۳: ۱۔۵ حبرون میں داؤد کی ساڑھے سات برس تک بادشاہت زور آور ہوتی گئی، جب کہ اشبوست کی حکمرانی میں ساؤل کا گھرانا کمزور ہوتا گیا۔ داؤد کا گھرانا بھی بڑھتا گیا۔ جب وہ پہلے حبرون میں آیا تھا اُس کی دو بیویاں اخی نوعم اور ابی جیل تھیں۔ خدا کی مرضی کے خلاف اُس نے چار بیویاں اَور کیں: معکہ، حجیت، ابیطال اور عجلاہ۔ اِن چھے بیویوں میں سے اُس کے چھے بیٹے پیدا ہوئے، جن میں سے تین یعنی امنون، ابی سلوم اور ادونیاہ اُس کے لئے دُکھ کا باعث بنے۔ (بعد ازاں اُس کے اَور بیٹے بھی پیدا ہوئے)۔
۳: ۶۔۱۱ گو ظاہراً ابنیر اِشبوست کا خادم تھا، لیکن درحقیقت وہ اپنی سیاسی حیثیت کو مستحکم کر رہا تھا کیونکہ وہ بھانپ گیا تھا کہ داؤد کے اِقتدار کا پلڑا بھاری ہو رہا ہے۔ اِشبوست نے ابنیر پر الزام لگایا کہ اُس کے ساؤل کی حرم کے ساتھ تعلقات ہیں اور اِس سے یہ معانی اخذ کئے کہ ابنیر گیارہ قبیلوں پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ آیا ابنیر پر یہ الزام درست تھا کہ غلط، تاہم اُس نے بڑی حقارت اور زور دار طریقے سے اِس کا اِنکار کیا اور اعلان کیا کہ وہ اپنی اور گیارہ قبیلوں کی وفاداریاں داؤد سے وابستہ کر دے گا۔ اِشبوست اِس قدر کمزور تھا کہ وہ مقابلہ نہ کر سکا۔ ’’کیا مَیں یہوداہ کے کسی کُتے کا سر ہوں؟‘‘ (آیت ۸)۔ اِس کا مطلب ہے ’’کیا میری کوئی وقعت نہیں، کیا مَیں حقیر و مردود ایک غدار ہوں جو ماضی میں یہوداہ کے ساتھ وفادار رہا؟‘‘
۳: ۱۲۔۱۶ ابنیر نے داؤد کو پیغام بھیج کر سارے اِسرائیل کو اُس کے مطیع کرنے کی پیش کش کی۔ داؤد نے ابنیر کی تجویز کو قبول کرنے سے پہلے یہ مطالبہ کیا کہ ساؤل کی بیٹی میکل اُسے واپس کی جائے۔ اِس سے اُس کا یہ مقصد تھا کہ یوں ساؤل کی سلطنت پر اُس کا دعویٰ مضبوط ہو جائے گا۔ اِشبوست نے اِس مطالبے کو منظور کر لیا اور میکل کو داؤد کے پاس پہنچا دیا گیا۔ لیکن اُس کا خاوند فلطی ایل بہت غمگین تھا۔ یوں داؤد کی شخصی زندگی میں مزید اُلجھاؤ پیدا ہو گیا اور اُس کی سوانح حیات میں ایک اَور تاریک باب کا اضافہ ہو گیا۔
۳: ۱۷۔ ۲۱ پھر ابنیر بنیمین اور دیگر قبیلوں کے پاس گیا جنہوں نے اِشبوست کی حکمرانی کو تسلیم کیا تھا، اور اُنہیں بتایا کہ داؤد اُنہیں فلستیوں کے ظلم سے بچانے کے لئے خدا کا موعودہ وسیلہ ہے۔ چونکہ اُن کا جواب ہاں میں تھا اِس لئے اُس نے داؤد کے پاس جا کر اُسے بتایا کہ وہ سارے اِسرائیل کو اُس کی اطاعت قبول کرنے کے لئے آمادہ کرنے کو تیار ہے۔
۳: ۲۲۔۳۰ جب ابنیر اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے داؤد سے رُخصت ہو کر جا رہا تھا تو یوآب شاہی محل میں آیا اور اُس دن کے واقعات کے بارے میں سنا۔ اُس نے بادشاہ سے ناراضی کا اِظہار کیا کہ اُس نے ایک جاسوس کی آؤ بھگت کر کے حماقت کا ثبوت دیا۔ اُس نے خفیہ طور پر سپاہیوں کو بھیجا کہ ابنیر کو واپس لائیں۔ جونہی ابنیر، حبرون کو واپس لوٹا، یوآب نے بہانے سے کہا کہ وہ پھاٹک پر اُس کے ساتھ خفیہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے، لیکن اُس کا مقصد یہ تھا کہ ابنیر کو انتقامی طور پر قتل کر دے۔ اُس نے ایسا ہی کیا۔ یوں اُس نے اپنے بھائی عساہیل کی موت کا بدلہ لیا اور ایک زور دار مدِمقابل سپہ سالار کو ختم کر دیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یوآب کو اِس بات کی بالکل پروا نہیں تھی کہ حبرون ’’پناہ کا شہر تھا‘‘، جہاں ابنیر کو کم از کم یہ حق تو حاصل تھا کہ اُس پر مقدمہ چلایا جاتا۔
۳: ۳۱۔۳۹ داؤد نے اعلان کیا کہ ابنیر کے لئے ماتم کیا جائے لیکن اُسے قتل کرنے کے لئے یوآب کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ بادشاہ کو اِس بات کا از حد دُکھ ہوا کہ ابنیر اِس قدر ذلت کی موت مرا، حالانکہ اپنی جرأت اور قوت کے مطابق وہ زیادہ باوقار موت کا مستحق تھا۔ آیت ۳۳ میں یہ خیال ہے کہ ’’کیا ابنیر ایک ناتجربہ کار احمق کی طرح مرا جو اپنا تحفظ کرنا نہیں جانتا تھا؟‘‘ بادشاہ کے غم سے لوگوں کو علم ہوا کہ یوآب نے یہ کام اپنی مرضی سے کیا۔ درحقیقت داؤد نے عوامی سطح پر ضرویاہ کے بیٹوں (یوآب اور ابی شے) کے ظلم سے ناخوشی کا اِظہار کیا اور خداوند سے دعا کی کہ وہ اُنہیں سزا دے۔ باب ۳ میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا نے اِنسانوں کے گناہ اور سازِش کو استعمال کیا کہ متحدہ سلطنت داؤد کو دے۔ حتیٰ کہ وہ اِنسان کے غضب کو اپنی ستائش کا باعث بناتا ہے (زبور ۷۶: ۱۰)۔
مقدس کتاب
۱ الغرض ساؔؤل کے گھرانے اور داؔؤد کے گھرانے میں مُدّت تک جنگ رہی اور داؔؤد روز بروز زور آور ہوتا گیا اور ساؔؤل کا خاندان کمزور ہوتا گیا ۔
۲ اور حؔبُرون میں داؔؤد کے ہاں بیٹے پَیدا ہُوئے ۔ اؔمنوُن اُسکا پہلوٹا تھا جو یزرعیلی اِخینوعم کے بطن سے تھا ۔
۳ اور دوُسرا کِلیاؔب تھا جو کرمِلی نؔابال کی بیوی اؔبیجیل سے ہُوا ۔ تیسرا ابؔی سلوم تھا جو جؔسُور کے بادشاہ تلمیؔ کی بیٹی معؔکہ سے ہُوا
۴ چوتھا اؔدونیاہ تھا جو جحیؔت کا بیٹاتھا اور پانچواں سفؔطیاہ کا بیٹا تھا ۔
۵ اور چٹا ابرّؔعام تھا جو داؔؤد کی بیوی عِجلاؔہ سے ہُؤا ۔ یہ داؔؤد کے ہاں حؔبرُون میں پَیدا ہُوئے ۔
۶ اور جب ساؔؤل کے گھرانے اور داؔؤد کے گھرانے میں جنگ ہو رہی تھی تو ابؔنیر نے ساؔؤل کے گھرانے میں خُوب زور پَیدا کر لیا۔
۸ اور ساؔؤل کی ایک حر م تھی جسکا نام رِصؔفاہ تھا ۔ وہ اؔیّاہ کی بیٹی تھی ۔ سو اِشبؔو ست نے ابؔنیر سے کہا تُو میرے باپ کی حرم کے پاس کیوں گیا۔؟۔
۷ اؔبنیر اِشبوؔست کی اِن باتوں سے بہت غُصہّ ہو کر کہنے لگا کیا مَیں یؔہُوداہ کے کِسی کُتّے کا سر ہُوں ؟ آج تک میں تیرے باپ سؤل کے گھرانے اور اُسکے بھائیوں اور دوستوں سے مِہربانی سے پیش آتا رہا ہُوں اور تجھے داؔؤد کے حوالہ نہیں کیا تَو بھی تُو آج اِس عورت کے ستھ مُجھ پر عَیب لگاتا ہے؟۔
۹ خُدا ابؔنیر سے وَیسا ہی بلکہ اُس سے زیادہ کرے اگر مَیں داؔؤد سے وُہی سَلُوک نہ کرُوں جِسکی قسم خُداوند نے اُسکے ساتھ کھائی تھی ۔
۱۰ تاکہ سلطنت کو ساؔؤل کے گھرانے سے مُنتقلِ کر کے داؔؤد کے تخت کو اِؔسرائیل اور یؔہُوداہ دونوں پر دؔان سے بیرؔسبع تک قائم کرُوں ۔
۱۱ اور وہ ابؔنیر کو ایک لفظ جواب نہ دے سکا اِسلِئے کہ اُس سے ڈرتا تھا۔
۱۲ اور ابؔنیر نے اپنی طرف سے دؔاؤد کے پاس قاصد روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ مُلک کِسکا ہے ؟ تو میرے ساتھ اپنا عہد باندھ اور دیکھ میرا ہاتھ تیرے ساتھ ہوگا تا کہ سارےاِؔسرائیل کو تیری طرف مائل کرُوں ۔
۱۳ اُس نے کہا اچھاّ میں تیرے ساتھ عہد باندھونگا پر میں تجھ سے ایک بات چاہتا ہُوں اور وہ یہ ہے کہ جب تُو مجھ سے مِلنے کو آئے تو جب تک ساؔؤل کی بیٹی مؔیکل کو پہلے اپنے ستھ نہ لائے تو میرا مُنہ دیکھنے نہیں پائیگا۔
۱۴ اور دؔاؤد نے ساؔؤل کے بیٹے اِشؔبوست کو قاصِدوں کی معرفت کہا بھیجا کہ میری بِیوی مؔیکل کو جسکو مَیں نے فلِستیوں کی سَو کھلڑیاں دیکر بِیاہا تھا میرے حوالہ کر ۔
۱۵ سواِشؔبوست نے لوگ بھیجکر اُسےاُسکے شہور لَؔیس کے بیٹے فلؔطی ایل سے چھین لیا۔
۱۶ اور اُسکا شوہر اُسکے ساتھ چلا اور اُسکے پیچھے پیچھے بحوؔریم تک روتا ہُؤا چلا آیا ۔ تب اؔبنیر نے اُس سے کہا لَوٹ جا۔ سو وہ لَوٹ گیا۔
۱۸ اور اؔبنیر نے اِسرائیلی بزرگوں کے پاس خبر بھیجی کہ گُذرے دِنوں میں تُم یہ چاہتے تھے کہ داؔؤد تُم پر بادشاہ ہو۔
۱۷ پس اب اِیسا کر لو کیونکہ خُداوند نے دؔاؤد کے حق میں فرمایا ہے کہ میں اپنے بندہ داؔؤد کی معرفت اپنی قوم اِؔسرائیل کو فلِستیوں اور اُنکے سب دُشمنوں کے ہاتھ سے رہائی دُونگا۔
۱۹ اور ابؔنیر نے بنی بینمین سے بھی باتیں کیں اور ابؔنیر چلا کہ جو کچھ اِسرائیلوں اور بؔینمین کے سارے گھرانے کو اچھا لگا اُسے حؔبُرون میں داؔؤد کو کہ سُنائے ۔
۲۰ سو ابؔنیر حبؔرُون میں داؔؤد کے پاس آیا اور بِیس آدمی اُسکے ساتھ تھے ۔ تب داؔؤد نے ابؔنیر اور اُن لوگوں کو جواُسکے ساتھ تھے ضِیافت کی۔
۲۱ اور ابؔنیرنے داؔؤد سے کہا اب اُٹھ کر جاؤنگا اور سارے اِسرائیل کو اپنے مالکِ بادشاہ کے پاس اِکٹھا کرونگا تا کہ وہ تجھ سے عہد باندھیں اور تُو جس جس پر تیرا جی چاہے سلطنت کرے ۔ سو داؔؤد نے اؔبنیر کو رُخصت کیا اور وہ سلامت چلا گیا۔
۲۲ داؔؤد کے لوگ اور یوؔآب کِسی دھاوے سے لوُٹ کا بہت سا مال اپنے ساتھ لیکر آئے لیکن ابؔنیر حؔبرُون میں داؔؤد کے پاس نہیں تھا کیونکہ اُس نے اُسے رُخصت کر دیا تھا اور وہ سلامت چلا گیا تھا۔
۲۳ اور جب یؔوآب اور لشکر کے سب لوگ جو اُسکے ساتھ تھے آئے تواُنہوں نے یوؔآب کو بتایا کہ نیؔر کا بیٹا ابؔنیر بادشاہ کے پاس آیا تھا اور اُس نے اُسے رُخصت کر دیا اور وہ سلامت چلا گیا۔
۲۴ تب یُوآؔب بادشاہ کے پاس آکر کہنے لگا یہ تُو نے کیا کیا ؟ دیکھ ! ابؔنیر تیرے پاس آیا تھا سو تُو نے اُسے کیوں رُخصت کر دیاکہ وہ نِکل گیا؟۔
۲۵ تُو نؔیر کے بیٹے ابؔنیر کو جانتا ہے کہ وہ تجھ کو دھوکا دینے اور تیرے آنے جانے اور تیرے سارے کام کا بھید لینے آیا تھا ۔
۲۶ جب یوآؔب داؔؤد کے پاس سے باہر نِکلا تو اُس سنے ابنؔیر کے پیچھے قاصِد بھیجے اور وہ اُسکو سِؔیرہ کے کوئیں سے لَوٹا لے آئے پر یہ داؔؤد کو معلوم نہیں تھا ۔
۲۸ جب اؔبنیر حؔبرُون میں لَوٹ آیا تو یوآؔب اُسے الگ پھاٹک کے اندر لے گیا تا کہ اُسکے ساتھ چُپکے چُپکے بات کرے اور وہاں اپنے بھائی عساؔہیل کے کُون کے بدلہ یں اُسکے پیٹ میں اَیسا مارا کہ وہ مر گیا۔
۲۷ بعد میں جب داؔؤد نے یہ سُنا تو کہا کہ میں اور میری سلطنت دونتوں ہمیشہ تک خُداوند کے آگے نؔیر کے بیٹے ابؔنیر کے خُون کی طرف سے بے گُناہ ہیں۔
۲۹ وہ یوآؔب اور اُسکے باپ کے سارے گھرانے کے سر لگے اور یوآؔب کے گھرانے میں کوئی نہ کوئی اَیسا ہوتا رہے جِسے جریان ہو یا جو کوڑھی ہو یا بیَساکھی پر چلے یا تلوار سے مرے یا ٹکُڑے ٹُکڑے کو مُحتاج ہو۔
۳۰ سو یوآؔب اور اُسکے بھائی اؔبیشے نے ابنؔیر کو مار دیا اِسلئے کہ اُس نے جبؔعون میں اُنکے بھائی عؔساہیل کو لڑائی میں قتل کیا تھا۔
۳۱ اور داؔؤد نے یوآؔب سے اور اُن سب لوگوں سے جو اُسکے ساتھ تھے کہا کہ اپنے کپڑے پھاڑو اور ٹاٹ پہنو اور ابؔنیر کے آگے آگے ماتم کرو اور داؔؤد بادشاہ آپ جنازہ کے پیچھے پیچھے چلا۔
۳۲ اور اُنہوں ابؔنیر کو حبؔرُون میں دفن کِیا اور بادشاہ اؔبنیر کی قبر پر چلاّ چلاّ کر رویا اور سب لوگ بھی روئے۔
۳۳ اور بادشاہ نے ابؔنیر پر یہ مرثیہ کہا۔ کیا ابؔنیر کو اَیسا ہی مرنا تھا جَیسے احمق مرتا ہے؟۔
۳۴ تیرے ہاتھ بندھے نہ تھے اور نہ تیرے پاؤں بیڑیوں میں تھے۔جیسے کو ئی بدکاروں کے ہاتھ سے مرتا ہے وَیسے ہی تُو مرا گیا۔ تب اُس پر سب لوگ دوبارہ روئے۔
۳۵ اور سب لوگ کچھ دِن رہتے داؔؤد کو روٹی کھِلاتےآئے لیکن داؔؤد نے قسم کھا کر کہا اگر مَیں آفتاب کے غروُب ہونے سے پیشتر روٹی یا اور کچھ چکھُّوں تو خُدا مجھ سے اِیسا بلکہ اِس سے زِیادہ کرے۔
۳۶ اور سب لوگوں نے اِس پر غَور کیا اور اِس سے خُوش ہوُئے کیونکہ جو کچھ بادشاہ کرتا تھا سب لوگ اُس سے خُوش ہوتے تھے۔
۳۸ سو سب لوگوں نے اور تمام اِسؔرائیل نے اُسی دِن جان لیا کہ نیؔر کے بیٹے اؔبنیر کا قتل ہونا بادشاہ کی طرف سے نہ تھا۔
۳۷ اور بادشاہ نے اپنے مُلازِموں سے کہا کیا تُم نہیں جانتے ہو کہ آج کے دِن ایک سرادار بِلکہ ایک بہت بڑا آدمی اِؔسرائیل میںمرا ہے؟۔ اور ابرچہ مَیں ممسُوح بادشاہ ہُوں تو بھی آج کے دِن عاجِز ہُوں اور یہ لوگ بنی ضرویاہ مُجھ سے زبردست ہیں۔ خُداوند بدکار کو اُسکی بدی کے مُوافقِ بدلہ دے۔
۳۹