ط۔ مزید فتوحات (باب ۱۰)
۱۰: ۱۔۵ عمونیوں کے بادشاہ ناحس نے ایک وقت داؤد کے ساتھ واضح طور پر مہربانی کی تھی۔ یہ وہی ناحس تھا جسے ساؤل نے اپنے اِبتدائی دَورِ حکومت میں شکست دی تھی (۱۔سموئیل ۱۱ باب)۔ ممکن ہے کہ ناحس نے داؤد کی جلاوطنی کے ایام میں مدد کی ہو کیونکہ ساؤل عرصے تک دونوں کا مشترکہ دشمن رہا۔ داؤد اب اُس احسان کا بدلہ چکانا چاہتا تھا۔ چنانچہ اُس نے ناحس کے بیٹے حنون کے پاس قاصد بھیجے جسے باپ کی موت کے بعد بادشاہ بنایا گیا تھا۔ لیکن بنی عمون کے سرداروں نے داؤد کے قاصدوں کو جاسوس تصور کیا اور حنون کے حکم سے اُن کی بہت زیادہ تذلیل کی گئی۔ داؤد اپنے قاصدوں کی بے عزتی کے سبب سے بڑے طیش میں آ گیا۔
۱۰: ۶۔۸ جونہی بنی عمون کو اِس کے بارے میں علم ہوا اُنہوں نے اِسرائیل کے خلاف جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں اور شمال سے ارامیوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا (۱۔تواریخ ۱۹ باب)۔ تب داؤد کے آدمیوں کو یوآب کی قیادت میں دو فوجوں یعنی ارامیوں اور عمونیوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔
جان ہیلی (Haley) آیت ۶ اور ۱۔تواریخ ۱۹: ۶،۷ میں بظاہر تضاد کی مندرجہ ذیل وضاحت پیش کرتا ہے۔
’’بیت رحوب مسوپتامیہ کی ایک چھوٹی سی مملکت تھی اور معکہ، ضوباہ اور طوب ارام کی چھوٹی چھوٹی بادشاہتیں تھیں۔ نام اور اعداد درج ذیل خاکے کی صورت میں متفق ہیں‘‘:
| ۲۔سموئیل | |
| بیت رحوب اور ضوباہ کے ارامی | ۰۰۰،۲۰ |
| طوب کے ارامی | ۰۰۰،۱۲ |
| معکہ کے ارامی | ۰۰۰،۱ |
| کُل | ۰۰۰،۳۳ |
| ۱۔تواریخ | |
| ضوباہ وغیرہ کے ارامی | ۰۰۰،۳۲ |
| معکہ کے ارامی (تعداد نہیں دی گئی) | ۰۰۰،۱ |
| کُل | ۰۰۰،۳۳ |
۱۰: ۹۔۱۴ یوآب نے اپنے آدمیوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ اُس نے ارامیوں کے خلاف صف بندی کے لئے اسرائیل کے کچھ خاص سپاہیوں کی کمان سنبھالی۔ اُس کے بھائی ابی شے نے عمون کے خلاف باقی اِسرائیلیوں کو لے کر صف بندی کی۔ دونوں جرنیل اِس بات پر متفق ہوئے کہ اگر ایک خطرے میں ہو تو دوسرا اُس کی کمک کے لئے آئے۔ جب یوآب اور اُس کے آدمیوں نے کھلے میدان میں حملہ کیا تو ارامی بھاگ گئے۔ وہ ڈر کے مارے اپنے شہر (غالباً ربّہ) کے اندر گھس گئے۔
۱۰: ۱۵۔۱۹ اِس کے تھوڑے عرصے بعد ارامیوں نے ازسرِنو اپنی فوجوں کو منظم کیا اور دوسری ارامی ریاستوں سے مدد مانگی۔ اُنہوں نے یردن کے مشرق میں حلام تک کوچ کیا (صحیح مقام نامعلوم ہے)، جہاں داؤد کی فوجوں سے اُن کا مقابلہ ہوا۔ اُنہوں نے شکست کھائی۔ اِسرائیلیوں نے رتھوں کے سات سو سواروں اور چالیس ہزار گھڑ سواروں کو قتل کر ڈالا (۱۔تواریخ ۱۹:۱۸ میں اِس نقصان کا یوں ذکر کیا گیا ہے۔ ’’سات ہزار رتھوں کے سوار اور چالیس ہزار پیادہ فوج۔‘‘ وِلیمز کا خیال ہے کہ ۰۰۰،۴۰ گھڑ سوار، ۷۰۰ چھوٹے رتھ تھے اور ۴۰۰۰۰ پیادہ فوج ۷۰۰۰ بھاری رتھوں کے ساتھ تھی)۔ اِس جنگ سے ارامیوں کو داؤد کی قوت کا پتا چل گیا۔ لہٰذا اُنہوں نے اسرائیل کے ساتھ صلح کر لی اور آئندہ عمونیوں کی مدد کرنے سے اِنکار کر دیا۔
مقدس کتاب
۱ اِسکے بعد اَیسا ہُؤا کہ بنی عؔموّن کا بادشاہ مر گیا اور اُسکا بیٹا حؔنون اُسکا جانشین ہُؤا ۔
۲ تب داؔؤد نے کہا کہ مَیں ناحؔس کے بیٹے حؔنوُن کے ساتھ مہربانی کرُونگا جَیسے اُسکے باپ نے میرے ساتھ مَہربانی کی سو داؔؤد نے اپنے خادم بھیجے تا کہ اُنکی معرفت اُسکے بارہ میں اُسے تسلّی دے چنانچہ داؔؤد کے خادِم بنی عمُوّن کی سر زمین میں آئے ۔
۳ اور بنی عُمّون کے سرداروں نے اپنے مالِک حؔنوُن سے کہا تجھے کیا یہ گُمان ہے کہ داؔؤد تیرے باپ کی تعظیم کرتا ہے کہ اُس نے تسلّی دینے والے تیرے پاس بھیجے ہیں ؟ کیا داؔؤد نے اپنے خادِم تیرے پاس اِسلئے بھیجے ہیں کہ شہر کا حال دریافت کرکے اور اِسکا بھید لیکر وہ اِسکو غارت کرے؟۔
۴ تب حؔنون نے داؔؤد کے خادموں کو پکڑ کر اُنکی آدھی داڑھی مُنڈوائی اور اُنکی پوشاک بیچ سے سُرِین تک کٹو کر اُنکو رُخصت کر دِیا۔
۵ جب داؔؤد کو خبر پُہنچی تو اُس نے اُن سے مِلنے کو لوگ بھیجے اِسلئے کہ یہ آدمی نہایت شرمندہ تھے۔ سو بادشاہ نے فرمایا کہ جب تک تُمہاری داڑھی نہ بڑھے یرؔیحو میں رہو۔ اُسکے بعد چلے آنا۔
۶ جب بنی عمُوّن نے دیکھا کہ وہ داؔؤد کے آگے نفرت انگیز ہوگئے تو بنی عموُّن نے لوگ بھیجے اور بَیت رحؔوب کے ارامیوں اور ضؔوباہ کے ارامیوں میں سے بیِس ہزار پیادوں کو اور معکؔہ کے بادشاہ کو ایک ہزار سپاہیوں سمیت اور طؔوب کے بارہ ہزار آدمیوں کو اُجرت پر بُلا لیا۔
۸ اور داؔؤد نے یہ سُنکر یُوآؔب اور بہادُروں کے سارے لشکر کو بھیجا۔
۷ تب بنی عموُّن نِکلے اور اُنہوں نے پھاٹک کے پاس ہی لڑائی کے لئے صف باندھی اور ضوؔباہ اور رؔحوب کے ارامی اور طؔوب اور معؔکہ کے لوگ مَیدان میں الگ تھے۔
۹ جب یوؔآب نے دیکھا کہ اُسکے آگے اور پیچھے دونوں طرف لڑائی کے لئے صف بندھی ہے تو اُس نے بنی اسرائیل کے خاص لوگوں کو چُن لیا اور ارامیوں کے مقابل اُنکی صف باندھی ۔
۱۰ اور باقی لوگوں کو اپنے بھائی اؔبیشے کے ہاتھ سوَنپ دِیا اور اُس نے بنی عمُّون کے مُقابل صف باندھی۔
۱۱ پھر اُس نے کہا اگر ارامی مجھ پر غالب ہونے لگیں تو تُو میری کُمک کرنا اور اگر بنی عمُّون تجھ پر غالب ہونے لگیں تو مَیں آکر تیری کُمک کروُنگا ۔
۱۲ سو خُوب حَوصلہ رکھ اور ہم سب اپنی قَوم اور اپنے خُدا کے شہروں ی خاطِر مردانگی کریں اور خُداوند جو بہتر جانے سو کرے۔
۱۳ پس یُوآؔب اور وہ لوگ جو اُسکے ساتھ تھے ارامیوں پر حملہ کرنے کو آگے بڑھے اور وہ اُسکے آگے سے بھاگے ۔
۱۴ جب بنی عمُّون نے دیکھا کہ ارامی بھاگ گئے تو وہ بھی ابؔیشے کے سامنے سے بھاگ کر شہر کے اندر گُھس گئے ۔ تب یؔوآب بنی عموُّن کے پاس سے لَوٹ کر یرؔوشلیم میں آیا۔
۱۵ جب ارامیوں نے دیکھا کہ اُنہوں نے اِسرائیلیوں سے شکست کھائی تو وہ سب جمع ہوُئے ۔
۱۶ اور بدرؔ عرز نے لوگ بھیجے اور اُن ارامیوں کو جو دریاٰ فؔرات کے پار تھے لے آیا اور وہ جلامؔ میں آئے اور بدرؔعرز کی فوج کا سِپہ سلار سُؔوبک اُنکا سردار تھا ۔
۱۸ اور داؔؤد کو خبر مِلی۔ سو اُس نے سب اِسرائیلیوں کو اِکٹھا کیا اور یرؔدن کے پار ہو کر حؔلام میں آیا اور ارامیوں نے داؔؤد کے مُقابل صف آرائی کی اور اُس سے لڑے ۔
۱۷ اور ارامی اِسرائیلیوں کے سامنے سے بھاگے اور داؔؤد نے ارامیوں کے ساتھ سَورتھوں کے آدمی اور چالِیس ہزار سوار قتل کر ڈالے اور اُنکی فَوج کے سردار سُؔوبک کو اَیسا مارا کہ وہ وہیں مر گیا۔
۱۹ اور جب اُن بادشاہوں نے جو ہدؔرعرز کے خادِم تھے دیکھا کہ وہ اِسرائیلیوں سے ہار گئے تو اُنہوں نے اِسرائیلیوں سے صُلح کر لی اور اُنکی خِدمت کرنے لگے۔ غرض ارامی بنی عمُّون کی پھر کُمک کرنے سے ڈرے۔