ج۔ ابی سلوم کی یروشلیم میں واپسی (باب ۱۴)
۱۴:۱ یوآب جانتا تھا کہ بادشاہ کی آرزو ہے کہ ابی سلوم یروشلیم میں واپس آئے۔ لیکن عوام جانتے تھے کہ ابی سلوم قاتل ہے اور وہ سزائے موت کا مستحق ہے۔ چنانچہ عوامی ناپسندیدگی کے ڈر سے داؤد ابی سلوم کو واپس لانے سے باز رہا۔
۱۴: ۲۔۷ چنانچہ یوآب نے تقوعَ (نزد بیت لحم) کی ایک عورت کو داؤد کے پاس بھیجا۔ وہ عورت داؤد کی خاندانی کیفیت جیسی اپنی کیفیت کو بیان کرنے آئی۔ شدید ماتم کے بھیس میں، اُس نے بتایا کہ کس طرح اُس کے ایک بیٹے نے دوسرے بیٹے کو قتل کر دیا۔ اور اب خاندان کے افراد اُس کے واحد وارث کو سزائے موت دینے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ لیکن یوں اُس کے خاندان کا کلی طور پر رُوئے زمین سے نام مٹ جائے گا۔
۱۴: ۸۔۱۳ پہلے تو بادشاہ نے اُسے بتایا کہ وہ اپنے گھر واپس جائے اور جواب کا اِنتظار کرے، شاید اُسے اُمید تھی کہ وہ قاتل کو بری الذمہ قرار دینے کی نااِنصافی سے بچ سکے۔ لیکن وہ فوری جواب کا تقاضا کر رہی تھی تاکہ وہ بادشاہ کو اُس کے اپنے جواب میں پھنسا سکے۔اُس نے اِصرار کیا کہ وہ جو بھی سزا دینا چاہتا ہے، اِس کا فیصلہ دے۔ داؤد بادشاہ نے ایک عام سا بیان دیا جس میں اُس کے تحفظ کا وعدہ کیا۔ لیکن عورت مطمئن نہ ہوئی بلکہ اُس نے بادشاہ سے دو ٹوک جواب مانگا۔ تب داؤد نے اُسے صاف صاف یقین دہانی کرائی کہ اُس کا بیٹا مارا نہیں جائے گا۔ جونہی اُس نے یقین دہانی کرائی عورت نے اُسے اُس کی اپنی بات میں پھنسا لیا۔ اگر بادشاہ اُس کے بیٹے کو معاف کرتا ہے تو وہ اپنے جلاوطن بیٹے ابی سلوم کو واپس کیوں نہیں لاتا؟
اِس عورت کی مصنوعی کہانی داؤد کی خاندانی کیفیت کے عین مطابق ہے۔ ایک بیٹا مر چکا ہے اور اُس کے رشتے دار قاتل کی سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں یعنی اُس سے اِنتقام لینا چاہتے ہیں (آیت ۷)۔ داؤد کے فیصلے میں رحم تھا۔ لیکن اِس عورت نے اِس کہانی کا داؤد اور ابی سلوم پر اطلاق کیا۔ ناتن کی کہانی اور اطلاق کی طرح بادشاہ ایک بار پھر اپنی اخلاقی حکمت کے جال میں پھنس گیا۔ وہ جلاوطن اور خوف زدہ ابی سلوم کو تحفظ کے ساتھ واپس لانے کے لئے مجبور ہو گیا۔
۱۴: ۱۴ وہ عورت واضح طور پر بتانا چاہتی تھی کہ جیسے زمین پر بہے ہوئے پانی کو اکٹھا نہیں کیا جا سکتا ویسے ہی جو ماضی میں ہو چکا ہے (یعنی امنون کی موت) اُسے واپس نہیں لایا جا سکتا۔ لہٰذااُسے چھوڑنا چاہئے۔ غالباً اُس کا یہ بھی مقصد تھا کہ زندگی اِس قدر مختصر ہے، اِس لئے اُسے طویل جھگڑوں میں کیوں گزارا جائے۔ آیت ۱۴ کے آخری حصے کا یہ مطلب ہے کہ خدا مجرم کو فوری طور پر سزا نہیں دینا چاہتا (جیسا کہ داؤد بخوبی جانتا تھا) بلکہ وہ وسائل پیدا کرتا ہے جس سے گنہگار کو معاف کر کے اُسے بحال کیا جائے۔ اگر خدا یوں عمل کرتا ہے تو بادشاہ بھی ایسا کیوں نہ کرے۔
۱۴: ۱۵۔۳۳ عورت نے کہا کہ وہ بادشاہ کے پاس خدا کی طرح کے رحم اور بُرد باری کی توقع لے کر آئی تھی۔ اُسے اپنے بیٹے کے لئے تو رحم کی بھیک حاصل ہو گئی لیکن اب وہ بادشاہ کے بیٹے کے لئے رحم کی اِلتجا کرتی ہے۔ بادشاہ کو شک گزرا کہ یوآب نے یہ سارا منصوبہ ترتیب دیا ہو گا، اور عورت نے بغیر کسی حیل و حجت کے اِس کی تصدیق کی۔ اِس پر داؤد بادشاہ نے بڑی کمزوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوآب کو حکم دیا کہ وہ ابی سلوم کو یروشلیم میں واپس لائے۔ حالانکہ ابی سلوم نے بالکل توبہ نہیں کی تھی۔ اِس اقدام پر داؤد بالکل راستی پر نہ تھا، اور اِس کا اُسے خمیازہ بھگتنا پڑا۔
۱۴: ۲۴۔۳۳ پورے دو سال تک ابی سلوم یروشلیم میں رہا، لیکن اُسے باپ کی حضوری میں آنے کی اِجازت نہ تھی (اُس کے فطری حُسن اور لمبے بالوں کا ذکر کیا گیا ہے جو بنی اِسرائیل کے دلوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے کافی حد تک معاون تھے)۔ دو سال کے بعد ابی سلوم نے یوآب سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اُس کی بادشاہ سے ملاقات کے لئے اِجازت لے۔ یوآب نے دو بار اُس کے پاس جانے سے اِنکار کر دیا۔ چنانچہ ابی سلوم نے حکم دیا کہ اُس کے جَو کے کھیت کو جلا دیا جائے۔ اِس عمل کے سبب سے یوآب فوراً اس کے پاس گیا۔ ابی سلوم کو اپنے باپ کے پاس جانے کی اِجازت مل گئی، اور دونوں کا رابطہ بحال ہو گیا۔
تمر کی عصمت دری کو سات سال اور امنون کے قتل کو پانچ سال گزر چکے تھے۔ پانچ سال تک ابی سلوم کی اپنے باپ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ گو داؤد نے اُسے معاف کر دیا تھا اور اُسے سزائے موت دینے کے بجائے یروشلیم میں واپس لے آیا تھا، لیکن جو کچھ ہوا تھا وہ اُسے بھول جانے پر تیار نہیں تھا۔ جب بالآخر دونوں کی ملاقات ہوئی تو ابی سلوم کو کلی طور پر معاف کر دیا گیا۔ تب اُس نے باپ کی حمایت کو ایک اِنقلاب لانے کے لئے استعمال کیا (ابواب ۱۵۔۱۸)۔ داؤد نے اپنے بیٹے کی جان بخشی کر دی، لیکن اِس کے برعکس ابی سلوم نے اپنے باپ کی جان لینے کا منصوبہ بنایا۔
ایسا لگتا ہے کہ یوآب کے اِن سب کاموں کا مقصد یہ تھا کہ داؤد اور ابی سلوم کی حمایت حاصل کرے، جو داؤد کے بعد تخت کا دعوے دار تھا۔
مقدس کتاب
۱ اور ضؔرویا ہ کے بیٹے یؔوُ آب نے تاڑ لیا کہ بادشاہ کا دِل ابؔی سلوم کی طرف لگا ہے ۔ سو یؔوُآب نے تؔقوُع کو آدمی بھیج کر وہاں سے ایک دانشِمند عورت بُلوائی اور اُس سے کہا کہ ذرا سوگ والی کاسا بھیس کرکے ماتم کے کپڑے پہن لے اور تیل نہ لگا بلکہ اَیسی عَورت کی طرح بن جا جو بڑی مُدّت سے مُردہ کے لئے ماتم کر رہی ہو۔
۲
۳ اور بادشاہ کے پاس جا کر اُس سے اِس اِس طرح کہنا ۔ پھر یؔوُآب نے اُسے جو باتیں کہنی تھیں سِکھائیں ۔
۴ اور جب تؔقوُع کی وہ عَورت بادشاہ سے باتیں کرنے لگی تو زمین پر اَوندھے مُنہ ہو کر گِری اور سِجدہ کر کے کہا اَے بادشاہ تیری دُہائی ہے!۔
۵ بادشاہ نے اُس سے کہا تجھے کیا ہُؤا؟ اُس نے کہا مَیں سچ مُچ ایک بیوہ ہُوں اور میرا شوہر مر گیا ہے ۔
۶ تیری لَونڈی کے دو بیٹے تھے۔ وہ دونوں میدان پر آپس میں مار پیٹ کرنے لگے اور کوئی نہ تھا جو اُنکو چھُڑا دیتا ۔ سو ایک نے دُوسرے کو اَیسی ضرب لگائی کہ اُسے مار ڈالا۔
۸ اور اب دیکھ کہ سب کُنبے کا کُنبہ تیری لَونڈی کے خِلاف اُٹھ کھڑا ہُؤا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اُسکو جس نے اپنے بھائی کو مارا ہمارے حوالہ کر تاکہ ہم اُسکو اُسکے بھائی کی جان کے بدلے جسے اُس نے مار ڈالا قتل کریں اور یُوں وارِث کو بھی ہلاک کر دیں ۔ اِس طرح تو وہ میرے انگارے کو جو باقی رہا ہے بُجھا دینگے اور میرے شوہر کا ن تو نام نہ بقیّہ رُویِ زمیں پر چھوڑینگے۔
۷ بادشاہ نے اُس عَورت سے کہا تُو اپنے گھر جا اور مَیں تیری بابت حُکم کرُونگا ۔ تؔقوع کی اُس عورت نے بادشاہ سے کہا اَے میرے مالِک ! اَے بادشاہ ! سارا گُناہ مُجھ پر اور میرے باپ کے گھرانے پر ہو اور بادشاہ اور اُسکا تخت بے گُناہ رہے۔
۹
۱۰ تب بادشاہ نے فرمایا جو کوئی تجھ سے کچھ کہے اُسے میرے پاس لے آنا اور وہ پھر تجھ کو چُھونے نہیں پائیگا۔
۱۱ تب اُس نے کہا کہ مَیں عرض کرتی ہُوں کہ بادشاہ خُداوند اپنے خُدا کو یاد کرے کہ خُون کا اِنتقام لینے والا اَور ہلاک نہ کرنے پائے تا نہ ہو کہ وہ میرے بیٹے کو ہلاک کر دیں ۔ اُس نے جواب دیا خُداوند کی حیات کی قسم تیرے بیٹے کا ایک بال بھی زمین پر نہیں گِرنے پائیگا۔
۱۲ تب اُس عورت نے کہا ذرا میرے مالِک بادشاہ سے تیری لَونڈی ایک بت کہے۔
۱۳ اُس نے جواب دیا کہہ تب اُس عَورت نے کہا کہ تُو نے خُدا کے لوگوں کے خِلاف اَیسی تدبیر کیوں نِکالی ہے ؟ کیونکہ بادشاہ اِس بات کے کہنے سے مُجرم سا ٹھہرتا ہے اِسلئے کہ بادشاہ اپنے جلا وطن کو پھر گھر لَوٹا کر نہیں لاتا۔
۱۴ کیونکہ ہم سب کو مرنا ہے اور ہم زمین پر گِرے ہُوئے پانی کی طرح ہو جاتے ہیں جو پھر جمع نہیں ہوسکتا اور خُدا کِسی کی جان نہیں لیتا بلکہ اَیسے وسائیل نِکالتا ہے کہ جلا وطن اُسکے ہاں سے نِکالا ہُؤا نہ رہے۔
۱۵ اور مَیں نے جو اپنے مالِک سے بادشاہ سے یہ بات کہنے آئی ہوں تو اِکا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے مجھے ڈرادیا تھا ۔ سو تیری لَونڈی نے کہا کہ مَیں آپ بادشاہ سے عرض کرُونگی۔ شاید بادشاہ اپنی لَونڈی کی عرض پُوری کرے۔
۱۶ کیونکہ بادشاہ سپنکر ضرور اپنی لَونڈی کو اُس شخص کے ہاتھ سے چُھڑائیگا جو مجھے اور میرے بیٹے دونوں کو خُدا کی میراث میں سے نیست کر ڈالنا چاہتا ہے۔
۱۸ سو تیری لَونڈی نے کہا کہ میرے مالِک بادشاہ کی بات تسلّی بخش ہو کیونکہ میرا مالِک بادشاہ نیکی اور بدی کے اِمتیاز کرنے میں خُدا کے فرشتہ کی مانند ہے ۔ سو خُداوند تیرا خُدا تیرے ساتھ ہو۔
۱۷ تب بادشاہ نے اُس عَورت سے کہا مَیں تجھ سے جو کچھ پُوچھوں تو اُسکو ذرا بھی مجھ سے مت چھپانا ۔ اُس عوَرت نے کہا میرا مالِک بادشاہ فرمائے ۔
۱۹ بادشاہ نے کہا کیا اِس سارے معاملہ میں یؔوُآب کا ہاتھ تیرے ساتھ ہے؟ اُس عَورت نے جواب دیا تیری جان کی قسم اَے میرے مالک بادشاہ کوئی اِن باتوں سے جو میرے مالِک بادشاہ نے فرمائی ہیں دہنی یا بائیں طرف نہیں مُڑ سکتا کیونکہ تیرے خادم یؔوُآب ہی نے مجھے حُکم دیا اور اُسی نے یہ سب باتیں تیری لَونڈی کو سِکھائیں۔
۲۰ اور تیرے خادِم یؔوُآب نے یہ کام اِسلئے کیا تا کہ اُس مضمُون کے رنگ ہی کو پلٹ دے اور میرا مالِک دانشِمند ہے جس طرح خُدا کے فرِشتہ میں سمجھ ہوتی ہے کہ دُنیا کی سب باتوں کو جان لے۔
۲۱ تب بادشاہ نے یؔوُآب سے کہا دیکھ مَیں نے یہ بات مان لی۔ سو تُو جا اور اُس جون ابؔی سلوم کو پھر لے آ۔
۲۲ تب یؔوُآب زمین پر اَوندھا ہو کر گِرا اور سجدہ کیا اور بادشاہ کو مُبارکباد دی اور یؔوُآب کہنے لگا آج تیرے بندہ کو یقین ہُؤا ا۔ے میرے مالِک بادشاہ کہ مجھ پر تیرے کرم کی نظر ہے اِسلئے کہ بادشاہ نے اپنے خادِم کی عرض پُوری کی۔
۲۳ پھر یؔوُآب اُٹھا اور حبؔسُور کو گیا اور ابؔی سلوم کو یرؔوشلیم میں لے آیا ۔ تب بادشاہ نے فرمایا وہ اپنے گھر جائے اور میرا مُنہ نہ دیکھے۔ سوابؔی سلوم اپنے گھر گیا اور وہ بادشاہ کا منہ دیکھنے نہ پایا۔
۲۴
۲۵ اور سارے اِسرؔائیل میں کوئی شخص ابؔی سلوم کی طرح اُسکے حُسن کے سبب سے تعریف کے قابل نہ تھا کیونکہ اُسکے پاؤں کے تلوے سے سر کے چاند تک اُس میں کوئی عَیب نہ تھا۔
۲۶ اور جب وہ اپنا سر مُنڈواتا تھا۔ (کیونکہ ہر سال کے آخِر میں وہ اپسے مُنڈواتا تھا اِسلئے کہ اُسکے بال گھنے تھے سو وہ اُنکو مُنڈواتا تھا) تو اپنے سر کے بال وزن میں شاہی تول کے مُطابق دو سَو مِثقال کے برابر پاتا تھا۔
۲۸ اور ابؔی سلوم سے تین بیٹے پَیدا ہُوئے اور ایک بیٹی جسکا نام تؔمر تھا ۔ وہ بہت خُوبُصورت عَورت تھی۔
۲۷ اور ابی سلوم پُورے دو برس یرؔوشلیم میں رہا اور بادشاہ کا مُنہ نہ دیکھا۔
۲۹ سو ابؔی سلوم نے یؔوُآب کو بُلوایا تاکہ اُسے بادشاہ کے پاس بھیجے پر اُس نے اُسکے پاس آنے سے انکار کیا اور اُس نے دو بارہ بُلوایا لیکن وہ نہ آیا ۔
۳۰ اِسلئے اُس نے اپنے مُلازِموں سے کہا کہ دیکھو یؔوُآب کا کھیت میرے کھیت سے لگا ہے اور اُس میں جِو ہیں سو جا کر اُس میں آگ لاگا دو اور ابؔی سلوم کے مُلازِموں نے اُس کھیت میں آگ لگا دی۔
۳۱ تب یؔوُآب اُٹھا اور ابؔی سلوم کے پاس اُسکے گھر جا کر اُس سے کہنے لگا تیرے خادِموں نے میرے کھیت میں آگ کیوں لگاڈی؟۔
۳۲ ابؔی سلوم نے یؔوُآب کو جواب دیا کہ دیکھ مَیں نے تجھے کہلا بھیجا کہ یہاں آ تاکہ میں تجھے بادشاہ کے پاس یہ کہنے بھیجوں کہ مَیں حؔبسُور سے کیوں یہاں آیا۔؟ میرے لئے اب تک وہیں رہنا بہتر ہوتا۔ سو اب بادشاہ مجھے اپنا دیدار دے اور اگر مُجھ میں کوئی بدی ہو تو وہ مجھے مار ڈالے ۔
۳۳ تب یؔوُآب نے بادشاہ کے پاس جا کر اُسے یہ پَیغام دیا اور جب اُس نے ابؔی سلوم کو بُلوایا تب وہ بادشاہ کے پاس آیا اور بادشاہ کے آگے زمین پر سر نگوُن ہو گیا اور بادشاہ نے ابؔی سلوم کو بوسہ دیا۔