۲سموئیل ۶

ہ۔ عہد کے صندوق کا یروشلیم میں لایا جانا (‏باب ۶)‏

باب ۶ میں مذکور واقعات باب ۵ میں بیان شدہ واقعات کے فوراً بعد وقوع پذیر نہیں ہوئے۔ ۲۔سموئیل میں ہمیشہ تواریخی ترتیب کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔ 

۶:‏ ۱۔۷ آخری بار ہم خدا کے صندوق کے بارے میں ۱۔سموئیل ۷:‏ ۱‏،۲ میں پڑھتے ہیں کہ فلستیوں نے اُسے واپس بھیج دیا تھا اور وہ قریت یعریم میں ابی نداب کے گھر میں رکھا گیا۔ کئی سال گزر گئے۔ تب داؤد نے فیصلہ کیا کہ اُسے یروشلیم میں لائے تاکہ یہ شہر مذہبی اور سیاسی مرکز ہو۔ چنانچہ وہ تیس ہزار مردوں کو لے کر بعلہ یہوداہ (‏وہی قریت یعریم)‏ کو گیا تاکہ اُسے لائے۔ خدا نے ہدایت کی تھی کہ قہاتی اپنے کندھوں پر اُسے چوبوں کے ذریعے سے اُٹھائیں۔ اِس کے بجائے داؤد نے نئی گاڑی بنوائی اور بڑی خوشی سے خدا کے صندوق کو نکون کے کھلیان میں لایا (‏۱۔تواریخ ۱۳:‏ ۹ میں اِسے کیدون کہا گیا)‏۔ بیلوں نے ٹھوکر کھائی اور خطرہ تھا کہ صندوق کہیں گاڑی سے گر نہ جائے۔ چنانچہ ابی نداب کے بیٹے عزہ نے بڑی جلدی سے صندوق کو اپنے ہاتھوں سے تھام لیا۔ چونکہ اِجازت نہیں تھی کہ کاہن بھی خدا کے صندوق کو چھوئیں (‏گنتی ۴:‏۱۵)‏‏، اِس لئے عزہ کو خداوند نے فوری طور پر مار دیا۔ 

اکثر سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ خدا نے عزہ کو کیوں مارا کہ اُس نے صندوق کو چھوا تھا‏، حالانکہ فلستیوں نے اِسے اکثر چھوا لیکن اُنہیں نہ مارا گیا؟ اِس کا جواب کچھ یوں ہے کہ ’’کوئی شخص جس قدر خدا کے قریب ہے‏، اُسی قدر سنجیدگی اور جلدی سے اُس کی بُرائی کی سزا اُسے ملے گی۔‘‘ لازم ہے کہ عدالت خدا کے گھر سے شروع ہو۔ 

کیا خدا کی یہ کارروائی حد سے زیادہ سخت تھی؟ اگر کوئی خدا کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے تو اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُس میں خدا کی پُرجلال پاکیزگی اور حشمت کی سمجھ کی کمی ہے۔ عہد کا صندوق‏، مسیح کی دید تک خدا کی دیدنی نمائندگی کرتا تھا۔ عزہ نے اِس بات کا خیال نہ کیا۔ اُس کی موت اِسرائیلیوں کے لئے ایک دیرپا سبق تھا کہ وہ خدا کے جلال کا سنجیدگی سے احترام کریں۔ کیا ہمارے الفاظ اور ہمارے اعمال ثابت کرتے ہیں کہ جب ہم یہ کہتے ہیں ’’تیرا نام پاک مانا جائے‘‘ تو دل سے کہتے ہیں؟

۶:‏ ۸۔۱۱ داؤد نے اِس بڑی سزا کا خداوند کے سامنے احتجاج کیا اور عارضی طور پر خدا کے صندوق کو شہر میں لانے کے منصوبے کو ترک کر دیا بلکہ اُس نے اُسے عوبید ادوم کے گھر میں‏، غالباً یروشلیم کے نزدیک رکھ دیا۔ 

تین ماہ تک عہد کا صندوق عوبید ادوم کے گھر میں پڑا رہا۔ اِس دوران خدا نے اُس کے گھرانے کو بہت زیادہ برکت دی۔ 

۶:‏ ۱۲۔۱۵ جب داؤد نے اِس برکت کے بارے میں سنا تو اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ خدا کے صندوق کو یروشلیم میں لائے گا۔ ۱۔تواریخ ۱۵:‏ ۱۳۔۱۵ کے بیان سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اِن تین ماہ کے دوران داؤد نے اِس بات کی تحقیق کی کہ خدا کے صندوق کو کیسے لایا جائے۔ نئی گاڑی کو ترک کر دیا گیا اِس کے بجائے لاویوں نے اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھایا۔ اُٹھانے والے بڑی احتیاط سے چھے قدم چلے اور اِس کے بعد داؤد نے ایک بیل اور ایک بچھڑے کی قربانی دی۔ پھر گلیوں میں ناچتے ہوئے خدا کے صندوق کو داؤد کے شہر میں لایا گیا اور اِسے عارضی طور پر ایک خیمے میں رکھا گیا (‏عین ممکن ہے کہ زبور ۶۸ اِس موقعے پر لکھا گیا ہو)‏۔ بادشاہ اِس قدر خوش تھا کہ وہ اپنے پورے زور سے خداوند کے حضور ناچنے لگا۔ وہ اِس وقت اپنے روایتی شاہی لباس کے بجائے کتان کا افود پہنے ہوئے تھا۔ 

۶:‏ ۱۶۔۲۳ اُس کی بیوی میکل نے اُسے کھڑکی میں سے دیکھا کہ وہ کتان کا افود پہنے ہوئے ہے اور ایسی حرکتیں کر رہا ہے جو بادشاہ کے شایان نہیں۔ جب وہ گھر آیا تو اُس نے اُس پر الزام لگایا کہ وہ بے حیائی سے عوام میں ناچ رہا تھا (‏آیت ۲۰ میں مذکور لفظ ’’برہنہ‘‘ کا آیت ۱۴ کی روشنی میں مطلب اخذ کیا جائے)‏۔ اُس نے جواب دیا کہ اُس کا ناچنا خداوند میں خوشی کا اِظہار تھا اور کہ وہ خدا کے معاملوں کے لئے اپنے جوش میں کسی طرح کی کمی نہیں کرنے کا‏، اور کہ وہ عوام کی نظروں میں اَور بھی پست اور اپنی ہی نظر میں نیچ ہونے کو تیار ہے۔ اور جن ’’لونڈیوں‘‘ کا میکل نے حقارت سے ذکر کیا تھا وہی اُس کی عزت کریں گی۔ اپنے تنقیدی رویے کی وجہ سے میکل مرتے دم تک بانجھ پن کی لعنت کا شکار رہی۔ 

مقدس کتاب

۱ اور داؔؤد نے پھر اِسرائیلیوں کے سب چُنے ہُوئے تیس ہزار مردوں کو جمع کیا۔
۲ اور داؔؤد اُٹھا اور سب لگوں کو جو اُسکے ساتھ تھے لیکر بعلؔہیؔہُوداہ سے چلا تاکہ خُدا کے صندوق کو اُدھر سے لے آئے جو اُس نام کا یعنی رُبّ الافواج کے نام کا کہلاتا ہے جو کروبیوں پر بَیٹھتا ہے۔
۳ سو اُنہوں نے خدا کے صندُوق کو نئی گاڑی پر رکھّا اور اُسے ابینؔداب کے گھر سے جو پہاڑی پر تھا نِکال لائے اور اُس نئی گاڑی کو ابینداؔب کے بیٹے عُزؔت اور اخیؔو ہانکنے لگے۔
۴ اور وہ اُسے اینؔداب کے گھر سے جو پہاڑی پر تھا خُدا کے صندوق کے ساتھ نِکال لائے اور اخؔیو صندُوق کے آگے آگے چل رہا تھا۔
۵ اور داؔؤد اور اِسؔرائیل کا سارا گھرانا صنَوبر کی لکڑی کے سب طرح کے ساز اور سِتار ۔ بربط اور دف اور خنجری اور جھانجھ خُداوند کے آگے آگے بجاتے چلے ۔
۶ اور جب وہ نکؔون کے کھیلہان پر پہنچے تو عُزہّؔ نے خُدا کے صندُوق کی طرف ہاتھ بڑھا کر اُسے تھام لیا کیونکہ بَیلوں نے ٹھوکر کھائی تھی ۔
۸ تب خُداوند کا غُصّہ عُزہّؔ پر بھڑکا اور خُدا نے وہیں اُسے اُسکی خطا کے سبب سے مارا اور وہ وہٰن خُدا کے صندُوق کے پاس مر گیا۔
۷ اور داؔؤد اِس سبب سے کہ خُداوند عُزہّؔ پر ٹوٹ پڑا ناخُوش ہُؤا اور اُس نے اُس جگہ کا نام پرؔض عُزہّؔ رکھّا جو آج کے دِن تک ہے۔
۹ اور داؔؤد اُس دِن خُداوند سے ڈرگیا اور کہنے لگا کہ خُداوند کا صندُوق میرے ہاں کیونکر آئے ؟۔
۱۰ اور دؔاؤد نے خدُاوند کے صندُوق کو اپنے ہاں دؔاؤد کے شہر میں لے جانا نہ چاہا بلکہ دؔاؤد اُسے ایک طرف جاتی عؔوبید ادوم کے گھر لے گیا۔
۱۱ اور خُداوند کا صندُوق جاتی عؔوبیدادوم کے گھر میں تین مہینے تک رہا اور خُداوند نے عؔوبید ادوم کو اور اُسکے سارے گھرانے کو برکت دی۔
۱۲ اور داؔؤد بادشاہ کو خبر مِلی کہ خُداوند نے عؔوبیدادوم کے گھرانے کو اُور اُسکی ہر چیز میں خُدا کے صندُوق کے سبب سے برکت دی ہے۔ تب داؔؤد گیا اور خُدا کے صندُوق کو عؔوبیدادوم کے گھر سے دؔاؤد کے شہر میں خُوشی خُوشی لے آیا۔
۱۳ اور اِیسا ہُؤا کہ جب خُداوند کے صندُوق کے اُٹھانے والے چھ قدم چلے تو داؔؤد نے ایک بَیل اور ایک موٹا بچھڑا ذبح کِیا ۔
۱۴ اور داؔأد خُداوند کے حُضوُر اپنے سارے زور سے ناچنے لگا اور داؔؤد کنتان کا افُود پہنے تھا۔
۱۵ سو دؔاؤد اور اِسؔرائیل کا سارا گھرانا خُداوند کے صندُوق کو للکارتے اور نرسِنگا پھُونکتے ہُوئے لائے۔
۱۶ اور جب خُداوند کا صندُوق داؔؤد کے شہر کے اندر آرہا تھا تو ساؔؤل کی بیٹی مؔیکل نے کِھڑکی سے نِگاہ کی اور داؔؤد بادشاہ کو خُداوند کے حُضُور اُچھلتے اور ناچتے دیکھا سو اُس نے اپنے دِل ہی دِل میں اُسے حقیر جانا ۔
۱۸ اور وہ خُداوند کے صندُوق کو اندر لائے اور اُسے اُسکی جگہ پر اُس خَیمہ کے بیچ میں جو داؔؤد نے اُسکے لئے کھڑا کیا تھا رکھّا اور داؔؤد نے سوختنی قُربانیاں اور سلامتی کی قُربانیاں خُداوند کے آگے چڑھائیں ۔
۱۷ اور جب داؔؤد سوختنی قُربانی اور سلامتی کی قُربانیاں چڑھاچُکا تو اُس نے ربُّ الافواج کے نام سے لوگوں کو برکت دی۔
۱۹ اور اُس نے سب لوگویعنی اِؔسرائیل کے سارے انبوہ کے مردوں اور عَورتوں دونوں کو ایک ایک روٹی اور ایک ایک ٹکُڑا گوشت اور کشمِش کی ایک ایک ٹِکیا بانٹی ۔ پھر سب لوگ اپنے اپنے گھر چلے گئے۔
۲۰ تب داؔؤد لَوٹا تا کہ اپنے گھرانے کو برکت دے اور ساؔؤل کی بیٹی مؔیکل داؔؤد کے اِستقبال کو نِکلی اور کہنے لگی کہ اِسؔرائیل کا بادشاہ آج کَیسا شاندار معلوُم ہوتا تھا جِس نے آج کے دِن اپنے مُلازموں کی لَونڈیوں کے سامنے اپنے کو برہنہ کیا جَیسے کوئی بانکا بیحیائی سے برہنہ ہو جاتا ہے۔
۲۱ داؔؤد نے مؔیکل سے کہا یہ تو خُداوند کے حُضُور تھا جِس نے تیرے باپ اور اُسکے سارے گھرانے کو چھوڑ کر مُجھے پسند کیا تا کہ وہ مُجھے خُداوند کی قَوم اِؔسرائیل کا پیشوا بنائے۔ سو مَیں خُداوند کے آگے ناچُونگا۔
۲۲ بلکہ مَیں اِس سے بھ زِیادہ ذلیِل ہوُنگا اور اپنی ہی نظر میں نیچھ ہُونگا اور جِن لَونڈیوں کا ذِکر تو نے کیا ہے وُہی میری عِزت کر ینگی ۔
۲۳ سو ساؔؤل کی بیٹی مؔیکل مرتے دم تک بے اَولاد ہی رہی۔