ط۔ سبع کی بغاوت اور موت (باب ۲۰)
۲۰: ۱،۲ بنیمین کے قبیلے کے سبع نامی ایک شریر باغی نے (غالباً وہ ساؤل کا رشتے دار تھا) یہوداہ کی باتوں (۱۹: ۴۲) کی بنا پر ناراض ہو کر بغاوت کا اعلان کر دیا۔ یہوداہ کے آدمیوں کا دعویٰ تھا کہ داؤد اُن کا اپنا رشتے دار ہے۔ سبع نے سر کشی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دس قبیلوں میں داؤد کا کوئی حصہ نہیں اِس لئے وہ اُس کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ صرف یہوداہ کا قبیلہ ساتھ رہ گیا۔ اِس کے بعد کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سبع کے ساتھ بہت تھوڑے لوگ تھے۔ ’’سب اِسرائیلی‘‘ کا لفظی مطلب نہیں تھا۔ کیونکہ بعد میں ظاہر ہوا کہ دس قبائل کے صرف چند ناراض آدمیوں نے سبع کی ہامی بھری تھی۔
۲۰: ۳ یروشلیم واپس آ کر داؤد نے اپنی دس حرموں کو جن کی ابی سلوم کے ہاتھوں بے حرمتی ہوئی تھی ایک علیٰحدہ مکان میں بسا دیا۔ وہ تاعمر بیواؤں کی سی زندگی گزارتی رہیں۔
۲۰: ۴۔۷ اب یوآب کو معزول کر دیا گیا تھا، اور ابی سلوم کے باغی سپہ سالار کو داؤد کی فوجوں کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ بادشاہ نے اُسے حکم دیا کہ تین دِنوں کے اندر اندر یہوداہ کے آدمیوں کو جمع کر کے باغیوں کے سردار سبع کا پیچھا کر کے اُسے مفتوح کیا جائے۔ کسی نامعلوم وجہ کی بنا پر عماسا نے وقتِ مقررہ کے اندر اپنے کام کو مکمل نہ کیا۔ چنانچہ داؤد نے ابی شے کو حکم دیا کہ وہ چنیدہ لوگوں کی سربراہی میں سبع کو فصیل دار شہروں میں مستحکم ہونے سے روکے۔ یوآب اُن لوگوں میں شامل تھا جو ابی شے کے ساتھ گئے۔
۲۰: ۸۔۱۰ الف جب وہ جبعون میں ایک بڑے پتھر کے پاس پہنچے تو عماسا اُن سے ملنے کے لئے آیا۔ یوآب اپنا جنگی لباس پہنے ہوئے عماسا سے ملنے کے لئے آگے بڑھا، لیکن اِسی دوران اُس کی تلوار زمین پر گر پڑی۔ لگتا ہے کہ اُس نے جان بوجھ کر تلوار گرائی تھی۔ اُس نے اپنی تلوار اُٹھائی اور اپنے خالہ زاد بھائی کی طرف بڑھا جسے کسی طرح کا شبہ نہیں تھا۔ بڑی دوستی کا اِظہار کرتے ہوئے یوآب نے عماسا کی ڈاڑھی کو پکڑا گویا کہ وہ اُس کا بوسہ لینے لگا ہو۔ تب اُس نے تلوار کے ایک ہی وار سے اُسے مار دیا۔
۲۰: ۱۰ ب ۔۱۳ جب یوآب اور ابی شے نے سبع کا پیچھا کرنا شروع کیا تو اُن کے ساتھیوں کے لئے سڑک کے درمیان عماسا کو خون میں تڑپتے دیکھ کر رُکاوٹ سی پیش آ رہی تھی۔ جب اُس کی لاش کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تو یوآب کے آدمی اُس کے پیچھے چلنے لگے۔
۲۰: ۱۴۔۲۲ سبع کا شمال میں دُور تک بیت معکہ کے شہر ابیل تک پیچھا کیا گیا۔ یہ میروم کے چشموں کے شمال میں واقع تھا۔ یہ شہر اپنے دانش وروں کے باعث مشہور تھا۔ جب یوآب شہر کا محاصرہ کئے ہوئے تھا تو ایک عقل مند عورت نے اُس سے کہا کہ وہ کیوں ایک شہر اور … ماں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے (یعنی ایک اہم شہر کو) جو ہمیشہ اپنی دانش مندی کی وجہ سے مشہور رہا ہے۔ جب یوآب نے وضاحت کی کہ وہ صرف باغی سبع کا پیچھا کر رہا ہے جو کہ شہر کے اندر چھپا ہوا ہے، تو وہ اِس بات پر متفق ہو گئی کہ وہ اُسے قتل کر کے ثبوت کے طور پر اُس کا سر دیوار سے نیچے گرا دے گی۔ جونہی یہ کام ہو گیا تو یوآب نے نرسنگا بجایا اور یروشلیم کو واپس لوٹ آیا، کیونکہ اُس کا مشن مکمل ہو چکا تھا۔ سبع کی بغاوت غالباً ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک جاری نہ رہی۔
۲۰: ۲۳۔۲۶ داؤد نے یوآب کا منصب گھٹا دیا تھا۔ اِس کی جگہ اُس نے پہلے عماسا کو (۱۹:۱۳) اور بعد میں ابی شے کو (۲۰:۶) مقرر کیا۔ لیکن یوآب نے پھر سے اپنا مقام حاصل کر لیا۔
آیات ۲۳۔۲۶ میں بادشاہ کے اہم عہدے داروں کی تقریباً وہی فہرست ہے جو کہ ۸:۱۵۔۱۸ میں بیان کی گئی ہے۔ یوآب فوج کا سربراہ تھا۔ بِنایاہ بادشاہ کے محافظوں کا انچارج تھا۔ یہوسفط مورّخ تھا۔ سِوا (شرایاہ) منشی تھا، صدوق اور ابیاتر کاہن تھے (صدوق اور اخی مَلِک پہلی فہرست میں کاہن تھے)۔ دیگر فریق یہ تھے کہ ادورام خراج کا داروغہ تھا اور عیرا یائری داؤد کا کاہن تھا (یا وزیر اعلیٰ) جب کہ باب ۸ میں داؤد کے بیٹوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
مقدس کتاب
۱ (باب نمبر ۲۰) اور وہاں ایک شریر بینمینی تھا اور اُسکا نام سؔبع بن بکِؔری تھا ۔ اُس نے نرسِنگا پھونکا اور کہا کہ داؔؤد میں ہمارا کوئی حصّہ نہیں اور نہ ہماری میراث یسؔیّ کے بیٹے کے ساتھ ہے۔ اَے اِسرائیلیو اپنے اپنے ڈیرے کو چلے جاؤ۔
۲ سو سب اِسرائیلی داؔؤد کی پَیروی چھوڑ کر سؔبع بن بکؔری کے پیچھے ہو لئے لیکن یہؔوُداہ کے لوگ یرؔدن سے یرؔوشلیم تک اپنے بادشاہ کے ساتھ ہی ساتھ رہے۔
۳ اور داؔؤد یرؔوشلیم میں اپنے محلّ میں آیا اور بادشاہ نے اپنی اُن دسوں حرموں کو جنکو وہ اپنے گھر کی نگہبانی کے لئے چھوڑ گیا تھا لیکر اُنکو نظر بند کر دیا اور اُنکی پرورش کرتا رہا پر اُنکے پاس نہ گیا ۔ سو اُنہوں نے اپنے مرنے کے دِن تک نظر بند ڑہ کر رنڈاپے کی حالت میں زِندگی کاٹی۔
۴ اور بادشاہ نے عؔماسا کو حُکم کیا کہ تین دن کے اندر بنی یہُوداہ کو میرے پاس جمع کر اور تُو بھی یہاں حاضرِ ہو۔
۵ سو عمؔاسا بنی یہُوداہ کو فراہم کرنے گیا ر وہ مُعینہ وقت سے جو اُس نے اُسکے لئے مقرر کیا تھا زیادہ ٹھہرا ۔
۶ تب داؔؤد نے اِبیشؔے سے کہا سبؔع بن بکؔری تو ہ کو ابؔی سلوم سے زِیادہ نقصان پہُنچائیگا سو تُو اپنے مالک کے خادِموں کو لیکر اُسکا پیچھا کرتا نہ ہو کہ وہ فصِیلدار شہرو کو لیکر ہماری نظر سے بچ نِکلے ۔
۸ سو یُوآؔب کے آدمی اور کریتی اور گلیتی اور سب بہادر اُسکے پیچھے ہو لئے اور یرؔوشلیم سے نکلے تاکہ سبؔع بن بکؔری کا پیچھا کریں ۔
۷ اور جب وہ اُس پھتر کے نزدیک پہنچے جو جبؔعُون میں ہے تو عماؔسا اُن سے ملنے کو آیا اور یُوآؔب اپنا جنگی لباس پہنے تھا اور اُسکے اُوپر ایک پٹکا تھا جس سے ایل تلوار میان میں پڑی ہُوئی اُسکی کمر میں بند ھی تھی اور اُسکے چلتے چلتے وہ نکل پڑی۔
۹ سو یُوآؔب نے عمؔاسا کی داڑی اپنے دہنے ہاتھ سے پکڑی کہ اُسکو بوسہ دے۔
۱۰ عماؔسا نے اُس تلوار کا جو یُوآؔب کے ہاتھ میں تھی خیال نہ کا۔ سو اُس نے اُس سے اُسکے پیٹ میں اَیسا مارا کہ اُسکی انتڑیاں زمین پر نِکل پڑیں اور اُس نے دُوسرا وار نہ کیا ۔ سو وہ مر گیا پھر یُوآؔب اور اُسکا بھائی ابؔیشےسبؔع بن بکؔری کا پیچھا کرنے چَلے۔
۱۱ اور یُوآؔب کے جوانوں میں سے ایک شخص اُسکے پاس کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ جو کوئی یُوآؔب سے راضی ہے اور جو کوئی داؔؤد کی طرف ہے سو یُوآؔب کے پیچھے ہو لے۔
۱۲ اور عماؔسا سٹرک کے بیچ اپنے خُون میں لوٹ رہا تھا اور جب اُس شخص نے دیکھا کہ سب لوگ کھڑے ہو گئے ہیں تو عماؔسا کو سٹرک پر سے مَیدان میں اُٹھا لے گیا اور جب یہ دیکھا کہ جو کوئی اُسکے پاس آتا ہے کھڑا ہو جاتا ہے تو اُ س پر ڈال دیا۔
۱۳ اور جب وہ سٹرک پر سے ہٹا لیا گیا تو سب لوگ یُوآؔب کے پیچھے سبؔع بن بکرؔی کا پیچھا کرنے چلے۔
۱۴ اور وہ اسرؔائیل کے سب قبِیلوں میں سے ہوتا ہوا ابؔیل اور بَیت مؔعکہ اور سب بیریوں تک پُہنچا اور وہ بھی جمع ہو کر اُسکے پیچھے چلے۔
۱۵ اور اُنہوں نے آکر اُسے بَیت معکہ کے ابؔیل میں گھیر لیا اور شہر کے سامنے اَیسا دمدمہ باندھا کہ وہ فِیصل کے برابر رہا اور سب لوگوں نے جو یُوآؔب کے ساتھ تھے دِیوار کو توڑنا شرُوع کیا تاکہ اُسے گرِا دیں ۔
۱۶ تب ایک دانشمند عَورت شہر میں سے پُکار کر کہنے لگی کہ ذرا یُوآؔب سے کہ دو ککہ یہاں آئے تاکہ میں اُس سے کچھ کہُوں۔
۱۸ سو وہ اُسکے نزدیک آیا۔ اُس عورت نے اُس سے کہا کیا تُو یُوآؔب ہے ؟ اُس نے کہا ہاں۔ تب وہ اُس سے کہنے لگی اپنی لَونڈی کی باتیں سُن۔ اُس نے کہا میں سُنتا ہوں۔
۱۷ تب وہ کہنے لگی کہ قدیم زمانہ میں یُوں کہا کرتے تھے کہ وہ ضرُور ابؔیل میں صلاح پوچھینگے اور اِس طرح وہ بات کو ختم کرتے تھے۔
۱۹ اور مَیں اِسرائیل میں لوگوں میں سے ہوں جو صُلح پسند اور دیانتدار ہیں ۔ تُو چاہتا ہے کہ ایک شہر اور ماں کو اِسرائیلیوں کے درمیان ہلاک کرے۔ سو تُو کیوں خُداوند کی میراث کو نگلنا چاہتا ہے ؟۔ یُوآؔب نے جواب دیا مجھ سے ہر گز ہرگز اَیسا نہ کو کہ میں نگل جاؤُں یا ہلاک کرُوں۔
۲۰
۲۱ بات یہ نہیں ہے بلکہ افرؔائیم کے کوہستانی مُلک کے ایک شخص نے جسکا نام سبؔع بن بکرؔی ہے بادشاہ یعنی داؔؤد کے خِلاف ہاتھ اُٹھایا ہے سو فقط اُسی کو میرے حوالہ کر دے تو مَیں شہر سے چلا جاؤُنگا ۔ اُس عَورت نے یُوآؔب سے کہا دیکھ اُسکا سر دِیوار پر سے تیرے پاس پھینک دیا جائیگا ۔
۲۲ تب وہ عَورت اپنی دانائی سے سب لوگوں کے پاس گئی ۔ سو اُنہوں نے سبؔع بن بکرؔی کا سرکاٹ کر اُسے باہر یُوآؔب کی طرف پھینک دیا۔ تب اُس نے نرسِنگاپھونکا اور لوگ شہر سے الک ہو کر اپنے اپنے ڈیرے کو چلے گئے اور یُوآؔب یرؔوشلیم کو بادشاہ کے پاس لَوٹ آیا۔
۲۳ اور یُوآؔب اِسرائیل کے سارے لشکر کا سردار تھا اور بنایاؔہ بن یہؔویدع کریتیوں اور فلیتیوں کا سردار تھا۔ (اور ادؔورام خراج کا دروغہ تھا اور اؔخیلوُد کا بیٹا یہؔوسفط مُرّخ تھا۔
۲۴ اور ادؔورام خرِاج کا داروغہ تھا اور اخؔیلُود کا بیٹا یہؔوسفط مُورّخ تھا۔
۲۵ اور سِؔوا مُنشی تھا اور صؔدُوق اور ابیاؔتر کاہن تھے ۔
۲۶ اور عؔیرایا ٹِری بھی داؔؤد کا ایک کاہن تھا۔