د۔ ابی سلوم کی بغاوت اور داؤد کا فرار (۱۵: ۱۔۱۸)
۱۵: ۱۔۶ اِس وقت تک ابی سلوم نے بادشاہ بننے کی خواہش کو دبائے رکھا۔ لیکن اب وہ بڑی آن بان سے اپنے حاشیہ نشینوں کے ساتھ اِدھر اُدھر سفر کرتا۔ اور بڑی دلیری سے شہر کے پھاٹک پر جاتا (جہاں قانونی معاملات کا فیصلہ ہوتا تھا) اور یوں ظاہر کرتا کہ سارے اِسرائیل میں مَیں ہی واحد شخص ہوں جو عوام کی فلاح و بہبود کا خواہاں ہے۔ اُس نے اپنے باپ پر الزام لگایا کہ وہ خاطر خواہ قانونی مدد دینے سے قاصر ہے، اور کہہ دیا کہ اگر مَیں بادشاہ ہوتا تو ہر ایک کو ٹھیک اِنصاف ملتا۔ یوں اُس نے اِسرائیل کے مختلف شہروں کے باشندوں کی حمایت حاصل کر لی۔
۱۵: ۷۔۱۲ چار سال کے بعد (ہفتادی اور سریانی نسخوں اور یوسیفس کے مطابق) ابی سلوم نے اِجازت لی کہ حبرون میں جا کر اپنی اُس مَنّت کو پورا کرے جو اُس نے جلاوطنی کے ایام میں مانی تھی۔ لیکن سب محض دکھاوا تھا۔ غالباً حبرون کے باشندے اِس بات سے خوش نہیں تھے کہ داؤد نے حبرون کے بجائے یروشلیم کو صدر مقام بنا لیا تھا۔ اور حبرون ابی سلوم کی جائے پیدائش بھی تھی۔ جو دو سو لوگ ابی سلوم کے ساتھ گئے، اُنہیں علم نہیں تھا کہ اُس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایک نئی حکومت تشکیل دے کر خود بادشاہ بن بیٹھے۔ داؤد کا مشیر اور بت سبع کا دادا اخی تفل (۱۱:۳ سے ۲۳:۳۴ کا موازنہ کریں) اور دیگر بہت سے لوگ تخت پر غاصبانہ قبضے کی سازش میں ابی سلوم کے ساتھ مل گئے۔ شاید اخی تفل داؤد کا اپنی پوتی کے ساتھ گناہ کا حساب برابر کرنا چاہتا تھا۔
۱۵: ۱۳۔۱۸ جب داؤد کو یہ خبر ملی تو اُس نے فیصلہ کیا کہ اِس خراب صورتِ حال کے پیش نظر مجھے یروشلیم سے نکل جانا چاہئے۔ چنانچہ اُس نے فوراً اپنے گھرانے کو اکٹھا کیا اور شہر سے بھاگ نکلا۔ لیکن اُس نے دس حرمیں گھر کی نگہبانی کے لئے پیچھے چھوڑ دیں۔
ہ۔ داؤد کے دوست اور دشمن (۱۵:۱۹۔۱۶:۱۴)
۱۵: ۱۹۔۲۲ جو اشخاص داؤد کے ساتھ نکلے، اُن میں فلستیوں کا ایک گروہ بھی شامل تھا جو جات کو چھوڑ کر اُس کے ساتھ آئے تھے۔ اُن میں سے ایک اِتی جاتی تھا۔ جب وہ اُس کے پیچھے پیچھے چلا تو بادشاہ نے اُسے مجبور کیا کہ واپس چلا جائے، کیونکہ وہ یہودی نہیں تھا، بلکہ ایک جلاوطن تھا اور حال ہی میں بادشاہ کے لوگوں میں شامل ہوا تھا۔ داؤد کا مستقبل غیر یقینی تھا۔ لیکن اِتی واپس جانا نہیں چاہتا تھا، بلکہ وہ بادشاہ کے ساتھ جانے کے لئے بضد تھا، خواہ اُسے اِس کی کیسی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ داؤد نے اِس غیر قوم کی وفاداری کا اُسے یہ اَجر دیا کہ اُسے اور اُس کے ساتھیوں کو جلاوطنی میں اپنے ساتھ جانے دیا۔ اِتی نے کہا ’’جہاں کہیں میرا مالک بادشاہ خواہ مرتے خواہ جیتے ہو گا وہیں ضرور تیرا خادم بھی ہو گا۔‘‘ بادشاہوں کے بادشاہ کے ردّ کئے جانے کے دوران ایمان داروں کی اُس سے ایسی ہی عقیدت ہونی چاہئے جیسی اِتی کی داؤد سے تھی۔
۱۵:۲۳ اُنہوں نے یروشلیم کے مشرق میں قدرون کے نالے کو پار کیا اور یردن کی وادی کی طرف چل دیئے۔ تقریباً ایک ہزار سال بعد داؤد کا عظیم فرزند ردّ کئے گئے بادشاہ کی حیثیت سے اُس کے قدموں پر چلا (یوحنا ۱۸:۱)۔ داؤد نے قدرون کو پار کیا اور اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ گیا۔ یسوع نے اِسی وادی کو پار کر کے گتسمنی میں دعا کی، یعنی یہ وہ راستہ تھا جس پر چل کر اُس نے بہتوں کے لئے اپنی جان فدیہ میں دی۔
۱۵: ۲۴۔۲۹ صدوق اور ابیاتر کاہن عہد کے صندوق کو لئے ہوئے داؤد کے ساتھ جلاوطنی میں جانے کے لئے شہر سے باہر آئے۔ لیکن اُس نے اِس اُمید میں اُنہیں واپس بھیج دیا کہ خداوند مجھے واپس لائے گا۔ اُس نے کاہنوں سے کہا کہ تم یروشلیم میں رہ کر میری زیادہ مدد کر سکو گے (یعنی ابی سلوم کی جاسوسی کرنے سے)۔ مَیں یردن کے مغربی کنارے تک جا کر ابی سلوم کی بغاوت کی کمی بیشی کی خبر کا اِنتظار کروں گا۔
اپنی جلاوطنی میں تلخی کا اِظہار کرنے کے بجائے، داؤد نے بڑی اِنکساری سے اپنے آپ کو حالات کے سپرد کر دیا جو خدا نے پیدا ہونے کی اِجازت دی تھی۔ اپنے عنوان کے مطابق زبور ۳ اِسی وقت لکھا گیا۔ اِس زبور میں ہم دیکھتے ہیں کہ مصیبتوں کے اِس طوفان میں خداوند پر داؤد کے ایمان میں کسی طرح سے لغزش نہ آئی۔
۱۵: ۳۰۔۳۷ داؤد اپنے وفادار ساتھیوں کے ساتھ کوہِ زیتون پر روتا ہوا اور دعا کرتا ہوا جا رہا تھا کہ خداوند اخی تفل کی ابی سلوم کو دی ہوئی مشورت باطل کر دے۔ کوہِ زیتون کی چوٹی پر ارکی حوسی کی بادشاہ سے ملاقات ہوئی۔ داؤد نے اُسے کہا کہ وہ یروشلیم کو لوٹ جائے اور ابی سلوم سے وفاداری کا اِظہار کرے۔ اور اخی تفل کے دیئے ہوئے ہر ایک مشورے کو باطل قرار دے اور صدوق اور ابیاتر کاہن کو اہم خبر پہنچا دیا کرے جو بعد میں اپنے دو بیٹوں کو داؤد کے پاس بھیج دیا کریں گے۔ حوسی عین اُس وقت یروشلیم میں پہنچا جب ابی سلوم حکومت پر قبضہ کرنے کے لئے پہنچ رہا تھا۔
مقدس کتاب
۱ اِسکے بعد اَیسا ہُؤا کہ ابؔی سلوم نے اپنے لئے ایک رتھ اور گھوڑے اور پچاس آدمی تیار کئے جو اُسکے آگے آگے دوَڑیں ۔
۲ اور ابؔی سلوم سویرے اُٹھ کر پھاٹک کے راستہ کے برابر کھڑا ہو جاتا اور جب کوئی اَیسا آدمی آتا جسکا مُقدمہ فَیصلہ کے لئے بادشاہ کے پاس جانے کو ہواتا تو ابؔی سلوم اُسے بُلا کر پوُچھتا تھا کہ تُو کس شہر کا ہے ؟ اور وہ کہاتا کہ تیرا خادِم اِؔسرائیل کے فُلانے قبیلہ کا ہے۔
۳ پھر ابؔی سلوم اُس سے کہتا دیکھ تیری باتیں تو ٹھیک اور سَچیّ ہیں لیکن کوئی بادشاہ کی طرف سے مُقرر نہیں ہے جو تیری سُنے ۔
۴ ابی سلوم یہ بھی کہا کرتا تھاکہ کاش مَیں مُلک کا قاضی بنایا گیا ہوتا تو ہر شخص جِسکا کوئی مُقدمہ یا دعویٰ ہوتا میرے پاس آتا اور مَیں اُسکا اِنصاف کرتا!۔
۵ اور جب کوئی ابؔی سلوم کے نذدکی آتا تھا کہ اُسے سِجدہ کرے تو وہ ہاتھ بڑھا کر اُسے پکڑ لیتا اور اُسکو بوسہ دیتا تھا۔
۶ اور ابؔی سلوم سب اِسرائیلیوں سے جو بادشاہ کے پاس فَیصلہ کے لئے آتے تھے اِسی طرح پیش آتا تھا ۔ یُوں ابؔی سلوم نے اؔسرائیل کے لوگوں کے دِل موہ لئے۔
۸ اور چالیس برس کے بعد یُوں ہُؤا کہ ابؔی سلوم نے بادشاہ سے کہا مجھے ذرا جانے دے کہ مَیں اپنی منّت جو مَیں نے خُداوند کے لئے مانی ہے حؔبرُون میں پُوری کروُں۔
۷ کیونکہ جب مَیں ارؔام کے حؔبسُور میں تھا تو تیرے خادم نے یہ منت مانی تھی کہ اگر خُداوند مجھے پھر یرؔوشلیم میں سچ مُچ پُہنچا دے تو مَیں خُداوند کی عبادت کرُونگا۔
۹ بادشاہ نے اُس سے کہا کہ سلامنت جا۔ سو وہ اُٹھا اور حؔبرُون کو گیا۔
۱۰ اور ابؔی سلوم نے بنی اِسرائیل کے سب قبیلوں میں جاسُوس بھیج کر منادی کرا دی کہ جَیسے ہی تُم نر سِنگے کی آواز سُنو تو بول اُٹھنا کہ ابؔی سلوم حؔبرُون میں بادشاہ ہوگیا ہے ۔
۱۱ اور ابؔی سلوم کے ساتھ یرؔوشلیم سے دو سَو آدمی جنکو دعوت دی گئی تھی گئے تھے۔ وہ سادہ دِلی سے گئے تھے اور اُنکو کِسی بات کی خبر نہیں تھی۔
۱۲ اور ابؔی سلوم نے قُربانیاں گُذرانتے وقت جِلوئی اِخیتفؔل کو جو داؔؤد کا مُشِیر تھا اُسکے شہر جلؔوہ سے بُلوایا ۔ یہ بڑی بھاری سازش تھی اور ابؔی سلوم کے پاس لوگ برابر بڑھتے ہی جاتے تھے۔
۱۳ اور ایک قاصِد نے آکر داؔؤد کو خبر دی کہ بنی اِسرائیل کے دِل ابؔی سلوم کی طرف ہیں ۔
۱۴ اور داؔؤد نے اپنے سب مُلازموں سے جو یرؔوشلیم میں اُسکے ساتھ تھے کہا اُٹھو بھاگ چلیں ۔ نہیں تو ہم میں سے ایک بھی ابؔی سلوم سے نہیں بچیگا۔ چلنے کی جلدی کرو نہ ہو کہ وہ ہم کو جھٹ آ لے اور ہم پر آفت لائے اور شہر کو تہِ تیغ کرے۔
۱۵ بادشاہ کے خادِموں نے بادشاہ سے کہا دیکھ تیرے خادِم جو کچھ ہمارا مالِک بادشاہ چاہے اُسے کرنے کو تیار ہیں ۔
۱۶ تب بادشاہ نِکلا اور اُسکا سارا گھرانا اُسکے پیچھے چلا اور بادشاہ نے دس عوَرتیں جو حرمیں تھیں گھر کی نگہبانی کے لئے پیچھے چھوڑ دِیں ۔
۱۸ اور بادشاہ نِکلا اور سب لوگ اُسکے پیچھے چلے اور وہ بَیت مِرحاؔق میں ٹھہر غئے ۔
۱۷ اور اُسکے سب خادِم اُسکے برابر سے ہوتے ہُوئے آگے گئے اور سب کریتی اور سب فلیتی اور سب جاتی یعنی وہ چھ سَو آدمی جو جاؔت سے اُسکے ساتھ اُسکے ساتھ آئے تھے بادشاہ کے سامنے آگے چلے۔
۱۹ تب بادشاہ نے جاتی اِتیؔ سے کہا تُو ہمارے ساتھ کیوں چلتا ہے؟ تُو لَوٹ جا اور بادشاہ کے ساتھ رہ کیونکہ تُو پردیسی اور جلا وطن بھی ہے ۔ سو اپنی جگہ کو لَوٹ جا ۔
۲۰ تُو کل ہی تو آیا ہے سو کیا آج مَیں تجھے اپنے ساتھ اِدھر اُدھر پھر اؤُن جِس حال کہ مجھے جدھر جا سکاتا ہوُں جانا ہے؟ سو لوٹ جا اور اپنے بھائیوں کو ساتھ لیتا جا۔ ۔ رحمت اور سّچائی تیرے ساتھ ہوں ۔
۲۱ تب اِتؔی نے بادشاہ کی جان کی قسم جہاں کہٰن میرا مالک بادشاہ خواہ مرتے خواہ جیتے ہوگا وہیں ضُرور تیرا خادِم بھی ہوگا ۔
۲۲ سو داؔؤد نے اِتیؔ سے کہا چل پار جا اور جاتی اِتؔی اور اُسکے سب لوگ اور سب ننھے بچے جو اُسکے ساتھ تھے پار گئے۔
۲۳ اور سارا مُلک بلند آواز سے رویا اور سب لوگ پار ہوگئے اور بادشاہ خُد نہرِ قدِرؔون کے پار ہُؤا اور سب لوگوں نے پارہو کر دشت کی رہ لی۔
۲۴ اور صؔدوق بھی اور اُسکے ساتھ سب لاوی خُدا کے عہد کا صندُوق لئے ہُوئے آئے اور اُنہوں نے خُدا کے صندُوق کو رکھ دیا اور ابؔیاتر اُوپر چڑھ گیا اور جب تک سب لوگ شہر سے نِکل نہ آئے وہیں رہا۔
۲۵ تب بادشاہ نے صندُوق سے کہا کہ خُدا کا صندوُق شہر کو واپس لے جا۔ پس اگر خُداوند کے کرم کی نظر مجھ پر ہوگی تو وہ مجھے پھر لے آئیگا اور اُسے اور اپنے مسکن کو مجھے پھر دِکھائیگا۔
۲۶ پر اگر وہ یُوں فرمائے کہ مَیں تجھ سے خُوش نہیں تو دیکھ مَیں حاضر ہوں جو کچھ اُسکو بھلا معلوم ہو میرے ساتھ کرے۔
۲۸ اور بادشاہ نے صؔدوُق کاہن سے یہ بھی کہا کیا تُو غَیب بین نہیں ؟ شہر کو سلامت لَوٹ جا اور تُمہارے ساتھ تمُہارے دونوں بیٹے ہوں اخیمؔعض جو تیرا بیٹا ہے اور یُونؔتن جو ابؔیاتر کا بیٹا ہے۔
۲۷ اور دیکھ مَیں اُس دشت کے گھاٹوں کے پاس ٹھہرا رہُونگا جب تک تُمہارے پاس سے مجھے حقیقت حال کی خبر نہ مِلے۔
۲۹ سو صدؔوُق اور ابؔیاتر خُدا کا صنُدوق یرؔوشلیم کو واپس لے گئے اور وہیں رہے۔
۳۰ اور داؔؤد کوہِ زَتیون کی چڑھائی پر چڑھنے لگا اور روتا جا رہا تھا ۔ اُسکا سر ڈھکا تھا اور وہ ننگے پاؤں چل رہا تھا اور وہ سب لوگ جو اُسکے ساتھ تھے اُن میں سے ہر ایک نے اپنا سر ڈھانک رکھا تھا۔ وہ اوپر چڑھتے اور روتے جاتے تھے۔
۳۱ اور کِسی نے داؔؤد کو بتایا کہ اخؔیقفل بھی مُفِسدوں میں شامِل اور ابؔی سلوم کے ساتھ ہے ۔ تب داؔؤد نے کہا اَے خُداوند ! مَیں تجھ سے مِنت کرتا ہوُں کہ اخیقُفل کی صلاح کو بیو قوفی سے بدل دے ۔
۳۲ جب داؔؤد پر چوٹی پر پُہنچا جہاں خُدا کو سجدہ کا کرتے تھے توار کی حُسؔی اپنی قبا پھاڑے اور سر پر خاک ڈالے اُسکے اِستقبال کو آیا ۔
۳۳ اور داؔؤد نے اُس سے کہا اگر تُو میرے ساتھ جائے تو مجھ پر بار ہوگا۔
۳۴ پر اگر تو شہر کو لَوٹ جائے اور ابی سلوم سے کہے کہ اَے بادشاہ میں تیرا خادِم ہُونگا جیسے گُذرے زمانہ میں تیرے باپ کا خادِم رہا وَیسے ہی اب تیرا خادِم ہُوں تو تُو میری خاطرِ اِخیتفؔل کی مشورت کو باطِل کر دیگا۔
۳۵ اور کیا وہاں تیرے ساتھ صؔدُوق اور ابؔیاتر کاہنوں کو بتا دینا۔
۳۶ دیکھ وہاں اُنکے ساتھ اُنکے ساتھ اُنکے دونوں بیٹے ہیں یعنی صدؔوق کا بیٹا اخیمعض اور ابؔیاتر کا بیٹا یُونتؔن سو جو کچھ تپم سُنو اُسے اُنکی معرفت مجھے کہلا بھیجنا ۔
۳۸ سو داؔؤد کا دوست حُوسؔی شہر میں آیا اور ابؔی سلوم بھی یرؔوشلیم میں پُہنچ گیا۔