۲سموئیل ۲۱

۴۔ ضمیمہ (‏ابواب ۲۱۔۲۴)‏

۲۔سموئیل کا باقی ماندہ حصہ ایک ضمیمہ ہے جس میں داؤد کے عہد کے مختلف واقعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ لیکن اِن واقعات کو تواریخی ترتیب کے ساتھ پیش نہیں کیا گیا (‏تواریخی ترتیب پھر ۱۔سلاطین ۱ باب میں جاری رہتی ہے)‏۔ 

الف۔ کال اور اِس کا خاتمہ (‏باب ۲۱)‏

۲۱:‏۱ پہلا واقعہ ایک کال کا ہے جو تین سال تک جاری رہا۔ جب داؤد نے خداوند سے اِس کی وجہ پوچھی تو اُسے بتایا گیا کہ ساؤل نے جبعونیوں سے معاہدہ توڑا تھا۔ ملک کے اِن غیر قوم باشندوں نے یشوع کے ساتھ چالاکی سے معاہدہ کر لیا تھا۔ ساؤل نے جبعونیوں کو ہلاک کرنے سے معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جس کا عہد عتیق میں اِس سے پہلے ذکر نہیں کیا گیا۔ ’’خوں ریز گھرانے‘‘ کا غالباً یہ مطلب ہے کہ ساؤل کی نسل نے جبعونیوں کو ہلاک کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا‏، اِس لئے اُن کی سزاواجبی تھی (‏آیات ۲۔۹)‏۔ یہ بے حد سختی لگتی ہے کہ ایک مرے ہوئے شخص کے جرم کی پاداش میں ایک پوری قوم کو سزا دی جائے‏، لیکن کئی صدیاں قبل اِسرائیل نے جبعونیوں سے قسم کھائی تھی (‏یشوع ۹:‏۱۹‏،۲۰)‏ اور کال کا سبب یہ تھا کہ قسم کو توڑا گیا تھا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ خدا کے اِنصاف کا تقاضا کم نہیں ہو جاتا۔ 

۲۱:‏ ۲۔۹ داؤد نے جبعونیوں سے معلوم کیا کہ ساؤل کے جرم کی وہ کس طرح کی تلافی قبول کریں گے۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ اُنہیں نہ تو ساؤل کے سونے اور نہ ہی اُس کی چاندی کی ضرورت ہے‏، اور کہ اُن کا کوئی حق نہیں کہ وہ اِسرائیل کے کسی شخص کو ہلاک کریں۔ تلافی کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ ساؤل کے بیٹوں میں سے سات کو پھانسی دی جائے۔ داؤد نے اُن کا مطالبہ منظور کر لیا۔ یہ سات بیٹے یہ تھے:‏ رصفہ کے دو بیٹے ارمونی اور مفیبوست (‏لیکن یہ یونتن کا بیٹا مفیبوست نہیں تھا)‏ اور ساؤل کی بیٹی میرب کے پانچ بیٹے۔ میکل کو مسترد کرنے کی دو وجوہات ہیں:‏ میکل کی شادی عدری ایل سے نہیں بلکہ فلطی سے ہوئی تھی (‏۱۔سموئیل ۲۵:‏۴۴)‏ اور وہ بے اولاد تھی (‏۲۔سموئیل ۶:‏۲۳)‏۔ یہاں پر مذکور بزری ایل وہ شخص نہیں جس نے داؤد کی اُس وقت مدد کی جب وہ ابی سلوم کے سامنے سے بھاگا تھا۔ 

۲۱:‏۱۰ ساؤل کی وفادار حرم رصفہ رات دن لاشوں کی نگرانی کرتی رہی تاکہ نہ تو گدھ اور نہ ہی جنگلی درندے اُنہیں نقصان پہنچا سکیں۔ اُس نے فصل کی کٹائی سے اُس وقت تک یہ نگرانی جاری رکھی جب تک کہ خدا نے بارش نہ برسائی اور یوں کال کا خاتمہ نہ ہوا جو اِن اموات کا سبب تھا۔ 

۲۱:‏ ۱۱۔۱۴ جب داؤد نے اِس خاتون کی محبت اور عقیدت کے بارے میں سنا تو اُس نے اِن سات لاشوں اور ساؤل اور یونتن کی ہڈیوں کو جنہیں یبیس جلعاد میں دفن کیا گیا تھا‏، احسن طریقے سے دفن کرنے کا اِنتظام کیا۔ ساؤل اور یونتن کی ہڈیوں کو بنیمینی قیس کی قبر میں دفن کیا گیا۔ 

۲۱:‏ ۱۵۔۲۲ اِس پیرے میں فلستی جباروں سے مختلف جنگوں کا بیان ہے۔ پہلی جنگ میں اشبی بنوب‏، داؤد کو قتل کر دینے والا تھا کہ ابی شے نے اُس کی جان بچائی اور اُس فلستی کو جان سے مار دیا۔ اِس کے بعد لوگوں نے داؤد کو لڑائی میں حصہ لینے نہ دیا۔ جُوب (‏جزر)‏ کے مقام پر دوسری جنگ میں سبکّی نے ایک اَور جبار کو مار دیا۔ تیسری جنگ میں الحنان نے جاتی جولیت کے بھائی کو ہلاک کر دیا (‏مقابلہ کریں ۱۔تواریخ ۲۰:‏۵)‏۔ چوتھی جنگ میں ایک ایسا جبار مارا گیا جس کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کی چھے چھے اُنگلیاں تھیں۔ پلینی(‏Pliny)‏ بعض ایک رومیوں کا ذکر کرتا ہے جن کی چھے چھے اُنگلیاں تھیں۔ یہ بعض خاندانوں کی موروثی کیفیت تھی۔ 

مقدس کتاب

۱ اور داؔؤد کے ایاّم میں پےَ در پےَ تین سال کال پڑا اور داؔؤد نے خُداوند سے دریافت کیا۔ خُداوند نے فرمایا کہ یہ ساؔل اور اُسکے خُنریز گھرانے کے سبب سے ہے۔ کیونکہ اُس نے جبعونیوں کو قتل کیا ۔
۲ تب بادشاہ نے جبعُونیوں کو بُلا کر اُن سے بات کی۔ یہ جبُعونی بنی اِسرائیل میں سے نہیں بلکہ بچے ہُوئے اموریوں میں سے تھے اور بنی اِسرائیل نے اُن سے قسم کھائی تھ اور ساؔؤل نے بنی اسرائیل نے اُن سے قسم کھائی تھی اور ساؔؤل نے بنی اسرائیل اور بنی یُہوداہ کی خاطر اپنی گرمجوشی میں اُنکو قتل کر ڈالنا چاہا تھا۔
۳ سو داؔؤد نے جبعوُنیوں سے کہا مَیں تمہارے لئے کیا کرُوں اور میں کس چیز سے کفاّرہ دُوں تاکہ تم خُداوند کی میراث کو دُعا دو؟۔
۴ جبعُونیوں نے اُس سے کہا کہ ہمارے اور ساؔؤل یا اُسکے گھرانے کے درمیان چاندی یا سونے کا کوئی مُعاملہ نہیں اور نہ ہم کو یہ اختیار ہے کہ ہم اِؔسرائیل کے کسی مرد کو جان سے ماردیں ۔ اُس نے کہا جو کچُھ تُم کہوں مَیں وُہی تُمہارے لئے کرونگا۔
۵ اُنہوں نے بادشاہ کو جواب دیا کہ جس شخص نے ہمارا ناس کیا اور ہمارے خِلاف اَیسی تدبیر نکالی کہ ہم نابوُد کئے جائیں اور اِؔسرائیل کی کسی مملکت میں باقی نہ رہیں ۔
۶ اُسی کے بیٹوں میں سے سات آدمی ہمارے حوالہ کر دِئے جائیں اور ہم اُنکو خُداوند کے لئے خُداوند کے چُنے ہُوئے ساؔؤل کے جبؔعہ میں لٹکا دینگے ۔ بادشاہ نے کہا مَیں دے دُونگا۔
۸ لیکن بادشاہ نے مفیبوست بن یُونتؔن بن سؔاؤل کے بیٹے یُونتؔن کے درمیان ہوئی تھی بچا رکھّا ۔
۷ پر بادشاہ نے ایّؔاہ کی بیٹی رِصفؔہ کے دونوں بیٹوں ارؔمونی اور مفیؔبوست کو جو ساؔؤل سے ہُوئے تھے اور ساؔؤل کی بیٹی میکل کے پانچوں بیٹوں کو جو برزِلی محُولاتی کے بیٹے عؔدری ایل سے ہُوئے تھےلیکر۔
۹ اُنکو جبُعونیوں کے حوالہ کیا اور اُنہوں نے اُنکو پہاڑ پر خُداوند کے حُضُور لٹکا دیا۔ سو وہ ساتوں ایک ساتھ مرے ۔ یہ سب فصل کاٹنے کے ایام میں یعنی جو کی فصل کے شروع کے دِنوں میں مارے گئے ۔
۱۰ تب ایاؔہ کی بیٹی رِصؔفہ نے ٹاٹ لیا اور فصل کے شرُوع سے اُسکو اپنے لئے چٹان پر بچھائے رہی جب تک کہ آسمان سے اُن پر بارش نہ ہُوئی اور اُس نے نہ تو دِن کے وقت ہوا کے پرندوں کواور نہ رات کے وقت جنگلی درِندوں کو اُن پر آنے دیا ۔
۱۱ اور داؔؤد کو بتایا گیا کہ سؔاؤل کی حرم ایّؔاہ کی بیٹی رِصؔفہ نے اَیسا اَیسا کیا۔
۱۲ تب داؔؤد نے جاکر ساؔؤل کی ہڈیوں اور اُسکے بیٹے یُونتؔن کی ہڈیوں کیو یبِؔیس جلاعد کے لوگوں سے لیا جو اُنکو بَیتؔ شان کے چَوک میں سے چُرا لائے تھے جہاں فلسِتیوں نے اُنکو جس دن کہ اُنہوں نے ساؔؤل کو جلبوؔعہ میں قتل کیا ٹانگ دیا تھا۔
۱۳ سو وہ ساؔؤل کی ہڈیوں اور اُسکے بیٹے یوُنتؔن کی ہڈیوں کو وہاں سے لے آیا اور اُنہوں نے اُنکی بھی ہڈیاں جمع کیں جو لٹکائے گئے تھے۔
۱۴ اور اُنہوں نے ساؔؤل اور اُسکے بیٹے یُونؔتن کی ہڈیوں کو ضِلؔع میں جو بینمین کی سر زمین میں ہے اُسی کے باپ قِیؔس کی قبر میں دفن کیا اور اُنہوں نے جو کچھ بادشاہ نے فرمایا سب پُورا کیا۔ اِسکے بعد خُدانے اُس مُلک کے بارہ میں دُعا سُنی۔
۱۵ اور فِلستی پھر اِسرائیلیوں سے لڑے اور داؔؤد اپنے خادموں کے ساتھ نکلا اور فلسِتیوں سے لڑا اور داؔؤد بہت تھک گیا ۔
۱۶ اور اِشبی بنوؔب نے جو دیوزادو ں میں سے تھا اور جسکا نیزہ وزن میں پیتل کی تین سو مثقال تھا اور وہ ایک نئی تلوار باندھے تھا چاہا کہ داؔؤد کو قتل کرے۔
۱۸ پر ضؔرُویاہ کے بیٹے اؔبیشے نے اُسکی کمک کی اور اُس فلِستی کو اَیسی ضرب لگائی کہ اُسے مار دیا ۔ تب داؔؤد کے لوگوں نے قسم کھا کر اُس سے کہا کہ تُو پھر کبھی ہمارے ساتھ جنگ پر نہیں جائیگا تا نہ ہوکہ تُو اِؔسرائیل کا چراغ بُجھا دے ۔
۱۷ اِسکے بعد فلِستیوں کے ساتھ پھر جُوبؔ میں لڑائی ہُوئی تب حُوساتی سؔبّکی نے سؔف کو جو دیوزادوں میں سے تھا قتل کیا۔
۱۹ اور پھر فلسِتیوں سے جوبؔ میں ایک اَور لڑائی ہُوئی ۔ تب اِلؔحنان بن لعؔری ارجیم نے جو بَیت لحم کا تھا جاتی جوؔلیت کو قتل کیا جسکے نیزہ کی چھڑ جُلا ہے کے شہتیر کی طرح تھی ۔
۲۰ پھر جاؔت میں لڑائی ہوئی اور وہاں ایک بڑا قد آور شخص تھا۔ اُسکے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں چھ چھ اُنگلیاں تھیں جو سب کی سب گِنتی میں چوبیس تھیں ۔ اور یہ بھی اُس دیو سے پَیدا ہوا تھا۔
۲۱ جب اِس نے اِسرائیلیوں کی فضیحت کی تو دؔاؤد کے بھائی سِمعیؔ کے بیٹے یُونتؔن نے اُسے قتل کیا۔
۲۲ یہ چاروں اُس دیو سے جاؔت میں پَیدا ہوُئے تھے اور وہ داؔؤد کے ہاتھ سے اور اُسکے خادِموں کے ہاتھ سے مارے گئے۔