اُن سے یا اُنکے معبودوں سے کوئی عہد نہ باندھنا ۔
۳۳ وہ تیرے مُلک میں رہنے نہ پایئں تا نہ ہو کہ وہ تجھ سے میرے خِلاف گُناہ کرایئں کیو نکہ اگر تُو اُن کے معبودوں کی عبا دت کرے تو یہ تیرے لِئے ضرور پھنداہوجائیگا۔