۲سموئیل ۷

و۔ داؤد کے ساتھ خدا کا عہد (‏باب ۷)‏

۷:‏ ۱۔۵ داؤد نے محسوس کیا کہ یہ درست نہیں کہ مَیں خود تو ایک عالی شان گھر میں رہوں جب کہ خدا کا صندوق خیمے کے پردوں میں رہتا ہے۔ چنانچہ اُس نے ناتن نبی کو بتایا کہ اُس کا اِرادہ ہے کہ وہ خدا کے صندوق کے لئے ایک گھر بنائے۔ ناتن نے پہلے تو اِس تجویز کی تائید کی۔ شاید اُس نے خداوند سے مشورہ کئے بغیر یہ قدم اُٹھایا۔ تب خداوند کا کلام اُس پر نازل ہوا اور اُسے بتایا کہ داؤد کو یہوواہ کے لئے ہیکل بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 

۷:‏ ۶۔۱۱ خداوند نے ناتن کو یاد دلایا کہ وہ مصر سے خروج کے بعد سے خیمے میں رہا۔ جب تک بنی اسرائیل سفر کر رہے تھے‏، خیمے کا استعمال درست تھا۔ لیکن اَب وقت آ چکا تھا کہ ہیکل بنائی جائے۔ 

۷:‏ ۱۲۔۱۵ تب خداوند نے ناتن پر ایک غیر مشروط عہد ظاہر کیا‏، جو وہ داؤد سے باندھے گا۔ اِس عہد میں یہ وعدہ کیا گیا کہ داؤد کے ہاں ایک بیٹا (‏سلیمان)‏ پیدا ہو گا جو ہیکل تعمیر کرے گا‏، اور اِس بیٹے کا تخت تاابد قائم رہے گا۔ جب وہ گناہ کرے گا تو خدا اُسے تنبیہ کرے گا‏، لیکن اُس کی رحمت اُس سے جدا نہ ہو گی۔ 

۷:‏ ۱۶‏،۱۷ یہ بھی وعدہ کیا گیا کہ داؤد کا گھر‏، سلطنت اور اُس کا تخت ہمیشہ کے لئے قائم کیا جائے گا‏، اور اُس کی اپنی نسل تخت پر بیٹھے گی۔ بابل کی اسیری کے وقت سے داؤد کی سلطنت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے‏، لیکن جب داؤد کی نسل سے مسیح ساری دُنیا پر حکومت کرنے کے لئے واپس آئے گا تو یہ بحال ہو جائے گی۔ جینسن اِس کی یوں وضاحت کرتا ہے:‏

’’داؤد خدا کے لئے ہیکل تعمیر کرنا چاہتا تھا‏، لیکن یہ حق سلیمان کو دیا گیا۔ بلاشبہ داؤد کی زندگی کے لئے خدا کا منصوبہ جنگ کرنا تھا نہ کہ تعمیر کرنا۔ لیکن وہ جنگ کرنے سے بیٹے کے لئے راہ ہموار کر رہا تھا کہ وہ اُس کے گھر کی بنیاد رکھ سکے جس کے تعمیر کرنے کا اُسے بہت زیادہ اِشتیاق تھا۔ جب جنگیں ختم ہو گئیں تو اِس کے بعد سلیمان نے اُس سامان سے جو داؤد نے جمع کیا تھا‏، ہیکل تعمیر کی۔ داؤد اپنے بڑے دشمن پر فتح اور دُکھوں کے باعث مسیح کا مثیل ہے۔ سلیمان‏، مسیح کا اُس کے جلال میں مثیل ہے جب اُس کے دُکھ اور جنگیں ختم ہو گئی ہیں۔ کلیسیا جو خدا کی حقیقی ہیکل ہے اور جس کے کونے کے سرے کا پتھر مسیح ہے‏، آخری دِنوں میں ظاہر ہو گی۔ اب کلیسیا کے دُکھوں اور جنگ کے ایام میں خدا کی جلالی عمارت کے لئے سامان تیار کیا جا رہا ہے۔‘‘ 

۷:‏ ۱۸۔۲۹ خدا کے فضل کے عہد سے گہرے طور سے متاثر ہو کر داؤد نے عارضی خیمے میں جا کر یہاں درج شدہ دعا پیش کی۔ بلیکی (‏Blaikie)‏ لکھتا ہے کہ اِس میں یہ کہا گیا ہے:‏

’’وہ اپنے ماضی پر حیرت کا اِظہار کرتا ہے کہ خدا نے کس طرح اُسے جو خاندانی اور شخصی طور پر ایک گمنام شخص تھا ’چنا‘ اور وہ اپنی حالیہ حیثیت پر بھی تعجب کرتا ہے۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ تُو مجھے یہاں تک لے آیا ہے! اور وہ اپنے مستقبل پر بھی تعجب کا اِظہار کرتا ہے کہ آنے والے ایام میں اُس کے گھرانے کے استحکام کا انتظام کیا گیا ہے۔‘‘

’’اور وہ بھی اے مالک خداوند آدمیوں کے طریقے پر‘‘ (‏آیت ۱۹ ب)‏۔ اِس کا یہ مطلب ہے کہ خدا نے داؤد سے اُسی محبت اور فروتنی سے سلوک کیا جس کا اُس نے اِنسانوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے کریں۔ 

مقدس کتاب

۱ جب بادشاہ اپنے محلّ میں رہنے لگا اور خُداوند نے اُسے اُسکی چاروں طرف کے سب دُشمنوں سے آرام بخشا۔
۲ تو بادشاہ نے ناتؔن نبی سے کہا دیکھ مَیں تو دیوار کی لکڑیوں کے گھر میں رہتا ہوُں پر خُدا کا صندُوق پردوں کے اندر رہتا ہے۔
۳ تب ناؔتن نے بادشاہ سے کہا جا جو کچھ تیرے دِل میں ہے کر کیونکہ خُداوند تیرے ساتھ ہے۔
۴ اور اُسی رات کو اَیسا ہُؤا کہ خُداوند کا کلام ناتؔن کو پہنچا کہ۔
۵ جا اور میرے بندہ دؔاؤد سے کہ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ کیا تُو میرے رہنے کے لئے ایک گھر بنائیگا؟۔
۶ کیونکہ جب سے مَیں بنی اِسرائیل کو مِصؔر سے نکال لایا آج کے دِن تک کِسی گھر میں نہیں رہا بلکہ خَیمہ اور مسکن میں پھرتا رہا ہُوں ۔
۸ اور جہاں جہاں مَیں سب بنی اِسرائیل کے ساتھ پھرتا رہا کیا مَیں نے کہیں کِسی اِسرائیلی قبیلہ سے جسے مَیں نے حُکم کیا کہ میری قوم اِؔسرائیل کی گلہ بانی کرو یہ کہا کہ تم نے میرے لِئے دیودار کی لکڑیوں کا گھر کیوں نہیں بنایا؟۔
۷ سو اب تُو میرے بندہ دؔاؤد سے کہہ کہ ربُّ الاافوج یُوں فرماتا ہے کہ مَیں نے تجھے بھِیڑ سالہ سے جہاں تُو بھیڑ بکریوں کے پیچھے پیچھے پھرتا تھا لیِا تاکہ تُو میری قوم اِؔسرائیل کا پیشوا ہو۔
۹ اور مَیں جہاں جہاں تُو گیا تیرے ساتھ رہا اور تیرے سب دُشمنوں کو تیرے سامنے سے کاٹ ڈالا ہے اور مَیں دُنیا کے بڑے بڑے لوگوں کے نام کی طرح تیرا نام بڑا کرُونگا۔
۱۰ اور وہاں اُنکو جماؤنگا تاکہ وہ اپنی ہی جگہ بسیں اور پھر ہٹائے نہ جائیں اور شرارت کے فرزند اُنکو پھر دُکھ نہیں دینے پائینگے جَیسا پہلے ہوتا تھا۔
۱۱ اور جَیسا اُس دِن سے ہوتا آیا جب سے مَیں نے حُکم دیا کہ میری قَوم اِؔسرائیل پر قاضی ہوں اور مَیں اَیسا کرؤنگا کہ تجھ کو تیرے سب دُشمنوں سے آرام مِلے ۔ ماسِوا اِسکے خُداون تجھ کو بتاتا ہے کہ خُداوند تیرے گھر کو بنائے رکھّیگا ۔
۱۲ اور جب تیرے دِن پُورے ہو جائینگے اور تُو اپنے باپ دادا کے ساتھ سو جائیگا تو مَیں تیرے بعد تیری نسل کو جو تیرے صُلب سے ہو گی کھڑ ا کرکے اُسکی سلطنت کو قائم کرونگا۔
۱۳ وُہی میرے نام کا ایک گھر بنائیگا اور مَیں اُسکی سلطنت کا تخت ہمیشہ کے لئے قائم کرُونگا۔
۱۴ اور مَیں اُسکا باپ ہوُنگا اور وہ میرا بیٹا ہوگا ۔ اگر وہ خطا کرے تو مَیں اُسے آدمیوں کی لاٹھی اور بنی آدم کے تازِیانوں سے تنبیہ کرُونگا ۔
۱۵ پر میری رحمت اُس سے جُدا نہ ہوگی جَیسے مَیں نے اُسے ساؔؤل سے جُدا کیا جِسے میَں نے تیرے آگے سے دفع کیا۔
۱۶ اور تیرا گھر اور تیری سلطنت سدا بنی رہیگی ۔ تیرا تخت ہمیشہ کے لئِے قائم کیا جائیگا ۔
۱۸ جَیسی یہ سب باتیں اور یہ ساری رویا تھی وَیسا ہی ناتؔن نے داؔؤد سے کہا۔
۱۷ تب داؔؤد بادشاہ اندر جا کر خُداوند کے آگے بَیٹھا اور کہنے لگا اَے مالِک خُداوند مَیں کوں ہُوں اور میرا گھرانا کیا ہے کہ تو نے مجھے یہان تک پہنچایا ؟۔
۱۹ تو بھی اَے مالِک خُداوند یہ تیری نظر میں چھوٹی بات تھی کیونکہ تُو نے اپنے بندہ کے گھرانے کے حق میں بہت مُدّت تک کا ذِکر کیا ہے اور وہ بھی اَے مالِک خُداوند آدمیوں کے طریقہ کاپر۔
۲۰ اور دؔؤد تجھ سے اَور کیا کہ سکتا ہے؟ کیونکہ اَے مالک خُداوند تو اپنے بندہ کو جانتا ہے۔
۲۱ تُو نے اپنے کلام کی خاطِر اور اپنی مرضی کے مُطابق یہ سب بڑے کام کئے تا کہ تیرا بندہ اُن سے واقف ہو جائے۔
۲۲ سو تُو اَے خُداوند بُزرگ ہے کیونکہ جَیسا ہم نے اپنے کانوں سے سُنا ہے اُسکے مُطابق کوئی تیری مانِند نہیں اور تیرے سِوا کوئی خُدا نہیں ۔
۲۳ اور دُنیا میں وہ کَون سی ایک قَوم ہے جو تیرے لوگوں یعنی اِؔسرائیل کی مانِند ہے جِسے خُدا نے جا کر اپنی قَوم بنانے کو چُھڑایا تاکہ وہ اپنا نام کرے ( اور تُماری خاطِر بڑے بڑے کام ) اور اپنے مُلک کے لئے اور اپنی قَوم کے آگے جِسے تُو نے مؔصر کی قَوموں سے اور اُنکےدیوتاؤں سے رہائی بخشی ہَولناک کام کرے؟۔
۲۴ اور تُو نے اپنے لئِے اپنی قَوم بنی اِسرائیل کو مُقرر کیا تا کہ وہ ہمیشہ کے تیری قَوم ٹھہرے اور تُو آپ اَے خُداوند اُنکا خُدا ہُؤا ۔
۲۵ اور اب تُو اَے خُداوند خُدا اُس بات کو جو تُو نے اپنے بندہ اور اُسکے گھرانے کے حق میں فرمائی ہے سدا کے لئے قائِم کر دے اور جَیسا تُو نے فرمایا ہے وَیسا ہی کر۔
۲۶ اور سدا یہ کہہ کہکر تیرے نام کی بڑائی کی جائے کہ ربُّ الافواج اِؔسرائیل کا خُدا ہے اور تیرے بندہ دؔاؤد کا گھرانا تیرے حُضوُر قائم کیا جائیگا ۔
۲۸ کیونکہ تُو نے اَے ربُّ الافواج اِؔسراؑیل کے خُدا اپنے بندہ پر ظاہر کیا اور فرمایا کہ مَیں تیرا گھرانا بنائے رکھُّونگا اِسلئِے تیرے بندہ کے دِل میں یہ آیا کہ تیرے آگے یہ مُناجات کرے۔
۲۷ اور اَے مالک خُداوند تُو خُدا ہے اور تیری باتیں سچّی ہیں اور تُو نے اپنے بندہ سے اِس نیکی کا وعدہ کیا ہے۔
۲۹ سو اب اپنے بندہ کے گھرانے کو برکت دینا منظور کر تاکہ وہ سدا تیرے رُو برُو پایدار رہے کہ تُو ہی نے اَے مالِک خُداوند یہ کہا ہے اور تیری ہی برکت سے تیرے بندہ کا گھرانا سدا مُبارک رہے!۔